Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 21

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 21

–**–**–

پتا نہیں تم دونوں بھی اتنے ضدی کیوں ہو
عمران اُسے اپنے ساتھ چلنے کا کہہ کہہ کر تھک گیا لیکن وہ نہیں مانی تو غصے سے واپس چلا گیا وہ بالکنی میں بیٹھی پورے چاند میں کچھ کھوج رہی تھی نینا اس کا کھانا لے آئی تو روم میں واپس آئی کھانا کھاکر نیچے دادی کے روم میں آگئی ساحر کے جانے کے بعد سے اس کا زیادہ وقت یہیں گزرتا تھا اس ایک مہینے میں وہ برسوں کی بیمار لگ رہی تھی زمین پر بیٹھے بیٹھے ہی اُسے نیند لگ گئی
صبح جب آنکھ کھلی تو وہ اپنے بیڈروم میں بیڈ پر تھی پہلے حیران ہوئی لیکن پھر اپنا وہم سمجھ کر نظر انداز کردیا کیونکہ آج کل تو اسے وہم ہوتے ہی رہتے تھے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھی تھی جب دروازہ کھلنے کی آواز پر آنکھیں کھول کر دیکھی ایک پل کو یقین نہیں آیا کیونکہ یہ وہم تو روز ہی ہوتا تھا وہ فون پر بات ختم کرتے ہوئے اندر آیا گرے ٹی شرٹ پر بلیک نائٹ پینٹ پہنے
ہاں بس آدھے گھنٹے میں پہنچ رہا ہوں
فون بند کر کے صوفے پر پھینکا اور واش روم میں بند ہوگیا اُس کی نظریں خود پر محسوس کر چکا تھا لیکن خود ایک نظر بھی اس پر نہیں ڈالی اور اتنے سب میں بھی وہ ساکت بیٹھی واشروم کے بند دروازے کو ہی دیکھنے لگی پھر صوفے پر رکھے موبائل اور لیپ ٹاپ کو جس نے یقین دلایا کہ یہ کوئی وہم نہیں ہے وہ بےچینی سے اُنگلیاں مروڑتے ہوئے ادھر اُدھر ٹہلتے ہوئے اس کا انتظار کرنے لگی
وہ ڈارک بلیو ٹراؤزر پر سکائے بلیو شرٹ پہنے گیلے بالوں کو ٹاول سے سکھاتے ہوئے باہر آیا ٹاول کو کرسی پر ڈال کر ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا ہوکر شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا جب عیشا نے دوڑ کر اس کی پشت سے سر ٹکا دیا ساحر آئینے میں اس کے ہاتھوں کو دیکھنے لگا جو اس کے سینے پر رکھے تھے کچھ لمحے بعد دھیرے سے ہاتھ ہٹا کر تھوڑا آگے ہوگیا اور شرٹ کے بٹن بند کیے
ساحر
اس کے یوں بے نیازی دکھانے پر وہ بھرائی آواز میں بولی
کیا تم اب تک مجھ سے ناراض ہو
وہ اس کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی ساحر اُسے ایک نظر دیکھ کر نظر پھر گیا
کیا نہیں ہونا چاہیے تھا
اس کا لہجہ بہت دھیما تھا دھیان اپنی بلیو ٹائ باندھنے میں تھا
ہونا چاہیے بلکل ہونا چاہیے میں ہوں ہی اس لائق کے تم مجھ سے ناراض ہو غصہ ہو لیکن مجھ سے دور تو مت جاؤ نا
وہ اس کے سینے سے لگ گئی
آئے ایم سوری ساحر مجھے احساس ہوگیا ہے کہ زندگی میں تمہاری کیا اہمیت ہے پلیز اب مجھ سے دور مت جانا تمہیں نہیں پتا یہ دن میں نے کیسے گزارے ہے
ساحر نے دھیرے سے اُسے خود سے الگ کیا
مجھے اس وقت کسی ضروری کام سے جانا ہے بعد میں بات کرتے ہیں اوکے خدا حافظ
سپاٹ لہجے میں کہ کر اس نے اپنا بلیو کورٹ ہاتھ پر ڈالا صوفے سے اپنا فون اور لیپٹاپ لیے باہر نکل گیا وہ جہاں کھڑی تھی وہیں جم گئی ساحر کے سرد رویے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اب تک ناراض ہے اور یہ حقیقت تھی وہ سوچ کر آیا تھا کہ اُس سے ناراضگی جتائیگا غصّہ کرےگا لیکن اس کی کمزور حالت دیکھ کر سب بھول گیا اپنے غصے کو قابو میں کرلیا لیکن ناراضگی اب بھی دیکھا رہا تھا لیکن اس کے لیے فلحال اتنا ہی کافی تھا کہ وہ نظر کے سامنے ہے اس نے خدا شکر ادا کیا ایک نظر آئینے میں خود کو دیکھا پرپل کلر کے سلور سوٹ میں سفید دوپٹے کے ساتھ سفید پڑتا چہرہ سوکھے ہونٹ تھکی تھکی آنکھیں ڈھیلی ڈھالی چھوٹی بنائے وہ پہلے والی عیشا ہرگز نہیں لگ رہی تھی اتنے دن میں اس نے پہلی بار خود کو آئینے میں جانچا تھا پھر سر جھٹک کر واش روم کی جانب بڑھ گئی
*********/****************/*
وہ آفس سے آکر تھکا ہارا سا بیڈ پر گر گیا اور آنکھیں موند لی عیشا ڈریسنگ ٹیبل کے پاس بیٹھی بالوں کو سلجھا رہی تھی ایک نظر اُسے دیکھا اور دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی آئی اور اس کے پیروں کے قریب بیڈ پر بیٹھ کر اس کے جوتے اُتارنے لگی
یہ کیا کر رہی ہو تم
وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا اپنا پیر کھینچنا چاہا لیکن عیشا نے ایسا کرنے نہیں دیا
بس رہنے دو
جوتے اُتارنے کے بعد موزے بھی اُتارنے لگی ساحر نے روکا لیکن نہ مانی ساحر اُس کی جھکی آنکھوں کو دیکھنے لگا موزے نکال کر نیچے رکھنے کے بعد وہ یونہی اُس کے پیروں کو دیکھتے بیٹھی رہی ساحر نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے وہاں سے اٹھایا اور اپنے بازو بٹھالیا
تمہاری جگہ یہاں ہے
وہ بنا نظریں ملائے بولا
اچھا تو پھر مجھے چھوڑ کر کیوں گئے تھے میں تو بیوقوف ہوں لیکن تم تو بہت سمجھدار ہو نا مجھے سمجھا نہیں سکتے تھے
اس نے خفگی سے کہا ساحر نے پیچھے ہوکر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لیا
کیا کروں ہوں تو انسان ہی نہ فرشتہ تو نہیں ہوں جو کسی چیز سے کوئی فرق نہ پڑے تکلیف تو مجھے بھی ہوتی ہے بس دکھا نہیں سکتا میں ہی جانتا ہوں کیسا لگتا ہے جب بیوی ہی میرے قریب آنے پر گھن محسوس کرتی ہے
آخری جملہ پر اُسکا لہجہ تلخ ہو گیا
ساحر پلیز—–
دل کیا صرف تمہارے پاس ہے عیشا تکلیف کیا صرف تمہیں ہوتی ہے مجھے ہرٹ نہیں ہوتا کیا جب تم ہر بار مجھے ہیومیلیٹ کرتی ہو میری انسلٹ کرتی ہو میں نے تم سے کبھی کچھ مانگا بھی نہیں کبھی زبردستی نہیں کی بے غرض ہے میری محبت اگر کچھ چاہتا ہوں تو یہ کے تم خوش رہو کیا یہ قصور ہے میرا جس کے لیے تم مجھے سزا دیتی آرہی ہو
وہ خفگی سے بولا
نہیں ساحر میں-
اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن ساحر نے بات کاٹ دی اور سیدھا ہوکر بیٹھ گیا
نہیں عیشا کوئی صفائی مت دو کیونکہ تم غلط ہو کوئی لاکھ سازش کرے لیکن ہمارا ارادہ مضبوط ہو نا تو کسی کی ہمت نہیں ہے کے ہمیں الگ کر سکے لیکن تم نے کبھی میری محبت کو سمجھا ہوتا تو بھروسہ کرتی نا مجھ پر اتنے وقت میں بھی تمہیں احساس نہیں ہوا کیسے ہوتا تم نے تو اپنے دماغ میں میری الگ ہی امیج بنائی ہوئی ہے جس کے مطابق میں ایک دل پھینک عاشق ہوں تمہیں پتا ہے تم نے مجھے کتنی گندی گالی دی ہے یہ کہہ کر کے میں لڑکیوں کے ساتھ وقت گزار کر اُنھیں چھوڑ دیتا ہوں کین یو امیجن میرا کیا دل کر رہا تھا اس وقت تم نے صرف میرے کردار پر نہیں میری تربیت پر بھی الزام لگایا آج خدا کی قسم کھا کر کہ رہا ہو کسی لڑکی کو کبھی غلط ارادے سے چھوا بھی نہیں عزت کرنا سکھایا گیا ہے مجھے بےعزتي کرنا نہیں افسوس تو اس بات کا ہے کہ تم نے مجھے اتنا گھٹیا انسان سمجھا
وہ خاموش ہوکر سامنے دیکھنے لگا آنکھیں سرخ ہو رہی تھی
ساحر —–
عیشا آئندہ ایسا کچھ ہونا تو میری ہی گن سے مجھے شوٹ کردینا کیوں کے گالی سننے سے میں مرنا زیادہ پسند کرونگا
عیشا نے اس کے لبوں پر مضبوطی سے ہاتھ رکھ دیا اور سر نفی میں ہلانے لگی
ساحر نے اس کا ہاتھ ہٹا کر منہ پھیر لیا
تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو بہت کچھ کر چکا ہوتا اب تک لیکن کیا کرو یہ محبت چیز ہی ایسی ہیں انسان کو بے بس کردیتی ہے تمہیں چوٹ پہنچا کر سب سے زیادہ تکلیف مجھے ہی ہونی ہے
وہ بنا اس کی طرف دیکھے کہ رہا تھا
تم بلکل سہی ہو میں بہت بری ہُوں تمہاری محبت ڈیزرو ہی نہیں کرتی ہرگز بھی تمہارے لائق نہیں ہوں الزام لگاتے وقت تمہاری ہر اچھائی بھول گئی میں یہ بھی بھول گئی کے اللہ نے تمہیں میرے لیے چنا ہے اور وہ میرے لیے غلط کیسے کر سکتا ہے یہ بھی بھول گئی کہ دادی نے مجھ پر اتنا بھروسہ کیا وہ کتنی ناراض ہونگیں مجھ سے تمہیں تکلیف میں دیکھ کر ساحر پلیز مجھے معاف کردو میں نے بہت بڑا گناہ کیا آج تک تم نے کیا کچھ نہیں سہا میری وجہ سے شروع دن سے تمہیں بے عزت کرتی آئی ہوں اتنے پاکیزہ رشتے کا بھی لحاظ نہیں کیا اور تم پھر بھی مجھ سے محبت کرتے رہے ساحر پلیز مجھے اس کی سزا دو تاکہ مجھے ہمیشہ یاد رہے
ساحر نے سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھا
ایک آخری موقع دیدو ساحر وعدہ کرتی ہُوں آئندہ تمہیں کبھی ہرٹ نہیں کرونگی بس ایک بار معاف کردو چاہئے کوئی بھی مقام دو لیکن خود سے دور مت کرو اب تمہارے بنا کوئی زندگی نہیں ہے تم جب تک ساتھ ہو تب تک ہی سانس لینا چاہتی ہوں صرف تمہیں دیکھنا چاہتی ہو
ساحر نے اس کے چہرے پر آتے بالوں کو ایک ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے ہاتھ اس کے چہرے پر رکھا اُس کی آنکھوں میں بے پناہ محبت تھی عیشا نے اس کا وہی ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگا لیا اور آنکھیں موندے آنسو بہاتی رہی ساحر نے آگے بڑھ کر اُسے سختی سے گلے لگا لیا
آئے لو یو ساحر آئے لو یو سو مچ
اس نے دونوں ہاتھوں سے ساحر کو مضبوطی سے تھام لیا وہ بھی اپنی گرفت کو اور سخت کرتا رہا بولا کچھ نہیں کتنے لمحے یونہی گزر گئے
آئندہ مجھ سے کبھی دور مت جانا پلیز ورنہ میں مر جاؤں گی
عیشا اس سے الگ ہوئی ساحر رخ پھیر کر دیوار کو دیکھنے لگا
عیشا نے اس کے چہرے کو ہاتھ سے اوپر کرکے نفی میں سر ہلا دیا اس نے مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے اس کا ہاتھ ہٹا دیا دونوں ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑ کر پیشانی پر آئے بالوں کو پیچھے کیا اور اسے دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرادیہ
کیا کروں بات جب تمہاری ہوتی ہے نا تو میرا خود پر کنٹرول نہیں رہتا وہی کرتا ہوں جو دل کرنا چاہتا ہے میرے بس میں نہیں ہے کہ میں تمہیں اپنی فيلنگس دکھا سکوں
وہ محبت بھرے لہجے میں بولا عیشا اس کے کاندھے پر سر رکھے اس کے چہرے کو دیکھنے لگی
سوری ساحر میں نے تمہارا بہت دل دکھایا نا مجھے
بس بار بار سوری مت بولو
اس نے عیشا کے لبوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروادیا وہ مسلسل اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جیسے کسی نے آنکھوں کو جادو سے اس جانب کھینچ رکھا ہو ایک ایک پل وہ اس چہرے کو دیکھنے کے لیے تڑپتی رہی تھی اور آج دل کررہا تھا اب تک کی ساری کسر ایک ساتھ پوری کرلے وہ اج اُسے ہمیشہ کے لیے آنکھوں میں بسا لینا چاہتی تھی تاکہ اس کے سوا کچھ نظر نا آئے اس ایک مہینے میں احساس ہوا تھا کہ وہ دل گہرائیوں تک بس چکا تھا
ایسے کیا دیکھ رہی ہو
ساحر نے اس کے چہرے پر آتے بال پیچھے کیے
تمہیں دیکھ کر دل ہی نہیں بھر رہا تم اتنے اچھے کیوں ہو
وہ چند لمحے رک کر بولی
پاگل خود تو مجھے دیکھ دیکھ کر پیٹ بھرلوگی میرا کیا اتنی بھوک لگ رہی ہے کھانا تو کھلاؤ
اوہ ہاں سوری چلو کھانا کھاتے ہے
وہ اس سے دور ہوئی
ایک منٹ
وہ جانے لگی تو ساحر نے ہاتھ پکڑ کر روک دیا
مجھے بھی تم سے سوری کہنا ہے عیشا تمہیں میری ضرورت تھی لیکن میں تمہارے پاس نہیں تھا اتنے دِن تم میری وجہ سے بیمار رہی پریشان رہی اور میں تمہارا خیال رکھنے کی بجائے اپنی ناراضگی کے چکر میں پڑا رہا
عیشا کچھ نہیں بولی کہتی بھی کیا ایک اچھائی نہیں تھی اس میں جس پر حیران ہوتی بنا غلطی کے خود کو قصوروار مان کر معافی مانگ رہا تھا
ساحر نے اس کے ہاتھ کو لب سے لگا کر متوجہ کیا
ساحر کیا تم ہمیشہ مجھے اتنا ہی پیار کروگے
اس کے سوال پر ساحر نے سنجیدگی سے نفی میں سر ہلا دیا عیشا نے اسے بے یقینی سے دیکھا اُسے ہرگز اُمید نہیں تھی کے ساحر کا جواب یہ ہوگا
اس سے بھی زیادہ کرونگا
وہ پھر سے رو نا دے اسلئے فوراً بولا عیشا نے اسے غصے اور خفگی سے دیکھا اور دھکا دیکر گرادیا وہ ہنستے ہوئے اُسے دیکھنے لگا
تم بہت برے ہو
وہ خفا ہوکر جانے لگی لیکن ساحر نے اسے ہاتھ پکڑ کر واپس بیڈ پر بٹھادیا اور دونوں ہاتھوں سے کان پکڑ لیے وہ مسکراتے ہوئے اس کے سینے سے لگ گئی
******/*************/******/
الیشا اور فائزہ دونوں نے خوبصورت بیٹوں کو جنم دیا تھا عیشا کی خوشی کی کوئی حد نہیں تھی وہ گھنٹوں تک ایک ساتھ دونوں شہزادوں کو گود میں لیے رہتی تھی ساحر اُسے کئی بار اس بات پر چھیڑتا تھا سب ہی اس کی حرکتوں پر ہنستے تھے لیکن اُسے کوئی پرواہ نہیں تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ خوشی سے سارے شہر میں جشن منائے چند دن پہلے بیمار لگنے والی صورت پھر گلابی پھول کی طرح تازہ لگنے لگی تھی اسکی سب سے بڑی وجہ ساحر کی محبت تھی جو وقت کے ساتھ اور گہری ہونے لگی تھی
ساحر جس پروجیکٹ پر کام کر رہا تھا اس کے لیے اسے کچھ دن لندن میں ہی رہنا تھا لیکن اس بار وہ عیشا کو بھی ساتھ لے گیا دو مہینے لندن میں گزارکر وہ کل ہی واپس آئے تھے
وہ بالکونی میں کھڑی تھی ساحر افس سے آکر سیدھے اس کے پاس آیا اُسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے پیشانی پر پیار دیا
کیسی ہے میری جان
صبح وہ افس کے لیے نکلا تب عیشا کی طبیعت کچھ ناساز تھی اتنا لمبا سفر کرنے کے بعد اُسے بےحد تھکان محسوس ہورہی تھی وہ افس سے چار بار فون کرکے تسلی کر چکا تھا لیکن پھر بھی وقت سے پہلے گھر آگیا تھا عیشا ہلکا سا مسکرائی
ساحر تم سے کچھ کہنا ہے
وہ دونوں ہتھیلیوں کو رگڑتے ہوئے بولی
ہاں بولو نا
وہ اس کا چہرہ سامنے کرتے ہوئے بولا
وہ—- میں یہ کہہ رہی تھی –کے ——_-
ساحر سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھنے لگا اس نے کچھ سوچتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر پین سے کچھ لکھا اور اسے پڑھنے کا اشارہ کیا
سچ
ہتھیلی پر آئی ایم پریگننٹ لکھا دیکھ کر وہ حیرت اور خوشی سے بولا عیشا نے سر اثبات میں ہلاکر نظریں جُھکالی اس نے اس کی پیشانی پر پیار کیا
آئی لو یو سو مچ
وہ دھیمے محبت بھرے لہجے میں بولا اور اسے دونوں ہاتھوں کی اوپر اٹھالیا اور کتنے ہی چکر گھومنے لگا یہ اُسکا واحد شوق تھا جس سے عیشا کو شدید کوفت ہوتی تھی وہ بس اُسے یوں اٹھانے کا بہانا ڈھونڈتا تھا
ساحر—– ساحر کیا کر رہے ہو پلیز پلیز چھوڑو م م مجھے چکر آرہے ہے میں گر جاؤنگی
وہ گھبرا کر کہتی رہی ساحر نے اسے نیچے اُتار دیا
سوری—- لیکن کیا کرو میں آج بہت بہت بہت خوش ہوں تھینک یو سو مچ
اس نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے
میں سچ میں بہت خوش ہوں عیشا
میں بھی
وہ اس کی براؤن آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
تو پھر ایک بار اور اٹھاؤں
ن ن نہیں—- نہیں ساحر پلیز -_–پلیز ابھی نہیں
وہ فوراً دو قدم پیچھے ہو گئی
پلیز بس ایک بار
اس کے مزید روکنے سے پہلے ہے وہ اُسے اٹھاکر گھماتے ہوئے روم میں لے آیا اور نیچے ا اُتار دیا اس نے سیدھے ہوتے ہوئے اپنے چکراتے سر پر ہاتھ رکھا
اُف—- میرا سر گھوم رہا ہی پتا نہیں تمہیں کیا ملتا ہے ایسا کرنے میں
وہ خفگی سے بولی
خوشی ملتی ہے میں تمہیں آسمان پر بیٹھے دیکھنا چاہتا ہوں
سیدھے بولو نا اللہ کے پاس پہنچانا چاہتے ہو
وہ منہ پہلا کر بولی
چپ پاگل —
اور کیا کسی دن ڈر کے مارے مر ہی جاؤں گی میں
ساحر نے اسے کھینچ کر دیوار سے لگا دیا اور اس کے قریب ہو گیا
بہت زبان چل رہی ہے کیا کہا ذرا پھر سے بولو
وہ مصنوعی غصے سے بولا
ک ک کچھ نہیں س س سوری
وہ ہکلاتے ہوئے بولی
اب سوری سے کام نہیں چلے گا
وہ اس کے لبوں کو دیکھتے ہوئے اس کے قریب ہوا تب دروازے پر دستک ہوئی
واؤ کیا ٹائمنگ ہے
وہ دروازے کو گھورتے ہوئے بولا عیشا منہ پر ہاتھ رکھے ہنسنے لگی
دیکھ لونگا
وہ عیشا کو دھمکی دیکر دروازے پر آیا ملازم نے اسے عمران کے آنے کی اطلاع دی تو عیشا کو بتا کر نیچے چلا گیا
اس نے آنکھیں بند کرکے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے اسے اتنی خوشیاں دی اکثر ہم اپنی قسمت سے ناراض ہوجاتے ہیں بنا یہ سوچے کے یہ اللہ کی مرضی ہے زندگی میں اگر کچھ بھی برا ہوتا ہے تو اُس میں کوئی اچھائی چھپی ہوتی ہے بس اللہ پر بھروسہ رکھ کر اُن حالات کا سامنا کرے کیونکہ اللہ کبھی اپنے بندوں کو نا امید نہیں کرتا ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: