Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 18

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 18

–**–**–

کمال کے فوٹو گرافس ہے یار کیسے کر لیتے ہو
اس نے سای تصویریں ٹیبل پر ٹھیک اس کی نظر کے سامنے پھینکی وہ ایک پل کو گھبرایا لیکن اگلے ہی پل سنبھل گیا
یہ کیا ہے ساحر
یہی تو پوچھنے آیا ہوں تم سے کے یہ سب کیا ہے کسی کے اتنے پرائیویٹ موومینٹ کی ایسے تصویریں بنانا صحیح ہے کیا اوپر سے میری بیوی کو بھی بھجوادیا
لہجہ طنزیہ تھا
یہ تم کیا کہ رہے ہو ساحر کچھ سمجھ نہیں آرہا
سمجھ میں تو میری بھی نہیں آرہا اتنی لڑکیوں کے ساتھ میرا افئیر رہ چکا ہے اور مجھے آج پتا چل رہا ہے تھینک یو میرے یار اسے کہتے سچّی دوستی
اس کے لہجے میں طنز کے ساتھ دکھ بھی تھا
ساحر تم ٹھیک تو ہو نا کہنا کیا چاہتے ہو
مجھے پتہ تھا کہ تم ایک کتے انسان ہو جسے یہاں وہاں منہ مارنے کی عادت ہے لیکن ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ تمہیں اپنی کتا گری کرتے وقت دوستی کا بھی خیال نہیں آئے گا
اس نے تلخی سے دانت پیستے ہوئے کہا
ساحر تمیز سے بات کرو
وہ غصے سے اٹھ کر اس کے سامنے آیا
تمیز کی بات کر رہا ہے سالے تو تو بات کرنے کے قابل نہیں ہے تیری جگہ کوئی اور ہوتا تو اس وقت اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوتا تیری ہمت کیسے ہوئی ایسی گری ہوئی حرکتِ کرنے کی کیا سوچ کر تونے عیشا کو یہ جھوٹی تصویریں بھیجی کیا سوچا تھا مجھے پتا نہیں چلے گا تیری بری نیت کو اچھے سے جانتا ہوں میں تونے اس دن آفس میں میرے ڈیورس پیپرس دیکھ لیے تھے اسلئے میں نے تجھے سب کچھ سچ سچ بتا دیا لیکن تونے میرے بھروسہ کا یہ صلہ دیا ذرا بھی شرم نہیں آئی تمہیں کیوں کیا تونے ایسا
وہ غصے سے بولا
کیوں کے تونے اسے مجھ سے چھینا ہے دو سال تک اس کے پیچھے جھک مارتا رہا اُس کے بھائی کو ایمپریس کیا اس کی فیملی کو ایمپریس کیا اور پتا چلا کے اس کی شادی تجھ سے ہو گئی کیسے برداشت کر لیتا کوئی اور ہوتا تو شاید میں سب بھول جاتا لیکن تو تونے ہمیشہ مجھے ہرایا ہے ہر وہ چیز جو میں نے چاہی تجھے ملی جو پوزیشن میری ہونی چاہیے تھی وہ تیرے حصے میں آئی کالج سے لے کر اب تک تیری وجہ سے میں پیچھے رہا لیکن اس بار نہیں میں عیشا کو حاصل کر کے رہونگا اسلئے میں نے اسے تیری جھوٹی تصویریں بھیجی تھی تاکہ وہ تجھ سے نفرت کرے لیکن وہ تو پہلے سے ہی تجھ سے نفرت کرتی تھی میرے اس عمل سے نفرت آگ بھڑک ضرور گئی اور جب مجھے پتہ چلا کہ تم اسے ڈیورس دے رہے ہو تو مجھے ایسا کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی میں بس خاموشی سے انتظار کرتا رہا ہاسپٹل سے جب وہ اپنے گھر گئی تو مجھے لگا کے وہ واپس تیرے ساتھ نہیں آئیگی لیکن وہ آگئی اس لیے میں نے بنا دیر کیے اسے وہ سب بڑھا چڑھا کر بتادیا جو تونے اس سے چھپایا تھا اور یہ تصویریں تاکہ کوئی کمی نہ رہ جائے تو اس طرح میں نے تمہیں ہیرو سے ویلن بنا دیا اب اسے میرے پاس ہی آنا ہے تو ہار گیا ساحر نام کی ہی سہی بیوی تو تھی نہ اب وہ بھی نہیں رہےگی ناؤ شی اس مائن
وہ چہرے پر فاتحانہ چمک لیے بولا
خبردار جو اس کا نام بھی لیا ساری زندگی حلق سے آواز نکالنے کو ترس جائیگا
ساحر نے اس کی کالر پکڑ کر اپنی جانب کھینچا اور زور کا دھکا دیکر اسے ٹیبل پر گرا دیا
تیرے دل میں میرے لیے اتنا زہر بھرا ہوگا میں نے سوچا بھی نہیں تھا میں نے تو تو تجھے اپنا دوست سمجھا تھا میں نے جو کچھ پایا اپنی محنت اور قسمت سے پایا ہے میں نے تجھے پیچھے نہیں کیا تو ہی خود آگے بڑھنے کی بجائے مجھ سے مقابلے میں لگا رہا ایسا ہی ہوتا ہے حسد انسان کو کبھی آگے بڑھنے نہیں دیتا جاوید دوسروں کی راہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے اپنی راہیں ہموار کرنے کی سوچتے تو تم بھی پیچھے نہیں رہتے اور جہاں تک بات عیشا کی ہے وہ اللہ کی مرضی تھی اسے عیشا کو تجھ جیسے حرامی سے بچانا تھا اس لیے مجھے اس کا محافظ بنا دیا اور اس سے میرا رشتہِ ٹوٹ بھی جاتا تب بھی میں تجھ جیسے انسان کو اس کے پاس نہیں آنے دیتا چاہے اس کے لیے مجھے تیری جان ہی کیوں نہ لینی پڑے تجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کے میں کیا کرسکتا ہو تو تو میرے ہر قصے سے واقف ہے تجھے تو خود تجربہ ہے نا یا بھول گیا
جاوید اس کی بات کے معنی سمجھ کر تھوڑا گھبرا گیا
اس لڑکی کو تو میں جانتا بھی نہیں تھا جس کے ساتھ تونے زبردستی کی تھی لیکن پھر بھی میں نے تجھے اس کے لیے سزا دی تھی یاد آیا
یہاں تو سوال میری محبت کا ہے سوچ کیا کرونگا اس بار میرا ٹارگٹ تیرا پیر نہیں تیرا سر ہوگا جاوید
پہلی اور آخری بار بخش رہا ہوں کیوں کے دوست پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت دل نہیں دیتا لیکن آج دوستی ختم ہوئی اگلے بار ایسی حرکتِ کی تو تیرے سامنے وہ ساحر خان کھڑا ہوگا جو اپنا دل لاکر میں بند کرکے آتا ہے سمجھا
جاوید کی زبان گنگ ہوگئی کالج میں اس نے ایک لڑکی کو چھیڑا تھا جس پر ساحر نے بنا کوئی موقع دیئے اس کے پیر پر گولی مار دی تھی آج ساحر نے اسے یاد دلایا تو وہ گھبرا گیا وہ اس کے کئی کارنامے دیکھ چکا تھا جب وہ غصے میں ہوتا تو کوئی اسے روک نہیں سکتا تھا
ایک اور بات سن لے میرا اس سے رشتے رہے نا رہے جب تک زندہ ہوں اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دونگا
کہہ کر وہ بنا رکے باہر نکل گیا جاوید کی ساری ہمت جواب دے گئی تھی اسے لگا تھا ساحر اب پہلے والا ساحر نہیں ہے جو ہر بات پر گن نکال لیتا تھا لیکن آج اس کی غلط فہمی دور ہو گئی تھی کیوں کے وہ آج بھی وہی تھا
-***************************
وہ بیڈ سے ٹیک لگائے زمین پر دو زانو بیٹھی اپنی ہتھیلیوں میں کچھ کھوج رہی تھی ساری رات روتے ہوئے گزری تھی اور اب بھی وہ صبح سے یونہی بیٹھی وقفے وقفے سے آنسو بہا رہی تھی دل اور دماغ کی جنگ نے اسے توڑ دیا تھا وہ بس دل کی ماننا چاہتی تھی
میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور جس سے محبت ہوتی ہی اس کی عزت کی جاتی ہے عزتی نہیں
ساحر کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے آنکھوں آنسو گر کر اس کا دامن بھگو رہے تھے
تمہارے آنسو میرے دل پر تیزاب کی طرح محسوس ہوتے ہیں بہت تکلیف دیتے ہیں مجھے
اس نے ہتھیلی سے دونوں گال رگڑ کر آنسو صاف کیے
ساحر کہا ہو تم مجھے پتا ہے تم ایسے نہیں ہی میں غلط تھی جو تم پر شک کیا پلیز واپس آجاؤ میں نہیں رہ سکتی تمہارے بغیر
دروازے پر دستک ہوئی تو اس نے دوپٹے سے چہرہ صاف کیا ہاتھ سے بالوں کو درست کر کے دوپٹہ سر پر لیا اور دروازہ کھولا سامنے عمران کھڑا تھا
عيشو ڈاکٹر صاحب آئے ہے
اس کا لہجہ بہت دھیما تھا وہ وہاں سے ہٹ کر بیڈ پر آگئی وہ جانتی تھی ساحر نے اسے بھیجا ہے چاہے جو بھی ہو وہ اس کا خیال رکھنا نہیں بھولتا تھا ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرکے ڈریسنگ کی اسے دوائی دی اور چلا گیا عمران بھی اُسے چھوڑنے باہر چلا گیا عیشا نے سائڈ ٹیبل سے وہ رومال اٹھا لیا جو وہ اس کے ماتھے پر باندھ کر گیا تھا اور ابھی ڈاکٹر نے نکالا تھا وہ ہاتھ میں لیے اسے دیکھتی رہی کچھ دیر بعد عمران واپس آیا
عیشو یہ تمہاری دوائی ہے ٹائم سے لے لینا میں چلتا ہوں
عمران اس سے نظر ملائے بنا ہی بات کر رہا تھا مطلب وہ خفا تھا
بھائی جان و و وہ کہاں ہے
عمران نے خفگی بھری نظر اس پر ڈالی لیکن کچھ بولا نہیں خاموشی سے باہر جانے لگا
وہ ٹھیک تو ہے نا بھائی جان
وہ اٹھ کر اس کے پاس آئی
تم نے جو کیا اس کے بعد وہ ٹھیک ہو سکتا ہے کیا
بنا مڑے ہی بولا
نہیں بھائی جان میں
عیشا مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی
عمران نے اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی
نہیں آپ نہیں جانتے اس نے مجھ سے دھوکے سے شادی کی
میں سب جانتا ہوں عیشا میں نے ہی اسے کہا تھا ایسا کرنے کو وہ تو تمہیں بتانا چاہتا تھا کئی بار کوشش بھی کی لیکن میں منع کرتا رہا
اُسے صرف میرے کہنے کی تسلی نہیں ہوئی تھی اس نے الیشا کی بھی رضا مندی لی اور اُسے بھی یہی صحیح لگا
عیشا بہتی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی
میں تمہیں کزن نہیں اپنی بہن سمجھتا ہُوں عيشو مجھے لگتا تھا کہ ساحر اور تم دونوں ایک دوسرے کے لیے بلکل ٹھیک ہو اسلئے چھوٹی سی بات کو لیکر تمہارا انکار کرنا صحیح نہیں ہوگا اسلئے ایسا کیا مجھے لگا تھا کچھ دن میں تم اسے سمجھ جاوگی لیکن میں غلط تھا تم نے تو اس کی لائف پہلے سے زیادہ خراب کر دی پہلے روتے ہوئے تو نہیں دیکھا تھا اُسے کبھی
اس کا لہجہ چبھتا ہوا تھا
بب ب بھائی جان میں
اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن لفظوں نے ساتھ نہیں دیا
وہ جو کسی کی اونچی آواز سننا پسند نہیں کرتا تھا تم نے اسے کیا کچھ نہیں کہا جب کے اس کا کوئی قصور بھی نہیں تھا یاد کرکے بتاؤ عیشو اتنے وقت میں کونسی حرکت تھی جس سے تمہیں لگا وہ تم سے بدلہ لیے رہا ہے وہ تو تمہارے لیے سب کچھ کر کے بھی چھپاتا ہے مجھے یہاں بھیجا اس نے تمہیں دیکھنے کیا غرض تھی اس میں
بھائی جان وہ—– مجھے اس سے بات کرنی ہے
وہ جہاں بھی ہے اُسے وہیں رہنے دو فلحال تم سے دور رہے یہی صحیح ہے
اس کا لہجہ تلخ تھا
نہیں بھائی جان پلیز ایسا مت کہیے میں_-____-
وہ جہاں کھڑی تھی وہیں بیٹھ گئی عمران فوراً آگے بڑھا اور اُسے بازو پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا عیشا نے بےبسی سے اُسے دیکھا اور چہرے پر ہاتھ رکھ لیے
عیشو اس وقت وہ تم سے نہیں ملےگا کچھ وقت دو اُسے سنبھلنے کو اس وقت وہ تم سے بہت ناراض ہے کچھ نہیں سنے گا بات اور بڑھ جائیگی
نہیں آپ بس میری بات کروادو میں اس سے معافی مانگ لونگی
اس نے عمران کا ہاتھ تھام کر التجا کی
اوکے میں بات کرونگا تم رونا بند کرو اور دوائی لیکر آرام کرو میں کل صبح آتا ہُوں اوکے
عمران اُسے دلاسہ دیکر باہر آگیا وہ دوائی لیکر بیڈ پر لیٹ گئی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: