Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 15

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 15

–**–**–

ایک گھنٹے سے وہ اُسکا انتظار کر رہی تھی اس کا فون لگ نہیں رہا تھا اس نے گھر پر فون کیا تو پتا چلا ابھی وہاں سے نکلا ہے شادی کا فنکشن ایک ہوٹل میں تھا وہ فائزہ کو بتا کر پارکنگ ایریا میں آگئی اور اس کی راہ دیکھنے لگی آج اُسے خود فائزہ نے تیار کیا تھا اسی کی خواہش پر آج اُسنے لیمن یلو کلر کی بلیک گوٹے والی شیفوں کی ساڑی پہنی تھی ہلکا سا میک اپ اور کانوں میں ڈائمنڈ ایئرنگ پہنے کھلے اسٹیپ کٹ بالوں میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی ایک ہاتھ آنچل سے ڈھکا ہوا تھا دوسرے میں ایک خوبصورت گھڑی پہنی ہوئی تھی
اس نے ساحر کو آنے کے لیے راضی تو کرلیا تھا لیکن اس کے اتنا لیٹ ہونے پر اُسے بہت غصّہ آرہا تھا وہ آج اپنی ساری سہیلیوں کو ساحر سے ملانا چاہتی تھی لیکن اس کا کوئی اتا پتا نہیں تھا اوپر سے فون بند کر رکھا تھا وہ پندرہ منٹ تک انتظار کرکے واپس جانے لگی تب ہی اس کی گاڑی آکر رکی و فوراً وہاں چل دی ساحر گاڑی سے باہر آیا تو اُسے وہاں دیکھ کر ہی اندازہ لگالیا کی بہت غصے میں ہے
سوری سوری سوری میں تھوڑا لیٹ ہوگیا کیا کروں ایک ایمرجنسی آگئی تھی اسلیے——
تو میں کیا کرو— میں نے پوچھا کیا تم سے —-_کیوں بتا رہے ہو مجھے— تم تو اپنی مرضی کے مالک ہونا میں کون ہوتی ہو تم سے کچھ کہنے والی
اس کی بات پر ساحر نے سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھا
تم تو ساحر خان ہو نا جب تک کہیں ایک دو گھنٹے لیٹ نا پہنچو تو لوگوں پر تمہارا امپریشن کیسے پڑے گا بھلے ہی کوئی تمہاری راہ دیکھ دیکھ کر آدھا ہوجائے لیکن تمہیں اس سے کیا مطلب تم تو صرف اپنے بارے میں سوچو گے کیونکہ تم تو سا
اس کے باقی کے الفاظ منہ میں ہے رہ گئے کیونکہ وہ ایکدم سے اس کے بہت قریب آگیا چہرے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے چہرہ تھام کر جھکتے ہوئے ساری شکایتوں کا جواب ایک ہی بار میں دیدیا اُسے تو اس اچانک آفت نے جیسے پرالیز کردیا تھا جو ایک انچ بھی ہل نہیں پائی
چند لمحوں تک اپنے جذبات کا اظہار کرکے اس نے عیشا کے لبوں کو آزاد کردیا چہرہ یوہی تھامے اس کی پیشانی سے پیشانی ٹکائے آنکھیں بند کئے اپنی بے ترتیب سانسوں کو بحال کرنے لگا
تمہارے ہر سوال کا جواب تھا یہ
اس نے سرگوشی میں کہا عیشا کی جھکی نظریں اس کے سرخ ہونٹوں پر تھمی ہوئی تھی وہ اس سے الگ ہوا ایک نظر اُسے غور سے دیکھ کر بنا کچھ کھے اندر چل دیا وہ اب تک وہاں ویسے ہی کھڑی تھی اس کا فون بجنے لگا تو وہ ہوش میں آئی فائزہ کی کال تھی اس نے کال کاٹ دی چور نظروں سے ارد گرد کا جائزہ لیا اور کسی کو نہ پاکر ایک سکون کا سانس لیا دھیمے قدموں سے اندر کی جانب بڑھ گئی
سارا وقت وہ خاموشی سے ایک طرف میں بیٹھی رہی اب تک کہ سارا جوش خاک ہو چکا تھا نہ کسی سے ملنے کی خواہش ہورہی تھی نہ ہی کسی سے بات کرنے کی امی اور فائزہ سب سے باتیں کرنے میں مصروف تھے اور وہ اُن سے کچھ فاصلے پر کرسی پر بیٹھی بنا پلک جھپکے سامنے دیکھ رہی تھی اسے اب تک یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ حقیقت ہے یا کوئی خواب ایک بار پھر سے سب کچھ سوچ کر سارے جسم میں بجلی سے دوڑ گئی
تم یہاں کیوں بیٹھی ہو
قریب سے آواز آئی تو اسے دیکھ کر وہ فوراً آٹھ کر کچھ پیچھے ہو گئی اور اسے خوف اور حیرانی سے دیکھنے لگی
یہ کیا اتنی ٹھنڈ ہے اور تم نے کچھ گرم نہیں پہنا اگر سردی لگ گئی تو
اس نے اپنا گرے کوٹ اُتار کر اس کی جانب بڑھایا لیکن وہ اُسے نظر انداز کرتے ہوئے پلٹ کر تیزی سے چلی گئی اور ساحر دھیرے سے مسکرادیا آج اس کے انداز میں خوف و گھبراہٹ تھی شرم تھی بے یقینی تھی لیکن نفرت نہیں تھی اسلیے و پرسکون تھا
****************************
وہ فائزہ سے باتیں کررہی تھی جب اس کا ٹیبل پر رکھا فون وائبریٹ ہونے لگا پچھلے دو دن سے وہ اُسے اوائڈ کررہی تھی نہ کال نا میسیج لیتی اگر گھر آتا تو سونے کی ایکٹنگ کرتی وہ اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی دو دن میں کتنے ہی میسیج اور کال کر چکا تھا لیکن اس نے کوئی میسیج اوپن ہی نہیں کیا نا ہی کال لی بلکہ فون ہی سائلینٹ کردیا اس کے ساتھ فائزہ نے بھی بار بار کال آتی دیکھی تو پوچھ لیا کیونکہ نمبر سیو نہیں تھا
پتا نہیں بھابھی کون آوارہ لوفر ہے پریشان کر رکھا ہے
اس نے بے دلی سے کہا
میں دیکھتی ہوں اس نے فون اٹھا کیا
باپ رے صبح سے اب تک بیالیس مس کال اس کی تو خیر نہیں اب آنے دو ذرا
عیشا مسکرانے لگی
اچھا ہے اسی لائق ہو تم
اس نے دل میں سوچا
اگلے پندرہ منٹ تک اس کال نہیں آئی
لگتا ہے اب نہیں کریگا
فائزہ جانے لگی تو اس نے روک لیا ساحر سے بدلہ لینے کا موقع چھوڑنا نہیں تھا اُسے
بھابھی آپ ہی کال کرلو نا ورنہ پھر آپ کے جاتے ہی آجائیگی
فائزہ نے ہاں کہ کر کال ملائی اور فون اسپیکر پر کیا دوسری ہی رنگ پر فون اٹھایا گیا تو وہ شروع ہو گئی
بدتمیز لوفر آوارہ کون ہو تم اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں کال کرنے کی موالی کہیں کے دوسروں کو تنگ کرنے سے پہلے یہ کیوں نہیں سوچتے تم لوگ کے تمہاری گھر بھی ماں بہن ہے انہیں اگر کوئی ایسے پریشان کرے تو تمہیں کیسا لگے گا آئندہ اگر ایک بھی کال آئی تو تم سلاخوں کے پیچھے نظر آؤ گے
وہ غصے سے بولتی گئی
بھابھی دنیا میں کوئی قانون نہیں ہے جو مجھے میری ہی بیوی کو کال کرنے پر سلاخوں کے پیچھے کردے
وہ حیرانی سے اس کی بات سن رہا تھا آخر میں مسکراکر بولا وہ فائزہ کی آواز پہچان گیا تھا اس لیے سمجھ گیا کے وہ کسی اور کی کال سمجھ رہی ہے
ساحر بھائی کیا یہ آپ ہے
اس نے سوالیہ نظروں سے عیشا کو دیکھا تو وہ زور زور سے ہنسنے لگی فائزہ کے ساتھ ساحر بھی اس کی شرارت سمجھ گیا
ساحر بھائی معاف کیجئے گا میں نے آپکو پتا نہیں کیا کیا کہ دیا لیکن یہ ساری شرارت آپکی بیگم کی ہے ان نون نمبر سے اتنی ساری مس کال دیکھ کر پوچھا تو کہنے لگی کوئی لوفر آوارہ تنگ کررہا ہے اور میں نے بنا جانے آپ کو اتنا برا بھلا کہہ دیا سوری میں بہت شرمندہ ہو
کوئی بات نہیں بھابھی لیکن اپنی پاگل سسٹر ان لو کو سمجھائے کے ایسے بیوقوفانہ حرکتِ نا کرے دو دن سے ہزار بار ریکویسٹ کر رہا ہو لیکن کال نہیں لی اور اب یوں اچانک کال آگئی خوشی سے اگر مر جاتا تو دوسرا نہیں ملتا اتنے نخرے جھیلنے والا
وہ ہنسنے لگی فائزہ اُسے غصے سے گھورا
سوری لیکن یہ نا ذرا بیوقوف قسم کی ہے ویسے آپ نے کیا کیا جو بات نہیں کررہی
فائزہ کے سوال پر اُسنے فون کو دیکھا جانے کیا کہے گا
میرے حساب سے تو میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے یوں منہ پھلایا جائے خود پوچھ لیجئے بتادیا تو شاید کیا بھی ہوگا
اس نے بڑی ہوشیاری سے بات عیشا کے سر ڈال دی اس کا منہ اور آنکھیں حیرانی سے کھلا رہ گیا
سوری بھابھی لیکن اس وقت تھوڑا بزی ہوں کچھ دیر میں کال کرتا ہو
کسی کے پکارنے پر اس نے معزرت کی
جی خدا حافظ ایک بار پھر سے سوری
پلیز بھابھی بار بار سوری بول کر شرمندہ مت کیجئے اللہ حافظ
عیشااا کتنی بری ہو تم بیچارے کو کیا کیا سنوادیا
فائزہ خفگی سے بولی
بھابھی وہ بیچارہ اسی لائق ہے
وہ لاپرواہی سے کہہ کر ہنسنے لگی
پاگل ہو بالکل
فائزہ نے اس سر پر چپت لگائ
****************************
عیشو ساحر بھائی کہ کر گئے ہے کے آج شام تک تیاری کرلو وہ تمہیں واپس گھر لے جارہے ہیں
وہ جو ساحر کے جاتے ہی بستر سے نکل کر کھڑکی کے آگے بیٹھی ناول پڑھ رہی تھی حیرت سے فائزہ کی دیکھنے لگی پانچ دن سے وہ اُسے اگنور کررہی تھی بات تو دور سامنا بھی نہیں کررہی تھی اب پریشان ہو گئی
لیکن بھابھی ابھی سے مطلب ابھی تو میں ٹھیک سے چل بھی نہیں پارہی ہو اور سر سے سٹریچز بھی تو نہیں نکلے اگر کوئی پرابلم ہوئی تو
ارے تو وہ کونسا تمہیں جنگل میں لے جاکر چھوڑ دینگے خود خیال رکھے گے نا تمہارا اب اتنے دن سے تم یہاں ہو تو بیچارے وہاں اکیلے ہوگئے ہوگے نا
فائزہ نے مسکراتے ہوئے کہا
آپ کہئے نا اُن سے کہ کچھ دن بعد لیجائے ابھی میرا من نہیں کر رہا
اُسے نے ایک کوشش کی
پاگل ہو تم اپنے من کا خیال ہے شوہر کا نہیں —–ویسے بھی امی نے ہاں کہہ دیا ہے منع کیا تو انہیں برا لگ سکتا ہے
فائزہ کو اندازہ تھا کہ دونوں میں کوئی ناراضگی ہے اسلئے منع کر رہی ہے تو اُسے سمجھانے لگی وہ کیا کرتی کوئی وجہ نہیں تھی کیا بتاتی سب کو کی اس کا سامنا کرنے پر گھبراہٹ ہورہی ہے تو کیسے جاؤں اسلئے خاموشی سے تیاری کرلی شام سات بجے کے قریب و گھر آیا اور آج پورے پانچ دن بعد وہ اس کے سامنے تھی
اس نے وہائٹ سلور سوٹ پر اورینج پرنٹڈ دوپٹہ کاندھے پر ڈالا ہوا تھا ہاتھ میں بھری چاندی کی چوڑیاں اور کانوں میں سلور جھمکے اور گہرے کاجل سے سجی مدہوش کرتی آنکھیں لیکن وہ اس کی جانب دیکھ نہیں رہی تھی سب نے ساتھ میں کھانا کھایا وہ کچھ اُداس تھی اتنے دن رہ کر پھر گھر والو سے دور جانا تھا اس نے سب سے مل کر دعائیں لی اور نم آنکھیں لیے اس کے ساتھ آگئی
ساحر نے اُسے گاڑی میں بٹھایا خود بھی باری باری سب سے ملا اور آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا سارا راستہ وہ خاموش رہا کبھی کبھی ایک نظر اُسکے اُداس چہرے پر ڈال دیتا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: