Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 17

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 17

–**–**–

وہ نیند سے جاگی تو بستر خالی تھا شاید وہ کہیں باہر گیا ہوا تھا سائڈ ٹیبل پر گلاب کے پھولوں کا بکے رکھا تھا ساتھ میں ایک چٹ تھی
پریوں کی شہزادی کے لیے اُسکے دیوانے کی طرف سے
ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ بکھر گئی اس نے پھولوں کو نزدیک کرکے خوشبو کو اپنے اندر اُتارا محبت کا پہلا احساس بہت خوبصورت ہوتا ہے
فریش ہوکر وہ بالکنی میں آگئی سردی میں ہلکی ہلکی دھوپ نے موسم کو خوشگوار بنایا ہوا تھا وہ کرسی پر بیٹھ کر کھلے آسمان پر نظریں جمائے پچھلے رات کے ہر واقعے کو دماغ میں دہرارہی تھی
کیا کوئی اتنا اچھا بھی ہو سکتا ہے
اس نے خود سے سوال کیا
لیکن بہت فلمی ہے—- اونہوں—– فلمی نہیں رومینٹک—— وہ کیا کہ رہا تھا —-ہاں—- تم جب شرماتی ہو تو اور خوبصورت لگتی ہو
وہ ساحر کے انداز میں کہ کر خود ہی ہنسنے لگی
دیکھنے میں بالکل ہیرو ہے باڈی بھی ہیرو جیسی بنائی ہوئی ہے فائٹنگ میں چیمپئن ہے گانا بھی بہت اچھا گاتا ہے ملٹی ٹیلنٹڈ ہیرو
عجیب عجیب حرکتِ کرتا ہے—- نہیں عجیب نہیں–رومینٹک
رومینٹک ہیرو
دروازے پر دستک ہوئی تو روم میں آئی
آگیا رومینٹک ہیرو
آئینے کے آگے کھڑے ہوکر خود جائزہ لیا ڈوپٹے کو گلے سے نکال کر دونوں شانوں پر پھیلایا
لیکن وہ نوک تھوڑے ہی کرکے آتا ہے میں بھی نہ پاگل ہوں بالکل
کم ان
دوبارہ دستک ہوئی تو اس نے اجازت دیدی ملازم اُس کے لیے کورئیر لیکر آیا تھا اس نے سائن کرکے کورئیر لے لیا ملازم واپس چلا گیا وہ بیڈ پر بیٹھی پارسل کھولنے لگی
رومینٹک ہیرو نے ہی کچھ بھیجا ہوگا
اس نے سوچا اندر ایک لیٹر اور انولیپ تھا لیٹر کھول کر پڑھنے لگی
السلامُ علیکم
میں کون ہُوں یہ جاننے سے زیادہ ضروری یہ ہے جو میں آپکو بتانا چاہتا ہوں
میں نے پہلے بھی آپکو ساحر خان کا اصلی چہرہ دکھانے کی کوشش کی تھی وہ جو دکھتا ہے ویسا ہے نہیں آپکی معصومیت کا فائدہ اٹھا کر آپکے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے
اس آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیل گئی سب کچھ بھول گئی یاد رہا تو صرف وہ تصویریں جو اُسے کچھ دن پہلے ملی تھی جس میں ساحر کسی لڑکی کی ساتھ گلے ملتے تو کبھی ڈانس کرتے ہوئے اُس کے شانوں پر ہاتھ رکھے ہنس کر اُس سے باتیں کر رہا تھا اتنے دن میں وہ انہیں بھول چکی تھی کیونکہ ساحر کو قریب سے جاننے پر اُسے وہ سب بے معنی لگی تھی لیکن اب پھر سے
آپ اب تک یہی سوچتی ہے کے آپ کی اور اس کی شادی ایک اتفاق ہے جبکہ ایسا نہیں ہے اُسنے جان بوجھ کر آپ سے شادی کی اپنی پہچان چھپائی کیونکہ وہ جانتا تھا آپ اُس سے شادی کے لیے کبھی راضی نہ ہوتی اسلئے آپ کے سامنے آنے سے بھی گریز کیا خود ہی سوچیے اتنا بڑا بزنس مین جو ساری دنیا گھوم چکا ہے اور بنا دیکھے ایک انجان لڑکی سے شادی کرلے گا نہیں وہ جان بوجھ کا شادی تک نا خود آپ سے ملا نا آپکو ایسا کوئی موقع دیا یہ سب اُس نے آپ سے بدلا لینے کے لیے کیا ہے جس طرح آپ نے کئی بار لوگو کے سامنے اُس کی بے عزتی کی اُسے گنڈا موالی کہا وہ آپ کو بےعزت کرنا چاہتا تھا وہ جانتا تھا آپ اُن لڑکیوں میں سے نہیں ہے جو چند پیسوں کے لیے اس کے آگے جھک جائیگی اس لیے اُس نے آپ سے شادی کی وہ آپ کو چند دن محبت اور اچھائی کا دھوکا دے کر حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے بعد آپ کے ساتھ بھی وہی کریگا جو باقی لڑکیوں کے ساتھ کرتا ہے یہ اُس کی عادت نہیں شوق بن چکا ہے وہ لڑکیوں کو ایک کھلونے سے زیادہ نہیں سمجھتا اُس نے کئی معصوم لڑکیوں کی زندگی تباہ کی ہے آپ اس کے جھانسے میں مت آئیگا اتنا سوچیے جب وہ اتنا بڑا کھیل کھیل کر آپ سے شادی کر سکتا تو اور کیا کیا جھوٹ نہیں کہا ہوگا آپ پر نظر رکھنے کے لیے اُس نے آپ کے کالج کے باہر اور جہاں بھی آپ اکیلے ہوتی ہے وہاں ایک گارڈ بھی تعینات کر رکھا ہے جو ہر پل اُسے آپ کی خبر دیتا ہے آپ چاہئے تو خود اُس سے پوچھ کر تصدیق کر سکتی ہے یا پتا لگا سکتی ہے کے کیسے اُس نے میڈیا پر آرہی اپنی شادی کی خبروں کو رکوایا تھا
اس کی اصلیت دکھانے کے لیے چند تصویریں بھیج رہا ہُوں میرا مقصد آپ کو تکلیف پہنچانا نہیں ہے صرف آپکو دھوکا کھانے سے بچانا چاہتا ہوں کیوں کی آپ بے قصور ہے اور ساحر جیسے انسان کی وجہ سے آپ کے ساتھ کچھ غلط ہو یہ نہیں دیکھ سکتا
اللہ آپکی مدد کرے
آپکا خیر خواہ آپکا دوست
اُس نے خط کو دوبارہ شروع سے آخر تک پڑھا اُسے یقین نہیں ہو رہا تھا دل ماننے کو تیار نہیں تھا کے ساحر کسی کو دھوکا دیگا لیکن اکثر دل اور دماغ کی جنگ میں جیت دماغ کی ہو جاتی ہے انولپ سے تصویریں نکال کر دیکھی تو جیسے کسی نے جسم سے روح کھینچ لی ہو ایک کہ بعد ایک ساری تصویروں کو بے یقینی سے دیکھتی رہی ساحر بنا شرٹ کے کسی لڑکی کی بہت قریب تھا دوسری تصویروں میں بھی الگ الگ لڑکیوں کہ ساتھ ایسے منظر تھے جو ہر گز دیکھنے کے قابل نہیں تھے کچھ بستر پر سوئے ہوئے کچھ سوئمنگ پول میں تو کچھ اس کے آفس میں
کتنی دیر ساکت بیٹھی رہی جیسے جسم جان ہی نہیں بچی ہو
یہ یہ یہ کیا کر دیا میں نے ک ک کیسے بھول گئی کے وہ کیسا انسان ہے کیسے اُس کی باتوں میں آکر اس پر اعتبار کر بیٹھی کیسے اتنی بڑی بیوقوفی کر سکتی ہوں میں کیسے اُس سے محبت ن ن ن نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ایسا نہیں ہوسکتا وہ ایسا نہیں ہے یہ سب جھوٹ ہے یہ سب جھوٹ ہے جھوٹ ہے
دل نے آواز لگائی تو اس نے کاغذ کے پرزے کر دیے تصویروں کو اٹھا کر دور پھینک دیا اس پر جیسے ایک جنون سوار ہو گیا تھا آنکھوں آنسووں کے ساتھ خوف اتر آیا تھا سر پھٹنے لگا تھا ہوش حواس کھوکر نظریں پاگلوں کی طرح ادھر ادھر کچھ تلاش کر رہی تھی کچھ ایسا کے یہ منظر غائب ہو جائے یہ وہ خود
ساحر ایسا نہیں کرسکتا وہ ایسا نہیں ہے اس کی آنکھیں اس کی آنکھوں میں سچّائی ہے دھوکا نہیں ہے فریب نہیں ہے وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا وہ کسی کو بھی دھوکا نہیں دے سکتا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے مجھے پتا ہے مجھے پتا ہے وہ وہ
دل کی آواز زبان پر آرہی تھی لیکن دماغ دل کو روک کر اس کی نفی کر رہا تھا اس نے سائڈ ٹیبل سے گلاس اٹھا کر زور سے زمین پر مار دیا بیڈ سے تکیے اٹھا کر دور پھینک دیے پھولوں سے سجے بکے کو غور سے دیکھا اور ایک ایک کرکے سارے پھول نوچ نوچ کر پھینک دیے سر اتنی شدت سے درد کر رہا تھا جیسے ابھی پھٹ جائیگا اس نے سر کو دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے جکڑ لیا زخم پوری طرح ٹھیک نہیں ہوا تھا اتنی زور سے پکڑنے پر ٹانکوں سے خون نکلنے لگا تھا ماتھے پر بندھی سفید پٹی لال ہو رہی تھی لیکن اس وقت وہ اپنی اندرونی جنگ لڑ رہی تھی اُسے کوئی ہوش نہیں تھا
یا اللہ یہ سب کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ ابھی ابھی تو اس پر یقین ہورہا تھا اور اب ایک نئی سچّائی کون سا چہرہ اصلی ہے اس کا وہ جو مجھے نظر آتا ہے يا یہ جو میرے سامنے ہے یا اللہ میری مدد کر مجھے راستہ دکھا کیا وہ سچ میں وہ مجھ سے بدلہ لینا چاہتا ہے مجھے نیچا دکھانے کے لیے اچھائی کا ناٹک کر رہا ہے کیا مجھے خود سے محبت کرنے پر مجبور کر کے اپنے ہی ہاتھوں مات دینا چاہتا ہے اس کر بعد مجھے– نہیں —-نہیں میں ایسا نہیں ہونے دوں گی میں اس کا یہ مقصد کامیاب نہیں ہونے دوں گی سنا تم نے میں تم جیسے انسان سے ہرگز محبت نہیں کرونگی ساحر میں تمہارے جھانسے میں کبھی نہیں آؤنگی میں تمہیں نہیں جیتنے دونگی ساحر میں تمہیں کبھی نہیں جیتنے دونگی نہیں جیتنے دونگی نہیں
وہ خود سے ہی بڑبڑاتی رہی سر سے بہتا خون لکیر بناتے ہوئے گال پر آرہا تھا چہرہ آنسووں سے بھیگا اور سانسیں بے ترتیب چل رہی تھی پیٹ گھٹنوں میں دیے آنکھیں مسلسل ادھر اُدھر نیچے کچھ تلاش رہی تھی
وہ دروازہ بند کرکے مسکراتے ہوئے اندر آیا اور اپنی جگہ پر ہی تھم گیا کمرے کی اور اس کی حالت دیکھ کر اس کے ہاتھ پیر سن ہوگئے
وہ جو اپنی میٹنگ ختم ہوتے ہی اس سے ملنے آیا تھا اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کے چند گھنٹوں میں منظر یوں بدل جائیگا صبح سے جو خوشی اس کے چہرے پر چھائی تھی ایک پل میں ہوا ہو گئی
عیشا
وہ فوراً اس کے پاس آیا بیڈ پر اس کے مقابل بیٹھ کر اس کے ہاتھ سر سے ہٹائے وہ بے تاثر بھیگا چہرہ لیے اُسے دیکھتی رہی
عیشا کیا ہوا ——تم ٹھیک تو ہو نا یہ سب کیا ہے— کیا ہوا
اس کے زخم پر ایک ہاتھ رکھے خون روکنے کی کوشش کرنے لگا دوسرے سے چہرہ تھامے اس کی روتی آنکھوں کو دیکھ کر گھبرا کر پوچھا وہ یوں ہی دیکھتی رہی
عیشا خدا کے لیے کچھ بولو—– مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے
اس کے آواز سے ہی گھبراہٹ ظاہر ہو رہی تھی
ساحر کیا یہ سچ ہے کہ ہماری شادی ایک اتفاق نہیں ہے
وہ ساحر کے چہرے پر کچھ ڈھونڈتے ہوئے بولے اس کی پکڑ ڈھیلی ہو گئی لب بھینچ کر ایک پل کو نیچے دیکھا پھر اس کی آنکھیں میں دیکھنے لگا چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا
پلیز بتاؤ ساحر میں شادی سے انکار کردونگی اس لیے تم جان بوجھ کر مجھ سے کبھی ملے نہیں ——-کبھی مجھے پتا نہیں چلنے دیا
ساحر لب بھینچے اس کے چہرے کو دیکھتا رہا آنکھوں میں بے بسی تھی
میں کچھ پوچھ رہی ہوں ساحر جواب دو مجھے ورنہ میں مر جاؤں گی
عیشا
اس نے دھیمی آواز میں لیکن تڑپ کر کہا
ہاں یہ سچ ہے کہ میں بہت پہلے جان چکا تھا کہ تم ہی ہو میں نے تمہیں پارک میں دادی کے ساتھ دیکھا تھا جب میں اُنھیں لینے آیا تھا میں جان بوجھ کر تمہارے سامنے نہیں آیا کیونکہ اگر تم مجھے دیکھ لیتی تو دادی سے بھی دور ہوجاتی جو میں نہیں چاہتا تھا شادی طے ہونے کے بعد بھی میں نے تم سے یہ سچائی چھپائی کے کہیں تم شادی سے انکار نا کردو کیونکہ ——
بس اور کچھ مت بولو اس سے زیادہ سننے کی نا ہمت ہے نا ضرورت مجھ سے بدلہ لینے کے لیے تم اتنا گر سکتے ہو ساحر مجھے اندازہ بھی نہیں تھا اب تک انجان بننے کا ناٹک کرتے رہے جھوٹ بولتے رہے مجھ سے
عیشا میں تمہیں بتانے ہی والا تھا کہ —–
کیا بتانے والے تھے ایک اور جھوٹ ایک اور فریب کیوں ساحر
وہ آنکھیں بند کئے رونے لگی ساحر كا من کیا خود کو کہیں غائب کرلے تاکہ اُسے روتا ہوا نہ دیکھنا پڑے
پلیز عیشا ایک بار میری بات تو سن لو نا
وہ بےبسی سے بولا اس نے آنکھیں کھول کر سر نفی میں ہلا دیا مضبوطی سے سر تھامے رونے لگی سفید پٹی سرخ ہو چکی تھی خون اس کے آنسووں میں شامل ہوکر چہرے پر پھیل رہا تھا
عیشا یہ کیا کر رہی ہو تم —–دیکھو کتنا خون بہہ رہا ہے چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہے ورنہ پرابلم ہو سکتی ہے
اس نے عیشا کے ہاتھ سر سے ہٹاکر اپنے ہاتھوں میں لے لیے
تمہیں یہ خون نظر آرہا ہے تمہیں اندازہ بھی ہے ساحر کے میں اس وقت کس تکلیف سے گزر رہی ہوں اندر ہی اندر مر رہی ہوں میں ساحر
ساحر نے ایک ہاتھ سے اس کا سر اپنے سینے سے لگالیا اور اس کے بالوں پر اپنے لب رکھ دیئے
ایسا کیو کر رہی ہو عیشا کیو خود کو اتنی اذیت دے رہی ہو ایک بار تو مجھ پر بھروسہ کرلو میں تمہاری ہر تکلیف ہر درد دور کردونگا تمہارے آنسووں کی وجہ کو جڑ سے ختم کردونگا بس ایک موقع دے دو میں تمہیں خود میں ایسے محفوظ کرلونگا کے ایک تنکا بھی تمہیں تکلیف نہیں دے پائیگا تم نہیں جانتی عیشا تمہیں ایسے دیکھ کر مجھ پر کیا گزرتی ہے تمہارے آنسو میرے دل پر تیزاب کی طرح محسوس ہوتے ہے بہت تکلیف دیتے ہیں یہ مجھے
اس نے عیشا کو اپنے بازو میں مزید بھینچ لیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے آنسو صاف کیے کتنی دیر وہ اس کے مضبوط سینے سے لگ کر آنسو بہاتی رہی اس کا سہارا پاکر سب کچھ بھول کر اپنا درد نکالنے لگی کچھ دیر بعد آنکھیں کھولی تو کرنٹ کھا کر سیدھی ہوئی اور اُسے دھکا دیکر خود کو آزاد کیا وہ ایک پل کو لڑکھڑایا پھر فورا سیدھا ہوکر اُسے دیکھنے لگا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے قریب آنے کی میں نے کہا تھا نا مجھ سے دور رہو نفرت ہے مجھے تم سے تم نے کیا سوچا تھا یہ اچھائی کا جھوٹا ناٹک کرکے مجھے بیوقوف بنالو گے نہیں مسٹر ساحر میں جانتی تمہارا اصلی چہرہ کیا ہے
وہ ادھر اُدھر نظریں دوڑائے کچھ ڈھونڈنے لگی بیڈ کے ایک کونے پر ہی ایک تصویر تھی اس نے وہ تصویر ساحر کے سامنے کی جس میں وہ بنا شرٹ کے ایک لڑکی کے قریب کھڑا تھا اور اس کے ہاتھ اس کی کمر پر تھے ساحر نے غور سے اس تصویر کو پھر اسے دیکھا
یہ ہے تمہارا اصلی چہرہ تمہاری حقیقت ساحر تم مجھ سے بدلہ لینے کے لیئے ے سب کر رہے ہو نا میں اپنی ساری غلطیوں کے لیئے تم سے معافی مانگتی ہوں لیکن پلیز یہ جھوٹی محبت کا ڈراما مت کرو میں نے دادی سے وعدہ کیا تھا کے میں تمہارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گی اور میں اپنا یہ وعدہ نبھاونگی لیکن تمہاری یہ حقیقت جاننے کے بعد میں تمہیں اپنے نزدیک برداشت نہیں کر سکتی گھن آتی ہے مجھے تم سے پلیز ساحر اگر تم بدلہ ہی لینا چاہتے ہو تو مجھے مار دو مگر میرے جذبات کے ساتھ مت کھیلو میں اُن لڑکیوں کہ طرح نہیں ہوں جن کے ساتھ اپنا مطلب پورا کرکے تم اُنھیں اُن کے حال پر چھوڑ دیتے ہو میں اپنے جذبات کی بے عزتی برداشت نہیں کر پاونگی ساحر میں مر جاؤں گی میں مر جاؤں گی مجھ سے دور رہو میں تم سے محبتوں نہیں کرنا چاہتی میں تم سے محبت نہیں کرتی صرف نفرت کرتی ہُوں نفرت کرتی ہوں
ساحر اُسے دیکھتا رہا اس کی آنکھوں میں درد تھا اُداسی تھی بےبسی تھی
محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی عیشا تم لاکھ کہہ لو محبت نہیں کرتی لیکن تمہاری آنکھیں آج تمہارا ساتھ نہیں دے رہی میں نہیں جانتا تم مجھے اتنا غلط کیوں سمجھتی ہو کیوں تمہارے دماغ میں مجھے لیکر اتنا زہر بھر چکا ہے کے تمہیں کچھ نظر نہیں آتا
وہ چند پل خاموش رہا
جس سوسائٹی کہ میں حصہ ہو اس میں لڑکیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن میں نے کبھی اپنی حد پار نہیں کی کسی سے محبت کے جھوٹے سچّے وعدے نہیں کیے صرف اپنی حد تک
عیشا نے سر اٹھا کر اسے غور سے دیکھا اس کی آنکھوں میں تڑپ تھی
تمہیں لیکر کوئی غلط خیال من میں نہیں آ ہی نہیں سکتا کیوں کے تم میری بیوی ہو میرا حصہ ہو تمہیں تکلیف پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیوں کہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور جس سے محبت ہوتی ہے اُن کی عزت کی جاتی ہے بے عزتی نہیں
اس نے کھلے الفاظ میں اپنی محبت کا اقرار کیا عیشا ساکت ہوکر اُسے دیکھنے لگی جیب سے رومال نکال کر اس کے چہرے کو صاف کیا اور رومال کو پٹی کے اوپر ہی باندھ دیا تاکہ خون بہنا روک جائے
اگر سچّائی یہ ہے تو یہ کیا ہے ساحر
اس نے تصویر اٹھا کر ساحر کے آگے کی
یہ ایک جھوٹ ہے یہ کس نے کیا کیوں کیا یہ میں پتا لگا ہی لونگا عیشا ثابت کردونگا کے یہ سب غلط ہے ایک سازش ہے لیکن کیا فائدہ اگر تمہیں میری محبت پر یقین ہی نہیں ہے اگر ہوتا تو اسے سچ مان کر مجھ پر الزام لگانے سے پہلے ایک بار تسلی کرتی مجھ سے سچ جاننے کی کوشش کرتی لیکن تم نے ایسا نہیں کیا تمہیں مجھ سے زیادہ ان کاغذ کے ٹکڑوں پر یقین ہے محبت کا نہیں اس رشتے کا سوچ کر ہی اعتبار کر لیتی —-میں بھی کیا کہ رہا ہوں تم نے تو کبھی اس رشتے کو قبول ہی نہیں کیا
وہ چند پل رک کر اُسے دیکھنے لگا عیشا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
آج اپنی صفائی دیکر تمہاری غلط فہمی دور کر بھی دوں کل پھر کوئی اور بات تمہارے سامنے آئے گی اور پھر تم اسی طرح مجھ پر شک کروگی میری بےعزتِی کروگی مجھ سے پھر جواب مانگو گی نہیں عیشا میں تھک گیا ہوں تمہیں اپنی محبت کا احساس دلاتے دلاتے اب اور ہمت نہیں ہے مجھ میں ابھی ابھی تم نے کہا کے تم اپنے جذبات کی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتی مر جاؤ گی اور تم جو ہر بار میری پاک محبت پر اتنے غلط الزام لگاتی ہو سوچا ہے میں کیسے برداشت کرتا ہوں نہیں عیشا بہت ہو گیا اب نہیں
تم سے دور رہنا میرے لیے بہت مشکل ہے لیکن تمہیں ایسے بھی نہیں دیکھ سکتا میرے دور جانے سے تمہیں راحت ملتی ہے تو ٹھیک ہے چلا جاتا ہوں واپس کبھی نہیں آؤنگا تمہیں پریشان کرنے کتنی بھی یاد آئیگی تو نہیں آؤنگا شاید میری محبت کا انجام یہی ہے کے اتنا مضبوط رشتہ ہونے کے باوجود یا نا مکمل رہے تم اپنا خیال رکھنا عیشا خوش رہنا تمہاری خوشی دل کو سکون دیتی ہے
اس نے اُداس نظروں سے عیشا کو دیکھا ہلکی سی زخمی مسکراہٹ تھی زیادہ دیر نظریں ملانا مشکل ہو رہا تھا ہاتھ سے اُسکے آنسوں صاف کیے اور ماتھے پر لب رکھ دیئے چند لمحے یونہی گزرے نا چاہتے ہوئے بھی ایک آنسووں گر کر عیشا کے لبوں پر ٹہر گیا وہ بنا اس کی طرف دیکھے نیچے گری چند تصویریں اٹھا کر خاموشی سے باہر نکل گیا وہ مرد تھا اس کے سامنے رو نہیں سکتا تھا
عیشا بےجان سے اُسے جاتے دیکھتی رہی دل نے اسے روکنا چاہا لیکن جیسے جان ہی نہیں تھی جو ایک انچ بھی ہل سکے کچھ ہی وقت میں اس پر کی باتیں ایک ساتھ ظاہر ہوئی تھی جنہیں لیکر من میں اب بھی ایک خلیش باقی تھی
دادی کے روم میں آکر و کتنی دیر دنیا سے بیگانہ ہوکر ایک جگہ ساکن بیٹھا رہا آج اُسے شدّت سے دادی کی یاد آرہی تھی وہ ذرا بھی پریشان ہوتا تو دادی کی گود میں سر رکھے سکون سے سو جاتا لیکن آج وہ اکیلا تھا کوئی نہیں تھا اس کے ساتھ جو اس کا درد کم کر سکے اُسے اپنی بے غرض محبت کی سزا مل رہی تھی شام کے سائے پھیلنے لگے تھے اس نے اٹھ کر الماری سے دادی کی شال نکال کر کاندھے پر ڈالی اور باہر آگیا ایک نظر اپنے روم کے بند دروازے کو دیکھا اور ایک گہری سانس لیکر باہر آگیا ۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Khoj Novel by Zeeshan Ul Hassan Usmani – Episode 11

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: