Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 53

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 53

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

ماہی کی نظروں میں شکایتوں کے علاوہ گہرہ دکھ اور ملال تھا___ اور ساتھ ہی سرد پن بھی جسے حشام جبیل بخوبی سمجھ گیا تھا۔

”میں کم ظرف نہيں ہوں ماہین۔۔“
حشام جبیل کی نگاہیں بول رہی تھیں جنہيں ماہین حمدان بخوبی سن سکتی تھی۔
ماہی کا دل تڑپا تھا۔ اس سے پہلے کوٸی کچھ بولتا یا پوچھتا وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸی تھی۔
________________________

شام کو مایوں یعنی ابٹن کی رسم تھی۔ ماہم بہت خوش نظر آرہی تھی۔ حارث یعنی ماہم کا ہوبے والا شوہر ایک بہت ہونہار لڑکا تھا۔
وہ کسی امیر خاندان سے نہيں تھا بلکہ یتیم کا جسکی ایک بہن اور ماں تھی۔ وہ حمدان صاحب کی کمپنی میں ہی کام کرتا تھا اور حمدان صاحب کا چہیتا Employ تھا۔ اس نے اپنی ذہانت، محنت اور لگن سے بہت جلد اعلیٰ مقام حاص کرلیا تھا۔
کل اسکے پاس کچھ نہيں تھا لیکن آج وہ ایک خوبصورت گھر، گاڑی اور ہر چیز کا مالک تھا۔
اسکی محنت اور لگن سے متاثر ہو کر حمدان صاحب نے ماہم کا رشتہ حارث سے کردیا تھا جسے حارث نے دل و جان سے قبول فرمایا تھا۔

ابٹن کیلیۓ بناٸے گٸے پیلے جوڑے۔۔ اور چوڑیاں۔۔ گھر میں تیاریاں جاری تھیں۔ ایلا کو یہاں کا ماحول بہت پسند آیا تھا۔ وہ سب سے زیادہ بنی سنوری پھر رہی تھی۔
ماہم کو اچھے سے تیار کیا گیا تھا۔ اسکی نند اور ساس نے رسم کرنے آنا تھا۔

”ہاں اب اچھا لگ رہا ہے۔۔“
حانم نے اسکا ڈوپٹہ سیٹ کرتے ہوٸے کہا۔

”ہانی تم سے ملنے کوٸی آیا ہے۔۔“
ماہی نے جو ابھی نیچے سے آٸی تھی اسے اطلاع دی تھی۔

”مجھ سے ملنے۔۔؟؟“
وہ حیران ہوٸی۔

”ہاں جا کر دیکھ لو۔۔“
ماہی کے کہنے پر وہ نیچے آٸی تھی اور پھر لاٶنج کے صوفے پر بیٹھی شخصیت کو دیکھ کر حیران رہ گٸی تھی۔
وہ مہرو تھی۔۔ ہاں مہروالنسا ٕ اسکی بچپن کی دوست۔۔

”ہانی۔۔“
مہرو اسے دیکھ کر خوشی سے چلاٸی تھی اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر حانم کی طرف بھاگی۔ اس نے شدت سے حانم کو گلے لگایا تھا۔ حانم تو گنگ رہ گٸی تھی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہيں تھا کہ مہرو اسے یوں اچانک مل جاٸے گی۔

_______________________________

وہ دونوں سالوں بعد ملی تھیں۔ مہرو کو حانم سے بہت سے شکوے تھے۔ جنہيں وہ اب روتے ہوٸے کر رہی تھی۔

”یار رو کیوں رہی ہو؟؟“
حانم کو اسکا رونا برا لگ رہا تھا۔

”تم چھوڑ کر چلی گٸی تھی ہانی۔۔ کبھی رابطہ بھی نہيں کیا۔“

”ذرا یاد کرو۔۔ چھوڑکر کون گیا تھا؟؟ تم گٸی تھی پہلے مہرو۔۔ جب تم نہیں رہی تو میرا بھی دل نہيں لگا اس لیۓ مجھے بھی جانا پڑا۔۔“

”لیکن تم رابطہ تو کر سکتی تھی نا۔۔۔؟؟“

“ہاں۔۔ اسکے لیۓ میں معذرت کرتی ہوں۔۔ اب رونا بند کرو۔۔“
حانم مسکراٸی تھی۔

”ماشاءاللہ تمہارا بیٹا بہت پیارا ہے۔۔“
حانم نے مہرو کے تین سالہ بیٹے کو گود میں اٹھایا تھا۔
جس پر مہرو مسکرادی تھی۔

____________________________

سید جبیل، بی جان، مدیحہ اور اسکا شوہر ارحم سب لاہور آچکے تھے۔ اب سب نے شادی تک یہیں رہنا تھا۔

روحان اور حشام دونوں ایک ہی کمرے میں تھے۔ حشام تیار ہو کر رہا تھا۔ روحان اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
حشام کا چہرہ سپاٹ تھا۔

”تم اچھا نہيں کر رہے شامو کاکا۔۔“
روحان نے اسے مخاطب کیا تھا۔ کف کے بٹن بند کرتے حشام کا ہاتھ رکا تھا۔

”کیا مطلب۔۔؟؟“
وہ چونکا۔

”مطلب صاف ہے شامو کاکا۔۔ تم اچھا نہيں کر رہے ہو۔۔“
روحان ملامت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

”تم کس بارے میں بات کر رہے ہو۔۔؟؟“
حشام نے انجان بنتے ہوٸے پوچھا۔

”ماہی کی بات کر رہا ہوں۔۔ تم اسکے ساتھ اچھا نہيں کر رہے۔۔“

روحان کی بات سن کر حشام گنگ رہ گیا تھا۔ اسے اندازہ نہيں تھا کہ وہ سب جانتا تھا۔

”کیا غلط کیا میں نے اسکے ساتھ؟؟“
حشام کا لہجہ کاٹ دار تھا۔

”تم اسکا معصوم دل توڑ رہے ہو۔۔ جبکہ وہ تمہارے انتظار میں بیٹھی ہے۔۔“

”تم نے بھی تو ہزاروں لڑکيوں کا دل توڑا ہے۔۔۔ کیا میں نے کبھی کچھ کہا۔۔؟؟“
حشام کا لہجہ تلخ ہوا۔ روحان چونکا تھا۔ یہ اسکا شامو کاکا نہيں تھا۔

”میری بات اور ہے حشام۔۔ تمہيں ماہی کا دل نہيں توڑنا چاہیۓ۔۔“

”کیوں۔۔؟؟ کیا مجھے اپنی مرضی سے زندگی جینے کا حق نہيں ہے کیا؟؟“
وہ دبی دبی آواز میں چلایا تھا۔ روحان کو حیرت ہورہی تھی۔ وہ آج بدلا بدلا س لگ رہا تھا۔

”ایسی بات نہيں ہے۔۔ لیکن سارہ سے شادی کرنا۔۔ یہ بھی تو تمہاری مرضی نہيں ہے۔۔“
روحان نے نرم لہجے میں کہا تھا۔

”وہ بی جان کی پسند ہیں مجھ میں اتنی ہمت نہيں ہے روحان کے میں تمہاری طرح اپنی محبت کیلیۓ بی جان کے سامنے کھڑا ہو سکوں۔۔ نہيں ہے مجھ میں اتنی ہمت۔۔“
وہ تلخ لہجے میں کہتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا جبکہ پیچھے روحان کے چہرے پر پریشانی کی لکیریں ابھری تھیں۔

__________________________

بحریہ ٹاٶن میں پاس پاس موجود دونوں گھروں کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ دونوں گھروں میں خوشیوں کے شادیانے بج رہے تھے۔

بی جان اور مدیحہ اس وقت حمدان ولہ میں موجود تھیں۔
بی جان اور مدیحہ دونوں کو حانم بہت پسند آٸی تھی۔ حانم نے بھی دونوں سے پیار سے بات کی تھی۔
مدیحہ کی ایک سالا بیٹی جس میں روحان کی جان تھی حانم کو بہت پسند آٸی تھی۔

”مجھے اندازہ تھا کہ روحان بھاٸی کی پسند عام نہيں ہو سکتی۔۔ اور آج آپکو دیکھ کر یہ یقين بھی ہو گیا ہے۔۔“
مدیحہ حانم سے کہہ رہی تھی۔ جبکہ حانم اسکی بات سن کر مسکرا دی تھی۔
اس خاندان کے سبھی لوگ بہت اچھے تھے۔ خاص طور پر بی جان جو بہت شفیق خاتون تھیں۔

”جب تک روحان بیٹا آرجے تھا میں ہمیشہ ڈرتی رہتی تھی۔ لیکن جب وہ شاہ بنا تو میرا ڈر ختم ہو گیا تھا۔۔ تب میں پرسکون ہوگٸی تھی کہ اب جب بھی وہ شادی کرے گا حویلی کے مقام کی بہو لاٸے گا۔۔“
حانم کو بی جان کی بات تھوڑی عجیب لگی تھی لیکن وہ پھر بھی مسکرا دی تھی۔

پیلے سادہ سے جوڑے میں ملبوس دونوں بہنوں کو ابٹن لگایا تھا۔
حانم نے شکر ادا کیا تھا روحان ایک بار بھی نہيں آیا تھا۔
رسم کے بعد بی جان، مدیحہ اور مہرو تینوں سید ہاٶں جا چکی تھیں۔
اور انکے تھوڑی دیر بعد ماہم،ماہی ایلا اور آسیہ بیگم بھی۔۔
صرف حانم نہيں گٸی تھی۔ اور اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔
چونکہ فروری کا مہینہ تھا سردی کی شدت میں ابھی تک کمی نہيں ہوٸی تھی۔
باہر موسم ابر آلود ہوا تھا۔ حانم کو سونے کا موقع ملا تھا اور وہ کمبل اوڑھ کر سو گٸی تھی۔

__________________________

لاٶنج میں موجود سبھی لوگ روحان کو گھیرے بیٹھے تھے جسے شدید کوفت ہو رہی تھی۔ وہ ابٹن نہيں لگوانا چاہتا تھا لیکن اسے کوٸی بھی بخشنے کے موڈ میں نہيں تھا۔

”بی جان کیا یہ ضروری ہے؟؟“
وہ رونی صورت لیۓ پوچھ رہا تھا۔

”ہاں شاہ بیٹا۔۔ سکون سے بیٹھ جاٶ اب۔۔ یہ ہم سب کی خوشی ہے۔۔“
بی جان نے اسے سمجھایا۔

”بی جان مجھے کوفت ہو رہی ہے۔۔ میرے کپڑے خراب کردیے ہیں مدیحہ نے۔۔“
روحان نے اپنے سفید کلف لگے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا جس پر ابٹن لگ چکا تھا۔

”ارے بھاٸی آپ پریشان نا ہوں۔۔ جتنا آپ ابٹن لگواٸیں گے اتنا ہی حانم بھابھی کو آپ سے پیار ہوگا۔۔“
مدیحہ نے شرارتی لہجے میں کہا تھا۔

”کیا واقعی۔۔؟؟“
روحان کا منہ حیرت سے کھلا تھا۔

”ہاں نا۔۔ سچ کہہ رہی ہوں میں۔۔ آپ چاہیں تو یہاں موجود ساری لڑکيوں سے پوچھ سکتے ہیں۔۔“

”نہيں نہيں مجھے یقین ہے اب جتنا چاہے لگادو۔۔ میں تیار ہو۔۔“
روحان کی باچھیں کھلی تھیں۔۔ اسکی بات سن کر سب نے قہقہہ لگایا تھا۔

___________________________

حشام اپنے کمرے میں تھا اسکی طبیعت ٹھیک نہيں تھی۔ اس نے میز کے دراز سے اپنی دواٸی نکالی تھی اور پھر یہ دیکھ کر پریشان ہوگیا تھا کہ دواٸی ختم ہو چکی تھی۔

”شٹ۔۔“
حشام نے اپنے جسم میں اٹھتی درد کی ٹھیسوں کو برداشت کرتے ہوٸے کہا تھا۔
کچھ دیر کمرے میں اِدھر اُدھر ٹہلنے کے بعد اس نے ڈاکٹر کا نمبر ملایا تھا۔
سلام و دعا کے بعد اس نے اپنی طبیعت کا بتایا تھا۔ تکیلف کے باعث حشام کے چہرے پر پسینہ نمودار ہوا تھا۔

”مسٹر حشام جبیل آپکی رپورٹس تیار ہیں۔۔ آپ ہر حال میں ہسپتال آجاٸیں میں آپکو پچھلے دو دن سے کال کر رہا ہوں جبکہ آپ کوٸی ریسپانس نہيں دے رہے ہیں۔۔“
ڈاکٹر کا لہجہ سخت تھا۔

”معذرت ڈاکٹر صاحب۔۔ میرے بھاٸی کی شادی ہے۔۔ بس اسی لیۓ نہيں آ سکا۔۔“
حشام نے شرمندہ لہجے میں بتایا تھا۔

”چلیں ٹھیک ہے آپ کل صبح بلکہ ہو سکے تو ابھی ہسپتال پہنچ جاٸیں۔۔“
ڈاکٹر صاحب اسے تلقين کرتے فون بند کر چکے تھے جبکہ حشام ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا تھا۔ اسکے چہرے پر کرب کے ساٸے واضح تھے۔

____________________________

اگلے دن ڈاکٹر باسط اور مقدس آپی اپنے بچوں سمیت سید ہاٶس میں پہنچ چکے تھے۔ ایسا ممکن نہيں تھا کہ روحان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی میں وہ دونوں شامل نا ہوتے۔۔

”زندگی کی نٸی شروعات کرنے جا رہے ہو برخوردار خدا تمہيں ہزاروں خوشیوں سے نوازے۔۔“
ڈاکٹر باسط نے اسے دل سے دعا دی تھی۔
روحان کی خوشی کا کوٸی ٹھکانہ نہيں تھا۔ اسے تو اس بات پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ حانم رخصتی کیلیۓ مان گٸی تھی۔
لیکن پچھلے دو دنوں سے اسکا حانم سے سامنا نہيں ہوا تھا۔ وہ اس سے مل کر پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ خوش تھی یا نہيں___ لیکن موقع نہيں مل پا رہا تھا۔

وہ حانم سے ملنے کی ترکیب سوچ ہی رہا تھا جب سید جبیل اسکے کمرے میں داخل ہوٸے۔۔

”ڈیڈ آپ۔۔؟؟“
وہ حیران ہوا تھا۔

”مجھے بلا لیا ہوتا۔۔ میں آجاتا۔۔“
سفید کلف لگے سوٹ پہنے کندھوں پر چادر پھیلاٸے سید کی جبیل کی شخصیت اور رعب ہی الگ ہوتا تھا___
روحان نے ہمیشہ انہيں ایسے ہی کپڑوں میں دیکھا تھا جو انکی شخصیت پر خوب جچتے تھے۔

”کاش آج عاٸشہ زندہ ہوتی وہ اپنی آنکهوں سے تمہاری اس خوشی کو دیکھتی۔۔“
سید جبیل کی آواز بھرا گٸی تھی۔ انہيں اس موقع پر وہ بہت یاد آٸی تھیں۔

”ڈیڈ آپ پریشان نہ ہوں۔۔“
روحان جبیل نے انہيں تسلی دی تھی۔ یہ الگ بات تھی جب سے وہ آرجے سے روحان جبیل بنا تھا اسے اپنی ماں شدت سے یاد آتی تھی۔

”تمہارے لیۓ وہ خاندان کی ہر روایت کو توڑنے کیلیۓ تیار رہتی تھی۔۔ اور میں نے بھی صرف اسکا سوچ کر تمہيں خاندان سے باہر شادی کرنے کی اجازت دی ہے۔۔ کہ کہیں قیامت کے روز وہ میرا گریبان نا پکڑ لے۔۔“
وہ حقيقت بیان کر رہے تھے۔

”میں چاہتا ہوں کہ تم ایک خوشگوار زندگی جیو۔۔“
سید جبیل نے اسے کندھوں سے پکڑ کر کہا تھا۔

”شکریہ ڈیڈ۔۔“
روحان مسکرا کر انکے گلے لگ گیا تھا۔ باہر رم جھم برستی بارش میں اندر دونوں کے دل بھیگ گٸے تھے۔

______________________

مہندی کی رسم جاری تھی۔ ماہم اور حانم دونوں سجی سنوری بیٹھی تھیں۔
آسیہ بیگم نے دونوں کی نظر اتاری تھی۔ ماہم اور ساس اور نند اپنی بہو کو دیکھ کر بہت خوش ہوٸی تھیں۔

پورے گھر میں گہما گہمی تھی۔ ماہی کی خوبصورت آنکهوں میں انتظار کے دیپ جل رہے تھے۔ وہ حشام کو ایک نظر دیکھنا چاہتی تھی۔
وہ کل سے نہيں آیا تھا۔ اسکی بیتاب نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھ رہی تھیں۔
لیکن نا اسے آنا تھا اور نا ہی وہ آیا تھا۔ ماہی دل مسوس کر رہ گٸی تھی۔

”کتنی دیر اور لگے گی۔۔؟؟“
حانم نے تھکن سے بھرپور لہجے میں پاس بیٹھی ماہی سے پوچھا تھا۔

”کیوں کیا ہوا؟؟“
ماہی حیران ہوٸی۔

”اتنا بھاری سوٹ نہيں پہنا جا رہا مجھ سے گھٹن ہو رہی ہے۔۔“
حانم نے اپنی پریشانی بیان کی۔

”منہ بند کرکے بیٹھ جاٶ۔۔ ایسا موقع بار بار نہيں آتا۔۔ ماہم کو دیکھو کتنے مزے سے بیٹھی ہے اور کتنی خوش نظر آرہی ہے۔۔ جبکہ تم سارا دن سوتی ہو۔۔ پھر بھی تھکن۔۔؟؟“
ماہی نے اسے گھورتے ہوٸے کہا تھا جس پر حانم خاموش ہو کر بیٹھ گٸی تھی۔

____________________________

رات کے ایک بجے کا وقت تھا۔ حانم سنگھار میز کے سامنے بیٹھی اپنا زیور اتار رہی تھی۔
کمرے میں مدھم روشنی تھی۔ اسکا بھاری بھرکم ڈوپٹہ بیڈ پر پڑا تھا۔
وہ پوری توجہ سے چوڑیاں اتار رہی تھی جب کمرے میں کسی کے موجودگی کے احساس سے چونکی۔۔

حانم نے گردن موڑ کر دروازے کی طرف دیکھا تو دھک سے رہ گٸی تھی۔ اس سے کچھ فاصلے پر سینے پر بازو باندھے، دیوار سے ٹیک لگاٸے۔۔ روحان کھڑا تھا۔ جو فرصت سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

”آ۔۔آپ۔۔ یہاں۔۔؟؟“
وہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہوٸی۔ گود میں رکھی چوڑیاں نیچے گر چکی تھیں۔

”کیسی ہو مسز؟؟“
وہ چمکتی آنکهوں سے پوچھ رہا تھا۔ وہ سادہ سے کپڑوں میں ملبوس تھا۔ سیاہ رنگ کی واسکیٹ پہنے اسکی شخصیت نکھر آٸی تھی۔

”آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟؟“
حانم نے اپنے لہجے میں غصہ سموتے ہوٸے پوچھا۔

”کیوں میں یہاں نہيں آسکتا۔۔؟؟“
الٹا سوال کیا گیا تھا۔
وہ اب آہستہ آہستہ اسکی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔

”نہيں۔۔“
حانم نے سخت لہجے میں جواب دیا تھا۔

”کیوں۔۔ میرے سسر کا گھر ہے میں کیوں نہيں آسکتا۔۔؟؟“
وہ اب بیڈ پر پڑا اکسا بھاری ڈوپٹہ اٹھاتے پوچھ رہا تھا۔ اسکا لہجہ شوخ تھا۔ حانم کو حیرت ہو رہی تھی۔

”میرا خیال ہے پھر آپکو اپنے سسر سے اس وقت ملاقات کرنی چاہیۓ۔۔ میں انہيں بلاتی ہوں۔۔ یہاں اس وقت وہ آپکو دیکھ کر خوش ہونگے۔۔“
حانم غصے سے کہتے ہوٸے دروازے کی طرف بڑھی۔
”اتنی بھی کیا جلدی ہے مسز۔۔ ظالم سماج کو درمیان میں مت لاٶ۔۔ پہلے ہی بی جان میں مجھے مہندی کی رسم میں شریک نہيں ہونے دیا۔۔“
وہ اسکے راستے میں حاٸل تھا۔ اسکا دکھ سن کر حانم نے بامشکل اپنی ہنسی ضبط کی تھی۔

”تمہیں پتا ہے پچھلے دو تین دنوں سے میں نے تمہيں نہيں دیکھا۔۔ یقین مانو سب کچھ پھیکا لگنے لگا تھا۔۔“

حانم کو یقین نہيں ہو رہا تھا کہ یہ وہی روحان جبیل تھا جسے وہ پچھلے ایک سال سے جانتی تھی۔ یہ اتنا شوخ کیسے ہو سکتا تھا۔
روحان نے ہاتھ بڑھا کر وہ ڈوپٹہ حانم کے سر پر اوڑھایا تھا۔
حانم کے سنہری بال کمر پر بکھرے پڑے تھے۔ ہلکے میک اپ سے مزین چہرہ ڈوپٹے کے ہالے میں مزید خوبصورت ہو گیا تھا۔

”یقین نہيں ہوتا۔۔ کوٸی اتنا خوبصورت کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟؟“
وہ اسے آنکهوں میں جذب کرتے پوچھ رہا تھا۔

”ایسا لگ رہا ہے جیسے ہزاروں چراغ جل اٹھے ہوں۔۔“
وہ حانم سے کچھ فاصلے پر کھڑا کہہ رہا تھا۔ حانم کو اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز صاف سناٸی دے رہی تھی۔

”ڈاٸیلاگز اچھے بول لیتے ہیں آپ۔۔“
حانم نے رخ پلٹتے ہوٸے کہا تھا۔ وہ اب آٸینے کے سامنے کھڑی باقی چوڑیاں اتار رہی تھی۔ مقصد صرف روحان سے دوری تھی۔۔ وہ اپنے تیز دھڑکتے دل کو نارمل کرنا چاہتی تھی۔

”تمہيں میری باتيں ڈاٸیلاگز لگتی ہیں؟؟“
روحان کو صدمہ ہوا۔

”جی بالکل۔۔“
حانم نے نظریں جھکاٸے کہا تھا۔

”مجھے لگا شاید تم بھی ملنا چاہتی ہو۔۔ میں اسی لیۓ آگیا۔۔“
وہ لہجے میں بیچارگی سموتے کہہ رہا تھا۔

”خوش فہمیاں بہت ہیں آپکو۔۔“
حانم نے طنز کیا۔

”کسی نے ایک سال تک محبت کی ہے مجھ سے۔۔ خوش فہمیاں تو ہونگی نا۔۔ اب اگر تم بھول گٸی ہو یا نا مانو تو میں کیا کر سکتا ہوں۔۔“
حانم کے جھمکے اتارتے ہاتھ ایک پل کو ساکت ہوٸے۔

”تب میں غلط فہمی میں مبتلا تھی۔۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ میں جسے شخص کو چاہنے کی حماقت کر رہی ہوں وہ چہرے سے ایسا ہوگا۔۔“
حانم نے سچ کہا تھا۔

”میری بد نصیبی کہ میرا چہرہ آرجے سے ملتا ہے۔۔ میں تو چہرہ بدل کر تمہارے سامنے آیا تھا۔۔ در حقيقیت جلے ہوٸے چہرے کے ساتھ۔۔ لیکن اللہ توبہ تم نے تب بھی مجھے قبول نہيں کیا۔۔“

”کک۔۔ کیا مطلب۔۔؟؟“
اسکی بات سن کر حانم کو جھٹکا لگا تھا۔ اس نے رخ موذ کر روحان کو دیکھا تھا جو اسکے بیڈ پر آرام سے بیٹھا تھا اور نظریں حانم پر جمی تھیں۔

”مجھے لگا تھا کہ اینجل ایک نرم دل لڑکی ہوگی۔۔ لیکن اس سے ملنے کے بعد پتا چلا کہ وہ تو ڈاٸن ہے۔۔“
روحان نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوٸے بتایا۔
حانم کرنٹ کھا کر اچھلی تھی۔
اسے اب کچھ کچھ سمجھ آرہا تھا۔

”تو۔۔ آپ۔۔ ہی مون تھے؟؟“
وہ پھٹی پھٹی آنکهوں لیے پوچھ رہی تھی۔

”ہاں۔۔ مون بننا پڑا تھا مجھے۔۔“
روحان نے بیڈ کے ساتھ میز پر رکھی پلیٹ سے سیب اٹھایا تھا۔۔ اور اب وہ مزے سے کھا رہا تھا۔
جبکہ حانم حیرت زدہ سی اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے شاک دے کر وہ کتنا پر سکون تھا۔

”مجھے سمجھ نہيں آتا کہ آپ کون ہیں؟ آرجے، مون یا پھر روحان جبیل؟؟“
اسکی بات سن کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔ سیب کو واپس پلیٹ میں رکھنے کے بعد وہ ایک بار پھر اسکے سامنے کھڑا تھا۔ آنکهوں میں حانم کیلیۓ جذبات مچل رہے تھے۔
جبکہ چہرے پر سنجيدگی چھاٸی تھی۔

”میں ہانی کیلیۓ آرجے، اینجل کیلیۓ مون جبکہ ام حانم کیلیۓ روحان جبیل ہوں____ تم زندگی کے سارے پہروں میں جتنے بھی روپ بدلو گی___ ہر پہر میں ایک نٸے روپ میں، مجھے اپنے ساتھ پاٶ گی___“
روحان نے حانم کا ہاتھ تھامتے ہوٸے کہا تھا۔

”تم چاہے سات براعظموں کی سیر کو جاٶ یا سات سمندروں کی___ تم چاہے ساتویں آسمان کو چھو کر آٶ یا سمندر کی گہراٸی سے سیپ نکالنے جاٶ___ تم مجھے ہر جگہ پر اپنے ساتھ پاٶ گی__ میں نے زندگی کے بہت سے پہر تمہارے بنا گزارے ہیں___ میں اب تمہارے ساتھ جینا چاہتا ہوں__ تم میرا ہر قدم پر ساتھ نبھاٶ گی تو میں ہر مشکل کا مقابلہ کروں گا__ میں ہر طوفان سے ٹکرا جاٶں گا___ کیا تم مجھے اپنے ساتھ دیکھنا چاہتی ہو؟ کیا تم میرا ساتھ نبھاٶ گی؟؟“
وہ دل سوز آواز میں سحر پھونک رہا تھا۔
حانم نے اسکے پھونکے گٸے سحر میں اپنے وجود کو گم ہوتے محسوس کیا تھا۔

کتنے ہی پل خاموشی کی نظر ہوٸے تھے۔

”بولو حانم___ میری طاقت بن کر میرا ساتھ نبھاٶ گی؟؟“

اسکی آواز سن کر حانم جیسے ہوش میں آٸی تھی۔ ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ کھینچا تھا۔ وہ سٹپٹاگٸی تھی۔ اس نے روحان کا یہ روپ آج دیکھا تھا__
اسے سمجھ نہيں آرہی تھی کہ اسکے کتنے روپ تھے۔

”آپکو اب جانا چاہیۓ۔۔ مجھے سونا ہے۔۔ شدید نیند آٸی ہے اور اگر کسی نےآپکو یہاں دیکھ لیا تو__

”کوٸی نہيں دیکھتا حانم۔۔ بس تم میرے سوال کا جواب دو۔۔“
روحان نے اسکی بات کاٹی۔

”ماہی آجاٸے گی۔۔ کہاں نا آپ جاٸیں یہاں سے۔۔“

”کہاں نا نہيں آٸے گی۔۔ وہ جانتی ہے میں ایسے موقعوں پر تمہيں دیکھنے ضرور آتا ہوں۔۔“
وہ ایک بار پھر اسے چونکا گیا تھا۔

”کیا مطلب آپکا؟؟“
حانم ٹھٹھکی۔

”مطلب وہ جانتی ہے کہ جب میں نکاح والے دن تمہيں دیکھنے آسکتا ہوں تو آج کیوں نہيں۔۔؟؟
یہ دیا تھا ایک اور شاک روحان جبیل نے ام حانم کو۔۔ وہ بےبسی سے اپنے سامنے کھڑی اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو رشتے میں اسکا شوہر تھا لیکن حانم کا اس وقت دل کر رہا تھا کہ کوٸی چیز مار کر اسکا سر پھاڑ دے۔

اگر وہ ایسے ہی شاک دیتا رہتا تو یقيناً کچھ دنوں تک وہ پاگل ہو سکتی تھی۔

حانم نے خاموشی سے الماری سے اپنے کپڑے نکالے اور ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گٸی۔

”جواب تو دیتی جاٶ۔۔“
وہ احتجاجاً چلایا۔

”اگر آپ میرے باہر نکلنے سے پہلے یہاں سے نہيں گٸے تو سچی میں۔۔
حانم نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوٸے کہا تھا۔

”میں جانتا ہوں تم سر پھاڑ دوگی۔۔“
روحان نے اسکی بات پوری کی۔

”آپ۔۔ آپکو تو میں بعد میں پوچھوں گی__!!“
حانم نے دانت پیستے ہوٸے کہا تھا اور ٹھاہ کی آواز سے دروازہ بند کیا۔
پیچھے روحان کا قہقہہ گونجا تھا جسے وہ کب سے ضبط کیۓ ہوا تھا۔
وہ روح تک سرشار ہوگیا تھا۔ اسکا رواں رواں خدا کا شکر گزار تھا جس نے اسے اسکی محبت سے نوازا تھا۔

_______________________

دونوں باراتیں آچکی تھیں۔ ہر طرف گہما گہمی تھی۔ دونوں دلہے بہت وجیہہ لگ رہے تھے۔ مہرون رنگ کی شیروانی پہنے روحان بہت خوش نظر آرہا تھا۔
حشام کی نظریں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔
کچھ دیر ڈھونڈنے کے بعد اسے ماہی نظر آگٸی تھی۔ وہ ایلا کے ساتھ تھی۔

اسے ماہی سے ضروری بات کرنی تھی۔ وہ ماہی کی جانب بڑھا۔

”مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے__!!“
حشام نے ماہی سے کہا تو وہ حیران ہوٸی۔

”میں ابھی آتی ہوں“
ایلا نے وہاں سے کھسکنا ضروری سمجھا۔

”جی بولیں۔۔“
وہ سنجيدہ لہجے میں بولی تھی۔ دو دنوں سے وہ اس دشمن جان کو دیکھنے کی دعائيں مانگ رہی تھی۔ اور آج جب وہ سامنے آیا تو نظروں نے دیکھنے سے انکار کردیا تھا۔پلکیں جھک گٸی تھیں۔

”کیسی ہیں آپ؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔
ماہی نے چونک کر اسے دیکھا جو دن بدن کمزور ہوتا جا رہا تھا۔ اتنے سالوں بعد آج ماہی کی طبیعت کا خیال آیا تھا۔ ایک پھانس سی ماہی کے گلے میں اٹک گٸی تھی۔ آنکهوں میں نمی ابھری۔۔ جسے دیکھ کر حشام نظرں چرا گیا تھا۔

”تم کو میں پاگل لگتی ہوں؟
جی چاہے تو پیار جتاؤ
جی چاہے تو ہاتھ چُھڑا کر
گم ہو جاؤ
دل چاہے تو مجھ سے میرے بارے پوچھو
کیسی ہوں؟
کیسا دن گزرا؟
کیا کھایا؟
کیسا دن گزرا؟
اور دل چاہے تو،
مرتی بھی رہوں__
تب بھی خاموشی اوڑھے
تم میرے ہونے کو نہ ہونا کر ڈالو
تم کو میں پاگل لگتی ہوں؟
مجھ پر لازم ہے ہر پل میں تم کو سوچوں
جو لکھوں بس تم پر لکھوں
جو بھی بات کروں اس میں ہو ذکر تمہارا
جو بھی خواب بُنوں اس خواب کے راجہ ہو تم
اور تم جب دل چاہے___
بیگانے ہو جاؤ
کون ہوں ،؟؟ کیا ہوں؟؟
اس سے انجانے ہو جاؤ
میرے سب جذبوں کو کھیل تماشہ کہہ دو
جو دل میں آتا ہے مجھ کو ویسا کہہ دو
اور یہ چاہو__
میں پھر بھی دل کے مندر میں تمہیں سجاؤں
اپنی ہر اک سانس تمہارے نام لگاؤں
تم کو پانے کی خواہش میں خود کو کھو دوں
جب تم بولو ہنس دوں جب تم بولو رو دوں
تم کو میں پاگل لگتی ہوں؟
سچ پوچھو تو__
جھوٹ نہیں__
میں ایسی ہی ہوں
تم کو جیسی لگتی ہوں__
میں ویسی ہی ہوں__
تم کو پاگل میں لگتی ہوں،
تمہارے لیۓ پاگل ہوں___!!“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: