Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 12

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 12

–**–**–

گاڑی رکی تو موبائل اور ہیڈ فون سیٹ پر رکھ کر وہ بیگ لئے اندر آئ اج وہ دوسری دفعہ یہاں آئ تھی
بنا دستک دیے ہی دھیرے سے دوروازہ کھولے اندر آئ وہ بڑی تیزی سے لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ کررہا تھا کسی کی موجودگی کا احساس کرکے سامنے دیکھا تو اسے اپنا وہم ہی سمجھا جو کوئ نئ بات نہیں تھی وہ بنا کچھ ری ایکٹ کیے دوبارہ کام کرنے لگا عیشا نے اس کی یہ حرکت نوٹ کی لیکن اس کی کچھ سمجھ نہیں آیا اسلیے سلام کرکے اسے متوجہ کرنا چاہا
اسلام و علیکم
ساحر حیرانی سے اسے دیکھتے ہوۓ کھڑا ہوگیا جواب دینے کا بھی ہوش نہیں تھا بس شاک ہوکر اسے دیکھتا رہا
وہ—دادی نے کہا کہ تم نے رات کو ڈنر نہیں کیا تھا صبح بھی ناشتہ کئے بنا ہی آگے کام میں بزی ہو اس لئے پتا نہیں کچھ کھایا کہ نہیں اسلیے انہوں نے تمہیں ٹفن دینے کو کہا ہے
اس نے ٹفن بیگ اس کی ٹیبل پر رکھ دیا
دادی نے——
وہ سوالیہ نظریں لیے بولا عیشا نے اثبات میں سر ہلا دیا
کوئ اور لے آتا تم نے کیوں تکلیف کی
اس کا لہجہ عیشا کو پسند نہیں آیا
دادی نے زبردستی بھیجا ہے مجھے کہا تم ہی جاوء
وہ جتاتے ہوئے بولی
اوکے— تھینک یو
بس تھینک یو سڑیل یہ نہیں کہ بیٹھنے کو ہی کہہ دے
اس نے دل میں سوچا اور واپسی کے لئے مڑ گئ
کیا میں تمہیں گھر چھوڑ دوں
اس نے جاتے دیکھ کر پوچھا
نہیں میں چلی جاونگی تمہیں تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں ہے
بنا مڑے اسی کے لہجے میں جواب دے کر وہ باہر نکل گئ اور وہ اس کے روٹھے انداز پر مسکرادیا جس سے بات کرنا پسند نہیں تھا آج اسکی بے توجہی پر بچوں کی طرح روٹھ رہی تھی
سڑیل_– کیا سمجھتا ہے خود کو—- اوکے تھینک یو—- یہ بھی کوئ بات ہوئ ایسا لگ رہا تھا جیسے سر پر سو کلو وزن رکھے شکریہ ادا کررہا ہو ——-انسان چاے نہیں تو پانی ہی پوچھ لیتا ہے کہ کوئ ہماری خاطر یہاں تک آیا ہے لیکن نہیں اسے تو اپنی اکڑ ہی بڑی پیاری ہے_-_– سڑو
وہ غصے سے بڑبڑاتی ہوئ گاڑی تک آئ تبھی اس کے موبائل کی میسیج ٹون بجی
جانتا ہوں اگر تمہاری مرضی نہیں ہوتی تو تم کبھی یہاں تک نہیں آتی اگر میرا خیال سہی ہے تو سپیشلی تھینکس فور دھیٹ
وہ مسکراتے ہوۓ گاڑی میں بیٹھ گئ
تم اتنے بھی سڑیل نہیں ہو
سوچتے ہوے خود ہی مسکرادی پتا نہیں کیوں لیکن ساری بدگمانیاں خود بخود ختم ہوگئی تھی سب کچھ بھول کر اس نے ماں لیا تھا کہ ساحر اچھا انسان ہے یا اب اچھا بن چکا ہے
******************,*,,,*****
زندگی ایک نئے راستے پر چلنے لگی جہاں دکھ اور اداسی تو ہرگز نہیں تھے کچھ تھا تو انجانی سی خوشی نیا نیا انداز لیکن زندگی کا رخ بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا
رمضان کی امد رحمت و برکت لےکر آئ ہر طرف پر نور سماں دل کو سکون دیتا ماحول لیکن ساتھ ہی ایک بہت بڑا غم بھی لکھا تھا ساتویں روزے کا دن ان کے لئے دکھ کا طوفان لیکر آیا جب ان کی عزیز ہستی جس نے انہیں جوڑے رکہا تھا قدم قدم پر جن کی دعائیں ساتھ ہوتی تھی ان سے منہ موڑ گئ تھی
ساتویں روزے کی رات نیند میں ہی دادی کا دل بند ہوگیا تھا یہ ان کی نیکیوں کا ہی صلہ تھا جو خدا نے انہیں رمضان کا مبارک مہینہ نصیب کیا تھا لیکن یہ تکلیف قابل برداشت نہیں تھی عیشا صرف چند مہینے سے ان کے ساتھ تھی لیکن ان کی بے پناہ محبت و اپنایت کا اثر تھا جو وہ ان کی جدائ کو ہر لمحہ محسوس کررہی تھی اس کی آنکھوں سے بہتا سمندر رکنے کو تیار ہی نہیں تھا سب سے الگ ایک طرف بیٹھی وہ دادی کے ساتھ گزرے ہر لمحے کو دماغ میں دہرارتی ان کی بےلوث محبت کو یاد کرکے وہ بچوں کی طرح رودیتی
جبکہ ساحر کی تکلیف کا تو اندازہ لگانا بھی مشکل تھا اس کی ساری دنیا دادی سے ہی تھی بچپن سے اج تک وہ اسی ایک چہرے کو دیکھتا آیا تھا اس کا ہر رشتہ دادی سے ہی تھا اور اج دادی کے جانے پر اسے محسوس ہورہا تھا کہ ایک نہیں کئ سارے اپنوں سے ایک ساتھ جدا ہوگیا ہے
وہ ان سے لپٹ کر بچوں کی طرح رورہا تھا امران ریحان جاوید سبھی اسے بار بار تسسلی دے رہے تھے لیکن اس کئ سننے سمجھنے کی حالت نہیں تھی وہ بس اپنی دادی کے محبت بھرے لمس کا عادی ہوچکا تھا لیکن وہ ہمیشہ کے لئے اس سے جدا ہوگئ تھی
تیسرے دن سبھی مہمان رخصت ہوگے بس امی ابو کے ساتھ امران اور جاوید ہی تھے مہمانوں کے جاتے ہی ساحر اندر چلا گیا دادی کے جانے کے بعد سے اس نے ایک خاموشی کی چادر اوڈھ رکھی تھی لاکھ سمجھانے کا اس پر کوئ اثر نہیں ہورہا تھا تین دنوں سے اس نے ایک نوالہ نہیں لیا تھا سب ہی اس کہ حالت سے پریشان تھے
وہ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے اسی کے متعلق بات کررہے تھے عیشا ایک جانب بیٹھی غیر مرعی نقطہ میں کھوئ ہوئ تھی اسے ایک عجیب سی بےچینی محسوس ہورہی تھی آخر اٹھ کر خاموشی سے اندر اگئ سوچا کہ کچھ دیر دادی کے روم میں گزارے شاید کچھ سکون محسوس ہو تھکے تھکے قدم بڑھاے وہ دروازے کے قریب آئ تو قدم وہیں تھم گۓ
سفید سلوار سوٹ میں زمین پر بیٹھے بیڈ کی پائنتی سے ٹیک لگاکر آنکھیں موندے وہ اندر ہی اندر اب بھی رو رہا تھا اس وقت وہ کوئ اور ہی لگ رہا تھا اسے دیکھ کر عیشا کے رکے انسو دوبارہ جاری ہوگے اسے اپنی بے چینی کی وجہ سمجھ میں آئ دادی نے ساحر کو اس کے حوالے کیا تھا لیکن وہ تو اسے تسلی بھی نہیں دے سکتی تھی اسے شدت سے احساس ہو رہا تھا کی جب خود کی یہ حالت ہے تو ساحر پر کیا گزر رہی ہوگی اس نے کتنی دفعہ ساحر کی بےعزتی کی تھی اسے برا بھلا کہا تھا لیکن پھر بھی وہ دادی کی خاطر اس رشتے کو قائم رکھنا چاہتا تھا کیونکہ یہ ان کی خواہش تھی
دونوں میں کافی وقت سے کوئ بات نہیں ہوئ اور اس میں ہمت نہیں ہورہی تھی اسے کچھ کہے کہیں وہ برا نا مان جاے اس نے ملازم سے کہ کر امران کو بلوایا امران نے اسے تسسلی دی اور اندر آکر اس کے برابر زمین پر ہی بیٹھ گیا عیشا وہیں دروازے میں کھڑی رہی
ساحر
وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا نظریں سامنے جمادیں
چل کر کھانا کھالے
مجھے بہوک نہیں لگ رہی
رونے سے اس کی اواز بہاری ہورہی تھی آنکھوں میں سرخی جمی ہوئ تھی
ساحر ایسا نہیں کرتے چل بس بہت ہوا زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے ہمارے چاہنے نا چاہنے سے قسمت بدل نہیں جاتی جو جب ہونا ہے تب ہوکر رہتا ہے اور یوں خود کو تکلیف دیکر خدا کی نا فرمانی کرنا سہی نہیں ہے
امران مجھے یاد نہیں ہے جب امی ابو مجھے چھوڈ گۓ تھے مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ موت کس چیز کا نام ہے ایک انسو نہیں رویا تھا میں ان کی موت پر میرے سامنے دو جنازے رکھے تھے مگر میں انہیں صرف حیرانی سے دیکھ رہا تھا مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ میرے اپنے مجھے ہمیشہ کے لئے چہوڑ کر جارہے ہے تو کیا دکھ مناتا اور جب احساس ہوا تو بہت دیر ہوگئ تھی لیکن اج محسوس ہورہا جیسے دادو ہی نہیں امی ابو اور داداجان بھی مجھے چھوڑ گۓ ہے جیسے ایک نہیں کئ اپنے ایک ساتھ جدا ہوگے پریشان رہوں یا خوش میرا چہرہ دیکھ کر دادو کو معلوم ہو جاتا تھا کیسے یہ میں کبھی نہیں سمجھ پایا لیکن ہاں یہ پتا ہے دادو مجھے مجھ سے بھی زیادہ جانتی تھی
ایک آنسو اس کے آنکھ سےگرا جسے اس نے فوراً ہاتھ سے رگڑ کر صاف کیا امران نے اسے گلے لگالیا
کچھ مت بول سب جانتا ہوں میں تیری ہر تکلیف سے واقف ہوں اور مجھے افسوس بھی ہے کہ میں چاہ کر بھی اسے کم نہیں کرسکتا لیکن دادی کے لئے تو خود سنبھال سکتا ہے نا ایسے رہے گا تو کتنی تکلیف ہوگی انہیں وہ کیا تجھے کبھی تکلیف میں دیکھ کر سکون سے رہ سکتی ہے ایسے اپنے اپ میں بیٹھا خود کے ساتھ اُنھیں بھی ازیت دے رہا ہے
وہ کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگیا
چل کھانا کھاکر کچھ دیر آرام کر تیری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی
امران کو اس کا جسم جلتا ہوا محسوس ہوا ساحر نے اس سے الگ ہوکر اسے دیکھا سچے دوست خدا کا بہترین تحفہ ہوتے ہیں امران نے ہر وقت میں اس کا ساتھ دیا تھا چاہے کوئ بھی پریشانی کیوں نا آۓ ہمیشہ اس کا سچا دوست ہونے کا سبوت دیا تھا دونوں کی دوستی بے غرض تھی مطلب تھا تو ہر حال میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے اور اج بھی اسے روتا دیکھ کر خود اس کی آنکھیں نم ہورہی تھی
تو چل میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں
عیشا نے اپنے آنسو صاف کئے ملازم کو کہانا لگانے کا کہا اور بنا دستک دیے اندر چلی ائ
بہائ جان
وہ امران سے کہ رہی تھی لیکن نظریں ساحر پر جمی ہوئ تھی جو مسلسل چھت کو دیکھ رہا تھا
بھائ جان کھانا لگ گیا ہے چلیں
وہ باہر اگئ امران نے ساحر کو زبردستی اٹھایا اور ٹیبل تک لے آیا وہ بھی بنا کسی احتجاح کے بیٹھ گیا عیشا نے خود پلیٹ بنا کر اس کے آگے رکھی وہ دیر تک سپون ہاتھ میں پکڑے بیٹھا رہا عیشا نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس نے ہاتھ دکھا کر اسے روک دیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: