Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 10

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 10

–**–**–

وہ واپس تو یہ سوچ کر آئ تھی کہ اس انسان کا ڈٹ کر مقابلہ کریگی لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئ اگلے ہی دن وہ کسی کام سے کہیں باہر چلا گیا اسے دادی کی باتوں سے پتا چلا کہ وہ کچھ دنوں کے لئے لنڈن گیا ہے اور عیشا کو لگا کہ وہ خوشی کے مارے پاگل ہوجاے گی وہ اپنی پہلی زندگی میں واپس اگئ تھی وہی ہنسی مزاق وہی بےفکری سب کچھ جو وہ چاہتی تھی ہر دن وہ یہی دعا کرتی کہ ساحر اس کی زندگی سے ہمیشہ کے لئے نکل جاے اور اس کی ساری زندگی اسی طرح سکون سے گزرے تو دوسری طرف وہ ہر لمحہ اس کی کمی محسوس کررہا تھا دشمنی ہی سہی پر وہ نظر کے سامنے تو ہوتی تھی جس کی ایک جھلک اس کی ساری بے چینی کو ختم کرنے کے لئے کافی تھی اس کا لنڈن آنا ضروری نہیں تھا لیکن وہ عیشا کی خاطر اس سے دور آیا تھا اس نے عیشا کو ناشتے پر جب بہت اداس دیکھا تو اسے اپنے اپ پر بہت غصہ آیا کہ اس کی وجہ سے عیشا اتنی پریشان ہے اور اپنے امی ابو کے گھر جانے پر مجبور ہوگئ ہے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود کچھ دن کے لیے باہر چلا جایگا تاکہ وہ سنبہل سکےاور دادی کو بھی عیشا کے بغیر نا رہنا پڑے اسی لیے اس نے عیشا کو اسی دن واپس انے کو کہا تھا لیکن جانتا تھا اگر اس سے سیدھی طرح بتایا تو کبھی نہیں مانے گی اس لیے اسے دھمکی دی تاکہ وہ مجبور ہوجاے اور اس کے انے کے اگلے دن صبح ہی لنڈن آگیا اس نے اپنا کام دو دن میں ہی ختم کرلیا تھا لیکن پھر بہی ایک ہفتہ مزید وہیں رہا
***************************=
وہ نیند سے جاگی تو مسکراتے ہوے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاے انگڑائ لینے لگی جب نظر دیوار سے ٹیک لگاے وجود پر پڑھی تو مسکراہٹ ایک دم سے غائب ہو گئ اور ہاتھ جہاں جیسے تھے وہیں تھم گئے ایک پل کو یقین نہیں ہوا کہ سکون بھرے دن اتنی جلدی ختم ہوگے اور شیطان کی دوبارہ واپسی ہوگئ وہ گہری سانس لے کر سیدہی ہوکر بیٹھ گئ وہ کالج سے آئ تو دادی سورہی تہیں اس لیے وہ کھانا کھانے کے بعد بالکونی میں ناول پڑھنے بیٹھی تھی پڑھتے پڑھتے اسے وہیں نیند لگ گئ اور اب جاگی تو اسے سامنے دیکھ کر جاگنے پر ہی افسوس ہونے لگا
اسسلام و علیکم—** ہوگئ نیند
چاکلیٹ کا بائٹ لیتے ہوۓ پوچھا عیشا نے اس کی جانب دیکھا بھی نہیں
ون منٹ
اب وہ چل کر چیئر کے قریب آگیا
یہ کپڑے کچھ جانے پہچانے لگ رہے ہیں لگتا ہے کہیں دیکھا ہے
اس نے اپنے اوور کورٹ کو جانچتی نظروں سے دیکھا جو عیشا نے پہن رکھا تھا اسے نیند لگتے ہی سردی محسوس ہورہی تھی اس لئے اس نے بنا کچھ سوچے سمجھے کرسی پر رکھا کورٹ پہن لیا تھا اس وقت وہ نیند کے خمار میں تھی اسلیے کچھ سوچ پانا ممکن نہیں تھا
مجھے نہیں پتا تھا— کہ یہ تمہارا ہے
وہ دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگی
تو شاید دادی کا سمجھا ہوگا—- ہے نا
وہ ایکدم اٹھ کر کھڑی ہوگئ
نہیں میں اس وقت نیند میں تھی اس لئے کچھ سوچے بغیر پہن لیا تھا
وہ چاہ کر بھی لہجہ سخت نہیں کر پائی
کیوں جھوٹ بول رہی ہو —سچ سچ کہو نا -تم مجھے یاد کررہی تھی —مجھے پتا ہے تم نے مجھے بہت مس کیا
وہ دھیرے سے مسکرای
سچ کہا تم نے—— میں نے واقعی تمہیں بہت مس کیا——روز اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتی تھی کے اللہ میری زندگی سے تم جیسے کمینے انسان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکال دے تاکہ میں سکون سے جی سکوں کاش تمہارا پلین راستہ بھٹک جاے اور تم کبھی گھر واپس نا آؤ یا تمہارا ایکسیڈنٹ ہو جاے اور تمہاری یادداشت چلی جاے
اوووو چلو ایسے ہی سہی تم نے مجھے اپنی دعا میں تو شامل کرلیا– ایک دن دل میں بھی کرہی لوگی
وہ چاکلیٹ چباتے ہوے اس سے نظریں ملاے بات کررہا تھا اس نے بلیک ٹی شرٹ اور بلیک جینس پہنی تھی ساتھ ہی ڈلوھائٹ جیکیٹ تھا ہلکی بڑھی ہوئ شیو اور ماتھے پر بکھرے بال اسے بہت دلکش بنا رہے تھے
تم لنڈن سے واپس کیوں اگئے—- تمہیں تو وہیں رہنا چاہئے تھا وہاں کی لڑکیاں تو تمہاری ان لوفرانہ حرکتوں پر مر مٹتی
آج وہ اسی کی طرح بات کررہی تھی
یو آر رائٹ —–اللہ نے شکل ہی ایسی دی ہے لنڈن تو کیا جہاں بھی جاؤں بس ایک دیدار کے لئے ترستی ہے بیچاری لڑکیاں—— لیکن کیا کروں شروع سے ہی مجھے وہ چیز پسند نہیں اتی جو آسانی سے مل جاے —–آۓ لائک چلینجیز لائک یو
ہاتھ اگے بڑھا کر اس کے چہرے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کرنا چاہا جسے عیشا نے خود تک پہنچنے سے پہلے ہی جھٹک دیا
یہ کیا کرہے تھے تم ——-خبردار جو آیندہ مجھے چھونے کی کوشش بھی کی مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا-_– اب میں خاموش نہیں رہوگی— ہر بات کا حساب لونگی سمجھے تم
وہ غصّہ ہوکر انگلی دکھاتے ہوئے بولی
باپ رے —–تو کیا اب تک تم خاموش تھی —-واہ—– ہر بات کا تگڑا جواب دیتی ہو اور اسے خاموشی سمجھتی ہو
وہ ہلکا سا ہنس کر کچھ سوچنے لگا
سوچتا ہوں آزماں ہی لوں کس حد تک بدلہ لے سکتی ہو
اس کے لبوں کو دیکھتے ہوے شرارت سے بولا اور پھر اس کی آنکھوں میں دیکھا عیشا اس کی بات کا مفہوم سمجھی تو گھبرا کر پلکیں جھکالی اور وہ لمحہ ساحر کے دل میں قید ہوگیا اسے عیشا کی یہ ادا بہت پسند تھی اتنی بولڈ جھگڑالو لڑکی ایک لمحہ نظر ملنے پر یو گھبرا جاے تو کتنی معصوم لگتی ہے
یلو ٹراوزر پرڈارک بلیو اوور کورٹ جو اس کے سائز سے کئ زیادہ بڑا تھا اس کی گلابی رنگت پر کافی سوٹ کررہا تھا
عیشا نے تھوک نگل کر گھبراہٹ کو کنٹرول کیا کیونکہ وہ اس کے آگے کمزور نہیں پڑنا چاہتی ساحر اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا
راستہ چھوڑو میرا مجھے تم جیسے فضول آدمی کی فضول باتیں نہیں سننی ہے
اس پر ایک نفرت بھری نظر ڈال کر وہ ایک سائڈ سے نکل گئئ
یا اللہ اس بیوقوف لڑکی کو تھوڑی سی عقل دے دے
اس نے کھلے آسمان کی جانب دیکھ کر دھیمی اواز میں دعا کی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: