Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 52

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 52

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

”ہمارے خاندان میں روایت ہے جو شخص گدی پر بیٹھتا ہے اسکی بیوی کے نام سید حویلی کو کیا جاتا ہے۔۔ جب میرے ڈیڈ نے گدی سنبهالی تو یہ حویلی میرے مام کے نام ہوچکی تھی۔۔ جسے میں نے دوستوں سے شرط لگا کر دھوکے سے مام کے ساٸن کروا کر اپنے نام کروالیا تھا__ یہ میرے نام تھی۔۔ اور اب تمہاری ہوٸی۔۔ یہ بتاٶ اور کچھ___!!“

وہ پرسکون سے انداز میں بتاتا حانم کو ورطہ حیرت میں ڈال گیا تھا۔ وہ منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اللہ جانے وہ شخص کیا چیز تھا__!!

”کیا آپ نے صرف زندگی میں دھوکہ دینا ہی سیکھا ہے؟؟“
حانم نے نیند سے بوجھل آنکهيں لئے پوچھا تھا۔ روحان کا چہرہ اسکی بات سن کر فق ہوا تھا۔

”کیا مطلب۔۔؟؟“
وہ اب تیکھے چتون لئے پوچھ رہا تھا۔

”مجھے نہيں لگتا ایک سلفاٸیٹ کو مطلب سمجھانے کی ضرورت ہے۔۔“
وہ سخت سے لہجے میں کہہ رہی تھی۔ کاغذات والی فاٸل اٹھا کر بیڈ کے ساتھ میز پر رکھی۔

”یہ حویلی ابھی آپ کے نام ہے۔۔ جب میرے نام ہوجاٸے گی تب بات کیجیۓ گا۔۔ آپ چاہیں تو یہ فاٸل لے جا سکتے ہیں۔۔“
وہ بیڈ پر لیٹ کر کمبل سر تک تان چکی تھی۔
روحان بس اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
اس نے آگے بڑھ کر وہ فاٸل اٹھاٸی تھی جسے وہ کچھ دیر پہلے اپنے قریبی گھر سے لایا تھا۔
فاٸل اٹھانے کے بعد اس نے ایک نظر حانم پر ڈالی تھی جو اسی پوزیشن میں لیٹی تھی۔
وہ فاٸل اٹھانے کے بعد لیمپ بند کرتا اسکے کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔
اس نے ہرگز نہيں سوچا تھا کہ حانم اسکی بات سے غلط مطلب نکال لے گی۔
وہ تھکے تھکے قدموں سے سیڑھیاں اتر رہا تھا۔

سبھی لوگ شاید اپنے اپنے کمرے میں سونے جاچکے تھے۔
روحان گہری سوچ میں غرق باہر کی طرف قدم بڑھا چکا تھا۔
___________________________

”جی وکیل صاحب۔۔ جی بس آپ جلدی سے کاغذات تیار کروادیں۔۔“
عاٸشہ جبیل فون پر کسی سے مخاطب تھیں۔ کچھ دیر بعد وہ فون بند کر چکی تھیں۔

”کس سے بات کی جا رہی تھی؟؟“
سید جبیل نے کمرے میں داخل ہوتے اپنی محبوب بیوی سے پوچھا تھا۔

”وکیل صاحب سے۔۔“
سیدہ عاٸشہ جبیل نے سچ بولا تھا۔

”خیریت۔۔؟؟“
سید جبیل چونکے۔

”حویلی کے کاغذات بنوا رہی تھی۔۔“
عاٸشہ جبیل نے جواب دیا تھا۔

”حویلی کے کاغذات۔۔؟؟ لیکن کس لئے۔۔؟؟“
اب کی بار سید جبیل صحیح معنوں میں ٹھٹکے تھے۔

”روحان دس سال کا ہونے والا ہے۔۔ اور میرے بیٹے نے مجھ سے فرماٸش کی ہے اس سالگرہ پر میں اسے وہ تحفہ دوں جو آج تک اس خاندان میں کسی ماں نے اپنے بیٹے کو نہيں دیا__!!
وہ پرسکون سی کہہ رہی تھیں۔

”عاٸشہ تم پاگل ہوگٸی ہو؟؟“
سید جبیل نے تیکھے چتونوں سے پوچھا تھا۔

”میں یہ حویلی روحان کے نام کر رہی ہوں جبیل۔۔ میں اپنے بیٹے کو خوش دیکھنا چاہتی ہوں۔۔“

”عاٸشہ۔۔ عاٸشہ۔۔۔ تم اپنے بیٹے کی محبت میں پاگل ہوگٸی ہو۔۔ اس حویلی پر روحان کا حق نہيں ہے بلکہ اس لڑکی کا حق ہوگا جو کل یہاں دلہن بن کر آٸے گی۔۔ جو لڑکے کی جو اس گدی کو سنبهالے گا۔۔“
سید جبیل نے انکے پاس بیٹھتے ہوٸے سمجھایا تھا۔

”ہاں تو ٹھیک ہے نا۔۔ کل جب روحان کی دلہن آٸے گی وہ اسے یہ حویلی تحفے میں دے دیگا۔۔“

”تمہیں یقین ہے کہ روحان اس خاندان کی گدی کو سنبهالے گا۔۔ نہيں ہرگز نہيں__ روحان ایک پاگل بچہ تھا۔۔ ضدی اور ہٹ دھرم__ آج تم حویلی اسکے نام کرو گی کل ناجانے وہ حویلی کو کسی داٶ پر لگا کر ہار جاٸے۔۔ پھر۔۔۔؟؟“
سید جبیل نے مستقبل کا اندیشہ بیان کیا تھا۔
عاٸشہ جبیل سوچ میں پڑ گٸی تھیں۔

”کہہ تو آپ ٹھیک رہے ہیں۔۔ لیکن۔۔“

”لیکن کچھ نہيں۔۔ تم یہ حویلی روحان کے نام نہيں کرو گی۔۔ یہ کسی اور کی امانت ہے۔۔ سمجھ گٸی نا۔۔؟؟“
وہ اب پیار سے سمجھا رہے تھے۔

”جی۔۔“
وہ اثبات میں سر ہلا چکی تھیں۔

”اچھا تو ڈیڈ میرے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔۔ میں ایسا نہيں ہونے دونگا۔۔ یہ گھر میرا ہے۔۔ اور میرا رہے گا۔۔“
باہر دروازے پر کھڑے روحان نے کسی شاطر عورت کی طرح سوچا تھا۔ وہ کچھ دیر پہلے اپنی ماں سے بات کرنے آیا تھا اور پھر اندر سے آتی آوازوں پر باہر ہی رک کر ساری بات سنی تھی۔

اسکے معصوم چہرے پر تیوری چڑی ہوٸی تھی۔ وہ گہری سوچ کا شکار نظر آرہا تھا۔

اور پھر وہی ہوا تھا جو روحان چاہتا تھا۔ اگلے دن جب وکیل کاغذات دے کر گیا تو عاٸشہ جبیل نے ان کاغذات کو الماری کے اوپر والے خانے میں سنبهال کر رکھ دیا تھا۔
انہوں نے ابھی ساٸن نہيں کئے تھے۔ انکے جانے کے بعد روحان کمرے میں داخل ہوا تھا۔ وہ دس سالہ بچہ جس کا ہاتھ اوپر تک نہيں جاتا تھا۔ اس نے سٹول کو الماری کے سامنے رکھ کر وہ فاٸل نکالی تھی۔۔ اور پھر اسے لے کر دبے پاٶں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔

عاٸشہ جبیل سے ساٸن کروانا مشکل نہيں تھا۔

”ماما آنکهيں بندکرکے ساٸن کریں نا۔۔“
وہ چہرے پر معصومیت سجاٸے کہہ رہا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ ساٸن بھی کروا چکا تھا۔ اورکسی کو پتا بھی نہيں چلا تھا۔

ایک ماہ بعد عاٸشہ جبیل اس دنیا سے چلی گٸی تھیں۔۔
اور حویلی کے کاغذات کا راز کہیں دب کر رہ گیا تھا۔

جب روحان لاہور پڑھنے آیا تو وہ اس فاٸل کو ساتھ لے آیا تھا۔ وہ اسکے بحریہ والے گھر میں ہی پڑی تھی جسے اب وہ حانم کے کہنے پر لے کر آیا تھا__

وہ حانم کو بتا چکا تھا کہ اس نے وہ ساٸن دھوکے سے کرواٸے تھے۔۔
لیکن جب حانم نے اسے دھوکے باز کہا تو اسے اچھا نہيں لگا___بلکہ دکھ ہوا تھا____ سچ بات ہے انسان اپنے حال میں چاہے مومن ہی کیوں نا ہو۔۔ اگر اسکا ماضی داغ دار ہے تو وہ اُسے اُسکے حال میں کبھی ہنسی خوشی جینے نہيں دے سکتا__
آس پاس موجود عام اور سطحی لوگ موقع ملتے ہی انسان کا ماضی اٹھا کر اسکے منہ پر مار دیتے ہیں___
_____________________________

”بدکردار ہو تم حانم۔۔ بدکردار“
آوازوں کا شور اس کی سماعت سے ٹکرا رہا تھا۔
رات کا ناجانے کون سا پہر تھا جب حانم ہربڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔

اس نے خواب میں آرجے کو دیکھا تھا جو اس پر ہنس رہا تھا۔
ماضی کی پوری فلم حانم کی آنکهوں کے سامنے چلنے لگی تھی۔ جو ذہن سے اتر چکا تھا وہ سب یاد آگیا تھا۔
ایک اذیت کی لہر اسکے پورے جسم میں پھیل چکی تھی۔ روحان کا خیال آتے ہی اسکے اندر نفرت کا ابال اٹھا تھا۔
حانم نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو تھامہ تھا۔ آج پاکستان میں اسکی پہلی رات تھی۔۔ اور پہلی ہی رات وہ آسیب اس سے چمٹ گیا تھا۔

”میں تمہيں معاف نہيں کر سکتی مسٹر آرجے۔۔ کبھی نہيں۔۔“
آوازوں سے خوفزدہ ہو کر وہ رو دی تھی۔

___________________________

اگلے پورے دن روحان حمدان ولا نہيں آیا تھا۔ حانم نے اسکے نا آنے پر شکر ادا کیا تھا۔ رات والے خواب کے بعد اسے وہ پھر سے زہر لگنے لگا تھا۔

”حانم میں چاہتی ہوں آج تم ماہی اور ماہم کے ساتھ جا کر اپنی شادی کا جوڑا لے آٶ۔۔ اگر تم روحان کے ساتھ جانا چاہتی ہوں تو بھی ٹھیک ہے۔۔ لیکن چونکہ دن بہت کم رہ گٸے ہیں تو تم اپنی تیاری مکمل کرلو۔۔“
آسیہ بیگم نے اسے اپنے کمرے میں بلایا تھا جہاں ماہم پہلے سے موجود تھی۔

”میری شادی کا جوڑا کس لئے۔۔؟؟“
حانم کی پیشانی پر بل پڑے۔

”کیوں کہ تمہاری رخصتی بھی ساتھ ہی ہو رہی ہے۔۔ میں تمہيں پہلے ہی بتا چکی ہوں۔۔“
آسیہ بیگم نے زیور کا ایک ڈبہ اٹھا کر ماہم کی طرف بڑھایا تھا۔ بیڈ پر تین خوبصورت زیور کے سیٹ تھے۔۔ جن کا ڈیزائن مختلف تھا۔۔ ان تینوں میں سے ایک ماہی ، ایک حانم اور ایک ماہم کیلیۓ تھا۔

”امی میں پہلے بتا چکی ہوں میں ابھی شادی نہيں کرنا چاہتی۔۔“
حانم نے دہائی دی۔

”تم بھول چکی ہو حانم۔۔ تمہاری شادی ہوچکی ہے۔۔بس رخصتی باقی ہے۔۔“
آسیہ بیگم نے یاد دہانی کرواٸی۔
حانم کا دل آسیہ بیگم کی بات سن کر کٹ کر رہ گیا تھا۔
کتنا خوش تھی وہ اس شادی سے۔۔ لیکن اب۔۔ سب بدل گیا تھا۔

”شام کو چار بجے تیار رہنا۔۔ تمہيں مارکیٹ جانا ہے۔۔ سمجھ آگٸی نا۔۔ اور ان میں سے ایک سیٹ پسند کرلو۔۔ میں نے زیادہ فضول خرچی نہيں کی بس ایک ایک سیٹ بنوایا ہے۔“
آسیہ بیگم کا لہجہ کافی سخت تھا۔ وہ اب حانم کو مزید ڈھیل نہيں دینا چاہتی تھیں۔
حانم کچھ دیر کھڑی آنسو ضبط کرتی رہی اور پھر بنا کچھ کہے کمرے سے باہر نکل گٸی تھی۔
ماہم نے بند دروازے کو دیکھ کر افسوس سے سرہلایا تھا۔

”امی آپ ماہی آپی سے پوچھ لیں میں ابھی آتی ہوں۔۔“
ماہم سنجيدہ لہجے میں کہتی کمرے سے باہر نکلی تھی اب اسکا رخ حانم کے کمرے کی طرف تھا۔

___________________________

”آخر تمہيں رخصتی سے مسٸلہ کیوں ہے؟؟ جہاں تک مجھے یاد ہے تم اس شادی سے کافی خوش تھی نا۔۔ پھر اب اچانک کیا ہوگیا ہے۔؟؟“
ماہم اپنے سامنے بیڈ پر بیٹھی حانم سے پوچھ رہی تھی جسکی آنکهيں رونے کے باعث سرخ ہوچکی تھیں۔
وہ اب سر جھکاٸے بیٹھی تھی۔

”پہلے کی بات اور تھی۔۔ لیکن اب میں اس شخص کے ساتھ نہيں رہنا چاہتی۔۔“

”لیکن کیوں۔۔؟؟“

”کیونکہ اس نے دھوکے سے نکاح کیا ہے مجھ سے۔۔“
حانم دبی دبی آواز میں چلاٸی تھی۔

”جی نہيں۔۔ کوٸی دھوکہ نہيں دیا تمہيں روحان بھاٸی نے۔۔ تم نے خود شادی سے پہلے تصویر دیکھنے سے انکار کیا تھا۔۔ اور نکاح کے بعد ملنے سے بھی۔۔“
ماہم نے اسے یاد دلایا۔

”لیکن تم اور ماہی۔۔ تم دونوں جانتی تھیں نا کہ وہ آرجے ہے۔۔ تم نے مجھے نہيں بتایا۔۔ کسی نے بھی نہيں بتایا۔۔ سب نے مل کر مجھے دھوکہ دیا۔۔“
حانم کی آواز بھراگٸی تھی۔

”ہانی۔۔ تم غلط سوچ رہی ہو۔۔ تمہيں کسی نے دھوکہ نہيں دیا۔۔ وہ حالات ہی ایسے تھے۔۔ اور روحان بھاٸی۔۔ وہ تم سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔اور جہاں تک مجھے یاد ہے۔۔ پچھلے دنوں تم بھی انہيں چاہتی تھی نا۔۔؟؟“

”وہ میرا پاگل پن تھا۔۔ تب میں نہيں جانتی تھی کہ وہ آرجے ہے۔۔ ورنہ میں کبھی بھی ایسی غلطی نہيں کرتی۔۔“

”آخر انہوں نے تمہارے ساتھ کیا برا کیا ہے ہانی۔۔ کیوں نفرت کرتی ہو ان سے۔؟؟“

”کیونکہ کرادر پر انگلی اٹھانے والے شخص سے محبت نہيں نفرت کی جاتی ہے۔۔“
حانم کے لہجے سے نفرت جھلک رہی تھی۔

”کرادر پر انگلی۔۔۔ شاید تم بھول گٸی مس ام حانم کہ تمہارے کرادر پر بات تو زبیدہ آپا نے بھی کی تھی۔۔
شاید تم بھول گٸی ہو کہ تمہيں بدکرادر تو طارق نے بھی کہا تھا۔۔ کیا تم آج بھی ان سے نفرت کرتی ہو۔۔؟؟“
ماہم کی بات سن کر حانم ایک دم چونکی تھی اور اسے سالوں پہلے اپنے پرانے گھر کا واقع یاد آگیا تھا۔

”جب انہوں نے تمہارے کردار پر انگلی اٹھاٸی تب تو تم ڈپریشن میں نہیں گٸی تھی۔۔ تب تو تمہيں نروس بریک ڈاٶن نہيں ہوا تھا___
پھر آرجے کے کہنے پر ایسا کیوں ہوا؟؟
کیوں تم نے اتنا Stress لیا کہ تم گہرے صدمے میں چلی گٸی تھی؟؟ آخر کیوں۔۔۔؟؟“
اسے ماہم سے ان سوالوں کی امید نہيں تھی۔
وہ سن سی بیٹھی ماہم کو دیکھ رہی تھی جو اسکے سامنا کھڑی تھی۔۔ اور کافی سنجيدہ نظر آرہی تھی۔ حانم نے محسوس کیا تھا اب وہ بچی نہيں رہی تھی بلکہ ایک سمجھدار لڑکی بن گٸی تھی۔

”بتاٶ اب۔۔ خاموش کیوں ہو۔۔؟؟“
ماہم پوچھ رہی تھی۔

”کیونکہ آرجے نے پوری یونيورسٹی کے سامنے مجھے ذلیل کرنے کی۔۔

”بس کرو ہانی۔۔ تم شاید بھول گٸی ہو۔۔ لیکن مجھے روحان بھاٸی نے بتایا تھا۔۔ اس روز بہت سے ڈیپارٹمنٹ کی چھٹی تھی۔۔ اور جو انہوں نے تم سے کہا وہ صرف دو لوگوں نے سنا تھا۔۔ ایک وہ خود اور ایک تم۔۔ اور کون تھا وہاں۔۔؟؟
ماہم کافی غصے میں تھی۔۔ شاید روحان مکی کی بات گول کرگیا تھا۔ اسکا مقصد اپنی غلطی چھپانا نہيں بلکہ وہ حانم کی غلطی کو عیاں نہيں کرنا چاہتا تھا دوبارہ سے۔۔ اور نا ایک بار پھر وہ مکی کے ساتھ انکا برداشت کر سکتا تھا۔

”اور شاید تم بھول گٸی ہو۔۔ جب طارق نے تم پر الزام لگایا تھا تب تقریباً پورا محلہ جمع تھا۔۔ پھر تمہيں اس وقت نروس بریک ڈاٶن کیوں نہيں کیا ہوا۔۔
اور ایک ملحد کے غلط بات کرنے پر تم صدمے میں چلی گٸی۔۔؟؟ آخر کیوں۔۔؟؟ تمہيں تو نفرت تھی نا آرجے سے۔۔ پھر تمہيں صدمہ کس بات کا تھا۔۔؟؟
ماہم آج اسے بخشنے کے موڈ میں نہيں تھی۔

”اتنی منافقت کس لئے ہانی۔۔۔؟؟ تم دہرا رویہ اپناٸے ہوٸے ہو۔۔ آخر کیوں۔۔؟؟“
حانم اسکی بات سن کر تڑپ گٸی تھی۔۔ اسے منافق لفظ تیر کی طرح چھبا تھا۔
جو روحان کو منافق سمجھتی تھی وہ خود پر منافق کا ڈھپہ برداشت نہيں کر سکتی تھی۔۔

انسان کو یہ حق کسی نے نہيں دیا کہ وہ دوسرے انسان کے ایمان پر انگلی اٹھاٸے۔۔ اسکے نیک یا بد ہونے ہو نشانہ بناٸے۔۔ اللہ ﷻ کو یہ بات نہيں پسند__

”روحان بھاٸی جو اس وقت آرجے تھا وہ تمہيں تب بھی چاہتا تھا۔۔ وہ تمہيں کسی اور کے ساتھ برداشت نہيں کر سکا۔۔ اور اپنے غصے میں ایک غلط کام کردیا۔۔ لیکن تمہيں تو نفرت تھی نا آرجے سے۔۔ پھر۔۔ پھر ایسا کیوں کیا تھا تم نے اپنے ساتھ کہ خود کو پورا کا پورا بدل لیا۔۔؟؟
اسکے پاس ماہم کے سوالوں کا جواب نہيں تھا۔ اس نے کبھی خود کا تجزیہ کیا ہی نہيں تھا۔۔ اس ڈپریشن میں اور کچھ سوچا ہی نہيں تھا۔

”تم مان لو ہانی کہ اس وقت آرجے بھی تمہارے لئے کچھ خاص تھا۔۔
تم جانتی تھی کہ وہ تمہيں سب سے الگ سمجھتا ہے۔۔ اور تم یہ بھی جانتی تھی کہ وہ تمہيں سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے___ شاید کہیں نا کہیں تم نے اسکی آنکهوں میں اپنے لئے چاہت دیکھی تھی۔۔ شاید اسی لئے جب اس نے تم پر الزام لگایا تو تم سے برداشت نہيں ہوا___
تمہارا دماغ اس بات کو قبول نہيں کر پایا تھا۔۔ اور تم گہرے صدمے میں چلی گٸی تھی۔

ہانی ہمیں دکھ اس بات پر نہيں ہوتا جب کوٸی ہمارے کرادر پر انگلی اٹھاتا ہے۔۔ بلکہ تب ہوتا ہے جب ”کوٸی اپنا“ ہم پر الزام لگاتا ہے۔۔

تم اتنے سال پیرس میں رہی ہو اگر تم سڑک پر کسی لڑکے کے ساتھ کھڑی ہو اور تمہيں کوٸی دوسرا لڑکا آکر کہے کہ یہ تمہارا بواٸے فرینڈ ہے۔۔ یا کچھ اور ہے۔۔ تو تم کیا کرو گی۔۔۔؟؟ کیا تم صدمے میں چلی جاٶ گی۔۔؟؟
نہيں نا۔۔ بلکہ تم اسے نظر انداز کروگی۔۔
تو تم آرجے کو نظر انداز کیوں نہيں کیا تھا۔۔؟؟ وہ بھی تو ایک ملحد تھا۔؟؟ پھر۔۔؟؟

بات کرادر پر انگلی اٹھانے کی نہيں بلکہ ہماری توقعات کی ہوتی ہے۔۔ ایک ایسا انسان جس سے ہماری توقعات جڑی ہوں اگر وہ ہمارا مان توڑ دے ہم تب صدمے میں جاتے ہیں ہانی۔۔ اور تم مان لو۔۔ تمہيں آرجے پر مان تھا۔۔ کیونکہ اس نے کبھی تمہارے ساتھ غلط حرکت نہيں کی تھی۔۔۔ اس نے تمہيں سہی سلامت ہاسٹل پہنچایا تھا___ وہ تمہيں دوسری لڑکيوں کی طرح نہيں سمجھتا تھا۔۔ وہ تمہيں عزت دیتا تھا ہانی۔۔ اور اس اہمیت کی جو آرجے تمہيں دیتا تھا لاشعوری طور عادی ہوگٸی تھی۔۔۔ اور جب اس نے تمہيں دی گٸی اہمیت واپس لی تو تمہارا شعور برداشت نہيں کر سکا۔۔
تم صدمے میں چلی گٸی تھی۔۔ یہی حقیقیت ہے تم مان جاٶ اب۔۔“

”لیکن اس نے میرے ساتھ بہت غلط کیا تھا۔۔ تم نہيں جانتی۔۔“
حانم نے ایک کمزور سی دلیل دینا چاہی تھی۔

”کتنا غلط کیا تھا۔۔؟؟ کیا تم نے کبھی سوچا ہے ان لڑکيوں کا جنکا ریپ (عصمت دری) ہوتا ہے۔۔ جنہيں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔؟؟
کیا تمہارے ساتھ ایسا ہوا۔۔؟؟ کیا تم نے کبھی سوچا ہے جب ایک مرد بنا عورت کی مرضی کے اسکے جسم کو چھوتا ہے تو وہ کس کرب سے گزرتی ہے۔۔ کیا تمہارے ساتھ ایسا ہوا؟؟
تمہيں لگتا ہے روحان بھاٸی نے تمہارے دھوکہ دیا ہے۔۔
کیا تم نے کبھی سوچا ہے ان لڑکیوں کا جنہيں محبت میں دھوکہ ملتا ہے اور وہ کسی کوٹھے کی زینت بن جاتی ہیں___ وہ ہر رات مرتی ہیں اور پھر زندہ ہو جاتی ہیں۔۔
کیا تمہارے ساتھ ایسا ہوا۔۔ کیا روحان بھاٸی نے تمہيں ایسا دھوکہ دیا۔۔؟؟
پھر کس دھوکے کی بات کر رہی ہو تم۔۔؟؟
تمہارے ساتھ آرجے نے برا کیا تھا ہانی جو ایک ملحد تھا۔۔
آرجے مرچکا ہے۔۔ اور جب انسان داٸرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اسکے پچھلے تمام گناہ مٹا دیے جاتے ہیں___ آرجے نے جو اپنی نادانی،اپنے غصے یا پاگل پن میں گناہ کیا تھا وہ کب کا مٹ چکا ہے بلکہ اسکے تمام گناہ نیکیوں میں بدل گٸے ہیں۔۔ پھر تم اسے کس گناہ کی سزا دے رہی ہو؟؟

تمہارے ساتھ تو روحان بھاٸی نے نکاح کیا ہے۔۔ تمہيں اپنی عزت بنایا ہے۔۔ اور تم ماضی کو لے کر بیٹھی ہو۔۔ کیوں؟؟“

حانم کو اپنے سر میں درد کی ٹھیس اٹھتی محسوس ہوٸی تھی۔

”تمہیں پتا ہے حانم تم پچھلے چھ سالوں سے۔۔ یا شاید اس سے بھی پہلے سے تم آرجے سے نفرت کرتی آرہی ہو۔۔ اور نفرت انسان کے اعمال کو اس طرح کھاتی ہے جیسے دیمک لکڑی کو کھاتا ہے۔
تم سوچو تمہیں اس نفرت نے کیا دیا ہے؟؟

تمہيں پتا ہے چھ سال پہلے جب تمہيں نروس بریک ڈاٶن ہوا تھا۔۔ تب تم گہرے صدمے میں چلی گٸی تھی۔۔
تم اب نارمل نظر آتی ہو۔۔ ایسا سب کو لگتا ہے کہ تم نارمل ہوچکی ہو۔۔ لیکن میں جانتی ہو ہانی۔۔ تمہيں آج بھی اسی صدمے کے زیراثر ہو۔۔ اور اس بات کا ثبوت ہے یہ کہ تم سوچ سمجھ نہيں پاتی۔۔
تم ایک روبوٹ کی زندگی جی رہی ہو جسکے پاس سوچنے سمجھنے کی صلاحيت نہيں ہوتی۔۔

وقت گزر گیا ہے۔۔ لیکن تم آج بھی وہیں کھڑی ہو۔۔
اس صدمے سے باہر نکل آٶ ہانی۔۔ باہر نکل آٶ اس صدمے سے۔۔
اپنے دماغ پر زور ڈالو۔۔۔ حالات و واقعات کو سمجھنے کی کوشش کرو___
اللہ نے تمہيں عقل دی ہے۔۔ اسے استعمال کرو۔۔

تم وہ حانم نہيں ہو جو اپنی سوچ کی وجہ سے مشہور تھی۔
پتا ہے روحان بھاٸی کہتے ہیں دنیا میں تین طرح کے سلفاٸیٹ پاٸے جاتے ہیں
نمبر ایک وہ اپنی سوچ اور اپنے عمل دونوں میں خاص ہوتے ہیں۔۔ جو اپنی سوچ اور اعمال دونوں سے لوگوں کو چونکا دیتے ہیں۔۔ اور اسکی مثال روحان بھاٸی خود ہیں___
نمبر تین ایسے لوگ جو اپنی سوچ میں سلفاٸیٹ نہيں ہوتے لیکن اپنی عملی زندگی میں بہت خاص ہوتے ہیں۔۔ وہ بنا سوچے سمجھے بھی انوکھے کام کر جاتے ہیں۔۔ جو ایک خوشگوار اور خاص زندگی گزارتے ہیں۔۔
جبکہ نمبر دو پر وہ انسان آتے ہیں جو اپنی سوچ میں خاص ہوتے ہیں۔۔ جو انوکھا سوچتے ہیں___ جیسے کہ تم حانم۔۔ تم نے سب کو حیران کر دیا تھا۔۔ تمہاری سوچ۔۔ تمہارے لاجکس۔۔ شاید تم بھول گٸی ہو۔۔ تم اپنے عمل میں نہيں لیکن اپنی سوچ میں سلفاٸیٹ تھی۔۔ اس حادثے نے تم سے تمہارا سلفاٸیٹ ہونا چھین لیا تھا۔۔ حالانکہ ایسا نہيں ہونا چاہیۓ تھا۔۔ تم سلفاٸیٹ تھی۔۔ تمہیں مضبوط رہنا چاہیۓ تھا۔۔ لیکن ایسا نہيں ہوا۔۔ چونکہ تم ایک لڑکی تھی۔۔ جو کہ کمزور ہوتی ہے۔۔ شاید اسی لیۓ۔۔
اپنا خاص پن واپس لے آٶ ہانی۔۔ تم ایک سلفاٸٹ کی بیوی ہو۔۔۔ جو دنیا کا سامنا کرنے کیلیۓ ہر وقت تیار رہتا ہے۔۔
اگر تم ایک عام لڑکی بن کر نفرت کے جال میں اور ماضی کے گرادب میں پھنسی رہو گی تو تم ہمیشہ کیلیۓ اپنا سلفاٸیٹ ہونا یعنی خاص پن کھو دو گی___ تم کبھی انکے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہيں چل پاٶ گی۔۔ تم مشکل حالات میں انکا ساتھ نہيں نبھا پاٶ گی___ واپس آجاٶ حانم۔۔ لوٹ آٶ۔۔ نکل آٶ عام لوگوں کی نفرت اور صدمے کی اس دنیا سے جس نے تمہيں بدل کر رکھ دیا ہے__!!
ماہم کی آواز آخر میں رندھ گٸی تھی۔ وہ حانم کا ہاتھ دباٸے کہہ رہی تھی۔ جبکہ حانم کا چہرہ آنسوٶں سے تر تھا۔

واقعی وہ اندھیروں کی زندگی گزار رہی تھی۔۔ آج اسے احساس ہوا تھا کہ اس نے اپنی زندگی کے کتنے قیمتی سال برباد کیۓ تھے۔۔ وہ چاہتی تو کچھ کر کے دکھا سکتی تھی۔۔ وہ چاہتی تو آرجے کو جواب دے سکتی تھی۔۔ لیکن وہ بزدلوں کی طرح دماغی توازن کھو بیٹھی تھی۔ اور آج تک ذہنی بیماری کا شکار تھی۔

ایک لڑکی کو اتنا کمزور نہيں ہونا چاہیۓ کہ وہ اپنوں یا غیروں کی باتیں سن کر صدمے میں چلی جاٸے۔۔جینا چھوڑ دے۔۔ روبوٹ بن جاٸے__ بلکہ اسے حالات کا مقابلہ کرنا چاہیۓ__ اسے ثابت کرنا چاہیۓ کہ وہ کمزور نہيں ہے___وہ مضبوط ہے۔۔ وہ سلفاٸیٹ ہے۔۔ وہ خاص ہے۔۔ اپنی سوچ اور اپنے اعمال دونوں میں خاص ہے وہ عام نہيں ہے__
چھ سالوں کے طویل سفر کے بعد بالآخر حانم آج یہ سمجھ گٸی تھی۔
اور کبھی کبھی کچھ برے حادثے ہمیں ایک بڑا سبق دے کر جاتے ہیں___

_______________________________

وہ سہہ پہر ساڑھے تین بجے کمرے سے باہر نکلی تھی۔ آنکهوں کے پپوٹے رونے کے باعث سوجھے ہوٸے تھے۔

”کیا ہوا ہانی تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟؟“
آسیہ بیگم نے پوچھا تھا۔

”جی ٹھیک ہے۔۔ زیادہ سو لی ہوں شاید اس لیۓ آپکو ایسا محسوس ہو رہا ہے۔۔“
وہ زبردستی مسکراٸی تھی۔ آج وہ اپنا محاسبہ کرکے آٸی تھی۔
وہ جان گٸی تھی روحان جبیل سے اسکی شادی خدا کا فیصلہ تھا۔۔ اور ایک انسان کیلیۓ اپنی چاہت چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی چاہت اپنانا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔
وہ جان گٸی تھی اسے ایک لمبی جنگ لڑنی تھی۔۔ اپنے نفس کے خلاف۔۔ شیطان کے خلاف۔۔ جو اسے ماضی کی جھلکیاں دکھا کر اسے روحان سے جو اسکا شوہر تھا بدظن کرنا چاہتا تھا____

اس نے آج سوچنا شروع کیا تھا۔۔ اور وہ رات والے خواب کا مطلب سمجھ گٸی تھی۔ شیطان کا کام وسوسے ڈالنا ہوتا ہے۔۔ اور یہ کام جاری رہنا تھا۔۔ شاید تب تک جب تک وہ روحان جبیل سے الگ نہيں ہوجاتی___
آج اسکا سلفاٸٹ والا ذہن واپس آیا تھا__ جب واپس آیا تھا تو اسے ہر چیز صاف نظر آنے لگی تھی۔۔ بلکہ وہ سب کچھ بھی نظر آنے لگا تھا۔۔ جو کبھی پہلے نظر آتا تھا۔۔ جسے وہ دوسرا جہاں قرار دیتی تھی۔۔ جسے وہ کہتی تھی کہ دیکھنے کیلیۓ بصیرت کی ضرورت پڑتی ہے۔۔ جو عام آنکھ سے نظر نہيں آتا۔۔

اسے لاٶنج میں صوفے پر جواد کے ساتھ بیٹھے ہوٸے روحان کے باٸیں طرف ایک بھیانک شکل والی مخلوق نظر آٸی تھی۔۔ جو یقيناً شیطان تھا۔۔ جو ایک نیک انسان کا پیچھا نہيں چھوڑتا___
وہ جیسے حانم کو دانت چڑا رہا تھا۔۔ اور اسے خواب میں بٹھکانے کے بعد بہت خوش نظر آرہا تھا___
حانم غور سے روحان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ حانم پر نظر پڑنے پر وہ چونکا تھا۔ اور پھر سے جواد کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگیا تھا۔

اور پھر حانم کو روحان کے داٸیں طرف ایک سفید لباس میں ملبوں بزرگ نظر آیا تھا۔۔ جسکے چہرے پر شفیق مسکراہٹ تھی___
جو یقیناً بزرگی کی علامت تھا۔ جواد کا دھیان گفتگو سے بھٹکا تھا۔۔ اسے ماہی نے پکارا تھا۔ تبھی روحان نے آنکهيں بند کی تھی۔
اسکے لب ہل رہے تھے۔۔ حانم نہيں جانتی تھی کہ کیا پڑھ رہا تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد اچانک سفید دودھیا روشنی اس بزرگ کے وجود سے نکل ہر روحان کے چاروں طرف پھیلی تھی۔۔ اور وہ بھیانک شکل والا شیطان دم دباتا بھاگ گیا تھا____
وہاں موجود کوٸی شخص یہ منظر نہيں دیکھ پایا تھا۔۔۔
صرف اور صرف ام حانم دیکھ پاٸی تھی___

حانم نے ایک لمبا سانس اندر کو کھینچا تھا اور پھر اپنے تنے اعصاب کو ڈھیلا چھوڑا تھا۔ اب اسکا رخ کچن کی طرف تھا۔۔ وہ آسیہ بیگم کو رخصتی کیلیۓ ہاں کرنے جا رہی تھی___

وہ جان گٸی تھی اسے ایک بڑی جنگ لڑنی تھی اور یہ جنگ اسکے اور روحان جبیل کے درمیان نہيں تھی۔۔ بلکہ اسکے اور شیطان کے درمیان تھی___ جو اسے مقدس رشتے کو توڑ کر اپنی من مانی کرنے پر اکساتا تھا___ یہ جنگ اسکے اور ماضی کے درمیان تھی جو جو سانپ کی طرح پھن پھیلاٸے منہ کھولے اسے نگلنے کو تیار تھا تاکہ پھر سے وہ ادھیروں کی دنیا میں چلی جاٸے____

کبھی جنگ انسانوں کے درمیان نہيں ہوتی۔۔ بلکہ ایک انسان اور ان دیکھی چیزوں کے درمیان جاری ہوتی ہے___ وہ سلفاٸٹ تھی__ وہ لوٹ آٸی تھی__
اور وہ پہلی ہی نظر میں سب سمجھ گٸی تھی کہ اسکے ساتھ کیا ہو رہا تھا__ کیوں ہو رہا تھا اور اسے کیا کرنا تھا___

روحان جبیل ایک نیک انسان تھا وہ یہ اچھے جانتی تھی___ وہ آرجے سے نفرت کرتی جو اب نہيں تھا___ اس نے اپنے شوہر کو ان دیکھے انجانے میں چاہا تھا___ لیکن وہ روحان جبیل نکلا تھا___
وہ جان گٸی تھی محبت کرنا اتنا آسان نہيں تھا۔۔ وہ جسے محبت سمجھ رہی تھی وہ محبت نہيں تھی۔۔ وہ بس چاہت تھی___
اور وہ حیران تھی۔۔ روحان جبیل نے محبت کیسے کرلی تھی___؟؟
اور اسے ایک جنگ اور لڑنی تھی۔۔ محبت اور نفرت کے بیچ کی جنگ___
اور نفرت تو عام لوگوں کا کام ہے۔۔ خاص لوگ تو محبت کی داستانیں رقم کرتے ہیں___ اور داستان اتنی جلدی نہيں رقم ہوتی___ ایک لمبا سفر طے کرنا پڑتا ہے___ تب جا کر محبت، محبت کہلاتی ہے___
اور حانم نے ساری جنگیں لڑنے کا فیصلہ کیا تھا___ اس طویل خاردار سفر پر نکلنے کا فیصلہ کیا تھا___ یقيناً مشکل سفر کی منزل حسین ہوتی ہے___!!

__________________________

جواد ان چاروں کو لے کر مارکیٹ آیا تھا۔ حانم اور ماہم دونوں نے شادی کا جوڑا خریدنا تھا اور باقی ساری شاپنگ بھی کرنی تھی۔

حانم پرسکون تھی۔۔ وہ ماہی،ماہم اور ایلا کے ساتھ مل کر دل سے چیزیں خرید رہی تھی۔ وہ چاروں پرجوش تھیں۔ البتہ جواد تھک چکا تھا۔

وہ انکے ساتھ آکر پچھتا رہا تھا۔

”اور کتنی دیر لگے گی میری بہنو۔۔؟؟“

وہ رونی صورت لیۓ پوچھ رہا تھا۔

”بس۔۔ تھوڑی دیر اور۔۔ تھوڑی سی شاپنگ رہ گٸی ہے۔۔“
ماہی نے جواب دیا تھا۔۔ البتہ انکی یہ تھوڑی دیر ایک گھنٹے پر مشتمل تھی۔

انکی شاپنگ ختم ہونے پر جواد نے شکر ادا کیا تھا اور توبہ کرلی تھی آٸندہ انکے ساتھ نہيں آنا۔۔ رات آٹھ بجے وہ سب واپس آٸے تھے۔

____________________________

حانم کچن میں چاٸے بنا رہی تھی۔ ضیا ٕ جبیل، روحان اور حشام تینوں لاٶنج میں حمدان انکل کے پاس بیٹھے تھے۔

وہ مصروف سی چاٸے کے لوازمات ڈش میں رکھ رہی تھی جب اسے پنے پیچھے آہٹ سناٸی تھی۔ حانم نے پلٹ کر دیکھا تو روحان ہاتھ میں فاٸل لئے کھڑا تھا۔
حانم نے اسے تیکھے چتونوں سے گھورا تھا۔

”کیسی ہو مسز۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا

”یہ پوچھنے آٸے ہیں آپ؟؟“
حانم نے کاٹ دار لہجے میں پوچھا۔

”اگر تم بتادوگی تو اچھا لگے گا۔۔“
وہ مسکرایا تھا۔۔ وہ ہمیشہ حانم کے سخت لہجے میں کی گٸی بات کا نرمی سے جواب دیتا تھا۔
اور اب بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

”میں ٹھیک ہوں۔۔“

”چلو اللہ کا شکر ہے۔۔ یہ لو فاٸل۔۔“
اس نے فاٸل کو شیلف پر رکھا۔

”یہ کیا ہے؟؟“

”حویلی کے کاغذات۔۔ کھول کر دیکھ لو میں تمہارے نام کردی ہے حویلی۔۔“
وہ عام سے لہجے میں کہہ رہا تھا۔ حانم چونکی تھی۔

”کیوں؟؟“
وہ سرد لہجے میں پوچھ رہی تھی۔

”بس ویسے ہی۔۔ میرا دل کیا اس لئے۔۔“
وہ مسکرایا۔

وہ کروڑوں کی ملکیت کی حویلی۔۔صرف دل کے کہنے پر اسکے نام کر رہا تھا۔۔ حیرت تھی۔

”جی نہيں۔۔ جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔۔ میں نے ثبوت مانگا تھا آپ سے شاید اسی لئے۔۔“
حانم اب اسے چڑا رہی تھی۔

”تم روحان جبیل کو نہيں جانتی۔۔ روحان جبیل کسی کے کہنے پر کچھ نہیں کرتا۔۔ یہ تو میں نے پہلے سے سوچ رکھا تھا__ اسی لئے تو کاغذات کو سنبھال کر رکھا تھا__!!
ملازمہ کے کچن میں داخل ہونے پر روحان خاموش ہوگیا تھا اور پھر حانم کے جواب نا دینے پر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔ جبکہ حانم وہ فاٸل اٹھا کر اپنے کمرے کی طرف چلی گٸی تھی۔
ملازمہ کو اس نے چاٸے لے جانے کا حکم دیا تھا۔

___________________________

حمدان صاحب اب جلدی سے ماہین بیٹی کیلیۓ بھی رشتہ ڈھونڈ لو۔۔ اب جلدی سے اسکے ہاتھ بھی پیلے ہوجانے چاہیٸے۔۔“
سید ضیا ٕ جبیل مسکرا کر کہہ رہے تھے۔

”اب دیکھو نا روحان کی شادی ہو جاٸے گی۔۔ حشام کا رشتہ پکا ہو چکا ہے۔۔ کچھ دنوں میں اسکی آزادی بھی ختم ہو جاٸے گی۔۔ سارے بچوں کی شادیاں ہو جاٸیں گی میں چاہتا ہوں کہ لگے ہاتهوں ماہین بیٹی کی خوشی بھی دیکھ لوں۔۔“

حشام کے رشتے کی بات پر ماہی نے شکایتی نظروں سے اسکی طرف دیکھا تھا جو نظریں چرا گیا تھا۔

”انکل۔۔ آپ پریشان نا ہوں۔۔ لڑکا میں ڈھونڈ چکی ہوں۔۔ لیکن۔۔۔
ماہی نے بات ادھوری چھوڑی۔

”لیکن کیا بیٹا۔۔؟؟“
وہ حیران ہوٸے۔ حمدان صاحب بھی اسکی پسند سے واقف تھے۔
اسی لیے وہ بلا جھجھک بتا رہی تھی۔

”لیکن انکل جس کو میں نے پسند کیا وہ انسان کم ظرف نکلا۔۔ اسے محبت کی قدر نہيں ہوٸی۔۔“
ماہی کا لہجہ کاٹ دار تھا۔ حشام نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
وہ حیران تھا۔۔ جبکہ ماہی کے لبوں پر زخمی مسکراہٹ ابھری تھی۔

”میں کم ظرف نہيں ہوں۔۔“
حشام کی آنکهوں نے دہائی دی تھی۔

ﺍﮎ ﺗﺎﺯﮦ ﺣﮑﺎﯾﺖ ﮨﮯ
ﺳﻦ ﻟﻮ ﺗﻮ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮨﮯ
ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ
ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻢ ﻧﮯ
ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﭘﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻢ ﻧﮯ
ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺗﮭﺎ
ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻢ ﻧﮯ
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮭﺎ
ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﯿﺪﺍ
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺭﺍﺗﯿﮟ
ﮐﻢ ﻣﻠﻨﺎ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ
ﮨﻢ ﺳﮯ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﻼﻗﺎﺗﯿﮟ
ﺭﻧﮓ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺷﮩﺎﺑﯽ ﺗﮭﺎ
ﺯﻟﻔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﮩﮑﺎﺭﯾﮟ
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺎﺩﻭ ﺗﮭﺎ
ﭘﻠﮑﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ
ﺩﺷﻤﻦ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ
ﺳﻮ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮨﺎﺭﯾﮟ
ﮐﭽﮫ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺷﺒﺎﮨﺖ ﻣﯿﮟ
ﮨﺎﮞ ﺗﻢ ﺳﺎ ﮨﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ
ﺷﻮﺧﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﻣﯿﮟ
ﻟﮕﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﮨﯽ ﺳﺎ ﺗﮭﺎ
ﺩﺳﺘﻮﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﮎ ﺩﻥ
ﺍﭘﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﻮﻻ
ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮈﻭﺑﺎ
ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭨﻮﭨﺎ
ﭘﮭﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﻭﮦ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮈﮬﻮﻧﮉﺍ
ﺗﻢ ﮐﺲ ﻟﯿﮯ ﭼﻮﻧﮑﮯ ﮨﻮ
ﮐﺐ ﺫﮐﺮ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﮨﮯ
ﮐﺐ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﮨﮯ
ﮐﺐ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮨﮯ
ﺍﮎ ﺗﺎﺯﮦ ﺣﮑﺎﯾﺖ ﮨﮯ
ﺳﻦ ﻟﻮ ﺗﻮ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮨﮯ__

ماہی کی نظروں میں شکایتوں کے علاوہ گہرہ دکھ اور ملال تھا___ اور ساتھ ہی سرد پن بھی جسے حشام جبیل بخوبی سمجھ گیا تھا۔


#جاری
جو لوگ سلفاٸیٹ ناول کو سطحی طور پر پڑھ رہے ہیں اور اپنے عقل مند ہونے کا ثبوت دے کر بے بنیاد اعتراض کر رہے ہیں۔۔ اور جو لوگ اسے Typical ناول کہہ رہے ہیں__ میں بس ان سے اتنا کہنا چاہوں گی کہ سلفاٸیٹ ناول کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو خود اپنی سوچ میں سلفاٸیٹ ہیں____ کیونکہ خاص چیز عام لوگوں کی سمجھ سے باہر ہوتی ہے___!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: