Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 54

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 54

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

”دل توڑنے کی معافی تو نہيں ہوتی لیکن میں پھر بھی معافی مانگتا ہوں آپ سے۔۔“
حشام نے اپنے اندر اٹھتے درد کو ضبط کرتے ہوٸے کہا تھا جو جسم کے ساتھ ساتھ دل میں بھی اپنے پنجے گاڑے بیٹھا تھا۔

”جب آپ جانتے ہیں کہ معافی نہيں ہوتی تو مانگ کیوں رہے ہیں؟؟“
ماہی نے نم آنکهيں لیۓ پوچھ رہا تھا۔

”ماہی بیٹا ادھر آٶ۔۔“
اس سے پہلے حشام کچھ کہتا آسیہ بیگم نے اسے پکارہ تھا۔
اور وہ شکایتی نظروں سے حشام کو دیکھتی انکی طرف بڑھ گٸی تھی۔
حشام ایک سرد آہ بھر کر رہ گیا تھا۔
________________________

پہلے ماہم کی رخصتی ہوٸی تھی وہ مہرون بھاری کامدار لہنگے میں روایتی دلہن بنے بہت خوبصورت لگی تھی۔
آسیہ بیگم نے ابھی اسے بھیگی آنکهوں سے نم کیا ہی تھا جب سید جبیل نے رخصتی کی بات کی تھی۔ وہ سب لوگ شادی ہال میں تھے۔
اور خراب موسم کے پیش نظر جلدی نکلنا چاہتے تھے۔ آج روحان جبیل بہت خوش تھا۔ اتنا کہ اسکی خوشی کا کوٸی نعمل وبدل نہيں تھا۔
اس نے حانم کو ایک نظر دیکھا تھا۔ اپنے بالوں سے امتزاج یعنی گولڈن رنگ کے لہنگے میں وہ سجی سنوری روحان کے دل کے ساز چھیڑ گٸی تھی۔

حشام جبیل جو کافی فاصلے پر موجود ان دونوں کو دیکھ رہا تھا جنہيں شاید ایک دوسرے کیلیۓ بنایا گیا تھا۔
روحان کے چہرے سے چھلکتی خوشی___اسکے چہرے کی مسکراہٹ نے جہاں حشام کو خوش کیا تھا وہیں ام حانم پر نظر پڑتے ہی اکے اندر اذیت کی ایک گہری لہر اٹھی تھی۔
اپنی محبت کو چھوڑ دینا اتنا آسان نہيں ہوتا___اسے اب ماہی کی محبت کا احساس ہوتا تھا جسے اس نے ایک بار ٹھکرایا تھا۔
وہ تو حانم کے پیچھے ایک بار گیا تھا جبکہ ماہی تو پاگل تھی اسکے لیۓ___
لیکن محبت صرف پالینے کا نام ہی تو نہيں ہے کچھ لوگوں کے حصے میں بس ہجر اور قربانی ہی آتی ہے۔
اور یہ ہجر حشام کے حصے میں آیا تھا۔۔ اور کون جانتا تھا وقت کے ساتھ ساتھ شاید سبھی لوگ ہجر کی آگ میں جلنے والے تھے___
______________________________

حانم کیلیۓ یہ سب بہت مشکل تھا۔ آسان نہيں تھا اس شخص سے شادی کرنا جسکے ساتھ اسکی ماضی کی ایک خوفناک یاد جڑی ہوٸی تھی۔
بیشک آرجے اب روحان جبیل بن چکا تھا۔ لیکن انسان تو انسان ہوتے ہیں وہ دوسرے انسان کے مرنے کے بعد بھی اسکی غلطی نہيں بھولتے___ جو غلطی ہم انجانے میں کرتے اور جو غلطی ہمارے نزدیک غلطی نہيں ہوتی___ وہ دوسروں کے نزدیک گناہ کا درجہ رکھتی ہے۔
اور اس انسان کی الجھنوں کو کون سمجھ سکتا ہے جسے نفرت بھی اور چاہت بھی ایک ہی شخص سے ہوٸی ہو____

شام سات بجے کے قریب وہ لوگ بارات واپس لے کر سید ہاٶس پہنچ چکے تھے۔
سردی اور خراب موسم کے پیش نظر مختلف رسومات سے جلدی فارغ ہونے کے بعد حانم کو اسکے کمرے میں پہنچادیا گیا تھا۔

حانم نے ایک لمبی سانس خارج کی تھی اور پھر اپنے تنے ہوٸے اعصاب کو ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔
وہ آنکهیں بند کیۓ بیڈ سے پشت ٹکاٸے بیٹھی تھی جب اچانک امڈتی آوازوں اور شور نے اسے ہڑبڑانے پر مجبور کردیا تھا۔
________________________

وہ شادی ہال میں ہی تھا جب حشام کو اپنے سر میں شدید درد اٹھتا محسوس ہوا تھا۔
ڈاکٹر نے اسے ہسپتال آنے کی ہدایت کی تھی جسے وہ نظر انداز کرکے شادی کی تیاریوں میں مگن ہوگیا تھا۔

بارات سے واپسی پر حشام کو اپنے ہاتھوں اور پیروں کی جان نکلتی محسوس ہوٸی تھی۔ اسکے پورے جسم میں شدید درد تھا۔ وہ ناجانے کیسے ضبط کیۓ ہوٸے تھا۔

”حشام تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟؟“
وہ کانپتے ہاتهوں سے پانی کا گلاس تھامے کھڑا تھا جب روحان اسکے پاس آیا۔

”ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔“
وہ زبردستی مسکرایا تھا۔

”تمہارا رنگ پیلا پڑ رہا ہے۔۔“
روحان کو تشویش لاحق ہوٸی۔

”نہيں میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔ بس ہلکہ سا بخار تھا۔“
وہ پھر مسکرایا تھا۔ ناجانے کیوں روحان کو اپنا دل دھڑکتا محسوس ہوا تھا۔
حشام اسکے لیۓ بہت معنی رکھتا تھا۔ وہ اسکا سب کچھ تھا۔ اسکا شامو کاکا___

اس سے پہلے حشام کچھ کہتا روحان اسکے گلے لگ گیا تھا۔ وہ حشام سے چھ سال چھوٹا تھا اور حشام نے اسکی ہر خواہش اور لاڈ کو سر آنکهوں پر رکھا تھا۔
حشام اسکی اس حرکت پر دھک سے رہ گیا تھا۔

”تمہيں پتا ہے شامو کاکا میری زندگی میں دو لوگ ایسے آٸے ہیں جنکا نام ح سے شروع ہو کر م پر ختم ہوتا ہے___ ایک حشام اور دوسری حانم___ میں تم دونوں سے بہت محبت کرتا ہوں__ تم دونوں روحان جبیل کی طاقت ہو__اسکے مسکرانے کی وجہ ہو___“

”تم پاگل ہو روحان۔“
حشام اسکی بات سن کر مسکرادیا تھا۔

”ہاں میں پاگل ہوں۔۔ سنو۔۔ مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا___!!“
جانے کیا تھا روحان کے لہجے میں حشام تڑپ کر رہ گیا تھا۔ اسکا اعلیٰ ظرف دل دہائی دے رہا تھا۔ ہلق میں آنسوٶں کا ایک گولہ سا اٹک گیا تھا۔ حشام نے اپنے داٸیں ہاتھ سے روحان کے بالوں کو سہلایا تھا۔

”میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہونگا__ہمیشہ___تمہارے دل کے بہت قریب__!!“
حشام نے اپنے ساتھ لگے روحان کے کان میں سرگوشی کی تھی۔
روحان کسی ضدی بچے کی طرح اس سے چپکا ہوا تھا۔
حشام کی آنکهوں کے سامنے ماضی کی فلم چلنے لگی تھی۔
بچپن میں ایسا ہی ہوتا تھا۔
جب حشام چودہ سال کا تھا اور روحان آٹھ سال کا۔
حشام اسے اپنے ساتھ سکول لے کر جاتا تھا۔ جب بھی روحان کو غصہ آتا تھا یا اسے کچھ چاہیۓ ہوتا تھا وہ حشام سے کہتا تھا کہ ”شامو کاکا نیچے بیٹھو“
اور حشام ایک گھٹنے کے بل بیٹھ جاتا تھا۔ اور روحان پھولے گالوں کے ساتھ اپنی چھوٹی چھوٹی بازوٶں کو حشام کے گلے میں ڈال لیتا تھا اور اسکے چپک جاتا تھا۔
اور کتنی دیر تک ایسے ہی حشام سے لپٹا رہتا تھا۔ پھولے منہ سے اپنے غصے کی وجہ بتاتا تھا یا پھر اپنی خواہش ظاہر کرتا تھا۔
اس وقت حشام کو اس معصوم بچے پر ٹوٹ کر پیار آتا تھا اور وہ اسکی ہر جاٸز اور ناجائز خواہش کو پوری کرتا تھا۔

آہستہ آہستہ بڑے ہوتے ہوتے آج وہ حشام کے قد کے برابر آگیا تھا لیکن تھا ویسا ہی ضدی___
آج بھی اسی انداز میں اس سے لپٹا کھڑا تھا اور ضد کر رہا تھا کہ وہ ہمیشہ روحان کے ساتھ رہے۔۔

ایسا ممکن کب ہے؟؟
انسان کب کسی کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے، انسان تو بےوفا ہے چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

”لگتا ہے آج دونوں بھاٸیوں میں خاصا پیار ہو رہا ہے۔۔“
عقب سے مدیحہ کی آواز ابھری تھی۔ وہ ان دونوں کو اس طرح دیکھ کر بہت خوش ہوٸی تھی۔
اسے اپنے دونوں بھاٸی بہت عزیز تھے۔

روحان کا حصار بہت تنگ تھا۔ ناجانے کیوں آج اسکا دل ڈر رہا تھا وہ حشام کو نہيں چھوڑنا چاہتا تھا۔
”گھیرا کھلا کرو جناب اب بچے کی جان لو گے کیا؟؟“
حشام نے شرارتی لہجے میں کہا تھا۔

”دیکھو شامو کاکا مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی نا تو میں تمہيں جان سے ماڑ ڈالوں گا۔۔“
روحان بے ضدی لہجے میں کہا تھا اور پھر اس سے الگ ہوا۔

”ماشاءاللہ اللہ آپ دونوں کا پیار یونہی سلامت رکھے۔۔“
مدیحہ نے صدق دل سے دعا کی تھی۔

”ادھر آٶ۔۔“
حشام نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بلایا تھا۔ اور مدیحہ تیز تیز قدموں سے بھاگنے کے انداز میں ان دونوں کی جانب بڑھی۔

”اللہ تم لوگوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔“
حشام نے مدیحہ کے سر پر پیار کرتے ہوٸے کہا تھا جسے مستقیم نے کیمرے کی آنکھ میں مقید کرلیا تھا۔

”واہ۔۔ پیار ہو تو ایسا ہو۔۔“
وہ مسکرایا تھا۔
وہ روحان کے بلانے پر ہی شادی میں آیا تھا۔
اور بہت خوش تھا۔ اس نے سالوں پہلے جب حانم یونيورسٹی آٸی تھی تب سے اسے روحان کے ساتھ دیکھا تھا۔
وہ ان دونوں کیلیۓ دل سے خوش تھا۔

”بھاٸی آپکو تو بخار ہو رہا ہے۔۔“
مدیحہ کو احساس ہو گیا تھا۔ حشام کا جسم تیز بخار میں پھنک رہا تھا۔

”ارے نہيں تو۔۔ایسی کوٸی بات نہيں“

”دکھاٶ ادھر۔۔“
روحان نے اسکی پیشانی کو چھو کر دیکھا تھا۔

”ہاں تمہيں واقعی بہت بخار ہے۔۔“
روحان پریشان ہوا تھا۔

”نہيں تم لوگوں کو غلط فہمی ہو رہی ہے۔۔ ایسا کچھ نہيں ہے۔۔“
حشام نے ٹالنا چاہا تھا۔

”بھاٸی میں ڈاکٹر ہوں۔۔ آپ مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتے۔۔ آپکو واقعی بہت تیز بخار ہے۔۔“
مدیحہ خفگی لیۓ کہہ رہی تھی۔

”چلیں اندر میں آپکو دوا دیتی ہوں اور چاٸے بھی۔۔“
مدیحہ نے اسکا ہاتھ کھینچتے ہوٸے کہا تھا۔

وہ تینوں اسے کچن کے باہر سے لاٶنج میں لے آٸے تھے۔ وہ اسے صوفے پر بیٹھا چکے تھے۔
حشام کی رنگت اب نیلی پڑ رہی تھی۔

”بھاٸی آپ ٹھیک تو ہیں نا۔۔؟؟“
مدیحہ نے حشام کی نبض چیک کرتے ہوٸے کہا تھا۔

”مدیحہ کہاں ہو تم اسے سنبهالو۔۔“
ارحم کی آواز ابھری تھی۔ اسکی ایک سالہ بیٹی رو رہی تھی جو ارحم کی گود میں تھی۔
جبکہ مدیحہ پوری سنجیدگی سے حشام کی نبض ٹٹول رہی تھی جو آنکهيں بند کیۓ صوفے سے ٹیک لگاٸے بےسود سا پڑا تھا۔

”بھاٸی۔۔ کب سے ہے آپکو بخار اور آپ نے بتایا نہيں۔۔“
مدیحہ نے حشام کو مخاطب کیا جسے کوٸی ہوش نہيں تھی۔ اسکے جسم میں جو درد تھا وہ اسے بےہوشی کی دنیا میں جانے پر مجبور کر رہا تھا۔

”کیا ہوا حشام جواب دو۔۔“
روحان نے اسکا گال تھپتھپاتے ہوٸے کہا تھا لیکن روحان کے ہاتھ لگاتے ہی حشام صوفے پر ایک جانب ڈھلک گیا تھا۔

”بھاٸی کیا ہوا آپکو آنکهيں کھولیں۔۔“

”حشام۔۔۔ حشام آنکهيں کھولو۔۔“
ہر طرف چیخ و پکار تھی۔ حشام نے چیخوں کی آواز سن کر آنکهيں کھولنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ نہيں کر پایا تھا۔ تیز ابھرتا شور مدھم ہوا تھا۔ اور پھر ایک گہری خاموشی چھا گٸی تھی۔

___________________________

شور کی آواز حانم کے سماعت سے ٹکرا رہی تھی۔

”یا اللہ خیر۔۔“
وہ اپنا بھاری بھرکم لہنگا سنبهالتے ہوٸے بیڈ سے نیچے اتری تھی۔
ابھی وہ کمرے کے دروازے تک نہيں پہنچی تھی جب اچانک دروازہ کھلا اور ملازمہ اندر داخل ہوٸی۔ اسکے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔

”کیا ہوا ہے یہ آوازیں کس چیز کی ہیں۔۔؟؟ سب ٹھیک تو ہے نا۔۔؟؟“
حانم نے سنجيدہ لہجے میں پوچھا تھا۔

”وہ جی چھوٹے ساٸیں کی طبیعت بہت خراب ہوگٸی ہے سب انہيں ہسپتال لے کر گٸے ہیں۔۔“
ملازمہ نے بتایا تھا۔

”کون چھوٹے ساٸیں؟؟“
حانم کو سمجھ نہيں آٸی تھی۔

”روحان کی بات کر رہی ہیں آپ؟؟“
حانم سوالیہ انداز لیۓ پوچھ رہی تھی۔

”نہيں جی۔۔ میں حشام ساٸیں کی بات کر رہی ہوں۔۔“
ملازمہ کی بات سن کر حانم سن سی رہ گٸی تھی۔
اسے نہيں پتا تھا کہ حشام کو کیا ہوا تھا۔

”بی جان کہاں ہیں؟؟“

”وہ جی نیچے ہیں۔۔ باقی سب ہسپتال چلے گٸے ہیں۔۔“
ملازمہ کو حانم سے ہمدردی ہوٸی تھی اسکی شادی کے دن اتنی بڑی پریشانی آگٸی تھی۔

”اچھا ٹھیک ہے آپ جاٸیں میں آتی ہوں۔۔“
حانم نے اپنے بھاری ڈوپٹے کو سر سے آزاد کرانے کی کوشش کرتے ہوٸے کہا تھا۔
اسے حالات کا کچھ کچھ اندازہ ہو رہا تھا۔

”جی اچھا۔۔“
ملازمہ سر کو ہلاتی جا چکی تھی۔ جبکہ پیچھے حانم کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اسکا نازک سا دل تیزی سے دھڑک رہ تھا۔

تقریباً بیس منٹ بعد وہ سادہ سے حلیے میں لاٶنج میں بی جان کے پاس بیٹھی تھی۔ بی جان کافی پریشان نظر آرہی تھیں۔ انکا جوان بیٹا جو بےہوش ہو چکا تھا اور وجہ بھی نہيں معلوم تھی۔۔ بی جان کے دل میں سو طرح کے وسوسے سر ابھار رہے تھے۔ جنہيں وہ جھٹکتی دعا مانگنے میں مشغول تھیں۔

”بی جان پریشان نا ہوں ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوگا۔۔“
حانم نے بی جان کا ہاتھ دباتے ہوٸے کہا تھا۔

” ان شاء اللہ“
بی جان اپنے آنسوں ضبط کر رہی تھیں۔

”بیٹا تم نے دلہن کا جوڑا کیوں اتار دیا۔۔ پہنے رہتی بلکہ آرام کرو اپنے کمرے میں سب ٹھیک ہوگا۔“
بی جان کچھ سنبهلیں تو حانم کو اس حلیے میں دیکھ کر پیار سے کہا۔

”کوٸی بات نہيں بی جان۔ میں ادھر ہی ٹھیک ہوں۔۔“
حانم نے تسلی دی تھی۔
پورا گھر دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔

”غلام دین شاہ بیٹے کو فون ملاٶ اور پتا کرو حشام کیسا ہے اب۔۔“
بی جان نے اپنے برسوں پرانے ملازم سے کہا تھا جو سر جھکاٸے ایک جانب کھڑا تھا۔

”جی بی بی جان ابھی کرتا ہوں۔۔“
غلام دین نے حکم کی پیروی کی تھی۔
بی جان جو ایک بلند حوصلہ خاتون تھیں صبر کیۓ بیٹھی تھیں۔
__________________________

ایک ہی پل میں سب بدل گیا تھا۔ خوشیوں والے گھر میں اب ایک گہری خوفناک خاموشی چھاٸی تھی۔
روحان کا دماغ ساٸیں ساٸیں کر رہا تھا۔ وہ ہسپتال کی راہدری میں کھڑا تھا۔
وہاں موجود ہر شخص پریشان تھا۔ ابھی کچھ پل ہی گزرے تھے جب روحان کی جیب میں رکھا فون تھرتھرایا۔

یہ حشام کا موبائل تھا جسے وہ آتے ہوٸے بےدھیانی میں صوفے سے اٹھا لایا تھا۔
کسی ڈاکٹر راحیل کی کال تھی۔
روحان نے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے ہوٸے فون اٹھایا تھا۔

”مسٹر جبیل آپ آج پھر نہيں ہاسپٹل آٸے___ آپ جانتے ہیں آپکی جان کو کتنا خطرہ اور نا آپ اپنی رپورٹس لاٸے ہیں__ جو میں نے آپکو کہا تھا۔۔“
کسی مرد کی آواز ابھری تھی جسے سن کر روحان گنگ رہ گیا تھا۔

”ڈاکٹر راحیل۔۔“
روحان کانپتی آواز میں بولا تھا۔

”یس۔۔“ دوسری جانب سے کہا گیا تھا۔

”میں روحان جبیل ہوں۔۔ حشام جبیل کا بھاٸی۔۔“
روحان خود پر ضبط کرتے راہداری سے نکل آیا تھا۔
باہر بارش ہو رہی تھی۔ جو ابھی ہلکی تھی۔ موسم خراب ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی ڈاکٹر راحیل کی آواز مدھم ہوجاتی تھی۔
روحان اب پارکنگ ایریا میں آگیا تھا۔ ڈاکٹر راحیل اس سے کچھ کہہ رہا تھا۔
جسے فق ہوتے چہرے کے ساتھ روحان سن رہا تھا۔ اور پھر فون بند کرکے وہ گاڑی نکالنے کے بعد تیز رفتاری سے اسے بھگاتے ہوٸے گھر کی جانب جا رہا تھا۔
_______________________

”بی بی جان کوٸی بھی فون نہيں اٹھا رہا۔۔“
غلام دین نے اطلاع تھی۔

”یا اللہ رحم کر میرے مالک۔۔“
باہر بادلوں کی گرجنے کی زور دار آواز گونجی تھی۔
بی جان کا دل کانپ کر رہ گیا تھا۔
حانم خود ماٶف ہوتے ذہن کے ساتھ بیٹھی تھی۔ پریشانی اسکے چہرے سے جھلک رہی تھی۔

دس منٹ بعد پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز آٸی تھی۔ غلام دین باہر کی جانب بھاگا تھا۔

”کیسے ہیں حشام بابا اب؟؟“
غلام دین بھیگے کپڑوں کے ساتھ اندر آتے روحان سے پوچھ رہا تھا۔
جبکہ روحان ان سنی کرتا حشام کے کمرے کی جانب بھاگا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ گیلی ہوچکی شیروانی کے بٹن کھول رہا تھا۔
روحان کو دیکھ کر حانم کو تھوڑا حوصلہ ہوا تھا۔
لیکن وہ جس انداز میں حشام کے کمرے کی جانب بڑا تھا حانم کو تشویش ہوٸی تھی۔

پانچ منٹ بعد وہ ایک فاٸل سمیت کمرے سے باہر نکلا تھا۔
”شاہ بیٹا حشام کیسا ہے؟؟“
بی جان نے پوچھا تھا۔

”وہ ٹھیک ہے بی جان آپ دعا کریں۔۔“
روحان زبردستی مسکرایا تھا۔ حانم اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ حانم سے نظریں ملنے پر وہ نظریں چرا گیا تھا۔
اور باہر کی جانب لپکا۔ اسکے گیلے ہوچکے بال پیشانی پر پڑے تھے۔ چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا۔

”میں آپکے ساتھ چلوں۔۔؟“
حانم کی آواز پر روحان کے قدم ساکت ہوٸے تھے۔

”یہاں بی جان اکیلی ہیں۔۔ تم ابھی بی جان کے پاس رہو۔۔“
روحان نے نرم لہجے میں کہا تھا۔

”میں ٹھیک ہوں۔۔ اور اکیلی نہيں ہوں۔۔“
بی جان نے جواب دیا تھا۔

”ٹھیک ہے۔۔ آپ جاٸیں میں بھول گٸی تھی۔۔ میں ادھر ہی رکتی ہوں۔۔“
حانم کا جواب سن کر وہ تیز قدم اٹھاتا باہر کی جانب لپکا تھا۔
________________________

کبھی کبھی اچانک قیامت آجاتی ہے۔۔ اس طرح وارد ہوتی ہے کہ انسان سوچ بھی نہيں سکتا__ ساری خوشیاں جیسے ملیا میٹ ہو کر رہ جاتی ہیں۔

روحان ڈاکٹر راحیل سے مل کر بار نکلا تھا۔ وہ سن دماغ اور ہارے ہوٸے جواری کی طرح راہداری سے گزر رہا تھا۔
اسے یقين نہيں ہو رہا تھا کہ جو اسکے کانوں نے سنا وہ سچ تھا۔۔۔؟؟

”نہيں ایسا نہيں ہو سکتا۔۔“
وہ بڑبڑایا تھا۔
حشام کو blood cancer تھا۔۔ کب سے تھا یہ وہ نہيں جانتا تھا اور نا حشام نے بھنک پڑنے دی تھی۔
ڈاکٹر راحیل نے بتایا تھا کہ اکثر اسے سانس لینے میں دشواری ہوتی تھی۔ رات کو اسکا سانس اکھڑ جاتا تھا۔
سینے میں اکثر درد رہتا تھا۔ اسکی صحت تیزی سے گر رہی تھی۔
روحان کے ہاتھ میں اس وقت CBC کے ٹیسٹ کی رپورٹس تھیں جو حشام نے کروایا تھا۔

روحان کا دل چاہا تھا کہ وہ چیخے چلاٸے۔۔ وہ کیوں اسکی تکلیف کو نہيں سمجھ پایا تھا۔
جانے کتنے سالوں سے وہ اس بیماری میں مبتلا تھا۔
پاکستان آکر ڈاکٹر راحیل کے کہنے پر اس نے دوبارہ ٹیسٹ کرواٸے تھے۔

فاٸل کو گاڑی میں رکھنے کے بعد وہ کتنی ہی دیر تیز برستی بارش میں گاڑی سے ٹیک لگاٸے کھڑا تھا۔ اسکے جسم کے ساتھ ساتھ جیسے اسکی روح بھی جل رہی تھی۔
کچھ آنسو اسکی آنکھ سے نکلے تھے اور بارش میں پانی میں مل کر بہہ گٸے۔
_________________________

حانم نے فون کرکے حمدان صاحب کو سب بتادیا تھا۔ کچھ ہی دیر وہ سب لوگ گھر آگٸے تھے۔

”میں ہسپتال جانا چاہتی ہوں۔۔“
حانم نے جواد سے کہا تھا جس نے کچھ سوچنے کے بعد اسے ساتھ لے جانے کی حامی بھر لی تھی۔
اب بی جان کے پاس سب تھے۔

حمدان صاحب گھر سے ہی ہسپتال روانہ ہوگٸے تھے۔
کوٸی کچھ نہيں بتا رہا تھا۔ بی جان کا ڈر اور خوف بڑھتا جا رہا تھا۔
____________________________

مدیحہ کو جب حشام کی بیماری کا پتا چلا اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کا گلا گھونٹا تھا۔
ضیا ٕ جبیل جیسے ڈھہہ گٸے تھے۔
ہر شخص شدید صدمے کے زیر اثر تھا۔
حشام کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا تھا۔ اسے آکسیجن لگی ہوٸی تھی۔

ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ وہ لوگ کافی لیٹ ہوگٸے تھے لیکن وہ اپنی طرف سے حشام کا علاج کرنے کی پوری کوشش کرینگے۔
انہوں نے کہا تھا بلڈ کینسر کے مریض کبھی کبھی تو کافی عرصہ جی لیتے ہیں لیکن کبھی کبھی بہت جلد ختم ہوجاتے ہیں___

”میرے بھاٸی کو کچھ نہيں ہونا چاہیۓ۔۔“
روحان نے اپنے سامنے براجمان ڈاکٹر سے کہا تھا۔

”دیکھیے مسٹر جبیل امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی ہر نو منٹ میں ایک انسان بلڈ کینسر سے مر جاتا ہے۔۔ یہ تو پھر پاکستان ہے البتہ ہم پوری کوشش کرینگے۔۔“
ڈاکٹر کی بات پر روحان بس انہيں دیکھ کر رہ گیا تھا۔
_________________________

پورے جبیل خاندان میں ایک خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
ماہی کو اپنا آپ ختم ہوتا محسوس ہوا تھا۔ اسے یقين نہيں ہو رہا تھا۔
وہ بنا پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ جذبات و احساسات کو کس سے بیان کرے؟؟

وہ اندر ہی اندر رو رہی تھی۔ خاک ہو رہی تھی۔ وہ حشام کو دیکھنا بھی چاہتی تھی اور دیکھنے کی ہمت بھی نہيں تھی۔

”تم مجھے یوں دھوکہ نہيں دے سکتا مسٹر حشام جبیل۔۔ سنا تم نے۔۔ تم دھوکے باز نہيں ہو سکتے۔۔“
وہ موبائل میں اسکی تصویر دیکھتے ہوٸے چلاٸی تھی۔ اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
___________________________

ضیا ٕ جبیل کی طبیعت کافی خراب ہوگٸی تھی۔ جوان بیٹے کی بیماری کا سن کر وہ سہم گٸے تھے۔ مدیحہ کو اور انہيں گھر بھیج دیا تھا گیا تھا۔
ہسپتال میں موجود ہر شخص ایک دوسرے سے نظریں چرا رہا تھا۔
سب لوگ اپنے آپ کو قصوروار سمجھ رہے تھے حالانکہ ان میں سے کسی کا قصور نہيں تھا۔

سادے سے جوڑے میں بڑی سی چادر لپیٹے وی ہسپتال آٸی تھی۔
راہداری میں رکھے صوفے پر روحان اکیلا بیٹھا تھا۔ اسکا سر جھکا ہوا تھا۔
حانم نے اسے اس طرح دیکھا تو اسکی جانب بڑھی۔
وہ اسکے پاس بیٹھ چکی تھی جبکہ روحان کو محسوس بھی نہيں ہوا تھا۔
حانم نے اپنا سرد ہاتھ روحان کے ہاتھ پر رکھا تھا۔ وہ ایک دم چونکا۔ چہرہ اٹھا کر دیکھا تو حانم کو اپنے پاس پایا تھا۔

”سب ٹھیک ہوجاٸے گا پریشان نا ہوں“
وہ تسلی دے رہی تھی۔ روحان کی آنکهيں سرخ انگارہ تھیں۔ ان میں نمی جھلملا رہی تھی۔ وہ جانے کیسے خود پر ضبط کیۓ بیٹھا تھا۔

”حشام میرا سب کچھ ہے۔“
وہ بس اتنا ہی کہہ پایا تھا۔ حانم نے اسے کبھی اتنا دکھی اور سنجيدہ نہيں دیکھا تھا۔وہ خود ڈر گٸی تھی کہ حشام کی حالت جانے کتنی خراب تھی۔

حشام کے ساتھ پیرس میں گزارے وہ دن اسکی آنکهوں کے سامنے گھومنے لگے تھے جب وہ ایک اچھے سامعین اور ایک اچھے ہمدرد کی صورت میں موجود تھا۔

اس نے روحان کو نہيں بتایا تھا بتایا تھا کہ حانم زندہ تھی۔
وہ اسکی خوشی میں خوش تھا۔ ایک بار اپنی خواہش کا اظہار کرنے اور حانم کا انکار سننے کے بعد اس نے کبھی حانم کو تنگ نہيں کیا تھا۔
وہ سطحی مرد ہرگز نہيں تھا۔ اسکی باتوں میں، اور اسکی ذات میں ایک ٹھہراٶ تھا۔ حانم نے اسے شدت پسند نہيں پایا تھا__

وہ مضبوط کردار کا مالک تھا۔ جانے اللہ نے اسے کس مٹی سے بنایا تھا کہ کبھی کوٸی شکوہ نہيں کیا تھا اس نے___
ہمیشہ روحان کا ساتھ دیا تھا۔

حانم نے آنکهيں بند کرکے صوفے سے ٹیک لگا لیا تھا۔ اسکا ہاتھ ابھی تک روحان کے ہاتھ پر تھا۔
روحان کو اسکے ہاتھ کا سرد پن محسوس ہوا تھا جو ٹھنڈ اور موسم کی وجہ سے تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتهوں میں حانم کا نازک ہاتھ دبا لیا تھا۔ وجہ اپنے گرم ہاتهوں سے اسکے سرد پڑتے ہاتھ کو گرماٸش پہچانا تھا۔
بارش میں بھیگی رات آہستہ آہستہ سرکنے لگی تھی۔
_________________________

اگلے دن شام کے وقت حشام کو ہوش آیا تھا۔ بی جان بھی ہسپتال میں موجود تھیں۔
وہ تھوڑی تھوڑی دیر سب سے ملا تھا۔ اس سے بولا نہيں جا رہا تھا لیکن پھر بھی حوصلے پر تھا۔

”مجھے یقین نہيں ہوتا کہ شامو کاکا مجھے دھوکہ دے سکتا ہے۔۔“
روحان نے شکوہ کیا تھا۔ حشام مسکرادیا تھا۔ پھیکی سی مسکراہٹ___

”میں حانم سے ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔۔“
حشام نے اپنی خواہش ظاہر کی تھی۔ روحان نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔

حانم اسکی خواہش کا سن کر حیران رہ گٸی تھی۔ رات بھر جاگنے کی وجہ سے اسکی آنکهوں میں گلابی پن ابھر آیا تھا۔ وہ کافی تھکی ہوٸی محسوس ہو رہی تھی۔

وہ کانپتے قدموں سے کمرے میں داخل ہوٸی تھی۔ حشام کو اس طرح بستر پر لیٹے دیکھ کر حانم کو دکھ ہوا تھا۔ ڈاکٹر ناجانے کن کن ٹیسٹوں کیلیۓ اسکی رگوں سے خون نکال رہے تھے۔

حانم کو اپنے سامنے دیکھ کر حشام کی آنکهوں میں ایک دم چمک ابھری تھی۔ وہ ہلکہ سا مسکرایا تھا۔
ساحروں والی مسکراہٹ___
حانم اسکے بیڈ سے کچھ فاصلے پر رکھی کرسی پر بیٹھ چکی تھی۔

”معاف کردو مجھے میں نے آپکی زندگی کی سب سے حسین پل تباہ کر دیے ہیں۔۔“
حانم نے تڑپ کر اسے دیکھا تھا۔

”ایسی بات نہيں ہے۔۔ آپ جلد ٹھیک ہو جاٸیں گے۔۔“
حانم کی بات سن کر حشام کے لبوں پر استہزاہیہ مسکراہٹ ابھری تھی۔ وہ جیسے خود پر ہنسا تھا۔

”میں آپکو آج ایک کہانی سنانا چاہتا ہوں۔۔ ایک خوبصورت کہانی۔۔“
حشام کی بات پر حانم الجھی۔

”یہ کہانی ہے ہانی اور آرجے کی___
یہ کہانی ہے اینجل اور مون کی___
یہ کہانی ہے ام حانم اور روحان جبیل کی___

اور یہ داستان ہے زندگی کے سات پہروں کی___
میں نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابيں پڑھی ہیں___عشق کی داستانیں___ لیکن آج میں اپنی پسندیدہ داستان سنانے جا رہا ہوں___ کیا سنیں گی آپ___
دو سلفاٸیٹس کی داستان__؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔

”جی۔۔“
حانم نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

____________________________

”یہ کہانی جو ہانی اور آرجے سے شروع ہوٸی__ ایک بہت ہی عجیب موڑ سے۔۔
جس میں میں ناجانے کہاں سے شامل ہوگیا تھا__؟؟
مجھے خود سمجھ نہيں آٸی۔۔
ایک لڑکی کا پیداٸشی نشان۔۔ جس نے مجھے سالوں پاگل کیۓ رکھا۔ مجھے باندھے رکھا__ لیکن وہ چمک وہ نشان میرے لیۓ نہيں تھا___
میں جب بھی اسے دیکھنا چاہا اس نشان کی چمک نے مجھے نظریں جھکانے اور رخ موڑنے پر مجبور کیا کہ مجھے دیکھنے کی اجازت نہيں___

ہر کہانی میں ایک تیسرا ہوتا ہے لیکن میں حیران ہوں اس کہانی میں کسی تیسرے کو آنے ہی نہيں دیا گیا___
جب مکی نے آنے کی کوشش کی تو آرجے موجود تھا۔
جب میڈی نے آنے کی کوشش کی تو مون موجود تھا__
جب حشام نے آنا چاہا تو روحان جبیل دیوار بن کر کھڑا تھا___
کسی تیسرے کو آنے ہی نہيں دیا گیا___
دو لوگوں نے ایک دوسرے سے نفرت کی___ اور پھر محبت بھی___
نا کوٸی تیسرا ان لوگوں کو بدظن کر سکا اور نا ہی ملا سکا___

آپکو لگتا ہے کہ آرجے نے آپکے ساتھ غلط کیا تھا۔۔ لیکن اگر و ایسا نہيں کرتا تو کیا ہوتا؟؟
کیا وہ کبھی آرجے سے روحان جبیل تک کا سفر طے کر پاتا___
اللہ کچھ بندوں کو چن لیتا ہے جنہيں آزمایا جاتا ہے اور انہی کے ذریعے دوسروں کو امتحان میں ڈالا جاتا ہے۔۔

آپکو لگتا ہے کہ آپکے ساتھ برا ہوا؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر ایسا نا ہوتا تو کیا ہوتا؟؟
اگر اللہ نے کسی اور کو چن لیا ہوتا تو کیا آج آپکو روحان ملتا۔۔؟؟ یقيناً نہيں اسی لڑکی کو ملتا جسے اس کرب سے گزارا جاتا___

آپ خوش نصیب ام حانم__ آپکو آزمایا گیا اور آزمائش اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کی ہی کرتا ہے___
جو آرجے نے کیا وہ ایک سلفاٸیٹ کی طرف سے فطری عمل تھا۔

”وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ انسان کو شدت پسند ہونا چاہیۓ۔۔ امریکہ میں اسکا سکول ٹیچر تھا جو کہتا تھا کہ فیل ہو جاٶ یا ٹاپ کر جاٶ۔۔ یہ پاس ہونے والے لوگ مجھے نہيں پسند___“

اور یہ شدت پسندی اسکی شخصیت کا خاصہ بن گٸی۔
وہ مکی والی بات جان کر دو طرح سے ہی ردعمل کا اظہار کر سکتا تھا۔۔
وہ ایک سلفاٸیٹ ہے۔۔ جو یا تو بالکل خاموش رہتا۔۔ اسے فرق ہی نہيں پڑتا اور نمبر دو ویسا ہی کرتا جیسا آرجے نے کیا تھا___
وہ عام لوگوں کی طرح نہيں تھا جو تھوڑا غصہ کرتا ناراض ہوتا یا پھر مان جاتا۔۔۔
اس نے وہی کیا جو اسکی فطرت میں تھا جو ہمارے نزدیک گناہ ہے___“

حانم غور سے اسے سن رہی تھی۔

”پانی۔۔“
حشام کا گلہ خشک ہوچکا تھا۔
حانم نے اٹھ کر اسے گلاس میں پانی ڈال کر دیا۔
حشام نے گھونٹ گھونٹ پیا تھا۔

”مجھے لگتا تھا کہ وہ صرف ام حانم سے معافی مانگنا چاہتا ہے۔۔ اسکی محبت کا اندازہ بعد میں ہوا۔۔
میں شرمندہ ہوں کہ میں نے اپنی پسندیدگی کی وجہ سے شادی کا کہا۔۔ حالانکہ مجھے اسکا کوٸی حق نہیں تھا____

پتا ہے جس دن اس نے نکاح کا ڈرامہ کیا تھا اسی دن اسکی زندگی سے ہر لڑکی نکل گٸی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ اسکا دل بھر گیا ہے۔۔ لیکن یہ معاملہ ہی کچھ اور تھا__ جو مجھے بعد میں سمجھ آیا۔

دو سال پہلے میں حج پر گیا تو روحان سے کہا کہ چلو حج پر چلتے ہیں۔۔
اس نے کہا کہ ”میں نے حانم سے کہا تھا نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی___ آج مجھے لگ رہا ہے کہ یہ محاورہ مجھ پر ہی فٹ ہوتا ہے__ میرا ضمیز اجازت نہيں دیتا کہ وہاں جاٶں۔۔ شرم آتی ہے مجھے اللہ سے__ کسی کا دل دکھا کر کسی کو موت کے منہ میں دھکیل کر اس مالک کے گھر پر حاضری لگاتے ہوٸے مجھے حیا آتی ہے___“
اور پھر میرے بار بار کہنے پر بھی وہ نہيں گیا۔

لندن میں وہ اکیلا نہيں تھا___ام حانم کی یادیں اسکے ساتھ تھیں۔ اس نے شماٸل نیازی کے ہاتهوں خود کی جان کو گنوایا تھا۔۔
اور پھر ایلف کو نہيں اپنایا جو ایک بہترین لڑکی تھی___
میں جب سوچتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کوٸی اتنی محبت بھی کر سکتا___؟؟

اس داستان کے چھ پہر گزر چکے ہیں۔
نمبر ایک جس میں حانم اور آرجے کی ابتدائی زندگی تھی___
نمبر دو جس میں وہ دونوں یونيورسٹی میں اکٹھے ہوٸے___
نمبر تین جس میں حانم اندھیروں کی دنیا کی باسی بنی، جس میں اس نے اینجل کی زندگی جی___
نمبر چار جس میں آرجے کی تڑپ کا دور چلا، اس نے نگر نگر حانم کو ڈھونڈا__
نمبر پانچ جس میں آرجے کو اندھیروں کا باسی بنایا گیا اس سے اسکا سب کچھ چھین کر اللہ نے اسے انسان کی اوقات دکھاٸی___
اور نمبر چھ جس میں وہ آرجے روحان جبیل بنا لوگوں کے دلوں کو فتح کیا___ حانم کو دوبارہ پایا___
اور اب۔۔ نمبر سات سب سے خوبصورت پہر کا آغاز ہوا ہے۔۔ جو سب سے مشکل بھی ہے اور سب سے حسین بھی___
مشکل اس لیۓ کہ روحان جبیل نے جو راستہ چنا ہے وہ سچائی کا راستہ ہے مشکلات سے بھرا ہوا۔۔ لیکن حسین اس لیۓ ہے کہ آپ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہو__
ہرمشکل میں ہر قدم پر___ اور ہمیشہ ساتھ رہو گے___“
حانم کی آنکهيں نم ہوٸی تھی۔ اسکے لب کپکپاٸے تھے۔ لیکن وہ کچھ بول نہيں پاٸی تھی۔

”میری ایک آخری خواہش ہے۔۔ کیا آپ اسے پورا کرینگی؟؟
حشام نے بات پر حانم نے تڑپ کر اسے دیکھا تھا۔

”روحان جبیل کا ساتھ کبھی بھی مت چھوڑنا ام حانم___ اس نے اپنی زندگی میں بہت تکليف برداشت کی ہے__ اسکا ہر قدم پر ساتھ نبھانا___ شاید میں نہ رہوں اسکی مشکل میں اسے حوصلہ دینے کیلیۓ___ اسکے پاس صرف آپ رہو گی__ صرف آپ___ ح سے شروع ہو کر م پر ختم ہونے والی حانم___ م یعنی محبت___ جو لوگ محبت پر ختم ہو جاتے__ اور آپکا نام بھی م پر ختم ہوتا___ حانم کی انتہا بھی محبت ہی ہے___ وعدہ کریں مجھ سے__ آپ روحان کا ہمیشہ ساتھ نبھاٸیں گی__!!“

”میں وعدہ کرتی ہوں۔۔ ہمیشہ ساتھ نبھاٶں گی۔۔“
حانم نے روتے ہوٸے مشکل سے جواب دیا تھا۔ حشام کے اندر سکون سا اتر گیا تھا۔
اسے بس یہی چاہیۓ تھا۔ اور اسے پورا یقین تھا حانم ساتھ نبھانے والوں میں سے تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: