Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 24

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 24

–**–**–

ریڈ لانگ سکرٹ اور وائٹ شرٹ پر ریڈ دوپٹہ گلے میں لپیٹ کر سامنے ڈالتے ہوۓ اس نے آئینہ میں اپنا جائزہ لیا لمبے سلکی بالوں کو نیچے سے کرل کرکے کھلے چھوڑدیے اور کان میں ریڈ کلر کے چھوٹے چھوٹے اییرنگ پہننے لگی تب ہی اس کا فون رنگ کیا
ہیلو…….
فون کان سے لگا کر مصروف سے انداز میں بولی
کیسی ہو جنت…..
کبیر…..
دوسری جانب کی آواز سنتے ہی حیرت اور خوشگواری سے بولتی بیڈ پر بیٹھ گئ
تم کیسے ہو…..
میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا نا تمہیں
اس کے سوال کے جواب میں وہ پوچھنے لگا
افکورس نوٹ……تم بھی نا..
وہ کبیر کی بات پر ہنستے ہوۓ بولی کبیر ایسے ہی ہر بات پر اس کا حد سے زیادہ خیال کرتا تھا
اور سب مینیج تو ہوگیا نا وہاں ….کوئی پرابلم تو نہیں
وہ فکرمندی سےبولا
کوئی پرابلم نہیں ہے بس سب کو مس کررہی ہوں بہت
وہ بے چارگی سے بولی
تمہیں بھی سب بہت یاد کررہے ہے
اچھا دادی کیسی ہے
ٹھیک ہے ابھی مل کر آیا ہوں تمہاری ہی بات کررہی تھی
کبیر کی بات سن کر اس کا دل تو بہت چاہ رہا تھا کہ کچھ بات کرے لیکن حنا کی تیز آواز سن کر اسے بریک لگانا پڑا
اچھا کبیر مجھے ابھی کالج جانا ہے میں تم سے بعد میں بات کروں
وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی
ہاں ہاں تم جاؤ جب وقت ملے بات کرلینا اور کوئی ضرورت پڑے تو فون کرنا میرا ایک دوست رہتا ہے وہاں اس کا نمبر بھی سینڈ کیا ہے کام اۓ گا تمہیں
اوکے اوکے ……..خدا حافظ
اس نے فون بند کردیا اور میز سے بکس اٹھا کر روم سے باہر بھاگی
کبیر……
کب سے بلا رہی ہوں میں
الیشا اسے آوازیں دیتی اب اس کے کمرے میں اکر بیزاری سے بولی
میں جنت سے بات کررہا تھا امی
وہ فون آگے کرکے بولا فائزہ کی بیزاریت خوشی میں بدل گئی
کیسی ہے وہ…
بہت اچھی ہے……
کبیر نے چہرہ دوسری جانب کرکے جواب دیا اس کے دل. میں جنت کے لیے جو جزبات تھے ان سے الیشا باخبر تھی لیکن اسے یہ ڈر بھی تھا کہ کہیں کبیر کا دل نا ٹوٹ جاۓ
آجاؤ کھانا کھالو ……
وہ اپنے خیالوں کو جھٹک کر بولی کچھ بھی تھا لیکن وہ امید نہیں چھوڑنا چاہتی تھی جنت اسے بھی تو بہت پیاری تھی
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
جنت اور حنا نے کالج میں اپنی ایک اور انڈین دوست بنا لی تھی نتاشہ….. اور ان تینوں کا زیادہ وقت ساتھ ہی گزرتا تھا وہ کیمپس پہنچی تو نتاشہ باہر ہی انہیں مل گئی پھر تینوں مل کر اندر جانے لگی لیکن اچانک ایک سپورٹس کار ٹھیک ان کے سامنے آکر رکی اس میں سیم اور ہانیہ کے ساتھ کل والے تینوں لڑکے بھی تھی حنا پریشان ہوکر جنت کو دیکھنے لگی وہ لوگ کار سے اتر کر ان تینوں کے پاس آۓ
ہیلو ……….مس جیمس بونڈ
سیم نے اپنے گلاسس ہٹاکر اسے دیکھتے ہوۓ طنز کیا
راستہ روکنے کی وجہ………..
وہ سیم کو ناگواری سے دیکھ کر بولی
ہمارے کالج کا ایک رول ہے…. ہر نیو سٹوڈنٹ کو ہمارا دیا ایک ٹاسک کمپلیٹ کرنا پڑتا ہے اور اگر ہار گۓ تو ہمارے گروپ کا ایک مہینے کا کینٹین بل اس کے نام
سیم کی بجاۓ ہانیہ نے چہکتے ہوۓ جواب دیا ایسا کوئی رول تھا نہیں لیکن ان پانچوں کو جنت سے کل رات والی بات کا بدلہ جو لینا تھا اسی لیے پریشان کرنے کی غرض سے اسے گھیرا ہوا تھا جنت نے سر سے پیر تک اس کا جائزہ لیا بنا بازؤں والی گرین گھٹنوں سے اونچی فراک اور کاندھے تک آتے بالوں میں ایک حصہ براؤن کلر کیا ہوا تھا میک اپ میں وہ کالج اسٹوڈنٹ سے زیادہ ماڈل لگ رہی تھی اس پر بات کرنے کا طریقہ جو جنت کو بہت برا لگا
میں کسی کے فالتو کے رولس فالو نہیں کرتی
جنت نے ہنی کو دیکھ کر آرام سے جواب دیا
تمہیں کرنا پڑے گا.۔……….. اگر…….
سیم نے اپنی بات کہہ کر اس کی. جانب دیکھا
اگر……… ؟
جنت نے اسکی ادھوری بات پر اسے غور سے دیکھا
اگر تمہیں اس کالج میں سکون سے رہنا ہے تو
سیم نے اسے صاف طور پر دھمکی دی جس پر جنت نے چند پل اسے دیکھا حنا نے اس کے کان کے پاس کچھ کہنا چاہا لیکن جنت نے اسے روک دیا
….. تم جو کرسکتے ہو کرلو میں تمہاری فضول شرطیں نہیں ماننے والی سمجھے
جنت نے سکون سے جواب دیا اور اس کے قریب سے ہی جو ہنی اور اس کے درمیان فاصلہ تھا آگے بڑھنے لگی لیکن سیم نے ٹانگ اڑا کر اسے زمین پر گرا دیا آس پاس کھڑے سٹوڈنٹ اس کے گرنے پر ہنس رہے تھے جنت نے زمین پر ہاتھ رکھ کر خود کو منہ کے بل گرنے سے بچالیا تھا لیکن حنا اور نتاشہ گھبرا گئی جنت نے سر اٹھا کر سیم کو غصے سے دیکھا اس کا آدھا چہرہ بالوں نے ڈھک دیا تھا
اووپس…. سوری
سیم نے معصوم شکل بنا کر کہا جیسے اس نے انجانے میں یہ کیا ہو اور مدد کے لیے اپنا ہاتھ جنت کی جانب بڑھایا جنت نے چند سیکینڈ اس کے ہاتھ کو دیکھا پھر اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر اٹھنا چاہا تو سیم نے فورا ہاتھ واپس کھینچ لیا اور مسکراتے ہوۓ گردن سہلانے لگا اس کی حرکت پر جنت کو مزید غصہ آیا وہاں کھڑے سٹوڈنٹس سب انجواے کرکے ہنس رہے تھے
نہایت ہی بدتمیز…. گرے ہوۓ…. اور بے ہودہ قسم کے انسان ہو تم
جنت اٹھ کر اسے غصے سے دیکھ کر بولی سیم کی مسکراہٹ معدوم پڑ گئی
مائینڈ یور لینگویج………..
سیم ایک قدم آگے ہوکر اسے انگلی اٹھا کر وارن کرتے ہوۓ کہنے لگا
اینی پرابلم۔……..
جنت کوئی جواب دے اس کے پہلے پروفیسر کی آواز سن کر دونوں نے اس جانب دیکھا سیم نے ہاتھ پیچھے کیا
نو سر…………
جنت نے پروفیسر کو جواب دے کر سیم کی جانب دیکھا اور وہاں سے چلی گئی اس کے پیچھے ہی حنا اور نتاشہ بھی اندر جانے لگی
لڑکی بہت تیز ہے……..
شعیب نے جنت کے جانے کے بعد سراہنے والے انداز میں کہا جس پر سیم اور ہنی نے ایک ساتھ اس کی جانب دیکھا تو وہ چپ ہوگیا سیم. نے اپنے گلاسس واپس لگا کر گاڑی کی جانب بڑھا اور ساتھ ہنی بھی اب…….
💗💗💗💗💗💗
اسے لگتا ہے میں کوئی ڈرپوک ٹائپ کی لڑکی ہوں لیکن میں نہیں ڈرتی اس سے….. اگر اس نے آئندہ میرا راستہ روکا یا کوئی بدتمیزی کی نا تو میں چھوڑنے والی نہیں اسے
ہاسٹل کیمپس سے ادھے کلو میٹر کی دوری پر تھا اور اس وقت وہ کالج سے نکلتے ہوۓ سیم. پر غصہ اتار رہی تھی
جانے دے نا جنت کیوں ان سے جھگڑا مول لے رہی ہے دفع کر……. مت الجھ اس سے …..بلکہ جو کہتا ہے کرلیتے ہے جان چھوٹے گی
حنا نے اپنی صلاح دی جس پر وہ رک گئی اور حنا کو دیکھنے لگی
اسی وجہ سے ایسے بگڑے امیر زادوں کو شہہ ملتی ہے لیکن میں ایسا نہیں کرنے والی کالج کیا اس کے باپ کا ہے کہ وہ جو چاہے وہی ہوگا میں اسے………
اس کا رخ حنا کی جانب تھا سامنے سے آتی تیز رفتار گاڑی نے سڑک پر بارش کے پانی سے بھرے گڈھے کو کراس کیا پانی اچھل کر اس کے اوپر آیا لیفٹ شولڈر سے کمر تک وہ ادھی اس گندے پانی میں بھیگ گئی تھی حنا بچ گئی کیونکہ وہ ٹھیک اس کے سامنے کھڑی تھی جنت شاک سی کھڑی سوچنے لگی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا پھر ہوش میں آکر پیچھے دیکھا وہ گاڑی سیم کی تھی سیم نے گاڑی سے جھانک کر ایک طنزیہ مسکراہٹ بھری نظر اس پر ڈالی اور آگے بڑھا جنت کو یقین تھا کہ اس نے یہ جان بوجھ کر کیا ہے وہ غصہ سے اس جانب بڑھی
جنت………
حنا نے اسے روکنا چاہا لیکن وہ اسے اگنور کرتی گیٹ کے اندر بڑھی حنا وہیں رک گئ
رکو……
سیم گاڑی پارک کرکے جانے لگا تو اس نے غصے سے آواز دی وہ رک گیا لیکن پلٹ کر دیکھا نہیں وہ آکر اس کے سامنے کھڑی ہوگئی
یہ کیا بد تمیزی ہے
کیا ہوا……… اینی پرابلم
وہ انجان بنتے ہوۓ بولا
آر یو بلائینڈ…… تمہیں دکھتا نہیں تم نے کیا کیا
ویٹ……..
جنت کی بدلتی لینگویج پر اس نے ہاتھ اٹھا کر کہا
میں نے نہیں میری کار نے ……
وہ اس کی غلطی درست کرتے ہوۓ بولا اور اسے اشارہ سے ایک منٹ رکنے کا کہہ کر گاڑی کی جانب جھکا
بے بی یہ کردیا تم نے ……سے سوری
وہ گاڑی سے اس طرح مخاطب ہوا جیسے وہ کوئی انسان ہو جنت کو اس کی دماغی حالت پہ شبہ ہوا
…اوہو
چند پل رک کر افسوس سے بولا پھر سیدھا ہوکر جنت کو دیکھا
کہہ رہی ہے کہ یہ تمہیں سوری کہے اتنی تمہاری اوقات نہیں ہے
وہ مسکرا کر بولا جس سے جنت کے اندر آگ لگ گئی
یہ میری گاڑی کا سٹینڈر ہے اب میرا تم امیجن کرلو
وہ بھویئں اٹھا کر غرور سے بولا اور اسے دیکھتا ہوا سائڈ سے نکلنے لگا جنت نے دو سیکنڈ گزرتے ہی خاموشی توڑی اور بڑھ کر اس کی گاڑی کے ٹائر سے ہوا نکالنے لگی آواز پر سیم نے پلٹ کر دیکھا اس کی فخریہ مسکراہٹ غائب ہوگئی وہ واپس آیا تب تک جنت ٹائر پنکچر کرکے سیدھی ہوکر ہاتھ جھاڑنے لگی
وہاٹ دا ہیل یو ڈڈ.دھیٹ…….
وہ غصے سے اس کی جانب بڑھا
کیا ہوا…. اینی پرابلم…
وہ اسی کے انداز میں انجان بن کر بولی
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرا ٹائر پنکچر کرنے کی
او نو….. وہ تمہارا ٹائر تھا مجھے لگا تمہاری گاڑی کا ہے
جنت ہنس کر بولی
جسٹ شٹ اپ……
اس کی ہنسی پر سیم نے جنت کا بازو سختی سے پکڑ لیا جنت نے اس کا ہاتھ زور سے جھٹک کر آزاد کیا
یو شٹ اپ…….
تمہاری گاڑی بہت بگڑی ہوئی ہے بلکل تمہاری طرح غلطی کرتی ہے اور اٹیٹیوڈ بھی دکھاتی ہے اور بگڑے چیزوں کو نا صحیح کرنا آتا ہے مجھے
جنت نے اپنی بھڑاس نکالی اور وہان سےجانے لگی لیکن پھر رک کر دو قدم پیچھے آئی
اور ہاں یہ تمہاری گاڑی کی سزا تھی اپنی تم امیجن کرلو….. اپنے سٹینڈر کے مطابق
مجھ سے الجھوگی تو بہت پچھتاؤگی تم
سیم نے دھمکی بھرے انداز میں کہا
مجھے کوئی شوق نہیں ہے تم سے الجھنے کا لیکن میرے راستے میں ٹانگ اڑاؤگے تو چھوڑونگی نہیں تمہیں جواب ضرور دونگی
جنت نے سنجیدگی سے جواب دیا
Are you challenging me
No im just warning you
جنت نے بنا ڈرے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا اور بنا رکے باہر کی جانب بڑھی ……..سیم اسے جانے تک دیکھتا رہا اب تک تین مرتبہ وہ اس کی اچھی خاصی انسلٹ کرچکی تھی اور اب وہ بدلہ لینے کا ارادہ رکھتا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: