Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 11

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 11

–**–**–

کڑی دھوپ میں وہ پچھلے ادھے گھنٹے سے سڑک کے کنارے کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی بدقسمتی سے موبائیل گھر پر ہی بہول آئ تھی ورنہ گھر فون کرکے ڈرائیور کو بلالیتی ساحر کی غیر موجودگی میں اسے لانے لیجانے کا کام ڈرائیور کے زمہ تھا لیکن واپس اتے ہی اس نے دوبارہ اپنی ڈیوٹی سنبھال لی تھی اج تک کبھی وہ اتنا لیٹ نہیں ہوا تھا اس کے باہر نکلتے ہی گیٹ پر موجود ہوتا تھا دھوپ سے اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا اس لیے وہ ایک گھنے پیڑ کے نیچے اکر کھڑی ہوگئ اور سکارف سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا تبھی ایک گاڑی اس کے ٹھیک سامنے آکر رکی لیکن وہ نہیں تھی جس کا اسے انتظار تھا دوسری جانب سے جاوید باہر آیا تو اس نے سلام کیا
کیسی ہو عیشا—- ویسے تو میں تم سے بہت ناراض تھا سوچ رکھا تھا کبھی بات نہیں کرونگا لیکن کیا کروں مجبوری ہے —–تمہاری وجہ سے میں نے ساحر سے ملنا بھی کم کردیا ہے کم سے کم بتا تو دیتی
بلیو جینس اور سکائ بلیو شرٹ میں اس کے مقابل ا کھڑا ہو جب گلاسس ہٹاے تو اس کی آنکھوں میں خفگی واضح تھی
آۓ ایم سوری—– سب کچھ اتنا جلدی جلدی ہوگیا کہ———-
کہ تمہیں ایک پل کے لئے بھی میرا خیال نہیں آیا—- آتا بھی کیسے میں ہوتا کون ہوں تمہارا
بہائ جان نے بتایا تھا آپ سے رابطہ ہو نہیں پا رہا تھا
وہ بنا نظریں ملائے بات کر رہی تھی
ہاں جب قسمت ہی خراب ہو تو سارے راستے اپنے آپ بند ہوجاتے ہے—– اینی وے میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ساحر کے ساتھ خوش ہو—- ہو نا
اس نے سر اثبات میں ہلادیا
چلو تمہیں گھر ڈراپ کردوں
اس نے آفر کی
نہیں اپ رہنے دیں وہ آتے ہی ہونگے مجھے لینے
ایک گھنٹے سے دھوپ میں کھڑی اس کا انتظار کر رہی ہو ہوسکتا ہے کسی میٹنگ میں پھنس گیا ہو یا بھول گیا ہو
عیشا نے سوچا اسے کیسے پتا کیا یہ بہی ایک گھنٹے سے یہی پر تھا
نہیں وہ بھول نہیں سکتے روز وقت پر پہنچ جاتے ہیں شاید کہیں ٹریفک وغیرہ میں پہنس گۓ ہو
جاوید نے اسے غور سے دیکھا
فون بھی تو کر سکتا تھا تم کب تک یہاں کھڑی رہوگی یا پھر میرے ساتھ جانا ہی نہیں چاہتی
عیشا خاموشی سے زمین کو دیکھتی رہی اور وہ اس کو دیکھتا ربا
کہا تھا تم سے—- تم چاہے جو سمجھو لیکن میں تمہیں اپنی دوست سمجھتا ہوں تمہاری مدد کرنا فرض ہے میرے لئے —چاہو یا نا چاہو
عیشا نے اسے غور سے دیکھا اس شخص کی باتوں کو وہ جان بوجھ کر نظر انداز کر جاتی تھی کیونکہ جاوید اس کے متعلق کیا سوچتا ہے اسے اندازہ ہوچکا تھا
چلو بیٹھ جاؤ
پلیز رہنے دیجیے میں ٹیکسی لے لونگی
وہ واقعی اس کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی
ٹیکسی والے پر بھروسہ ہے لیکن مجھ پر نہیں
اس کی آنکھوں میں بے یقینی تھی عیشا پریشان ہوگئ ایسی بات کرتا تھا کہ سامنے والا صفائ بھی نہ دے سکے
ایسی بات نہیں ہے اپ کو بھی کہیں جانا ہوگا نا
نہیں مجھے کہیں نہیں جانا سارے راستے ختم ہوگے چلو تمہیں ہی تمہاری منزل تک پنہچادوں
اس کی ہر بات پر معنی تھی عیشا نے مزید بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا ویسے بھی گرمی سے اس کے اوسان خطا ہورہے تھے اس لئے خاموشی سے فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئ جاوید بھی اپنی جانب آیا لیکن اس کے دروازہ کھولتے ہی ساحر کی گاڑی سامنے سے اکر رکی
ساحر باہر آیا ایک گہری نظر گاڑی میں بیٹھی عیشا پر ڈالی اورجاوید کی جانب بڑھ کر خوشدلی سے گلے ملا
یار تم تو اج کل عید کا چاند بن گۓ—– نظر ہی نہیں آتے
اج کل تو میں خود کو نظر نہیں آتا تو تمہیں کیسے اونگا —-خیر تم بتاؤ کہاں رہ گۓ تھے عیشا کب سے تمہارا انتظار کررہی ہے وہ تو میں یہاں سے گزررہا تھا تو سوچا اسے گھر چھوڈ دوں
ہاں یار وہ راستے میں چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اس لیے تھوڈا لیٹ ہوگیا فون بھی شاید وہیں کہیں گرگیا اس لئے انفارم نہیں کر پایا—- عیشا چلو دادی ویٹ کررہیں ہوگی
عیشا نے دیکھا وہ پسینے میں نہاگیا تھا اس کے لائٹ گرین شرٹ کے بازو پر خون لگا ہو تھا
ساحر تمہیں چوٹ لگی ہے تم ہاسپٹل جاؤ عیشا کو میں ڈراپ کردونگا ایک ہی بات ہے
تونے کہا اس کے لئے شکریہ —–لیکن ایک بات نہیں ہے اگر میں اسے نہیں لےگیا تو دادی مجھے بہت مارے گی اس کی ڈیوٹی انہوں نے مجھ پر لگائ ہوئ ہے اسلیے سارے کام ایک طرف پہلے اپنی ڈیوٹی——– تم اب تک وہیں ہو چلو
ساحر کی آواز پر وہ فوراً گاڑی میں بیٹھ گئ ساحر بھی جاوید سے خدا حافظ کہ کر آگیا اور گاڑی سٹارٹ کر لی سارا راستہ وہ خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا جب کہ اجکل وہ عیشا کو پریشان کرنے کا کوئ موقع نہیں چھوڑتا تھا شاید ایکسیڈنٹ کی وجہ سے پریشان تھا لیکن اس نے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ کیسے کہاں ایکسیڈنٹ ہوا
گھر آکر اس نے دادی کو اپنے انے کی اطلاع دی گرمی نے جو حال کیا تھا اس کے بعد کھانے سے زیادہ نہانا ضروری تھا اس لئے وہ روم میں اگئ جہاں ساحر کپڑے چینج کرکے صوفے پر ٹیک لگائے پیشانی پر ہاتھ رکھے بیٹھا تھا دروازہ کھلنے پر سیدھا ہوا اور اس کی جانب دیکھا عیشا نے اپنا بیگ ٹیبل پر رکھا اور گلاس اٹھا کر پانی پینے لگی
تم نے جاوید سے لفٹ کیوں لی
عیشا نے جیسے سنا ہی نہیں اب کے وہ کچھ زور سے بولا
تم سے بات کرہا ہوں میں جواب دو کیا ضرورت تھی اس سے لفٹ لینے کی کچھ دیر اور انتطار نہیں کر سکتی تھی
وہ اس کے غصے سے کہنے پر پلٹی
ایک گھنٹہ دھوپ میں کھڑی رہی اور کتنا انتظار کرتی چکر آنے لگے تھے مجھے فون بھی گھر میں بھول گئ تھی اور کیا کرتی
اس کا مطلب کیا منہ اٹھا کر کسی کی بھی گاڑی میں بیٹھ جاوگی ٹیکسی بھی تو لے سکتی تھی نا
وہ اس کے سامنے اکر کھڑا ہوگیا عیشا بے نیازی سے اپنے کانوں کو ٹاپس سے آزاد کرنے لگی
جاوید کوئ اجنبی نہیں ہے جانتی ہوں میں انہیں بہائ جان کے دوست ہے وہ
وہ بے نیازی سے بولی
اور بھی دوست ہے تمہارے بہائ جان کے کل کو اگر ضرورت پڑی تو ان کی بھی ہیلپ لے لینا اور کبھی راستے سے چلنے والوں کو بھی یہ نیکی کرنے کا موقع دینا
اس نے غصے سے کہا
اتنا اوور ری ایکٹ کیوں کر رہے ہو تم اگر میں کسی کی ہیلپ لے لوں تو تمہیں اس سے کیا پریشانی ہے
وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی
دیکھو عیشا—– میں تم سے کوئ بحث نہیں کرنا چاہتا جو میں کہ رہا ہوں وہ سنو آیندہ کسی بھی ایرے غیرے کی مدد مت لینا اور جاوید کی ہرگز بھی نہیں
اس نے اپنے غصے کو ضبط کرکے نرمی سے کہا
اگر میں جاوید کے ساتھ جاؤں بھی تو تمہیں کیا پرابلم ہے جبکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ تم سے کہیں زیادہ اچھا انسان ہے لیکن تم خود کی برائیاں نہیں دیکھ سکتے صرف دوسروں پر الزام لگانا جانتے ہو پہلے خود میں جھانک کر دیکھو تو تمہیں بھی گھن آئے گی خود سے ایک بات بتاؤں اگر تمہاری جگہ وہ ہوتے نا تو میری زندگی یوں جہنم نہیں ہوتی کیونکہ——-
اس کے پہلے وہ کچھ اور کہتی ساحر نے پوری طاقت سے ایک زور دار تھپپڑ سے اسے دیوار پر گرادیا اور بازو کو زور سے پکڑ کر سیدھا کیا
کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو کہ کیا بول رہی ہو—— اپنے ہی شوہر کے سامنے اس کی جگہ غیر مرد کی خواہش کررہی ہو—-_– اور یہ جاوید جاوید کیا لگا رکھا ہے تم نے جاوید بہائ جان بولو اسے —–کیا جانتی ہو اس کے بارے میں جو اتنی بڑی بات کہ رہی ہو—- کبھی پوچہنا اپنے بہائ جان سے اس کی اچھائیاں تب پتا چلے گا کون بہتر ہے
وہ عیشا کو قریب کرتے ہوے غصے میں دھاڑرہا تھا
اور اگر اب غلطی سے بھی یہ کہا نا کہ میں کون ہوتا ہوں تو قسم سے کہ رہا ہوں سب کے سامنے بڑی ہی بے شرمی سے بتاونگا کہ میں تمہارا کون ہوں_– تم مانو یا نا مانو لیکن میں نے خدا کو حاضر ناظر جان کر تمہیں قبول کیا تمہاری حفاظت کا وعدہ کیا ہے اور اتنا بے غیرت نہیں ہوں کہ میرے سامنے کوئ میری بیوی کو غلط نظروں سے دیکھے اور میں تماشائ بن جاؤں
اگر تمہیں یہ لگتا ہے نا کہ میں مر رہا ہوں تمہیں حاصل کرنے کے لیے تو ایک بات بتادوں تم جیسی اور تم سے کئ زیادہ بہتر میرے قدموں میں پڑی ہے یہ تو میری انسانیت تھی جو تمہاری ایسی حرکتوں کے باوجود تمہیں اہمیت دے رہا تہا-_– تمہاری ہر بدتمیزی کو برداشت کررہا ہوں اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم جو چاہو کرو——- اپنی حد تک تو مجھے سب منظور ہے لیکن تمہاری وجہ سے میرے خاندان میرے پاپا کے نام کی بے عزتی ہو یہ میں برداشت نہیں کرونگا سمجھی تم—– بعد میں تم جاوید کے ساتھ گھومو یا کسی اور کے ساتھ- —–_لیکن جب تم میرے نکاح میں ہو اور میرا نام تمہارے ساتھ جڑا ہے میں تمہیں ہر گز بھی اجازت نہیں دونگا کہ تم اپنے ساتھ میرے نام کی بھی رسوائ کرو
اس نے عیشا کا بازو جھٹک کر اسے چہوڑدیا وہ وہیں دیوار سی لگی رہی ساحر نے ڈراور کھول کر کاغذات نکالے اور لاکر اس کے اوپر پھینکے
یہ لو یہی چاہتی ہو نا تم طلاق کے لئے یہ سب کررہی ہو نا
جانتی ہو یہ پیپرس میں نے ایک مہینہ پہلے ہی بنواے تھے لیکن میں اس رشتے کو ایک موقع دینا چاہتا تھا تمہیں ایک موقع دینا چاہتا تھا مگر یہ میری بہت بڑی غلطی تھی کیونکہ تم اس لائق ہو ہی نہیں —— کےاور اگر تم شادی سے پہلے ہوئ ان معمولی سی لڑایوں کی بنیاد پر اتنی نفرت پال کر بیٹھی ہو تو کہنا پڑے گا تم دنیا کی سب سے بےوقوف عورت ہو اور اچھا ہی ہے کہ تم میری زندگی سے نکل جاؤ مجھے بھی تم سے کوئ عشق نہیں ہے جو تمہارے جانے سے کوئ افسوس ہوگا رہی بات دادی کی تو میں اپنی دادی کو سنبھال لونگا تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جب بھی چاہو جا سکتی ہو پیپرس سائن کردونگا میں
سرخ آنکھیں لئے وہ عیشا کی جانب جھکا جو خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اس کا یہ روپ عیشا کے لئے بہت خوفناک تھا ساحر نے اس کا چہرہ اپنی گرفت میں لیتے ہوۓ نفرت سے کہا
لیکن اس کے پہلے تم نے کوئ بھی ایسی ویسی حرکت کی تو میں تمہارے ساتھ بہت برا کرونگا سمجھی
پوری زور سے دھکا دیکر اسے ازاد کردیا وہ سیدھے زمین پر گری ساحر ایک نفرت بھری نظر ڈال کر باہر نکل گیا اور وہ پیٹ گھٹنے میں لئے پوٹلی بن کر آنسو بہاتی رہی اس کے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا گال پر انگلیوں کے سرخ نشان واضح تھے بازو بھی درد کررہا تھا اس کے دماغ میں ساحر کی جو امیج بنی ہوئی تھی اس لیے بنا سوچے سمجھے کہ دیا تھا لیکن ساحر کا یہ روپ اس نے پہلی بار دیکھا تھا
اس نے اٹھ کر اُن کاغذات کے پرزے پرزے کردیئے کیوں وہ خود نہیں جانتی تھی کتنی ہی دیر تک اس کی سسکیاں کمرے میں گونجتی رہی
************///*************وہ فیصلہ کرکے روم سے نکلی تھی کہ اج دادی کو سب کچھ سچ بتادے گی لیکن اس کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی نینا نے اسے بتایا کہ دادی کو کل سے بخار ہے اس اپنی قسمت پر بہت رونا آرہا تھا جو بار بار اسکا امتحان لے رہی تھی لیکن وہ اپنا سب کچھ بھول کر دادی کی فکر میں لگ گئ کیونکہ اس کے لیے دادی زیادہ اہمیت رکھتی تھی ڈاکٹر کو کال کرکے دادی کا چیک اپ کروایا سارا وقت ان کے ساتھ ہی رہی اگلے دن تک ان کی طبیعت کافی بہتر ہوگئ تھی اس نے سوچ لیا تھا کہ دادی کے ٹھیک ہوتے ہی وہ بنا کچھ بتاے ہی یہاں سے چلی جاے گی ساحر نے اس سےپوری طرح لاتعلقی اختیار کرلی تھی وہ سامنے ہو یا نا ہو ساحر کے لئے ایک برابر ہی تھا اس نے اپنی روٹین ایسی سیٹ کی تھی صبح جلدی گھر سے نکل جاتا اور رات دیر سے واپسی ہوتی اب نا ناشتہ پر موجود رہتا نا ڈنر پر دادی کی ڈانٹ خاموشی سے سن لیتا اور کام کا بہانہ کرکے ٹال دیتا
اگر روم میں بھی ہوتا تو ایک نظر بھی اس کی جانب نا دیکھتا عیشا اس کے رویہ سے پرسکون تھی اسلیے اسے وہاں رہنے میں کوئ ڈر نہیں تھا وہ بھی زیادہ وقت دادی کے ساتھ ہی گزارتی تھی اس کا گریجویشن پورا ہوچکا تھا عمران اور دادی کے لاکھ کہنے کے باوجود اس نے آگے پڑھنے سے انکار کردیا تھا کیوں کہ شروع سے ہی اُسے اتنا پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی
تیار ہوکر وہ افس کے لئے نکلنے لگا تو دادی اور عیشا گھر اچکے تھے دادی کو سلام کرکے اس نے نکلنے کا ارادہ کیا مگر انہوں نے اسے ناشتہ کہ لئے روک لیا اور مجبور ہوکر اسے بیٹھنا ہی پڑا
اج کل کیا ہوگیا ہے تمہیں
انہوں نے اسے بغور دیکھتے ہوے کہا
مجھے کیا ہونا ہے دادو
وہ بے نیازی سے بولا
تو اتنے پریشان کیوں رہنے لگے ہو—- تم دونوں میں کوئ ان بن ہوئ ہے کیا
دادی کافی دنوں سے دونوں کی تبدیلی نوٹ کررہیں تھی اس لئے اج پوچھ لیا پندرہ دن میں پہلی بار ساحر نے براہ راست اسے دیکھا تھا لیکن وہ خاموشی سے سر جھکاے ناشتہ کرتی رہی
اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس کا فون بجنے لگا اور وہ دادی سے خدا حافظ کہہ کر فون کان سے لگاے باہر نکل گیا
****************************
وہ دادی کے روم میں تھی جب ملازم نے اسے امران کے انے کی اطلاع دی دادی سورہی تہیں وہ اپنا ناول سائیڈ میں رکھ کر ڈرائینگ روم میں آئ جہاں امران اور ساحر شترنج میں پوری طرح الجھے تھے
اسسلام و علیکم
وہ ساحر کے مقابل صوفے پر امران کے پاس بیٹھ گئ
وعلیکم اسسلام کیسی ہو عیشو
اس کا دھیان میز پر تھا جہاں دو خوبصورت مگ تھے جن میں کوئ براؤن رنگ کی ڈرنک تھی اور اوپر برف کے ٹکڑے ڈالے ہوے تھے اسے ساحر کا تو پتا تھا لیکن وہ شاک تھی کہ امران بھی شراب پیتا ہے
بہائ جان آ—- آپ بھی ڈ—-ڈرنک کرتے ہو
امران نے اسے حیرت سے دیکھا اور ہنسنے لگا
پاگل—- یہ شراب نہیں ایپپل جوس ہے اور میری اتنی مجال کہ تمہارے شوہر کے سامنے ڈرنک کروں تمہیں پتا نہیں کیا تمہارے شوہر کی شراب سے سوتن والی دشمنی ہے
عیشا نے ایک نظر ساحر پر ڈالی جو پوری طرح سے بورڈ پر متوجہ تھا
انکل انٹی کی ڈیتھ ہوئ تھی تب پولیس رکارڈ کے مطابق ڈرائیور نے بہت زیادہ ڈرنک کر رکھی اسلیے ساحر کو ——-
امران
اس نے بنا دیکھے ہی امران کو کچھ کہنے سے ٹوکا
سوری
وہ جانتا تھا یہ زکر ساحر کے لئے بے حد تکلیف دہ تھا عیشا حیرانی سے اس کے جھکے ہوے سر کو ہی دیکھ رہی تھی
اور یہ جو مائنڈ بلوئنگ ائیڈیا ہے نا یہ بھی تمہارے جینیس ہسبینڈ نے ہی ایجاد کیا ہے اپنے سرکل کے لوگوں کے بیچ بڑی شان سے اسے برینڈی سمجھ کر پیتا ہے اور بے وقوفوں کو شک بھی نہیں ہوتا
وہ ہنس رہا تھا لیکن وہ مسکرا بھی نا سکی
اپ سچ کہ رہے ہو بہائ جان
اس نے بے یقینی سے پوچھا
تم خود دیکھ لو
اس نے ساحر کے ہاتھ سے آدھا خالی مگ لے کر عیشا کو دے دیا ساحر نے اسے گھور کر دیکھا عیشا نے بنا یہ سوچے کہ وہ جھوٹا ہے مگ منہ سے لگالیا
جوس ہی ہے نا
عمران کے پوچھنے پر وہ مسکرادی اسے دل ہی دل میں پچھتاوا ہو رہا تھا کہ کیوں بناء سوچے سمجھے اس پر الزام لگادیا اس کے دماغ میں کچھ دن پہلے ملنے والی تصویریں گھومنے لگی
کہیں وہ سب بھی کوئی غلط فہمی نا ہو-_—- جو بھی ہو مجھے کیا
وہ عمران سے باتیں کرتے کرتے سارا جوس پی گئ اور ساحر حیرت سے دیکھتا رہ گیا کیا
امران کے جانے کے بعد وہ دادی کے روم میں آئ دونوں نے شام کی چاے پی اور وہ دادی کو دوائ دیکر ان کے پاس والی کرسی پر بیٹھ کر انہیں حدیث سنانے لگی تبھی ساحر وہاں آیا
دادو میں ایک پارٹی میں جا رہا ہوں رات کو کھانے پر انتظار مت کریں گا
اس نے دروازے سے ہی انہیں اپنا فرمان سنادیا
ہاں روز تو جیسے ہمارے ساتھ ہی کھانا کھاتے ہو
انھونے شکایت کی
سوری دادو —-لیکن کل پکا اپ کے ساتھ ہی ڈنر کرونگا پرامس اچھا چلتا ہوں خدا حافظ
وہ شرمندہ سا بولا
ایک منٹ ہمیشہ اکیلے ہی جاتے ہو کبھی عیشا کو بھی ساتھ لے جایا کرو سارا دن گھر میں ہی رہتی ہے اج تک تمہیں اسے کہیں باہر لے جاتے نہیں دیکھا اج اسے بھی ساتھ لے جاؤ
وہ دونوں سے لاتعلق بیٹھی تھی دادی کی بات سن کر پریشان ہوگئ ساحر خاموشی سے ان کی بات سنتا رہا
دادی میں وہاں جاکر کیا کرونگی میں تو وہاں کسی کو جانتی بھی نہیں
اگر جاوگی تو ہی جانوگی نا چلو جاؤ جلدی سے تیار ہوجاؤ کبھی دونوں ساتھ ساتھ بھی گھوما پھرا کرو لگتا ہی نہیں کہ نئ نئ شادی ہوئ ہے
انھونے اٹل لہجہ میں کہا
دادی اپ اکیلے کیسے رہوگے اپ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے میں کسی اور دن چلی جاونگی
اس نے پھر سے ٹالنا چاہا ساحر خاموشی سے اُسے سنتا رہا نظریں اپنے گھڑی پر مرکوز کردی
میں بلکل ٹھیک ہوں—– اور نینا ہے میرا خیال رکھنے کے لئے—- تم دونوں جاؤ
دادی———
عیشا اگر تم میری بات نہیں مانوگی تو میں تم سے ناراض ہوجاونگی
دادی کا پکا ارادہ دیکھ کر وہ اور کچھ نہیں کہ پائ اور خاموشی سے تیار ہونے چلی گئ دادی نے دونوں کے بیچ کی خاموشی کا اندازہ لگاکر انہیں جان بوجھ کر ساتھ بھیجا تھا
روم میں اکر اس نے جلدی جلدی شاور لیا پون آستین والی بلیک لانگ کرتی پر بلیک پینٹ پہنے اورینج ڈیزاینر دوپٹہ ایک کاندھے پر سیٹ کیا کانوں میں ڈایمنڈ ٹاپس اور گلے میں خوبصورت ڈایمنڈ چین پینڈینٹ پہنا بالوں کو برش کیا سائڈ سے مانگ نکال کر بالوں کو اچھا سا اسٹائل دیتے ہوے دائیں کاندھے پر کھلا چھوڈ دیا لائٹ میک اپ کرکے ناک میں ڈائمنڈ رنگ پہنی باہر سے ہارن کی آواز آنے لگی تو آئینہ میں بغور اپنا جائزہ لیا خوبصورت سی سینڈل پہن کر موبائل لیا اور دادی کو خدا حافظ کہنے آئ تو انہوں نے اس کی نظر اتارکر ڈھیر ساری دعائیں دی اس نے نینا کو دادی کا دھیان رکھنے کی تاکید کی اور باہر اگئ
وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے فون پر بات کر رہا تھا جب اسے آتا دیکھا تو نگاہیں ایک پل کو تھم گئ دل نے کہا بس اسے یونہی دیکھتا رہے بنا پلکیں جھپکاے لیکن اس نے اپنے دل کو ڈانٹ کر چپ کرایا اور عیشا کے جاننے سے پہلے نظریں سامنے کرلی وہ خاموشی سے آکر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئ اندر ہی اندر اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کیونکہ وہ پہلے کبھی اس طرح کی مکس پارٹی میں نہیں گئ تہیں اسلیے کہیں کوئ غلطی نا کردے اور یہ لوگ جو لوگوں میں خامیاں تلاشتے رہتے ہے کہیں اس کا مزاق نا بناے
گاڑی ایک بہت بڑے ہوٹل کر پارکنگ ایریا میں پارک کرکے وہ دونوں اندر آۓ ساحر نے دیکھا کے وہ مسسلسل دونوں ہتھیلیوں کو رگڑ رہی تھی وہ سمجھ گیا کہ نروس ہو رہی یے لیکن چاہ کر بھی تسلی نہیں دے سکتا تھا
ان کے اندر آتے ہی سب سے پہلے ایک خوبصورت عورت نے ان کا استقبال کیا جو عمر میں لگ بھگ چالیس کے قریب تھی لیکن بہت مارڈن تھی بنا آستین والے گولڈن بلاوز پر ڈارک بلیو قیمتی ساڑی پہنے اچھا خاصا میک اپ کیا ہوا تھا شاید وہ میزبان تھی ساحر اسے مسز مہرا کہ کر مخاطب کر رہا تھا خوشدلی سے ساحر کے گلے ملی اس نے عیشا کا تعارف کروایا تو عیشا کو بھی اسی انداز میں گلے لگاکر گال پر بوسہ لیا
وہ دونوں کو اندر ہال میں لے گئ جو بڑی خوبصورتی سے سجا ہوا تھا ساحر کے اندر جاتے ہی ایک کے بعد ایک کئ لوگ اس سے مل رہے تھے مسز مہرا نے بھی عیشا کا تعارف سب سے کروایا کئ لڑکیاں جو جدید فیشن کا نمونہ بنی ہوئ تھیں ساحر سے بڑی بے باکی سے گال سے گال مس کرتے ہوے گلے مل کر اس کا ویلکم کرنے لگی عیشا کو ان کی یہ حرکتیں بےحد ناگوارہ لگی کافی دیر تک یہی سلسلہ چلتا رہا نئے نئے لوگوں سے اس کا تعارف کروانے کا کام مسز مہرا ہی کر رہی تھی وہ لڑکیوں سے ہاتھ ملالیتی جبکہ مردوں کو صرف سلام کرکے خاموشی سے ان کا تعارف سنتی اندر ہی اندر وہ بہت نروس ہورہی تھی ان سب کے بیچ اسے اپنا اپ بہت کمتر محسوس ہو رہا تھا جبکہ وہاں کوئ ایسا بھی تھا جس کے لئے وہ دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی مگر وہ اس کی جانب دیکھ بھی نہیں رہا تھا
تو اپ ہے وہ جن کی خاطر مسٹر خان نے لاکھوں لڑکیوں کا دل توڈا ہے
ایک خوبصورت لڑکی نے اس سے مل کر طنزیہ انداز میں کہا وہ ساحر کو دیکھنے لگی جو کسی آدمی سے بات کرنے میں مصروف تھا اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا بات کرے
اپ کرتی کیا ہے
جی م—میں ابھی پڑھ رہی ہوں
ہاں مسٹر ساحر نے بتایا تھا تو کیا اپ آگے انہیں بزنس میں جوائن کرینگی
اب کے دوسری لڑکی نے پوچھا
ابھی ایسا کچھ سوچا نہیں ہے
ویسے اپ مسٹر خان کو کب سے جانتی ہے
وہ لوگ باقاعدہ انٹرویو لینے لگے اب وہ کیا جواب دیتی کہ شادی کے رات ہی اس کا چہرہ دیکھا تھا اس نے بے اختیار ساحر کا بازو تھام لیا اس نے حیرانی سے پلٹ کر پہلے اپنے بازو کو پہر عیشا کو دیکھا جس پر اس نے ہاتھ ہٹالیے وہ چاہ کر بھی کچھ پوچھ نہیں سکا اپنے کچھ فرینڈس کے پکارنے پر وہ ان کے پاس چلا گیا اور عیشا مزید پریشان ہوگی کسی کے بات کرنے پر وہ زبردستی مسکراتی رہی لیکن سارا دھیان تھوڑی دوری پر کھڑے ساحر پر ہی تھا جو وھائٹ شرٹ اور لائٹ ڈادک بلیو جینس پہنے بڑے اسٹائل سے کھڑا تھا اج پہلی بار وہ اسے اپنے پاس دیکھنا چاہتی تھی تب ہی اس کے موبائل کی میسیج ٹون بجی نمبر سیو نہیں تھا لیکن اسے اندازہ تھا کس کا نمبر ہے اس لئے کافی حیران و پریشان تھی وہ سب سے تھوڑے فاصلے پر آئ
کیا ہوا کچھ پریشان لگ رہی ہو
اس نے ایک منٹ تک بار بار میسیج پڑھا پھر ٹائپ کرنے لگی
پہلی بار ایسی پارٹی میں آئ ہوں- تھوڑا عجیب لگ رہا ہے- یہاں تو سب فیشن شو کا حصہ لگ رہے ہیں کہیں میرا مزاق نا بناے
چند سیکنڈ بعد میسیج آیا
نروس ہونے کی ضرورت نہیں ہے یو آر لوکنگ پرفیکٹ
لیکن اپ کو کیسے پتا میں پریشان ہُوں
اگر کوئ لڑکی مسلسل اپنی ہتہیلیاں رگڑے اور بے دردی سے ہونٹ کانٹتی جاے تو اس کی وجہ خوشی تو نہیں ہوگی نا
ویسے اپ ہے کون
اس نے مسکراتے ہوۓ ٹائپ کیا دوسری طرف سے ہنسی والی امیجی آئ
سچ میں تمہیں نہیں پتا میں کون ہوں
نہیں پتا تبھی تو پوچھ رہی ہوں
وہ سامنے دیکھنے لگی ساحر کی اس طرف پشت تھی
لیکن میں جانتا ہوں کہ میرا نمبر ہے تمہارے فون میں
کچھ دن پہلے فون ٹوٹ گیا تھا سارا ڈاٹا ڈیلیٹ ہوگیا
وہ مسکراہٹ روک کر سینڈ کرنے لگی
تب بھی تمہیں پتا ہے اسلیے تو پہلے میسیج میں نہیں پوچھا
وہ بھی بضد تھا
دھیان نہیں رہا اب بتادو کون ہو
تمہارا دشمن شوہر
اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکنا چاہی
یہ مہربانی کیوں
ہنسی روک کر ٹائپ کیا
بس اندر جو شوہر ہے نا وہ لاکھ بے عزتی کرنے پر بھی اپنی بےشرمی سے باز نہیں آتا بیوی پریشان ہو تو دوڈا چلا آتا ہے بھلے ہی بعد میں گالیاں پڑے
ایک منٹ تک اس نے کچھ نہیں کہا تب دوسرا میسیج آیا
تم پریشان تھی اس لئے پوچھ لیا اگر برا لگا ہو تو سوری آئیندہ ایسا نہیں ہوگا
لیکن اس نے کوئ جواب نہیں دیا کیونکہ کچھ سوجھا ہی نہیں پتا نہیں کیوں لیکن اسے برا نہیں لگا
مسز مہرا دونوں کو زبردستی کھینچ کر ڈانس فلور پر لے آئی جہاں مدھم روشنی میں کئی کپلس ڈانس کرنے میں مصروف تھے دھیمی آواز میں میوزک بج رہا تھا چند منٹ و یونہی نظریں جھکائے کھڑی زمین کو جانچتے رہی اور ساحر اُسے دیکھتا رہا پھر اس نے اپنا ہاتھ آگے کیا عیشا نے اس کے ہاتھ کو دیکھا اور دوبارہ نیچے دیکھنے لگی اصل میں وہ بہت نروس ہو رہی تھی اس کا ارادہ بھانپ کر ساحر نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اُسے غصّہ آنے لگا تھا وہ واپس جانے لگا تب ایک لڑکی نے اسے ڈانس کے لیے کہا تو وہ عیشا پر ایک نظر ڈال کر اس کے ساتھ چل دیا وہ اُسے جاتے دیکھتی رہی لیکن روک نہیں پائی
اس لڑکی کے کمر میں ہاتھ ڈالے وہ خوبصورتی سے ڈانس کر رہا تھا بار بار عیشا کی جانب دیکھتا اور وہ اس کے دیکھتے ہے نظریں پھر لیتی تھی جانے کیوں اُسے ساحر کا اس لڑکی کے اتنے قریب ہونا بہت تکلیف دےرہا تھا ایک آنسو آنکھ سے گرنے لگا جسے اس نے رخ پھیر کر صاف کرلیا اور واپس پلٹ گئی
ساحر نے ایک ملازم کو کچھ کہا اور دوبارہ ڈانس کرنے لگا کچھ دیر بعد میوزک بند ہوکر گانا بجنے لگا
کیسے بتاے
کیوں تجھ کو چاہے
یارا بتا نا پاے
باتیں دلوں کی
دیکھو جو باقی
آنکھیں تجھے سمجھاے
تو جانے نا
تو جانے نا
وہ مسلسل اُسے ہی دیکھ رہا تھا وہ پلکیں جھکائے کھڑی رہی نظریں اٹھاتی تو اسے دیکھتے پاکر دوبارہ جھکالیتی
مل کے بھی ہم نا ملے
تم سے نا جانے کیوں
میلوں کے ہے فاصلے
تم سے نا جانے کیوں
انجانے ہے سلسلے
تم سے نا جانے کیوں
سپنے ہے پلکوں تلے
تم سے نا جانے کیوں
کیسے بتاے
کیوں تجھ کو چاہے
یارا بتا نا پائے
باتیں دلوں کی
دیکھو جو باقی
آنکھیں تجھے سمجھاے
تو جانے نا
تو جانے نا
تو جانے نا
تو جانے نا
وہ ایک پل کے لیے بھی اس سے نظر نہیں ہٹا رہا تھا اور وہ لڑکی اس حرکت سے بیزار نظر آرہی تھی پر اُسے کہاں پرواہ تھی
نگاہوں میں دیکھو میری
جو ہے بس گیا
وہ ہے ملتا تم سے ہوبہو
جانے تیری آنکھیں تھی
یا باتیں تھی وجہ
ہوۓ تم جو دل کی آرزو
تم پاس ہوکے بھی
تم آس ہوکے بھی
احساس ہوکے بھی اپنے نہیں
عیشا نے نظریں اٹھائیں اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں دنیا بھر کے شکوے گلے تھے بےبسی تھی ناراضگی تھی اور ———پھر پلکیں جھک گئی
ایسے ہے ہم کو گلے
تم سے نا جانے کیوں
میلوں کے ہے فاصلے
تم سے نا جانے کیوں
وہ اس لڑکی سے مسکرا کر معزرت کرتا وہاں سے آگیا اور اپنے چند دوستوں کے گروپ میں شامل ہوگیا اور اُن سے بات کرنے میں لگ گیا
پہلی بار عیشا نے اس کی آنکھوں میں اپنے لئے بے پناہ محبت کی جھلک دیکھی تھی وہ بے خبر تھا کہ جس کی ایک نظر کے لئے اس کا دل بےچین رہتا تھا اج بنا کسی کی پرواہ کیے بس اس کے مسکراتے چہرے کو ہی دیکھ رہی تھی ساحر نے اس کی جانب دیکھا تو وہ رخ پھیر کر مسکرادی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: