Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 16

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 16

–**–**–

گھر آکر اُسے ایک بار پھر سارا واقعہ یاد آگیا کس طرح وہ تکلیف میں تھی کس طرح سیڑھیاں اترتے ہوئے گرپڑی تھی جب ساحر نے اُسے اپنی باہوں میں اٹھا کر سہارا دیا تھا اور اسے محسوس ہوا تھا کہ وہ اُسے کچھ نہیں ہونے دیگا وہ ساحر سے کہنا چاہتی تھی کے بہت تکلیف میں ہے لیکن الفاظ ہونٹوں تک آنے پہلے ہی دم توڑ دیتے تھے اسے آج دادی کی بھی شدّت سے یاد آرہی تھی کتنا وقت گزارتی تھی وہ اُن کے ساتھ اپنی ہر بات اُنھیں بتاتی تھی اپنے ہر مسئلے کا حل اُن سے پوچھتی تھی اس کی آنکھیں بھر آئیں اس نے اپنا کاجل بچاتے ہوئے آنکھیں صاف کی
نینا
اس نے نینا کو پکارا تاکہ سیڑھیاں چڑ سکے کیونکہ ابھی تک اُسے چلنے میں تکلیف ہوتی تھی اور سیڑھیاں چلنا تو کافی مشکل تھا اور کچھ ڈر بھی لگ رہا تھا
جی میڈم
نینا پلیز آپ سیڑھیاں چڑھنے میں میری مدد کردو
جی میڈم
نینا نے آگے بڑھ کر کہا
نینا تم رہنے دو اور یہ سارا سامان روم میں رکھوا دو
ساحر فون جیب میں ڈالتے ہوئے اندر آیا اور نینا کو منع کر دیا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی سامان لینے باہر چلی گئی عیشا نے حیران نظروں سے اُسے دیکھا اور اس کے دیکھنے سے پہلے رخ پھیر لیا سوچنے لگی کے اب اوپر کیسے جائے ساحر نے آگے بڑھ کر اُسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا وہ اس کے لیے تیار نہیں تھی گھبرا گئی اور دونوں ہاتھ اس کے گلے میں ڈال دیئے
ی -_یہ کک -ک –کیا کر رہے ہو تم
ڈر کے مارے اس کے منہ سے الفاظ ہی نہیں نکل رہے تھے
وہ کیا ہے نہ ہمارے یہاں ایک رسم ہے دلہن کو گود میں اٹھا کر روم تک لے جاتے ہے شادی کے وقت یہ رسم ادھوری رہ گئی تھی اسلئے آج پوری کررہا ہو
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا
ن ن ن نہیں—– م م میں— خود چلی جاؤنگی
چپ کرکے بیٹھی رہو ورنہ تمہاری بولتی بند کرنے کا آئیڈیا ہے میرے پاس
اس نے گھبرا کر پلکیں جھکالی وہ اس کی جھکی پلکوں کو دیکھتے ہوئے روم میں لے آیا اندر آکر اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی سارا روم بڑی ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا بیڈ پر سرخ پھولوں کی چادر بچھی تھی چاروں طرف کینڈلس لگی تھی جس کی روشنی ماحول کو خوبصورت بنا رہی تھی
اب تو اُتار دو مجھے
ساحر روم میں آنے کے بعد بھی ایک منٹ تک یونہی اس کے حیران چہرے کو دیکھتا رہا تو اسے کہنا ہے پڑا
دل تو نہیں کر رہا لیکن اتنا کہہ رہی ہو تو اُتار دیتا ہو
مسکراتے ہوئے اس نے عیشا کو اُتار دیا وہ اب بھی حیرت سے روم کی سجاوٹ ہی دیکھ رہی تھی کمرہ خوشبو سے مہک رہا تھا جانے کیوں اے سی میں بھی اُسے پسینہ آنے لگا
کیسا لگا
ساحر نے اس کے کان کے نزدیک سرگوشی کی جس پر اس نے اُسے دیکھا لیکن اس کی آنکھوں سے گھبرا کر پلکیں خود بخود جھک گئی
جب تم ایسی شرماتی ہو تو اور زیادہ خوبصورت لگتی ہو
وہ اس کے سامنے آکر جھکی پلکوں کو دیکھتے ہوئے دھیمے پیار بھرے لہجے میں بولا
تمہاری ہنسی اتنی پیاری ہے کہ من کرتا ہے ساری دنیا سائلینٹ ہو جائے اور صرف تمہاری ہنسی سنائی دے
وہ اس کے اتنے قریب آگیا کے دونوں کے درمیان صرف دو انچ کا فاصلہ رہ گیا
تمہارے بالوں سے پانی گرنے پر میں نیند سے جاگتا ہُوں تو لگتا ہے اس سے زیادہ خوبصورت صبح کوئی نہیں ہو سکتی
عیشا نے حیران ہوکر نظریں اٹھائی
میں چاہتا ہوں میری زندگی کی ہر صبح ایسی ہی خوبصورت ہو
اس نے دوبارہ نظریں جھکلی کچھ دیر خاموشی رہی
کچھ تو بولو اتنا شرما کیوں رہی ہو
وہ اس کے بھینچے ہوئے لبوں کو دیکھنے لگا
م م م میں —– ش ش شرما نہیں رہی ہو
اچھا تو پھر اتنا ہکلا کیوں رہی ہو مجھ سے ڈر تو نہیں لگ رہا
وہ اس کے کان کے قریب آکر بولا
اور اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے تمہیں
وہ مصنوعی حیرت دکھاتے بولا
و و وہ مجھے—- مجھے پیاس لگی ہے
اس کی حالت دیکھ کر وہ محظوظ ہوتا رہا لڑاکو لڑکی کا نیا روپ بہت ہی معصوم تھا
پیاس لگی ہے
وہ کبھی اس کی آنکھوں تو کبھی ہونٹوں کو دیکھتا اُس نے سر ہاں میں ہلا دیا
اچھا یہاں بیٹھو
ساحر نے بیڈ کی جانب اشارہ کیا وہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے چل کر وہاں آکر بیٹھ گئی ساحر نے اُسے پانی دیا تو ایک گھونٹ پی کر سائڈ پر رکھ دیا ساحر وہیں اس کے نزدیک ہوکر بیٹھ گیا اس کی دھڑکن اور بڑھ گئی اور وہ خود میں سمٹنے لگی
چاکلیٹ
اس نے چاکلیٹ اس کی طرف کیا لیکن اس نے سر نفی میں ہلادیا ساحر نے زبردستی اس کے ہونٹوں سے لگادیا تو اس نے مجبورا ایک چھوٹی سی بائٹ لے لی
اپنا ہاتھ دو
ساحر نے چاکلیٹ بائٹ لیکر رکھ دی اس نے ڈرتے ڈرتے اپنا ہاتھ آگے کیا ساحر نے اس کا ہاتھ تھام کر تیسری انگلی میں ایک خوبصورت ڈائمنڈ رنگ پہنا دی اور اس پر اپنے لب رکھ دیئے عیشا نے ہاتھ کھینچنا چاہا لیکن اس نے دونوں ہاتھ میں مضبوطی سے تھام کر اس کی کوشش ناکام کی
ناراض ہو
وہ ہاتھ کی گرفت کو اور مضبوط کر کے بولا
نہیں تو
اس نے جھکی نظروں سے فرش کو جانچتے ہوئے کہا
تو اتنے دن سے بات کیوں نہیں کی—-
ساحر نے ایک ہاتھ سے اس کے چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے کیا اس کے مدہوش کرتے پرفیوم نے سانس لینا دشوار کر رکھا تھا ہاتھ اس کی گرفت میں بھی کانپ رہا تھا اس نے سوکھتے ہونٹوں کو تر کیا
میں نے کچھ ایسا تو نہیں کیا تھا جو غلط ہو تمہارا شوہر ہوں میں
ہوں نا
اس نے تسلی کرنی چاہی کی کہیں اب بھی اس رشتے سے انکاری تو نہیں
ہاں
اس نے ساحر کی آنکھوں نے دیکھتے ہوئے کہا اس کی آنکھوں میں یہی جواب تھا وہ مسکرادیا
یہ رنگ میں نے تمہیں شادی پر گفٹ کرنی تھی لیکن سچویشن کچھ ایسی ہو گئی تھی کے اگر اس وقت دیدیا ہوتا تم مجھے جان سے مار دیتی
عیشا کو اس کی بات پر ہنسی آگئی شاید وہ صحیح کہہ رہا تھا
کچھ اور بھی دینا ہی تمہیں
اس نے ڈراور سے ایک باکس نکالا جس میں خوبصورت ڈیزائن کے کڑے تھے اس نے باری باری دونوں ہاتھوں میں کڑے پہنادیے
یہ میری امی کے ہے اُن کی طرف سے تمہارے لیئے
اس کی آنکھیں اُداس ہو گئی تھی
تھینک یو
وہ مسکرا دیا چند لمحے خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا عیشا میں اسکی نظروں سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی اسلئے یونہی بیٹھی اپنی چوڑیوں سے کھیلتی رہی
بہت رات ہو گئی ہے سو جاؤ کل ڈاکٹر کے پاس بھی جانا ہے
اس کے ہاتھ کو آزاد کرکے وہ اٹھ کر ڈریسنگ روم میں آگیا
عیشا نے ایک گہری سانس لی اور کان سے جھمکے نکالنے لگی اس کے بعد ساری چوڑیاں بھی اُتار کر رکھ دیئے اور صرف ساحر کے دیئے کڑے رہنے دیئے انگلی میں پہنی رنگ کو غور سے دیکھنے لگی اب بھی اُسے وہ اپنے قریب ہی محسوس ہو رہا تھا اس کی خوشبو بہت پاس ہی تھی اب بھی ہاتھ پر اس کے ہونٹوں کا لمس باقی تھا مسکراتے ہوئے اس نے اسی جگہ اپنے لب رکھ دیئے
وہ گرے نائٹ پینٹ پر بلیک ٹی شرٹ پہنے باہر آیا اور آکر بیڈ کے ایک طرف بیٹھ کر تکیہ ٹھیک کیا اور وہیں لیٹ گیا عیشا حیران نظروں سے اُسے دیکھتی رہی
ایسے کیا دیکھ رہی ہو اب اور اس صوفے پر نہیں سو سکتا میں بہت پرابلم ہوتی ہے اب تو مجھے یہیں بیڈ پر آرام سے سونا ہے تمہارے پاس
آخری جملہ اس نے شرارت سے کہا
وہ کچھ نہیں بولی کہتی بھی کیا خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی رہی ساحر اس کی گھبراہٹ کو انجوائے کر رہا تھا دو منٹ بعد اٹھ کر صوفے سے سارے کشن لے آیا اور بیچ میں لائن سے رکھ کر دیوار سی بنادی
جب تک تم نہ چاہو یہ دیوار نہیں ہٹے گی مجھے اپنا حق بھی تمہاری اجازت سے چاہیے زبردستی نہیں
اس نے سنجیدگی سے عیشا کو دیکھا اور دوبارہ لیٹ گیا عیشا اب بھی اُسے ہی دیکھ رہی تھی
سو جاؤ بہت وقت ہے تمہارے پاس یہ سب سوچنے کے لیے فلحال تمہیں ریسٹ کرنا ہے گڈ نائٹ اینڈ ڈونٹ وری مجھے نیند میں ہاتھ پیر چلانے کی عادت نہیں ہے اسلیئے تم بے فکر ہو کر سکتی ہو
اس نے عیشا کی جانب کروٹ لے کر آنکھیں موند لی وہ لیٹ گئی اور اس کے دلکش چہرے کو دیکھنے لگی
میں تمہارا شوہر ہوں ہوں نا
ساحر کی محبت میں بھیگی آواز اُس کی دماغ میں گونجی
پہلے بتاؤ میں تمہارا شوہر ہوں کے نہیں
ہر بار وہ یہی بات سننا چاہتا تھا
اور قسم سے بتا رہا ہو میرے ہوتے ہوئے کسی کی گندی نظر بھی میری بیوی کو چھو نہیں سکتی
اس کی ساری باتیں دماغ میں گردش کرنے لگی نظریں اس کے ماتھے پر بکھرے براؤن سلکی بالوں پر جم گئی
تم مانو یا نا مانو لیکن میں نے خدا کو حاضر ناظر جان کر تمہیں قبول کیا ہے اور اتنا بے غیرت نہیں ہو میں کہ میرے سامنے کوئی میری بیوی کو غلط نظروں سے دیکھے اور میں تماشائی بن جاؤں
اندر جو شوہر ہے نہ وہ لاکھ بےعزتی ہونے پر بھی اپنی بےشرمی سے باز نہیں آتا بیوی پریشان ہو تو دوڑا چلا آتا ہے
ہر بار بتاتے ہو لیکن کبھی جتاتے نہیں
اتنا اچھا کوئی کیسے ہو سکتا ہے ساحر تم انسان ہی ہو یا کوئی فرشتہ کیا میں اتنی پاگل ہو جو اتنا وقت لگ گیا تمہیں جاننے میں یا اب بھی میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں
وہ اُس کی بند آنکھوں کو دیکھ کر سوچ رہی تھی ساحر نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھنے لگا
سوئی نہیں اب تک —کیا ہوا
اس نے سر نفی میں ہلا دیا
عیشا—- کیا تمہیں مجھ پر اتنا بھی بھروسہ نہیں ہے
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا وہ بھی بنا پلکیں جھپکائیں اُسے دیکھنے لگی کتنے لمحے یوں ہی گزر گئے تب وہ بولی
ساحر
آج پہلی بار اُس نے ساحر کو نام سے پُکارا تھا وہ بھی اتنے پیار بھرے لہجے میں
ہاں
وہ بیخود سا ہوکر اُسے دیکھتا رہا
کیا یہ حقیقت ہے یا کوئی خواب
ہاتھ بڑھا کر دیکھ لو پتا چل جائیگا جب میں ہمیشہ کے لیئے تمہیں تھام کر خود میں شامل کرلوں گا
اس نے آنکھیں بند کر لی اور ہمیشہ کے لیے اُن لمحوں کو قید کرلیا آج اُسے بہت سکون بھری نیند نصیب ہونی تھی
ساحر نے مسکرا کر اُسے سوتے دیکھا اور دوبارہ آنکھیں بند کرلی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: