Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 23

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 23

–**–**–

اچھا ہوا سر آپ آگئے دیکھیے یہی ہے وہ……..
انسپیکٹر کو دیکھ کر وہ جلدی سے بولی حنا بھی آکر اس کے پیٹھ پیچھے کھڑی ہوگئی اور اس شخص کو دیکھنے لگی
سیَم……..
ہانیہ جو اب تک حیران کھڑی تھی اسکا چہرہ دیکھ مزید حیران ہوئی وہ ہانیہ کو دیکھ کر اٹھتا ہوا انسپیکٹر کے پاس آیا
سٹاپ اٹ…… یہ سب کیا ہورہا ہے آفیسر…..
وہ ہاتھ کے اشارے سے اپنی جانب بڑھتے سپاہی کو روکتے ہوۓ انسپیکٹر کو دیکھ کر بولا تو سپاہی وہی رک گیا
میں بتاتی ہوں سر… یہ آدمی زبردستی ہاسٹل میں گھسا ہے اور اس نے ہماری وارڈن کو بھی مار دیا ہے اور یہ یہاں ان تینوں میں سے کسی کو مارنے آیا تھا اس کے پاس ہتھیار بھی ہے اور یہ سب اس کے ساتھی ہے… سر آپ پلیز اسے جلدی سے اریسٹ کیجیے یہ بہت خطرناک آدمی ہے
جنت نے ایک ہی سانس میں اپنی بات کہہ دی یہ بھی نہیں سوچا سامنے جو افسر کھڑا ہے وہ انگریز ہے اس کی بات سمجھا بھی ہوگا کہ نہیں
What the hell is she saying
سیَم نے شاک ہوکر ہانیہ کو دیکھا
سر یہ جھوٹ بول رہی ہے ……..سیم اس ماۓ فرینڈ وہ مرڈرر نہیں ہے..
ہانیہ نے ناگوارا نظروں سے جنت کو دیکھا تینوں لڑکے بھی حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے
کیا …….یہ تمہارا دوست ہے….
جنت حیرانی سے ہانیہ کو کہتی اب سیم کی جانب دیکھنے لگی
شرم آنی چاہیے تمہیں تم اپنی ہی فرینڈ کو مارنا چاہتے ہو
Have you lost your mind
میں اسے کیوں مارونگا اور تم ہو کون جو کب سے بکواس کیے جارہی ہو تمہیں….
رک جاؤ اگر تم کسی کا مرڈر کرنے نہیں آۓ تو کیوں آۓ ہو یہاں اتنی رات کو
انسپیکٹر نے اسے روکتے ہوۓ اپنی زبان میں پوچھا
سر ہم لوگ ہنی کو برتھ ڈے سرپرائز دینے آۓ تھے اس کا برتھ ڈے ہے اسلیے
تین لڑکوں میں سے ایک نے انگریزی میں جواب دیا جس پر حنا اور جنت دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہانیہ بہت خوشی سے سیم. کو دیکھ کر مسکرائی
سر یہ جھوٹ ہے میں نے خود سنا تھا اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وارڈن کو راستے سے ہٹادے ایسا کیوں کہا اس نے وارڈن کہاں ہے پوچھیے نا اس سے
وہ دوبارہ سیم کو پوائینٹ کرتے بولی
میں نے یہ کہا تھا کہ وارڈن کو راستے سے ہٹادے مار دے نہیں کہا تھا
سیم نے غصے سے جواب دیا
سر ہم بس ایک فون کال سے انھیں ان کے گھر بھیج کر اندر انے کا پلین بنا رہے تھے وہ اپنے گھر سے واپس آتی ہی ہونگی آپ چاہے تو بات کرلے
دوسرا لڑکا بولا ….افسر نے اپنے ایک سپاہی سے کچھ کہا اور وہ نیچے چلا گیا جنت کو اب بھی یقین نہیں ہوا کہ وہ غلط سمجھی ہے
اور سر اس کے پاس ہتھیار بھی تو ہے وہ کہاں سے آۓ……
جنت کو ایکدم سے یاد آیا
ہنی کو برتھ ڈے گفٹ میں چاقو اور گن دینے والے تھے کیا
سیم کو دیکھ کر طنز کیا سیم نے اسے غصے سے گھورتے ہوۓ گن اور چاقو باہر نکالے
دیکھا سر میں نے کہا تھا……….
جنت نے گھبرا کر انسپیکٹر کو مخاطب کیا
شاید بہت زیادہ جاسوسی کہانیاں پڑھتی ہو تم
یہ کیک کاٹنے کا نائف………. اور یہ کینڈلس جلانے کے لیے لائیٹر……. اور یہ رہا کیک
اس نے باری باری دونوں چیزیں افسر کو دکھائی اور دروازے کی جانب اشارہ کیا جہاں زمیں پر کیک بکھرا پڑا تھا جنت کو یہ جاننے کی ضرورت نہیں تھی کی یہ ان کے زریعے کیے گۓ حملے کے وقت ہوا تھا لیکن سیم نے آنکھوں ہی انکھوں میں پھر بھی اسے بتا ہی دیا
جنت مجھے لگتا ہے ہم سے ہی غلطی ہوئی ہے
حنا نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی جس پر وہ خالی انداز میں اسے دیکھنے لگی ہانیہ نے سیم کو اپنی جانب متوجہ کرلیا تھا اور اس سے کچھ پوچھ رہی تھی جس پر وہ مختصر سا جواب دے کر بار بار غصے سے جنت کو دیکھ رہا تھا سپاہی نے واپس اکر انسپیکٹر سے بات کی جس پر وہ سر ہلاتا رہا
اوکے چھوڑ دو ان لوگوں کو
انسپیکٹر نے اس کی بات ختم ہونے پر کہا جس پر تینوں لڑکوں نے خدا کا شکر ادا کیا جنت چور سی بن گئی مطلب وہ لوگ واقعی کسی غلط ارادے سے اندر نہیں آۓ تھے اب وہ دل ہی دل میں خود کو کوس رہی تھی
تم لوگ بھلے ہی کرمنلس نہیں ہو لیکن اس طرح رولس توڑنا بھی جرم ہے پہلی غلطی ہے اسلیے چھوڑ رہا ہوں آئیندہ خیال رکھنا
انسپیکٹر نے باری باری چاروں کو دیکھتے ہوۓ وارننگ والے انداز میں کہا اور وہاں سے باہر نکل گیا
چلیں……
حنا نے جنت کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو اس نے سر ہلادیا
Hey you…….
وہ دروازے تک ہی پہنچی تھی کی. سیم کی آواز پر رک کر پلٹی
تم نے یہ اچھا نہیں کیا………….سوری بولو
وہ اس کے مقابل آکر سنجیدگی سے بولا
کس لیے……. وہ ایک غلط فہمی تھی جان بوجھ کر نہیں کیا میں نے….. اور تم نے غلطی کی ہے اس طرح ہاسٹل کا رول توڑ کر …..
جنت کو اس کی بات بلکل پسند نہیں آئی
اگر میں نے رول توڑا بھی ہے تو تم کون ہو مجھ سے سوال کرنے والی…… جسے جواب دینا ہوگا میں دے دونگا یو اسٹے اؤٹ آف دز اوکے
اب کے وہ دوبارہ غصہ میں آکر انگلی اٹھاکر بولا
سوری…..وی آر سوری…. . ہماری ہی غلطی تھی
حنا جلدی سے بول پڑی جس پر جنت نے اسے حیرت اور غصے سے گھورا
حنا….
جانے دو نا جنت کیوں بات بڑھا رہی ہو ختم کرتے ہے
حنا بیزاری سے بولی
She is very smart then you
سیم کی بات پر جنت اسے کچھ کہتی رک گئی
Thanks for the information
وہ ناگوار سی شکل.بنا کر بولی
Your welcome
وہ پوری بے شرمی سے مسکرایا حنا اسے تقریبا کھینچتی باہر لے گئی کہ بات بڑھ ناجاۓ
سوری ہنی سارا پلین سپوائل ہوگیا …….ہم تو بس تمہیں سرپرائز دینا چاہتے تھے
شعیب کاشف اور وکی اب ہانیہ کے پاس کھڑے اس سے بات کررہے تھے
اٹس اوکے گائز……. یہ سب ان بیوقوف لڑکیوں کی وجہ سے ہوا ہے تم لوگ کیوں سوری بول رہے ہو ….
اسے جنت اور حنا پر بہت غصہ ارہا تھا
سیم…….
وہ سیم کے پاس آئی جو جنت کے جانے کے بعد بھی اب تک وہیں کھڑا کچھ سوچ رہا تھا ہنی اس کے گلے سے لگ گئی تو وہ ہوش میں آیا
تھینکیو سو مچ سیم… اینڈ سوری کہ یہ سب پرابلم ہوگئی……. آۓ ایم ویری ہیپپی ….میرا سب سے بیسٹ برتھ ڈے ہے یہ تم نے جو اتنا کیا
ہنی واقعی بہت خوش تھی یہی تو پسند تھا اسے سیم کی اٹینشن اس کا ساتھ سیم نے اسکے ہاتھ گلے سے نکالتے ہوۓ اسے الگ کیا
ہیپپی برتھ ڈے
وہ مسکرا کر بولا
تھینکیو…..
ہنی نے اس کے گال پر کس کرتے ہوۓ کہا کیونکہ اسے سیم سے تو امید تھی نہیں کہ وہ ایسا کچھ کرے گا
I think we have to go now its too late
اب کے وہ تینوں دوستوں کی جانب دیکھ بولا تو ان تینوں نے بھی باری باری ہنی کو وش کیا اور سیم کے ساتھ وہاں سے نکل گۓ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: