Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 7

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 7

–**–**–

”روحان جبیل۔۔ سید روحان جبیل!!!
وہ حانم کی آنکهوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا اسکی آواز کافی رعب دار تھی۔

”میم یہ آر ج۔۔“
کلاس میں ایک لڑکی نے کچھ کہنا چاہا تھا جب روحان نے گھور کر اسے دیکھا اسکی زبان کو وہیں بریک لگی تھی۔

”ٹھیک ہے آپ بیٹھ جاٸیں آج کا لیکچر شروع کرتے ہیں۔۔!!
حانم نے سرسری سے انداز میں کہنے بے بعد کتاب اٹھاٸی۔

جبکہ روحان کی سرد نگاہیں اب بھی اسی پر جمی تھیں۔ یہ پہلی دفعہ ہوا تھا کہ اسے کسی نے کھڑے ہونے اور بیٹھنے کا حکم دیا تھا۔
وہ اپنی جگہ کھڑا رہا۔
جب حانم نے اسے ایسے ہی کھڑے دیکھا تو اسکے چہرے پر الجھن ابھری۔

”اور آپکا تعارف مس۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔

”اُم حَانم نام ہے میرا۔۔ اور میرا تعارف اتنا اہم نہيں ہے آپ بیٹھ جاٸیں۔۔!!
وہ مسکراٸی تھی۔
روحان کو تھوڑا سا تعجب ہوا تھا یا وہ اسے واقعی ہی نہيں جانتی تھی یا پھر جان بوجھ کر انجان بن رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”پتا ہے مہرو آج کلاس میں ایک نیا لڑکا آیا ہے۔۔ مطلب ہے تو پرانا ہی لیکن پچھلے دنوں وہ غیر حاضر رہا تھا اس لیے آج ہی ملا۔۔!!

پھر۔۔۔؟؟
مہرو نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

”عجیب انسان ہے ایک تو اتنا بڑا ہو کر ایف ایس سی میں ہی ہے ابھی اور اوپر سے پورے لیکچر وہ باہر دیکھتا رہا۔۔!!

”لڑکے جلدی بڑے ہوجاتے ہیں ہانی۔۔ اور شاید اسکے ساتھ کوٸی مسٸلہ ہو۔۔!!
مہرو کی بات پر حانم نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسانی جسم کو پگھلا دینے والی گرمی پڑ رہی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے آگ برس رہی ہو۔۔ پیاس سے اسکا گلا خشک ہو چکا تھا۔
دور اسے ایک دریا نظر آیا تھا وہ جلتی تپتی زمین پر ننگے پاٶں چلتی اس دریا کی طرف بڑھ رہی تھی۔
پاٶں میں آبلے پڑ گٸے تھے لیکن پیاس کی شدت اسے آگے بڑھنے پر مجبور کر رہی تھی۔
جیسے ہی وہ دریا کے پاس پہنچی تھی۔ ہوا میں گرمی کی شدت مزید بڑھ گٸی تھی۔
دریا پر نظر پڑتے ہی اسکی آنکهيں پھٹی کی پھٹی رہ گٸیں تھیں۔
دریا میں پانی کی جگہ لاوہ بہہ رہا تھا۔
وہ ڈر کر ایک قدم پیچھے ہوٸی تھی جب کسی نے اسے پیچھے سے دھکا دیا تھا اور وہ آگ ابلتے دریا میں جا گری تھی!!!
آگ نے جسم کو جلایا تو وہ چیخ مار کر اٹھ بیٹھی تھی۔
چہرہ پسینے سے تربتر تھا۔ موٹی رضاٸی میں اسکا دم گھٹ رہا تھا۔

”کیا ہوا ہانی تم ٹھیک ہو۔۔؟؟“
چیخ کی آواز سن کر آسیہ بیگم اٹھ گٸی تھی۔

”اماں وو۔۔وہ۔۔
الفاظ اسکے گلے میں دم توڑ گٸے تھے۔

کمرے میں پھیلی زیرو بلب کی روشنی میں اسکے چہرے پر پھیلا خوف اسکی ماں آسانی سے دیکھ سکتی تھی۔

”کیا ہوا کوٸی برا خواب دیکھا کیا؟؟
آسیہ بیگم نے پوچھا۔

”پپ۔۔ پانی۔۔“
خشک ہوتے حلق کے ساتھ وہ مشکل بول پاٸی تھی۔
کچھ سیکنڈز بعد ہی پانی کا گلاس آسیہ بیگم نے اسے پکڑایا تھا جو وہ ایک ہی سانس میں پی گٸ تھی۔

”کتنی بار کہا ہے کہ عشا ٕ کی نماز پڑھ کر سویا کرو۔ کام اور مصروفیت اپنی جگہ لیکن نماز چھوڑنا کہاں کی دانشمندی ہے؟؟“
آسیہ بیگم نے آیت الکرسی پڑھ کر اس پر پھونکنے کے بعد کہا۔
وہ آج کافی تھک گٸ تھی۔ کالج اکیڈمی اور پھر اپنی اساٸمنٹ بنانے کے بعد اس میں ہمت نہيں تھی کہ وہ اٹھ کر عشا ٕ کی نماز پڑھے۔
شیطان نے غلبہ پایا تو وہ بنا نماز پڑھے ہی سوگٸ تھی۔ اب اور اب ڈر کر اٹھی تھی۔

کتنی ہی دیر لگی تھی اسکی تیز چلتی دھڑکن کو نارمل ہونے میں۔
”اللہ مجھے معاف کردیں آٸندہ نہيں چھوڑوں گی نماز۔۔!!
اسکی آنکھ سے آنسو نکل آیا تھا۔ خواب نے بری طرح اسے ڈرا دیا تھا۔
”شیطان نے بہکادیا ہے اور کچھ بھی نہيں۔ سوچو مت اور سوجاٶ۔۔!!
اماں نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا تھا۔
وہ جاگتی رہی تھی۔سردیوں کی راتیں ویسے بھی لمبی ہوتی ہیں پورے ایک گھنٹے بعد اسکی آنکھ لگی تھی۔ وہ نہيں جانتی تھی کہ اس خواب کا اسکی زندگی پر کیا اثر پڑنے والا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے کٸی دنوں سے وہ لڑکی اسے لگارتا میسجز کر رہی تھی۔
حشام اس سے بات نہيں کرنا چاہتا تھا لیکن اسکی منتیں کرنے کی وجہ سے آج وہ اسے جواب دے رہا تھا۔

”جی بولیں۔۔میں آپکی کیا مدد کرسکتا ہوں؟؟“
ٹھہرے ہوئے لہجے میں پوچھا گیا تھا۔
جبکہ ماہی تو خوشی کے مارے بےہوش ہونے والی ہوگٸی تھی۔
کتنی ہی دیر وہ سکرین پر اسکے بھیجے گٸے پیغام کو بےیقینی سے دیکھتی رہی تھی۔
جبکہ دوسری جانب وہ بےزار سے جواب سا جواب کا منتظر تھا کیونکہ ماہین ہمدان میسج سین کرنے کے بعد گنگ بیٹھی تھی۔

”میں آپ سے دوستی کرنا چاہتی ہوں۔۔!!
کتنی ہی دیر بعد کانپتی انگليوں سے اس نے ٹاٸپ کیا تھا۔

“”کوئی چاہت، کوئی مسرت نہیں درکار مجھے
تیرے بعد کوئی محبت نہیں درکار مجھے

اے نئے شخص میں بھلا تیرے کس کام آؤں گا
اداسی کر چکی ہے اب تو مکمل برباد مجھے

ہوا کرتا تھا کبھی میں بھی کسی آنکھ کا تارا
اب تو اس شخص کا چہرا بھی نہیں یاد مجھے

اس کے ہاتھ میں ہی تھا مجھے اچھا کرنا
کہاں کر سکتی ہیں یہ بہاریں اب آباد مجھے

زیب حوصلہ دینے والے یہ کہاں جانتے ہیں
کتنا دکھ دیتا ہے یہ میرا دل ناشاد مجھے””

”معذرت محترمہ میں عورتوں سے دوستی نہيں کرتا۔۔!!
ماہی کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔

”لیکن کیوں؟؟
وہ پوچھ رہی تھی۔

”کیونکہ مجھے یہ زیب نہيں دیتا۔۔!!

ماہی نے دیکھا تھا اسکی فرینڈ لسٹ میں کوٸی لڑکی بھی ایڈ نہيں تھی۔

”لیکن میں آپکو جانتی ہوں آپکو یاد ہوگا ہم ملے تھے پیرس میں ایفل ٹاور کے پاس۔۔!!
وہ اسے کچھ یاد دلانا چاہتی تھی۔

”نہيں مجھے کچھ یاد نہيں اور اب آپ مجھے ڈسٹرب مت کیجیۓ گا۔ خدا حافظ۔۔!!
وہ اپنی بات کر کے اسکی سنے بنا آف لاٸن جاچکا تھا۔
جبکہ ماہی ایک گہرا سانس لے کر رہ چکی تھی۔
وہ بات بھی سننا گوارہ نہيں کر رہا تھا جسکے لیے وہ ماری ماری پھر رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن روحان کلاس میں دیر سے آیا تھا۔
سیاہ رنگ کا اَپر پہنے جسکے ہُڈ نے اسکا آدھا چہرہ چھپا دیا تھا وہ بنا اجازت لیے اندر آیا اور اپنی جگہ پر بیٹھ گیا تھا۔
بیٹھتے ہی اس نے چہرے کھڑکی کی طرف موڑ لیا تھا روزانہ کی طرح۔ وہ لیچکر پر دھیان بالکل بھی نہيں دیتا تھا۔
حانم کو وہ پہلے دن سے ہی کسی امیر باپ کا بگڑا ہوا لاڈلہ لگا تھا۔

”آپ لیکچر پر توجہ کیوں نہيں دیتے روحان۔۔؟؟
تنگ آ کر وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔
روحان نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔ اسکی نظروں میں ہمیشہ کی طرح سرد مہری تھی۔

”کیونکہ آپ نے فارمولا غلط لکھا ہے مس۔۔!!
وہ طنزیہ مسکراہٹ اسکی طرف اچھال کر بولا تھا۔
حانم نے گربڑا کر بورڈ کو دیکھا تھا واقعی اسکا فارمولا غلط تھا۔
پوری کلاس اسے توجہ سے سن رہی تھی لیکن کسی کو پتا نہيں چلا اور وہ جس نے ایک نظر بھی نہيں دیکھا تھا وہ کیسے جان گیا تھا؟؟

”معذرت۔۔
حانم نے فارمولا دوبارہ لکھا تھا۔

”ویسے مس آپکی عمر کیا ہے؟؟
روحان کی طرف سے پہلا سوال آیا تھا۔

”انیس سال اور کچھ ماہ۔۔!!
وہ سچ بول گٸی تھی۔

”میٹرک کب کیا تھا آپ نے؟؟
دوسرا سوال۔۔

”تقریباً چار سال پہلے۔۔!!
وہ ناسمجھی سے جواب دے رہی تھی۔ حانم نے محسوس کیا تھا اسکی آنکهوں میں مقناطیسی کشش تھی جو اسے جواب دینے پر مجبور کر رہی تھی۔

”تو پھر آپ نے ماسٹر کیسے کرلیا مس۔۔!!
اسکے سوال پر حانم گڑبڑا گٸی تھی۔
میم سمعیہ کا بولا گیا جھوٹ اسے بری طرح پھنسا گیا تھا۔
پوری کلاس میں سرگوشیاں شروع ہوگٸی تھیں۔

”اب وہ لوگ جنہيں خود کچھ نہيں آتا وہ ہمیں پڑھاٸیں گے۔۔؟؟
ہتک آمیز لہجہ تھا۔
حانم کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔ اسے اس وقت بہت برا محسوس ہو رہا تھا۔
اس نے جھوٹ نہيں بولا تھا لیکن الزام اس پر آیا تھا۔
وہ پوری محنت سے لیکچر تیار کر کے آتی تھی۔ آج جانے کیسے فارمولا غلط ہوگیا تھا۔
اور آج ہی روحان جَبَیل عرف آرجے اسے پکڑ چکا تھا۔
”یہاں سے کل شروع کرینگے۔۔!!
وہ بیگ اٹھاکر کلاس سے باہر نکل آٸی تھی۔
کلاس کا وقت ویسے بھی ختم ہو چکا تھا ایک دومٹ باقی تھی۔
اسے محسوس نہيں ہوا تھا کب اسکی آنکهيں نم ہوٸی تھیں۔ وقت نے اسے بہت حساس بنا دیا تھا اور آرجے کی بات اسکے دل پر لگی تھی۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی گیٹ کی طرف جا رہی تھی۔
ایک آنسو اسکی آنکھ سے گال پر پھسلا تھا جسے اس نے ہتھیلی سے رگڑ کر جلدی سے صاف کیا تھا کہ کوٸی دیکھ نا لے۔
یہ روحان جبیل کی وجہ سے ام حانم کی آنکھ میں پہلا آنسو آیا تھا۔ جانے قدرت نے آگے کیا لکھا تھا۔۔!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”وہ اپنے کپڑے بیگ میں رکھ رہا تھا جب دروازے پر دستک ہوٸی۔

”ارے بی جان آپ اندر آٸیں وہاں کیوں کھڑی ہیں۔۔!!
حشام نے بی جان کو دروازے میں کھڑا دیکھا تو وہ احترام کے باعث انکی طرف بڑھا۔
ہاتھ پکڑ بیڈ پر لا کر بٹھایا۔

”ہوگٸی تیاری؟؟
بی جان نے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

”جی بی جان۔۔ بس مکمل ہوگٸی ہے۔۔!!
وہ مسکرایا تھا۔

”تم بھی چلے جاٶ گے گھر ایک بار پھر خالی ہوجاۓ گا۔ مدیحہ بھی دو تین ماہ بعد چکر لگاتی ہے اور روحان تو آتا ہی اپنی مرضی سے ہے۔۔میں ترس جاتی ہوں تم لوگوں کا چہرہ دیکھنے کیلیۓ۔۔!!
بی جان افسردہ تھیں۔

”ارے آپ اداس نا ہوں میری پیاری ماں جان۔۔۔ میں روزانہ آپکو فون کیا کرونگا اور آرجے سے بھی کہوں گا کہ جلدی جلدی چکر لگایا کرے۔۔!!
وہ محبت سے بی جان کا ہاتھ تھامتے ہوئےکہہ رہا تھا۔ جب اسے زیارہ پیار آتا تھا وہ انہيں ماں جان کہتا تھا۔

”مجھے سب سے زیادہ روحان کی فکر کھاتی ہے میرے بچے۔۔ تم تو بہت سمجھدار ہو لیکن اسکے ساتھ جانے کیا مسٸلہ ہے۔۔؟“

”آپ پریشان نا ہوں وہ ابھی بچہ ہے بیس سال زیادہ عمر نہيں ہوتی اور آپ جانتی بھی ہیں کہ وہ سب جیسا نہيں ہے۔۔ اسے وقت لگے گا ہر چیز کو سمجھنے کیلیۓ۔۔!!
حشام نے تسلی دی۔

”تم تو ایسے نہيں تھے حشام۔۔ جب تم بیس سال کے تھے تب بھی بہت سمجھدار تھے۔!!

”وہ اس لیۓ کہ میں آپکا بیٹا ہوں۔۔!!
وہ مسکرایا۔

”روحان مجھے تم سے زیارہ پیارا ہے حشام۔۔ میں نے ماں سے زیادہ پیار دیا ہے اسے۔۔ میں نہيں جانتی کل کو میری تربيت پر انگلی اٹھے۔۔!!
بی جان پریشان تھیں۔

”اچھا اب آپ پریشان نا ہوں۔۔ جلدی سے کھانا لگوادیں مجھے بھوک لگی ہے۔ یہاں سے لاہور جاٶں گا۔ آپکے لاڈلے سے ملنے کے بعد ہی پیرس کی فلاٸٹ لونگا۔۔!!
وہ ہشاش بشاش سا کہہ رہا تھا۔

”ابھی لگواتی ہوں تم نے مجھے پہلے کیوں نہيں بتایا کہ بھوک لگی ہے۔۔!!
بی جان اسے گھورتی ہوٸی اٹھیں تو وہ مسکرادیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حانم اسکے رویے سے تنگ آگٸی تھی۔ وہ ایک دن کلاس میں ہوتا تو دو دن غاٸب رہتا تھا۔ ٹیسٹ وہ نہيں دیتا تھا۔
دھیان کھڑکی سے باہر ہوتا تھا۔ حانم جتنا مرضی اچھا پڑھا لے وہ کوٸی نا غلطی نکالتا تھا اور ایسے سوال پوچھتا تھا کہ وہ چاہ کر بھی جواب نہيں دے پاتی تھی۔
”آج بھی وہ کلاس میں دیر سے آیا تھا اور پھر موبائل پر بجتی بیل کو دیکھنے کے بعد اب وہ فون سن رہا تھا۔
حانم کو اس وقت اس پر انتہائی غصہ آیا تھا۔ ایک تو وہ لیٹ آیا تھا۔ اوپر سے کلاس میں فون استعمال کر رہا تھا جسکی اجازت نہيں تھی۔
”اوکے میں آرہا ہوں شامو کاکا۔۔!!
وہ فون بند کرتے ہوئے اٹھا اور بنا پوچھے دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔

”کہاں جا رہے ہیں آپ؟؟“
حانم نے غصے سے پوچھا۔

” اووو شٹ اپ۔۔ تم کون ہوتی ہو روکنے والی۔۔۔؟؟
وہ بنا اسکی طرف دیکھے آگ لگانے والے انداز میں پوچھا رہا تھا۔
اور حانم کی برداشت ختم ہوٸی۔ پوری کلاس کے سامنے وہ اسکی بےعزتی کر رہا تھا۔
جبکہ پوری کلاس گنگ بیٹھی تھی۔

”اپنے والد صاحب کا نمبر تو دیں ذرا۔۔!!
وہ خود نہيں جانتی تھی کہ وہ کیا بول رہی تھی۔

“O really??”
وہ حیرانگی سے مڑا۔
”جی آپکے کارنامے انہيں بتانے ہیں۔۔۔!!
وہ اسے گھورتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔

”لکھ لیں۔۔۔!!!
وہ اسے نمبر لکھواتا کلاس سے باہر نکل گیا تھا۔
کلاس ختم ہونے کے بعد حانم نے سب سے پہلے رجسٹر میں اسکا ریکارڈ چیک کیا تھا جس میں وہی نمبر لکھا تھا۔
اس نے خود کے غصے پر قابو پاتے وہ نمبر ملایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حشام، آرجے کے ساتھ بیٹھا تھا جب اسکے موباٸل پر انجانے نمبر سے فون آیا تھا۔
اس نے کال پک کرنے کے بعد فون کان سے لگایا۔

”آپ روحان جبیل کے گھر سے بات کر رہے ہیں۔۔؟؟
کوٸی لڑکی بول رہی تھی جسکا لہجہ سخت تھا۔

”جی۔۔ لیکن آپ۔۔۔!!
وہ اتنا ہی کہہ پایا تھا۔

”میں اسکے کالج سے مس ام حانم بات کر رہی ہوں مجھے آپکے بیٹے کے متعلق ضروری بات کرنی ہے آپ سے آپ برائے مہربانی کل کالج تشریف لے آٸیں۔۔!!
ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتی وہ حشام جبیل کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلا گٸی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: