Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 19

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 19

–**–**–

وہ دونوں کافی دور آگئے تھے لیکن وہ اب بھی خاموشی سے سامنے دیکھتے ہوئے ڈرائیونگ کر رہا تھا
میرے بھائی اب بول بھی دے کیا شہر کے باہر لیجائے گا
عمران اب تک کتنی بار پوچھ چکا تھا لیکن وہ بنا کچھ کہے آگے بڑھتا جارہا تھا
کہیں پہلے ہی کوئی سیکریٹ شادی وادی تو نہیں کی ہوئی ہے نا
عمران نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا
زیادہ واحیات باتیں کی نا تو آج میرے ہاتھوں ضائع ہو جائیگا میں الریڈی بہت پریشان ہوں
اس نے گاڑی ایک ریسٹورانٹ کے پارکنگ میں روکی جو شہر سے کچھ دوری پر ایک خوبصورت جگہ بنا ہوا تھا دونوں اندر آکر ایک کونے والی ٹیبل پر بیٹھ گئے ساحر شیشے کی دیوار سے باہر دیکھنے لگا عمران نے ویٹر کو کافی کا آرڈرز دیا اور ساحر کو دیکھنے لگا اس کے چہرے پر اُلجھن صاف نظر آرہی تھی
ساحر کیا پریشانی ہے— شادی کی خوشی میں پاگل تو نہیں ہو گئے نا
ساحر نے اس کی طرف دیکھا اور کچھ سوچنے لگا
میں نے تجھے بتایا تھا نا ایک لڑکی کے بارے میں—– وہ ایکسیڈنٹ والی
اس نے بات شروع کی
ہاں وہ مس طوفان-_— جو تجھے ساحر خان نہیں لوفر خان سمجھتی ہے کیا ہوا اسے
عمران نے خود اسے مس طوفان کا خطاب دیا تھا
اُسے میں نے دو دن پہلے دیکھا پارک میں دادی کے ساتھ
ویٹر نے ان کے آگے کافی رکھی
دادی سے شکایت کی اس نے
عمران نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا
نہیں اُسے پتا نہیں ہے کہ میں کون ہُوں وہ دادو کو پہلے سے جانتی ہے میں جان بوجھ کر سامنے نہیں گیا کے کہیں میری وجہ سے وہ دادی سے بات بند نا کردے مجھے پہلے سے ڈاؤٹ تھا کہ دادی اُسے پسند کرتی ہے لیکن آج انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کی وہ میری شادی اُس سے کروانا چاہتیں ہے لیکن——-
ون منٹ تونے تو کہا تھا کہ دادی نے تیرے لیے عیشا کو پسند کیا ہے
عمران نے حیرانی سے پوچھا
ہاں وہ وہی ہے وہ مجھے جانتی نہیں ہے دادی اُسے جانتی ہے میں اسے—–
رک رک رک تو کیا بول رہا ہے وہ جانتی نہیں جانتی ہے کچھ سمجھ نہیں آرہا صاف صاف بتا نا
عمران بیزاری سے بولا
دیکھ جس لڑکی سے میرا جھگڑا ہے اور جسے دادی نے میرے لیے پسند کیا ہے وہ—–وہ وہی ہے
وہ رکتے ہوئے بولا
وہی کون
عمران اب بھی حیران پریشان
وہ—– تیری کزن
وہ عیشا کا نام نہیں لے رہا تھا
عیشا
عمران نے پوچھا
ہاں وہی —— عیشا
مطلب اس دن عیشا تھی جو تیرے آفس آئی تھی اور تونے اُسے ڈانٹا تھا مطلب مس طوفان عیشا ہے
عمران کی حیرت اور بڑھ گئی
ہاں
عمران شاک ہوکر اُسے دیکھنے لگا
دادی جسے جانتی ہے وہ تیری سالی ہے یہ تو پتا تھا لیکن وہ وہی لڑکی ہے یہ مجھے دو دن پہلے ہی پتا چلا اور اب دادی نے کہا ہے کہ وہ اس سے میری شادی کرنا چاہتی ہے مجھے پتا ہے وہ ہرگز نہیں مانے گی الریڈی سمجھتی ہے کہ میں اُسے فالو کر رہا ہوں اسے بھی میری سازش ہی سمجھے گی ——–
ایک سیکنڈ
عمران کافی کا مگ رکھ کر پورا اس کی جانب متوجہ ہوا
تو یہ بتا کیا تو اس سے شادی کرنے کے لیے تیار ہے
وہ ایک پل کو رکا
اگر—- وہ مان جاتی ہے تو—— مجھے کوئی—– پرابلم نہیں ہے
وہ سوچتے ہوئے بولا
کیا بات ہے جس نے بیچ سڑک پر تجھے لوفر خان بنا دیا اس سے شادی کرنے میں تجھے کوئی پرابلم نہیں ہے آئی کانٹ بلیو دھیٹ
عمران دونوں ہاتھ اوپر کرکے بولا
ارے یار میری اُس سے کوئی دشمنی تھوڑے ہی ہے چھوٹا موٹا جھگڑا ہے ویسے بھی میں صرف دادی کی وجہ سے یہ سوچ رہا ہوں
اسے کہتے ہیں لو ایٹ فرسٹ سائٹ
عمران اس کی بات گول کر کے بولا
شٹ اپ— کوئی لو نہیں ہے بکواس مت کر وہ صرف دادی کی چوائس ہے
وہ سنجیدگی سے بولا
اس لیے اس کی اتنی بد تمزیوں کو اگنور کر رہا ہے نا ورنہ تو کسی کے باپ کی سننے والوں میں سے نہیں ہے مجھے پتہ ہے تو جان بوجھ کر مجھ سے چھپا رہا
عمران اُسے شک بھری نظروں سے گھورتے ہوئے بولا
ایسا کچھ نہیں ہے میں صرف دادی کا سوچ رہا
اس نے صفائی دی
مطلب وہ تجھے پسند نہیں ہے—- بول
اس نے تجھے پر زور دیا
پسند ہے
وہ دھیمے سے بولا
دیکھا مجھے معلوم تھا
عمران نے مسکرا کر کہا
پسند ہے مطلب—- ٹھیک ہے— بری نہیں ہے
ہاں اس نے تجھے گنڈا موالی کہا گدھا اسٹوپڈ اندھا کہا لیکن بری نہیں ہے ٹھیک ہے ارے مان لے نا لو ایٹ فرسٹ سائٹ ہے
عمران نے اس کی نقل اتارتے ہوئے کہا
یار تو بات کو کہاں سے کہاں لے جا رہا ہے میرا دماغ خراب ہے جو تجھ سے بات کرنے کا سوچا چھوڑ
وہ خفا ہوکر جانے لگا عمران نے اس زبردستی واپس بٹھایا
اوکے سوری—– تو تو اس شادی کرنا چاہتا ہے—– اس میں کوئی پرابلم نہیں ہے
وہ بے نیازی سے بولا
تیرا دماغ خراب ہے اس میں پرابلم نہیں ہے میں اس سے کہونگا اسلامُ علیکم عیشا جی میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور وہ کہے گی تھینک یو سو مچ میں تو کب سے آپکے انتظار میں بیٹھی تھی کے آپ آکر مجھے پرپوز کرے اور میں ہاں کہو
اس نے غصے سے کہا بدلے میں عمران نے قہقہ لگایا اس کا غصہ اور بڑھ گیا دوبارہ اٹھنے لگا لیکن عمران نے اسے اُٹھنے نہیں دیا
وہ کہاں جانتی ہے کہ اس کی شادی تجھ سے ہو رہی ہے دیکھ تو شادی سے پہلے اس سے مت مل اُسے پتا ہی نہیں چلیگا تو انکار کیسے کریگی
عمران ہنسی روک کر بولا
تو پاگل ہو گیا ہے تیرا مطلب ہے دھوکے سے شادی کروں
وہ حیران ہوکر بولا
میں اسے بہت اچھے سے جانتا ہوں وہ نہ تھوڑی سے کم عقل ہے
عمران بولا
وہ مجھ سے بہتر کون جانتا ہے
وہ بیچ میں بولا
اکزیکٹلی تجھ سے بہتر کون جانتا ہے –پہلے ہی شادی کے نام سے چڑتی ہے اگر پتا چلا کہ تو ساحر خان ہے تو ایک سیکنڈ نہیں لگائے گی انکار کرنے میں اور پھر دادی کو کتنا دکھ ہوگا اور تجھے بھی
وہ نیچے نظریں جمائے اُسے سن رہا تھا اس کی آخری بات پر اُسے غصے سے دیکھا
مطلب دادی کو دکھ ہوگا تو تجھے بھی ہوگا نا
اس نے بات بدل دی
نہیں یہ غلط ہے جو بھی ہو ایسا دھوکا دینا سہی نہیں ہے جب کے مجھے اچھے سے معلوم ہے وہ مجھے پسند نہیں کرتی اور اس کی مرضی کے خلاف اس سے سچ چھپا کر شادی کرنا سراسر زیادتی ہے
اس نے انکار کرتے ہوئے کہا
میرے بھائی کبھی اپنا شرافت کا کاسٹیوم اُتار کر سائڈ میں رکھ دیا کر دادی کا سوچ اور بیچارے اپنے دل کا سوچ
آخری بات پھر سے شرارت سے کہی جس پر ساحر سے سامنے رکھا پانی کا گلاس اٹھا کر اس کے منہ پر پھینک دیا
آئندہ میرے دل کی سوچنے سے پہلے اپنے سر کی سوچ لینا مزید بکواس کی تو گلاس مار کر سر پھوڑ دونگا
عمران نے رومال نکال کر چہرہ صاف کیا اس کی ٹی شرٹ بھی بھیگ گئی تھی
میں جا رہا ہوں تجھ سے بات کرکے کوئی فائدہ نہیں
وہ پھر سے اٹھا عمران نے اس کا ہاتھ کھینچ لیا
ارے رُکنا یار ایک تو تو محبوبہ کی طرح ہر بات پر بھاگنے لگتا ہے اب سیریسلی بات کرتے ہیں دیکھ ایک یہی سولیوشن ہے ادر وائز دادی کو منع کردے
وہ خاموش رہا
ساحر وہ ابھی تجھے غلط سمجھتی ہے ہرگز نہیں مانے گی لیکن وہ دل کی بہت اچھی ہے ایک بار تجھے سمجھ گئی نا تو سب ٹھیک ہو جائیگا
اور جب شادی کے بعد اُسے پتا چلےگا یہ میں ہوں تو کیا وہ یہ نہیں کہے گی کے اُسے میرے ساتھ نہیں رہنا تب کیا ہوگا
ساحر نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
تو نگیٹو مت سوچ چاہئے و لاکھ غصے والی ہے لیکن رشتوں کی قدر ہے اُسے کچھ غلط نہیں ہوگا اور اگر اُسنے ایسا کیا بھی تو دادی ہے نا وہ دادی کو کبھی ہرٹ نہیں کریگی
وہ تسلی دیتے ہوئے بولا
پتا نہیں کیوں پر مجھے یہ صحیح نہیں لگ رہا
وہ دھیرے سے بولا
بس کچھ وقت کی بات ہے ایک بار وہ تجھ سے ایمپریس ہو گئی نا تو اسے سچ بتا دینا
تو اس کے بھائی اور ابّو کو بتا دے وہ مان گئے تو ٹھیک ہے
وہ کچھ سوچ کر بولا
پاگل یہ اُنھیں بتانے والی بات ہے کیا اور میں بھی تو اس کا بھائی ہے ہوں نا
تو کزن ہے سگا بھائی نہیں ہے
اس نے یاد دلایا
تو الیشا —–وہ تو سگی بہن ہے نا اُسے بتاتے ہے اور آگے کچھ ہوا بھی تو الیشا اُسے سمجھا لیگی
یہ بھی ٹھیک ہے بات کر کے دیکھ لے لیکن زیادہ کی الٹی سیدھی باتیں مت لگانا
اس نے انگلی دیکھا کر وارننگ دی عمران اس کا مطلب سمجھ کر مسکراديا اور زبان دانتوں میں دبائے دونوں ہاتھ کان کو لگا کر توبہ کی
********-*************-*****
وہ کب سے بالکونی میں بیٹھی عمران کی بتائی گئی باتیں سوچ رہی تھی وہ ہر پل تڑپ کر گزار رہی تھی وہ نا واپس آنا چاہتا تھا نا اس سے بات کرنا چاہتا تھا جس سے وہ ڈپریشن میں جا رہی تھی عمران روز صبح آتا تھا اور وہ نئی اُمید سے ساحر کا پوچھتی تھی بدلے میں و بےبسی سے اُسے دلاسہ دیکر لوٹ جاتا اس کے جانے کے بعد اس کی اہمیت کا احساس ہو رہا تھا عمران نے الیشا کو بھی سب بتادیا تھا اور وہ بھی اس سے ملنے آئی تھی اس کی کئی ساری غلط فہمیاں دور کرنے اور اس کہ درد بانٹنے ایک کے بعد ایک کئی باتیں اُسے پتا چلی جس سے وہ اندر تک ندامت محسوس کرنے لگی ساحر نے نکاح سے پہلے بھی اُسے بتانے کے لیے فون کیا تھا لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا تھا کیوں کہ وہ فون گھر پر ہی بھول آئی تھی ریسٹورانٹ میں لڑکوں نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی تھی اسلئے ساحر نے وہاں ایک گارڈ لگا دیا تھا اس کی حفاظت کی خاطر جاوید کی اصلیت بھی عمران نے اسے بتا دی تھی اسے جاوید سے زیادہ خود سے نفرت ہورہی تھی کہ اس نے ساحر پر ذرا بھی اعتبار نہیں کیا اور وہ دور چلا گیا تھا تو اس کی کمی شدّت سے محسوس ہورہی تھی لیکن اب کے وہ ایسا ناراض ہوا تھا کہ کسی صورت ماننے کو راضی نہیں تھا وہ لندن چلا گیا تھا عمران اُسے روز فون کرکے عیشا کی حالت بتاتا اور واپس آنے گذارش کرتا لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا اس نے خود کو کام میں اس قدر مصروف کر لیا تھا کہ عیشا کے بارے میں سوچنے کو وقت ہی نا ملے
اور وہ ہر وقت اپنے اللہ سے رو رو کر دعا کر رہی تھی اپنی غلطی کی معافی مانگ رہی تھی کوئی نہیں تھا اس کے پاس اتنے بڑے گھر میں وہ اکیلی تھی عمران نے اسے کہا تھا کہ کچھ دن کے لیے اپنے امی ابو کے گھر چلی جائے لیکن اس نے انکار کردیا اس کہ زیادہ وقت دادی کے روم میں ہی گزرتا تھا وہ اُن کی بھی گنہگار تھی اور اب اپنے گناہ کی سزا بھی کاٹ رہی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: