Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 8

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 8

–**–**–

”میں اسکے کالج سے مس ام حانم بات کر رہی ہوں مجھے آپکے بیٹے کے متعلق ضروری بات کرنی ہے آپ سے آپ برائے مہربانی کل کالج تشریف لے آٸیں۔۔!!
ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتی وہ حشام جبیل کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلا گٸی تھی۔

”اچھا آپ۔۔
ٹوں۔۔ ٹوں۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ جواب دیتا فون ڈسکنیکٹ
ہوچکا تھا۔
حشام نے سرد نظروں سے روحان کی طرف دیکھا۔

”کیا ہے؟؟“
خود کی طرف گھورتا پا کر روحان نے پوچھا۔

”کیا کیا ہے تم نے کالج میں مسٹر آرجے؟؟“
حشام نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔

”کیا؟؟
وہ معصوم بنا۔
حشام حیران ہوا تھا۔ کافی عرصے بعد اسکے کسی تعلیمی ادارے کی طرف سے اسکی شکایت آٸی تھی۔
شروع شروع میں سکول کی طرف سے ٹیچرز کے فون آتے تھے۔ پھر جیسے ہی سب کو پتا چلا دوبارہ کسی نے فون نہيں کیا تھا۔
اب یہ کافی سالوں بعد ایسا ہوا تھا۔

”تمہاری کسی ٹیچر کی کال تھی کہہ رہی تھی آپکے بیٹے کے متعلق ضروری بات کرنی ہے۔۔!!
ناچاہتے ہوئے مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئی تھی۔

”اووہ یقین نہيں ہوتا وہ اتنی بےوقوف ہے۔۔!!
روحان نے مصنوعی حیرانگی سے کہا۔

”بتاٶ تم نے کیا گل کھلایا ہے؟؟

”یہ تم اس سے جا کر پوچھو نا جس نے فون کیا ہے۔ میں تو اسے دیکھ ہی لونگا۔۔!!
آخری جملہ اس نے آہستہ آواز سے کہا تھا۔

”چلو ٹھیک ہے پھر کل بات ہوگی اس موضوع پر۔۔ پیرس جانے سے پہلے میں تمہاری اس ٹیچر سے ملنا پسند کرونگا جس نے آرجے کی شکایت لگانے کی ہمت کی ہے۔۔!!!
جبکہ اسکی بات پر روحان کے چہرے کے تاثرات تن سے گٸے تھے۔

”میں تمہيں نہيں چھوڑوں گا مس ام حانم۔۔!!
وہ تصور میں اس سے مخاطب تھا جبکہ حشام کی گہری نظریں یہ جاننے دے قاصر تھیں کہ اسکے دماغ میں اس وقت کیا چل رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”اس نے بات کرنے سے انکار کردیا ایلا۔۔ وہ مجھ سے بات نہيں کرنا چاہتا۔۔!!
ماہی کی آواز بھراٸی ہوٸی تھی۔
کچن میں کام کرتی ایلا نے پلٹ کر اسے دیکھا۔

”کس کی بات کر رہی ہو ماہی؟؟ کس نے انکار کیا ہے؟؟“
وہ پوچھ رہی تھی۔

”حشام نے۔۔!!
ماہی کے لب پھڑپھڑاٸے۔

”اوووہ۔۔ تو اس میں رونے والی کیا بات ہے پاگل۔۔؟؟“
ایلا نے اسکی نم آنکهوں کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا۔

”جس شخص کیلیے میں اتنا خوار ہوٸی وہ میری بات سننے تک کیلیے تیار نہيں ہے۔۔میں اسے اپنی بدنصیبی سمجھوں۔۔

”یہ اسکی بدنصیبی ہے ماہی جو اس نے تمہيں نہيں سمجھا۔۔!!
ایلا نے اسکی بات کاٹی۔

”چلو میرے ساتھ اور ریلیکس ہوجاٶ۔۔!!
ایلا اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے ڈراٸنگ روم میں لاٸی اور اسے صوفے پر بٹھایا تھا۔
ماہی نے آنکهوں میں آٸی نمی کو زبردستی مسکراتے ہوئے صاف کیا تھا۔

”تم تو کہتی ہو نا کہ وہ سیّد خاندان سے ہے ایک اعلیٰ خاندان سے۔۔ جس کا وقار بہت زیادہ ہے۔۔
تو سوچو اگر وہ فوراً ہی تمہاری بات مان لیتا اور تم سے فلرٹ شروع کردیتا تو تمہيں کیسا لگتا۔۔!!
وہ ماہی کے گھٹنوں کے پاس بیٹھی پوچھ رہی تھی۔ ماہی نے چونک کر اسے دیکھا۔

”بولو۔۔ کیا اچھا لگتا تمہيں؟؟“
ایلا نے دوبارہ پوچھا۔

”نہيں۔۔“
ماہی نے نفی میں سر ہلایا۔

”تو مس ماہی خوش ہوجاٸیں آپ کہ آپکا دل کسی سطحی مرد پر نہيں آیا جو عورت دیکھ کر ہی مرجاتا ہے۔۔بلکہ شکر کرو کہ تمہاری پسند عام نہيں ہے۔۔!!
ایلا نے اسکا گال تھپتھپاتے ہوئے کہا تو ماہی ایک دم مسکرادی۔
ایلا کی باتوں نے اسے پھر سے زندہ دل کردیا تھا۔
ایک نٸی امید کی سحر اسکے اندر جاگ گٸی تھی۔واقعی اس نے اس پہلو پر نہيں سوچا تھا۔

”اب میں کافی بنالوں؟؟“
ایلا نے سوال کیا۔

”میرے لیے بھی۔۔۔!!
ماہی مسکرادی۔
اور ایلا نے دیکھا تھا اسکے مسکرانے پر جیسے سارے رنگ فضا میں بھکر گئے تھے۔
ایک مثبت امید انسان کو ایسے ہی تازہ دم کردیتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سٹاف روم میں بیٹھی ٹیسٹ چیک کر رہی تھی۔ جب اسکے موبائل پر بیل ہوٸی تھی۔
حانم نے مصروف سے انداز میں کال پک تھی۔

”ہیلو۔۔؟؟“
مس ام حانم۔۔؟؟
اسکے ہیلو کے جواب میں پوچھا گیا تھا۔

”جی بول رہی ہوں آپ کون؟؟

”میں حشام جبیل بات کر رہا ہوں کل آپ نے روحان جبیل کے سلسلے میں کال کی تھی اور ملنے کا کہا تھا۔ میں اس وقت کالج کے باہر کھڑا ہوں کیا آپ اس وقت مل سکتی ہیں؟؟“
بھاری مردانہ آواز میں پوچھا گیا تھا البتہ لہجہ میں شاٸستگی تھی۔

”جی۔جی۔۔ آپ اندر آجاٸیں PTM روم میں،میں آپکو مل لوں گی۔۔!!!
وہ ٹیسٹ اٹھاتے ہوئے پی ٹی ایم روم کی طرف بڑھ گٸی تھی۔
جبکہ دوسری طرف سے فون بند کردیا گیا تھا۔

تقریباً پانچ منٹ بعد کمرے کے دروازے پر دستک ہوٸی تھی۔

”یس۔۔۔“
وہ بنا دروازے کی طرف دیکھے بولی تھی۔
وہ آج ہی سارے ٹیسٹ چیک کرنا چاہتی تھی۔
“Excuse me..”
مردانہ آواز پر حانم نے سر اٹھا کر دیکھا تھا۔

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم۔۔۔!!
میں یہاں مس ام حانم سے ملنے آیا ہوں کیا آپ انہيں بلا سکتی ہیں؟؟
وہ سوالیہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔
سامنے بیٹھی لڑکی اسے کوٸی سٹوڈنٹ ہی لگی تھی۔

”جی میں ہی ہوں ام حانم۔۔ آپ بیٹھ جاٸیں پلیز۔۔!!
حانم نے اسے میز کی دوسری جانب رکھی کرسی کی طرچ اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
اتنی چھوٹی سی ٹیچر۔۔وہ حیران ہوا۔

”کیا واقعی آپ یہاں ٹیچر ہیں؟؟“
وہ ناچاہتے ہوئے بھی پوچھ چکا تھا۔

”جی وہ ہلکہ سا مسکراٸی تو حشام اپنی حیرانگی پر قابو پاتے ہوئے سامنے رکھی کرسی پر براجمان ہوچکا تھا۔

”آپ روحان جبیل کے کیا لگتے ہیں؟؟“
حانم نے ٹیسٹ ایک طرف رکھتے ہوئے پوچھا۔ کیونکہ سامنے بیٹھا انسان باپ تو کہیں سے نہيں لگ رہا تھا۔

”میں حشام بن جبیل ہوں روحان کا بڑا بھاٸی۔۔!!“
اس نے کزن کہنا ضروری نہيں سمجھا تھا۔
”اب آپ بتائيں کس سلسلے میں مجھے یہاں بلایا گیا ہے؟؟ اور کیا کیا ہے روحان نے؟؟“

دیوار میں بنی گلاس ونڈو سے دھوپ کی شعاٸیں چھن کر اندر آرہی تھیں اور ان دونوں کے درمیان رکھے میز پر چمک رہی تھیں۔

”دراصل مجھے آپ سے یہ کہنا تھا کہ روحان جبیل تھوڑا عجیب ہے۔ کیا اسکے ساتھ کوٸی نفسياتی مسٸلہ ہے؟
میرا مطلب۔۔

”ہاں وہ تھوڑا نہيں بہت عجیب ہے۔۔!!
حشام نے اسکی بات کی تصدیق کی۔

”ہے نا؟ مجھے پہلے دن ہی شک ہوگیا تھا۔ وہ کلاس میں دیر سے آتا ہے۔۔ زیادہ غیر حاضر رہتا ہے۔۔ اور بہت ہی زیادہ۔۔

”بدتمیزی کرتا ہے۔۔!!!
حشام نے اسکی بات کاٹی۔

”جی بالکل۔۔۔“
حانم کے منہ کے زاویہ بگڑا۔

”ایک بھی ٹیسٹ نہيں دیتا وہ۔۔ اور۔۔

”اور الٹے سیدھے سوال کرتا ہے۔۔ ہے ناں؟؟
وہ ایک بار اسکی بات پوری کرچکا تھا۔

”حانم کی آنکهوں میں حیرانی ابھری۔
”آپکو تو سب پتا ہے۔۔!!

”ظاہر سی بات ہے مس ام حانم وہ میرا بھاٸی ہے بیس سال ساتھ رہا ہے کیا مجھے نہيں پتا ہوگا۔۔؟؟“
وہ ناجانے کیوں اتنا بول رہا تھا۔

”بیس سال۔۔ آج کل بچے سترہ سال کی عمر میں انٹر کر رہے ہیں اور وہ بیس سال کا ہو کر بھی انٹر میں ہی گھوم رہا تھا۔۔۔!!
حانم نے اپنی طرف سے بڑی بات کی تھی۔
اور حشام جبیل نے مشکل سے اپنا قہقہہ ضبط کیا تھا۔

”لگتا ہے آپکو کسی نے بھی کچھ نہيں بتایا اور آپ روحان جبیل کے بارے میں کچھ نہيں جانتی؟؟“

”جی۔۔میں سمجھی نہيں!!
حانم کو واقعی کچھ سمجھ نہيں آرہا تھا۔

”وہ انٹر کا سٹوڈنٹ نہيں ہے بلکہ بی بی اے (BBA) کر رہا ہے۔۔ آخری سمیسٹر فریز کرکے وہ دماغ کے الٹ جانے پر ایف ایس سی کرنے آیا ہے۔۔!!

”کیا۔۔۔؟؟
حیرت سے اسکی آنکهيں پھیلی۔
حشام کو ان بڑی بڑی گرے رنگ کی آنکهوں میں پھیلی حیرانگی اچھی لگی تھی۔

”جی۔۔
پہلے اس نے کمیسٹری نہيں پڑھی تھی ویسے تو اسے ضرورت نہيں ہے وہ خود بھی کتاب پڑھتا تو سمجھ جاتا۔۔ لیکن ناجانے کیوں وہ یہاں آگیا۔۔
وہ جو کرتا ہے ہمیں اسکی سمجھ نہيں آتی۔۔!!!

”لیکن وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟؟“
وہ پوچھ رہی تھی۔

”کیونکہ وہ ایک سلفاٸٹ ہے۔۔!!
کیا آپ جانتی ہیں کہ سلفاٸیٹ کسے کہتے ہیں؟؟“
وہ میز پر تھوڑا جھک کر رازدانہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ جبیل خاندان پچھلے کٸی سالوں سے ملتان میں آباد تھا۔ سید خاندان ہونے کے ناطے پورے علاقے میں انہيں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
جبیل خاندان کے اباٶاجداد نے لوگوں کے مساٸل کو روحانی طریقے سے سلجھایا تھا۔
دور دور سے لوگ دعاٶں کیلیے وہاں تشریف لاتے تھے۔
اور اسی طرح انکا سیاست میں بھی بڑا نام تھا۔
لوگ ان سے عقیدت رکھتے تھے۔

سید جبیل کے دو بیٹے تھے۔ بڑا ضیا ٕ جبیل اور اس سے چھوٹا حیدر جبیل۔
دونوں بھاٸیوں کی شادی کم عمری میں ہی ایک ساتھ کردی گٸی تھی۔

ضیا ٕ جبیل کے دو بچے تھے ایک بیٹا حشام بن جبیل جبکہ بیٹی مدیحہ جبیل تھی۔ اور اسکی بیوی خدیجہ جبیل نہایت شریف اور عبادت گزار خاتون تھیں۔ جو اب بی جان کے رتبے پر فاٸز تھیں۔
جبکہ حیدر جبیل کے گھر شادی کے آٹھ سال بعد بڑی منتوں، مرادوں، وظیفوں اور دعاٶں کی قبولیت کے بعد وہ پیدا ہوا تھا۔۔
جسکا نام عاٸشہ جبیل،حیدر جبیل کی بیوی، نے روحان جبیل رکھا تھا۔
عاٸشہ جبیل کو اپنے بیٹے سے بہت محبت تھی۔ صرف اسے ہی نہيں بلکہ پوری سید حویلی میں موجود لوگوں کو جن میں ملازمين بھی شامل تھے روحان جبیل بہت عزیز تھا۔

لیکن جب وہ پیدا ہوا تو رویا نہيں تھا۔ چار سال تک وہ بول نہيں پایا تھا۔
جبیل خاندان نے بہت علاج کروایا تھا اسکا۔ لیکن ڈاکٹروں نے کہا تھا وہ پیداٸشی نقص لے کر پیدا ہوا ہے کبھی بول نہيں پائے گا۔
وہ ہر چیز کا بہت گہری نظروں سے مشاہدہ کرتا تھا۔ اسے غصہ بہت آتا تھا شدت جذبات سے اسکی آنکهيں سرخ انگارہ ہوجاتی تھیں۔
صرف ایک شخص جو اسے سب سے عزیز تھا وہ تھا حشام بن جبیل۔۔
پورے چار سال بعد معجزہ ہوا تھا۔ وہ پہلی بار کچھ بولا تھا۔ پہلی بار اس نے کسی کو پکارہ تھا۔
نا اس نے ماں کہا تھا اور نا باپ۔۔
اس نے پہلا لفظ جو اپنی زبان سے ادا کیا تھا وہ تھا “حشام“
وہ بہت صاف بول رہا تھا کوٸی لکناہٹ نہيں تھی اسکی زبان میں۔
سید حویلی میں خوشی کی لہر دوڑ گٸی تھی۔
صدقے کے بکرے اسکے سر پر سے وارے گٸے تھے۔

بس یہ اسکی آخری خوشی تھی جو سید حویلی میں مناٸی گٸی تھی۔اسکے بعد روحان کی حرکتوں نے سب کو مصيبت میں ڈال دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”سلفاٸیٹ۔۔۔
وہ زیر لب بڑبڑاٸی تھی۔

”جی سلفاٸیٹ۔۔ پڑھا ہوگا آپ نے؟؟
حشام نے پوچھا۔

”جج۔۔ جی۔۔“
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیا بولے۔

”جی تو بس اب آپکو اچھے طریقے سے سب سمجھ جانا چاہیے اور اسکے رویے کی وجہ سے میں آپ سے معذرت کرتا ہوں۔۔!!
ناجانے کیوں حشام کو ایک اپناٸیت کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے بہت شائستہ انداز میں اس سے بات کر رہا تھا۔
جیسا روحان نے کہاتھا کہ وہ بہت نک چڑی،مغرور اور بےقوف لڑکی ہے حشام کو وہ ویسی نہيں لگی تھی بلکہ وہ اسے بہت سمجھدار اور معصوم لگ رہی تھی۔

دھوپ کی شعاٶں کا رخ میز سے ام حانم کی طرف پلٹا تھا۔
وہ کچھ کہنے لگا تھا جب ایک دم خاموش ہوگیا تھا۔
حانم نے کچھ دیکھنے کیلیے چہرے کا رخ کھڑکی کی طرف کیا تھا اور شعاٶں نے اسکے چہرے کو چھوا تھا۔
اسکی تھوڑی سے عجیب سی روشنی پھوٹی تھی۔
جیسے کوٸی ہیرا چمکتا ہو۔
حشام کی آنکهيں ایک دم چندھیا سی گٸی تھیں۔ اسے سمجھ نہيں آیا تھا کہ یہ کیا تھا۔ وہ روشنی کہاں سے آٸی تھی۔

”آپکو معذرت کرنے کی ضرورت نہيں مسٹر جبیل۔۔ میں کوشش کرونگی کہ آج کے بعد اسے نظر انداز کرسکوں۔۔“
وہ پیشہ ورانہ انداز میں مسکراٸی تھی۔ جبکہ حشام بن جبیل تو جیسے گنگ ہوگیا تھا۔

”ٹھیک ہے اب میری کلاس کا وقت ہے بہت بہت شکریہ آپ میرے بلانے پر آئے اور میرے نکتہ نظر کو سمجھا۔۔!!
وہ جیسے ہوش میں آیا تھا۔

”جی۔۔ ٹھیک ہے آٸندہ کوٸی مسٸلہ ہو تو آپ مجھے بتا سکتی ہیں۔۔ میری بھی فلاٸٹ ہے رات کو مجھے بھی جلدی جانا ہے۔۔!!
وہ ایک دم کھڑا ہوا تھا۔
جبکہ حانم نے صرف سر ہلایا تھا۔

”خدا حافظ۔۔!!
وہ زبردستی مسکرایا تھا اور پھر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
دروازے پر پہنچ کر وہ رکا تھا۔ جانے کیوں پلٹ کر اسے دیکھا تھا جو سفید ڈوپٹہ لیے روشنی میں بیٹھی اسے حیران کر رہی تھی۔
کوٸی چیز پھر چمکی تھی اسکے چہرے پر۔۔
وہ عجب کشمکش کا شکار ہوا تھا۔
حانم نے جیسے ہی اسکی طرف دیکھا تھا وہ فوراً پلٹ گیا تھا۔

”یہ چمک بہت سوں کو آباد کرے گی اور بہت سوں کو برباد۔۔۔!!!“
دور کہیں فقیر کے کہے گٸے الفاظ گونجے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہی روزانہ اسکی پروفاٸل چیک کرتی تھی۔

“Hasham Jabail travelling from Pakistan to Paris”
وہ اسکا اسٹیٹس دیکھ کر اپنی چیخ نہيں روک پاٸی تھی۔

”کیا ہوا ماہی تم ٹھیک ہو؟؟“
ایلا کی آواز آٸی تھی۔

”ہاں۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔“
اسے یقین نہيں آرہا تھا کہ وہ پیرس آرہا تھا۔
ماہی کا دل کر رہا تھا کہ وہ خوشی سے ڈانس کرے۔
وہ آرہا تھا۔فاصلہ کم ہو رہا تھا اور اسکے دل کی دھڑکن بڑھ رہی تھی۔

”ایلا۔۔ ایلا۔۔۔ وہ آرہا ہے۔۔ وہ واپس آرہا ہے۔۔!!
وہ چلاتی ہوٸی کمرے سے باہر بھاگی تھی۔ لیکن پتا نہيں تقدیر نے ملن لکھا تھا بھی یا نہيں۔۔!!
اور وہ کہیں سے پڑھی یہ لائینیں دہرانے لگی

سُنوقِصّہ سُناتا ہوں
تُمہیں اِک سچ بتاتا ہوں
محبت کب ہوئی مجھ کو
تُمہیں ,آغازِ چاہت میں
میری غلطی بتاتا ہوں
میں ٹُوٹادِل لیے اِک دن
حدیں سب بھول کےاک دن
اچانک اِک اجنبی چہرہ
نظر کے سامنے گُزرا
میری آنکھوں کے رستے وہ
میرے اندرکہیں اُترا
میں کیسےجان لیتا کہ
وہ میری جان لے لے گا
مجھے اس راہ پرچلنے پہ
پھر مجبورکر دے گا
وہ رستہ میرے وجود کوغموں سے
مالا مال کردے گا
میں اس میں گم ہو کر پھر
سبھی کوبھول بیٹھا تھا
سگے سب اپنےرشتوں کو
میں بیکارسمجھتا تھا
کہیں پرچھوڑ آیا تھا
میں اپنا آپ سبھی اپنے
پھر کچھ اس طرح پلٹا وہ
مجھے وہ پَل نہ بھولے گا
جہاں پر جان نکلی تھی
مُحبّت ٹوٹ کے بکھری تھی
وہ رستےکھوگئےجیسے
دن خوشیوں کےسارے
سبھی سب سو گئے جیسے
بتلایازندگی کیا ہے
میری تکمیل کی اس نے
مُحبّت سکھا کے وہ
سمجھانےلگی مجھ کو
یہ غلطی مت کبھی کرنا
مُحبّت دردہے دل کا
ثو پگلے تم نہیں کرنا…
کاش اس کو بتلا آئے کوئی….
مُحبّت کےسبھی چہرے
خوشی کے غم کےسب لمحے
اسی کے نام پہ کر کے
یہ غلطی کرچکا ہوں میں
نکلنا اب نھیں ممکن
مُحبّت کرچکا ہوں میں
کب کا مرچکا ہوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کلاس لینے کے بعد گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی آج اسکا اکیڈمی میں ٹیسٹ تھا۔
وہ جلد از جلد وہاں پہنچنا چاہتی تھی جب اسے اپنے نام کی پکار سنائی دی۔

”مس ام حانم۔۔!!
وہ رکی تھی۔

”جی۔۔“
وہ پلٹی۔
سامنے پرنسپل کے آفس کے باہر بیٹھنے والا چپڑاسی تھا۔

”آپکو میڈم نے اپنے آفس میں بلایا ہے۔۔!!!
وہ اسے پیغام دے کر جاچکا تھا۔
جبکہ حانم کے دل کی دھڑکن تیز ہوٸی تھی۔
ان بیس دنوں میں یہ پہلا موقع تھا جب اسے آفس میں بلوایا گیا تھا۔
”اللہ خیر کرے۔۔!!
وہ مرے مرے قدموں سے آفس کی طرف بڑھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”آپ نے کس سے پوچھ کر مسٹر جبیل کو یہاں بلایا تھا وہ بھی کمپلین کرنے کیلیے۔۔!!
پرنسپل صاحبہ کے لہجے میں سختی تھی۔ وہ تو دھک سے رہ گٸ تھی۔

”جج۔۔ جی وہ کلاس میں مسٹر روحان۔۔

”تو آپ مجھے بتاتیں مس ام حانم۔۔ کیا آپکو اتنا نہيں پتا کہ گھر کال کرنے سےپہلے مسٸلے کو ادارے کے سربراہ سے ڈسکس کیا جاتا ہے۔۔!!
میڈم نے اسکی بات کاٹی۔

”شاید آپ انہيں جانتی نہيں ہیں کہ آپ نے سید جبیل کو یہاں بلوایا تھا۔ آپکو انکے خاندان کا اندازہ نہيں ہے شاید۔۔!!

وہ بےبسی سے انگلیاں مروڑ رہی تھی۔ ہلق میں جیسے آنسوٶں کا گولا اٹک گیا تھا۔

اسے واقعی آرجے کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا۔ کالج میں میل سٹاف ہونے کی وجہ سے وہ اپنا فارغ وقت لیڈیز روم میں گزارتی تھی۔اسکی کسی ٹیچر کے ساتھ بھی اتنی دوستی نہيں تھی کہ وہ اپنے مسٸلے کو کسی سے ڈسکس کرتی۔ وہ سٹاف روم میں کم جاتی تھی۔ اگر وہ جاتی تو شاید اسے آرجے کا بھی پتا ہوتا۔

آٸندہ یہ غلطی نا ہو مس ام حانم۔۔ مسٹر جبیل کے کہنے پر میں آپکو معاف کر رہی ہوں۔۔ اب جاٸیں اور اپنا کام بہتر بنائيں۔۔!!
وہ خاموشی سے اٹھ آٸی تھی۔
اسے اب سمجھ آرہا تھا کہ اسے پہلے میڈم سے بات کرنی چاہیے تھی۔
لیکن ایک عورت اپنی عزت نفس پر سمجھوتا نہيں کرتی۔۔
روحان نے پوری کلاس کے سامنے دوبار اسے بےعزت کیا تھا۔ جب اسے کچھ سمجھ نا آیا تو اس نے اسکے گھر فون کردیا تھا۔

وہ شخص اسکے آنسوٶں کا سبب بنتا جارہا تھا۔
وہ مرے مرے قدموں سے گیٹ سے باہر نکل آٸی تھی۔
اسے اب اندازہ ہورہا تھا کہ پرائيویٹ اداروں میں ملازمت کرنا اتنا بھی آسان نہيں تھا۔ وہاں جانے سے پہلے انسان کو اپنی عزت نفس خود ختم کردینی چاہیۓ۔۔!!
آرجے آج پھر نہيں آیا تھا اور اسے یقین تھا اتنی آسانی سے وہ اسے معاف نہيں کرنے والا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: