Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 57

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 57

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

(بنا اجازت کاپی پیسٹ یا شیٸر مت کیا کریں)

”میں نے کہا تھا نا اپنی رفتار آہستہ کرلو یہ لندن ہے۔“
سبیل اسکے سامنے بیٹھا تھا۔ اسکے چہرے پر سنجيدگی چھاٸی تھی۔

”تو تمہيں لگتا ہے یہ سب میں نے کیا ہے؟؟“
روحان نے موبائل اسے واپس تھمایا جس میں وہ کچھ ویڈیوز دیکھ رہا تھا۔
ان ویڈیوز میں روحان جبیل تھا۔ جو اسلام کے خلاف باتيں کر رہا تھا۔ اور ساتھ ہی دوسرے مذاہب کو نشانہ بنا رہا تھا۔
اسکے ساتھ کچھ لوگ تھے جنکا چہرہ چھپا ہوا تھا اور وہ حلیے سے دہشت گرد لگ رہے تھے۔
یہ ویڈیوز صاف ظاہر کر رہی تھیں کہ روحان جبیل کا تعلق دہشت گردوں سے تھا۔

”میرے ماننے یا نا ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔؟؟ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ تمہاری پیروی کرنے والے تمہارے خلاف ہوگٸے ہیں__ اور دہشت گردوں سے تعلق رکھنے پر لندن کی بڑی شخصيات اور مذہی کمیونٹیاں بہت زیادہ غصے میں ہیں__!!“

”میرا صرف ایمان بدلا ہے۔۔ میرا دماغ آرجے والا ہی ہے__ یہ جو میرے خلاف سازش کی گٸی ہے اسکا تو میں پتا چلا ہی لونگا۔۔“
روحان کا لہجہ اٹل تھا۔

”یہ کافی مشکل کام ہے، تمہارا دشمن کافی شاطر ہے۔ تمہارے بینک اکاٶنٹ ملین ڈالرز ٹرانسفر ہوٸے ہیں__ اور اس ویڈیو کے مطابق تم نے یہ لندن میں دہشت گردی پھیلانے کا معاوضہ لیا ہے۔“

”کمال ہے۔۔ یہ تو پتا چل گیا کہ میرے اکاٶنٹ میں پیسے ٹرانفسر ہوٸے ہیں یہ معلوم نہيں کیا کسی نے کہ یہ کہاں سے آٸے ہیں کیسے ٹرانسفر ہوٸے ہیں۔؟؟“

”یہی کام ہے ہمارا۔ میں ایک وکیل ہوں اگر ہم یہ معلوم کرنے میں کامياب ہوگٸے کہ یہ پیسے کیسے ٹرانسفر ہوٸے ہیں تو یقيناً تم بےگناہ ثابت ہوگے۔ فی الوقت تو میں تمہاری ضمانت کرواتا ہوں۔“
سبیل نے میز پر رکھی فاٸل اٹھاتے ہوٸے کہا تھا۔ جبکہ روحان گہری سوچ میں تھا۔
اسے اس بات سے فرق نہيں پڑتا تھا کہ لوگ اسے کیا سمجھ رہے تھے بلکہ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اسکے خلاف اتنی بڑی سازش کس نے کی تھی۔

________________________

حانم نے گھر پہنچنے کے بعد ٹی وی لگایا تھا۔ نیوز چینل پر چلتی خبروں کو سن کر وہ گنگ رہ گٸی تھی۔
روحان کی ویڈیوز بار بار دکھاٸی جا رہی تھی۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد النور کے باہر جمع ہوگٸی تھی۔
لوگ اسے برا بھلا کہہ رہے تھے۔
اسکا سر چکرا گیا تھا۔

”روحان ایسا نہيں کر سکتا۔۔“
وہ بڑبڑاٸی تھی اور پھر فون کی گھنٹی بجنے پر چونکی تھی۔

________________________

”ڈیڈ یہ آپ کیسے بیان دے رہے ہیں۔۔؟؟“
ایلف مسٹر آسکر سے سخت لہجے میں پوچھ رہی تھی۔

”وہ لڑکا ایک دہشت گرد ہے۔۔ جس سے پورے لندن کو خطرہ تم نے ویڈیوز نہيں دیکھیں؟؟“

”ڈیڈ وہ ایسا نہيں ہے میں اسے اچھے جانتی ہوں۔ یہ اسکے خلاف سازش کی گٸی ہے۔آپ تو سمجھنے کی کوشش کریں۔“
ایلف اپنے باپ کے بیان سن کر پریشان ہوگٸی تھی۔ وہ روحان جبیل کو سخت سزا دینے اور لندن سے نکالنے کی بات کر رہے تھے۔
مذہبی کمیونٹیاں النور کو بند کرنا چاہتی تھیں انکا کہنا تھا کہ یہ ادارہ دہشت گرد پیدا کر رہا تھا۔

”کوٸی سازش نہيں ہے صاف ظاہر ہے اس نے لاکھوں ڈالرز لیے ہیں اس کام کیلیے۔“
مسٹر آسکر غصے میں تھے۔
ایلف نے تنگ آکر فون بند کردیا تھا۔ وہ دوسرے شہر آٸی ہوٸی تھی۔ اپنی ماں کے شہر۔۔ وہ جانتی تھی روحان حانم کے ساتھ واپس آگیا تھا اور ایلف میں انکا سامنا کرنے کی ہمت نہيں تھی۔ لیکن اب بات روحان کی آگٸی تھی___
وہ اٹھی اور اپنا بیگ پیک کیا۔ آج شام کی ٹرین سے وہ واپس لندن جا رہی تھی۔

___________________________

”ان لوگوں کی ہمت کیسے ہوٸی تمہیں گرفتار کرنے کی__ میں چھوڑوں گا نہيں کسی کو بھی۔۔“
ڈاکٹر باسط کافی غصے میں تھے۔ انکی رساٸی کافی اوپر تک تھی۔ انہيں غصہ تھا۔ روحان کے سر الزام لگایا جا رہا تھا۔

”آپ پریشان نہ ہوں ڈاکٹر صاحب۔ میں ابھی تو گھر جا رہا ہوں سبیل ہے میرے ساتھ۔۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا ہے کہ مجھے سمجھنے کا موقع ہی نہيں ملا ہے۔۔ میں گھر جا کر دیکھتا ہوں۔“
روحان کافی پرسکون تھا۔ اسکی ضمانت ممکن نہيں تھی۔ یہ تو سبیل کا کام تھا وہ کافی ذہین اور شاطر وکیل تھا۔

کھیل کافی چالاکی سے کھیلا گیا تھا۔ جسکی روحان کو بھنک بھی نہيں پڑی تھی۔
________________________

روحان جب گھر پہنچا تو حیران رہ گیا تھا۔ ایمی آدھی سے زیادہ کلاس کے ساتھ اسکے گھر میں موجود تھی۔

“Hey Man are you okay??”
روحان کو دیکھ کر وہ بےتابی سے اسکی جانب بڑھی۔

”میں ٹھیک ہوں۔“
وہ مسکرایا تھا۔ حانم حیرت سے کبھی اسے تو کبھی ایمی کو دیکھ رہی تھی۔

”اسلام و علیکم بھابھی۔۔“
سبیل کی آواز پر وہ چونکی تھی اور سر ہلا کر آہستہ سے جواب دیا تھا۔

”مجھے لگا تمہاری واٸف اکیلی ہوگی گھر میں کوٸی خطرہ ہو سکتا ہے اس لیۓ میں فرینڈز کے ساتھ یہاں آگٸی تھی۔“
ایمی نے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔

”بہت اچھا کیا۔ میں بھی حانم کے اکیلے ہونے کی وجہ سے پریشان تھا۔“
روحان نے حانم کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوٸے کہا تھا۔
حانم کے چہرے پر عجیب سا تاثر تھا۔ جسے وہ سمجھ نہيں پایا تھا۔

”اوکے اب ہم چلتے ہیں پھر آٸیں گے۔ کوٸی بھی مسٸلہ ہو ہمیں بتانا۔۔ ہمیں تم پر پورا بھروسہ ہے۔۔“
ایمی نے اسے یقین دلایا تھا۔ روحان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔ کم از کم وہ تو اسے بےگناہ سمجھتی تھی۔

انکے جانے کے بعد روحان صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ وہ کافی تھک چکا تھا۔ یہ جسمانی نہيں بلکہ ذہنی تھکاوٹ تھی۔
کچھ ہی دیر بعد حانم چاٸے لے آٸی تھی۔

”مجھے تمہارے سارے اکاٶنٹس کی ڈیٹیل چاہیۓ۔ اور یہ بھی یاد کرو کہ ان ویڈیوز پر جو وقت درج ہے اس وقت، اس دن اور اس تاریخ کو تم کہاں تھے۔
کہنے کو تو یہ کمیرہ سے لی گٸی ویڈیوز ہیں لیکن ایسا نہيں ہے__ یہ تم جانتے ہو۔
اگر ہمارے پاس ثبوت مضبوط ہوں تو کورٹ میں پہلی پیشگی پر ہی ہم تمہیں بےگناہ ثابت کر سکتے ہیں۔۔“
سبیل کافی سنجيدگی سے کہہ رہا تھا۔ روحان نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔ ان دونوں کو مصروف دیکھ کر حانم وہاں سے کھسک گٸی تھی۔

_______________________

سبیل سے اہم باتيں کرنے کے بعد وہ کمرے میں آیا تو حانم کھڑکی میں کھڑی تھی۔ کمرے میں کافی ٹھنڈ پھیل چکی تھی۔ باہر اندھیرا تھا۔ رات ہوچکی تھی۔
وہ گہری سانس لے کر دھیمے قدم اٹھاتا اسکی طرف بڑھا تھا۔

”ناراض ہو مجھ سے۔۔؟؟“
وہ اسکے سامنے کھڑے ہوتے پوچھ رہا تھا۔

”مجھے کیا ضرورت ہے ناراض ہونے کی؟؟“
حانم کا لہجہ خفگی اور غصہ ظاہر کر رہا تھا۔

”لگ تو رہا ہے۔۔“
اسکا پھولا ہوا منہ دیکھ کر وہ ہولے سے مسکرایا تھا۔

”آپکو تو پتا نہيں کیا کیا لگتا رہتا ہے سب سچ تو نہيں ہوتا نا۔۔“
حانم نے غصے سے گھورتے ہوٸے کہا تھا اور پھر رخ باہر کی جانب موڑ لیا تھا۔

”مثلاً کیا لگتا ہے مجھے؟؟“
وہ اسے بولنے پر اکسا رہا تھا۔

”مجھے نہيں پتا۔“
وہ کہتے ہوٸے مڑی تھی۔ جب روحان نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔

”ناراض کیوں ہو؟؟ یا پھر مجھ پر یقين نہيں ہے؟ تمہيں لگتا ہے جو دکھایا جا رہا ہے وہ سب سچ ہے؟؟“
وہ اب سنجيدگی سے پوچھ رہا تھا۔ حانم نظریں جھکا گٸی تھی۔

”بولو حانم۔۔ تمہارا یقين میرے لیے سب سے اہم ہے۔“

”اگر یقين اتنا اہم ہے تو پھر مجھے سب بتاتے کیوں نہيں ہیں آپ؟؟ مجھ سے کچھ بھی شیٸر نہيں کرتے ہیں آپ۔۔ میں کیا ہوں؟؟ میری کیا حثیت ہے اگر آپکو مجھ پر یقين ہی نہيں۔۔؟؟“
وہ بولی تو آواز بھرا گٸی تھی۔ روحان کو اسکی الجھن سمجھ آگٸی تھی۔

”میں اپنی الجھنیں تم سے اس لیے شیٸر نہيں کرتا کہ میں تمہارے پریشان نہيں کرنا چاہتا اور میں خود ہی سلجھا سکتا ہوں۔“
روحان نے صفاٸی دی تھی۔
حانم کو لگتا تھا کہ روحان کے نزدیک اسکی کوٸی اہمیت نہيں تھی۔

”تم میرے لیے سب سے اہم ہو ام حانم۔۔ جب سب نے مجھے غلط سمجھا تب پہلا خیال تمہارا آیا تھا میرے ذہن میں۔۔ جانے تم مجھ پر بھروسہ کروگی یا نہيں۔۔!!“
وہ بھی کہیں اندر سے ڈرا ہوا۔

”آنکھوں دیکھا بعض اوقات سچ نہيں ہوتا۔ میں جانتی ہوں یہ سب جھوٹ ہے۔۔ لیکن مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ آپ مجھے کچھ بتاتے نہيں ہیں۔۔!!!!“

”اوکے۔۔ اس بات کیلیے میں معافی مانگتا ہوں۔ آٸندہ سے ہر بات تم سے شیٸر کیا کرونگا۔۔ اگر تم ناراض نا ہوٸی تو۔۔ ویسے تم ہر وقت مجھ سے خفا ہی رہتی ہو۔۔“
روحان نے اسکے چہرے پر آٸی لٹ کو انگلیوں کی مدد سے کان کے پیچھے کیا تھا۔

”میں کب ناراض ہوتی ہوں۔۔ آپ منہ پھلا کر رکھتے ہیں ہر وقت۔۔ اور تو اور مجھ سے لڑاٸی بھی کرتے ہیں۔۔ مجھے گھر میں قید کرکے رکھتے ہیں۔۔ یہ سب آج میں نے بی جان کو بتایا ہے۔۔“
حانم نے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوٸے کہا تھا۔ روحان کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا۔

”تم نے بی جان سے میری شکایت کی؟؟“
وہ گہرے صدمے میں تھا۔

”جی ہاں۔۔“
حانم نے اقرار کیا تھا۔

”کیا واقعی حانم۔۔ سچ میں تم نے میری شکایت کی؟؟“
اسکے اس طرح بار بار پوچھنے پر حانم نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔ روحان کا منہ دیکھ کر اسے ہنسی آٸی تھی جسے ضبط نہيں کر پاٸی تھ اور قہقہہ لگا کر ہنس دی تھی۔
اسکے اس طرح ہنسنے پر روحان کو اسکی شرارت سمجھ میں آٸی تھی۔

”تم بہت تیز ہوگٸی ہو لندن آکر۔۔“
وہ اسے ہنستا دیکھ کر مطمئن ہوگیا تھا۔

”ہونا پڑتا ہے۔۔ آپکی پنکھیاں ہی اتنی ہیں۔ بی جان نے مجھے ہوشیار رہنے کو کہا تھا۔“
حانم نے سچ اگلا۔

”کیا۔۔؟؟ بی جان نے تمہارے یہ سکھایا ہے؟؟“
روحان کو ایک اور جھٹکا لگا تھا۔

”مجھے یقين نہيں ہو رہا کہ میری ماں اور میری بیوی۔۔ دونوں میرے خلاف سازش کر رہی ہیں__!!“

حانم اسکے اس طرح کہنے پر ایک بار پھر ہنس دی تھی۔
روحان سرشار ہوگیا تھا یہ جان کر کہ وہ اس پر اعتبار کرتی تھی۔
اور اس نے دل میں عہد کیا تھا کہ وہ اپنی الجھنوں کو حانم سے ضرور ڈسکس کیا کرے گا۔ آخر کو وہ اسکی بیوہ تھی اور اس رشتے کے ناطے اسکا حق تھا کہ وہ حانم کو اپنی ذاتی زندگی میں اتنی اہمیت دیتا۔

”قسم سے حانم۔۔ تم بہت بڑی۔۔

”میں بہت بڑی فلم ہوں۔۔یہی کہنا چاہتے ہیں نا آپ؟؟“
حانم کی ہنسی کو بریک لگی تھی۔ وہ اب پھر سے روحان کو گھور رہی تھی۔

”نن۔۔نہيں میرا یہ مطلب نہیں تھا۔“
روحان گڑبڑا گیا تھا۔

”سب جانتی ہوں میں۔۔ یہ بھی بی جان کو بتاٶں گی کہ انکا بیٹا مجھے ڈرامہ کوٸین اور فلم کہتا ہے اور کبھی کبھی تو پرانی سی ڈی اور VCR سے تشبیہہ دیتا ہے۔۔“
وہ کمال سنجيدگی سے کہتے ہوٸے کمرے سے باہر نکل گٸی تھی۔
جبکہ اسکی باتوں سے یوں اپنے مطلب کے معنی نکالنے پر روحان اپنا سر پیٹ کر رہ گیا تھا۔

_____________________________

شہر میں ایک بےچینی سی پھیل گٸی تھی۔ لوگ کشمکش کا شکار تھے۔ کچھ روحان جبیل کے ساتھ تھے تو کچھ اسکے خلاف ہوچکے تھے۔
شدت پسند لوگ سڑکوں پر نکل آٸے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ روحان جبیل کو سزا دی جاٸے اور اسے لندن سے نکالا جاٸے۔

لوگوں کو اسکے گھر کا نہيں پتا تھا۔ سب النور کے باہر جمع تھے۔ روحان کو حیرت ہورہی تھی کہ یہ نوجوان جو شاید اسے جانتے بھی نہيں تھے وہ اسکے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ کون تھے یہ لوگ؟؟
شہر میں امن کی خراب صورتحال کا ذمہدار اسے ٹھہرایا جا رہا تھا۔
وہ ساری رات سو نہيں پایا تھا۔

صبح ہوٸی تو ایلف اسکے گھر آگٸی تھی۔

”میں رات کو ہی لندن پہنچ گٸی تھی۔ پھر پہلے تمہارے پاس آنے لگی تھی پھر سوچا اب تمہاری واٸف بھی تمہارے ساتھ ہے اس لیے نہيں آٸی۔۔“
وہ مسکراٸی تھی۔

”کوٸی بات نہيں۔۔“
روحان نے اسے لاٶنج میں بٹھایا تھا۔

”آپ بیٹھیں میں چاٸے بنا کر لاتا ہوں۔۔“

”حانم کدھر ہے؟؟“
ایلف نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا تھا۔

”وہ سوٸی ہوٸی ہے۔ ملازمہ ابھی آٸی نہيں شاید اسے بھی مجھ سے ڈر لگ رہا ہوگا۔۔“
اپنی بات سے وہ محفوظ ہوا تھا۔

”پھر تو مجھے بھی ڈرنا چاہیے۔۔ ہے نا؟؟“

”یقيناً۔۔“
وہ مسکرا کر کہتا کچن کی طرف بڑھ گیا تھا۔ اسکے اتنے پرسکون ہونے پر ایلف حیران تھی۔ اور کوٸی انسان ہوتا تو شاید ڈپریشن کا شکار ہوجاتا۔۔ لیکن وہ پرسکون اور مطمئن تھا۔

دس منٹ بعد وہ چاٸے لے کر واپس آگیا تھا۔

”میں نے رات اپنے کچھ فرینڈز کو بلایا تھا وہ ہیکنگ کی دنیا سے واقف ہیں__ تمہارے اکاٶنٹ میں پیسے کہاں سے ٹراسفر ہوٸے ہم نے اسکا پتہ لگا لیا ہے۔۔“
ایلف نے گویا دھماکہ کیا تھا۔
روحان تو ابھی بارے میں سوچ ہی رہا تھا اور وہ اسکا آدھا کام آسان کر چکی تھی۔

”میں نے باقی کی تفصيل نہیں نکالی۔۔ ہوسکتا ہے تمہارا کوٸی جاننے والا ہو۔۔ تم خود چیک کرلینا۔۔“
ایلف نے لیپ ٹاپ اسکے سامنے کیا تھا۔

”بہت بہت۔۔ شکریہ آپ نے میرا کام آسان کردیا ہے۔۔“
وہ مسکرایا تھا۔

”مجھے لگتا ہے ان لوگوں کی تم پر بہت گہری نظر ہے۔۔ شاید سالوں سے۔۔“
ایلف نے اپنا خیال ظاہر کیا تھا۔

”آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ سالوں پہلے میرے ساتھ کچھ ایسی سرگرمياں ہوٸی تھیں۔ میرے اکاٶنٹس کو ہیک کیا گیا تھا___ اور ابھی بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے۔۔“
سکرین پر نظریں جماٸے وہ بتا رہا تھا۔
ایلف نے گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ وہ اچھا لگ رہا تھا___ پھر کچھ یاد آنے پر وہ نظروں کا زاویہ بدل چکی تھی۔
البتہ دل میں ایک ہول اٹھا تھا۔

اسی دوران ایلف کی نظریں سیڑھیاں اترتے نفوس پر پڑی تھی۔
وہ حیران رہ گٸی تھی۔ اور حیران تو حانم بھی ہوٸی تھی ایلف کو دیکھ کر۔۔

گرم ٹراٶزر پر گھٹنے تک آتی گرم شرٹ پہنے اور اس پر کیپ شال لیۓ___ سر کو اونی ٹوپی سے ڈھانپے وہ حانم تھی۔۔ ام حانم۔۔ ایلف اسے پہچان گٸی تھی۔
لیکن اسے یقين نہيں آرہا تھا__ اسے لگتا تھا کہ روحان کی پسند کوٸی بہت ہی رعب دار لڑکی ہوگی___ جسکے چہرے پر سنجيدگی چھاٸی ہوگی___ لیکن یہ کیا؟؟ وہ تو بالکل لڑکی سی تھی۔
اسکے ذہن میں پاکستانی لڑکيوں کو جانے کیا خاکہ بنا ہوا تھا۔۔ لیکن اس وقت حانم اسے نین نقش کے علاوہ کہیں سے بھی پاکستانی نہيں لگی تھی۔

”حانم تم اٹھ گٸی ہو۔۔ شکر ہے۔۔ آٶ ایلف سے ملو۔۔“
روحان نے بھی اسے دیکھ لیا تھا۔
وہ سیڑھیاں اترتی انکی طرف بڑھی تھی۔

”گڈ مارننگ۔۔“
ایلف مسکراٸی تھی۔

”گڈ مارننگ۔۔“ حانم نے خوشدلی سے جواب دیا تھا۔

”یہ تو بہت خوبصورت ہے۔۔“
حانم نے دل میں اعتراف کیا تھا۔

”میری سب سے بڑی خواہش بن چکی تھی کہ میں ام حانم سے ملوں۔۔ اور آج یہ پوری ہوگٸی ہے۔۔ ویسے میں ایلف ہوں۔۔ آرجے کی کلاس میٹ۔۔“
ایلف نے دھماکہ کرتے ہوٸے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا جسے حانم نے تھام لیا تھا۔

”میں نے بھی اکثر روحان سے آپکا ذکر سنا ہے۔۔ آپ بہت اچھی ہیں۔۔“
وہ دونوں اب بیٹھ چکی تھیں۔

”اور آپ خوش نصیب ہیں۔۔“
ایلف کے منہ سے نکلا تھا۔ حانم نے چونک کر اسے دیکھا تھا جسکی آنکهوں میں عجیب سا تاثر تھا۔

”جی۔۔ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔“
حانم کے اس طرح مان جانے پر روحان چونکا تھا۔
مزید کچھ دیر بیٹھنے کے بعد ایلف چلی گٸی تھی۔۔ یا شاید ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر اس سے مزید وہاں بیٹھا نہيں گیا تھا۔
حانم نے اسے ناشتے کیلیے روکا تھا لیکن وہ نہيں رکی تھی___ اور کہیں نا کہیں حانم اسکی کیفیت سمجھ سکتی تھی۔

___________________________

یہ ایک پرانا سا علاقہ تھا۔ جہاں موجود عمارتيں کافی بوسیدہ ہوچکی تھیں۔ یقيناً یہاں پر بہت ہی غریب یعنی کے تھرڈ کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے تھے۔
روحان نے سر اٹھا کر اپنی کٸی منزلہ عمارت کو دیکھا تھا۔
اور پھر ہڈی سے سر ڈھانپ کر عمارت کی طرف بڑھ گیا تھا۔ اسکی آنکهوں پر سیاہ چشمہ تھا۔

لفٹ خراب تھی۔ سیڑھیاں چڑھنے کے بعد وہ اپنی مطلوبہ فلیٹ تک پہنچ چکا تھا۔
ایک گہری سانس لے کر روحان نے بیل بجاٸی تھی۔

جس اکاؤنٹ سے اسے پیسے ٹرانسفر ہوٸے تھے۔ اس اکاؤنٹ کی ڈیٹیل نکال چکا تھا وہ___ جس انداز میں اسے پھنسایا گیا تھا وہ بھی اسی انداز میں ان تک پہنچا تھا___
یہ اس لڑکی کا گھر تھا جسکے اکاؤنٹ سے پیسے ٹرانسفر ہوٸے تھے۔ وہ کوٸی مس روزی تھی۔

پانچ منٹ کھڑا رہنے کے بعد بھی دروازہ نہيں کھلا تھا۔
روحان نے دوبارہ بیل بجاٸی تھی۔
اب کی بار دروازہ کھلا تھا۔ اور اپنی سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر وہ ساکت رہ گیا تھا۔

”شالنی۔۔“
وہ بڑبڑایا تھا۔ وہ اسے پہلی نظر میں ہی پہچان گیا تھا۔
اور شالنی کی حالت خراب ہوچکی تھی۔ وہ روحان کو دیکھ کر گنگ رہ گٸی تھی۔ اس نے کبھی خواب میں بھی نہيں سوچا تھا کہ وہ ان تک پہنچ جاٸے گا۔
اس نے ایک جھٹکے سے دروازہ بند کرنا چاہا تھا۔
اس نے آگے بڑھ کر دروازہ پکڑا تھا۔

”مس شالنی۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔؟؟“
روحان کا لہجہ تیکھا تھا۔ شالنی کی آنکهيں خوف سے پھیل گٸی تھیں۔

اس نے دروازے کو چھوڑ کر اپنے دایاں ہاتھ منہ کی طرف بڑھایا تھا۔
روحان کی نظر پڑ چکی تھی۔ اس نے ایک انگوٹھی پہنی ہوٸی تھی۔ جس میں جڑا نگینہ یقيناً زہریلہ تھا۔
روحان نے دھکا دیا تھا۔ شالنی لڑکھڑاٸی تھی۔
اس سے پہلے وہ دوبارہ ایسی حرکت کرتی وہ اسکا ہاتھ پکڑ چکا تھا۔اور اس پوری قوت لگا کر وہ انگوٹھی نکال لی تھی۔

”چھوڑو مجھے۔۔ تم یہاں کیا لینے آٸے ہو۔۔؟؟“
وہ دھاڑی تھی۔

”آج اتنے سالوں بعد آخر تم سے ملاقات ہو ہی گٸی ہے۔۔ تم تو میری بڑی پکی مداح نکلی۔۔ آٹھ نو سال ہوگٸے ابھی تک میرا پیچھا نہيں چھوڑا۔۔“
روحان نے اسے ایک جھٹکا دیا تھا۔ وہ پیچھے صوفے پر گر گٸی تھی۔

”جان لینے کی غلطی مت کرنا۔۔ تم ابھی آرجے کے رحم و کرم پر ہو۔۔ مس شالنی۔۔ اور تم آرجے کو اچھے سے جانتی ہو۔۔ بہتر ہوگا تم خود ہی سب سچ بتا دو۔۔“
روحان نے سفاک لہجے میں کہا تھا۔ شالنی کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوٸی تھی۔

___________________________

چلو پھر لوٹ جائیں ہم
جہاں پر کچھ نہیں بدلا
نہ ماہ و سال بدلے ہیں
نہ ماضی حال بدلے ہیں

وہاں ہم لوٹ جائیں پھر
جہاں معلوم ہو ہم کو
نہیں کچھ اور ہے بدلا
فقط ہم تم ہی بدلے ہیں

وہی مٹی ، وہی خوشبو
وہی سوندھی فضائیں ہیں
وہی گلزار منظر ہیں
وہی من چاہی راہیں ہیں

وہی بچپن ، وہی بوڑھے
وہی سب ہیں جواں قصّے
مگر اب میں نہیں ہوں وہ
مگر اب تم نہیں ہو وہ

وہی بادل وہی بارش
وہی کشتی ہے کاغذ کی
وہی دھوپیں، وہی سائے
وہی دن رات من بھائے

وہی رونق، وہی خوشیاں
وہی جینے کی چاہت ہے
مگر بے کار ہے سب کچھ
کہ اب ہم تم نہیں ہیں وہ

سبھی کچھ پھر خیالوں میں
یہاں کیوں جی رہا ہوں میں
جو گھاؤ بھر چکا کب کا
یونہی پھر سی رہا ہوں میں

سبھی کچھ وہ پرانا ہے
سبھی کچھ پھر سہانا ہے
اگر کچھ ہے نیا تو بس
یہاں پر اب نہیں ہم تم

گیا وہ لوٹ آئے پھر
یہاں ایسا نہیں ہوتا
یہ رستہ ایک طرفہ ہے
کوئی واپس نہیں ہوتا

مگر کب کوئی سمجھا ہے
مگر کب کوئی مانا ہے
سبھی مڑ مڑ کے تکتے ہیں
گئے وقتوں پہ مرتے ہیں

چلو پھر لوٹ جائیں ہم
جہاں پر کچھ نہیں بدلا
نہ ماہ و سال بدلے ہیں
نہ ماضی حال بدلے ہیں

ماہی خاموشی سے اپنا بیگ پیک کر رہی تھی۔ آج اسے واپس جانا تھا پاکستان۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کیلیے__ جو حشام باہر بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا وہ اس سے محبت کرتا تھا___ لیکن جس حشام سے اس نے محبت کی تھی وہ اسے بہت بڑی آزمائش میں ڈال گیا تھا۔
باہر انتظار کرتا حشام جانتا تھا کہ وہ اس سے شاید کبھی بھی محبت نہيں کر پاٸے گی۔ لیکن وہ اسے پھر بھی لینے آیا تھا___ کیونکہ وہ اسے چاہتا تھا___ اور محبت میں صرف دیا جاتا ہے۔ واپس نہيں لیا جاتا__

”میں تمہيں بہت یاد کرونگی ماہی۔۔ لیکن میں خوش ہوں تم نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے۔۔“
ایلا نے اسے گلے لگایا تھا۔

”میں حشام کی خواہش کیسے نہيں پوری کرتی؟؟ اس نے پہلی اور آخری بار کچھ مانگا تھا___ میں کیسے انکار کردوں؟؟“
وہ رودی تھی۔

”ہم سب بہت خوش ہیں ماہی۔۔ اور مجھے یقين ہے تم بھی بہت خوش اور پرسکون رہو گی___ حشام تمہيں بہت خوش رکھے گا__“
ایلا نے یقين دلایا تھا ماہی صرف اثبات میں سر ہلا کر رہ گٸی تھی۔

_________________________

شالنی کا تعلق ایک خفیہ تنظيم سے تھا جسکا نام اینٹی اسلامک لیگ تھا__ اس تنظيم کا کام اسلام کے خلاف کام کرنا تھا___ یہ تنظيم مسلمانوں میں انتشار پھیلاتی تھی۔
شک و شبہات والے سوال نکال کر نوجوان نسل کی برین واشنگ کرکے انہيں ملحد بنانا تھا___

اس تنظیم کا سربراہ کون تھا یہ کوٸی بھی نہيں جانتا تھا۔۔ البتہ شالنی جس شخص کیلیے کام کرتی تھی وہ ایک ہندو ہی تھا__ تنظیم میں بہت سے دوسرے مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے۔
جنکا راج سوشل میڈیا تک تھا۔

سالوں پہلے شالنی کی نظر آرجے پر پڑی تھی۔ جو ایک ملحد تھا اور اسے لگتا تھا کہ وہ لوگ بہتر طریقے سے اسے اسلام کے خلاف استعمال کر سکتے تھے۔
لیکن آرجے نے شالنی کو نظر انداز کیا تھا۔۔ پھر جینی مارٹر کو بھیجا گیا تھا___ اسے اغوا کرکے مارنے کی دھمکی دی گٸی تھی__
لیکن اس رات وہ کامياب نہيں ہو سکی تھی۔ حشام کی دعاٶں نے اسے بچا لیا تھا۔ جینی کو انہوں نے نشہ آور ادویات کا عادی بنا دیا تھا__ اور اسے زندگی میں اتنا الجھا دیا تھا کہ اس نے خودکشی کرلی تھی___

شالنی نے روتے روتے سب بتایا تھا۔ روحان کو سب جان کر افسوس ہوا تھا۔

”اگر تم ایسے ظالم لوگوں کا پردہ فاش کرنے میں میری مدد کرو میں تمہاری مدد کرونگا___ میں تمہيں ان ظالموں کے چنگل سے نکال سکتا ہوں۔۔“
روحان نے تسلی دی تھی۔

شالنی اور اس جیسی کٸی لڑکياں جو روزی کی تلاش میں نکلتی ہیں اور پھر غلط لوگوں کے ہاتھ لگ جاتی ہیں___

”میں تمہاری کوٸی مدد نہيں کر سکتی۔۔“

”یہ تو مجھے پتا چل ہی چکا ہے وہ پیسہ تمہارے اکاؤنٹ سے ٹرانسفر ہوا ہے__ میں عدالت میں پیش کرونگا۔ تم ماری جاٶ گی___ اس سے بہتر ہے تم میرا ساتھ دو__!!“

”اب تک ان لوگوں کو خبر مل چکی ہوگی کہ کوٸی مجھ سے ملنے آیا ہے۔۔ اور وہ سارے ثبوت مٹا دینگے۔۔“
شالنی ٹھیک کہہ رہی تھی۔

”تم بس میری بےگناہی ثابت کرنے میں مدد کرو۔۔ ایسے لوگوں کے خلاف میں بعد میں جنگ لڑونگا۔۔“
اسکی بات سن کر شالنی سوچ میں پڑ گٸی تھی۔

_________________________

آج روحان نے کورٹ میں پیش ہونا تھا۔ ایک ہفتے کا وقت ملا تھا اسے۔۔ ڈاکٹر باسط بھی لندن آچکے تھے۔
اس پر کیس داٸر کرنے والے وکیل نے پہلے اپنے ثبوت پیش کیۓ تھے۔
سبیل بھی پوری طرح سے تیار تھا۔

عدالت لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوٸی تھی۔

سامنے ایک قطار میں ایمی، ایلف اور حانم بیٹھی تھیں۔

اور اس تنظیم کے خفیہ لوگ بھی یقيناً وہاں موجود تھے۔
دو گھٹنے بعد وہ لوگ عدالت سے باہر نکلے تھے۔۔ اور پہلی ہی پیشگی پر روحان جبیل کو باعزت بری کر دیا گیا تھا۔

شالنی نے سچ اگلا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ وہ زیادہ نہيں جانتی لیکن اس نے اپنی کہانی بتائی تھی__ اسے استعمال کیا گیا تھا___ شالنی کو گواہ کے طور پر دیکھ کر عدالت میں ایک کھلبلی سی مچ گٸی تھی___

یقيناً تنظيم کے لوگ چوکنے ہوگٸے تھے۔
روحان نے شالنی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے حفاظت سے جہاں وہ چاہے وہاں پہنچا دے گا__ لیکن شاید شالنی جانتی تھی وہ دنیا کے دوسرے کونے پر بھی چلی جاتی تو اسے ڈھونڈ لیا جانا تھا___

اسے النور پہنچا دیا گیا تھا۔
لیکن رات کے وقت اس نے ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی تھی۔

یہ خبر بہت بری تھی۔ شالنی کے دیے گٸے بیانات سے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر کھلبلی سی مچ گٸی تھی۔
جو لوگ روحان کو غلط سمجھ رہے تھے وہ اب خاموش تھے۔

”تم جیت گٸے روحان جبیل__ بہت بہت مبارکباد“
ایلف نے میسج کیا تھا۔

”ابھی تو جنگ شروع ہوٸی ہے، ابھی تو میں نے شروعات کی ہے__ ابھی ہار جیت کا فیصلہ نہيں ہوا__ لیکن بہت بہت شکریہ آپ نے اتنی مدد کی میری___!!“
وہ مسکرادیا تھا۔

”تمہاری بےگناہی نے ثابت کردیا کہ گورے آج بھی اسلام سے ڈرتے ہیں۔۔“
سبیل نے اسکا کندھا تپھتھپایا تھا۔

”لندن میں ایک بار پھر سے ایک نٸی جنگ چھڑ گٸی ہے، لوگ اسلام کے اتنے خلاف کیوں ہیں__؟؟ کیوں اتنا خوف کھاتے ہیں اس سے؟؟ اور جو لوگ اس مذہب کو خاطر میں نہیں لاتے وہ بھی آج سوچ میں پڑگٸے ہیں کہ آخر اس مذہب میں ایسا کیا ہے جسے ختم کرنے کیلیے خفیہ تنظيميں بنائی جاتی ہیں___!!“
یہ بات کرتے ہوٸے روحان کو ایمی کافی سمجھدار لگی تھی۔

”جس جنگ کی تم نے شروعات کی ہے، یقيناً بہت مشکل ہے___ قربانیاں دینی پڑیں گی___ لیکن ایک وقت آٸے گا جب سچ کھل کر سامنے آجاٸے گا___ رات کا اندھیرا کبھی اجالے کو نگل نہيں سکتا__تم فاتح ٹھہرو گے__ جیتے رہو میرے بچے___!!“
ڈاکٹر باسط نے اسے گلے لگایا تھا۔

اس طوفان نے جو روحان کی زندگی میں آکر گزر گیا تھا اسے مزید مضبوط بنا دیا تھا__ اسکے ارادے چٹان کی مانند پختہ ہوچکے تھے۔

”سالوں پہلے میں نے بس ایک خواہش کی تھی___ ایک چھوٹی سی خواہش___ میں نے کبھی سوچا بھی نہيں تھا کہ وہ پوری ہوجاٸے گی___ آج میں نے لندن کے ہر چینل پر روحان جبیل کا نام سنا تو احساس ہوا___ واقعی میں سکالر کی بیوی ہوں جسے دین کی خدمت کرتے دیکھ کر لوگ سازشیں کر رہے ہیں___ انسان کے خلاف ہونے والی سازشیں ہی انسان کے Level کا پتہ دیتی ہیں___ اسے ہی مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے جسکا کوٸی وجود ہوتا ہے__ بہت بہت مبارکباد مسٹر روحان جبیل آج آپ اپنا ایک وجود بنا چکے ہیں___ اس وجود سے ٹکرانے سے پہلے لوگ سینکڑوں دفعہ سوچیں گے__!!“
حانم نے مسکرا کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔

”بہت بہت شکریہ مسز روحان جبیل۔۔“
اسے خوش دیکھ کر روحان جبیل مسکرا دیا تھا۔
____________________________

ماہی اور حشام کا سادگی سے نکاح کردیا گیا تھا۔
حانم اور روحان آنا چاہتے تھے لیکن اس نٸے واقعے نے النور پر منفی اثرات چھوڑے تھے جنہيں مٹانے کی روحان کوشش کر رہا تھا___ اسی وجہ وہ دونوں نہيں آ پاٸے تھے لیکن وہ بہت خوش تھے۔

اس موقع پر حشام جبیل کو یاد کرکے سب کی آنکهيں نم ہوٸی تھیں۔ وہ سب کو ملا کر سب میں خوشیاں بانٹ کر جا چکا تھا__ شاید کچھ لوگ صرف دوسروں کو ملانے کی غرض سے دنیا میں آتے ہیں___

ماہی کا نازک سا دل بہت تڑپا تھا لیکن وہ اپنی محبت کی خواہش بھی پوری کرنا چاہتی تھی۔

حمدان صاحب کے دل سے ایک بوجھ سے اتر گیا تھا۔ بالآخر انکی بیٹی بھی عملی زندگی میں داخل ہوچکی تھی___

اسے یاد کرکے سب روٸے تھے۔ اور پھر دونوں کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھ کر سب کے چہرے پر چمک ابھری تھی___
وہ بالکل حشام جیسا ہی لگ رہا تھا___ بہت خوش نظر آرہا تھا۔

حشام نے ایک نظر اپنے پہلو میں گردن جھکاٸے بیٹھی ماہین کو دیکھا تھا۔۔ یقيناً وہ آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

”مس ماہین حمدان___ میں آج اور ابھی آپ سےکچھ مانگنا چاہتا ہوں__ وہ بھی سب کے سامنے___“
سب اسکی بات پر متوجہ ہوٸے تھے۔
ماہی کی نم آنکهوں میں الجھن تھی۔

”‏ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﺬﺑﮯ
ﺗﻤﺎﻡ ﻭﻋﺪﮮ
ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ
ﺳﺒﮭﯽ ﺍﺭﺍﺩﮮ
ﮨﺮ ﺍﮎ ﺗﻤﻨﺎ
ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﮨﺶ
ﺧﻮﺍﺏ ﺍپنے
ﺧﻤﺎﺭ ﺳﺎﺭﮮ
ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺼﺎﺏ ﺳﺎﺭﮮ
ﺟﻮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭﮞ
ﺗﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮩﮧ ﺩﻭ
ﻭﻓﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ___؟؟“

وہ گھمبیر لہجے میں گنگایا تھا___ ماہی حیرت سے اسکے چہرے کو تک رہی تھی۔

”وفا کرو گے___؟؟“
وہ اس سے محبت نہيں وفا مانگ رہا تھا۔

”ہاں۔۔“
ماہی نے ناچاہتے ہوٸے بھی اثبات میں سر ہلا دیا تھا__
گھر کے سارے افراد مسکرادیے تھے۔
جواد نے ہوٹنگ کی تھی۔

”ہاں وفا کرونگی۔۔“
اور یہ پورا پیرس جانتا تھا___ ماہین حمدان ایک وفادار لڑکی تھی۔
حشام جبیل مسکرادیا تھا۔ اسکی آنکهوں کی چمک مزید بڑھ گٸی تھی۔

________________________

”ارے ماہین بیٹا یہ دیکھو___ تمہارے لیۓ ایک پارسل آیا ہے__!!“
بی جان نے پکارہ تھا۔

بی جان کی آواز پر ماہی لاٶنج میں آٸی تھی۔
یہ لندن سے آیا تھا__ حانم نے کچھ بھیجا تھا۔

”بی جان یہ آپکی دوسری بہو یعنی ہانی نے بھیجا ہے۔۔“
ماہی مسکراتے ہوٸے کہا تھا۔

”یہ پروقار حویلی اس پروقار لڑکی کے نام___ جو اس میں رہتی ہے___ اور اسکے قابل ہے__
روایت کے مطابق بھی اس پر حویلی پر تمہارا حق ہے ماہی کیونکہ گدی کو حشام بھاٸی نے سنبھالا ہوا ہے___ شادی بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ پاک جوڑی سلامت رکھے۔!!“
کارڈ پڑھ کر ماہی مسکرادی تھی۔
اندر سے ایک فاٸل نکلی تھی۔
حانم نے سید حویلی ماہی کے نام کردی تھی۔
جسکی ماہی کو ضرورت تو نہيں تھی لیکن اتنے قیمتی تحفے پر وہ مسکرادی تھی حانم کیلیے اسکے دل میں محبت مزید بڑھ گٸی تھی۔___!!

________________________

”مبارک ہو محترمہ تمہارا کپل سیلیکٹ ہوچکا ہے۔۔“
ماہم کا فون تھا۔
حانم گھر کے باہر لگے پودوں کو پانی دے رہی تھی۔ملازمہ اسکے ساتھ ہی تھی۔

”کیا مطلب میں سمجھی نہيں؟؟؟“
حانم کے چہرے پر الجھن پھیلی۔

”مطلب یہ کہ لندن میں بیسٹ کپل اور آف دی ایٸر کا ایک بہت بڑا شو شروع ہوا ہے۔۔ جو ایک گیم کی طرح ہے۔۔ بیسٹ کپل کو ایوارڈ دیا جاٸے گا__ اور میں نے اس گیم کیلیے تمہارے اور روحان بھاٸی کا تعارف دے دیا تھا___ اور اب تم لوگوں کو سیلیکٹ کرلیا گیا ہے۔۔ کچھ دیر تک لیٹر مل جاٸے گا دیکھ لینا۔۔“

”کیا؟؟ تم پاگل ہوگٸی ہو ماہم۔۔؟؟“

”نہيں تو۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔ میں اپنا اور حارث نام دے دیتی لیکن شرط یہ کہ وہ جوڑا لندن میں ہی رہتا ہو__
اتنے لوگوں میں سے صرف نو جوڑے چنے گٸے ہیں۔۔ ان میں سے ایک تم لوگوں کا ہے__ تمہیں تو خوش ہونا چاہیۓ___!!“

”لیکن مجھ سے پوچھ تو لیتی۔۔“
حانم کو کوفت ہو رہی تھی۔

”مقررہ وقت ختم ہونے والا تھا__ اس لیۓ میں نے تم دونوں کا تعارف دے دیا ہے۔۔ باقی معلومات وہ خود نکلوا لیتے ہیں__ اور پھر انہوں نے چن لیا__ ایک یا دو راٶنڈ ہونگے___ تم فکر مت کرو۔۔ بس یہ ایوارڈ جیت لینا___!!“
ماہم اپنی دھن میں بول رہی تھی جبکہ حانم سر پیٹ کر رہ گٸی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: