Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 9

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 9

–**–**–

“رقص الفاظ کر رہے ہیں یا میرے آنسو”
#مدارِ_یار میں ہوں__یا #مقامِ_عشق میں”

وہ شخص اسکے آنسوٶں کا سبب بنتا جارہا تھا۔
وہ مرے مرے قدموں سے گیٹ سے باہر نکل آٸی تھی۔
اسے اب اندازہ ہورہا تھا کہ پرائيویٹ اداروں میں ملازمت کرنا اتنا بھی آسان نہيں تھا۔ وہاں جانے سے پہلے انسان کو اپنی عزت نفس خودی ختم کردینی چاہیۓ۔۔!!
آرجے آج پھر نہيں آیا تھا اور اسے یقین تھا اتنی آسانی سے وہ اسے معاف نہيں کرنے والا تھا۔

جانے کیوں اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے بہت بڑی غلطی کردی ہے۔ یہ ملازمت کر کے یا پھر روحان جبیل کے سلسلے میں حشام جبیل سے مل کر۔۔

جو پرنسپل نے اس سے کہا وہ غلط نہيں تھا وہ واقعی اسکی غلطی تھی۔ لیکن وہ کیا کرتی۔۔
وہ روحان جبیل اسکے گلے کی ہڈی بن گیا تھا۔
کلاس میں نہيں آتا تو سکون ہوتا تھا۔۔ اور جب آجاتا تھا تو دماغ خراب کر دیتا تھا۔

اس نے ہاتھ کے اشارے سے رکشہ روکا اور پھر چادر کو اچھے طریقے سے لپیٹتے ہوئے وہ اندر بیٹھ گٸی تھی۔
اسے مضبوط بننا تھا۔ لیکن کیا سچ میں روحان جبیل کے ہوتے ہوئے وہ وہاں رہ سکتی تھی؟؟ یہ وہ خود بھی نہيں جانتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”دیکھو تم آج کے بعد مس ام حانم کو تنگ نہيں کروگے۔۔!!“
ایٸر پورٹ کے باہر کھڑے حشام نے روحان سے کہا۔

”اگر کیا تو۔۔۔؟؟“
وہ گاڑی کی چابی کو انگلی پر گھماتے ہوئے بولا تھا۔ چیونگم چباتے وہ ہمیشہ کی طرح بےنیاز نظر آرہا تھا۔

”دیکھو آرجے یہ اچھی بات نہيں ہے۔۔

”دیکھو شامو کاکا تم جاتے وقت اپنا موڈ خراب مت کرو۔۔ یہ میری زندگی ہے اور اس حانم کو میں خود دیکھ لونگا۔۔!!“
وہ حشام کی بات کاٹ چکا تھا۔ چہرے پر بیزاری سی پھیلی تھی۔

”شرم کرو یار وہ ٹیچر ہے تمہاری۔۔!!
اور حشام کی بات پر اسکا قہقہہ بلند ہوا تھا۔

”ویسے نا بڑا دلچسپ معاملہ ہے۔۔ ایک تو وہ ہے مجھ سے چھوٹی۔۔ اور اوپر سے اسے آتا کچھ نہيں اسے ذلیل کرنے کا مزہ الگ ہے۔۔!!
وہ اپنی تمام تر خباثت کے ساتھ ایک آنکھ دباتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
ایٸر پورٹ پہ لوگوں کا ہجوم تھا۔ لوگ آ جا رہے تھے۔
حشام کا جانے کو دل نہيں کر رہا تھا اس بار۔۔
جانے کیا چیز اسے روک رہی تھی۔ وہ کچھ بھی کرلیتا مگر آرجے کو کبھی نہيں سمجھا سکتا تھا۔

”کیا تم ہمیشہ ایسے ہی رہو گے؟؟“
عجیب سے لہجے میں سوال کیا گیا تھا۔

”کیسا شامو کاکا۔۔؟؟“
روحان ہنسا۔

”اتنے بیزار۔۔ اتنے گمراہ۔۔ اتنے۔۔

”آرجے کبھی نہيں بدلنے والا۔۔ مجھے بروماٸڈز بن کر جینے میں کوٸی دلچسپی نہيں ہے۔
یہ دنیا ختم بھی ہوجائے نا آرجے کو تم ایسا ہی پاٶ گے۔۔!!!
وہ پر اعتماد لہجے میں کہہ رہا تھا۔ آنکهوں میں عجیب سی چمک تھی۔

”اوکے اپنا خیال رکھنا۔۔!!“
حشام نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔

”اوکے شامو کاکا اب اتنے جذباتی ہونے کی ضرورت نہيں ہے۔۔مجھے سب پتا ہے وہاں جا کر تمہيں کچھ یاد نہيں رہتا۔۔!!“
وہ شرارت سے کہہ رہا تھا۔

”بکواس بند کرو۔۔!!
حشام نے اسے ڈپٹا۔
اور پھر وہ ہزاروں دعائيں آرجے کے نام کر کے جاچکا تھا۔
وہ جانتا تھا آرجے کبھی محسوس نہیں ہونے دے گا کہ وہ بھی اسے یاد کرتا ہے اس لیے اس نے پوچھنا کہنا ضروری نہيں سمجھا تھا۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیند نا آنے کی وجہ سے وہ بیزار بیزار سا انٹرنيٹ پر ٹائم گزارنے کی کوشش کر رہا تھا جب اچانک وہ چونکا۔

اسکی شخصيت سے متعلق خصوصيات۔۔ اسکی پسند کی چیزیں اسکے سامنے آرہی تھیں۔
حالانکہ اس نے ایک بار بھی اپنی شخصيت سے متعلق کوٸی چیز سرچ نہيں کی تھی۔
لیپ ٹاپ پر حرکت کرتی انگلیاں رکی تھیں۔
پل کے ہزارویں حصے میں چیزوں کو سکین کرنے والی آنکهوں کی پتلیاں سکڑیں۔
ہونٹوں کو بھینچ کر اس نے ایک بار پھر اپنے سامنے سکرین کو اوپر نیچے کیا۔
اسکی پسند کی ہر چیز اسکے سامنے کی۔

”ڈیم اٹ۔۔“
اس نے لیپ ٹاپ کو پٹخنے والے انداز میں بند کیا تھا۔
اس پر نظر رکھی جا رہی تھی۔لیکن ایسا کون کر سکتا تھا۔؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج پھر وہ اس لاوس بہتے دریا کے کنارے کھڑی تھی۔ پیاس سے اسکا برا حال تھا۔
اسکا پور پور جیسے جل رہا تھا۔ اور پھر کسی نے اسے دھکا دیا تھا۔
لیکن آگ سے جلتے دریا میں گرنے سے پہلے اسے دھکا دینے والا شخص نظر آیا تھا۔
سیاہ رنگ کی ہُڈی میں اسکا چہرہ چھپا ہوا تھا۔
اسکی آنکهيں حیرت اور خوف سے پھٹی رہ گٸی تھیں۔
اس سے پہلے وہ آگ کا دریا اسے نگلتا اسکی آنکھ کھل گٸی تھی۔
جانے کتنی مشکل سے اس نے اپنی چیخ روکی تھی۔
ڈر اور خوف کی وجہ سے اسکی دھڑکن بہت تیز چل رہی تھی۔
سردی میں بھی پسینہ اسکے چہرے پر چمک رہا تھا۔
آج تو وہ نماز پڑھ کر بھی سوٸی تھی۔ ناجانے کیوں پھر وہ آگ اسے جلا رہی تھی۔ اور وہ کون تھا جو اسے دھکے دیتا ہے۔۔؟
وہ بستر سے نیچے اترنے کے بعد دروازے کی طرف بڑھی۔

”ہانی۔۔!!
دروازے کھلنے کی آواز سے اماں کی آنکھ کھل گٸی تھی۔
”جی امی۔۔“
وہ خود پر قابو پاتے ہوئے بولی تھی۔
”سوٸی نہيں تم ابھی تک؟؟“

”سوگٸخ تھی اماں بس ابھی اٹھی ہوں پانی پینے کیلیے۔۔ گلہ خشک ہو رہا تھا۔“

”اچھا ٹھیک ہے۔۔!!
وہ پھر سے کروٹ بدل کر لیٹ گٸی تھیں جبکہ حانم باہر نکل آٸی تھی۔
ساتھ والے کمرے میں ماہم اور جواد سوئے ہوئے تھے۔ آدھی رات تک ٹی وی دیکھنےکے بعد وہ اپنی مرضی سے سوتے تھے۔

”صحن میں بلا کی دھند اور ٹھنڈ میں بھی اسے اپنا جسم سلگتا محسوس ہو رہا تھا۔
کتنی مشکل سے اس نے پہلا خواب ذہن سے نکالا تھا اور آج پھر وہی۔۔
وہ پریشان ہوگٸی تھی۔

”اللہ پاک خیر کریں۔!!“
وہ دعا مانگنے کے بعد برآمدے ملہقہ کچن میں چلی گٸی تھی پیاس کی وجہ سے اسکا گلہ خشک ہوا پڑا تھا۔
دعا مانگنے کا حق ہر انسان کے پاس ہے لیکن وہ نہيں جانتی تھی کہ ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”تمہيں کیا لگتا ہے SK کہ وہ لڑکا کام کرے گا۔۔؟؟“
کمرےمیں اندھیرہ پھیلا تھا۔ دیوارو پر سیاہ رنگ کے پینٹ نے کمرے کو ایک پراسرار ماحول کا حصہ بنادیا تھا۔
کمرے کے چاروں کونوں میں عجیب طرز کے کمپيوٹر سسٹم رکھے نظر آرہے تھے۔
تکونی میز کے گرد رکھی تین کرسیوں پر تین لوگ بیٹھے تھے۔

”سو فیصد کام کرے گا باس۔۔“
ایک نسوانی آواز ابھری۔ اسکے چہرے پر بھی ماسک تھا۔ اور سیاہ رنگ کے یونیفارم میں اسکا سارا جسم چھپا ہوا تھا۔ ایسے لگتاتھا جیسے وہ لوگ ایک دوسرے سے ہی اپنا چہرہ چھپا رہے ہوں۔

”مجھے نہيں لگتا باس کہ وہ لڑکا ہمارے لیے بہتر ثابت ہوگا۔ کیونکہ کسی بھی مسلمان پر بھروسہ کرنا ہمارے لیے ہی مشکل کا باعث ہوگا۔۔!!
دوسرے لڑکے نے اپنا نکتہ نظر بیان کیا۔

”میں نےاسکے متعلق ساری معلومات حاصل کرلی ہے باس۔۔ ہم اسے ایک اچھے ہتھیار کے طور پر بہتر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔۔!!
لڑکی اپنی بات پر قاٸم تھی۔

”کچھ دن اور مشاہدہ کرو۔۔ جیسے ہی یقین ہو کہ وہ ایک اچھا ہتھار بن سکتا ہے پھر بتانا۔۔!!“
وہ آدمی شاید انکا باس تھا۔ جو اپنی بات مکمل ہونے کے بعد اٹھا اور ایک دیوار کی طرف بڑھ گیا۔
دیوار کے سامنے پہنچنے پر ایک دروازہ کھلا اور وہ کہیں اندر غاٸب ہوگیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج وہ پکا ارادہ کر کے آٸی تھی کہ کچھ بھی ہو اس نے روحان جبیل کو مکمل نظر انداز کرنا ہے اور جتنا ہوسکے اس سے احتياط کرنی ہے۔

نو بجے وہ کالج پہنچ جاتی تھی۔ اسے صرف دو لیکچر لینے ہوتے تھے دونوں ایک ہی کلاس کے ایک کمیسٹری تھیوری کا اور ایک پریکٹکل کا باقی وقت اسے بیٹھ بیٹھ کر گزارنا پڑتاتھا۔ نا وہ دیر سے آ سکتی تھی اور نا پہلے جا سکتی تھی۔ یہ کالج کے قوانين کے خلاف تھا۔

پہلا لیکچر دس بجے شروع ہوتا تھا اور دوسرا ساڑھے بارہ بجے۔
لیکچر اچھی طرح تیار کرنے پر وہ کلاس میں داخل ہوٸی تھی۔
رشنا،پرنسپل کی بیٹی اور آرجے کی فرینڈ،
ایک دن آنے کے بعد دوبارہ نظر نہيں آٸی تھی البتہ روحان جبیل وقتاً فوقتاً اپنی شکل دکھاتا رہتا تھا۔
وہ کلاس میں نہيں تھا۔
حانم نے سکھ کا سانس لیا تھا۔ اس نے پر اعتماد طریقے سے لیکچر دیا تھا اور سٹوڈنٹس کے سوالات کے جواب بھی دے چکی تھی۔

”میم کیا ہم دوسرے لیکچر میں پڑھاٸی کے علاوہ کسی موضوع پر بات کر سکتے ہیں؟؟“
یہ حفصہ تھی جو بہت ہی اچھی اور باادب بچی تھی۔

”جی کیوں نہيں۔۔ مجھے اچھا لگتا ہے ہر طرح کے موضوع پر بات کرنا۔۔“
حانم خوشدلی سے مسکراٸی تھی۔
لیکن اسے یہ نہيں پتا تھا کہ وہ طوفان دوسرے لیکچر میں موجود ہوگا۔

کیسے ہو حشام بیٹا خیریت سے پہنچ گٸے تھے نا تم؟؟“
بی جان نے اسے فون کیا تھا۔

”جی بی جان۔۔ اللہ کا شکر خیریت سے پہنچ گیا تھا۔
آپ سنائیں کیسی ہیں اور حویلی میں سب خیریت ہے نا؟؟“

”سب خیریت سے ہے۔۔ روحان کیسا تھا؟؟“
بی جان کو اسکی فکر زیادہ تھی۔ وہ پیرس فون کر کے حشام یہ پوچھ رہیں تھیں وہ کیسا ہے؟
کیونکہ اسکا زیادہ علم حشام کو ہوتا تھا۔

”جی بی جان وہ ٹھیک ہے وہ ویسا ہی ہے جیسا ہونا چاہیۓ۔۔!!
حشام نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔

”کیا کر رہے ہو تم؟؟ کھانا کھا لیا تم نے؟؟“

”جی بی جان کچھ دیر پہلے یونيورسٹی سے آیا تھا پھر کھانا کھایا گھر میں ہی عصر کی نماز پڑھی ہے ابھی۔۔ آپکو فون کرنے والا تھا لیکن پہلے آپکا آگیا۔۔!!

”ماشاءاللہ میرا بچہ اللہ تمہیں سلامت رکھے اور سیدوں کے نقش ِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔۔آمین۔۔!!
بی جان نے بیٹھے بیٹھے اسے ڈھیروں دعائيں دے ڈالی تھیں۔
کچھ دیر مزید بات کرنے کے بعد بی جان نے فون بند کیا تھا۔
وہ مسکراتا ہوا بستر پر لیٹا تھا۔ باہر طرف باری نے پورے پیرس کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔
اس نے آنکهيں بند کی تھیں جب اسکے کانوں سے آواز ٹکراٸی۔

”وہ لیکچر پر بالکل نہيں دھیان دیتا۔۔!!“
ایک تیز روشنی کی چمک اسکی ٹھوڑی سے ابھری اور پل میں مدھم ہوگٸی تھی۔۔“
حشام نے جھٹ سے آنکهيں کھولی تھیں۔
ام ِحانم کا چہرہ اسکی نگاہوں میں گھوم گیا تھا۔
وہ الجھا ہوا تھا۔ شاید اسے پوچھنا چاہیے تھا کہ اسکی چن پر وہ موتی جیسا کیا ہے جو ایک چمکتا ہے اور پھر مدھم ہوجاتا ہے۔

”افف حشام بن جبیل کس بات کو لے کر سوچ میں پڑ گٸے ہو تم۔۔سو جاٶ سکون سے۔۔!!
اس نے خود کو ڈپٹا تھا اور پھر آنکهيں موند لی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکچر لینے کے بعد وہ کمپيوٹر لیب میں آگٸی تھی۔ اسے کچھ سوال پریشان کر رہے تھے۔
خاص طور پر اپنے خواب۔۔ وہ کسی کو بتانا نہيں چاہتی تھی کہ اسے خواب میں آگ جلا دیتی ہے۔۔ کوٸی اسے آگ میں پھینک دیتا ہے۔۔
لیکن وہ یہ جاننا چاہتی تھی کہ خواب کیوں آتے ہیں۔۔؟؟
اسکے پاس انٹرنيٹ کی سہولت موجود نہيں تھی۔ لحاظہ کالج کی یہ لیب اسکے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی تھی۔

کمپيوٹر لیب میں کلاس ہورہی تھی۔

”گڈ مارننگ میم“
ایک سٹوڈنٹ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ اتنے دنوں میں کافی سٹوڈنٹس کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ وہاں ٹیچر ہے لحاظہ اب وہ اسے سلام کر دیتے تھے۔

”سر آپکو کوٸی مسٸلہ تو نہيں ہوگا اگر میں کمپيوٹر استعمال کرلوں۔۔؟؟“
حانم نے کلاس لیتے سر سے پوچھا تھا۔

”نہيں کوٸی مسٸلہ نہيں آپ کام کر سکتی ہیں۔۔!!

”شکریہ۔۔“
وہ مسکرا کر کہتے ہوئے ایک کونے میں بیٹھ گٸی تھی۔
”ہم خواب کیوں دیکھتے ہیں؟؟“
کمپيوٹر آن کرنے کے بعد اس نے گوگل پر سرچ کیا تھا۔
نیچے بہت سے آرٹیکل تحریریں اور کوٹیشنز نکل آٸی تھیں۔
وہ اپنی متعلقہ تحریر ڈھونڈ رہی تھی۔اور پھر اسکی نظر ایک آرٹیکل پر پڑی تھی اور پھر اس پر کلک کرنے کے بعد اس نے پڑھنا شروع کیا تھا۔

#روز_کا_پاگل_پن۔۔!!!

کل میں جس کیفیت کا شکار ہو گیا تھا اس کو صریح پاگل پن ہی کہا جا سکتا ہے۔ اگر آپ اس پر شک کا اظہار کریں تو میں اس کی پانچ وجوہات پیش کروں گا۔

مجھے وہ چیزیں نظر آ رہی تھیں جو موجود ہی نہیں تھیں، وہ سنائی دے رہا تھا، جو کوئی کہہ ہی نہیں رہا تھا۔

میں ان چیزوں کو سچ سمجھ رہا تھا جن کا ہونا ممکن ہی نہیں۔

مجھے وقت، جگہ اور اشخاص کے بارے میں کنفیوژن تھی۔

میری جذباتی کیفیت میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی تھیں۔

مجھے پر بیتے تجربات میری یادداشت سے محو ہو گئے ہیں۔ ( اور شکر ہے کہ ایسا ہوا)۔

Hallucination, Delusion, Disorientation, Affectively Labile, Amnesia

یہ پانچوں کیفیات مجھ پر طاری تھیں۔ اور آج یہ پھر میرے ساتھ ہو گا اور آپکے ساتھ بھی۔ میں خواب دیکھ رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بارے میں ہمیں اب ہی کچھ معلوم ہونا شروع ہوا ہے لیکن دماغ کی یہ حالت جو ریم نیند کہلاتی ہے اور اس کے ساتھ ہونے والے یہ ذہنی تجربات جس کو خواب کہا جاتا ہے، نہ صرف نارمل بائیولوجیکل اور نفسیاتی حالتیں ہیں بلکہ انتہائی ضروری بھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں کھوپڑی پر الیکٹروڈ رکھ کر کی جانے والی ریکارڈنگ سے سائنسدانوں کو پہلی بار دماغ میں حالتِ خواب جاری ایکٹیویٹی کا اندازہ ہونا شروع ہوا۔ لیکن اس دوران دماغ کی تھری ڈائمنشنل تصویر بنانے کیلئے ہمیں اکیسویں صدی میں دماغ کے امیج والی مشینوں کا انتظار کرنا پڑا۔ اور یہ شاندار مناظر اس قابل تھے کہ ان کے لئے اتنا طویل انتظار کیا جائے۔

اس سے ہونے والے بریک تھروز سے سگمنڈ فرائیڈ کے خیالات غلط ثابت ہو گئے جن کا تعلق نامکمل خواہشات سے تھا۔ ایک صدی تک یہ سائیکولوجی اور سائیکیٹری پر چھائے رہے تھے۔ فرائیڈ کی تھیوری میں کچھ اچھی باتیں تھیں، لیکن ان میں گہری کمزوریاں تھیں۔ ریم نیند کی نیوروسائنسی نگاہ سے ہم سائنسی لحاظ سے ٹیسٹ ایبل تھیوریز دینے کے قابل ہو گئے ہیں کہ ہم خواب کیسے دیکھتے ہیں۔ کس چیز کے بارے میں دیکھتے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ کیوں دیکھتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب ہم الیکٹروڈ کے ذریعے دماغ کی ایکٹیویٹی کو دیکھتے ہیں تو یہ ایک شور سنائی دیتا ہے، جیسا کہ کسی سٹیڈیم میں تماشائی اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہوں اور یہ نہیں پتا لگتا کہ کونسی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ کونسا حصہ خاموش ہے اور کس سٹینڈ سے اونچے نعرے لگ رہے ہیں۔ لیکن ایم آر آئی سکینر اس سٹیڈیم کو ہزاروں حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے جن میں ایکٹیویٹی کی پیمائش الگ الگ کی جا سکتی ہے اور اس سب ایکٹیویٹی کی تھری ڈی تصویر بن سکتی ہے یعنی دماغ کے درمیان میں کیا ہو رہا ہے۔ اوپر، نیچے کیا چلا رہا ہے۔ پہلی بار ان گہرے سٹرکچرز تک پہنچنا ممکن ہوا جو پہلے چھپے ہوئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب خواب شروع ہوتا ہے تو ایم آر آئی سکین دکھاتا ہے کہ کئی جگہ روشنیاں جل اٹھیں۔ چار ایسے حصے ہیں جہاں پر زیادہ ایکٹیویٹی ہے۔ دماغ کے پیچھے بصری حصوں میں، جن سے ہم دیکھ سکتے ہیں۔ موٹر کورٹیکس میں، جو حرکات کرنے والا حصہ ہے۔ یپوکیمپس اور آس پاس کے علاقے میں جو شخصی یادداشت سے متعلق ہے۔ اور دماغ کے گہرے جذباتی مرکز امگڈالا اور سنگولیٹ کورٹیکس، جو جذبات کو پیدا اور پراسس کرتے ہیں۔ خواب کی حالت میں جذباتی حصوں میں ہونے والی ایکٹیویٹی جاگنے والی حالت کے مقابلے میں تیس فیصد زیادہ ہوتی ہے!

ایک اور حیران کن چیز یہ تھی کہ دماغ کے کچھ حصے تو جیسے بند پڑے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر دائیں اور بائیں اطراف کے پری فرنٹنل کارٹیکس۔ یہ وہ حصہ ہے جو دماغ کے چیف ایگزیکٹو کا کام کرتا ہے۔ سوچ کو ترتیب دیتا ہے اور منطقی رکھتا ہے۔

خواب کو ہم ایسی حالت کہہ سکتے ہیں جہاں حرکت، جذبات، بصارت اور یادداشت تو ایکشن میں ہیں لیکن منطق کا خاص دخل نہیں۔ اب ہم خواب کی دنیا کو قریب سے جانچنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ خواب میں جذبات کی شدت ہے یا دوڑ بھاگ زیادہ ہے۔ لیکن کیا ہم خواب کی نیچر سے بڑھ کر یہ بتا سکتے ہیں کہ خواب کس بارے میں ہے؟ (کوئی خاتون ہیں یا گاڑی ہے یا پھر کھانے کی چیزیں نظر آ رہی ہیں)۔

(جوں جوں وہ تحریر پڑھ رہی تھی اسکی آنکهيں چمک رہی تھیں۔
اسکے ارد گرد کیا ہو رہا تھا وہ سب بھول گٸی تھی۔)

=> جاپان میں 2013 میں ڈاکٹر یوکی یاسو کامی ٹانی کی تحقیقاتی ٹیم نے اس کوڈ کو پہلی بار کھولا اور ہمیں ایک مشکل ایتھیکل مقام پر لے گئے ہیں۔ یہ صرف تین افراد پر کیا گیا اور نتائج ابتدائی شکل میں ہیں۔ اس میں ان افراد کے کئی روز تک ایم آر آئی سکین کئے گئے۔ جب یہ سو جاتے تھے تو خواب کے بعد ان کو جگا کر پوچھا جاتا تھا کہ انہوں نے کیا دیکھا۔ خواب کی یہ رپورٹ لی جاتی تھی۔ “میں نے ایک بڑا کانسی کا مجسمہ دیکھا، میں ایک چھوٹی پہاڑی پر تھا اور نیچے گھر، سڑکیں اور درخت تھے”۔

اس طرح کی رپورٹس اکٹھی کر کے اس کی بیس کیٹاگریاں بنائی گئیں جس کے خواب عام طور پر آتے تھے۔ گاڑیاں، کتابیں، فرنیچر، کمپیوٹر، مرد، خواتین، کھانا۔ ان رپورٹس سے اندازہ ہو جاتا تھا کہ ایک شخص کی ان موضوعات پر برین ایکٹیویٹی کیسی رہتی ہے۔ اس کو ٹیسٹ کرنے کیلیے جاگتی حالت میں ایسی تصاویر دکھائی گئیں اور پھر یہ ایکٹیویٹی دیکھی گئی کہ کیا یہ ویسے ہی ہے۔ یہ کام کسی جرم والے منظر میں ڈی این اے کی ٹیسٹنگ جیسا تھا۔

اس سب کو دیکھ کر سائنسدان اس قابل ہو گئے کہ ایم آر آئی کی تصویر دیکھ کر یہ بتا دیتے تھے کہ سونے والا خواب میں کسی مرد، کسی خاتون، کتے، بستر، پھول یا چاقو کے بارے میں دیکھ رہا ہے۔ وہ اس شخص کا ذہن پڑھ رہے تھے۔

یہ پرفیکٹ تو نہیں لیکن کامیابی کا تناسب اچھا رہا۔ اور اس سے یہ نہیں پتہ لگ سکتا تھا کہ کونسی والی خاتون خواب میں ہیں۔ لیکن یہ پتا لگ سکتا تھا کہ خواب میں کمپیوٹر گیم نہیں کھیلی جا رہی۔ اسے خواب ڈی کوڈ کرنے کا پہلا قدم کہا جا سکتا ہے۔ اس نالج سے کئی دماغی امراض میں مدد مل سکتی ہے۔ خاص طور پر ٹراما کی صورت میں آنے والے ڈراوٗنے خوابوں میں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک تنگ کرنے والا علاقہ ہے۔ اپنے خواب ایک بڑی ہی پرائیویٹ چیز رہی ہے۔ ہمارا اپنا انتخاب رہا ہے کہ ہم کس خواب کو شئیر کریں اور کس کو نہیں۔ اس تجربے میں لوگوں نے اپنی رضامندی دی تھی۔ لیکن کیا یہ کبھی سائنس سے بڑھ کر فلسفے اور ایتھکس کے علاقے میں پہنچ جائے گا؟ کیا ہم مستقبل قریب میں خواب کو اچھی طرح ڈی کوڈ کر سکیں گے؟ ایسے عمل کو جس پر، ماسوائے ایک بہت چھوٹی اقلیت کے، ہمیں خود کوئی اختیار نہیں؟ اور جب یہ ہو جائے گا تو کیا خواب دیکھنے والے کو اس کے خواب کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ کیا اس طریقے سے اس کی شخصیت کے بارے میں قیاس آرائی کرنا لگانا ٹھیک ہو گا؟ کیونکہ یہ تو ایک ایسا عمل ہے جس کا شعوری طور پر آرکیٹکٹ وہ خود نہیں؟ اور اگر وہ نہیں، تو پھر کون؟ یہ کچھ مشکل سوالات ہیں جن کا سامنا ہمیں کرنا پڑ سکتا ہے۔
#Wahara_Umbakar

پندرہ منٹ بعد ہر لفظ سمجھ کر پڑھنے پر اسے کچھ کلیٸر ہوا تھا لیکن بہت سے سوالات ابھی بھی ذہن میں گردش کر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج وہ کلاس میں موجود تھا۔
حانم اسے دیکھ کر ایک پل کیلیے ڈر گٸی تھی۔ وہ سیاہ رنگ کی ہڈی پہنے ہوا تھا جو اسکے آدھے چہرے کو چھپا کر رکھتی تھی۔
جس شخص نے خواب میں اسے دھکا دیا تھا وہ بھی ایسے ہی ڈریس میں ملبوس تھا۔
حانم نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے خود کو نارمل کیا۔ اور اسے حیرت ہو رہی تھی کہ مقررہ وقت پر وہ کیسے آگیا؟
لیکن اسکی نظریں ابھی بھی کھڑکی سے باہر تھیں۔
حانم نے شکر ادا کیا تھا۔
وہ اسے مکمل طور پر نظر انداز کر رہی تھی۔

”میم کیا میں آپ سے کچھ پوچھ سکتا ہوں؟؟“
ایک سٹوڈنٹ نے سوال کیا تھا۔

”جی بالکل۔“
وہ پڑھانے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی کچھ دلچسپ موضوعات پر ان سے بات کر لیتی تھی۔

”میم مجھے خواب کیوں آتے ہیں؟؟
اسکے سوال پر حانم چونکی تھی۔ وہ خود بھی اسی سوال کا جواب ڈھونڈ رہی تھی۔

”کیونکہ ہم سوتے ہیں بدھو۔۔!!
کسی نے اسکا مذاق اڑایا تھا اور پوری کلاس میں دبی دبی سی ہنسی گونج گٸ تھی۔

”بہت اچھا سوال ہے آپکا۔۔ خوابوں کا ذکر اسلام میں بھی ہے۔

حضرت مُحَمَّد ﷺ نے فرمایا تھا کہ” ہمیں اپنے خوابوں پر دھیان دینا چاہیے وہ اللہ کی طرف سے ہمارے لیے پیغام ہوتے ہیں“

لیکن کبھی کبھی شیطان ہمیں بہکا دیتا ہے۔
ہر خواب اللہ کی طرف نہيں ہوتا۔ بلکہ کچھ ایسے خواب جن کا ہماری زندگی سے گہرا تعلق ہوتا ہے وہی سچے ہوتے ہیں۔

بعض اوقات ہمیں خبردار کردیا جاتا ہے آنےوالے خطرات سے۔۔ بعض اوقات ہم سارا دن جو سوچتے ہیں جو چیز ہمیں پریشان کرتی وہ اکثر خواب کا روپ دھار لیتی ہے۔“

”میم کیا ہر انسان کا خواب سچا ہوتا ہے؟؟“

”نہيں۔۔۔ ضروری نہيں۔۔ اصحاب کشف لوگ نیک ہوتے ہیں۔۔ اور۔۔

”میرے بارے میں کیا خیال ہے مس۔۔ میں اپنے خوابوں کو کنٹرول کر سکتا ہوں۔۔ میں ایک Lucid dreamer ہوں۔۔ اور میرا ہر خواب سچا ہوتا ہے جبکہ میں کسی بنانے والے کو نہيں مانتا۔۔۔؟؟“
سب سے پیچھے بیٹھے آرجے کی آواز کلاس روم میں گونجی تھی۔ حانم تو اسکی بات سن کر دنگ رہ گٸی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: