Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 25

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 25

–**–**–

اس کالج کا شمار لندن کے مشہور کالجز میں ہوتا تھا حالانکہ جنت کا اپنوں سے دور آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن ارمان کی ضد پر اسے یہ کرنا پڑا ارمان خود اسکولرشپ کی بنیاد پر وہاں گریجویشن کرچکا تھا اور اب ایک اچھی کمپنی میں اعلی پوسٹ پر فائز تھا اور اس کی خواہش تھی کہ جنت بھی اسی کالج سے پڑھے وہ ایک اچھی بہن کی طرح ارمان کی بات کبھی نہیں ٹالتی تھی اسے لندن کے متعلق نا کوئی معلومات تھی نا کسی جگہ سے واقفیت تھوڑا بہت جو انٹرنیٹ سے پڑھا تو وہ بھی بہت ناکافی تھا.. کالج سے ہاسٹل قریب ہی تھا وہ اور حنا پیدل ہی کالج آتی تھی خاصاپوش اور ہنگامی علاقہ تھا جہاں ایشین رہائشی سب سے زیادہ تعداد میں ہوتے ہے اسلیے اسے بہت سارے اپنے ہم وطن لوگ وہاں نظر آتے تھے کالج میں بھی کافی ساری تعداد میں انڈین اور پاکستانی لڑکے لڑکیاں موجود تھے نتاشہ کی فیمیلی بھی پچھلے کچھ سالوں سے پاس ہی کے ایک علاقے ایکٹن میں رہ رہی تھی وہ وہاں کی ہر جگہ سے بخوبی واقف تھی اور اکثر انہیں نئی نئی جگہ کے متعلق بتایا کرتی تھی…. ان دونوں کو یہاں آۓ دو ہفتے ہوگیے تھے اور وہ ایک دفعہ بھی کالج اور ہاسٹل کے علاوہ کہیں نہیں گئی تھی اسلیے سنڈے کو انھوں نے نتاشہ کو نتاشہ گائیڈ بنا کر تفریح کا پلان بنایا… وہ بخوشی راضی بھی ہوگئی تھی سب سے پہلے وہ لوگ وہاں کے فیمس مال میں آۓ تاکہ کچھ دیر شاپنگ کرکے بعد میں میوزیم دیکھنے جا سکے لیکن حنا کا شاپنگ ختم کرنے کا دل ہی نہیں کررہا تھا ایک سے دوسری دوسری سے تیسری دکانیں گھومتے ہی دوپہر سے شام ہوچکی تھی جنت بیزار ہوکر بار بار چلنے کا کہتی رہی آخر تھک کر اکیلی ہی باہر اگئی کہ تم دونوں کا جب دل بھر جاۓ نیچے والے ریسٹورانٹ میں آجانا
ریسٹورانٹ میں آکر اس نے اپنے لیے صرف کافی لی اور ایک میز کی تمام کرسیوں کو خالی پاکر وہاں بیٹھنے کے ارادے سے آگے بڑھی لیکن کوئی ایکدم سے بھاگتے ہوۓ آکر اس سے ٹکرایا اور ساری کافی جنت کے سفید کورٹ پر گری اس نے سر اٹھا کردیکھا سامنے اس کا نیا نیا دشمن کسی لڑکی کے ساتھ موجود تھا
تم……. پھر سے……..
سامنےسیم کو دیکھ کر اس کے منہ سے فورا نکلا جس پر اس کے ساتھ والی لڑکی کچھ کہتے کہتے رک گئی
تم انہیں جانتے ہو سیم…….
بلکل بھی نہیں…….
سیم نے جنت کو دیکھ کر آنکھیں گھمائی جنت کا دل کیا ایک تھپڑ اسے رکھ کر دے
سوری…….ہم لوگ زرا جلدی میں تھے نا اسلیے…..رئیلی سوری…….
وہ لڑکی جنت سے معزرت کرتے بولی
پلیز ڈرامہ مت کرو…. میں جانتی ہوں تم بھی اس کے ساتھ ملی ہوئی ہو……. اور یہ اس نے اسلیے کیا تاکہ مجھے پریشان سکے…کیونکہ میں اور لڑکیوں کی طرح اس سے ڈرتی نہیں..
اس نے سیم کا غصہ اس لڑکی پر اتارنا ضروری سمجھا سیم نے پیشانی پر بل. لاکر اسے دیکھا
.زرا بھی تمیز نہیں ہے نا تمہیں……. .یو نو تم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی ہم انڈینس بدنام ہوتے ہے ….
وہ اب سیم سے مخاطب ہوئی
شٹ اپ….. اپنا لیکچر بند کرو اوکے
سیم نے بیزاری سے کہا
سیم…….
اس لڑکی نے سیم کو چپ کرانا چاہا
آپ میرے ساتھ آئیے میں اسے صاف کرنے میں آپ کی ہیلپ کرتی ہوں
وہ اپنائیت سے بولی اس کے پہلے کے جنت اسے انکار کرتی سیم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کیا
اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے … یہ لو
اس نے اپنا ریڈ جیکیٹ اتار کر جنت کی جانب پھینکاجنت نے چند پل حیران ہوکر ان دونوں کوجاتے ہوۓ دیکھا پھر جلدی سے آگے بڑھی
ایک منٹ………
اس کی آواز پر وہ دونوں رکے اور پلٹ کر دیکھا وہ دوقدم آگے بڑھ کر ان کے پاس آئی
یہ اپنے پاس ہی رکھو….. مجھے تم جیسے انسان کا کوئی احسان نہیں چاہیے………
وہ اس کا جیکیٹ اس کے ہاتھ میں دیتے ہوۓ بولی اور پلٹ گئی اس لڑکی نے حیرانی سےاسے جاتے دیکھا سیم اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر کی جانب لے گیا
💜💜💜💜💜💜💜
او ماۓ گاڈ……آر یو سیریس… . اس نے سوچا تم ہنی کا مرڈر کرنے والے ہو
سیم نے عائشہ کو اس رات والا قصہ سنایا …پہلے تو وہ حیرت زدہ ہوئی پھر ہنستی چلی گئی وہ لوگ اس بلڈنگ سے نکل کر پیدل ہی سڑک پر چل رہے تھے
اور کیا…….. پتہ نہیں اسے کس لیول سے میں کرمنل لگتا ہوں
اگنور کرو ہو جاتا ہے بلکہ دوستی کرلو اس سے
دوستی.؟……. دشمنی کے بھی قابل نہیں ہے وہ
سیم نے عاجزی سے کہا
اور جو دوست تم نے بناۓ ہوۓ ہے وہ تو دیکھنے کے بھی قابل نہیں ہے
تو تم سے کس نے کہا دیکھنے کو…. میں ہوں نا…. لیکن اسے تو میں دیکھنا بھی نہیں چاہتا
وہ. ایش کی جانب دیکھ کر بولا
تو تم کیا چاہتے ہو
ایش کو حیرت ہوئی کہ سیم جنت کو لے کر اتنا غصہ ہے
وہ مجھے کرمنل سمجھتی ہے نا تو میں اس کے سامنے کرمنل ہی بن کر رہنا چاہتا ہوں میں اس سے لڑنا چاہتا ہوں بہت بہت بہت لڑنا چاہتا ہوں
وہ اس کی جانب دیکھ کر بولا
تو شادی کرلو اس سے پھر لڑتے رہنا زندگی بھر….ویسے بھی کافی خوبصورت ہے
ایش نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا ایک پل کے لیے سیم کی نظروں میں جنت کا چہرا ابھرا اس رات جب اس نے جنت کو بہت قریب سے دیکھا تھا وہ گھبرائی ہوئی تھی اس کے چہرے پر پسینے کی بوندیں جو موتی کی طرح چمک رہی تھی اس نے فورا سر جھٹکا
ایش.. میں اپنی مام کی میڈ مس روزی سے شادی کرسکتا ہوں لیکن اس سے ہر گز نہیں
وہ جتاتے ہوۓ لہجے میں بولا روزی اس کے گھر کی افریقن ملازمہ تھی ایش چاہ کر بھی اپنی ہنسی روک نہیں پائی
اچھا بس نو مور ڈسکشن اباؤٹ ہر اب تم گھر جاؤ
سیم. نے گاڑی کی چابی اس کی جانب بڑھائی وہ لوگ وہاں آکر رکے تھے جہاں ان کی کار پارک تھی
نو وے…….. تم نے کہا تھا آج کا سارا دن میرے ساتھ اسپینڈ کروگے
ہاں تو ہوگیا نا شام ہوگئی ہے…. اب بس
سیم نے جیب سے موبائل نکال کر وقت دیکھتے ہوۓ کہا
بلکل نہیں مجھے ابھی اور شاپنگ کرنی ہے اس کے بعد ڈنر…….
آر یو میڈ….. پچھلےدو گھنٹے سے تھکا رہی ہو تم مجھے اور اب بھی تمہاری شاپنگ باقی یے…. میں بلکل نہیں آنے والا اب تمہارے ساتھ ……. باۓ
سیم نے اسکی بات کاٹ کر کہا اور چابی اس کے ہاتھ میں تھما کر خود آگے بڑھ گیا عائشہ نے کوئی بات نہیں کی بس خاموش خفا چہرہ لیے کھڑی اس کی جانب دیکھتی رہی سیم نے دس قدم پر پلٹ کر اسے دیکھا
اوکےےےےے………….
وہ ہار مان کر عاجزی سے کہتا واپس آیا اور منہ بناتے ہوۓ کار کا دروازہ کھولا ایش کھل کر مسکرائی اور دونوں ہاتھ اسکے گلے میں ڈالتے ہوۓ اسے منانے کی کوشش کرنے لگی وہاں سے گزرتے ہوۓ جنت نے اس کی اس حرکت کو بہت غور و غصے سے دیکھا
پتہ نہیں کیا ہے اس میں جو یہ بیوقوف لڑکیاں اس سے چپکی رہتی ہے پہلے وہ ہنی اور اب یہ
وہ دور سے ان دونوں کو دیکھتی بڑابڑاتی آگے بڑھ گئی
💜💜💜💜💜💜💜
پتہ نہیں ایسے لڑکوں کو کالج سے نکال کیوں نہیں دیتے………
وہ کلاس ختم ہونے کے بعد باہر گراؤنڈ میں آئی تو حنا کو کہتے سنا نتاشہ اور حنا نے کلاس آف کردی تھی جینی بھی اس وقت ان کے ساتھ تھی جو انہی کی کلاس سے تھی
کیا ہوا…..
جنت ان کے ساتھ نرم گھاس پر بیٹھتے ہوۓ پوچھنے لگی اسے لگا وہ دونوں کسی بات پر پریشان ہے
کچھ مت پوچھو جنت ویسے تو سب اس کالج کی بہت تعریف کرتے کہ یہاں لڑکیاں سیف ہے لیکن ہم نے جتنا سوچا تھا نا اس سے کئی زیادہ بگڑے ہوۓ لڑکے پڑھتے ہے یہاں……..
ہوا کیا ہے…..
حنا کسی بات پر اتنا ری ایکٹ نہیں کیا کرتی تھی اب ضرور کوئی وجہ تھی جو وہ غصے میں تھی
جینی کو ایک لڑکے نے پریشان کر رکھا ہے پہلے تو صرف اس کا راستہ روکتا تھا لیکن اب…… تم جانتی ہو اس نے جینی کو زبردستی کس کرنے کی کوشش کی …….مطلب انتہا ہوگئی بے شرمی کی……
جنت منہ کھولے جینی کی جانب دیکھنے لگی وہ واقعی ڈری ہوئی لگ رہی تھی حالانکہ وہ اردو نہیں جانتی تھی لیکن وہ اتنا سمجھتی تھی کہ اس کے ہی متعلق بات ہورہی ہے
Who is he…..
جنت نے اس ترحم نگاہوں سے دیکھا
He is vicky ………
جینی نے دھیرے سے جواب دیا
یہ تو وہی ہے نا حنا اس سیم کے ساتھ جو رہتا ہے…..
سیم نے دماغ پر زور ڈال کر حنا سے کنفرم کرنا چاہا
ہاں وہی بس دوسروں کو پریشان کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے ان لوگوں نے
جواب نتاشہ نے دیا جینی کو ٹشو سے آنکھیں صاف کرتے دیکھ کر جنت کو مزید برا لگا
ساری برائی کی جڑ وہی ہے……. کوئی ان کے خلاف کمپلینٹ کیوں نہیں کرتا یار
وہ سیم کو دل ہی دل میں برا بھلا کہنے لگی وہ جانتی تھی وہ لڑکے اسی کے کہنے پر لڑکیوں کو تنگ کرتے ہے
کمپلینٹ تو کرتے ہے لیکن سٹوڈنٹس کی کمپلینٹس سے کیا ہوتا ہے اگر کوئی پیرینٹ کمپلیٹ کرے تو شاید کوئی ایکشن لیا جاۓ……. لیکن پیرینٹس کو بتانے کا مطلب ہے اپنی کالج سے واپسی
نتاشہ نے اس کی الجھن کا جواب دیا اسے واقعی بیت برا لگا وہ جانتی تھی اس سے جینی اپ سیٹ ہی نہیں ڈر کر بھی رہے گی اور اس سے ان لڑکوں کو شہہ ملے گی لیکن وہ کر بھی کیا سکتی تھی واقعی سٹوڈنٹس کی کمپلینٹ سے کوئی خاص ایکشن نہیں لیا جاتا اور وہ خود اپنے ممی پاپا کو بتا نہیں سکتی تھی کہ وہ لوگ بھی پریشان ہوجاتے
ڈونٹ وری……. اب کسی کی کالج سے واپسی نہیں ہوگی اور ان کو وارننگ بھی ملے گی
نتاشہ اور حنا بات کرتے رک گۓ جب جنت نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اٹھ کر فیصلہ کن انداز میں کہا
کیسے
آۓ ہیو این آئیڈیا………
اس کے چہرے پر جیت کی چمک تھی حنا اور نتاشہ نے ایک دوسرے کو دیکھا
💗💗💗💗💗💗

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 2

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: