Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 26

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 26

–**–**–

لائٹ بلیو جینس اور آدھی آستین والی بلیک ٹی شرٹ میں اس وقت وہ فٹبال گراؤنڈ میں کھڑا تھا بال ماتھے پر بکھرے تھے اور فوکس گول پوائنٹ کی جانب تھاایک گہری سانس خارج کرکے اس نے اپنی بے ترتیب سانسوں کو بحال کرنے کی کوشش کی اور چار قدم دوڑکر بال کو ایک زوردار کک مارتے ہوۓ لائن کے دوسری طرف پہچاکر گول پورا کیا
سیم……..
اپنے پسینے سے بھیگے بالوں کو ہتھیلی سے رگڑتے ہوۓ خشک کرنے لگا جب پیوون وہاں آیا
پرنسپل سر نے تمہیں ابھی اپنے افس بلایا ہے
پیون نے اسے اطلاع دی جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتا اس کے پیچھے چل دیا
پرنسپل سے اجازت لے کر وہ اندر داخل ہوا پرنسپل کے ساتھ ان کے سامنے والی کرسی پر ایک سردار بیٹھا تھا گہرے نیلے سوٹ اور کالےبوٹ میں …گھنی کالی داڈھی موچھ اور سر پر نیلی پگڑی پہنے ہوۓ ….سیم کے اندر داخل ہونے پر ایک نظر اس کی جانب دیکھ کر اس نے دوبارہ نظریں پرنسپل پر مرکوز کردی تھی
سیم ان کی کمپلینٹ ہے تمہارے خلاف ……کہ تم کالج کی کچھ لڑکیوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرکے ان کو پریشان کررہے ہو…..
سیم ان کی بات پر بہت حیرانی سے اس سردار کو دیکھنے لگا مگر اس نے سیم کی جانب نہیں دیکھا
تم ایک برائٹ اسٹوڈنٹ ہو مجھے تم سے یہ امید ہر گز نہیں تھی
ان کی زبان انگریزی تھی لیکن ان کے لہجے میں افسوس تھا
بٹ سر…………
سیم نے صفائی دینے کی کوشش کی. لیکن پرنسپل نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا
میں تمہیں وارننگ دے رہا ہوں ایسی کوئی کمپلینٹ دوبارہ نہیں آنی چاہیے بھلے ہی تمہارے فادر ہمارے کالج کے ٹرسٹی ہے لیکن رولز سب کے لیے برابر ہے اس لیے میں تمہارے خلاف ایکشن لینے سے پہلے سوچونگا نہیں
پرنسپل کے لہجے میں صاف وارننگ تھی
یس سر
سر جھکا کر بس وہ اتنا ہی کہہ ہی پایا حالانکہ اس کے ذہن میں بہت سے سوال تھے مگر وہ جانتا تھا کہ منع کرنے کے باوجود بولنا مطلب پرنسپل کی نظر میں اپنی امیج اور خراب کرنا ہوگی کیونکہ وہ صرف کہہ سکتا تھا ثابت نہیں کرسکتا تھا
یو کین گو……..
پرنسپل نے اسے جانے کو کہا تو وہ خاموشی سے باہر نکل گیا اس کے جانے کے بعد سردار خوشی سے اٹھ کر کھڑا ہوا اس کے چہرے پر جیت کی چمک تھی
تھینکیو سو مچ سر
وہ پرنسپل سے ہاتھ ملاتے ہوۓ بولا
ڈونٹ وری مسٹر سنگھ آئیندہ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی آپ کو
سردار پرنسپل کے کیبن سے نکل کر باہر آیا ایک نظر اطراف میں دواڑائی اور پھر سیڑھیاں اترنے لگا
ایکسکیوز می…….
سیم کی آواز اس نے پہچان لی تھی سیڑھیاں اترتے اس کے قدم ایک پل. کو ٹہرے تھے لیکن پھر بنا پلٹے وہ آگے بڑھتا رہا سیم اس کے نا رکنے پر حیران ہوکر اس کے پیچھے چلنے لگا
ہیلوسر.. ….. میری بات سنیے
سیڑھیاں ختم ہونے پر وہ کالج کے باہری جانب جانے کی بجاۓ دائیں موڑ پر پلٹ کر جانے لگا جہاں کلاس رومس وغیرہ ہوتے ہے سیم اس کے پیچھے چلتا رہا اس سردار نے ایک نظر پلٹ کر دیکھا سیم کو دیکھ کر وہ سپیڈ بڑھاتا آگے بڑھا اور لائبریری کے دروازے سے اندر چلا گیا سیم بھی اس کے تعاقب میں اندر آیا لیکن وہ اسے کہیں نظر نہیں آیا لائبری تقریبا خالی تھی لیکن جابجا بڑے بڑے ریگس رکھے تھے سیم کو اس کے اس طرح غائب ہونے سے شک ہورہا تھا کہ کوئی گڑبڑ ہے وہ لائبریری کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر والے پورشن میں آیا لیکن وہ جگہ بھی بلکل خالی تھی وہاں سے نیچے دیکھنے پر وہ آدمی اسے ایک کونے والی بک شیلف کے پیچھے چھپا نظر آیا وہ غصے سے ہاتھ گرل پر مار کر نیچے کی جانب چل دیا
ہو دا ہیل آر یو………..
سردار کے پشت پر کھڑے ہوکر اس نے ایک دم سے اس کے کورٹ کا گریبان اپنی گرفت میں لے لیا تھا وہ گھبرا گیا اس حملے پر اور خوفزدہ ہوکر سیم کو دیکھنے لگا
جب میں نے تمہیں رکنے کے لیے کہا تم رکے کیوں نہیں
تو کیا میرا…. پیو لگدا ہے ج. ج.. جو تیرے کہنے پر رک جاواں گا …
سردار کے لہجے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اندر سے ڈرا ہوا ہے لیکن باہری ہمت کررہا ہے
شٹ اپ….. کون ہو تم……. کس نے بھیجا ہے تمہیں میرے خلاف کمپلینٹ کرنے کے لیے
سیم نے اس کے گریبان کو زوردار جھٹکا دیا
مینو تیرے تے کوئی جواب نئی دینا جا پرنسپل نو پچھ لۓ……چھڑ مینو
اب کے سردار بنا ڈرے بولا اور ایک جھٹکے سے سیم کو دھکیل کر اپنا گریبان چھڑوایا سیم پیچھے ریگ سے ٹکرایا تھا سیدھا ہوکر اسے غصے سے جاتے ہوۓ دیکھنے لگا تب اس کی نظر ریگ کے اوپری حصے میں پڑی اس کے ٹکرانے سے ریگ ہلی تھی اور اب اس کے اوپر رکھی چھوٹی ریگ نیچے گرنے کو تھی اور وہ جانتا تھا یہ ریگ سردار کے سر پر گرے گی اس نے جلدی سے دوڑ کر سردار کا ہاتھ پوری طاقت سے کھینچا اور اسے لیے سیدھا فرش پر گرا اسی وقت وہ ریگ بھی نیچے گری اور کتابیں ہر طرف بکھر گئی
سردار کی پگڑی نکل کر دور جاگری تھی اور لمبے سلکی بال سیم کے چہرے پر بکھرے پڑے تھے جنہیں وہ بہت حیران ہوتے ہوۓ ہٹارہا تھا سردار شاک کے عالم میں سیم کو دیکھ رہا تھا اور سیم کے ہاتھ اس کی کمر پر بندھے تھے جس سے اسے احساس ہوا تھا کہ یہ مرد تو ہر گز نہیں ہے اور یقین اس کی براؤن بڑی بڑی آنکھیں دیکھ کرہوگیا تھا کہ وہ کون ہے اتنے ہی قریب سے وہ اسے پہلے بھی دیکھ چکا تھا اسی اثناء میں اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کی داڑھی کھینچ لی جو فورا الگ ہوگئی تھی
جنت کی حیرت اب ڈر میں بدل گئی اسکی چوری پکڑی گئی تھی
تم………..
سیم کی آواز اتنی زور کی تھی کہ جنت کو آنکھیں میچنی پڑی اسنے اٹھنا چاہا لیکن سیم کی گرفت سخت تھی وہ حیران ہوکر دوبارہ اسے دیکھنے لگی
یہ کیا مزاق ہے…….
سیم نے غصے سے دانت پیستے ہوۓ جنت کو دیکھا جنت کا دل کیا اسے شوٹ کردے سوال بھی وہ کس حالت میں کررہا تھا کیا اسے اٹھنے تک کی فرصت نہیں تھی……
لییو می………
جنت نے خود ہی اس کے ہاتھ کھول کر اپنے آپ کو آزاد کیا اور کھڑی ہوگئی سیم نے اٹھتے ہوۓ چند پل اسے خاموشی سے دیکھا وہ اچھی طرح سمجھ گیا تھا جنت نے اسے ٹارگیٹ کرنے کے لہے یہ کیا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے خلاف اتنا بڑا ڈرامہ کرنے کی
وہ اپنے بکھرے بالوں کو سمیٹ کر جوڑا باندھنا چاہ رہی تھی سیم نے اسکے بازو کو زور سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا وہ اس سے ٹکرائی اور بال دوبارہ کھل کر اس کی کمر پر گر گۓ وہ غصے سے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
جواب دو کیوں کیا یہ سب……….
اس نے اسے مزید کھینچتے ہوۓ گرفت اور سخت کردی تھی
میرا ہاتھ چھوڑو
جنت نے اس کی آنکھوں میں غصہ دیکھا تو ڈر گئی لیکن وہ اس کے سامنے ڈر کو ظاہر ہر گز نہیں کرنا چاہتی تھی
جب تک تم میری بات کا جواب نہیں دیتی جا نہیں سکتی بولو
جنت اپنے دوسرےہاتھ سے اس کا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کررہی تھی اور وہ اسے کھاجانے والی نظروں سے گھوررہا تھا
ویسے تو تم نے میرے خلاف جھوٹی کمپلینٹ کی ہے لیکن میں چاہوں تو اس جھوٹ کو سچ بھی کرسکتا ہوں
اس نے کہا تو جنت نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اس کی چیلیج کرتی آنکھیں اب جنت کے ہونٹوں پر تھی جنھوں نے اسے اس کی بات کا مفہوم سمجھادیا
میں نے کوئی جھوٹی کمپلینٹ نہیں کی……..وکی نے جو جینی کے ساتھ بدتمیزی کی یہ اس کا جواب ہے………
جنت اس کی بات سے خوفزدہ ہوئی تھی لیکن پھر ہمت کرکے بولی سیم. کی گرفت ڈھیلی پڑی تھی اور جنت نے فورا خود کو آزاد کیا تھا
….. کیا کیا اس نے
جنت اپنے بازو کو سہلارہی تھی جب سیم نے بےچینی سے پوچھا
او پلیز …… زیادہ بھولے مت بنو میں جانتی ہوں اس سب میں تم بھی شامل ہے بلکہ یہ تم نے ہی کروایا ہے
جنت نے اس کے انجان بننے پر عاجزی سے کہا سیم کو اس کی الٹی بات پر پھر غصہ آیا
شٹ اپ……….. بتاؤ کیا کیا اس نے
اس نے……. اس نے جینی کو زبردستی کس کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اسے ڈرا سکے تمہارے کہنے پر یہی چاہتے ہو نا تم ………
چپ کیوں ہو بولو……..
جنت کی بات پر وہ کچھ سوچ رہا تھا اس کی دوسری بات پر اسے غصے سے دیکھا
…………. میں تمہیں جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا
…….جب سے میری لائف میں آئی ہو میری امیج خراب کرنے کی کوشش میں لگی ہو……. لیکن بنا سوچے سمجھے یہ حرکت کرکے تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے…… آج پہلی بار پرنسپل سر نے مجھ سے اس طرح سے بات کی…….اور یہ میرے لیے بہت بڑی بات ہے
ڈرتی نہیں نا تم…… اب تمہیں بتاؤنگا ڈر ہوتا کیا ہے….ویٹ این واچ
وہ دوبارہ اسے چیلینج کرگیا تھا اور جنت سوچ رہی تھی کیا اس نے غلط کیا ہے اور جواب ملا نہیں….
💙💙💙💙💙💙💙
چاروں کینٹین میں کسی بات پر ہنس رہے تھے جب سیم وہاں تیزی سے چلتا ہوا آیا اور وکی کی کالر پکڑ کر اسے اٹھایا اس کی کرسی گرگئی سب کی ہنسی تھم گئی وکی خود اس اچانک افتاد پر دنگ تھا
تونے جینی کےساتھ زبردستی کی
وہ دانت پیستے ہوۓ پوچھ رہا تھا اور وکی کا رنگ پھیکا پڑا تھا ہنی کاشف اور شعیب تینوں بھی حیران سے کھڑے تھے
سیم میری بات سن……
ہاں یا نا…..
سیم نے اسکی بات کاٹ کر کالر کو جھنجھوڑا
میں…..میں بس مزاق کررہا تھا
کتنی بار کہا ہے مزاق کرتے وقت اس بات کا فائزہ مت اٹھایا کر کہ وہ لڑکی ہے
اب کے اس نے دوسرے ہاتھ سے بھی کالر پکڑلی
سیم چھوڑو اسے کیا کررہے ہو تم
ہنی نے اس کے دونوں ہاتھ ہٹاۓ اور اسے پیچھے کیا
آج آخری بار کہہ رہا ہوں مزاق ہو یا دشمنی بات لڑکی کی عزت پر نہیں آنی چاہئے کتنا بھی گرجاؤ لیکن جانور مت بنو…….جاکر جینی کو سوری بول
سیم غصے سے کہتا کینٹین سے باہر نکل گیا سارے لوگ اسی جانب متوجہ تھے اور یہ بات وکی کو بہت چبھی تھی یہ پہلی دفعہ نہیں تھا جب سیم نے سب کے سامنے اسے بےعزت کیا ہو
سیم……..
ہنی اس کے پیچھے ہی بھاگی تھی
تجھے کتنی بار منع کیا ہے لیکن تو
شعیب کو بھی وکی کی حرکتیں بلکل پسند نہیں تھی وہ دوبارہ بیٹھ گیا
چل یار اگنور کر……..
کاشف نے اسے گہرے صدمے میں دیکھ کر بےنیازی سے کہا وہ وہاں سے چلا گیا سیم کے لیے اپنی نفرت کو بڑھا کر
سیم باہر گارڈن میں اکر رک گیا ہانیہ بھی اس کے پاس چلی آئی
تم نے بلکل سہی کیا سیم وہ وکی اسی لائق ہے
وہ ایک نقطے پر نظر جماۓ گہری سوچ میں تھا ہانیہ کی بات پر بے توجہی سے اسے دیکھا پھر دوبارہ رخ دوسری جانب تھا
کیا سوچ رہے ہو تم
ہنی نے اسکے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر اس پوچھا
اس لڑکی کی وجہ سے آج پرنسپل سر نے مجھے دھمکی دی کالج سے نکالنے کی…….. اس نے میرے خلاف کمپلینٹ کرکے اچھا نہیں کیا
وہ جنت کے متعلق سوچ رہا تھا جنت نے بنا سچائی جانے اس کے خلاف کمپلینٹ کی اس بات پر اسے بہت غصہ ارہا تھا پرنسپل سر اس کے فادر کی بہت عزت کرتے تھے اور سیم ان کے لیے بہت خاص تھا لیکن آج انھوں نے جیسے اس سے بات کی وہ چاہ کر بھی بھلا نہیں پارہا تھا
کون سی لڑکی…… کس کی بات کررہے ہو تم
وہ نیو ایڈمیشن…………
ہنی کی پوچھنے پر اس نے جواب دیا کیوں کہ وہ جنت کا نام نہیں لینا چاہتا تھا ہنی سمجھ گئی
مجھے اسے سبق سکھانا ہے………..بہت جتاتی ہے وہ کہ مجھ سے ڈرے گی نہیں…… میں نے اب تک تو یہ چاہا نہیں لیکن اب میں اسے ڈر کا مطلب بتانا چاہتا ہوں
ریلکس……… تم جو کرو میں تمہارے ساتھ ہوں
ہنی نے مسکرا کر جواب دیا اسے جنت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن سیم کے لیے اب وہ خود جنت کے خلاف کوئی پلان بنانے والی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: