Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 13

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 13

–**–**–

عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر وہ بالکونی میں بیٹھی اسی کے متعلق سوچ رہی تھی دادی کا چہلم ہوے دو دن ہو گے تھے لیکن بات کرنا تو دور وہ اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا عید کے دن اس کے سلام کا جواب جس بے رخی سے دیا تھا اس کے بعد خود کوئی بات کرنے کی ہمت ہی نہیں تھی وہ اُسے جس طرح سے اگنور کررہا تھا یہ فکر اُسے بری طرح ستارہی تھی وجہ و خود بھی نہیں جانتی تھی لیکن اب وہ ساحر سے نفرت تو نہیں کرتی تھی
شام سے پیٹ درد کرہا تھا لیکن وہ ہمیشہ کی طرح اج بھی کب سے نظر انداز کررہی تھی لیکن اب درد بڑھنے لگا تو پین کلر لینے کا سوچ کر اندر ای لیکن ڈراور میں پین کلر تھی ہی نہیں اسے یاد ایا کہ دو دن پہلے ہی اس نے لاسٹ ٹیبلیٹ لے لی تھی اس نے انٹرکام پر دوائ کا کہا اور انتظار کرنے لگی بڑھتے بڑھتے درد اب برداشت کے باہر ہورہا تھا اس لیے وہ پیٹ پکڑے درد کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگی اکثر اس کے پیٹ میں تکلیف ہوتی تھی لیکن اج جیسی کبھی نہیں ہوی تھی پیٹ درد کے ساتھ اب سر بھی چکرارہا تھا وہ کچھ سمجھ نہیں پارہی تھی پریشان ہوکر خود ہی باہر کے لیے قدم بڑھادیے لیکن قدم اٹھانا بھی نا ممکن ہورہا تھا رہ رہ کر ٹیسیں اٹھنے لگی تو اس کے منہ سے ہلکی سی چینخ نکلی بڑی مشکل سے ایک ہاتھ سے پیٹ پکڑے دیوار سے لگتی ہوی وہ باہر ائ خوف کے مارے وہ بے اواز رونے لگی چند منٹ میں ہی درد اتنا بڑھ گیا تھا کے اس کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہورہا تھا منہ سے مسلسل اہ نکل رہی تھی روم سے باہر آکر گرل کو تھامے اگے بڑھنے لگی وہیں سے اسے ساحر نیچے صوفے پر بیٹھا نظر ایا جو دوسری طرف رخ کیے لیپ ٹاپ پر کسی سے ویڈیو کال میں مصروف تھا
س—-سسا——ساحر——–سا-ساحر
اس نے اسے اواز دینی چاہی لیکن سانس لینے میں اتنی دشواری ہورہی تھی کہ اواز نکالنا ناممکن تھا اور جو ہلکی سی اواز نکلی وہ ساحر تک نہیں پہنچ پائ بے بسی سے روتے ہوے وہ گرل کو دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے تھامے لڑکھڑاتے قدموں سے سیڑھیوں کی جانب بڑھی
س—-سا–ساحر
لاکھ کوشش کے بعد صرف اس کے لب ہل رہے تھے چہرہ انسو اور پسینے سے بھیگ رہا تھا بال بے ترتیبی سے چہرے پر بکھر گئےتھے
س——سسس——-ساحر
اس نے ہمت کرکے اپنے لڑکھڑاتے وجود کو سنبھالتے ہوے سیڑھیاں اترنے کی کوشش کی لیکن تیسری سیڑھی پر ہی بے قابو ہوکر گر پڑی اور لڑھکتے ہوے سیدھے زمین پر آکر گری اس کے گرنے کی اواز پر ساحر نے مڑ کر دیکھا اور اسے یوں زمین پر اوندھے منہ پڑا دیکھ کر اس کے منہ سے زور کی چینخ نکلی
عیشااااا—————–
وہ دوڈ کر اس کے پاس ایا اور اسے ہاتھوں میں تھامے سیدھا کیا اس کی پیشانی پر ایک طرف بہت گہری چوٹ لگی تھی جس سے پانی کی طرح خون بہہ رہا تھا وہ شاکی کیفیت میں اس کے زخم پر ہاتھ رکھے خون روکنے کی کوشش کررہا تھا عیشا نے بوجھل پلکوں سے اسے دیکھا اس کی شرٹ مضبوطی سے پکڑے اس سے کچھ کہنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی بےہوش ہوگی
عیشا -_–عیشا—– او مای گاڈ– یہ—- یہ——- عیشا ——-انور جلدی گاڑی نکالو
اس نے گھبراتے ہوے زور کی اواز لگائ اور اسے باہوں میں اٹھاکر تقریباً دوڑتے ہوے باہر لے ایا اس کے باہر انے کے ساتھ ہی ڈرائیور گاڑی بھی لے آیا اس نے عیشا کو سیٹ پر لٹاکر اس کا سر اپنی گود میں رکھے بیٹھ گیا
عیشا— عیشا یہ کیا ہوگیا تمہیں—– یا اللہ رحم کرنا
وہ اس کے چہرے سے بال ہٹاکر ہاتھ سے اس کاچہرہ صاف کرنے لگا دوسرے ہاتھ سے اسے مضبوطی سے تھامے خود کے قریب کرلیا
آئے ایم سو سوری عیشا–_-_– میں نے تمہارا خیال نہیں رکھا
وہ اس کے سر پر لگی چوٹ سے بہتے خون کو ہاتھ سے روکنے کی کوشش کررہا جس سے اس کی پنک کرتی سرخ ہورہی تھی
ڈونٹ وری عیشا تمہیں کچھ نہیں ہوگا بس تھوڑی ہمت رکھو ہم ابھی ہاسپٹل پہنچ رہے ہیں– ہاں
وہ اس کی بند آنکھوں کو دیکھتے ہوئے جزبات سے بھاری آواز میں کہہ رہا تھا
گاڑی فاسٹ کرو
اس نے ڈرائیور سے کہا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر وہاں پہنچ جائے بیس منٹ بعد گاڑی ہاسپٹل کے آگے رکی اور وہ فوراً اسے اٹھاے اندر لے آیا اسے دیکھ کر ہاسپٹل کی ٹیم نے فورًا اپنا کام کرنا شروع کردیا اور اسے سٹریچر پر ڈال کر آپریشن تھیٹر میں لے گئے اور ٹریٹمنٹ شروع کیا آپریشن تھیٹر کے بند دروازے پر نظریں جمائے اس نے دیوار پر گرتے ہوے ایک ہاتھ سے سر کو تھام لیا وہ تو اسے روتے ہوے نہیں دیکھ پاتا تھا اور اس کی ایسی حالت دیکھ کر اسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہورہا تھا لب بھینچے وہ مسلسل اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کررہا تھا اس کے لیے ایک ایک لمحہ گزارنا مشکل ہورہا تھا ٹھیک پندرہ منٹ بعد دروازہ کھول کر ایک جونئیر ڈاکٹر باہر آیا تو وہ فوراً اس کے پاس آیا
ڈاکٹر کیا ہوا اسے
مسٹر خان ان کی حالت بہت کریٹیکل ہے اپینڈکس پھٹنے سے پیٹ میں پوائزن پھیل گیا ہے
اپینڈکس
اس نے حیرت سے پوچھا
جی ہاں اور خون بھی کافی بہہ چکا ہے فوراً آپریشن کرنا ضروری ہے اپ پلیز یہاں سائن کر دیں
ڈاکٹر نے ایک فائل اس کے اگے کی اس نے حیران نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھا اور جھٹ سے فائل لے کر دو تین مطلوبہ جگہ پر سائن کردیا
ڈاکٹر اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے
اس کے لہجے میں التجا تھی
ڈونٹ وری مسٹر خان ہم پوری کوشش کررہے ہیں
ڈاکٹر نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھے دلاسا دیا اور واپس چلا گیا اور وہ وہیں بینچ پر بیٹھ گیا لب بھینچ کر اس نے کافی کوشش کی لیکن ایک انسو انکھ سے نکل کراس کے ہاتھ پر گرا اس کی سفید شرٹ ایک سائڈ سے سرخ رنگ میں بدل چکی تھی لائٹ بلیو پینٹ گھٹنے تک خون سے بھیگی ہوئ تھی دونوں ہاتھوں بھی رنگے ہوے تھے وہ پریشان سا ہاتھوں کو دیکھنے لگا آنکھوں میں بس اس کا خون سے سنا وجود گھوم رہا تھا وہ بار بار تھوک نگل کر لب بھینچے اپنی گھبراہٹ کو قابو کررہا تھا
یا اللہ میں نے کیا کیا جو اپ میرے ساتھ ایسا کررہے ہیں پہلے ہی اتنا کچھ کھو چکا ہوں اب اور ہمت نہیں ہے مجھ میں اسے کچھ ہوا تو میں کیا کروں گا یا اللہ مجھ پر رحم کر میرے گناہوں کی سزا اتنی بھیانک مت دے اس کے بناء میری کوئ زندگی نہیں ہے اپنے محبوب کے صدقے اسے سلامت رکھ اس کی ساری تکلیف ختم کردے اس کی سانسوں کی حفاظت کر یا اللہ رحم کر اپنے گناہگار بندے کی دعا قبول کرلے اس کی حفاظت کر
دیوار سے سر ٹکائے وہ مسلسل اپنے رب سے فریاد کرتا رہا ایک ایک کرکے عیشا سے متعلق ہر بات کسی فلم کی طرح دماغ میں چل رہی تھی ہر سیکینڈ کے ساتھ دل کی بے چینی میں اضافہ ہورہا تھا
دو گھنٹے سے زیادہ وقت اسی طرح بے چینی سے گزرا تب ایک ڈاکٹر باہر ایا اور اپنے چہرے سے ماسک نکال کر ساحر سے مخاطب ہوا
مسٹر خان آپریشن تو کامیاب رہا لیکن جب تک ہوش نہیں اجاتا کچھ کہہ نہیں سکتے سر پر چوٹ لگنے سے کافی بلڈ لوس ہوچکا ہے اسلیے اب بھی خطرہ ہے
وہ کچھ نہیں بولا بس انھیں دیکھتا رہا ڈاکٹر نے بازو پر ہاتھ رکھے اسے تسسلی اور آگے بڑھ گیا اسے اپریشن تھیٹر سے آی سی یو میں شفٹ کردیا گیا پیشانی پر سفید پٹی بندھی ہوئ ایک کلائ بھی چوڑیاں ٹوٹنے سے زخمی ہوئ تھی دوسرے ہاتھ میں ڈرپ لگی ہوئ تھی وہ پوری طرح سے نیم جان پڑی تھی ساحر نے اسے اس حالت میں دیکھا تو اور بےچین ہوگیا ہمت نہیں ہوئ تو رخ پھیر لیا اپنی انکھیں رگڑ کرصاف کی فوراً وضو کرکے ایا اور آی سی یو کے سامنے ہی اپنے اللہ کے حضور کھڑے ہوگیا اور کتنی ہی دیر گڑگڑاکر اپنے مالک کو مناتا رہا اتے جاتے لوگ اسے حیرانی سے دیکھ رہے تھے وہ کوئ عام ادمی نہیں تھا ایک جانی مانی ہستی کو اس طرح دیکھ کر ان کا حیران ہونا لازمی تھا صبح ہونے کو ائ تھی اس نے وقت دیکھ کر فجر ادا کی اور کچھ سکون حاصل کرکے وہاں سے اٹھا اور شیشے سے اسے دیکھا تو وہ اب تک اسی طرح تھی جانے کیوں وہ اسے دیکھ نہیں پارہا تھا واپس اکر دیوار سے منسلک صوفے پر بیٹھ گیا اب وہ کافی حد تک پرسکون لگ رہا تھا لیکن اندر ہی اندر ایک ڈر نے پریشان کر رکھا تھا رات نو بجے سے وہ اتنی ازیت میں تھا اور اب صبح کا سورج چاروں اور اپنی روشنی بکھیر رہا تھا لیکن اسے اتنا بھی ہوش نہیں تھا کہ کسی کو اطلاع کرے
سوری عیشا جانتا ہوں تمہارے قابل نہیں ہوں لیکن کیا ایک موقع نہیں دوگی مجھے کہ تمہارے قابل بن سکوں ایک بار ٹھیک ہوجاؤ عیشا اس کے بعد میں تمہاری آنکھ میں ایک آنسو بھی نہیں رہنے دونگا ہر حال میں تمہارے اگے رہونگا تاکہ کوئ مصیبت آے تو تم سے پہلے مجھ پر آے تم نہیں جانتی تم میرے لیے کیا ہو میں تمہیں کتنا چاہتا ہوں
اس کا موبائل رنگ کرنے لگا اس نے موبائل نکال کر دیکھا اس کے سیکریٹری کی کال تھی
ہاں
سر میٹینگ کا ٹائم ہوچکا ہے سبھی یہاں موجود ہے ہماری پریسینٹیشن بھی تیار ہے بس اپ کا انتظار ہورہا ہے
دوسری جانب سے آواز آئی
سب کینسل کروادیں نواز اس وقت کچھ ممکن نہیں ہے
لیکن سر اگر ڈیل کینسل ہوئ تو کافی لاس ہوگا
نواز جو ہوتا ہے ہو میری طرف سے ان سے معزرت کرلینا
کہہ کر اس نے فون بند کردیا وہ پچھلے ایک ہفتے سے اس پراجیکٹ پر محنت کررہا تھا لیکن اس وقت اسے کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی فون دیکھ کر دھیان آیا کہ عیشا کے گھر بھی اطلاع دینی چاہیے ریحان کا نمبر ٹراے کیا لیکن بند تھا اسلیے امران کو کال کی
ہاں بول میرے بھائ
امران نے کال لیتے ہی اپنے مخصوص انداز میں کہا
امران وہ عیشا
وہ کہ نہیں پایا
کیا ہوا
امران کو اس کے لہجے سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا
امران میں ہاسپٹل میں ہوں عیشا—-
ساحر کیا ہوا عیشا کو
عمران نے گھبرا کر پوچھا
تو فوراً یہاں اجا
ہاں میں ارہا ہوں بس دو منٹ میں ڈونٹ وری
اس نے موبائل جیب میں ڈالا اور آی سی یو کے بند دروازے پر ایک نظر ڈال کر دوبارہ اپنی جگہ بیٹھ گیا
ادھے گھنٹے بعد ہی امران وہاں اگیا ساحر کے کپڑوں پر اتنا خون دیکھ کر ہی وہ سمجھ گیا کہ کوئ چھوٹی بات نہیں ہے
ساحر کیا ہوا عیشا کو یہ کیا ہے
وہ ساحر کے سارے کپڑوں کو حیرانی سے دیکھ رہا تھا ساحر اس کے گلے سے لگ گیا اسے کب سے کسی کے سہارے کی ضرورت تھی لیکن وہ کسی کو بتانے کے لیے اپنے ہواسوں میں نہیں تھا اس نے کم سے کم لفظوں میں اسے سب کچھ بتادیا امران بھی پریشان ہوگیا
ڈونٹ وری
اسے دلاسا دیتے ہوے صوفے پر بٹھایا اور ریحان کو فون کرکے صورتحال بتائ تبھی ایک نرس نے انھیں اطلاع دی
مسٹر خان اپ کی وائف کو ہوش اگیا ہے آپ ان سے مل سکتے ہے
ساحر نے خوشی سے امران کی جانب دیکھا اور بنا وقت ضائع کیے دونوں اندر ائے
ڈاکٹر عیشا کا معائنہ کررہا تھا ایک رات میں ہی اس کی گلابی رنگت سفید ہوگئ وہ بے حد کمزور لگ رہی تھی ساری تسسلی کرکے ڈاکٹر نے ساحر کو مخاطب کیا
اب یہ بلکل ٹھیک ہے فکر کی کوئ بات نہیں تھوڑی ہی دیر میں ہم انھیں روم میں شفٹ کردینگے
ڈاکٹر نے مسکرا کرکہا
تھینکس ڈاکٹر
ڈاکٹر باہر چلا گیا تو وہ اسکے قریب ایا اور اس کے چہرے کو چھوکر اپنے دل کو تسسلی دی پھر دھیرے سے اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھ دیے وہ کچھ کہہ بھی نا پائ کن انکھیوں سے امران کو دیکھنے لگی جو زیر لب مسکراتے ہوئے ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا اسے بہت شرمندگی محسوس ہوئ ساحر سکون کا سانس لیتے ہوئے اس سے دور ہوا اور ساری تکلیف ساری فکر ایک طرف رکھ کر اسے غصے سے دیکھا
کیا سمجھتی ہو تم خود کو—- بہت جینیس ہو—- ہر پریشانی کا حل صرف تمہارے پاس ہے—- دوسرے بیوقوف اور گدھے نظر اتے ہے کیا تمہیں
وہ غصے سے بولا عیشا کو بہت حیرانی ہوئ امران بھی اسے حیرت سے دیکھتا رہا
میں نے کیا کیا
کمزوری سے اس کی اواز بہت دھیمی نکل رہی تھی
کیا کیا _—_ یہ جو ہوا ہے نا یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے——- اگر کسی کو بتانے میں شرم ارہی تھی تو خود ہی اکر خاموشی سے علاج کرواتی کم سے کم بات یہاں تک تو نہیں پہنچتی
مجھے کیا پتا تھا یہ سب ہوجایگا
وہ معصومیت سے بولی
ہاں تم تو چھوٹی سی بچی ہو نا ——تمہارا دماغ تو صرف لوگوں کو جج کرنے میں کام آتا ہے اور جہاں ضروری ہو وہاں تمہاری عقل گھاس چرنے چلی جاتی ہے
اس کا غصّہ مزید بڑھ گیا
تم مجھے اتنا ڈانٹ کیوں رہے ہو
اس نے معصوم شکل بنا کر کہا امران اپنی مسکراہٹ دبائے دونوں کو دیکھنے لگا
ڈانٹوں نہیں تو کیا پیار کروں تمہیں—– اتنی بھی عقل نہیں ہے کہ اگر اتنی بار درد ہورہا ہے تو پین کلر لینے کی بجاے ایک بار ڈاکٹر کو دکھادو—- اتنے وقت سے اپینڈکس تھا اور بیوقوف کو پتا بھی نہیں چلا
سوری
وہ ایک ہاتھ سے کان پکڑ کر بولی
سوری—– بس ہوگیا—– جانتی ہو کیا حالت ہوگی تھی میری—–_ جان—-_ یہاں تک اگئی تھی–_– لائف میں پہلی بار کسی سچویشن سے اتنا ڈر لگا مجھے—- اتنا بے بس محسوس کیا میں نے—- تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے اس ایک رات میں ہزار بار موت کا سامنا کیا ہے میں نے—– تم نے کبھی سوچا اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو میں کیا کرتا—— کیسے—— سمجھارہا ہوں عیشا اگر آئندہ تمہاری وجہ سے مجھے دوبارہ ایسے حالات سے گزرنا پڑا نا تو میں تمہاری جان لے لونگا ——-وارن کررہا ہوں اب ایسی کوئ بھی بیوقوفی کی تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا سمجھی
عیشا نے معصومیت سے سر اثبات میں ہلادیا اسے ساحر کی باتوں پر تعجب بھی ہورہا تھا اور انجانی خوشی بھی ساحر پاس رکھی چئیر پر بیٹھ کر اس کی فائل تھامے رپورٹس دیکھنے لگا
اب کیسی ہو عیشو
عمران اس کے پاس آکر نرمی سے بولا
میں ٹھیک ہوں بھائ جان
اتنی لا پرواہی اچھی نہیں ہوتی آئیندہ دھیان رکھنا ہوں
اس نے سمجھاتے ہوئے کہا
جی
وہ ہلکا سا مسکرائی
گڈ گرل اب ارام کرو اوکے
اس کا گال تھپتھپاکر وہ باہر چلا گیا عیشا اسے غور سے دیکھنے لگی جو فائل پر نظریں جمائے بیٹھا تھا اس کی باتوں میں عیشا کے لیے جو چاہت تھی عیشا اسے اسانی سے محسوس کرگئ خون آلود کپڑے بکھرے بال اور ہلکی بڑھی شیو کے ساتھ وہ جانے کیوں اج دل کے بہت قریب لگ رہا تھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: