Sulphite Novel by Noor Rajput – Last Episode 58

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – آخری قسط نمبر 58

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

”تم نے حانم سے ہی شادی کیوں کی؟؟ میرا مطلب محبت کے علاوہ کوٸی وجہ بتاٶ؟؟“
ایلف نے اپنے ساتھ چلتے ہوٸے روحان سے پوچھا تھا۔ وہ دونوں لیب سے باہر نکلے تھے۔
ایلف پروفيسر جسٹن سے ملنے لیب آٸی تھی اور وہیں اسے روحان ملا تھا۔

”وہ میرے جیسی ہے___!!“
روحان نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔

”اچھا۔۔ لیکن مجھے ایسا محسوس نہيں ہوا، میں اس سے دو بار ملی ہوں__ یا شاید میں اسے سمجھ نہيں پاٸی__“
ایلف نے اپنے دل کی بات کی تھی۔

”وہ ام حانم ہے ایلف__ آپ اسے اتنی جلدی سمجھ نہيں پاٸیں گی__“
روحان کے لہجے میں سرشاری تھی، مان تھا، سب کچھ تھا۔
ایلف بس دیکھ کر رہ گٸی تھی۔

”تم ابھی تک اسے گھمانے نہيں لے کر گٸے؟؟“
ایلف نے بات بدلی تھی۔

”وقت نہيں ملا پہلے تو___ اور ابھی میرے پاس اتنے پیسے نہيں ہیں کہ میں اسے دنیا کی سیر کروا سکوں۔“

”کیا واقعی؟؟ میں نے سنا تمہارے آباٶ اجداد کافی امیر رہے ہیں__ اور میں یہ بھی جانتی ہوں تمہارے نام کروڑوں کی جاٸیداد ہے پھر تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟؟“

”لیکن وہ سب میری کماٸی سے تو نہيں بنا نا؟؟ وہ مجھے وراثت میں ملا ہے__اسے میں کسی اور مقصد کیلیۓ استعمال کرونگا۔ میں چاہتا ہوں حانم کی ہر ضرورت ہر خواہش کو میں اپنی محنت کی کماٸی سے پورا کروں___ وہ میری ذمہداری ہے__اور میری ہی ہے، اس پر جو بھی خرچ ہو وہ میرا ہو__!!“
روحان کافی سنجيدہ تھا۔

”وہ تم سے کچھ نہيں مانگتی کیا؟؟“
ایلف نے اپنی تیز ہوتی دھڑکن کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی۔

”ابھی تک تو نہيں__“

”چلو اچھی بات ہے لیکن یاد رکھو کہ اسے پورا وقت دیا کرو۔۔ اگر تم اسے وقت نہيں دو گے تو وہ تم سے دور ہو جاٸے گی__ اور یہ وقت بار بار نہيں آتا__!!“
ایلف نے اسے سمجھایا تھا۔ اور روحان اسکی بات سمجھ بھی گیا تھا۔

”میں پوری کوشش کرونگا__“
وہ مسکرادیا تھا۔

”اوکے پھر ملیں گے۔“
وہ مسکرا کر کہتی جاچکی تھی۔
روحان کی نگاہوں نے دور تک برف کی ملکہ کا پیچھا کیا تھا جسکے دل کی حالت وہ سمجھ سکتا تھا__ وہ کوٸی عام یا سطحی لڑکی نہيں تھی جو اپنے جذبات کے سامنے کمزور پڑ جاتی___ وہ ایلف تھی___ دنیا بدلنے کی صلاحيت رکھنے والی ایلف آسکر___
__________________________

”روحان مجھے پیسے چاہیٸیں__!!“
وہ کتاب پڑھنے میں مگن تھا جب حانم وہاں وارد ہوٸی۔

”کتنے__؟؟“
وہ حیران ہوا تھا۔ حانم نے پہلی بار اس سے کچھ مانگا تھا۔

”ایک لاکھ۔۔“
حانم نے بنا دیکھے جواب دیا تھا۔

”ایک لاکھ؟؟ خیریت؟؟“
وہ اب سیدھا ہوا تھا۔ کچھ دنوں سے وہ حانم جو جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا تھا__ وہ شاید دیکھنا چاہتا تھا کہ اسکے نظر انداز کرنے سے حانم کو فرق پڑتا تھا یا نہيں__
اور شاید پڑتا تھا اسکا انداز بتاتا تھا۔

”شاپنگ کرنے جانا ہے۔“

”کس کے ساتھ؟؟“
روحان کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ اسے یوں اچانک بیٹھے بٹھاٸے شاپنگ کا شوق کیسے چڑھ گیا تھا۔

”ایمی کے ساتھ۔۔“
وہ اسے دیکھنے سے مکمل اجتناب کر رہی تھی۔

”ایمی۔۔؟؟“
روحان چونکا۔

”اچھا تو ایمی میری بیوی کو ورغلا رہی ہے۔“
اس نے دل میں سوچا تھا۔

”وہ تم میرے ساتھ بھی جا سکتی ہو۔“

”آپ کے پاس میرے لیۓ وقت نہيں ہے۔ اور نا ہی میری قدر ہے آپکو اب بس میں اپنی فرینڈز کے ساتھ شاپنگ پر جایا کرونگی۔“

”بیٹھ جاٶ حانم۔۔“
روحان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے بٹھایا تھا۔ اسکی لرزتی پلکوں سے وہ اندازہ لگا سکتا کہ اس وقت وہ خود پر اور اپنے غصے پر ضبط کر رہی تھی۔

”ایک لاکھ کی شاپنگ کروگی؟؟“

”ہاں۔۔“

”لیکن میرے پاس تو اتنے پیسے نہيں ہیں۔“

روحان کی بات سن کر حانم نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
اسکا ہاتھ ابھی بھی روحان کے ہاتھوں میں تھا۔

”ہاں نا۔۔ میری تنخواہ ابھی بہت کم ہے۔ اس گھر کے کچھ پیسے ادا کرنے تھے وہ ادا کیۓ ہیں میں نے__ میرے اکاؤنٹ میں پچاس ہزار بچے ہوٸے ہیں اگر تم چاہو تو وہ سارے لے سکتی ہو۔۔ لیکن میں چاہتا ہوں تم شاپنگ کرنے میرے ساتھ جاٶ۔۔ نا کہ ایمی یا کسی اور کے ساتھ__ ہاں البتہ تم گھومنے جانا چاہو تو جا سکتی ہو انکے ساتھ__
کیا تم کم تنخواہ میں گزارا کرلو گی میرے ساتھ؟؟ تب تک جب تک میں امیر نہيں ہوجاتا___؟؟“
وہ سادگی لیۓ پوچھ رہا تھا۔ اسکی امیر ہونے کی بات سن کر حانم کو ہنسی آٸی تھی جسے وہ ضبط کر گٸی تھی۔
اسے وہ وقت یاد تھا جب انکے گھر میں مہینے کے بیس ہزار مشکل سے آتے تھے۔
وہ وقت بھی اس نے بنا کوٸی شکوہ کیۓ گزارا تھا۔

”کچھ بولو بھی۔۔“
اسے خاموش دیکھ کر روحان بولا تھا۔

”لندن میں رہ کر بھی آپ غریب ہیں کمال ہے__ لوگ تو لاکھوں کماتے ہیں۔“
حانم نے جان بوجھ کر اسے چھیڑا تھا۔

”ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو، میں سوچ رہا ہوں ایک اور جاب شروع کردوں__“

”ضرورت نہيں ہے__“
حانم نے خفگی سے کہا۔

”بی جان نے میرے اکاؤنٹ میں کافی بڑی رقم ٹرانسفر کی ہوٸی ہے اور بابا ساٸیں بھی کرواتے رہتے ہیں___ آپ ان سے نہيں لیتے لیکن وہ جانتے ہیں ہمیں لندن جیسے شہر میں کبھی بھی بڑی رقم کی ضرورت پڑ سکتی ہے___ اور اگر آپکو پیسوں کی ضرورت ہو تو آپ مجھ سے ادھار لے سکتے ہیں بعد میں واپس کردیجیۓ گا__!!
حانم نے گردن اکڑاتے ہوٸے کہا تھا۔
اسکی بات سن کر روحان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری تھی۔

”شکریہ میری بات سمجھنے کیلیۓ__!!“
اس نے حانم کے ہاتھ کو ہولے سے دباتے ہوٸے کہا تھا۔

”لیکن آپکو میرا ایک کام کرنا ہوگا۔۔“

”حکم کرو“
وہ مسکرایا۔
اسکے پوچھنے پر حانم نے اسے بیسٹ کپل آف دی ایٸر کے شو کے بارے میں بتادیا تھا۔

”ہمیں وہاں جانا ہوگا__ ایک راٶنڈ میں کھیل چکی ہوں جو آنلاٸن ہوا تھا__ ہم فاٸنل میں پہنچ چکے ہیں__ میں بہت خوش ہوں، ایک منٹ رکیں میں آپکو دکھاتی ہوں__“
وہ پروجوش سی اٹھی تھی کچھ دیر بعد وہ لیپ ٹاپ اٹھا کر لاٸی تھی۔

”یہ دیکھیں__ دو کپل پہنچ چکے ہیں فاٸنل تک__ دوسرا کپل بہت مضبوط ہے__ پہلا راٶنڈ میری طرح اس لڑکی نے کھیلا ہے__“
حانم نے لڑکی کا نام بتایا تھا۔

روحان اشتیاق سے اسے دیکھ رہا تھا۔ جو بہت خوش نظر آرہی تھی۔

”مجھے جیتنے میں دلچسپی نہيں ہے، میرے لیۓ یہ گیم دلچسپ ہے__ آپ چلیں گے نا میرے ساتھ؟؟“
حانم کی آنکهوں میں امید تھی۔
روحان محبت پاش نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا__ وہ ابھی تک اسے کچھ نہيں دے پایا تھا__ سواٸے اس گھر کے اور حلال رزق کے__،
وہ پہلی بار کچھ مانگ رہی تھی۔

”ہاں میں چلوں گا۔“

”کیا واقعی؟؟“
حانم کا چہرہ دیکھنے لاٸق تھا۔ وہ ایک دم ہی کھل اٹھی تھی۔

”لیکن ایک شرط پر__ جیتنا ہمیں ہی ہوگا۔“

”ٹھیک ہے__ مجھے منظور ہے__ یہ دیکھیں یہ آخری سوال ہے، اسکا جواب آپ دیں__ یہ اضافی ہے اس سے ہمارے پواٸنٹس بڑھیں گے۔“
حانم نے لیپ ٹاپ اسکی طرف کھسکایا تھا۔ جسے روحان نے مسکرا کر پکڑا تھا۔

_______________________

”شاعری بھی بارش ہے۔۔!!
جب برسنے لگتی ہے،
سورج کی زمینوں کو رنگ بخشتی ہے
نت نٸے خیالوں کی کونپلیں
نکلتی ہیں__
اور پھر روانی پر یوں بہار آتی ہے۔۔
جیسے ٹھوس پربت سے گنگناتی
وادی میں آبشار آتی ہے،
شاعری بھی بارش ہے۔۔۔!!
ان دلوں کی دھرتی پر
غم کی آگ نے جن کو راکھ میں بدل ڈالا تھا،
ذہن و دل کا ہر جذبہ جیسے خاک کر ڈالا تھا،
ایسی زمینوں پر۔۔۔،
بارش برسنے سے فرق کچھ نہيں پڑتا
مگر اب
دل کی زمین پر بارش برسنے سے
فرق پڑنے لگا تھا___!!
بارشوں کا موسم تھا۔ حانم کو سالوں بعد آج بارش بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ وہ ٹھنڈ کی فکر نا کرتے ہوٸے بارش میں بھیگنے لگی تھی___

دل میں ایک عجیب سی ہلچل مچی تھی۔ سب اچھا لگ رہا تھا___
گرجتے بادل، برستی بارش، اسکے دل کی سوکھی زمین پر پھوار سی پڑی تھی__
اسے اپنے اندر ٹھنڈک اترتی محسوس ہوٸی تھی۔

وہ دونوں ہاتھ اٹھاٸے، چہرہ اوپر کیۓ کھڑی تھی___
وہ چاہتی تھی آج کی بارش اتنا برسے کہ جل تھل کردے__

”حانم تم کیا کر رہی ہو؟؟ بیمار ہوجاٶ گی پاگل لڑکی۔“
روحان کی آواز پر وہ چونکی تھی۔ جو ابھی گھر آیا تھا۔ آج وہ جلدی آگیا تھا۔ شام سات بجے شو تھا۔ انہيں جانا تھا۔
روحان تیز تیز قدم اٹھاتا اس تک گیا تھا اور پھر بازو سے پکڑ کر اسے اندر لایا تھا۔

”کیا ہوگیا ہے تمہیں؟؟ پتا ہے ابھی ٹھنڈ بہت ہے۔۔“
وہ اسے پریشانی سے دیکھ رہا تھا۔ حانم کو اسکا یوں پریشان ہونا اچھا لگا تھا۔

”آج کی بارش حسین ہے نا روحان؟؟“
وہ پوچھ رہی تھی۔
اسکی آنکهوں کی چمک دیکھ کر روحان کو سالوں پہلے والا وہ منظر یاد آگیا تھا جب اسکا دل وہ نم آنکهوں والی لڑکی کا شکار ہوا تھا۔
جو اپنا فون اس سے چھین کر لے گٸی تھی اور وہ ”ڈونٹ ٹچ ماٸی فون مگلز“
والے الفاظ پر دیر تک ہنستا رہا تھا۔

”ہاں بارش بہت حسین ہے__“
وہ اسکے چہرے کو دیکھتے ہوٸے بولا تھا۔

”لیکن شاید تم بھول گٸی ہو ہمیں شو میں جانا ہے اور پانچ بج چکے ہیں۔۔“
روحان نے اسے یاد دلایا۔

”ارے ہاں میں تو بھول ہی گٸی تھی__ پیچھے ہٹیں آپ بھی نا۔۔ مجھے باتوں میں لگا لیا__اور دیر کروادی۔۔ابھی تو تیار بھی ہونا ہے۔۔“
وہ اس پر الزام لگاتی اسے ہاتھوں سے پرے دھکیلتی کمرے کی جانب بھاگی تھی۔

”میں نے باتوں میں لگایا؟؟“
روحان تو اسکے نٸے الزام پر عش عش کر اٹھا تھا اور پھر مسکرا کر اسکے پیچھے قدم بڑھا دیے__!!

___________________________

وہ دونوں تیار ہو رہے تھے۔ حانم نے اپنا کوٹ پہنتے ہوٸے ایک نظر اپنے پیچھے کھڑے روحان کو دیکھا تھا جو مصروف سا اپنی کف کے بٹن بند کر رہا تھا۔
وہ کافی وجیہہ لگ رہا تھا__

”ایک بات بتائیں مجھے__“

”ہمم پوچھو۔۔“

”جنت میں مردوں کو حوریں ملیں گی تو عورتوں کے لیے کیا ہے؟؟
قرآن کریم کے مطابق کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا تو اسے حور، یعنی خوبصورت دو شیزہ دی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ جب کوئی عورت جنت میں جائے گی تو اسے کیا دیا جائے گا ؟“

حانم کے سوال پر روحان کے ہاتھ ساکت ہوٸے تھے۔ اسکا دل اچانک دھڑکا تھا۔ حانم نے یہ سوال کیوں کیا تھا۔۔ کچھ کچھ وہ سمجھ رہا تھا__ لیکن اسے یقين نہيں ہو رہا تھا___ کیا واقعی وہ ایسا سوچ رہی تھی__

اگر روحان جنت میں جاتا تو اسے حوریں ملتیں___ اور حانم؟؟
وہ کسی اور کا ہوجاتا__!! حانم کے دل میں کسک سی اٹھی تھی۔ وہ اسکی عادی ہورہی تھی۔
اسکا دل بےچین تھا۔ اور اسکی یہ بےچینی سوال کی صورت میں باہر آٸی تھی۔

لفظ حور قرآن کریم میں کم از کم چار مختلف مقامات پر استعمال ہوا ہے۔

كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ (٥٤)

”یوں ہی ہوگا اور ہم ان کا نکاح کردیں گے بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے۔“

( سورۃ الدخان 44 آیت 54)

مَصْفُوفَةٍ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ (٢٠)

” اور ہم ان کا نکاح بڑی بڑی اور روشن آنکھوں والی حوروں سے کردیں گے۔“

( سورۃ الطور 52 آیت 20)

حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ (٧٢)

” خیموں میں ٹہرائی گئی حوریں۔“

( سورۃ الرحمن 55 آیت 72)

وَحُورٌ عِينٌ (٢٢)كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ (٢٣)

”اور ان کے لیے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی، ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔۔“

( سورۃ الواقعہ 56 آیات 22 تا 23)

”حور کا مطلب کیا ہے؟؟“
روحان نے اسے کندھوں سے تھام کر اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا اب وہ نرمی سے پوچھ رہا تھا۔

”حور مطلب خوبصورت دوشیزہ۔۔۔“
حانم نے جواب دیا تھا۔ جسے سن کر روحان کے لبوں پر نرم سی مسکراہٹ ابھری تھی۔

”ٹھیک کہا تم نے۔۔قرآن کریم کے بہت سے مترجمین نے لفظ حور کا ترجمہ خصوصاً اردو تراجم میں خوبصورت دوشیزائیں یا لڑکیاں کیا ہے۔ اس صورت میں وہ صرف مردوں کے لیے ہوں گی۔ تب جنت میں جانے والی عورتوں کے لیے کیا ہوگا ؟

لفظ ”حُور“فی الواقع اَحوَر ( مردوں کے لیے قابل اطلاق یعنی مذکر ) اور حَورَاء ( عورتوں کے لیے قابل اطلاق یعنی مونث ) دونوں کا صیغہ جمع ہے اور یہ ایک ایسے شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی آنکھیں حَوَر سے متصف ہوں، جو جنت میں جانے والے مردوں اور خواتین کی صالح ارواح کو بخشی جانے والی خصوصی صفت ہے اور یہ روحانی آنکھ کے سفید حصے کی انتہائی اجلی رنگت کو ظاہر کرتی ہے۔

دوسری کئی آیات میں قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ جنت میں تمہارے ازواج ، یعنی جوڑے ہوں گے۔ اور تمہیں تمہارا جوڑا یا پاکیزہ ساتھی عطاء کیا جائے گا۔ ارشاد باری تعالٰی ہے:

وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (٢٥)

”اور ( اے پیغمبر! ) جو لوگ اس کتاب پر ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، انہیں خوشخبری دے دیں کہ ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جب بھی ان میں سے کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دنیا میں دیا جاتا تھا۔ ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی، اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔“
( سورۃ البقرہ 2 آیت 25)

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا لَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلا ظَلِيلا (٥٧)

” اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کیئے، ان کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور ان کو پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں ہم گھنی چھاؤں میں رکھیں گے۔ ”
( سورۃ النساء 4 آیت 57)

لہٰذا لفظ ( حُور ”کسی خاص جنس یا صنف کے لیئے مخصوص نہیں، علامہ محمد اسد نے لفظ حور کا ترجمہ خاوند یا بیوی (Spouse) کیا ہے جبکہ علامہ عبداللہ یوسف علی نے اسکا ترجمہ (Companion) یعنی ساتھی کیا ہے۔ چنانچہ بعض علماء کے نزدیک جنت میں کسی مرد کو جو حور ملے گی وہ ایک بڑی بڑی چمکتی ہوئی آنکھوں والی خوبصورت دوشیزہ ہوگی جبکہ جنت میں داخل ہونے والی عورت کو جو ساتھی ملے گا وہ بھی بڑی بڑی روشن آنکھوں والا ہوگا___
سمجھ آٸی؟؟“

روحان نے اسکے سر سے اپنا سر ہولے سے ٹکراتے ہوٸے پوچھا تھا۔

حانم کو سمجھ آگٸی تھی لیکن اسکی الجھن دور نہيں ہوٸی تھی۔

”ہاں لیکن__

وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔

”لیکن کیا؟؟“
روحان نے پوچھا۔

”کچھ نہيں۔۔“
حانم نے اپنا رخ دوبارہ آٸینے کے سامنے کیا۔
وہ اپنے احساسات کو روحان پر عیاں نہيں ہونے دینا چاہتی تھی۔

”بولو بھی۔۔“
وہ اسے ان جان بوجھ کر چڑا رہا تھا۔

”کیا بولوں۔۔؟؟“
وہ روہانسی ہوٸی۔

”ایک جنتی عورت حوروں سے کٸی درجے بہتر ہوگی__ اور تم فکر نا کرو میں نے اس دنیا میں تمہیں چُنا ہے اور آخرت میں بھی تمہيں ہی چُنوں گا___ مجھے حوروں کی طلب نہيں رہی__مجھے ام حانم سے سروکار ہے“
وہ مسکراتے ہوٸے کہہ رہا تھا۔
حانم کا سانس اٹک سا گیا تھا۔ وہ اسکی الجھن سمجھ گیا تھا۔

”باتیں اچھی کرلیتے ہیں آپ۔۔“
حانم نے خوابناک ماحول کا اثر زاٸل کرنے کی کوشش کی تھی۔

”اور تم جتنی مرضی باتيں چھپا لو میں تمہارے دل کی کیفیت جانتا ہوں۔۔“
وہ شریر ہوا تھا۔

”تنگ کر رہے ہیں مجھے۔۔؟؟“
حانم نے گھوری سے نوازا۔

”نہيں ابھی تو تنگ کرنے کا ارادہ نہيں ہے__ ابھی تو میں چاہتا ہوں ہم وقت پر مقررہ جگہ پر پہنچ جاٸیں کیونکہ اگر ہم لیٹ ہوٸے تو ہمیشہ کی طرح الزام مجھ پر ہی آٸے گا“
وہ معصوم سی صورت بناتے ہوٸے بولا تھا۔
جبکہ حانم اسے خفگی سے دیکھنے کے بعد جوتے پہننے لگ گٸی تھی۔
وہ واقعی لیٹ نہيں ہونا چاہتی تھی۔
___________________________

وہ دونوں تیار ہو کر گھر سے نکلنے ہی لگے جب اچانک حانم کو چھینکیں آنا شروع ہوگٸی تھیں۔
وہ بری طرح سے چھینک رہی تھی۔ اسکا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔

”افف دیکھا یہ بارش میں نہانے کا نتیجہ ہے۔۔“
روحان خفا ہوا تھا۔

”میں ٹھیک ہوں۔۔“
حانم نے سر میں اٹھتی درد کی لہر کو ضبط کرتے ہوٸے کہا تھا۔
اسکی آنکهوں سے پانی نکلنا شروع ہوگیا تھا۔

”مجھے لگتا ہے فلو ہوگیا ہے۔۔“
حانم کو اپنے گلے میں بھی خراش سی محسوس ہو رہی تھی۔

”اچھا تم یہ ماسک پہن لو۔۔ اس سے تمہاری ناک ٹھنڈی ہوا سے بچی رہے گی۔“
حانم نے فرمانبرادی سے وہ ماسک لے کر پہن لیا تھا۔

”چلیں اب دیر ہو رہی ہے۔۔“
حانم پریشانی سے بولی تھی۔
جس پر روحان سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا تھا۔

________________________

شام بہت خوبصورت تھی۔ شو دیکھنے کیلیۓ سینکڑوں لوگ آٸے ہوٸے تھے۔
وہ دونوں ٹی وی پر آنے والے تھے۔

ایک بڑی سی خوبصورت ٹرافی جس پر ایک خوبصورت کپل بنا ہوا تھا سامنے رکھی تھی__ حانم کو نہيں پتا کہ وہ کس میٹریل سے بنی ہوٸی تھی۔ لیکن وہ خوب چمک رہی تھی۔

حانم نے نظر اٹھا کر کچھ فاصلے پر اپنے سامنے بیٹھے دوسرے کپل کو دیکھا تھا۔ وہ دونوں بہت پیارے تھے۔
لڑکی نے حانم کی طرح ہی حجاب کیا ہوا تھا۔ وہ دونوں ایک ساتھ بیٹھے بہت اچھے لگ رہے تھے__ مکمل__ جیسے ایک دوسرے کیلیۓ ہی بنے ہوں۔
حانم نے ایک نظر ان دونوں کو اور پھر اس ٹرافی کو دیکھا تھا___
اسکی آنکهوں کی چمک بڑھ گٸی تھی۔
سامنے بیٹھی وہ معصوم سی لڑکی بھی حانم اور روحان کو اشتیاق سے دیکھ رہی تھی___

سوال و جواب کا سلسلہ چلا تھا__ جو کافی دلچسپ رہا تھا__

”اوکے اب آپ دونوں کپلز میں سے ایک دوسرے کیلیۓ کچھ لکھے گا__ وہ شاعری بھی ہو سکتی ہے اور خوبصورت الفاظ بھی___ کوٸی پیغام بھی اور دلنشین اظہار بھی___“
میزبان کے کہنے پر وہاں بیٹھے لوگوں نے تالیاں بجاٸی تھیں۔ ہوٹنگ کرکے انکا حوصلہ بڑھایا گیا تھا۔

دونوں جوڑوں نے گیم کو سمجھتے ہوٸے سر ہلایا تھا۔

”جی تو کپل 7 آپ لوگوں سے شروع کرتے ہیں۔ آپ لوگوں کے سامنے یہ لیپ ٹاپ رکھا ہے__ اس پر دونوں میں سے ایک نے دوسرے کیلیۓ کچھ لکھنا ہے جو اس بڑی سکرین پر شو ہوگا__“

میزبان نے اپنے پیچھے دیوار پر لگی سکرین کی طرف اشارہ کیا تھا۔

”میں کچھ کہنا چاہتی ہوں__“
لڑکی نے اپنے ساتھ بیٹھے اپنے Husband سے کہا تھا۔ جو ہولے سے مسکرا دیا تھا۔

”میرے رہنما تیرا شکریہ،
کہ ہزار بار شکریہ___
میرے رہنما میری
زندگی کو___
حسین تر بنا دیا__،

لڑکی کی انگلیاں تیزی سے ٹاٸپ کر رہی تھیں۔
اسکے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ تھی۔

”میرے رہنما تیرا شکریہ
مجھے طلسماتی
شہر میں لا کر___
ایک ساحرہ بنا دیا،

میرے رہنما تیرا شکریہ
میں حسین تو تھی
لیکن مجھے___
حسین تر بنا دیا،

ہال سے واٶ اور امیزنگ کی آوازیں ابھرنے لگی تھیں۔
حانم اور روحان بھی دلچسپی سے سکرین پر ابھرنے والی شاعری پڑھ رہے تھے۔

”میرے رہنما تیرا شکریہ
میں محبتوں کی
منکر تھی___
مجھے محبتوں سے نواز دیا،

میرے رہنما تیرا شکریہ
میں اندھیروں میں
تھی کھوٸی ہوٸی___
مجھے روشنی سے ملا دیا،
میرے رہنما تیرا شکریہ

میں آج کہنا چاہتی ہوں
کہ زندگی کے ہر
ایک پل میں___
میں ساتھ رہنا چاہتی
ہوں،
مجھے اداسیوں سے نکال کر
مسکرانا سکھادیا،
میں خاموشیوں کی تھی شاعرہ
مجھے سحر پھونکنا
سکھا دیا،
مجھے راستوں کی خبر نا تھی
مجھے رہنما بنا دیا___
میرے رہنما تیرا شکریہ
میرے رہنما تیرا شکریہ__!!“

اسکے ہاتھ ساکت ہوٸے تھے۔ حانم کسی ٹرانس میں وہ شاعری پڑھ رہی تھی۔ اسکی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی__

”ویل ڈن مسز آغا___“
میزبان نے حیران ہوتے ہوٸے تعریف کی تھی اور ایک بار پھر پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔

”جی تو کپل 1 آپ دونوں میں سے کون اپنے احساسات کا اظہار کرے گا؟؟“
میزبان نے اب حانم اور روحان کی طرف دیکھتے ہوٸے پوچھا تھا۔

”میں۔۔“
روحان تیار تھا۔

”تجھے اس قدر ہیں شکایتیں
کبھی سن لے میری حکایتیں
گر تجھے نہ کوٸی ملال ہو،
میں بھی تجھ سے اک گلہ کروں

نہيں اور کچھ جواب اب
میرے پاس تیرے سوال کا
تو کرے گا کیسے یقين میرا
مجھے بتا تو دے میں کیا کروں،

حانم کی نظریں سکرین پر جمی تھیں۔ وہ بنا دیکھے بھی روحان کے تاثرات سمجھ سکتی تھی۔
وہ اسکے جذبات کو محسوس کر سکتی تھی۔

یہ جو بھولنے کا سوال ہے
میری جان یہ بھی کمال ہے
تو نماز عشق ہے جان ِ جہاں
تجھے رات و دن ادا کروں

تیرا پیار تیری محبتیں
میری زندگی کی عبادتیں
جو ہو جسم و جاں میں رواں دواں
اسے کیسے خود سے جدا کروں

تو ہی دل میں ہے، تو ہی نظر میں
تو ہی شام، تو ہی سحر میں ہے
جو نجات چاہوں حیات سے
تجھے بھولنے کی دعا کروں__!!

حانم نے محسوس کیا تھا روحان کے لکھے الفاظ دھندلے پڑ رہے تھے__ شاید اسکی آنکهوں میں نمی امڈ آٸی تھی۔
___________________________

”یہ بات بہت ہی حیران کن ہے کہ آج اس پلیٹ فام پر دو کپل آٸے ہیں جنکے پوائنٹس ابھی تک برابر ہیں اور تو اور وہ دونوں کپل ہی ایشین ہیں___ دیکھتے ہیں اس آخری سوال کا جواب کون سا کپل دے کر آج کا بیسٹ کپل کہلاٸے گا۔“
میزبان کافی پرجوش تھا۔

”تو کپل 7 پہلے سوال آپ لوگوں سے ہوگا۔ مسز آغا آپ جانتی ہیں کہ مسٹر آغا پہلے سے شادی شدہ تھے__ پہلے بھی محبت ہوٸی ہوگی انہيں، اور کیا پتا آپ کے بعد بھی کسی سے ہوجاٸے۔۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ آپ مسٹر آغا کی کونسے والی محبت ہیں؟؟“
حانم نے دیکھا تھا میزبان کا سوال سن کر مسٹر اور مسز آغا دونوں کے چہرے کا رنگ فق ہوا تھا۔
ہال میں ایک پل کیلیۓ سناٹا چھا گیا تھا۔

”وہ۔۔“
مسز آغا نے کچھ کہنا چاہا تھا۔

”داستان ختم ہونے والی ہے
تم میری آخری محبت ہو“

اس سے پہلے وہ کچھ بولتی مسٹر آغا نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا تھا__ لوگ ایک بار پھر حیران رہ گٸے تھے۔
وہ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس ایک شعر نے انکی حقيقت بیان کردی تھی۔

”ویری گڈ۔۔“

”تو مسز جبیل، جیسے کہ ہمیں معلوم ہوا ہے آپ دونوں ایک ہی یونيورسٹی میں پڑھتے تھے۔۔ میرا آپ سے سوال یہ کہ وہ کونسی چیز تھی جس سے مسٹر جبیل اپنی سٹوڈنٹ لاٸف میں شدید ناپسند یا نفرت کرتے تھے۔۔؟؟“
میزبان حانم سے پوچھ رہا تھا۔ حانم کے پاس ایک منٹ کا وقت تھا۔
اس نے ایک نظر اپنے سامنے بیٹھے کپل کو دیکھا پھر ٹرافی کو اور پھر روحان کو جسکی آنکهوں میں امید سی تھی___ حانم کے تاثرات کو کوٸی جانچ نہيں سکتا تھا کوٸی فلو کی وجہ سے وہ ماسک پہنے ہوٸے تھی۔

حانم نے آنکهيں بند کی ایک گہری سانس لی اور پھر جواب دیا۔

”میوزک۔۔ انہيں میوزک سے شدید نفرت تھی۔۔“
حانم نے گویا دھماکہ کیا تھا۔ روحان نے بےیقینی کی کیفیت سے حانم کو دیکھا تھا۔
اس نے غلط جواب دیا تھا۔۔ وہ حیرانگی سے حانم کو دیکھ رہا تھا جسکی آنکهوں میں کوٸی الجھن نہيں تھی۔

“Are you sure??”
میزبان نے دوبارہ پوچھا۔

”جی۔۔“
حانم نے اثبات میں سر ہلایا۔
حانم کی نظریں مسز آغا پر جا کر رکی تھیں جو حیرانی سے حانم کو دیکھ رہی تھی۔ اسکے چہرے پر بھی بےیقینی سی پھیلی تھی۔ شاید اسے بھی حانم سے اس جواب کی توقع نہيں تھی۔

__________________________

حانم اور روحان ایک خوبصورت گول میز کے گرد بیٹھے تھے۔ آج کے بیسٹ کپل کا اعلان ہوچکا تھا۔
مسٹر اور مسز آغا جیت چکے تھے۔
وہ دونوں ٹرافی ہاتھ میں لیۓ ایک ساتھ کھڑے بہت اچھے لگ رہے تھے۔
حانم نے روحان کی طرف دیکھا تھا جسکی آنکهوں کی چمک مدھم پڑ گٸی تھی۔

”حانم تم نے غلط جواب کیوں دیا؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔

”نہيں تو میں نے درست جواب دیا تھا۔ مجھے لگا اس نے پوچھا کہ تمہيں کیا چیز بہت زیادہ پسند تھی تو میں نے میوزک بول دیا__!!“
وہ جھوٹ بول رہی تھی۔

”مجھے ہارنے کا دکھ نہيں ہے بلکہ اس بات کا دکھ ہے کہ ہم بیسٹ کپل نہيں ہیں۔۔“
وہ بچوں جیسی باتیں کر رہا تھا۔
حانم کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی، کچھ لوگ انکی طرف بڑھے شاید انہوں نے روحان جبیل کو پہچان لیا تھا۔
وہ اس سے آٹو گراف لے رہے تھے۔ کچھ لوگ اسکی بیوی یعنی ام حانم کو دیکھنا چاہتے تھے لیکن وہ ماسک پہنے ہوٸے تھے جسے لوگ نقاب سمجھ رہے تھے۔کچھ دیر بعد وہ جاچکے تھے۔

”آپ کو پتا ہے وہ لوگ کیوں جیتے ہیں؟؟ وہ اس لیۓ کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں، ان دونوں میں کوٸی کمی نہيں، وہ ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہیں۔۔“
حانم بتا رہی تھی۔

”کیا ہم میں کوٸی کمی ہے؟؟ کیا ہم مکمل نہيں ہیں؟؟ کیا ہماری محبت میں کمی ہے؟؟“
روحان اسکی آنکهوں میں دیکھ کر پوچھ رہا تھا۔

”کمی ہے۔۔“
حانم نے عجیب سے لہجے میں جواب دیا تھا۔ روحان چونک گیا تھا۔ کچھ پل وہ اسے دیکھتا رہا تھا اور پھر اسے سمجھ آگیا تھا___
حانم اس سے اتنی محبت نہيں کرتی بلکہ شاید کرتی ہی نہيں تھی__
لیکن اسٹیج پر جو لڑکی کھڑی تھی۔ وہ اپنے ساتھ کھڑے محافظ سے بےپناہ محبت کرتی تھی۔
روحان کو وجہ سمجھ آگٸی تھی۔

”اگر میں درست جواب دیتی تو یقيناً ہم بھی بیسٹ کپل کہلاتے لیکن زیادتی ہوتی__ ہم دونوں جانتے ہیں حقيقت کچھ اور ہے__!!“
حانم کے الفاظ کسی ہتھوڑے کی طرح روحان کی سماعت سے ٹکرا رہے تھے۔
اسے افسوس ہو رہا تھا__صد افسوس
وہ حانم کے دل میں اپنے لیۓ محبت پیدا نہيں کر سکا تھا۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا انہوں نے مسز آغا کو اپنی طرف بڑھتے پایا تھا۔
وہ مسکرا کر انکی طرف آرہی تھی۔

”اسلام و علیکم!“
اس نے سلام کیا تھا جسکا جواب دونوں نے خوشدلی سے دیا تھا۔

”میرا نام حرم ہے__ حرم نور__اور وہ میرے ہسبنڈ ہیں ڈاکٹر فرہاد آغا___ ایک نیورولوجسٹ__ شاید آپ دونوں ہمیں نہيں جانتے لیکن میں آپ دونوں کو بہت اچھے سے جانتی ہوں۔“
وہ مسکراٸی تھی۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی ٹرافی حانم کے سامنے کی تھی۔

”میری طرف سے یہ ایوارڈ آپ دونوں کیلیۓ ہے__ دو عجیب لوگوں کیلیۓ___ جنکی زندگی کے سات پہروں کو میں جانتی ہوں__“
وہ پراسرار سے لہجے میں کہہ رہی تھی۔

”پکڑ لیں۔۔“
حانم کے ٹرافی نا پکڑنے پر اس نے دوبارہ کہا تھا۔ جس پر حانم نے وہ ٹرافی لے کر میز پر رکھ دی تھی۔

”میں آتا ہوں۔۔“
روحان ایکسکیوز کرتا وہاں سے اٹھ گیا تھا۔ وہ اب دونوں کو باتیں کرنے دینا چاہتا تھا۔

”پتا ہے میں سمجھتی تھی کہ دنیا میں صرف میں اور ہادی ہی وہ واحد کپل ہیں جنکی زندگی کی کہانی عجیب و غریب ہے__ لیکن جب میں نے اپنے مدمقابل دو مزید لوگوں کو تو پایا تو مجھے تجسس ہوا___ روحان جبیل جسے پورا لندن جانتا ہے جس انسان کے لیکچر میں بہت شوق سے سنتی ہوں__ جو ایک سلفاٸیٹ ہے اسکا کپل ہمارے مقابلے میں تھا__
پتا ہے میں یہاں جیتنے کیلیۓ نہيں آٸی تھی بلکہ میں دو ایسے لوگوں سے ملنا چاہتی تھی جو سلفاٸیٹ تھے___“

حانم حیرت سے اس لڑکی کو سن رہی تھی جو نازک سی تھی۔
شاید وہ اس سے کم عمر تھی۔

”میری اور ہادی کی شادی کو چار سال ہونے والے ہیں اور ہم پچھلے دو سالوں سے لندن میں ہیں__ ہادی یہاں ہاسپٹل میں ایک نیوروسرجن کے طور پرکام کرتے ہیں، میں کبھی اتنے تجسس کا شکار نہيں ہوٸی تھی__ مجھے کبھی کسی جوڑے کے متعلق جاننے کا اتنا اشتیاق نہيں ہوا تھا__ جتنا روحان جبیل اور ام حانم کو جاننے کا ہوا__
میں نے زندگی میں پہلی بار ایش بن کر اپنے سیم سے کچھ مانگا تھا__ اور وہ تھا روحان جبیل اور ام حانم کی ابتدائی زندگی کے بارے میں__جسے لندن میں کوٸی نہيں جانتا لیکن میں جان گٸی اور پہچان بھی گٸی__!!

اور میں آرجے کو جان کر حیران رہ گٸی__مجھے محسوس ہوتا تھا کہ آپ دونوں کے درمیان کچھ غیر معمولی تھا___ اور جب میں نے اس کہانی کے زندگی چھ پہر جانے تو میں رو دی تھی___

آپ دونوں کی شادی کو شاید دو سال ہوٸے ہیں لیکن آپ دونوں کا رشتہ سالوں سے چلتا آرہا ہے__ تب سے جب میں اور ہادی ایک دوسرے کو جانتے بھی نہيں تھے، جب ہادی کی زندگی میں کوٸی اور تھی__
میں دل سے چاہتی تھی کہ اس جوڑے کو آج کا ایوارڈ ملے جنہوں نے بہت کچھ کھویا ہے___

اور میں یہ بھی جانتی ہوں آپ نے غلط جواب دیا تھا___ ایسا کیوں؟؟
حانم جو سانس روکے اسے سن رہی تھی اسکے سوال پر چونکی تھی۔
اسکی زندگی کی ساری فلم آنکهوں کے سامنے گھوم گٸی تھی۔

” کیونکہ میری طرف سے محبت کی کمی ہے شاید اس لیۓ__!!“
حانم نے سچ بولا تھا۔

”کوٸی بات نہيں ایک دن یہ کمی آخری محبت کا روپ دھار لے گی___“
وہ مسکراٸی تھی۔

”پتا ہے میں آپ دونوں کی بہت عزت کرتی ہوں خاص طور پر مسٹر روحان جبیل کی__ میرے دل میں آپ دونوں کیلیۓ ایک عقیدت سی پیدا ہوگٸی ہے__!!“
حرم کی باتيں حانم کو جھنجھوڑ رہی تھیں۔

”ایک بار آنکهيں بند کرکے محسوس کرنے کی کوشش کریں آپکو ہر طرف محبت ہی نظر آٸے گی___کیونکہ خاص لوگوں کے نزدیک نفرت کا کیا کام؟؟ مجھے خوشی ہوٸی ایک سلفاٸیٹ سے مل کر__!!“
اس نے میز پر رکھے حانم کے ہاتھ کو تھامتے ہوٸے کہا تھا۔ جس پر حانم مسکرا دی تھی۔ اسے یہ معصوم سی لڑکی بہت اچھی لگی تھی۔
_________________________

”مجھے لگتا تھا کہ ح سے شروع ہو کر م پر ختم ہونے والے نام کی لڑکی صرف میرے پاس ہی ہے__ لیکن میرا اندازہ غلط تھا__!!“
روحان جبیل اس وقت فرہاد آغا کے پاس کھڑا تھا۔یقيناً اسکا اشارہ حرم کی طرف تھا۔

”بہت کچھ ایک سا ہو کر بھی بہت الگ ہوتا ہے_ ہر کہانی دوسری کہانی سے ایک فرق رکھتی ہے_ جو کہ کہانی کا امتیاز ہوتا ہے، دو الگ دنیاٶں کے لوگ جب ملتے ہیں تو خوشگوار سا احساس پیدا ہوتا ہے__ اور اس احساس کو میں اس وقت محسوس کر سکتا ہوں ینگ میں__ تم ایک بہترین فریضہ سر انجام دے رہے ہو__ مجھے امید ہے اگلے سال ایک اور ٹرافی تم لوگوں کی نظر ہوگی__!!“
فرہاد نے اسکا کندھا تپھتھپاتے ہوٸے کہا تھا۔

پھر وہ دونوں اس میز کی طرف بڑھ گٸے۔

”چلیں حرم__ مجھے ہاسپٹل جانا ہے ایک مریض کا چیک اپ کرنے__!!“
وہ نرم لہجے میں کہہ رہا تھا۔

”بہت جلد آپ لوگوں سے دوبارہ ملاقات ہوگی__“
وہ اپنی بڑی سی اونی شال سنبهالتے ہوٸے بولی تھی اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی پھر اس نے اپنا ہاتھ ڈاکٹر فرہاد آغا کے بڑھے ہوٸے ہاتھ میں تھما دیا تھا__ چند ہی لمحوں کے بعد وہ لوگ نظروں سے اوجھل ہوگٸے تھے۔

”اس ٹرافی کا کیا کرنا ہے؟؟“
روحان نے میز پر رکھی چمکتی ٹرافی کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا۔

”یہ ایک خوبصورت تحفہ ہے میرے لیۓ__ میں اسے سنبهال کر رکھوں گی۔“
حانم مسکراتے ہوٸے اٹھی تھی۔

”اور اگلے سال؟؟“
روحان نے عجیب سے لہجے میں پوچھا تھا۔

”اگلے سال شاید ہم جیت جاٸیں۔۔“
حانم نے مسکرا کر پراسرار لہجے میں جواب دیا تھا۔
_____________________________

موسم ابر آلود ہو رہا تھا۔ روحان گھر نہيں تھا۔ حانم کو بوریت ہو رہی تھی۔
وہ باہر نکلی تو ٹھنڈی ہوا نے اس پر ایک خوشگوار سا احساس چھوڑا تھا۔

وہ فٹافٹ اندر گٸی برساتی پہننے کے بعد باہر آٸی تھی۔
پچھلے دو دنوں سے اسے ہلکا ہلکا بخار تھا۔ روحان نے آج جلدی آنے کا کہا تھا مگر وہ ابھی تک نہيں آیا تھا۔
خود کو اچھی طرح کور کرنے بعد باہر نکل گٸی تھی۔
کھکی بڑی سیاہ پتھروں سے بنی سڑک پر چلتے ہوٸے وہ آس پاس موجود گھروں کو دیکھ رہی تھی۔ ایک خوشگوار سا احساس اسکے ارد گرد لپٹا تھا۔
وہ لاٸن کے آخر تک بھی نہيں پہنچی تھی جب ہلکی ہلکی بارش نے لندن کو بیھگانا شروع کیا۔
حانم نے سر اٹھا کر ایک نظر آسمان کو دیکھا جو سیاہ ہو رہا تھا اور پھر زمین کو جو گیلی ہو رہی تھی۔ وہ واپس جانے کیلیۓ مڑی ہی تھی کہ دھک سے رہ گٸی۔
اسکے پیچھے روحان کھڑا تھا۔ جسکے ہاتھ میں چھاتہ تھا۔

”یہاں کیا کر رہی ہو؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔

”بس ایسے ہی دل کیا تو باہر نکل آٸی۔۔ آپ کب آٸے؟؟

”جب تم گھر سے باہر نکلی تھی تب ہی میں آیا تھا۔۔ میں نے تمہيں چھتری کے بغیر دیکھا تو اسے اٹھا کر تمہارے پیچھے ہی آگیا تم خود کا خیال نہيں رکھتی ہو___!!“
وہ نرم لہجے میں بول رہا تھا۔
ٹھنڈی ہواٸیں چل رہی تھیں۔

”میں تمہارے لیۓ کچھ لایا ہوں۔۔“
روحان کی بات پر حانم نے چونک کر اسے دیکھا۔

”کیا۔۔؟؟“
روحان نے ایک ہاتھ اپنی جیکٹ کے اندر ڈالا اور ایک فوٹو فریم باہر نکالا۔

”تم وہ واحد لڑکی ہو اُم حانم جسکے ساتھ آرجے بیٹھا ہوا دل سے مسکرا رہا تھا___ میں نے ایسی چمک کبھی آرجے کی آنکهوں میں نہيں دیکھی تھی اور نہ ہی کسی لڑکی کے چہرے سے پھوٹتی روشنی___تم دونوں ایک دوسرے کے سنگ بہت مکمل لگ رہے تھے__ جب بھی میں اس تصویر کو دیکھتا ہوں مجھے ہمیشہ لگتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کیلیۓ بنے ہو___!!!“
مرتضی

”سالوں پہلے یہ مجھے کسی نے گفٹ دیا تھا کہ کسی طرح تم تک پہنچادوں۔ “

حانم حیرت سے اس تصویر کو دیکھ رہی تھی۔ اس تصویر میں وہ دونوں بہت مکمل نظر آرہے تھے۔
غصے سے گھورتی ہوٸی ہانی اور قہقہے لگاتا آرجے__

”یہ کافی خوبصورت ہے__“
حانم کی آنکهيں چمکی تھیں۔

”ہاں۔۔ جب میں نے پہلی بار اسے دیکھا تو مجھے بھی یہی محسوس ہوا تھا۔“

” اس تصویر میں مرتضی تم سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ کیا تم اُسکا پیغام سمجھ سکتی ہو؟؟“
روحان نے امید سے اسکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوٸے پوچھا تھا۔

”جانتی ہوں، اور پیغام بھی سمجھ چکی ہوں۔۔“
وہ مسکراٸی تھی۔

باٸیں ساٸیڈ پر بنے گھر کی اوپری منزل کی بالکونی میں جس میں کھڑکی تھی ایلف کھڑی اپنی بند ہوتی دھڑکن کے ساتھ دونوں کو دیکھ رہی تھی۔

”تو پھر اتنے فاصلے کیوں حانم؟؟“
اس نے حانم کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔ وہ اب التجاٸیہ لہجے میں پوچھ رہا تھا۔
حانم کا ہاتھ روحان کے سینے پر دل کے مقام پر رکھا تھا۔ وہ اسکے دل کی دھڑکن محسوس کر سکتی تھی۔ وہ دونوں ایک چھاتے کے نیچےتھے۔

”اور کتنے امتحان لو گی۔؟؟“

”کیوں تھک گٸے آپ؟؟“
حانم نے الٹا سوال کیا تھا۔

”نہيں، ڈر لگتا ہے امید ٹوٹ نہ جاٸے۔۔“
اسکے جواب پر حانم نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
روحان کی آنکهيں بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔ وہ پھر سے نظریں چرا گٸی تھی۔

”چلو۔۔ کرلو ستم جتنے تمہارا دل چاہے ظالم لڑکی__“
روحان نے ایک گہری سانس لی تھی۔
حانم خاموش کھڑی تھی اسکی نظریں روحان کے سینے پر تھی۔ اسکے ہاتھ میں حرکت ہوٸی تھی۔
روحان کو کچھ محسوس ہوا تھا اور پھر اسے اپنی دھڑکن بند ہوتی محسوس ہوٸی تھی۔

”حانم___“
حانم نے شہادت کی انگلی سے اسکے دل کے مقام پر اپنا نام لکھا تھا۔

”مجھے اور کوٸی امتحان نہيں لینا__ بس اب جینا ہے، ایک نٸی زندگی جینی ہے___ آپکے ساتھ__!!“
وہ چہرے پر ہزاروں دلکش رنگ سجاٸے کہہ رہی تھی۔ روحان کو اسکا یہ انداز پسند آیا تھا۔

ایلف نے دونوں کو قریب کھڑے پایا تھا، وہ دونوں ہی بہت خوش نظر آرہے تھے۔
مکمل__، ایلف کی آنکهيں نم ہوٸی تھیں اور پھر اس نے کھڑکی بند کردی تھی۔
وہ نہيں چاہتی تھی اسکے آنسوں ان دونوں کی زندگی میں کوٸی مشکل لاٸیں۔

“There is no GOd”
اس سے پہلے روحان کچھ کہتا اچانک ابھرنے والی آواز ان دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراٸی تھی۔

ان سے کچھ فاصلے پر ایک لڑکا عجیب و غریب حلیے میں ”کوٸی خدا نہيں“ کے نعرہ لگا رہے تھے۔
اسکے پیچھے کچھ اور لڑکے اور لڑکياں تھیں۔
وہ شاید سٹوڈنٹس تھے۔

روحان نے گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ اور اسے آرجے یاد آگیا تھا۔

“There is no DOD”
وہ پھر چلایا تھا۔

“BUT Allah”
” لیکن سواٸے اللہ کے“
ٕحانم چونکی تھی۔ دوسرا فقرہ روحان نے بولا تھا۔

“There is no DOD”
وہ لڑکا غصے سے چلایا تھا اور کھا جانے والی نظروں سے روحان کو گھور رہا تھا۔
“BUT Allah”
روحان جبیل کونسا باز آنے والا تھا۔

“What the Hell”
وہ بپھرا ہوا انکی طرف بڑھا تھا۔

”کیا مسٸلہ ہے تمہیں؟؟“
وہ روحان جبیل کے سامنے کھڑا پوچھ رہا تھا۔
اور پھر اچانک چونک کر خاموش ہوگیا تھا۔

”آرجے۔۔۔؟؟“
اسکی آنکهيں حیرت سے پھیلی تھیں۔

”تم آرجے ہو نا؟؟ وہی آرجے جو کہتا تھا کہ کوٸی خدا نہيں۔۔؟؟“
وہ حیرت سے دنگ چہرے کے ساتھ پوچھ رہا تھا۔

”ہاں کوٸی خدا نہيں سواٸے اللہ کے__“
روحان نے جواب دیا تھا۔

اسکی بات سن کر لڑکے کی تیوری چڑھی تھی۔

”نہيں میں نہيں مانتا__“
وہ غصے سے غراتا آگے بڑھ گیا تھا۔

“There is no GOd”
اس نے پھر نعرہ لگایا تھا۔

“BUt Allah”
روحان نے پھر جواب دیا تھا۔
حانم دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔
وہ گروپ ابھی نظروں سے اوجھل نہيں ہوا تھا البتہ کافی دور جاچکا تھا۔ وہ لڑکا اب خاموش ہوگیا تھا۔ اس نے نعرے لگانے بند کر دیے تھے۔

”تمہیں کیا لگتا ہے حانم کیا ہونے والا ہے؟؟“
روحان نے اس لڑکے کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوٸے پوچھا تھا۔

”مجھے لگتا ہے کوٸی حانم پھر سے ڈپریشن میں جانے والی ہے۔۔“
حانم نے سرد آہ بھرتے ہوٸے جواب دیا تھا۔

وہ لڑکا اب ایک گھر کے سامنے رکا تھا جہاں سے ایک لڑکی باہر نکلی تھی۔
وہ لڑکی سے کچھ کہہ رہا تھا۔ روحان کے چہرے پر عجیب سی چمک تھی۔
اور پھر لڑکی نے ہاتھ گھما کر اس لڑکے کے منہ پر تھپڑ مارا تھا۔

”اور مجھے لگتا ہے ایک بار پھر سے کسی آرجے کی بینڈ بجنے والی ہے__“
روحان نے محفوظ ہوتے ہوٸے کہا تھا۔
جس پر حانم کا قہقہہ ابھرا تھا۔

”اچھی بات ہے، آرجے کی بینڈ بجنی چاہیۓ__“
حانم اب ہنس رہی تھی۔

”بہت ظالم لڑکی ہو تم__“
روحان نے مصنوعی خفگی سے کہا تھا۔ حانم نے دلچسپ نظروں سے اسے دیکھا تھا وہ برا سا منہ بناٸے ہوٸے حانم کو اچھا لگا تھا۔

بارش تیز ہوٸی تھی۔

”گھر چلیں بارش تیز ہوگٸی ہے__!!“
حانم نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔
روحان نے چونک کر حیرت سے اسکے بڑھے ہوٸے ہاتھ کو دیکھا تھا اور پھر کھلے دل سے مسکرا کر اسکا نازک ہاتھ تھاما تھا۔
اس نے چھتری کو حانم کے اوپر کرکے اسے بارش سے بچانے کی پوری کوشش کی تھی۔

دونوں نے قدم واپس گھر کی طرف بڑھا دیے تھے۔

”اچھا سنو جب دو سلفاٸیٹ ملتے ہیں تو کیا ہوتا ہے___؟؟“
وہ شریر لہجے میں پوچھ رہا تھا۔

”بارش آتی ہے۔۔“
حانم مسکراٸی۔

”وہ تو روز ہی آتی ہے، اور ابھی بھی ہو رہی ہے__“

”آج کی بارش کا انداز نرالا ہے__ آپ سنیں یہ کچھ کہہ رہی ہے__!!
حانم اسکے ساتھ چلتے ہوٸے کہہ رہی تھی۔

”میں چاہتا ہوں ہم پیرس جاٸیں کچھ دنوں کیلیۓ، حشام کے شہر میں___ اسکی یاد میں__ ہر اس جگہ پر جاٸیں جہاں وہ جاتا تھا__!!“
روحان کو وہ نہيں بھولتا تھا۔

”کیا آج کی بارش یہ کہہ رہی ہے؟؟“
حانم نے پوچھا تھا۔

”ہاں یہ بھی ،بہت کچھ اور بھی __“

”اور کیا؟؟“

”یہی کہ محبت کا آغاز ہوچکا ہے، دو سلفاٸیٹ کی محبت___ ایک ایسی داستاں شروع ہونے والی ہے جسے لندن برسوں یاد رکھے گا__!!“
وہ سرشار لہجے میں بتا رہا تھا۔ جس پر حانم مسکرا دی تھی۔ اس نے آج خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کیا تھا۔

”ﺟﺐ ﺩﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻮ
ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺍﺳﮑﯽ ﮨﻮﮞ
ﺟﺐ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺗﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﮨﻮ
ﺟﺐ ﺣﺪ ﺩﺭﺟﮧ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮ ﺗﻢ
ﻭﮦ ﯾﺎﺩ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ__
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﻮﮞ
ﺗﻢ ﭘﺎﺱ ﺍﺳﮯ ﮨﯽ ﭘﺎﺅ ﺗﻮ
ﭘﮭﺮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﺎ ﮐﮯ کہہ ﺩﯾﻨﺎ
ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ__!!

اور آج ام حانم نے ایک خوبصورت انداز میں اس جذبے کا اظہار کیا تھا جو ابھی اسکے دل میں پھوٹا تھا___ جسے روحان جبیل نے دل و جان سے قبول کیا تھا__ دو سلفاٸیٹ ہمیشہ کیلیۓ ایک ہوگٸے تھے__!!

وہ دونوں آج بہت خوش تھے، زندگی کا یہ ساتوں پہر بہت خوشگوار تھا__
ابھی بہت سے پہر باقی تھے، ہر ایک نیا پہر ایک نٸی کہانی لانے والا تھا___ اور اسکا کچھ کچھ اندازہ ان دونوں Sulphite کو ہوچکا تھا جو پتھریلی گیلی سڑک پر مسکرا کر آگے بڑھتے جا رہے تھے__
آج کی بارش نے ان دونوں کی داٸمی خوشی کی دل سے دعا کی تھی__!!

–**–**–
ختم شد

#سلفاٸیٹ__کیوں___لکھا___گیا___؟؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ پیارے قارئين 💗

الحَمْدُ ِلله جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں سلفاٸیٹ کا سفر مکل ہوا__ لیکن حقيقیت تو یہ کہ یہ سفر ابھی شروع ہوا ہے__ مکمل نہيں ہوا__بلکہ ادھورا ہے__،
تین ماہ کا سفر__ سچ کہوں یہ سفر جتنا آسان تھا اس سے کہیں زیادہ مشکل رہا ہے___
میں ان تین ماہ میں بری طرح سے ذہنی انتشار کا شکار رہی ہوں، کٸی دفعہ ہمت ٹوٹی، کٸی دفعہ لگا کہ سلفاٸیٹ لکھنا میری غلطی تھی___ کٸی دفعہ قلم رکھا تو پھر ہمت جمع کرکے اٹھایا___

لیکن یہ سفر شاندار رہا___ مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا__،

میں نے سلفاٸیٹ کیوں لکھا؟؟ شاید آپ سب کے ذہن میں یہ سوال ہو اور اسکا کچھ جواب میں نے ناول شروع کرنے کے کچھ دن بعد دیا تھا__
آج سے دو سال پہلے جب میں بی ایس سی کی کلاس لے رہی تھی تب میں گیلیٹ برگس کا سلفاٸیٹ بروماٸڈز کا چیپٹر پڑھا تھا__ جس نے مجھے متوجہ تو کیا تھا لیکن میں نے اس پر لکھنے کا نہيں سوچا تھا___
یہ سوچ تب ذہن میں آٸی جب میں نے سلفاٸیٹ کو محسوس کیا___ ایسے لوگ جنکا عام لوگوں کے درميان رہنا مشکل ہوتا___ اور یہ ایک حقيقت ہے، انکی سوچ عام لوگوں سے نہيں ملتی___
الحاد میری زندگی سے ہمیشہ بہت قریب رہا ہے__ جب مجھ سے سوال کیۓ گٸے تو میں سوچ میں پڑھ گٸی تھی___
آج سے ایک سال پہلے جب میں میرے رہنما ناول فیس بک اپلوڈ کر رہی تھی اسکا آخر چل رہا تھا__ انہی دنوں سلفاٸیٹ کو لکھنے کا خیال ذہن میں آیا___
تب میرا خیال تھا کہ اس ناول کو میں سب سے آخر میں لکھوں گی__ اپنے سارے ناول لکھنے کے بعد__ لیکن شاید ایسا ممکن نہيں تھا__ میں نے یہ پہلے شروع کرلیا اور شاید غلط وقت پر کیا__

جب تک انسان الجھنوں میں نہيں پڑتا وہ کچھ سیکھ نہيں پاتا___ کیونکہ الجھنیں انسان کو متحرک رکھتی ہیں__
میری الجھنوں نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے، مجھے بہت خاص لوگوں سے ملوایا ہے__

اب آتے ہیں ناول کی طرف___ پڑھنے میں یہ ناول آپکو اسلامی ناول لگے گا__ لیکن اگر آپ غور کریں گے تو آپکو محسوس ہوگا کہ ایسا نہيں ہے، پورے ناول میں کہیں پر بھی میں نے نماز،روزہ،حج اور زکوۃ کا ذکر یا انہيں ادا کرنے کی تلقين نہيں کی__ کہیں پر بھی شرعی احکام یا پردے کے متعلق نہيں لکھا گیا__
کہیں پر بھی فرقہ واریت کا ذکر نہيں ہوا___ کوٸی بھی کردار بہت زیادہ مذہبی نہيں دکھایا گیا__ ایسے اور بہت سے ناول ہیں جن میں ان چیزوں کو بیان کیا گیا ہے۔
یہ ایک جنگ تھی ساٸنس اور مذہب کے درمیان کی جنگ___ یہ ناول مذہب کے متعلق ہو سکتا ہے لیکن دینی نہيں___ کیونکہ میں سلفاٸیٹ میں دین کو نہيں لاٸی بس مذہب کی بات کی گٸی ہے__
خدا کے وجود کے انکار اور اقرار کے درمیان کی جنگ___
بہت سے لوگ جنہيں اسلام ایک کٹر مذہب لگتا ہے انکے لیۓ ایک اشارہ تھا کہ دین اسلام ہرگز کٹر دین نہيں ہے___ بلکہ اگر اللہ سے محبت تو ہو یہ بہت ہی آسان دین ہے__

سلفاٸیٹ لکھنے کی سب سے بڑی وجہ استاد محترم #ڈاکٹر_ذاکر_ناٸیک جنہوں نے لاجکس سکھاٸے__
ہر انسان اپنی زندگی میں کچھ غلطیاں کرتا ہے جنہيں لوگ گناہوں میں بدل دیتے ہیں، ڈاکٹر صاحب میرے لیۓ بہت محترم ہیں__ اور یہ ناول میں انہی کو Dedicate کرنا چاہتی تھی اور انہی کو Dedicate کرتی ہوں___ اور انہی کہ وجہ سے لکھا ہے جنہوں نے الحاد کا مقابلہ کیا ہے۔

بہت سی آیات پر میں نے خود تدبر کیا، بہت سے آرٹیکلز زیربحث لاٸے گٸے تاکہ قارئين کی معلومات میں اضافہ اور انکی سوچ کا رخ بدلے___

بہت سے لوگوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کے مذاکرات کو کاپی پیسٹ کیا گیا ہے__ یہ بات سچ ہے اور کافی سوالات کے جواب میں نے انہی سے نقل کیۓ ہیں اور بتایا بھی تھا کہ یہ میرا علم نہيں میں نے سیکھا ہے__
لیکن کسی نے بھی شاید اس بات پر غور نہيں کیا کہ ہیرو ایک سکالر بننے کی کوشش میں ہے، اور بہت سے لوگ ڈاکٹر صاحب کو جانتے بھی ہیں__
روحان کا سکالر بننا، لوگوں کو حیران کرنا اور مشکلات اٹھانا یہ سب ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ہوا ہے__ لیکن چونکہ یہ ناول تھا کتاب نہيں اس لیۓ انکے لیۓ لکھا ہے__ اللہ نے توفیق دی تو انکی ذات پر کتاب بھی لکھوں گی باقاعدہ انکے نام کے ساتھ__
اور بھی بہت سے سکالرز ہیں لیکن میں چاہتی تھی جو بھی سلفاٸیٹ کو پڑھے وہ ڈاکٹر صاحب کو یاد کرے اور جو نہيں جانتے وہ انہيں جانیں___
جنہوں نے کاپی پیسٹ کا نشانہ بنایا انہوں نے بھی ناول کے پس منظر پر غور نہيں کیا__ کیا ایک لکھنے والا اتنا بےقوف ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کی باتوں کو ہوبہو لکھے گا اور سوچے گا کہ اسے تنقيد کا نشانہ نہيں بننا پڑے گا___؟؟ میں جانتی تھی لوگ بنا سمجھے تنقيد کریں گے اور ہوا بھی ایسا ہی ہے بہت سے لوگوں نے مکمل ناول نہيں پڑھا اور نا ہی ختم ہونے کا انتظار کیا کہ راٸٹر اس بارے میں کیا کہتی ہے___؟؟

میرے خیال سے مبصرین اور نقادنگاروں کو لکھاری سے زیادہ صاحب عقل اور صاحب علم ہونا چاہیۓ انہيں لکھاری کی سوچ کو Approach کرنا چاہیۓ اسکے بعد تنقید یا تبصرہ کرنا چاہیۓ__ لیکن افسوس لوگ سوچنا چاہتے ہی نہيں___ جب تک مبصرین اور نقاد نگار لکھاری کو سوچ تک نہيں پہنچیں گے وہ ناول پر درست انداز میں تنقيد یا تبصرہ نہيں کر پاتے__

بہت سے لوگوں نے تنقيد کی کہ کرداروں کو اتنا خوبصورت کیوں لکھا جاتا ہے تو جواب یہ ہے کہ ہر انسان خوبصورت ہے لیکن میں نے سلفاٸیٹ میں کسی بھی کردار کے حسن میں قلابے نہيں ملاٸے__

میں نے کسی بھی کردار کو پرفیکٹ نہيں لکھا__ ہر کردار میں کوٸی نا کوٸی خامی اور کمی تھی__
خاص طور پر حانم کی ذات کو میں نے بہت ادھورا لکھا ہے۔

بہت سے قارئين کو شکایت تھی ایسے کردار حقيقت میں نہيں پاٸے جاتے سب تخیلاتی ہے لیکن یہ غلط ہے___ روحان جبیل میں ستر فیصد میرا اپنا کرادر چھپا ہے__ اور باقی کا تیس فیصد ام حانم میں___

”میں ایک بات ہمیشہ کہتی ہوں کہ آپ جس چیز کی تلاش میں نکلیں گے آپ اسی کو پاٸیں گے__ اپنی سوچ کو عام چیزوں سے نکال کر خاص چیزوں کی طرف لگائيں یقين کریں ایک نیا جہاں آپکا منتظر ہوگا__ آپ پر ایک نیا ادراک ہوگا__ آپ عجیب و غریب اور خاص چیزوں کو دیکھ پاٸیں گے___ بظاہر عام سی کہانی کے پیچھے چھپے خاص پن کو آپ محسوس کرلیں گے__ یہ اسی وقت ہوگا جب آپ سطحی طور پر سوچنا بند کرینگے__“

ناول میں زندگی کے سات پہروں کی کہانی ہے جبکہ حقيقت میں ابھی زندگی کے کچھ ہی پہر گزرے ہیں___ آرجے نے جو ہانی کے ساتھ کیا تھا وہ ایک حقيقت ہے__ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا کہ رہنما کی طرح اس میں بھی ایک کہانی حقيقی ہوگی__ اور یہ سچ ہے__

بہت سے قارئين کو یہ ناول پیرکامل جیسا لگا__ لیکن یہاں پر بھی کسی نے غور نہيں کیا کہ پیر کامل رسول پاک ﷺ کی ذات پر لکھا گیا تھا جبکہ پورے سلفاٸیٹ ناول میں، میں نے رسول پاک ﷺ کا ذکر کہیں بھی نہيں کیا_ میں نہيں چاہتی تھی کہ میں غلطی سے بھی کوٸی گستاخی کروں__ سلفاٸیٹ تو بس لا الہ سے الا اللہ تک کا سفر تھا__ محمد رسول اللہ کو تو میں نے چھوا بھی نہيں__ اس موضوع پر پیر کامل ہے___

میں نے اپنی زندگی میں ناول کم اور کتابيں زیادہ پڑھیں ہیں___ نمرہ احمد اور عمیرہ احمد نے ماشاءاللہ اتنے اسلامی اور دینی ناول لکھے ہیں کہ اب اگر کوٸی یہ کوشش کرتا ہے تو خود بخود انہی کے جیسا لکھا ہوا لگتا ہے___ حالانکہ میں نے اپنی پوری کوشش کی تھی ایسا نہ ہو__ خیر کرداروں کو اور انکی زندگی کے پہروں کو سمجھ کر پڑھنے والا قاری واضح فرق جان لے گا__ اور انداز بھی پہچان لے گا__!!

مشکل وقت تھا جب میں تھیسٸیس کے جہاز کے معمے میں الجھی__
اور جب عہدالست کا ذکر ہوا___ غور کرنے پر جواب ڈھونڈا کہ ضروری نہيں اللہ سے ہم نے وعدہ زبان سے کیا ہو__ ہو سکتا ہے وہ محسوسات کی زبان ہو___

حیران رہ گٸی تھی جب ایک فقیر کے منہ سے سنا کہ ”اللہ کو عاشق بنا لو__ اسکے محبوب بن جاٶ__اس سے عشق نہيں کیا جا سکتا“
سن کر معیوب لگا تھا اور غصہ بھی آیا تھا کہ ایسے بھی ہوتا کے بھلا؟؟ پھر جب لفظ عاشق پر غور کیا__ اور اسکی تعریف کو سمجھا تو احساس ہوا کہ وہ فقیر ٹھیک کہہ رہا تھا__ انسان تو عشق کے تقاضوں پر پورا نہيں اتر سکتا__

میں نے پوری کوشش کی کہ کرداروں کے ساتھ انصاف کر سکوں__
بعض جگہوں پر ناول آپ لوگوں کو فلمی لگا ہوگا جیسا کہ روحان کا ایکسیڈینٹ میں بچ جانا اور جورڈن کا حشام کو چھوڑ دینا___

جورڈن کا کردار مسخ نہيں کرنا چاہتی تھی اس لیۓ حشام کو اس نے بخش دیا__ اور رہی ایکسیڈینٹ کی بات تو سال پہلے جب رہنما چل رہا تھا میرے چاچو کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا__ بالکل اسی طرح لیکن اللہ کا شکر وہ بچ گٸے__ تین آپریشن ہوٸے تھے انکے اور ابھی تک ٹھیک سے چل نہيں پاتے___ وہ سڑک کے ساتھ امردو کے باغ میں جا گرے تھے___ اور کسی کو نظر بھی نہيں آٸے تھے__
سب کچھ فلمی نہيں ہوتا___ کچھ حادثے اصل زندگی سے جڑے ہوتے ہیں___

میں نہيں جانتی میں نے سلفاٸیٹ اچھا لکھا یا برا لکھا__ یہ آپ لوگوں پر منحصر کرتا ہے اور نہ ہی میں خود کو مصنفہ مانتی ہوں__ ایک دو ناول لکھ لینے سے کوٸی مصنف نہيں بن جاتا یہ ایک بہت لمبا پراسیس ہے___
میں یہ بھی نہيں کہتی کہ میرا ناول اردو ادب میں تھوڑی سی بھی جگہ رکھتا ہے__ میں اردو ادب کے اصول ضوابط نہيں جانتی___ میں نے جو دیکھا وہی لکھا ہے__
یہ جدید دور ہے__ اور یہ آج کی جنگ ہے__ ہر انسان کے ایمان اور ذہن کی جنگ__
یہ بات سچ ہے ادب کے سلسلے میں ہم ماضی کو Admire کرتے ہیں اس وقت کے ادیبوں کو بھی__
اور اس سلسلے میں بھی ایک چیپٹر پڑھا تھا میں نے کہ ”ادب ایک رکا ہوا علم ہے__ ادب سے تعلق رکھنے والے لوگ ماضی میں جیتے ہیں__“
اور یہ بات سچ ہے۔ میں نمرہ احمد اور عمیرہ احمد کی مداح نہيں ہوں لیکن میں نے لوگوں کو ان پر تنقيد کرتے دیکھا اور سنا ہے___ جو کہ سراسر غلط ہے۔
وہ لوگ ماضی کے ادیبوں کو ہی بہتر کہتے ہیں لیکن اگر دیکھا جاٸے تو اب زمانہ بدل گیا ہے__ ہمیں آج کے وقت کے مطابق لکھ کر اپنی نٸی ڈیجیٹل جنریشن کو سکھانا چاہیۓ___

اور یہ میں خود بھی چاہتی ہوں کہ کوٸی ٹاٸم مشین ہوجسکے ذریعے میں ایک ڈیڑھ صدی پیچھے جا کر اُس دور کے حالات کو دیکھ سکوں__ اردو ادب کے قواعد و ضوابط کو سیکھ سکوں___

ایک انگریزی مصنف کا کہنا تھا کہ ” لوگ کہتے ہیں کہ ماضی کو دیکھ کر لکھو__ ماضی کے کامياب ادیبوں کو پڑھو__ ان جیسا لکھو لیکن میں سوچتا ہوں کہ اگر ایسا ہوا تو نیا کیا تخليق ہوگا__؟؟“
نام نہيں یاد ابھی مجھے__ لیکن مجھے انکی بات پسند آٸی تھی___ کیا کنویں کے مینڈک بن کر جینا ضروری ہے؟؟

باتيں تو بہت سی ہیں___ لیکن فی الوقت اتنا ہی کافی ہے یہ تھوڑا بہت سلفاٸیٹ کے بارے میں تھا__ اور بھی کچھ کہنا تھا لیکن ابھی میں بھول گٸی ہوں 😁
ایک دوسری پوسٹ کرونگی جس میں بتاٶں گی کہ آخر میں نے لکھنا کیوں شروع کیا؟؟ وجہ کیا تھی؟؟ یہ الگ کہانی ہے___
آپ لوگ چاہیں تو اپنے سوالات چھوڑ سکتے ہیں جنہيں میں دوسری پوسٹ میں کوڈ کرلوں گی___

آخر میں، میں #ارسلان_یامین_راجپوت اور #ذرمین_رضوی کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے اس سفر میں میرا بھرپور ساتھ دیا__
ارسلان صاحب نے میری اردو ٹھیک کرنے میں میری بہت مدد کی__ ناول کی پروف ریڈنگ بھی کی اورجن اقساط کی نہيں ہوٸی ان میں آپکو غلطیاں نظر آہی جاٸیں گی 😝

سلفاٸیٹ ایک Grand ناول تھا اور ابھی میں دوسرا بڑھا ناول نہيں شروع کرنا چاہتی وقت ملا تو میڈیم مکمل کرونگی اور ایک شارٹ ناولٹ لکھوں گی جلد ہی جو حقيقت پر مبنی ہے اور یقيناً یہ شارٹ کہانی آپ لوگوں کو سوچ میں ڈال جاٸے گی___!!

آخر میں آپ سب قارئين کو میں دعوت دیتی ہوں کہ سلفاٸیٹ پر تنقيد کریں، تبصرہ کریں سلفاٸیٹ کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں تاکہ مجھے میری خامیوں کا پتا چلے__!!

Sulphite__Dedicated__to__Dr__Zakir___Naik 🍂

آپ لوگوں کے خوبصورت الفاظ ہی ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں___ خوش رہیں شاد رہیں 🌸🌸

نور راجپوت 🍂

——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: