Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 6

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 6

–**–**–

آرجے لڑکے کو بری طرح پیٹ رہا تھا اسکے اختيار میں ہوتا تو وہ اس لڑکے کو جان سے مار دیتا۔
دیکھنے میں وہ دبلا پتلا سا تھا ابھی لیکن اپنی جسامت کے لحاظ سے وہ کافی طاقتور تھا۔

”بڑے ساٸیں جلدی چلیں وہ باہر میدان میں چھوٹے ساٸیں۔۔
حویلی کا ملازم بھاگا بھاگا حشام کے پاس آیا تھا۔

”کیا ہوا آرجے کو۔۔؟“
چھوٹے ساٸیں کے نام پر حشام کے کان کھڑے ہوئے وہ ایک جھٹکے سے اٹھا۔

”وہ جی باہر ساٸیں ایک لڑکے کو مار رہے ہیں۔۔!!
ملازم پھولی سانسوں ساتھ مشکل سے بولا تھا۔
اور حشام اسکی بات پوری ہونے سے پہلے باہر کی طرف بھاگا تھا۔

کچھ ہی پل میں وہ میدان میں پہنچ گیا تھا۔
وہ لڑکا نیچے پڑا تھا جبکہ آرجے اسکے منہ پر گھونسے مار رہا تھا۔

”آرجے پاگل ہوگٸے ہو۔۔ چھوڑو اسے۔۔!!
حشام نے اسے پکڑ کر لڑکے سے دور کیا جسکے منہ سے اب خون نکل رہا تھا۔

آرجے کی گرفت سے نکلنے کے بعد لڑکا درد سے کراہ رہا تھا ملازم اسے اٹھانے کے بعد وہاں سے نکل گیا تھا۔

”تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے تم پاگل ہوگٸے ہو جاہل انسان۔۔!!
لڑکے کی حالت دیکھ کر حشام کا دماغ گھوما اور اس نے آرجے کو زور سے دھکا دیا تھا۔
جو خونخوار نظروں سے اس طرف دیکھ رہا تھا جہاں ملازم اس لڑکے کو لے کر گیا تھا۔

”کیوں مارا اسے۔۔؟؟“
حشام نے سوال کیا۔ جبکہ آرجے نے اب حویلی کارخ کرلیا تھا۔
”تم سے پوچھ رہا ہوں جواب دو۔۔“
اسکے جواب نا دینے پر حشام چلایا۔

”ریلیکس شامو کاکا بلاوجہ کیوں چیخ رہے ہو۔۔؟؟“
وہ اتنے پرسکون انداز میں بولا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہيں۔
جبکہ حشام دنگ رہ گیا تھا۔

”مجھے واپس جانا ہے۔ دیر ہورہی ہے پیکنگ بھی کرنی ہے آجاٶ چائے پیتے ہیں۔۔ پھر میں چلا جاٶنگا اور تمہيں موقع نہيں ملے گا “
اسکا اپنا ہاتھ بھی زخمی ہوا تھا۔
وہ حشام کو سلگاتا آگے بڑھ گیا تھا جبکہ حشام سر پیٹ کر رہ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حانم صبح صبح کالج کے سٹاف روم میں بیٹھی تھی۔ آج اسکا پہلا دن تھا۔ وہ بری طرح سے گھبرا رہی تھی۔
دل ہی دل میں دعائيں کر رہی تھی کہ اسکا پہلا تجربہ کامياب رہے۔

”مس حانم آجاٸیں آپکو آپکی کلاس دکھاٶں۔۔!!
کالج کی کوآرڈینیٹر نے اسے پکارا وہ سنبهلتی اسکے پیچھے لپکی۔

”یہ ایف ایس سی پارٹ ٹو کی کلاس ہے۔۔ آج سے آپ انہيں کمیسٹری پڑھاٸیں گی۔۔“

وہ دونوں کلاس میں داخل ہوٸیں۔ کلاس میں ایک طرف لڑکياں جبکہ دوسری جانب لڑکے بیٹھے تھے۔
وہ خود ابھی چھوٹی تھی سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ لڑکوں کو کیسے کنٹرول کرے گی۔

”سٹوڈینٹس یہ آپ کی کمیسٹری کی نئی میم ہیں۔۔ اچھے سے خوش آمدید کرو انہيں !!
کوآرڈینیٹر سمعیہ نے اسکا کلاس سے تعارف کروایا۔
انہيں نے کمیسٹری میں ماسٹر کیا ہوا ہے!!
کورآڈینیٹر کی اس بات پر وہ بری طرح چونکی۔
اس نے جھوٹ بولا تھا وہ خود ابھی طالب علم تھی۔ وہ پوچھنا چاہتی کہ اسکا غلط تعارف کیوں کروایا گیا لیکن اسے موقع ہی نہيں ملا اس سے پہلے وہ پوچھتی سمعیہ کلاس سے جا چکی تھی۔

کلاس میں موجود طلبہ و طالبات اسے غور سے دیکھ رہے تھے۔
وہ اتنی خود اعتماد نہيں تھی۔ اور پھر یہ موقع بھی پہلا تھا۔ وہ کافی گبھرا رہی تھی۔

”میم آپکا نام کیا ہے؟؟“
ایک لڑکی نے پوچھا تھا۔

”اُم حَانَم۔۔!!“
وہ اپنے آپ کو پر اعتماد بناتے ہوۓ بولی تھی۔

”ناٸس نیم میم۔۔!!
لڑکوں کی طرف سے پہلا کمینٹ آیا تھا۔
اللہ کا نام لے کر اب وہ کلاس کا تعارف شروع کردیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ لڑکا کوٸی نا کوٸی گل کھلائے گا۔۔ یہ اس لاٸق نہيں ہے کہ اسے یہاں بلایا جائے۔۔!!
سید جبیل کافی غصے میں تھے وہ بےچینی سے ڈراٸنگ روم میں ٹہل رہے تھے سامنے بی جان لکڑی کی بڑی سے کرسی پر براجمان تھیں۔

”اگر وہ لڑکا مر جاتا تو۔۔؟؟ کیا جواب دیتا میں گاٶں والوں کو؟؟
یہ سب آپ لوگوں کے لاڈ پیار کا نتیجہ ہے۔۔ !!!
بی جان خاموشی سے انکی باتیں سن رہی تھیں۔

”کوٸی تو وجہ ہوگی نا جو اس نے ایسا کیا۔۔!!
بالآخر بی جان نے پہلی بار کچھ کہا۔

”وجہ جو بھی اسے کس نے یہ حق دیا کہ وہ لوگوں کے سر پھاڑتا پھرے۔۔
اب کیا جواب دوں میں اسکے ماں باپ کو جو پنچاٸت بلانے کا کہہ رہے ہیں۔۔!!

”بابا ساٸیں آپ پریشان نا ہوں میں کرتا ہوں بات ویسے بھی اس لڑکے نے غلط حرکت کی پہلے۔۔!!
حشام نے آگے بڑھ کر انہيں حوصلہ دیا۔

”بیشک اسکی حرکت غلط تھی میں خود نمٹ لیتا یہ کون ہوتا ہے مارنے والا۔۔؟؟
اس سارے واقعے میں مدیحہ خاموش بیٹھی تھی۔

”جاٶ اسے بلاٶ معافی مانگے گا وہ اس لڑکے کے ماں باپ سے۔۔!!
بی جان نے مدیحہ سے آرجے کو بلانے کا کہا۔

”لیکن بی جان وہ تو چلا گیا۔۔!!
مدیحہ نے جواب دیا۔

”دیکھ لیا آپ نے ہمیں لوگوں کے سامنے شرمندہ کر کے خود بھاگ گیا۔ !!

”اچھا ہوا بابا ساٸیں چلا گیا یہاں رہتا تو پھر کچھ غلط کرتا۔۔ آپ آرام کریں میں کرتا ہوں بات ان لوگوں سے۔۔
اگر وہ پنچاٸت کا کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہے سیدوں کی لڑکی پر جملے کسنے کی پاداش میں انکے خاندان کو بھی سزا ملے گی۔۔۔!!
وہ سرد سے لہجے میں کہتا حویلی سے نکل کر درباری حصے کی طرف بڑھ گیا تھا۔

”مسٸلہ یہ ہے کہ قاضی بھی میں ہی ہوں۔اور اسے کسی شاعر کی بات یاد آئی

حیران سبھی کو کرگیا منصف کا فیصلہ….!!!

رند کو سزا نہ مل سکی قاضی نشےمیں تھا۔۔!!

۔۔۔ اگر آپکے لاڈلے کو معافی مانگنی پڑ گٸی نا تو کبھی بھی نہيں مانگے گا اور الٹا مجھے ہی شرمندہ کروائے گا۔۔!!
سید جبیل بی جان سے کہہ رہے تھے اور بی جان کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ آرجے کو کس طرح سدھاریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ خوشی خوشی کلاس سے باہر نکلی تھی۔کلاس کے طالب علم اچھے تھے۔ کچھ ہی دیر میں اسکا اعتماد بحال ہوا تھا اور اب وہ شکر رہی تھی کہ اسکا پہلا دن اچھا گزر گیا تھا۔
کالج سے سیدھا وہ اپنی اکیڈمی آٸی تھی جہاں وہ اب مہرو کے ساتھ کینٹین پر بیٹھی سموسے کھا رہی تھی۔
”کیسا گزرا پہلا دن؟؟“
مہرو نے وہ پوچھا۔

”اچھا تھا۔۔!!

”کسی نے تنگ تو نہيں کیا؟؟

”نہيں ابھی تک تو نہيں۔۔ لیکن میں خود تھک گٸی ہوں اور اب نیند آرہی ہے۔۔!!
حانم کی بات سن کر مہرو کو اس پر ترس آیا تھا۔

”کہا تو تھا سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔۔!!
مہرو کو دکھ ہوا وہ واقعی تھکی ہوٸی نظر آرہی تھی۔

”کچھ نہيں ہوتا مہرو بس دو مہینوں کی بات ہے تم دعا کرو کہ اللہ پاک مجھے ہمت دے کر رکھے۔۔ جانے وہ لوگ کیسے ہوتے ہیں جو دن رات کام بھی کرتے ہیں اور پڑھاٸی میں ٹاپ بھی کر جاتے ہیں۔!!
حانم کو احساس ہوا تھا کہ دو کام ایک ساتھ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

”تمہارے جیسے ہوتے ہیں ہانی۔۔۔ اور تم دیکھنا ایک دن اللہ پاک تمہيں بہت ساری کاميابیوں سے نوازے گا۔۔!!

”آمین ۔۔ آمین!!
حانم اسکی بات پر مسکراٸی۔

”اچھا جلدی کرو اب کلاس شروع ہونے والی ہے ہماری۔۔!!

”بس یہ چائے پی لوں پھر چلتے ہیں کلاس میں۔۔“
حانم نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔
جبکہ مہرو اسے پیار سے دیکھ رہی تھی۔
مہروالنسا ٕ کیلیے ام حانم بہت اہم تھی۔ وہ بچپن سے اسکی دوست تھی۔
مہرو کا تعلق اچھے خاندان سے تھا۔ پیسے کی بھی کمی نہيں تھی۔ وہ چاہتی تو کسی اچھے کالج یا یونيورسٹی میں داخلہ لے سکتی تھی ایف ایس سی کے بعد لیکن اس نے حانم کے ساتھ ایک اکیڈمی میں پڑھنا پسند کیا تھا۔ وہ اسکی سچی اور مخلص دوست تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”یہ شخص میرے میسجز کا جواب کیوں نہيں دے رہا؟؟
ماہی لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی تھی۔
اس نے تین دن پہلے حشام کو میسج کیا تھا لیکن اس نے کوٸی جواب نہيں دیا تھا۔
اسکی سانسیں اٹکی تھیں۔
”ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ماہین حمدان کسی کو میسج کرے وہ شخص اگنور کردے جواب نا دے؟؟“
اسکو دکھ ہو رہا تھا۔
باہر گرتی برف اسے مزید اداس کر رہی تھی۔

”ماہی تم پریشان نا ہو۔۔ شاید اس نے تمہارا میسج نا دیکھا ہو۔۔ شاید وہ مصروف ہو۔۔!!
ایلا نے اسے دن میں حوصلہ دیا تھا۔ لیکن اسکا دل ڈوب رہا تھا۔

”ابھی تک فرینڈ ریکویسٹ بھی Accept نہيں کی۔۔!!
وہ مایوس ہوگٸی تھی شاید۔

”ہوسکتا ہے انہوں نے دیکھا نا ہو۔۔!!
وہ خود کو تسلی دے رہی تھی۔

”مسٹر حشام جبیل بس ایک بار بات کرلیں۔۔!!
ایک اور میسج کرنے کے بعد وہ لیپ ٹاپ بند کرچکی تھی۔ ان دیکھی سی اداسی نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اسکا کالج میں تیسرا دن تھا جب اسے کلاس میں دو نٸے بچے نظر آئے تھے۔ ایک لڑکی اور ایک لڑکا۔
لڑکےکو بچہ تو نہيں کہا جا سکتا تھا۔ وہ آخری بینچ پر بیٹھا تھا۔
حانم کو وہ تھوڑا عجیب لگا تھا۔ گہرے گھنے بال جنہيں جیل لگا کر پیچھے کی طرف چپکایا گیا تھا جو گردن کو چھو رہے تھے۔
اس نے باقی سٹوڈنٹس کی طرح یونیفارم بھی نہيں پہنا تھا۔
لڑکياں بار بار پیچھے مڑ کر اسے دیکھ رہی تھیں۔
جبکہ اسکی نظر کھڑکی سے باہر کھلے آسمان پر جمی تھی۔

حانم کے کلاس میں داخل ہونے پر سب نے سلام کیا تھا۔ جبکہ اس نے ایک نظر حانم کو دیکھنے کے بعد جس میں تھوڑی حیرانی تھی۔ چہرہ دوبارہ کھڑکی کی طرف موڑ لیا تھا۔

”یہ نٸی میم کب آٸی ہیں؟؟
لڑکيوں کی جانب والی قطار میں سب سے آخر میں بیٹھی لڑکی نے اپنے ساتھ والی لڑکی سے پوچھا۔

”ہاں دو دن پہلے۔۔ جب تم اور تمہارا دوست دونوں غیر حاضر تھے۔۔ ویسے تمہاری مام تو پرنسپل ہیں کیا انہيں نے ذکر نہيں کیا؟؟

”نہيں۔۔ مجھے تو کسی نے نہيں بتایا۔۔ ویسے بھی مجھے ان باتوں میں کوٸی دلچسپی نہيں ہے۔۔ ہم یہاں کچھ ماہ کیلیے آئے ہیں ان باتوں سے ہمیں کیالینا دینا۔۔!!
رُشنا نے ایک ادا سے بالوں کو پیچھے کی جانب جھٹکا دیتے ہوۓ کہا۔

”آج کلاس میں دو نٸے چہرے نظر آرہے ہیں کیا آپ لوگ اپنا تعارف کروائيں گے؟؟
حانم نے کلاس میں موجود ان دو سٹوڈنٹس سے کہا۔

”میں رشنا ہوں۔۔ اس کالج کی اونر( مالک) کی بیٹی۔۔!!
وہ بس اتنا ہی بولی تھی اور پھر چہرہ لڑکے ک طرف کیا۔
”اور آپ؟؟
حانم نے لڑکے سے پوچھا۔ جو جانے باہر آسمان میں کیا ڈھونڈ رہا تھا۔

”آپ سے بات کر رہی ہوں۔۔کیا آپکو سنائی نہيں دیا۔۔!!
اس نے مصنوعی غصے سے کہا۔

لڑکے نے اسکے لہجے میں چھپے غصے کو محسوس کرتے ہوئے اسکی جانب دیکھا۔
مہرون ٹخنوں سے ذرا اوپر تک آتی فراک پہنے جس پر سیاہ رنگ کا سویٹر پہن رکھا تھا۔ مہرون ڈوپٹہ لیا وہ لڑکی اسےکہیں سے بھی ٹیچر نہيں لگتی تھی۔
اسکی آنکهوں نے ایک سیکنڈ میں میم کو سکین کرلیا تھا۔ جبکہ حانم اسکے اس طرح دیکھنے پر گڑبڑا گٸی تھی۔
وہ جانے کیوں ایک دم کھڑا ہوا تھا۔ پوری کلاس میں سرگوشیاں پھیل گٸی تھیں۔
حانم نے محسوس کیا تھا کہ وہ کلاس میں سب سے لمبا تھا۔
سردی میں ٹی شرٹ پہنے وہ خاصا پرسکون سا لگ رہا تھا۔

”کیا اسے سردی نہيں لگتی؟؟
حانم نے دل میں سوچا۔

”نام کیا ہے آپکا؟؟
وہ پوچھ رہی تھی۔

جبکہ لڑکا گہری نظروں سےاسے دیکھ رہا تھا۔

“‏آنکھیں دو ہیں ____ مگر “ایک” آتا ہے نظر..”

“آنکھوں ہی سے سیکھ لیجیے،یہ توحیدِ دلبرانہ..”

”روحان جبیل۔۔ سید روحان جبیل!!!
وہ حانم کی آنکهوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا اسکی آواز کافی رعب دار تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: