Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 22

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 22

–**–**–

“جنّت…………… “
ہوا کے ٹھنڈے جھونکے نے کھلے کالے بالوں کو اس کے چہرے پر بکھیر دیا تھا اس نے بالوں کو پیچھے کرتے ہوۓ پلٹ کر دیکھا حنا اسے پکارتی ہوئی بالکونی کا دروازہ کھول کر آئی تھی اس نے مسکراتے ہوۓ دوبارہ باہر کی جانب رخ کرلیا بارش رکنے کے بعد کی ٹھنڈی ہوا اسے چہرے پر بہت اچھی لگ رہی تھی
تم یہاں کیا کررہی ہو جنت…. اگر وارڈن نے دیکھ لیا نا تو تمہارے ساتھ میری بھی شامت اجاۓ گی
حنا اس کے برابر کھڑی ہوکر بولی گرلس ہاسٹل کا رول تھا دس بجے کے بعد نا کسی کو روم سے باہر نکلنے کی اجازت تھی نا کسی باہر والے کو اندر جانے کی اسلیے دس بجتے ہی وہاں گہری خاموشی چھائی ہوتی تھی تین دن ہی ہوۓ تھے اسے یہاں آۓ ایک نۓ ملک میں… اپنوں سے دور…ہاسٹل کے ہر کمرے میں دو لڑکیاں تھی خوش قسمتی سے اسے حنا جو کہ اس کی ہم وطن تھی اپنی روم میٹ کے صورت مل گئی تھی اور کم وقت میں ہی دونوں بہت اچھی دوست بھی بن گئی تھی اس کی بات پر جنت نے کوئی جواب نہیں دیا بس اس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی
پتہ نہیں ایسی کیوں ہو تم ایسے اندھیرے اور سناٹے میں جس سے عام طور پر لوگوں کو ڈر لگتا ہے تم یہاں انجوۓ کررہی ہو
حنا نے اطراف میں نظریں گھمائی واقعی وہ منظر خوف دلانے والا تھا لیکن جنت کو اس نے اکثر اسی طرح عجیب چیزیں کرتے دیکھی تھی
کس کے خیالوں میں گم ہو
جنت سے کوئی جواب نا پاکر حنا نے اسے ہلکا سا دھکا دیا
اسی کے جو بار بار اجاتا ہے بن بلاۓ
جنت نے حنا کی جانب دیکھ کر کہا تو اس نے آنکھیں بڑی کرکے حیرت ظاہر کی
اوہو کون ہے وہ
میری خواہش..میری زندگی…. میری محبت…
وہ دور آسمان میں چمکتے تارے کو دیکھنے لگی
کہاں رہتا ہے
میرے دل میں.. میرے خیالوں میں… مجھ میں
حنا نے اس کے عجیب جوابات پر اسے گھورا لیکن جنت بنا متوجہ ہوۓ اسی طرح سوچوں میں گم نظر آئی
کیا کرتا ہے
مجھے پریشان
جنت نے اسے دیکھ کر اداس چہرہ بناتے ہوۓ کہا
اففو بتاؤنا کون ہے
حنا جھنجلا گئی تو وہ ہنس پڑی
وہ…… میرا ……منگیتر ہے
ہنستے ہوۓ جواب دیا حنا حیران بھی ہوئی اور خوش بھی
اوہو….منگیتر….. کون ہے… کیا نام ہے اور.. کیسا دکھتا ہے
حنا تجس سےسوال پہ سوال پوچھنے لگی
کسی خوبصورت خوا ب جیسا
اس کا رخ تو حنا کی جانب تھا لیکن نظریں کہیں اور تھی
گڈ نائٹ…..
حنا نے غصے میں آکر اس کے آگے زور سے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا تو وہ ہنستی چلی گئی
تمہاری یہ فلاسفی میرے سمجھ میں تو آنے سے رہی اسلیے میں چلی تم اپنے خواب کے خیالوں میں غوطے کھاتی رہو… اور ہاں اسے کہنا زرا جلدی چھوڑدے صبح کالج بھی جانا ہے
حنا نے ہار مانتے ہوۓ وہاں سے جانے میں بھلائی جانی لیکن جنت کا شاید اب بھی وہیں کھڑے رہنے کا من تھا اسے تنہائی پسند تھی جو اسے اپنی محبت کے اور قریب کردیتی تھی یہ اندھیرا یا سناٹا اسے کیسے خوفزدہ کرسکتا تھا کیونکہ کسی کی یاد ہر وقت اس کے ساتھ رہتی تھی
کیا بتاؤں تمہیں….. میں خود پریشان ہوں….. سامنےوہ آتا نہیں اور خیالوں سے جاتا نہیں بہت ہی ضدی پلس.. بے پرواہ پلس… بےوفا قسم کا ہے دیکھنا جب بھی اس سے ملوں گی نا بہت جھگڑا کروں گی سارے شکوے گلےایک ساتھ ہی سنا دوں گی مجھے یاد نا کرنے کے لیے…. اتنا انتظار کروانے کے لیے….اور خود بار بار مجھے یاد آکر اتنا پریشان کرنے کے لیے…… اور بھی بہت کچھ شکایتیں ہے لیکن بس چند منٹوں میں کیونکہ اس کے بعد اسے یہ بھی تو بتانا ہے کہ وہ کس قدر جگہ بنا چکا ہے دل میں کہ دن کے کتنے پل میں اسے یاد کرتی ہوں اور یہ کہ جنت کو اپنے راجہ سے کتنی محبت ہے
اس کے خیالوں کا تسلسل ٹوٹا جب اس نے کسی بائک کو ہاسٹل کے گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہوۓ دیکھا گاڑی بہت تیزی سے چلتی ہوئی اندر آئی تھی اور ایکدم سے آکر ٹھیک اسی کی بالکونی کے نیچے رکی تھی
اتنی رات کو کون اندر اسکتا ہے…..
اس نے غور سے نیچے دیکھا بائیک پر بیٹھا شخص جس نے بلیک جینس اور بلیک لیدر جیکٹ پہنا ہوا تھا جیکٹ کی کیپ سر پر ڈالی ہوئی تھی شاید بارش سے بچنے کے لیے اور ہاتھ میں تین رنگ کے بینڈس پہنے وہ اپنا موبائل نکال کر کان سے لگا رہا تھا وہ چاہ کر بھی اوپر سے اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی فرسٹ فلور تھا اسلیے وہ اس خاموشی میں باسانی اس کی آواز سن سکتی تھی
Hello……. I’m here…… Lets get it on
دوسری جانب سے فون پک ہونے پر اس نے اپنی آمد کا بتایا جنت کنفیوز سی سوچنے لگی کہ وہ کون ہوسکتا ہے اور کیا کرنے والا ہے
نو پرابلم….. تم یہ بتاؤ تم نے وارڈن کو راستے سے ہٹایا یا نہیں
دوسری جانب کی بات سن کر اس نے کہا تھا جس پر جنت کا منہ پورا کھل گیا اب وہ پریشان ہوگئی اسے کچھ غلط ہونے کا شدید احساس ہورہا تھا
گڈ……… اب ہمیں روم نمبر ون زیرہ سکس تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا…… سب کچھ پلین کے مطابق ہوگا تم جاکر لائٹ بند کرو
شاید دوسری جانب سے گرین سگنل ملا تھا جنت کو یقین ہوگیا کہ ضرور اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وارڈن کا قتل. کردیا ہے اسی لیے وہ اتنی رات گۓ جب کسی کو اندر انے کی اجازت نہیں تھی آسانی سے اندر آگیا تھا
ہاں میں نے دونوں لے لیے ہے ورنہ کام پورا کیسے ہوگا
اس کی آواز نے جنت کو پھر متوجہ کیا اس نے نیچے دیکھا تو اس آدمی کے ایک ہاتھ میں چاکو اور دوسرے میں گن تھی جنت نے اپنے دونوں ہاتھ سختی سے منہ پر رکھ کر اپنی چینخ روکی پیچھے ہوتی ہوئی وہ جلدی سے روم کے اندر آئی اسے یقین نہیں ارہا تھا لیکن وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ یہ کوئی گنڈا بدمعاش ہے جو کسی بہت غلط ارادے سے یہاں آیا ہے شاید اس کا مقصد روم نمبر ایک سو چھ میں موجود کسی لڑکی کو نقصان پہنچانا تھا وہ ایک دم سے الرٹ ہوگئی اور جلدی سے حنا کے بیڈ کے پاس آئی
حنا…….
اسے دھیمی آواز میں پکارتے ہوۓ ہلکا سا کاندھا ہلایا حنا نے نیند سے بوجھل انکھیں کھول کر اسے دیکھا
کیا ہوا جنت………
حنا اٹھ کر بیٹھ گئی اسے جنت چہرے سے ہی پریشان لگی
حنا میں نے ابھی ابھی نیچے کسی کو بات کرتے سنا ہے………..شاید وہ کسی کا مرڈر کرنے والا
کیا………
حنا کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہوا اسے لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے
وہ کہہ رہا ہے کہ اس نے وارڈن کو راستے سے ہٹادیا ہے اور اب وہ روم نمبر ایک سو چھ میں کسی کو مارنے والا ہے اس کے پاس گن بھی ہے اور چاقو بھی ہے میں نے …خود دیکھا ہے
جنت کی آواز کانپ رہی تھی اور اسے پسینہ آنے لگا تھا اسی وقت وہاں جلتے دونوں نائٹ بلب بند ہوگۓ اور کمرے میں اندھیرا چھاگیا بس اوپر چھوٹی سی کھڑکی سے آتی چاند کی مدھم روشنی تھی جس میں وہ ایک دوسرے کو دیکھ سکتی تھی جنت کے ساتھ حنا بھی گھبرا کر کھڑی ہوگئی
دیکھا میں نے کہا تھا یہ لائٹ اسی نے بند کروائی ہے
اب کیا ہوگا جنت
حنا نے جنت کا ہاتھ پکڑ لیا
میں پولس کو فون کرتی ہوں
جنت نے جلدی سے اپنا فون تلاش کرکے نمبر لگایا اور کم لفظوں میں سارا واقعہ بتاکر جلد سے جلد آنے کی ریکویسٹ کی
روم نمبر ایک سو چھ ….یہ تو سیکنڈ فلور ہے نا جس میں ہمارے کالج کی وہ ہانیہ ہے
.حنا نے اس کے فون بند کرنے پر سوچتے ہوۓ کہا جنت بنا جواب دیے جلدی سے بالکونی میں آئی اس نے نیچے جھانک کر دیکھا تو وہاں صرف بائک کھڑی تھی مطلب وہ شخص اندر جا چکا تھا وہ جلدی سے واپس آئی
پولیس پتہ نہیں کب آئیگی اتنا وقت نہیں ہے ہمارے پاس ہمیں ہی کچھ کرنا ہوگا حنا
لیکن کیا
حنا نے سوال کیا تو وہ سوچنے لگی لیکن سوچنے کا وقت نہیں تھا اس کے پاس
چلو بتاتی ہوں …….یہ پیپر اسپرے رکھ لو کام آۓ گا
جنت نے ٹارچ کی مدد سے اپنے بیگ سے سپرے نکال کر حنا کو دیا اور خود اپنے بستر سے بلینکٹ ہاتھ میں لے کر روم سے باہر نکلی ٹارچ کی روشنی میں وہ دونوں سیڑھیاں چڑھتی سیکنڈ فلور پر پہنچی روم نمبر ایک سو چھ کا دروازہ نظر آنے پر دونوں نے ایک دوسری کی جانب دیکھا جنت نے اسے چلنے کا اشارہ کیا تو وہ اس کے ساتھ آگے بڑھی دروازہ دھیرے سے کھول کر وہ دونوں اندر داخل ہوئی دونوں بیڈ پر لڑکیاں بےفکری سے سوئی تھی حنا انہیں جگانے کے لیے آگے بڑھ ہی رہی تھی کہ جنت کو سیڑھیوں پر قدموں کی آواز سنائی دی اس نے حنا کو روک دیا اور دروازے کے پیچھے دیوار سے کھڑے رہنے کا اشارہ کیا اور خود موبائل اپنے کورٹ کی جیب میں ڈال کر دروازے کے دوسری جانب دیوار سے لگ کر کھڑی ہوگئی اگلے چند سیکنڈ میں ہی دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا اس نے پوری ہمت جٹا کر اس شخص کے اوپر بلینکٹ ڈال کر اسکے ہاتھوں سمیت اسے مضبوطی سے پکڑ لیا اس کے پیچھے داخل ہونے والے تینوں لڑکے کچھ کرے اس کے پہلے ہی حنا نے باہر آکر بہت سارے پیپر سپرے سے حملہ کیا وہ درد سے چلاتے آنکھیں مسلنے لگے جب کے جنت نے بہت مشکل سے اس شخص کو قابو کیا ہوا تھا جو اس اچانک حملے پر خود کو چھڑانے کی کوشش کررہا تھاجنت نے اسکے ہاتھوں کو جکڑتے ہوۓ اسکے سینے پر ہاتھ باندھے ہوۓ اپنی انگلیاں سختی سے ایک دوسرے میں پیوست کرکے پوری طاقت لگا رکھی تھی پھر بھی جنت کو لگا وہ اسے زیادہ دیر نہیں روک پائے گی
حنا میری مدد کرو پکڑو اسے
جنت کو وہ چھوٹتا ہوا محسوس ہوا تو وہ زور سے چلائی حنا جلدی سے پیپر سپرے پھینک کر اگے بڑھی اور اس کی مدد کرنے لگی شور و گل سے لڑکیاں حیران پریشان ہوتی بستر سے اٹھ کر آئی باقی لڑکے واپس باہر کی جانب جانے لگے شاید وہ گھبرا گۓ تھے اس حملے پر
یہ سب کیا ہورہا…….
ہانیہ نے حیران ہوتے کہا
یہ لوگ تمہیں مارنے آۓ تھے شکر مناؤ ہم دونوں نے بچالیا تمہیں ورنہ آج تم اللہ کو پیاری ہوجاتی
حنا کو ہانیہ بلکل پسند نہیں تھی وہ احسان جتاتے ہوۓ بولی جب کہ ہانیہ سمیت دوسری لڑکی اب بھی حیران شکل بناۓ کھڑی تھی
اس شخص نے پوری طرح زور لگایا تھا جس سے حنا تو ایکدم سے دیوار پر جاگری لیکن جنت نے بمشکل خود کو گرنے سے بچایا اور دوبارہ اسکے ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی لیکن اب یہ اتنا آسان نہیں تھا اسنے جنت کو بری طرح دھکا دیا جس سے وہ زمین پر جاگری لیکن جنت نے گرنے پر بھی اس کا بازو نہیں چھوڑا جس کی وجہ سے وہ بھی اس کے اوپر گرا جنت نے گھبرا کر آنکھیں میچ لی اس شخص نے جنجھلا کر ادھر ادھر سے سرا ٹٹولتے ہوۓ اپنے چہرے سے بلینکٹ ہٹاکر جنت کو دیکھا بہت حیرانی سے ……جنت نے آنکھیں بند کی ہوئی تھی اور چہرے سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ گھبرائی ہوئی ہے اندھیرے میں بھی وہ اتنے قریب سے اس کی پیشانی پر چمکتے پسینے کی بوندوں کو دیکھ سکتا تھا وہ بہت غور سے دیکھتے ہوے اس کے انجان چہرے کو پہچاننے کی کوشش کررہا تھا کہ آخر وہ کون تھی اور اسے کیسے جانتی تھی اور کیوں اس پر حملہ کیا تھا اسی وقت لائٹس آن ہونے سے کمرا روشنی میں نہا گیا جنت نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا ویسے وہ ڈرپوک لڑکی نہیں تھی لیکن اس وقت وہ بہت خوفزدہ تھی کیونکہ اس نے ایک قاتل سے پنگا لیا تھا اور اسے یقین تھا اب وہ سب سے پہلے اس کا قتل کرے گا اور وہ دعا کررہی تھی کہ کسی طرح اس جگہ سے غائب ہوجاۓ دروازے سے کچھ قدموں کی آواز پراس نے دیکھا تو پولس انسپیکٹر اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ اندر داخل ہوۓ تھے ساتھ انہوں نے اس کے تینوں ساتھیوں کو بھی پکڑا ہوا تھا اس کی ساری ہمت لوٹ آئی تھی جسے جمع کرکے اس نے اس شخص کو زور دار دھکا دیا وہ زمین پر گرا اور جنت اٹھ کر کھڑی ہوئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: