Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 55

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 55

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

(اجازت کے بنا کاپی پیسٹ یا شیٸر مت کیا کریں)

”میں وعدہ کرتی ہوں۔۔ ہمیشہ ساتھ نبھاٶں گی۔۔“
حانم نے روتے ہوٸے مشکل سے جواب دیا تھا۔ حشام کے اندر سکون سا اتر گیا تھا۔
اسے بس یہی چاہیۓ تھا۔ اور اسے پورا یقین تھا حانم ساتھ نبھانے والوں میں سے تھی۔

حشام نے سکون سے آنکهيں موندھ لی تھیں۔ شاید اس سے مزید بولا نہيں جا رہا تھا۔ حانم کپکپاتے لبوں اور گلابی آنکهوں سے اپنے سامنے پڑے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو شہنشاہوں جیسا مزاج رکھتا تھا۔
جو پیرس میں ایفل ٹاور کے قریب اگر رک کر ایک نظر کسی کو دیکھ لیتا تھا تو اسے پتھر کا بننے پر مجبور کردیتا تھا___

”حش۔۔شام۔۔“
ٹوٹے پھوٹے الفاظ اسکے لبوں میں دم توڑ گٸے تھے۔

”کچھ لوگوں کے منہ سے اپنا نام سننا بہت اچھا لگتا ہے__“
حشام نے آنکهيں کھولی تھیں۔ اسکی پلکیں نم تھیں۔

”اب آپکو جانا چاہیۓ__ ورنہ سانس لینا مشکل ہوجاٸے گا“
وہ زبردستی مسکرایا تھا۔ حانم کو اپنا آپ لرزتا محسوس ہوا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی اور دروازے کی طرف قدم بڑھا دیٸے تھے۔

وہ لڑکھڑاتے قدموں سے کمرے سے باہر آٸی تھی۔ حانم کا سر بری طرح چکرا رہا تھا۔

”حانم تم ٹھیک ہو۔۔؟؟“
روحان جو باہر انتظار کر رہا تھا حانم کو یوں لڑکھڑاتے دیکھا تو اسے کندھوں سے تھامتے ہوٸے پوچھا۔

”میں ٹھیک ہوں۔۔“
حانم نے دھڑکتے دل کے ساتھ جواب دیا تھا۔

”تمہيں گھر جانا چاہیۓ حانم۔۔ مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہيں لگ رہی__ تم کافی کمزور نظر آرہی ہو۔۔“
روحان فکرمندی سے کہہ رہا تھا۔
حانم واقعی بہت تھک گٸی تھی۔ پہلے شادی کی تھکن اور اب کل سے وہ ہسپتال میں ہی تھی۔ ٹھیک سے کھا نہيں پاٸی تھی اور اوپر سے پریشانی۔

”ٹھیک ہے۔۔“
حانم نے جانے کیلیۓ حامی بھری تھی۔ وہ مزید یہاں نہيں رک سکتی تھی۔
اسے رونا آرہا تھا۔

”تم بیٹھو یہاں میں جواد کو بلاتا ہوں۔۔“
حشام نے اسے صوفے پر بٹھاتے ہوٸے کہا تھا اور خود باہر کی جانب قدم بڑھا دیٸے۔

________________________

”تمہيں کھانے پر توجہ دینی چاہیۓ۔۔ مجھے تم سے اس بےوقوفی کی امید نہيں تھی۔۔“
روحان اسے زبردستی کھانا کھلا رہا تھا۔ جبکہ حشام نخرے کر رہا تھا۔

”تم ہو نا۔۔ سمجھدار انسان۔۔“
حشام مسکرایا تھا۔

”میں مذاق نہيں کر رہا۔۔“
روحان نے اسے گھوری سے نوازا۔

”میں بھی سنجيدہ ہوں۔“
حشام کی آنکهوں میں شرارت تھی۔

”دیکھو شامو کاکا زیادہ Over acting کی ضرورت نہيں ہے۔۔ یہ نخرے اپنی بیوی کو دکھانا مجھے نہيں۔۔ میں تمہاری بیوی نہيں ہوں۔۔“
روحان چڑ گیا تھا۔ جبکہ حشام اسکی بات سن کر ہنس دیا تھا۔
اسے روحان کا یہ انداز بہت پسند تھا۔

ماہی نے یہ منظر کمرے کے باہر سے دیکھا تھا۔ شیشے کے اسے پار___ فاصلہ کم تھا اسکے اور حشام کے درمیان لیکن اس میں یہ فاصلہ مٹانے کی ہمت نہیں تھی۔

وہ نم آنکهيں لیۓ اسے دیکھ رہی تھی۔ حشام کو ہنستا دیکھ کر وہ بھی مسکرادی تھی۔
اور اسکی حالت دیکھ کر پھر سے رودی تھی۔

کچھ دیر بعد روحان کمرے سے باہر نکلا تو وہ رخ بدل کر کھڑی ہوگٸی تھی۔ ڈوپٹے کی مدد سے آنکهوں میں امڈتے آنسوٶں کو صاف کیا۔

”یوں رونے سے کیا ہوگا؟؟“
عقب سے روحان کی آواز ابھری تھی۔ ماہی ایک دم اچھلی۔

”کب۔۔ میں تو نہيں رو رہی۔۔“
وہ بڑبڑاٸی۔

”ایک بار بات کرلیں اس سے۔۔ اچھا لگے گا۔۔“
وہ کہہ کر رکا نہيں تھا جاچکا تھا جبکہ ماہی ایک بار پھر حشام کی طرف متوجہ ہوچکی تھی۔
جو اب آنکهيں موندھے لیٹا تھا۔

”تو مجھ کو بھولتا ہی نہيں__
میں نے کوشش رہی سہی کرلی“

”یہ مت کہنا کہ ماہین حمدان مجھے معاف کرچکی ہے۔۔“
حشام اسکی موجودگی کو محسوس کرچکا تھا۔ وہ آنکهيں بند کیۓ ہی جواب دے رہا تھا۔
ماہی اسکی بات سن کر حیران ہوٸی تھی۔

”میں چاہتا ہوں کہ ماہین حمدان مجھے کبھی معاف نا کرے بلکہ نفرت کرے“

”ماہین حمدان تو بس محبت کرنا جانتی ہے اس نے اور کچھ سیکھا ہی نہيں“

حشام نے آنکهيں کھول کر اسے دیکھا تھا۔ ان آنکهوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔۔ الوہی چمک___
کچھ دیر تک گہری خاموشی چھاٸی رہی تھی۔ حشام اسے دیکھتا رہا تھا۔ پھر وہ پلٹی اور کمرے سے باہر نکل گٸی تھی۔

”ابھی کچھ دیر میں محسن وہ پتھر ٹوٹ جاٸے گا
میں اسکی سرد مہری پر محبت مار آیا ہوں__“

___________________________

کبھی کبھی ہماری تمام دعائيں جیسے آسمان تک پہنچ ہی نہيں پاتیں___ امیدیں جیسے ٹوٹ جاتی ہیں__کچھ ایسا ہی سید جبیل خاندان میں ہوا تھا__

پچھلے دو دنوں ٹھیک گزرے تھے جبکہ شام سے حشام طبیعت بگڑ گٸی تھی۔ اسے سانس نہيں آرہا تھا___
سینے میں شدید درد تھا___ اور پھر وہی ہوا تھا جس سے ہر شخص ڈر رہا تھا___

وہ چلا گیا تھا ہمیشہ کیلیۓ___ کبھی نا واپس آنے کیلیۓ__ روحان اسکے پاس تھا__ جب اسکی روح نے پرواز کیا تھا___

قیامت کا لمحہ تھا۔ اسکے چہرے پر پسینہ اور اسکی ٹوٹتی سانسیں روحان جبیل کو پتھر کا بنا گٸی تھیں۔

”حشام تم مجھے چھوڑ کر نہيں جا سکتے۔۔ سنا تم نے۔۔ تم دھوکا نہيں دے سکتے ہمیں__!!“

لیکن جانے والے کب پلٹتے ہیں، وہ کب آہیں سنتے ہیں انہيں کب ترس آتا ہے سسکیوں پر__ انہيں تو بس جانا ہوتا ہے__ اور کچھ لوگوں کو جانے کی بہت جلدی ہوتی ہے۔۔ اور حشام جبیل ان میں سے ایک تھا___

روحان جبیل کو اپنا دل رکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ باہر بادل زور سے گرجا تھا___ اور اندر جیسے روحان جبیل کا دل پھٹ گیا تھا۔

وہ حشام جبیل کے بےجان وجود سے لپٹ گیا تھا۔
راہداری میں پریشانی سے ٹہلتی اور دعائيں مانگتی ماہی نے ایک پکار سنی تھی۔
ڈاکٹر معذرت کرنے کے بعد جا چکے تھے۔
ماہی کے ہر طرف گھٹی گھٹی سسکیاں گونج گٸی تھیں۔
ماہی کو لگا تھا وقت رک گیا تھا۔
اس نے شیشے کے پار حشام کے بےجان وجود کو ایک نظر دیکھا تھا۔ مدیحہ اس سے لپٹی ہوٸی تھی۔
بی جان جیسے بےجان ہوچکی تھیں۔
ہر شخص کے چہرے پر خوف پھیل گیا تھا۔

”میں تمہيں یہی ملوں گا__ آج کے دن اسی وقت__“
ایفل ٹاور کے قریب وہ جادوگر سحر پھونک رہا تھا۔
ماہی کا دل ڈوب گیا تھا۔
دس سال بےلوس محبت کی تھی اس نے حشام جبیل سے۔۔ کہہ دینا آسان ہے۔۔ کوٸی دس سالوں کومحبت میں گزارے تو پتا چلے___ اور اس سال وہ سب کو چھوڑ گیا تھا۔

وہ شخص جتنا مضبوط تھا اتنا ہی کمزور ثابت ہوا تھا۔ نا وہ اپنی خوشی پوری کرسکا تھا، نا بی جان کی اور نا ماہی کی___
وہ کسی کو دکھ دینا نہيں چاہتا تھا لیکن وہ آج سب کو ایک گہرا زخم دے گیا تھا۔

”بھاٸی اٹھ جاٸیں نا۔۔ آپ تو کبھی اتنی کسی کو پریشان نہيں کرتے تھے۔۔ کبھی کسی کو رونے نہيں دیتے تھے۔۔ آج سب رو رہے ہیں آپ اٹھیں آنکهيں کھولیں۔۔ دیکھیں نا۔۔ سب آپکی وجہ سے پریشان ہیں۔۔“
مدیحہ جیسے پاگل ہوگٸی تھی۔ ارحم سے اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔

ماہی نے ایک نظر بی جان اور ضیا ٕ جبیل کو دیکھا جنکی زندگی کی جمع پونجی جیسے لٹ گٸی تھی۔
بی جان ضیا ٕ جبیل کے سینے سے سر ٹکاٸے رو رہی تھیں۔

”چپ کر جاٶ سب۔۔ حشام سو رہا ہے۔۔ اسے نیند آٸی ہے۔۔“
روحان دبی دبی آواز میں چلایا تھا اور پھر اسکے سرہانے کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اسکے خوبصورت ہاتھوں کو تھام رکھا تھا۔

اس شخص کے درد کا اندازا تو ماہی بھی نہيں لگا سکتی تھی۔ جو بچہ پیداٸش کے بعد چار سال تک خاموش رہا تھا۔ جب وہ بولا تو پہلا لفظ اسکی زبان نے ”حشام“ ادا کیا تھا۔
اور حشام آج اسے چھوڑ گیا تھا اسکا مرنا یقینی تھا۔

وہ شخص جو اپنی ماں کے مرنے پر نہيں رویا تھا۔ وہ اب حشام کے پہلو میں بیٹھا اسے اٹھنے کی گزارشیں کر رہا تھا۔

ایک دم سب کچھ ساکت ہوا تھا۔ ماہی نے اپنا دھڑکتا دل بند ہوتے محسوس کیا تھا۔
اسکی سماعت جواب دے گٸی تھی۔ اسکا دماغ سن ہوچکا تھا۔ وہ تو حشام سے محبت کی دعوے دار تھی۔۔
وہ جاچکا تھا اور وہ اب تک زندہ تھی۔

”ماہی۔۔“
کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ وہ پلٹی تھی۔
حانم اسکے پاس کھڑی تھی۔ بھیگی پلکیں لیۓ__اسکے نازک ہونٹوں پر خشکی تھی۔ اسکے چہرے پر جیسے ویرانی تھی۔

”ہانی۔۔ وہ۔۔ وہ حشام۔۔“
ماہی کے لب پھڑپڑاٸے تھے۔

”حوصلہ کرو ماہی۔۔“
جانے یہ الفاظ حانم کے منہ سے کیسے ادا ہوٸے تھے۔

”وہ ہمیں چھوڑ کر نہيں جا سکتا نا۔۔ وہ زندہ ہے نا۔۔ حشام زندہ ہے نا۔۔“
ماہی نے حانم کو کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا تھا۔ حانم نے پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی۔

”بولو نا۔۔ حشام کو کچھ نہيں ہوا۔۔ حشام زندہ ہے نا۔۔“
وہ ہزیانی انداز میں چلاٸی تھی۔

”وہ ٹھیک ہے نا۔۔ وہ زندہ ہے۔۔ بولو نا۔ وہ زندہ ہے۔۔“
آہستہ آہستہ ماہی کی آواز مدھم ہوگٸی تھی۔ وہ نیچے بیٹھتی چلی گٸی تھی۔ اسکا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا___
اسکے دماغ ماننے سے انکاری تھا کہ وہ حشام جاچکا تھا۔
نا آسمان پھٹا تھا__ اور نا ہی زمین___ ہاں البتہ آسمان رو ضرور رہا تھا___

”حشام کو کچھ نہيں ہوا۔۔ حشام زندہ ہے۔۔۔ حشام زندہ ہے۔۔“
ماہی کی زبان حشام کا ورد کر رہی تھی۔
حانم اسکے ساتھ نیچے بیٹھ گٸی تھی۔

”چپ کرجاٶ نا سب لوگ۔۔ میرا حشام سویا ہوا ہے۔۔“
اندر روحان حشام کے چہرے کو تکتے ہوٸے سب کو چپ کروا رہا تھا۔

”بولو نا۔۔ حشام ٹھیک ہے نا۔۔ سب سے کہہ دو خاموش ہوجاٸیں۔۔ اسے تنگ نا کریں۔۔“
باہر ماہی اس سب سے خاموش ہونے کی التجا کر رہی تھی۔
ان دو لوگوں نے ایک شخص سے جیسے عشق کیا تھا۔ اسکی ذات سے اسکے کردار سے___

”إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ“
سید جبیل نے آگے بڑھ کر حشام کی آنکهوں پر ہاتھ رکھ کر انہيں اچھے بند کیا تھا۔
روحان نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر اپنے باپ کی طرف دیکھا جو رو رہے تھے۔

اور پھر جیسے اندھیرا چھا گیا تھا۔۔ ماہی کو سب پس منظر میں جاتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ وہ حواس کھو رہی تھی___ اور پھر کچھ دیر بعد ہر طرف مکمل اور گہری خاموشی چھا گٸی تھی___!!

___________________________

”بچھڑا اس ادا سے کہ رت ہی بدل گٸی
اک شخص بھرے شہر کو ویران کرگیا__“

وہ ایفل ٹاور کے سامنے بیٹھی تھی۔ آج ایک ماہ ہوگیا تھا۔
ماہی نے نم آنکهوں سے ایفل ٹاور کو دیکھا تھا۔ جہاں وہ شخص پہلی بار اس سے ملا تھا اور پھر یہیں ملنے کا وعدہ کیا تھا۔

اسے وہاں ہنستے مسکراتے لوگ__ محبت کے پنچھی کچھ بھی نظر نہيں آرہا تھا۔
اسے اپنے سامنے وہ شخص کھڑا نظر آرہا تھا جو اسکا سب کچھ تھا۔

وہ دونوں اسکے سامنے کھڑے تھے__ ماہین حمدان اور حشام جبیل۔۔
وہ دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ ایک شخص کی آنکهوں میں پاگل پن تھا تو دوسرا تھوڑا بیزار تھا___

”میں تمہيں یہی ملوں گا“
جانے اس نے یہ جملہ کیوں کہا تھا۔
وہ آج تک سمجھ نہيں پاٸی تھی۔ اسکے اجڑی حالت اور ویران آنکهوں پر پیرس بھی اداس ہوگیا تھا۔

لیکن اسے پرواہ نہيں تھی۔ وہ آج ہی پیرس آٸی تھی۔ یہ ایک مہینہ اس نے پاکستان میں کیسے گزارا تھا یہ بس وہی جانتی تھی۔

کچھ دکھ ناقابل بیان ہوتے ہیں___ کچھ حادثے ناقابل فراموش ہوتے ہیں___
ماہی کا دکھ کوٸی نہیں لکھ سکتا تھا__ وہ زندہ تھی لیکن زندگی تو جیسے روٹھ گٸی تھی۔

”ماہی چلو اٹھو بہت دیر ہوچکی ہے۔۔“
ایلا نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا تھا۔ اس سے ماہی کی حالت دیکھی نہيں جاتی تھی۔
ماہی بنا کوٸی ضد کیۓ اٹھ گٸی تھی۔ اور ایلا کسی روبوٹ کی طرح پکڑ کر اسے وہاں سے لے گٸی تھی۔
______________________

حانم چاٸے کا کپ ہاتھ میں پکڑے کمرے میں داخل ہوٸی تھی۔ کمرے میں نیچے قالین پر روحان بیٹھا تھا اسکے ہاتھ میں حشام کی تصویر تھی۔۔ مسکراتا ہوا حشام جبیل___

روحان اس سے باتيں کر رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر حانم کا دل جیسے پھٹتا تھا۔ لیکن وہ پچھلے ایک مہینے سے یہی منظر دیکھتی آرہی تھی۔
روحان جبیل دوسروں کے سامنے کتنا ہی مضبوط اور سمجھدار کیوں نا نظر آتا ہو۔۔ لیکن اکیلے میں وہ یہی کام کرتا تھا__ حشام سے باتيں

حانم کبھی اسکے اس کام میں دخل اندازی نہيں کرتی تھی۔ لیکن آج وہ روحان کی طرف بڑھی تھی۔
وہ چاٸے کا کپ میز پر رکھنے کے بعد روحان کے ساتھ نیچے بیٹھ گٸی تھی۔
اور غور سے حشام کی تصویر دیکھنے لگ گٸی تھی۔

”حشام آپ سے زیادہ پیارے تھے۔۔ ہیں نا۔۔؟؟“
وہ عام سے لہجے میں پوچھ رہی تھی۔
روحان نے کوٸی جواب نہيں دیا تھا۔ اس نے حشام کی تصویر کو سینے سے لگا لیا تھا۔

حانم نے ہاتھ بڑھا کر وہ فوٹو فریم روحان کے ہاتھ سے لیا تھا۔
جس پر روحان نے چونک کر حانم کو دیکھا تھا۔

”کچھ لوگوں سے باتيں کرنے کیلیۓ ہمیں چیزوں کی ضرورت نہيں پڑتی۔۔“
وہ مسکراٸی تھی۔

”کچھ لوگ یہاں بستے ہیں۔۔ ہنستے مسکراتے ہیں۔۔ کچھ لوگوں کو مسکن یہ ہوتا ہے۔۔“
اس نے روحان کے سینے پر دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ہوٸے کہا تھا۔
روحان نم آنکهيں لیۓ اسے دیکھ رہا تھا۔

“آپ یہاں جھانک کر دیکھیں وہ آپکو یہاں ملے گا“

حانم کی بات سن کر روحان نے آنکهيں بند کی تھیں۔

”مسٹر سلفاٸیٹ تمہاری آنکهوں میں آنسو اچھے نہيں لگتے۔۔“
حشام جبیل اسے چڑا رہا تھا۔ روحان نے فٹ سے آنکهوں کھول دی تھیں۔

”کچھ لوگ ہمارے اندر بستے ہیں۔۔ وہ ہم سے دور کبھی نہیں جاتے۔۔ اور بھول گٸے آپ جب ام حانم کو آپ نے مردہ سمجھا تھا__ کیا وہ آپکو چھوڑ کر گٸی تھی۔۔؟؟ وہ ہمیشہ آپکے ساتھ رہی تھی نا۔۔ یقين کریں حشام ہمیشہ آپکے ساتھ رہے گا۔۔“
حانم نے روحان کا ہاتھ کو تھامتے ہوٸے کہا تھا۔
روحان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی نم آنکهوں سے لگایا تھا۔
اور اثبات میں سر ہلادیا تھا۔ حانم مسکرادی تھی۔
وہ اسکے درد کو کم نہيں کر سکتی تھی لیکن بانٹ تو سکتی تھی نا۔۔ اور وہ ایسا ہی کر رہی تھی۔
___________________________

وہ بی جان کے کمرے میں انکے گھٹنوں سے ٹیک لگاٸے بیٹھا تھا۔ بی جان صوفے پر بیٹھی تھیں۔
باہر چمکیلی دھوپ نکلی تھی لیکن ٹھنڈی ہواٸیں چل رہی تھی۔

”میں جانتا ہوں میں حاشام کی جگہ نہيں لے سکتا بی جان۔۔ لیکن میں Try کرونگا کہ اس جیسا بن سکوں۔۔“
وہ کافی حد تک بہتر اردو بول رہا تھا۔
اسکا لہجہ برٹش تھا۔

”تمہيں پتا ہے بیٹا__ حشام کہا کرتا تھا کہ اس حویلی میں اسکی دلہن بن کر ایسی لڑکی آٸے گی جو اس حویلی کی شان و شوکت کا مقابلہ کرسکے۔۔ جو پروقار ہو___ اور مجھے اپنے حشام کیلیۓ ایسی لڑکی مل چکی ہے، اب تم میرے لیۓ حشام ہو جاٶ اس لڑکی کو لے آٶ__ جسکی تلقين تمہيں حشام نے کی ہے“
بی جان نم آنکهوں اور بھیگے لہجے میں کہا تھا۔
جورڈن نے سر اٹھا کر انہيں دیکھا تھا۔
بی جان اسکے بالوں کو سہلا رہی تھیں۔ وہ آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

جورڈن کو حشام کے انتقال کی خبر ایلا نے دی تھی۔ جسے سن کر وہ دنگ رہ گیا تھا۔ جسے وہ خود اپنے ہاتهوں سے مارنا چاہتا تھا وہ شخص تو خود ہی دنیا چھوڑ گیا تھا۔
وہ پاکستان آگیا تھا۔
جب وہ حویلی پہنچا تو ضیا ٕ جبیل اس سے لپٹ کر روٸے تھے۔
جورڈن کا دل سخت نہيں تھا بلکہ وہ بدلے کی آگ میں اتنا سخت دل بن گیا تھا۔
اس نے ایک بار ماہی کے اسکی ماں کے واسطہ دینے پر ہاتھ سے پسٹل پھینک دیا تھا۔
وہ آنا نہيں چاہتا تھا لیکن ناجانے کیوں وہ آگیا تھا۔
اور بی جان کو دیکھ کر اسے اپنی ماں یاد آگٸی تھی۔
وہ ایک دم ڈر گیا تھا اسے لگا تھا اسے دھتکار دیا جاٸے گا
لیکن نہيں بی جان نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی پر پیار کیا تھا۔
وہ اسکا بھی بیٹا تھا۔۔ سگا نہ سہی سوتیلا ہی سہی۔۔
حشام نے مرنے سے پہلے بی جان کو سب بتادیا تھا اور وعدہ کیا تھا بی جان جورڈن کو اپنا بیٹا ہی سمجھیں گی۔۔
اس نے ساری زندگی یتیمی میں گزاری تھی___

اور پھر بی جان جانتی تھی نفرت کو نفرت سے نہيں محبت سے ختم کیا جاتا ہے۔

سید جبیل نے بھی جورڈن کو کھلے دل سے قبول کیا تھا۔
حشام خود تو چلا گیا تھا لیکن خاندان کی خود ساختہ روایات پر کاری ضرب لگا کرگیا تھا جنہوں نے مارتھا کی جان لے تھی۔
ضیا ٕ جبیل کو کبھی خوش نہيں ہونے دیا تھا۔
بی جان کو اداس رکھا تھا۔ حشام کو باندھ کر رکھا تھا__ جنہوں نے ماہی کا دل توڑا تھا۔
اسکی موت ایک بہت بڑا پیغام چھوڑ گٸی تھی جسے سب پورا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

”میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں بی جان میں حشام کی ہر خواہش کو پورا کرونگا۔۔“
جورڈن نے صدق دل سے وعدہ کیا تھا۔ اور بی جان نم آنکهيں لیۓ مسکرا دی تھیں۔

_________________________

”مسٹر آرجے عرف سلفاٸیٹ۔۔ آپ سے ملنے کوٸی آیا ہے۔۔ جلدی تشریف لے آٸیں۔۔“
جورڈن نے اسٹڈی روم میں کتابوں کے درمیان بیٹھے روحان سے کہا تھا۔
روحان نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔ اسکا انداز بالکل حشام جیسا تھا۔
وہ کتنی ہی دیر اسے تکتا رہا تھا۔

”ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟؟“
جورڈن نے سوالیہ نظروں سے پوچھا تھا۔
روحان نے سر سے پاٶں تک اسے دیکھا تھا۔ وہ کافی حد تک حشام سے مشابہت رکھتا تھا۔ وہ اچانک اپنی جگہ سے اٹھا اور جورڈن کی طرف بڑھا تھا۔
جورڈن کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ اسے کیوں دیکھ رہا تھا۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا روحان نے اسکے گلے میں اپنے بازو ڈال دیٸے تھے۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے وہ حشام کے ساتھ کیا کرتا تھا۔
اب وہ اس سے لپٹا کھڑا تھا۔ اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

”حشام نے کہا تھا وہ ہمیشہ اسکے ساتھ رہے گا“
اور آج روحان کو اسکی بات کی سمجھ آٸی تھی۔ وہ دونوں بھاٸی تھے اور ایک دوسرے سے بہت مماثلت رکھتے تھے۔
جورڈن اسکی اس حرکت پر دنگ رہ گیا تھا۔

”بہت بہت شکریہ جورڈن تم اس حویلی میں آٸے ہو۔۔“
روحان نے اس سے الگ ہوتے ہوٸے کہا تھا۔

”یہ ایک لمبی بات ہے۔۔ جس میں میرا معافی مانگنا بھی بنتا ہے لیکن اس وقت تم سے کوٸی ملنے آیا ہے۔۔ جاٶ پہلے مل لو۔۔“

”ٹھیک ہے۔۔“
روحان اثبات میں سر ہلاتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
_______________________

روحان لاٶنج میں آیا تو حانم صوفے پر بیٹھی تھی اور اسکے پاس وہیل چیٸر پر ایک لڑکی بیٹھی تھی جسے دیکھ کر وہ حیران رہ گیا تھا۔

”شماٸل نیازی۔۔اور بھی ملتان میں“
روحان کو یقين نہيں آرہا تھا وہ وہیل چیٸر پر تھی۔
روحان کو دیکھ کر اسکی آنکهوں میں نمی ابھری تھی۔

”میں تم سے معافی مانگنے آٸی ہوں۔۔ میں نے اپنی ضد اور انا میں تمہاری جان لینے کی کوشش کی تھی اور اپنی طرف سے لے بھی چکی تھی۔۔ لیکن میں بھول گٸی تھی یہ دنیا مکافات عمل ہے۔ دیکھو آج میں چلنے کے قابل نہيں میں خود کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔۔“
وہ ندامت و شرمندگی لیۓ کہہ رہی تھی۔

”آپکو کیا لگتا ہے مس شماٸل نیازی کہ مجھے خبر نہيں ہوگی میرے ساتھ یہ حادثہ کس نے کروایا تھا۔۔؟“
روحان کی بات پر وہ چونکی تھی۔

”ٹھیک ہونے کے بعد میں نے سب سے پہلا کام یہی کیا تھا اور سراغ بھی لگا لیا تھا۔ لیکن جب پتا چلا کہ اس حادثے کے پیچھے تمہارا ہاتھ تھا تو خاموش ہوگیا اور معاف کردیا۔۔ شاید تم اپنی جگہ ٹھیک تھی۔۔“

شماٸل اسکی بات سن کر دنگ رہ گٸی تھی۔ اسے یقین نہيں ہورہا تھا کہ اسکے سامنے بیٹھا شخص آرجے ہی تھا۔

”میں آرجے نہيں ہوں۔۔ آپکا تعلق اور دشمنی آرجے سے تھی۔ میں روحان جبیل ہوں مجھ سے نا آپکا کوٸی تعلق ہے اور نا کوٸی دشمنی۔۔“
وہ جیسے اسکی سوچ پڑھ گیا تھا۔
شماٸل کے پاس کہنے کو کچھ بچا ہی نہيں تھا۔
برے حادثے بڑے بڑے لوگوں کا غرور توڑ دیتے ہیں۔
اور شماٸل نیازی بھی منہ کی کھاچکی تھی۔

_________________________

”تمہیں اب واپس آجانا چاہیۓ روحان بیٹا النور کو تمہاری ضرورت ہے“
ڈاکٹر باسط اسے لندن واپس جانے کا کہہ رہے تھے۔ سب کچھ ادھورا تھا۔
یہاں ملتان کی زمین میں حشام دفن تھا۔ روحان کا دل نہيں کرتا اس شہر کو چھوڑ جانے کو۔

”میں کوشش کرونگا۔۔“

”کوشش نہيں تمہيں جلد آنا ہوگا۔۔ اور حشام بھی تو یہی چاہتا تھا نا کہ تم بہت آگے جاٶ“

”جی۔۔“
روحان نے آنکهوں میں آٸی نمی کو صاف کرتے ہوٸے کہا تھا۔
________________________

”مجھے امید ہے تم سب سنبهال لو گے کیونکہ تم اب حشام ہو۔۔“
روحان نے اپنے سامنے کھڑے جورڈن سے کہا تھا۔
وہ اور حانم لندن واپس جا رہے تھے۔

”اپنے حشام پر پورا بھروسہ رکھو۔۔ سب ٹھیک ہو جاٸے گا۔۔“
اس نے مسکرا کر یقین دلایا تھا۔

بی جان نے حانم کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔
وہ انکے حشام کی پسند تھی اور انکے شاہ بیٹے کی بیوی۔۔
بی جان کو وہ ہر لحاظ سے عزیز تھی۔

ایک بوجھل شام میں ڈھیروں دعاٶں کے حصار وہ دونوں لندن کیلیۓ روانہ ہو چکے تھے۔

_____________________________

وہ کلف لگے سفید کپڑے پہنے، کندھوں پر سیاہ چادر پھیلاٸے لاٶنج میں اس دیوار کے سامنے کھڑا تھا جس پر ایک تصویر لگی تھی۔
حشام جبیل کی تصویر،
وہ بھی کلف لگے سفید کپڑوں میں ملبوس تھا، کندھوں پر چادر پھیلاٸے، ٹانگ پر ٹانگ جماٸے وہ خوبصورتی سے مسکرا رہا تھا___ آنکهوں میں الوہی سی چمک تھی۔
تصویر کے باہر کھڑا حشام تصویر کے اندر موجود حشام کو غور سے دیکھ رہا تھا۔

”دیکھو آج میں نے بہت کچھ سنبهال لیا ہے__ جیسا تم چاہتے تھے۔۔ تم نے اپنی آخری خط میں جو جو کہا تھا میں نے ویسا ہی کیا ہے۔۔ بس ایک کام رہ گیا ہے۔۔ سب سے اہم کام۔۔ میں کل پیرس جا رہا ہوں۔۔ تم دعا کرنا کہ وہ مان جاٸے۔۔“
وہ تصویر سے مخاطب تھا۔

واقعی اس نے سب سنبهال لیا تھا۔ علاقے کے معاملات۔۔ گدی پر بیٹھنے کے معاملات، سید جبیل اس سے بہت خوش تھے۔

”تمہيں پتا ہے انسان زندہ ہوتے ہوٸے دنیا فتح کرتا ہے اور تم نے مر کر سب کچھ فتح کرلیا۔۔“
وہ نم آنکهيں لیۓ کہہ رہا تھا۔

وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا۔ وہ روحان اور حانم کو ملوا گیا تھا۔
وہ بی جان اور سید ضیا ٕ جبیل کے درميان کی سرد مہری کو ختم کرگیا تھا۔
وہ اسے اس خاندان کا حصہ بنا گیا تھا۔
وہ سید جبیل کو انکی خود ساختہ روایات سے باہر نکلنے پر مجبور کرگیا تھا___

اس نے کیا خاص کام کیا تھا؟؟ کچھ بھی نہيں۔۔ اس نے صرف محبت کی تھی۔۔
ہر شخص سے۔۔ انسان سے محبت کی تھی اس نے۔۔ اور آج محبت نے اسے فاتح بنا دیا تھا۔

”حشام بیٹا۔۔“
عقب سے بی جان کی آواز ابھری تھی۔
وہ چونک کر سیدھا ہوا۔

”جی بی جان۔۔؟؟“
وہ انکی طرف بڑھا تھا۔

”میرا بیٹا اہم مقصد کیلیۓ جا رہا ہے۔۔ اللہ اسے کامياب کرے۔۔ آمین۔۔“
بی جان نے اسکا صدقہ اتارا تھا۔ انکی آنکهيں جھلملا رہی تھیں۔

”آپ فکر نا کریں میں کامياب لوٹوں گا۔۔“
وہ پراعتماد تھا۔

”مجھے یقین ہے میرے بچے۔۔ یقین ہے مجھے۔۔“
بی جان نم آنکهوں سے مسکرادی تھیں۔

__________________________

آج دو نومبر تھا۔ ماہی اسی جگہ پر بیٹھی تھی جہاں پہلی بار اسے حشام جبیل ملا تھا۔ اس نے کہا تھا وہ دوبارہ یہیں ملے گا۔
اور ماہی کو یقین تھا۔
اسکی دنیا جیسے اجڑ گٸی تھی۔ چہرے کی اداسی آنکهوں کی ویرانی۔۔ وہ ایک زندہ لاش لگتی تھی۔ لیکن پھر بھی اسکے ملنے کے انتظار میں تھی۔
کتنے مہینے گزر گٸے تھے۔ لیکن اسکے وجود میں تبدیلی نہيں آٸی تھی۔

وہ ساکت پتلیوں سے ٹاور کو گھور رہی تھی جب اسکی آنکهوں کی پتلیوں میں جیسے جنبش ہوٸی تھی۔

ایک لڑکا جو اس سے کافی فاصلے پر تھا چلتا ہوا ٹاور کی طرف بڑھ رہا تھا اور پھر ٹھیک اسی جگہ پر جا کر رک گیا تھا جہاں حشام اسے پہلی بار کھڑا نظر آیا تھا۔

”حشام۔۔“
ماہی کے لب پھڑپھڑاٸے تھے۔

”حشام۔۔“
وہ اٹھتے ہوٸے چلاٸی تھی اور اس طرف بھاگی تھی جہاں وہ کھڑا تھا۔

ہانپتی کانپتی وہ اس تک پہنچی تھی جو پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ٹاور کو گھو رہا تھا۔
ماہی نے کندھے سے پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا۔ وہ اس وقت پاگل نظر آرہی تھی۔
اور پھر اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ دنگ رہ گٸی تھی۔

”جو۔۔ جورڈن تم۔۔؟؟“
اسے یقین نہيں ہو رہا تھا وہ وہی تھا۔۔ حشام جیسا۔۔لیکن جورڈن۔؟؟

”سوری۔۔۔ آپکو غلط فہمی ہوٸی ہے۔۔ میرا نام حشام بن جبیل ہے۔۔“
وہ آنکهوں سے چشمہ اتارتے ہوٸے بتا رہا تھا۔
ماہی کے چہرے کا رنگ فق ہوا تھا۔
وہ پیداٸشی مسلمان تھا۔ جورڈن نام بدل کر روحان نے اسکا نام حشام رکھ دیا تھا۔

ماہی بےیقنی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ واقعی حشام جبیل لگ رہا تھا۔۔ چہرے پر وہی نرم سی مسکراہٹ۔۔ آنکهوں میں وہی محبت لوٹاتی الوہی سی چمک۔۔

وہ جورڈن تو کہیں سے نہیں لگ رہا تھا۔

”میں تمہيں یہیں ملوں گا۔۔“
حشام جبیل نے وعدہ کیا تھا اور آج وہ واقعی آگیا تھا۔۔ وہیں اسی جگہ پر۔۔
انہی کپڑوں میں۔۔ سفید شرٹ پر کالی جیکٹ پہنے۔۔
وہ حشام جبیل تھا۔۔ اسکی شکل حشام سے بہت مشابہت رکھتی تھی۔ شاید وہ دونوں بھاٸی تھے اس لیۓ۔

جبکہ جورڈن تو جیسے ایک جانور تھا۔ جانوروں جیسے کمر پر بکھرے لمبے بال،
چہرے پر کرختگی، الفاظ میں سختی جبکہ آنکهوں میں نفرت۔۔ یہ جورڈن تو نہيں تھا۔۔
یہ تو حشام جبیل تھا۔

”نہيں ایسا نہيں ہو سکتا۔۔“
ماہی ایک قدم پیچھے ہوٸی تھی۔

”میری بات سنو ماہی۔۔“
حشام نے اسے روکنا چاہا تھا۔

”تم حشام نہيں ہو۔۔ تم اسکی جگہ نہيں لے سکتے۔۔“
وہ ہیجانی انداز میں چلاٸی تھی۔

”میری بات تو سنو۔۔“
حشام اسکی طرف لپکا تھا۔

”نہيں سننی مجھے کوٸی بات۔۔“
وہ پاگل ہوگٸی تھی اور پھر وہاں سے بھاگی تھی۔

”تمہارے لیۓ میرے پاس حشام کی طرف سے ایک پیغام ہے۔۔“
ماہی کے قدم ساکت ہوٸے تھے۔
اس نے پلٹ کر بےیقینی سے اسے دیکھا تھا۔

حشام پروقار طریقے سے چلتا ہوا اسکی طرف آیا تھا۔
ماہی کو ایک بار پھر اس پر حشام کا ہی گمان ہوا تھا۔
اور کیوں نا ہوتا وہ اب تھا ہی حشام جبیل___

”یہ لو۔۔“
حشام نے جیکٹ کی جیب سے ایک لفافہ نکال کر ماہی کی طرف بڑھایا تھا۔

”یہ تمہارے حشام کا تمہارے لیۓ آخری پیغام ہے۔۔“
اسکی بات سن کر ماہی کا سانس اٹکا تھا جیسے۔۔
اور پھر اس نے ہاتھ بڑھا کر عقیدت سے وہ لفافہ تھاما تھا جس میں حشام کا آخری خط تھا۔
جو ماہیں حمدان کیلیۓ آب حیات کی مانند تھا۔

”میرے لیۓ۔۔ حشام کا خط۔۔“
اسے یقين نہيں ہو رہا تھا۔ آنکهوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

”مجھے آپکے آنسو تکلیف دیتے ہیں مس ماہین حمدان۔۔“
وہ جذبات سے چور لہجے میں کہہ رہا تھا۔
ماہی نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔۔ یہ تو اسکے حشام کا لہجہ تھا۔ وہ ایسے پکارتا تھا اسے__ اور ہسپتال میں بھی ایسے ہی پکارہ تھا۔

ماہی کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا تھا۔ اسکے چہرے پر حیرانی پھیلی تھی۔
وہ پھٹی پھٹی آنکهوں سے اپنے سامنے کھڑے حشام جبیل کو دیکھ رہی تھی۔
اور پھر بھاگنے والے انداز میں تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے چلی گٸی تھی۔
پیچھے حشام کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا۔

__________________________

گھر آنے کے بعد کتنی ہی دیر وہ اس خط کو آنکهوں سے لگاٸے بیٹھی رہی تھی۔ وہ اسکے حشام نے اسکے لیۓ لکھا تھا۔۔ ماہی کو یقين نہيں ہو رہا تھا۔

رات کے ناجانے کونسے پہر اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ خط کھولا تھا___

”وہ نام لیتی ہے اور جان ڈال دیتی ہے
الگ مزاج ہے اور معجزاؤں جیسا ہے___“

ماہین حمدان کے نام،

ایک خوبصورت شعر اسکا نام خط کے شروع میں چمک رہا تھا۔ ماہی کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگ گٸی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسا اسکا خط نہيں بلکہ حشام خود اس سے مخاطب ہو۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: