Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 14

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 14

–**–**–

اگلا ایک ہفتہ ہاسپٹل کے وی ائ پی بیڈ پر ہی گزرا حالانکہ اس نے تیسرے دن سے ہی گھر جانے کی رٹ لگادی تھی لیکن ساحر نے اس کی ایک نہیں چلنے دی ساحر نے اس کا بہت خیال رکھا وہ زیادہ وقت وہیں رہتا
اس کے علاوہ امی بھی سارا دن اس کے ساتھ ہی رہتی لیکن ساحر رات کو انھیں ارام کی غرض سے گھر بھیج کر خود وہاں رک جاتا افس بھی بہت کم وقت کے لیے جاتا تھا اور بار بار کال کرکے طبیعت پوچھتا وہ مزید یہاں رہنے کو تیار نا ہوئ تو ساحر نے اس کی ضد دیکھتے ہوئے ایک ہفتے میں ہی ہاسپٹل سے ڈسچارج لے لیا ڈاکٹر نے اسے کچھ ضروری ہدایات دے کر اجازت دیدی
ریحان بھائی میں نے ڈاکٹر سے بات کرلی ہے اُنہونے ڈسچارج دے دیا ہے
اس نے روم میں آکر اطلاع دی جہاں ریحان کرسی پر بیٹھا عیشا سے بات کر رہا تھا اور امّی اسے دوائی دےرہی تھیں
ریئلی
وہ یہاں سے اتنا اُکتا گئی تھی کی یہ خبر سن کر خوش ہوگئی ساحر پہلے ہی اس کی ضد پر غصہ تھا لیکن اس وقت کچھ کہا نہیں بس گھور کر دیکھا
ہاں لیکن یہ بھی کہا ہے کہ آرام کرنا ہے اسٹریچز نکالنے میں ابھی کافی وقت ہے تب تک کافی دھیان رکھنا ہوگا لا پرواہی نہیں چلیگی
اس نے اطراف کا خیال کرتے ہوئے دبے دبے غصے میں کہا
ساحر بیٹا برا نا مانو تو ہم عیشا کو کچھ دن کے لیے اپنے ساتھ لے جائے
امی نے کچھ جھجھکتے ہوئے پوچھا
مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے انٹی
دل تو نہیں چاہا لیکن اس وقت اسے
عیشا کا اُن کے ساتھ رہنا ہی صحیح لگا کیونکہ وہ جانتا تھا اگر کوئی پرابلم ہوئی تو وہ اسے نہیں بتائے گی اور اس وقت وہ کوئی رسک نہیں لیے سکتا تھا اسلئے اس نے حامی بھردی
گھر آکر اسے بہت اچھا لگ رہا تھا اس نے لائٹ بند کی اور سونے لگی تھی جب اس کا فون بجنے لگا ساحر کے نمبر سے میسیج تھا پچھلے ایک ہفتے سے وہ اس سے بس ضرورتاً ہی بات کرتا تھا کسی بات کا جواب بھی روٹھے ہوئے انداز سے دیتا تھا ایسے وہ اپنی ناراضگی ظاہر کر رہا تھا اس نے میسج اوپن کیا
کیسی ہو
وُہ مسکرائی پورے ایک ہفتے بعد یہ سوال کیا تھا اس نے
بڑی جلدی فرصت مل گی آپ کو میرا حال چال پوچھنے کی
اس نے شکوہ کرنے میں دیری نہیں کی
تم نے مجھے جیسے پریشان کیا-_-__ کیا میرا ناراض ہونا غلط تھا
لیکن ایسی بھی کیا ناراضگی جو ختم ہونے کا نام ہی نا لے
میسیج بھیج کر وُہ انتظار کرنے لگی تین منٹ بعد جواب آیا
تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی کے وہ رات کتنی خوفناک تھی میرے لیے ہر سیکنڈ کے ساتھ میری دھڑکن بڑھ رہی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے دل نکل کر باہر آ جائے گا تمہیں ایسے دیکھنے کا حوصلہ نہیں تھا مجھ میں کیا کروں اتنا کچھ کہو چکا ہو کے اب تمہیں کھونے کی ہمت نہیں ہے تمہارے سوا ہے بھی کون ایک تم ہی تو ہو اور تمہاری ذرا سی لاپرواہی نے مجھے جیتنا پاگل کیا تھا اس کے بعد میری ناراضگی جائز تھی وعدہ کرو کے آج کے بعد ایسا نہیں ہوگا تم خود کو میری امانت سمجھ کر اپنی حفاظت کروگی
اس کی باتیں ایسی تھی کے دل کی کیفیت گھبراہٹ میں بدلنے لگی اب تک تو صرف تلخ کلامی ہی ہوئی تھی اب اچانک سے اس کی ایسی باتیں اُسے نروس کررہی تھی ہاسپٹل میں جس طرح اس نے اتنا قریب آکر اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا وہ اس سے نظر ملنے سے بھی ڈرنے لگی تھی شکر ادا کیا کے اس وقت وُہ سامنے نہیں تھا
وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کے کیا جواب دے دو منٹ سوچنے کے بعد ٹائپ کرنے لگی
سوری—– آئندہ ایسا نہیں ہوگا
اوکے یہ بتاؤ دوائی لے لی
وہ مسکرادی
ہاں ابھی لی ہے
کوئی تکلیف تو نہیں ہے نا سر یا پھر پیٹ میں تو نہیں
اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی کچھ دیر پہلے ہی اسے لمبا ہدایات نامہ سنا کر گیا تھا اور اب پھر سے
تم دو گھنٹے پہلے ہی تو ساری تسلی کر کے گئے تھے
دو گھنٹے کی بات کر رہی ہو یہاں ہر سیکنڈ بھاری ہے—- ہاسپٹل میں ساتھ تھا اسلیے ٹھیک تھا پتہ نہیں آج نیند آئیگی بھی کے نہیں
مسکراہٹ گہری ہو گئی
مجھے یقین نہیں ہو رہا کے کوئی میرے لیے اتنا فکر مند ہے
کیا کرے دل کے ہاتھوں مجبور ہے
اس کی ہر بات میں کچھ ایسا تھا جو وہ گھبرا جاتی
گڈ نائٹ
پتا نہیں آگے کیا کہہ دے اسلئے اُسنے فوراً بات ختم کرنی چاہی
اوکے گڈ نائٹ صبح ملتے ہے
چند سیکنڈ بعد جواب آیا اس نے سکون کا سانس لیا اور فون رکھ کر سونے لگی خوش بھی تھی اور بے چین بھی وہ خود بھی بے خبر تھی کہ دشمن اچانک دل میں جگہ کیسے بنا گیا
******************—*******
ناشتہ سے فارغ ہو کر روم میں آئی تھی تبھی عمران اور الیشا آگئے الیشا کی طبیعت اس وقت ٹھیک نہیں تھی اسلئے کسی نے اسے عیشا کے متعلق نہیں بتایا تھا لیکن اب جب وہ گھر آگئی تھی عمران نے اسے بتادیا تھا سب کچھ سن کر پہلے تو وہ بہت پریشان ہوئی لیکن پھر عمران نے اسے تسلی دی تو کچھ مطمئن ہوئی اور فوراً اس سے ملنے آگئی
وہ بیڈ پر بیٹھی ناول پڑھ رہی تھی تب ہی وہ دونوں اندر آئے اس نے دونوں کو سلام کیا الیشا نے بڑھ کر اسے گلے لگالیا اپنی بہن کی تکلیف کا سن کر اس آنکھیں نم ہوگئی تھی
آپی
وہ بھی اس سے ملنے پر بہت خوش تھی
کیسی ہو عیشو
اس نے بیڈ کے کنارے بیٹھتے ہوئے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا
میں بالکل ٹھیک ہوں آپی ٹاپ آن دا ولڈ
اس نے ہمیشہ کی طرح مسکرا کر کہا
تم اتنے دن سے ہاسپٹل میں تھی اور مجھے کسی نے بتایا بھی نہیں
اس نے خفگی سے عمران کو دیکھا جو آرام سے بیٹھا مسکرا رہا تھا
آپی بھائی جان آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے
سنا تمہاری چھوٹی بہن تم سے زیادہ سمجھدار ہے اچھائی کی تو آج کل کسی کو قدر ہی نہیں ہے
اس نے مسکین صورت بنا کر کہا تو عیشا ہنسی روک نہیں پائی جبکہ الیشا کا غصہ برقرار تھا
تم تو بات ہی مت کرو ورنہ مجھ اس برا کوئی نہیں ہوگا
اس کی دھمکی پر عمران نے ڈرنے ایکٹنگ کی دونوں کی تکرار دیکھ کر عیشا ہنستی گئی تب ہی ساحر اندر آیا تو اس کی ہنسی کو بریک لگ گئے پتا نہیں کیوں اس سامنا کرنے سے اُسے گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی
اسلام و علیکم
اس نے سب مشترکہ سلام کیا
آگئے تم میری بیچاري بہن کو ذرا سکون مت لینے دینا
عمران
الیشا نے اُسے گھور کر کہا
اور کیا ایک ہفتے سے پاگل کر رکھا ہے ابھی دیکھنا اپنی ڈیوٹی سٹارٹ کریگا
تم نے ناشتہ کیا
دوائی لی کے نہیں
رات کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی
ایسے کیوں بیٹھی ہو آرام کرو
اور تو اور ابھی سے دن بھر کے انسٹرکشنس دیدیگا اس کے بعد بھی کم سے کم دن بھر میں دس فون کر کے پوچھ تاچھ کرے گا مطلب حد ہوتی ہے یار
اس نے ساحر کے انداز میں کہا تو عیشا اور الیشا دونوں ہنسنے لگی ساحر اپنی ہنسی روکے اُسے دیکھنے لگا اس کی ہر بات صحیح تھی
تو اس میں غلط کیا ہے انہیں اپنی بیوی کی پرواہ ہے
الیشا نے مسکرا کر کہا
یہ پرواہ نہیں ہے میڈم سراسر زیادتی ہے بیماری کیا کم ہے جو یہ بھی ٹاچر جھیلا جائے کیوں عیشو
عیشا نے کوئی جواب نہیں دیا ساحر کو دیکھنے لگی جو عمران کو آنکھوں ہی آنکھوں میں دھمکی دےرہا تھا
بس کرو کچھ بھی بکتے رہتے ہو چلو—- ساحر بھائی آپ بیٹھیے
عيشو اگر زیادہ پکائے تو آواز دے دے نا آج اس سے نپٹ ہی لونگا
الیشا اس کا ہاتھ تھامے باہر لےگئی جاتے جاتے بھی وہ اپنی کہنے سے باز نہ آیا عیشا ہنستی چلی گئی وہ مسکراتے ہوئے کرسی پر بیٹھ کر اُسے دیکھنے لگا
شاید وہ صحیح کہہ رہا ہے آج کل میں کچھ زیادہ ہی پریشان کر رہا ہُوں
وہ کچھ نہیں بولی خاموشی سے اپنے ہاتھ کے ناخنوں کو جانچنے لگی
ٹھیک تو ہو نا
اس نے اثبات میں سر ہلایا لیکن دیکھا نہیں جبکہ وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا
وہ اب بھی نظریں جھکائے بیٹھی رہی کتنی دیر خاموشی چھائی رہی تب وہ بولا
اوکے میں چلتا ہوں کچھ کام ہے رات کو شاید آ نہیں سکوں گا ضرورت پڑے تو کال کرنا
اس نے صرف سر ہلا کر ہاں کہا ساحر باہر نکلا تو اس نے ایک گہرائی سانس لی یہ پہلی بار تھا جب وہ اس سامنے اتنی نروس تھی
اس کے جانے کے کچھ دیر بعد فائزہ اندر آئی تو اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت بکے تھا جو ریڈ اور يلو فلاورس سے سجا تھا
عيشو آپکے شوہر یہ ڈرائنگ روم میں ہی بھول کر چلے گئے تھے سنبھالیں اسے
اس نے مسکراتے ہوئے عیشا کو بکے تھمایا اور باہر آگئی اس نے پھولوں کو قریب کرکے اُن کی خوشبو اپنے دل تک محسوس کی جانے کیوں یہ سب اُسے اچھا لگ رہا تھا ساحر سے بات کرنا اس کی فکر مندی اس کا دیکھنا بھی اب برا نہیں لگتا تھا
نیند سے جاگی تو سب سے پہلے موبائل چیک کیا رات کو وہ نہیں آیا تھا تقریباً ساڑھے بارہ بجے کا میسیج تھا وہ نیند میں تھی اسلیے پتا نہیں چلا فوراً میسیج اوپن کیا
السلامُ علیکم سوری بزی تھا اسلیے آ نہیں پایا ابھی گھر آیا تو سب سے پہلے تمہیں میسیج کیا ٹھیک ہو نا
اس نے وقت دیکھا نو بج رہے تھے اس وقت وہ جم میں ہوتا تھا اُسنے میسیج کیا
السلامُ علیکم جاگ رہے ہو
جواب ایک منٹ بعد آیا
ہاں بس ابھی اٹھا ہُوں رات دیر سے سویا تھا اسلیے آج فجر بھی قضا ہوگئی
میں جلدی سوگئی تھی اسلیے میسیج کا ریپلائے نہیں کرپائی
جانتا ہو ٹھیک تو ہو نا کوئی پرابلم تو نہیں
اس کے ہونٹوں پر خوبصورت مسکان آگئی
اللہ کے کرم سے بالکل ٹھیک ہو
میرا گفٹ ملا تھا
اس کا اشارہ پھولوں کی جانب تھا
ہاں ملا تھینک یو بہت خوبصورت تھا
سوری خود نہیں دے پایا ڈر لگ رہا تھا کہ تم برا نا مان جاؤ
وہ ہنس دی
میری دوست زوبی کی شادی ہے سنڈے کو—– کل ہی انویٹیشن دے کر گئی ہے اور تمہیں بھی ضرور آنے کہ کہا ہے
اس نے بات بدل دی
لیکن تم ابھی کہیں نہیں جاسکتی جب تک پوری طرح ٹھیک نا ہو جاؤ
اس کی مسکراہٹ غائب ہوگئی
کیا مطلب میں اپنی بیسٹ فرینڈ کی شادی مس کردوں
عیشا اس وقت تمہارا کہیں جانا صحیح نہیں ہے تم ٹھیک سے چل بھی نہیں پارہی ہو ایسے میں طبیعت اور بگڑ جائیگی
اس نے سمجھانے کی کوشش کی
میں بالکل ٹھیک ہوں میری ایک ہی تو بیسٹ فرینڈ ہے پلیز مجھے جانا ہے باقی رسمیں نہ سہی کم سے کم شادی پر تو جانے دو نا پلیز پلیز پلیز پلیز
تین منٹ بعد جواب آیا
اوکے صرف شادی پر لیکن پرومس کرو کوئی لاپرواہی نہیں ہوگی کیونکہ تم ابھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہو ڈاکٹر نے کہا ہے سٹریچز پر زور نہیں پڑنا چاہیے ورنہ پرابلم ہو سکتی ہے
پرومس کوئی لاپرواہی نہیں ہوگی پورا دھیان رکھوں گی
وہ خوش ہوگئی
اوکے
تھینک یو سو مچ لیکن آپ بھی چلوگے نا
میں آکر کیا کرونگا تم ہی جاؤ
نہیں آپ بھی ساتھ چلنا زوبی نے بہت بار کہا ہے اُسے برا لگےگا تو
وہ خود ایسا چاہتی تھی
ساری دنیا کی پرواہ ہے تمہیں سوائے ایک کہ جسے کسی کی پرواہ نہیں تمہارے علاوہ
ایسا بھی نہیں ہے اچھا بعد میں بات کرتی ہو امی بلارہی ہے
اس نے گھبرا کر بات ختم کرنی چاہئے
ٹھیک ہے بنا لو اور بہانے آ رہا کچھ دیر میں بائے
بائے کے ساتھ ہارٹ والا اموجی بھیجا وہ کچھ کنفیوز ہو گئی کی آئیگا تو کیسے بات کریگی کیونکہ سامنا کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: