Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 56

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 56

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

(بنا اجازت کاپی پیسٹ یا شیٸر مت کیا کریں)

”وہ نام لیتی ہے اور جان ڈال دیتی ہے
الگ مزاج ہے اور معجزاؤں جیسا ہے___“

ماہین حمدان کے نام،

ایک خوبصورت شعر اسکا نام خط کے شروع میں چمک رہا تھا۔ ماہی کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگ گٸی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسا اسکا خط نہيں بلکہ حشام خود اس سے مخاطب ہو۔

”سمجھ نہيں آرہا کیا لکھوں___ پچھلے کٸی گھنٹوں سے میں قلم ہاتھ میں لئے بیٹھا ہوں__ ایک اتنی اچھی شخصیت کیلئے کیا لکھوں الفاظ نہيں مل رہے۔۔
میں جانتا ہوں جب تم اس کاغذ کے ٹکڑے کو پڑھوں گی تب تک میں دوسرے جہاں میں جا چکا ہونگا___
یہ ایک تکليف دہ فعل ہے، لیکن میں مطمئن ہوں،

ماہین حمدان میں جب بھی آپکو دیکھتا ہوں حیران ہوتا ہوں، یقین نہيں ہوتا کوٸی اتنی بےلوس محبت کیسے کر سکتا ہے؟؟
کوٸی اتنا اعلیٰ ظرف کیسے ہوسکتا ہے کہ کم ظرف حشام جبیل سے اتنی محبت کرے؟؟

مجھے لگا تھا ”محبت“ صرف حشام جبیل نے کی ہے لیکن جب ماہین حمدان کی محبت کو دیکھا تو دل رک سا گیا تھا،
وہ رات، جب جورڈن حشام کو ختم کرنا چاہتا تھا اس رات مجھ پر ماہین حمدان کی محبت کی شدت عیاں ہوٸی تھی___ کوٸی اپنی محبت کیلیئے کسی شخص کے پاٶں کیسے پکڑ سکتا ہے؟؟

اور اسی رات مجھ پر ایک اور محبت آشکار ہوٸی تھی۔
جورڈن بن جبیل کی محبت___ حیران کن،

ماہی کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ ناجانے وہ کس راز سے پردہ اٹھانے والا تھا۔

”آپکو پتا ہے ماہین ایک انسان جسکے پاس جان لینے کے سارے اختيارات ہوں اور پھر وہ جان بخش دے تو کیسا لگتا ہے؟؟
ہم عام لوگوں کیلیۓ یہ ایک معجزہ ہوتا ہے، اور ایسے معجزے صرف محبت میں ہوتے ہیں___!!

میں نے اس رات دو پاگلوں کو دیکھا تھا، دونوں ہی محبت میں پاگل تھے،
ایک جان بچانے کیلیۓ پاگل تھا،
اور دوسرا جان بچانے والے کیلیۓ،

میں نے ان آنکهوں میں نفرت کی چنگاریوں کو محبت کی برسات میں بُجھتے دیکھا تھا۔

میں اکثر سوچتا تھا کہ ماہین حمدان جیسی لڑکی جو حشام جبیل سے عشق کرتی ہے، حشام جبیل اسے اپنا کیوں نہيں لیتا؟؟
اگر حشام جبیل چاہتا تو غلط بھی کر سکتا تھا،
لیکن اس رات مجھے سمجھ آیا کہ ماہین حمدان کو کسی اور کیلیۓ بنایا گیا ہے، اسے مجھ جیسا انسان نظر بھر کر دیکھ بھی نہيں سکتا،
شاید کوٸی اور اس سے عشق کرتا ہے، اور یہ عشق کب شروع ہوا ماہین حمدان اچھے سے جانتی ہے،

پتا ہے اس رات اس لڑکے نے میرا دل جیت لیا تھا صرف اس وجہ سے نہيں کہ اس نے میری جان بخشی تھی۔۔ بلکہ اس لئے کہ اسکی نفرت پر محبت بھاری پڑ گٸی تھی، جس انداز سے اس نے گن کو نیچے پھینکا تھا، جتنی اسکی آنکهوں میں اذیت تھی وہ مجھے آج بھی یاد ہے،

ماہی کو وہ رات یاد آگٸی تھی جب جورڈن نے اسکی منتیں کرنے پر حشام کی جان بخش دی تھی،

مجھے امید ہے آپ اسکا ساتھ کبھی نہيں چھوڑیں گی، آپ اعلیٰ ظرف ہیں___ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ دو نومبر کو حشام جبیل اسی جگہ آپ سے ملے جس جگہ وہ پہلی بار ملے گا،
اور اس بار حشام جبیل ماہین حمدان سے اسکا ساتھ مانگے گا، اور مجھے امید ہے ماہین حمدان انکار نہيں کرے گی،

ماہی کا سانس جیسے اٹک سا گیا تھا، اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ حشام نے اس سے کی مانگ لیا تھا؟؟
وہ آنکهيں پھاڑے اسکے الفاظ پر غور کر رہی تھی۔

یہ میری آخری خواہش ہے___ اسے میری گزارش سمجھ لیں، محبت کو دم توڑنے مت دیجیۓ گا،

اور رہی بات حشام جبیل اور ماہین حمدان کے رشتے کی تو حشام جبیل کو ماہین حمدان سے محبت نہیں لیکن عقيدت ضرور ہے، ماہین حمدان کی محبت سے حشام جبیل کو عقيدت ہے بےانتہا، بے پناہ____!!

ایک کم ظرف انسان
حشام بن جبیل

وہ الفاظ نہيں تھے، جانے کیا تھے؟
ماہی کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ ہنسے یا روٸے، وہ اسکا خط اسکے الفاظ پڑھ کر ہنسی تھی اور اسکی گزارش پر پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی۔

”مجھ کو معلوُم نہ تھی ہجر کی یہ رمز، کہ توُ
جب میرے پاس نہ ہو گا تو ہر سُو ہو گا“
_______________________

موبائل پر ہوتی بیل نے حانم کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواٸی تھی۔
وہ میز پر رکھی کتابوں کو ترتيب سے لڑکی کے شیلف میں رکھ رہی تھی۔
اس نے کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑاٸی کمرہ کافی حد تک صاف ہوچکا تھا۔
پھر اس نے آگے بڑھ کر میز کی دوسری جانب رکھے موبائل کو اٹھایا تھا۔
ماہم کی کال تھی۔

”کیسا لگا لندن؟؟“
سلام و دعا کے بعد ماہم نے پوچھا تھا۔

”لندن ایک قدیم شہر ہے اور تم جانتی ہوں ماہم کہ مجھے قدامت پسند ہے“
حانم نے کھڑکی سے پردہ اٹھاتے ہوٸے کہا تھا۔ باہر بڑے بڑے قدیم گھر تھے۔
اور سامنے ہی سبیل کا گھر تھا جہاں روحان پہلے رہتا تھا۔
لیکن جب وہ حانم کو لندن لے کر آیا تو اس نے گھر بدل لیا تھا۔

”روحان بھاٸی کیسے ہیں؟؟“
ماہم نے سوال کیا تھا۔

”اچھے ہیں___ خاموش ہوچکے ہیں رات گٸے تک باہر رہتے ہیں__!!“
حانم نے ایک گہری سانس لیتے ہوٸے جواب دیا تھا۔

”خیال رکھا کرو انکا۔ اکیلے ہوچکے ہیں وہ۔۔“
ماہم نے نصیحت کی تھی۔
اور حانم نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔
_________________________

آج روحان کو النور کا ہیڈ بنایا جانا تھا۔ وہ پورا د وہاں مصروف رہا تھا۔
اسے حانم سے بات کرنے کا وقت ہی نہيں ملا تھا۔ ورنہ وہ روزانہ اس سے دن میں دو تین بار فون کرتا تھا۔

چھوٹی سی تقریب سے فارغ ہونے کے بعد، جس میں النور کو اسے سونپ دیا گیا تھا، روحان نے موبائل نکالا تھا۔
وہ حانم کو فون کرنے والا تھا جب اچانک ایمی کی طرف سے بھیجی گٸی ایک تصویر کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔
وہ جینی تھی۔۔ جینی مارٹر، جسکے ساتھ مل کر کبھی اس نے گانے گاٸے تھے۔
اس نے خودکشی کرلی تھی۔ روحان کیلیۓ یہ خبر کافی حیران کن تھی۔
اسے یقين نہيں ہو رہا تھا کہ جینی جیسی لڑکی خودکشی کر سکتی تھی۔
اس نے فوراً انٹرنيٹ پر جینی کے متعلق سرچ کیا تھا۔
لوگ کافی صدمے میں تھا۔ وہ اچھی گلوکارہ تھی۔
کچھ لوگ اسکی خودکشی سے دکھی تھے جبکہ کچھ لوگ اسے قتل کرار دے رہے تھے۔
روحان گہری سوچ میں پڑھ گیا تھا۔
________________________

”تم لوگوں نے کہا تھا کہ آرجے مرچکا ہے۔۔ لیکن نہيں وہ زندہ ہے۔۔ اور اس روپ میں زندہ ہوگا میں نے کبھی سوچا نہيں تھا۔“
یہ وہی سیاہ کھڑکیوں اور دیواروں والا کمرہ تھے۔
اور اس تکونی میز کے گرد آج سالوں بعد بھی وہی تین لوگ موجود تھے۔ ایک باس اور دونوں وہ۔

”باس آپکو غلط فہمی ہوٸی ہے۔۔ آرجے مرچکا ہے۔۔“
لڑکی جو کہ سر سے پاٶں تک سیاہ کپڑوں میں ملبوس تھی سنجيدگی سے کہہ رہی تھی۔

”آرجے زندہ ہے۔۔ اور اس لڑکے کو دیکھ رہے ہو نا۔۔ یہ آرجے ہی ہے۔۔ پہلے میں اسے زندہ چاہتا تھا۔۔ اپنے مقصد کیلیۓ استعمال کرنا چاہتا تھا۔۔ لیکن اب یہ دشمنوں میں شمار ہوچکا ہے۔۔ اسے ہرحال میں ختم کرنا ہوگا۔۔ ہر طرح سے۔۔“
باس کے چہرے پر کرختگی چھاٸی تھی۔
وہ لڑکی اور لڑکا اثبات میں سر ہلا کر رہ گٸے تھے۔

_____________________________

شام چار بجے کا وقت تھا جب حانم کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ کافی دیر سوتی رہی تھی۔ اس نے سب سے پہلے بیڈ پر ہی تھوڑا فاصلے پر رکھا موبائل اٹھایا تھا۔
روحان نے اسے کافی دفعہ فون کیا تھا لیکن چونکہ موبائل ساٸلنٹ پر تھا اسے پتا ہی نہيں چلا تھا۔

”اوو چار بج گٸے۔۔ آج تو روحان کا مذاکرہ ہے۔۔“
وہ ایک دم اچھلی تھی اور پھر بیڈ سے نیچے اتر کر ٹی وی روم کی طرف بھاگی تھی۔
اسے روحان کے لیکچر سننا اچھا لگتا تھا۔

___________________________

”صرف اسلام ہی کی پیروری کیوں؟؟“

”تمام مذاہب لوگوں کو اچھے کام کرنے کی تعلیم دیتے ہیں، پھر ایک شخص کو اسلام ہی کی پیروی کیوں کرنی چاہییے؟ کیا وہ کسی دوسرے مذہب کی پیروی نہیں کرسکتا؟“

روحان سے سوال کیا گیا تھا۔ حانم آنکهيں سکیڑے غور سے ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ وہ روحان کا جواب سننا چاہتی تھی۔

” تمام مذاہب بنیادی طو رپر انسان کو صحیح راہ پر چلنے اور برائی سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ لیکن اسلام ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہ ہمیں صحیح راہ پر چلنے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے برائی کو خارج کرنے میں عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام انسانی فطرت اور معاشرے کی پیچیدگیوں کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ اسلام خود خالقِ کائنات کی طرف سے رہنمائی ہے۔ اس لیے اسلام کو دین فطرت ، یعنی انسان کا فطری دین کہا گیا ہے۔ اسلام اور دوسرے مذاہب کا بنیادی فرق درج ذیل امور سے واضح ہوتا ہے،

اسلام اور ڈاکہ زنی کا تدارک:

تمام مذاہب کی تعلیم ہے کہ ڈاکہ زنی اور چوری ایک بُرا فعل ہے۔ اسلام کی بھی یہی تعلیم ہے، پھر اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق کیا ہے؟ فرق یہ ہے کہ اسلام اس کی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ کہ ڈاکہ زنی اور چوری بُرا کام ہے۔ اسیا سماجی ڈھانچہ بھی فراہم کرتا ہے جس میں لوگ ڈاکے نہیں ڈالیں گے۔ اس کے لیے اسلام درج ذیل انسدادی اقدامات تجویز کرتا ہے۔

زکوۃ کا حکم:

اسلام انسانی فلاح کے لیئے زکوۃ کا نظام پیش کرتا ہے۔ اسلامی قانون کہتا ہے کہ ہر وہ شخص جس کی مالی بچت نصاب، 85 گرام سونے یا اس کی مالیت کو پہنچ جائے تو وہ ہر سال اس میں سے اڑھائی فیصد اللہ کی راہ میں تقسیم کرے۔ اگر ہر امیر شخص ایمانداری سے زکواۃ ادا کرے تو اس دنیا سے غربت ، جو ڈاکہ زنی کی اصل محرک ہے، ختم ہوجائے گی اور کوئی شخص بھی بھوک سے نہیں مرے گا۔

چوری کی سزا :

اسلام چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹنے کی سزا دیتا ہے۔ سورۃ مائدہ میں ہے:

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (سورۃ المائدہ 5 آیت 38)

” چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ کاٹ دو، یہ اللہ کی طرف سے ان دونوں کے کیئے ہوئے جرم کی سزا ہے۔ اور اللہ بہت طاقتور اور بہت حکمت والا ہے۔”

اس پر غیر مسلم یہ کہ سکتے ہیں کہ ” 20 ویں صدی میں ہاتھ کاٹے جائیں؟ اسلام تو ایک ظالم اور وحشیانہ مذہب ہے ” لیکن ان کی یہ سوچ سطحی اور حقیقت سے بعید ہے۔

عملی نفاذ :

امریکہ کو دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے وہاں جرائم، چوری، ڈکیتی وغیرہ کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے۔ فرض کریں کہ امریکہ میں اسلامی شریعت نافذ کی جاتی ہے اور ہر امیر آدمی نصاب کے مطابق ، یونی 85 گرام سونے سے زائد مال پر ہر سال زکوۃ ادا کرتا ہے اور ہر چور کا ہاتھ سزا کے طور کاٹ دیا جاتا ہے تو کیا امریکہ میں چوری اور ڈکیتی کی شرح بڑھ جائے گی، کم ہوجائے گی، یا اتنی ہی رہے گی؟ یقیناً کم ہوگی۔ مزید برآں یہ سخت قانون ممکنہ چوروں کو ارتکابِ جُرم سے روکنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔

میں اس بات سے متفق ہوں کہ اس وقت دنیا میں چوری کرنے والوں کی تعدار بہت زیادہ ہے اور اگر قطر ید کی سزا نافذ کی گئی تو لاکھوں کی تعدار میں لوگوں کے ہاتھ کٹیں گے۔ لیکن یہ نکتہ پیشِ نظر رہے کہ جونہی آپ اس قانون کو نافذ کریں گے۔ چوری کی شرح فوری طور پر کم ہوجائے گی، تاہم اس سے پہلے اسلام کا نظامِ زکوۃ کار فرما ہو اور معاشرے میں صدقات و خیرات اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور غریبوں اور ناداروں کی مدد کا جذبہ فراواں ہو اور پھر سزاؤں کا نظام نافذ ہو تو چوری کرنے والا چوری کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا کہ وہ اپنا ہاتھ کٹنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ عبرتناک سزا کا تصور ہی ڈاکوؤں اور چوروں کی حوصلہ شکنی کرےگا، بہت کم چوری کریں یا ڈاکہ ڈالیں گے۔ پھر چند ہی عادی مجرموں کے ہاتھ کاٹے جائیں گے اور لاکھوں لوگ چوری اور ڈکیتی کے خوف کے بغیر سکون سے رہ سکیں گے۔ اس طرح اسلامی شریعت کے عملی نفاذ سے خوشگوار نتائج بھی برآمد ہوں گے۔

عورتوں کی عصمت دری کا سدباب :

تمام مذاہب کے نزدیک عورتوں سے چھیڑ چھاڑ اور ان کی عصمت دری ایک سنگین جرم ہے۔ اسلام کی بھی یہی تعلیم ہے۔ پھر اسلام اور دوسرے مذاہب کی تعلیمات میں فرق کیا ہے؟؟ فرق اس حقیقت میں مضمر ہے کہ اسلام محض عورتوں کے احترام کی تلقین ہی نہیں کرتا اور خواتین سے چھیڑ چھاڑ اور ان کی عصمت دری جیسے سنگین جرائم سے نفرت ہی نہیں کرتا بلکہ اس امر کی بھرپور رہنمائی بھی کرتا ہے کہ معاشرے سے ایسے جرائم کا خاتمہ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے آپ درج ذیل زریں اصول ملاحظہ کیجیئے:

مردوں کے لیے حجاب :

اسلام کے حجاب کا نظام اپنی مثال ہے۔ قرآن مجید پہلے مردوں کو حجاب کا حکم دیتا ہے اور پھر عورتوں کو۔ مردوں کے حجاب ( پردہ ) کا ذکر مندرجہ ذیل آیت میں ہے:

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (سورۃ النور 24 آیت 30)

” (اے نبی!) مومن مردوں سے کہ دیجیئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔ اور اللہ اُن تمام باتوں سے بخوبی واقف ہے جو وہ کرتے ہیں۔”

اسلام کہتا ہے کہ جو شخص کسی غیر محرم کو دیکھے تو اسے چاہیئے کہ فوراً نگاہیں نیچی کرلے۔

عورتوں کے لیے حجاب:

عورتوں کے حجاب کا ذکر مندرجہ ذیل آیت میں ہے:

وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الإرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ (سورۃ النور 24 آیت 31)

“( اے نبی) مؤمن عورتوں سے کہ دیجیئے کہ وہ اپنی نگالیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی نمائش نہ کریں سوائے اس کے جو از خود ظاہرہو۔ اور ان کو چاہیئے کہ اپنے سینوں پر اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہر پر یا اپنے باپ پر یا اپنے سسر پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر یا اپنے بھائیوں پر یا اپنے بھتیجوں پر یا اپنے بھانجوں پر یا اپنی ( مسلمان ) عورتوں پر یا اپنے دائیں ہاتھ کی ملکیت ( کنیزوں ) پر یا عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے نوکروں پر یا عورتوں سے چھپی باتوں سے ناواقف لڑکوں پر، اور وہ ( عورتیں ) اپنے پاؤں زور زور سے زمین پرمارتی نہ چلیں کہ ان کی زینت ظاہر ہو جائے جسے وہ چھپاتی ہیں۔ اور اے مومنو! تم سب اللہ سے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔” ( سورۃ النور 24 آیت 31)

حفاظتی حصار :

اللہ تعالی حجاب کا حکم کیوں دیتا ہے؟ اس کی وضاحت سورۃ الاحزاب کی مندرجہ ذیل آیت میں کی گئی ہے۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (سورۃ الاحزاب 33 آیت 59)

“اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہ دیجیئے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں اوڑھ لیا کریں ( جب وہ باہر نکلیں ) یہ ( بات ) ان کے لیے قریب تر ہے کہ وہ ( حیا دار مؤمنات کے طور پر ) پہچانی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے ( کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرسکے ) اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ “

قرآن کے مطابق حجاب کا حکم عورتوں کو اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ باحیا عورتوں کے طو رپر پہچانی جاسکیں اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رہیں۔

عصمت دری کرنے والے کے لیے موت کی سزا :

اسلامی شریعت عصمت دری کرنے والے کی سزا موت قرار دیتی ہے ( ڈاکٹر ذاکر نائیک نے عصمت دری کرنے والے (Rapist) کی سزا کو ”سزائے موت“ لکھا ہے جبکہ اسلامی شریعت کے نقطہء نظر سے زانی کی سزا یا حدود دو قسم کی ہے :

رجم (سنگسار) اور کوڑے۔

زانی اگر شادی شدہ ہے تو رجم ( سنگسار ) کیا جائے گا اور اگر غیر شادی شدہ ہے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ( یا قید ) کی سزا دی جائے گی۔ )۔ غیر مسلم خوفزہ ہوں گے کہ اتنی بڑی سزا! بہت سے لوگ اسلام کو وحشی اور ظالمانہ مذہب قرار دیتے ہیں۔ لیکن ان کی یہ سوچ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ میں نے یہ سوال سینکڑوں گیر مسلموں سے پوچھا ہے کہ فرض کیجیئے خدانخواستہ کوئی آپ کی بیوی ، آپ کی ماں یا آپ کی بہن کی عصمت دری کرے اور آپ کو منصف بنایا جائے اور جرم کرنے والے کو آپ کے سامنے لایا جائے۔ آپ اس کے لیے کیا سزا تجویز کریں گے؟ سب نے کہا: ”ہم اسے قتل کردیں گے۔“
اور کچھ اس حد تک گئے کہ ” ہم اس کے مرنے تک اسے تشدد سے تڑپاتے رہیں گے۔“ اب اگر کوئی آپ کی بیوی یا بیٹی یا آپ کی ماں کی عصمت دری کرے تو آپ اس مجرم کو قتل کرنا چاہیں گے۔ لیکن جب کسی اور کی بیوی، بیٹی یا ماں کی عصمت دری کی جاتی ہے تو مجرم کے لیے سزائے موت وحشیا نہ کیوں کہا جاتا ہے؟ آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟

امریکہ میں عصمت دری کے روز افزوں واقعات :

امریکہ کو دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ 1990ء کی ایف بھی آئی کی رپورٹ کے مطابق عصمت دری (Rape) کے 1،02،555 مقدمات درج کئے گئے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف 16 فیصد مقدمات کا اندراج ہوا یا ان کی رپورٹ کی گئی۔ یوں 1990ء میں پیش آمدہ عصمت دری کے واقعات کی اصل تعداد معلوم کرنے کے لیے 100/16 یعنی 6۔25 سے ضرب دی جائے تو وہ 6،40،968 بنتی ہے۔ اور اگر اس مجموعی تعداد کو سال کے 365 دنوں سے تقسیم کیا جائے تو روزانہ اوسط 1،756 نکلتی ہے۔

بعد کی ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکہ میں اس برس عصمت دری کے اوسطاً 1900 واقعات روزانہ پیش آئے، امریکی محکمہ انصاف کے نیشنل کرائم سروے بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 1996ء میں آبروریزی کے 3،07،000 واقعات کی رپورٹ کی گئی اور یہ اصل تعداد کا صرف 31 فیصد تھی۔ اس طرح عصمت دری کے واقعات کی اصل تعداد 9،90،332 بنتی ہے جو دس لاکھ کے قریب ہے۔ گویا امریکہ میں اس سال ہر 32 سکینڈ کے بعد عصمت دری کا ایک واقعہ پیش آیا۔ ہوسکتا ہے اب امریکہ میں ایسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے والے اور دلیر ہوگئے ہوں۔ 1990ء کی ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق وہاں عصمت دری کے جنتے بھی واقعات کی رپورٹ کی گئی ان کے مجرموں میں سے صرف 10 فیصد گرفتار کئے گئے جو زانیوں کی کل تعداد کا صرف 1۔6 فیصد تھے۔ اور گرفتار شدگان میں سے بھی 50 فیصد کو مقدمے کی نوبت آنے سے پہلے ہی چھوڑ دیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف 0۔8 فیصد مجرموں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرے لفظوں میں اگر ایک شخص 125 مرتبہ یہ جرم کرتا ہے تو اسے صرف ایک بار سزا ملنے کا امکان ہے۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق 50 فیصد لوگ جن کو ان مقدمات کا سامنا کرنا پڑا انہیں ایک سال سے بھی کم قید کی سزا سنائی گئی۔ اگرچہ امریکی قانون کے مطابق ایسے جرم کے مرتکب افراد کی سزا سات سال قید ہے مگر پہلی دفعہ ایسا گھناؤنا جرم کرنے والے کے ساتھ جج نرمی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ ایک شخص 125 دفعہ یہ جرم کرتا ہے اور اس کے مجرم ٹھہرائے جانے کا امکان ایک فیصد ہوتا ہے اور اس میں بھی نصف مرتبہ جج کا رویہ اختیار کرتے ہوئے اسے ایک سال سے بھی کم کی سزا دیتا ہے۔ اور 2018 میں 101,151 کیس رپورٹ ہوٸے ہیں۔

اسلامی شریعت کی برکت :

فرض کریں امریکہ میں اسلامی شریعت کا نفاذ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی عورت کی طرف دیکھا ہے تو وہ اپنی نگاہ نیچی کرلیتا ہے اور ہر عورت اسلامی حجاب، یعنی پردے میں رہتی ہے اور اس کا پورا جسم سوائے ہاتھوں اور چہرے کے ڈھکا ہوتا ہے یا چہرہ بھی ڈھکا ہوتا ہے۔ اس صورتِ حال کے باجود اگر کوئی عصمت دری کرتا ہے اور مجرم کو سزائےموت دی جاتی ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا کہ اس طرح عمصمت دری کی شرح بڑھ جائے گی ، وہی رہے گی یا کم ہو جائے گی؟ یقیناً شرح کم ہوجائے گی اور یہ اسلامی شریعت کے نفاذ کا بابرکت نتیجہ ہوگا۔

اسلام میں تمام مسائل کا عملی حل :

اسلام بہترین طرزِ زندگی ہے کیونکہ اس کی تعلیمات محض نظریاتی ہی نہیں بلکہ وہ انسانیت کو درپیش مسائل کے عملی حل بھی پیش کرتی ہیں۔ لہذا اسلام انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر بہتر نتائج حاصل کرتا ہے۔ اسلام بہترین طرزِ زندگی ہے کیونہ یہ قابل عمل عالمگیر مذہب ہے جو کسی ایک قوم نسل تک محدود نہیں، اسی لیے دوسرے مذاہب کے مقابلے میں صرف اسلام ہی ایسا دین ہے جس کو اپناکر انسان اپنی شاہراہِ حیات بالکل سیدھی بنا کر اخروی زندگی میں کامیابی و کامرانی حاصل کرسکتا ہے۔ اور اخروی کامیابی ہی حقیقی کامیابی ہے۔۔!!“

حانم نے دلچسپ نظروں سے ٹی وی پر چلتی تقریر کو سنا تھا اور پھر اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔
___________________________

رات کے تقریباً پونے بارہ بجے کا وقت تھا۔ حانم نیند سے بوجھل آنکهيں لیۓ لاٶنج میں صوفے پر بیٹھی تھی۔ سخت سردی پڑ رہی تھی۔
وہ روحان کا انتظار کر رہی تھی۔ ملازمہ کب کی سو چکی تھی اور حانم کو شدید غصہ آیا ہوا تھا۔

کچھ دیر بعد روحان اندر داخل ہوا تھا۔ حانم کو صوفے پر بیٹھا دیکھ ہر وہ چونکا تھا۔
اسلام و علیکم!
روحان نے سلام کرتے ہوٸے کوٹ اتار کر صوفے پر رکھا۔
حانم اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔ اس نے سلام کا جواب بھی دل میں ہی دیا تھا۔
”تم آج ابھی تک جاگ رہی ہو؟؟ مجھے لگا سوگٸی ہوگی۔۔ خیر جاگ ہی رہی تو کھانا مل سکتا ہے مجھے۔۔ کافی بھوک لگی ہے۔۔“
روحان نے بند آنکهوں سے کہا تھا۔ وہ صوفے سے ٹیک لگاٸے بیٹھا تھا۔ حانم کا پارہ ہاٸی ہوا۔

”جہاں اتنی رات تک رہتے ہیں وہاں کھانا بھی کھا لیا کریں۔۔“
حانم نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا تھا۔ وہ صوفے سے اتر کر جوتے پہن رہی تھی۔
روحان نے چونک کر آنکهيں کھولی تھیں۔ اسے یقين نہيں آرہا تھا یہ جواب حانم نے ہی دیا تھا؟؟
وہ لندن آنے کے بعد کافی پرسکون ہوگٸی تھی۔ اسے کام بنا کہے کر دیتی تھی۔
اور آج۔۔ آج کیا ہوا تھا اسے؟؟

”نوکر سمجھا ہوا ہے مجھے۔۔ پاگلوں کی طرح جاگتی رہوں۔۔ہنہہ“
وہ ڈوپٹہ ٹھیک کرتی بڑبڑا رہی تھی۔
روحان اسے دلچسپ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اسکا پھولا ہوا منہ دیکھ کر روحان کے چہرے پر گہری مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔

”تمہارے غصہ میرے کھانا مانگنے پر آیا ہے یا لیٹ گھر آنے پر؟؟“
روحان نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوٸے کہا تھا۔وہ کافی تھکا ہوا تھا۔
اسے احساس ہو رہا تھا وہ کافی مصروف رہنے لگا تھا۔
صبح صبح چلے جاتا تھا رات دیر سے واپس آتا تھا۔ دن میں فون کرلیا کرتا تھا لیکن کبھی بات ہوجاتی تھی کبھی نہيں۔۔
وہ اتنا الجھ گیا تھا پچھلے دنوں میں کہ حانم پر دھیان ہی نہيں دے پا رہا تھا۔

”میں کوٸی مشین نہيں ہوں جسے سارا دن اکیلے رکھا جاٸے گا تو رہ لوں گی۔۔
میں سارا دن یہاں اکیلی ہوتی ہوں، آپکو احساس بھی ہے؟؟“
وہ کچن کی طرف قدم بڑھاتی غصے سے کہہ رہی تھی۔
روحان کو اسکا خالص بیویوں والے انداز میں شکوے کرنا اچھا لگ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ بولتی رہے۔

”میں نے فون کیا تو تھا تم نے اٹھایا نہيں۔۔“
وہ اسکے پیچھے لپکا تھا۔

”میں سوٸی ہوٸی تھی اس وقت“
حانم نے دوبدو جواب دیا۔

”تو اس میں کس کی غلطی ہے؟؟“
روحان نے پوچھا تھا۔

”آپکی مسٹر روحان جبیل۔۔“
حانم کا جواب سن کر روحان حیران رہ گیا تھا۔

”آپ نے اس وقت فون کیوں کیا جب میں سو رہی تھی۔۔“
وہ اب ساپن گرم کر رہی تھی۔

”مجھے کیسے پتا ہوگا تم اس وقت سو رہی ہو؟؟“
وہ پریشان سا پوچھ رہا تھا۔

”ہاں تو مجھے کیسے پتا ہوگا کہ آپ نے کس وقت فون کرنا ہے۔۔؟؟“
حانم کا جواب سن کر روحان کا قہقہہ ابھرا تھا۔
اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ حانم سے کم از کم ان معاملات میں نہیں جیت سکتا۔

”سوری میں آٸندہ خیال رکھوں اور جلدی گھر آٶں گا۔۔“
وہ اب سنجيدہ لہجے میں کہہ رہا تھا آنکهوں میں البتہ شرارت ناچ رہی تھی۔
حانم نے اسکا جواب سن کر کچھ نہيں کہا تھا۔ وہ سمجھ سکتا تھا حانم کو واقعی نیند آرہی تھی۔

وہ اب سپاٹ سا چہرہ لیۓ کھانا چھوٹی سی میز پر لگا رہی تھی جو کچن میں ہی رکھی تھی۔

اسے دیکھ کر جیسے روحان کی ساری تھکن اتر سی گٸی تھی۔ وہ اب دلچسپ نظروں سے اسکی ہر حرکت کو نوٹ کر رہا تھا۔

کھانا لگانے کے بعد وہ کچن سے جانے لگی تو روحان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
”تم نہيں کھاٶ گی؟؟“

”مجھے بھوک نہيں ہے“

”اچھا چلو پاس تو بیٹھ سکتی ہو نا؟؟“

”جی نہيں مجھے نیند آٸی ہے۔ میں مزید نہيں جاگ سکتی۔۔“
وہ اپنا ہاتھ چھڑوا کر جاچکی تھی۔

”یہ کیسے کرے گی مجھ سے محبت۔۔ اسکو تو نیند ہی بہت آتی ہے۔۔ سارا دن سوتی ہے۔۔ پھر رات کو بھی سوتی ہے۔۔ پھر بھی اسکی نیند پوری نہيں ہوتی۔۔ اور اوپر سے غصہ بھی مجھ پر ہی کرتی ہے۔“
روحان سرد آہ بھر کر رہ گیا تھا۔ اور پھر سر جھٹک کر میز کی طرف بڑھ گیا۔

_________________________

کھانے کے بعد روحان جب کمرے میں آیا تو حانم سر تک کمبل تانے گہری نیند سوٸی ہوٸی تھی۔ کمرے میں ہیٹر کی گرماٸش تھی۔
روحان کو گرمی کا احساس ہوا تھا لیکن اس نے ہیٹر بند نہيں کیا بلکہ اپنی جیکٹ اتار دی تھی۔ وہ جانتا تھا حانم سے سردی برداشت نہيں ہوتی تھی۔ پیرس میں بھی اسکا یہی حال تھا اور اب یہاں آکر بھی۔

”پاگل۔۔“
روحان اسے دیکھ کر زیرلب بڑبڑایا تھا۔ چہرے پر دلکش مسکراہٹ تھی۔ اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اسکی نظروں کے سامنے تھی۔

وہ لیپ ٹاپ اٹھا کر صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔ کچھ دنوں سے اپنے اکاؤنٹس میں کچھ غیر معمولی حرکات محسوس ہو رہی تھیں۔ آج وہ جاٸزہ لینا چاہتا تھا کہ ایسا کیوں تھا؟؟

اور اوپر سے جینی کی موت نے اسے الجھن میں ڈال دیا تھا۔
اسے آج بھی وہ رات یاد تھی جب وہ جینی کے ساتھ جانے والا تھا لیکن اسکے پینڈنٹ میں اسے منی کیمرہ نظر آیا تھا___
اسکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کی کوشش کی گٸی تھی۔۔

اور آج سالوں بعد دوبارہ سے اسے وہی حرکات محسوس ہو رہی تھیں۔
وہ سنجيدہ چہرے کے ساتھ اپنی سکیننگ آنکهوں کو لیپ ٹاپ پر جماٸے ہر چیز کا باریک بینی سے جاٸزہ لے رہا تھا۔
کچھ تو تھا جو ٹھیک نہيں تھا۔

_________________________

اگلی صبح وہ کافی دیر سے جاگی تھی۔ روحان جا چکا تھا اس نے ناشتے کیلیۓ حانم کو نہيں اٹھایا تھا۔
”اچھا کیا نہيں اٹھایا اب انہيں یہ تو لگے گا نا کہ میں ناراض ہوں اس لیۓ نہيں اٹھی“

دن کے دس بجے کا وقت تھا۔ اس سے پہلے وہ کچھ سوچتی اسکے موبائل پر تھرتھراہٹ ہوٸی تھی۔ حانم نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو روحان کا ہی میسج تھا۔

”گھر میں دھیان سے رہنا، بلاوجہ کسی کیلیۓ بھی دروازہ مت کھولنا، اور مشکوک افراد سے ہرگز بات مت کرنا، اور گھر سے باہر بھی مت نکلنا۔“

روحان کا میسج پڑھ کر حانم کی تیوری چڑھی تھی۔
آج تو اس نے بستی (ٹاٶن) میں گھومنے کا ارادہ کیا تھا۔
آج ہی وہ اسے گھر میں رہنے کی تلقين کر رہا تھا۔

”میں کوٸی بچی نہيں ہوں جو یہاں کھو جاٶں گی میں باہر لازمی جاٶں گی۔“
حانم نے جواب دیا تھا۔
اسے خود سمجھ نہيں آرہا تھا وہ اس سے کیوں ناراض تھی۔
اطمينان سے ناشتہ کرنے کے بعد وہ اٹھی۔ تیار ہوٸی۔
ٹخنوں سے ذرا اوپر تک کے اوور کوٹ میں وہ پوری طرح سے چھپ گٸی تھی۔
اپنے پسندیدہ چنکی بند جوتے پہننے کے بعد چھاتہ لے کر باہر نکل گٸی تھی۔

”سمجھتا کیا ہے خود کو میں کوٸی چار سال کی بچی ہوں یا مجھے لندن کا نہيں پتا، بی جان سے شکایت کرنی پڑے گی۔ مجھے یہاں قید کرکے رکھا ہے___“
وہ زیرلب بڑبڑارہی تھی۔
باہر موسم کافی سرد تھا۔ آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ صبح صبح ہی شام کا گمان ہو رہا تھا۔
یقيناً کچھ دیر تک برف باری ہونے والی تھی۔

گھروں کے سامنے سے گزرتے ہوٸے اچانک اسکی نظر ایک گھر پر پڑی تھی۔ ہر گھر کے سامنے باڑ لگی تھی اور اندر جانے کیلیۓ جنگلے نما گیٹ۔

”ایلف آسکر۔۔“
دروازے کے ایک طرف ایلف کا نام پڑھ کر وہ چونکی تھی۔
اس نے یہ نام پہلے بھی سنا تھا۔ اچانک ایک جھماکہ ہوا اور اسے یاد آگیا تھا۔ حشام نے یہ نام لیا تھا___ اس نام کی لڑکی کو روحان نے ریجیکٹ کیا تھا۔

”اچھا تو موصوف کی پنکھیاں پر ادھر ہی رہتی ہیں۔۔“
وہ خود سے باتیں کر رہی تھی۔
اپنے حلیے سے وہ ہرگز کوٸی پاکستانی لڑکی نہيں لگ رہی تھی۔ اسکا سر پہلے سکارف اور پھر اونی ٹوپی سے ڈھکا ہوا تھا۔
اور پورا جسم بھاری بھرکم کوٹ سے۔۔
وہ بنا کسی خود کے ہرچیز کو دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔

____________________________

”پاکستان واپس چلیں۔۔“
حشام پوچھ رہا تھا۔ جب ماہی کی آنکهيں رونے سے سوجھ چکی تھیں۔

”اس طرح سے روٶ گی تو آپکے حشام کو سکون کیسے ملے گا۔۔؟؟“
اسکے کچھ نا بولنے پر وہ دوبارہ پوچھ رہا تھا۔

”سنو۔۔بہت ہوگیا یہ رونا دھونا۔۔ بی جان بہت خفا ہیں، انہيں رونے دھونے والی بہو نہيں پسند۔۔“
ماہی نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔ عجیب تھا وہ شخص جانتا بھی تھا وہ پور پور کسی اور کی محبت میں ڈوبی تھی۔ پھر بھی۔۔؟؟

”سید حویلی کی شان کے برابر ایک ہی لڑکی ہے اور وہ آپ ہیں مس ماہین حمدان۔۔“
وہ چمکتی آنکهوں سے بول رہا تھا۔

”میری لو اسٹوری تھوڑی عجیب ہے، ہاں میں جانتا ہوں میں ایک جنگلی انسان ہوں، جب میں پہلی بار ماہین حمدان سے ملا تھا تو اسکا سر پھاڑ دیا تھا___ لیکن یقین کرو میں ماہین سے حشام کی طرح محبت کرتا ہوں۔۔“
حشام جبیل نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔
اور ماہی۔۔ وہ تو حشام جبیل کی آخری خواہش سے بندھ گٸی تھی____

”آپ جانتے ہیں مجھے آپ سے کبھی محبت نہيں ہوگی، میں ہمیشہ صرف اسی کو چاہوں گی پھر بھی آپ۔۔؟؟“
وہ بات ادھوری چھوڑ گٸی تھی۔

”ماہین حمدان کو صرف حشام جبیل سے محبت ہے، اور مس ذرا توجہ فرماٸیں میں حشام جبیل ہوں۔۔“
وہ خوشدلی سے مسکرایا تھا۔

”میں مذاق نہيں کر رہی۔۔“

”آپکو لگتا ہے مس ماہین میں آپ سے اتنے اہم موضوع پر مذاق کرونگا۔۔؟؟“
وہ اب سنجيدہ چہرہ لیۓ اسکی آنکهوں میں دیکھتے ہوٸے پوچھ رہا تھا۔
ماہی چونکی تھی۔ ایسی ہی سنجيدگی حشام کی آنکهوں میں ہوتی تھی۔
وہ اسے غور سے دیکھنے کے بعد نظریں چرا گٸی تھی۔

ّ”آپ اچھی طرح سوچ لیں مس ماہین حمدان میں کل واپس جا رہا ہوں، علاقے کے بہت سے معاملات دیکھنے ہیں، چھوٹے بابا ساٸیں اکیلے ہیں، اگر آپ جانا چاہتی ہیں تو ٹھیک ہے، نہيں تو بی جان نے مجھے زبردستی کرنا نہيں سکھایا۔۔“
وہ عام سے لہجے میں کہتا ماہی کو بہت کچھ سمجھا گیا تھا۔

”یہ جنگلی جانور بدل کیسے گیا؟؟ یقين نہيں ہوتا یہ وہی ہے۔۔“
کچھ فاصلے پر بیٹھی ایلا نے اسے دیکھ کر پہلو بدلا تھا۔

_________________________

دو بجے کے قریب وہ گھر واپس جا رہی تھی جب اسے جواد کا فون آیا۔

”یہ سب کیا ہو رہا ہے ہانی آپی؟؟ اور آپ کہاں ہیں آپ ٹھیک تو ہیں نا؟؟“
وہ پریشانی سے پوچھ رہا تھا۔

”کیا ہوا۔۔؟؟“
حانم حیران ہوٸی۔

”آپکو نہيں پتا؟؟“
جواد حیران ہوا۔

”نہيں تو۔۔ لیکن ہوا کیا ہے؟؟“
وہ پریشان ہوٸی۔

”آپ ذرا خبریں دیکھیں۔ روحان بھاٸی اس وقت پوليس کی حراست میں ہیں، اور پورے سوشل میڈیا پر عجیب عجیب سی خبریں پھیلی ہوٸی ہیں مجھے تو کچھ سمجھ نہيں آرہا۔۔“

”کیا۔۔ پولیس۔۔؟؟“
حانم کا دل زور سے دھڑکا تھا۔

”ہاں آپ خبریں دیکھیں اور گھر سے باہر مت نکلیۓ گا___ انکے بہت سے سارے دشمن ہیں۔۔“
جواد نے تلقين کی تھی اور پھر وہ فون بند کرچکا تھا۔
حانم کا دماغ ساٸیں ساٸیں کر رہا تھا۔
وہ جانتی تھی اسکے بہت سارے دشمن ہو سکتے تھے اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ لوگ اسے بدنام کرنے کیلیۓ کچھ بھی کر سکتے تھے۔۔ لیکن ابھی سے؟؟
ابھی تو اس نے شروع کیا تھا۔۔
حانم کے قدموں کی رفتار تیز ہوٸی تھی۔ وہ جلد گھر پہنچ کر صورتحال کا اندازہ لگانا چاہتی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: