Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 27

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 27

–**–**–

جنت……… پلیز بتانا اس کے بارے میں
جنت کتاب لیے بالکونی میں کھڑی تھی حنا نے اس سے کتاب لے لی
کس کے بارے میں
وہ انجان بن کر بولی
وہی تیرا منگیتر…….. کون ہے….. کیسا دکھتا ہے……. اور تم دونوں پہلی بار کب ملے…. مجھے جاننا ہے بتانا…….
حنا نے کئی دفعہ اس سے پوچھا لیکن وہ ٹال جاتی یا بات بدل دیتی
نہیں…….
جنت نے اس کے ہاتھ سے کتاب چھین لی
کیوں…….
حنا خفا سی شکل بناۓ بولی
کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ میرے علاوہ کوئی اس کا خیال بھی کرے
کتنی خراب ہو تم…… اگر ابھی سے ایسا ہے تو شادی کے بعد تو اسے کمرے سے باہر بھی نہیں نکلنے دو گی
حنا کی بات پر اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ غائب ہوگئی اور وہ سنجیدگی سے حنا کو دیکھنے لگی
پتہ نہیں حنا ایسا دن کبھی آئیگا بھی یا نہیں
کیا مطلب……..
حنا نے ناسمجھی سے پوچھا
ہمارے درمیان بہت فاصلے ہے حنا…. پتہ نہیں وہ کبھی ختم بھی ہوگے یا نہیں
محبت سچی ہو تو فاصلے معنی نہیں رکھتے جنت
حنا نے محسوس کیا کہ وہ بہت اداس ہوگئی تھی اسلیے سوال نا کرنا ہی اسے سہی لگا
💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙
ہاۓ جنت…………..
وہ کلاس سے باہر نکل رہی تھی کہ کوریڈور میں ہی لیزا کےپکارنے پر رک گئی اور دیکھ کر بےدلی سے مسکرائی لیزا ان کی کلاس میٹ ہی تھی لیکن آج پہلی بار اس نے جنت کو مخاطب کیا تھا جس پر اسے حیرانی ہوئی
اچھا ہوا تم یہیں مل گئی مجھے تم سے بات کرنی تھی….آج تھرٹی فرسٹ ہے نا تو میں نے ایک چھوٹی سی پارٹی رکھی ہے تمہیں اور حنا کو بھی آنا ہوگا
وہ بہت بےتکلفی سے مسکرا کر بات کررہی تھی جیسے دونوں میں بہت اچھی جان پہچان ہو
نہیں لیزا میں تو نہیں اپاؤنگی… ویسے بھی مجھے پارٹیز میں جانا پسند نہیں ہے اور یہ تو پھر دیر رات کو ہوگی…. پلیز ڈونٹ مائینڈ
جنت نے انکار کردیا وہ لیزا کو جانتی تک نہیں تھی حنا کی آج طبیعت خراب تھی اسلیے اس نے آف کرلیا تھا
کم آن جنت یو ہیو ٹو کم……. سب فرینڈس ہونگے بہت مزا آئگا………تھوڑی دیر کی ہی تو بات ہے اور میرا فلیٹ یہاں پاس میں ہی ہے
لیزا نے مزید اصرار کیا
سوری لیزا پر میرا آنا ممکن نہیں ہے…..
اوکے ایس یو وش….. اب میں زبردستی تو نہیں کرسکتی ………دراصل میرے کوئی خاص فرینڈس ہے نہیں اسلیے سوچا تمہیں بھی اپنی دوست بنا لوں لیکن…..اوکے باۓ
لیزا نے مایوس ہوکر کہا تو جنت کو بلکل اچھا نہیں لگا
لیزا………میں کوشش کرونگی………
لیزا جانے کے لیے پلٹی تو جنت نے کچھ سوچ کر ہاں کردی وہ مسکرا کر سر ہلاتی چلی گئی جنت اس کی مایوس شکل دیکھ کر ہاں تو کہہ گئی لیکن اس کا جانے کا بلکل دل نہیں کررہا تھا
وہ واشروم کے دروازے کے پاس پہنچی لیکن اس کے کھولنے سے پہلے ہی دروازہ کھول کر کوئی باہر نکلا وہ ہنی تھی جنت کو دیکھ کر برا سا منہ بناتے ہوۓ وہاں سے چلی گئی اور جنت اسے جاتےدیکھ کر سوچتی رہی کہ اخر یہ کس طرح کی لڑکی ہے جو بےوجہ ہی اسے دیکھ کر منہ بنا رہی ہے پھر بےنیازی سے کاندھے اچکا کر دروازہ کھولنا چاہا لیکن اس بار بھی اندر سے ہی کسی نے کھولا تھا اور وہ سیم تھا جو اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا باہر ارہا تھا وہ شاک سی اسے دیکھے گئی سیم نے سامنے کسی کو محسوس کرکے سر اٹھا کر دیکھا اور جنت کو پاکر انکھیں گھماتے ہوۓ جانے لگا اور وہ اسے بھی حیرت سے جاتے دیکھ رہی تھی کہ وہ لیڑیز واشروم میں کیا کررہا تھا پہلے ہنی کا باہر آنا اور پھر اس کا …….اس کی شرٹ کے کھلے بٹن……. ماتھے پر بکھرے بال…… سب سوچ کر اس نے جھرجھری سی لی…….
چھی…….. میں نے جتنا سوچا تھا اس سے بھی کئی زیادہ گھٹیا انسان ہے یہ……بےشرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے
💜💜💜💜💜💜💜💜
کالج میں ایک ایسا ڈپارمینٹ تھا جو خاص سٹوڈنٹس کی ہیلپ کے لیے تھا وہ ہاسٹل جانے کی بجاۓ سیدھے وہاں آئی تھی کیونکہ اسے سیم کے خلاف کمپلینٹ کرنی تھی جو بےشرمی وہ کالج میں کررہا تھا اس کے بعد جنت نے طے کیا کہ وہ اس کے گھر اس کے پیرینٹس کو کمپلینٹ کرے گی اور اس کےلیے وہ ایڈریس پتہ کرنے وہاں آئی تھی
ایکسکیوز می…….
تین ڈیکس مین سے ایک پر جہاں ایک انڈین ادمی جو کمپیوٹر میں مصروف تھا جنت نے اسے مخاطب کیا
یس……..
وہ مصروفیت سے بولا
مجھے ایک سٹوڈنٹ کا ایڈریس چاہئے
سوری میڈم کسی سٹوڈنٹ کی پرسنل انفارمیشن دینا الاؤڈ نہیں ہے
وہ بےنیازی سے کہتا دوباری کام میں لگ گیا جنت نے پہکے اسے حیرانی اور غصے سے دیکھا
کیا مطلب الاؤڈ نہیں ہے .. تو پھر میں اس کے پیرینٹس کو کمپلینٹ کیسے کرونگی ……کیسے انہیں اس کی کرتوتیں بتاؤنگی کہ وہ یہاں کیا گل کھلا رہا ہے….یا پھر آپ چاہتے ہے کہ وہ جو کررہا ہے میں اسے کرنے دو چاہے اس سے کسی کا ذہن خراب ہو یا کالج کا ماحول خراب ہو….آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی ہمیں ایسے بدمعاشوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے…… کیونکہ آپ لوگ ہمیں ان کے خلاف آواز نہیں اٹھانے دیتے ایک ایڈریس ہی تو مانگا ہے اور کونسا میں اس کے گھر جاکر چوری کرلونگی چھوٹا سا لیٹر ہی تو پوسٹ کرونگی لیکن نہیں شرافت کا تو زمانہ ہی نہیں ہے ابھی اگر کوئی رئیس گنڈے بدمعاش نے مانگا ہوتا تو اسے فورا دےدیتے کیونکہ سارے رولس تو آپ لوگوں نے ہم سے ہی پورے کرنے ہے نا
وہ جو بھری پڑی تھی سیم کا غصہ اس افیسر پر نکال کر ہی سانس لی باقی کے دونوں بھی کام چھوڑ کر اس کی جانب متوجہ ہوکر اسے دیکھ رہے تھے اور وہ آدمی شرمندہوکر رہ گیا تھا
میم آپ کو کس کا ایڈریس چاہیے میں دے دیتا ہوں پورا نام بتایے
وہ شخص اسے دوبارہ بولنے کی تیاری میں دیکھ کر جلدی سے بولا
اس کا پورا نام مجھے نہیں پتہ سب سیم ہی بلاتے ہے اسے
آپ سیم کے گھر کمپلینٹ کرنا چاہتی ہے…
شاید وہ سیم کو جانتا تھا اسلیے اس کے نام پر حیرانی سے پوچھا
جی ہاں کوئی اعتراض ہے آپ کو
اس نے آنکھیں بڑی کرکے غصے سے کہا
نونو نو…….. ایک منٹ
وہ ہڑبڑا کر بولا اور کمپیوٹر میں کچھ ٹائپ کرنے لگا چند منٹ بعد پرنٹر سے ایک پرچی نکال کر اس کی جانب بڑھائی
تھینکیو
پرچی لیکر اس نے احسان جتاتے ہوۓ تھینکس کہا اور باہر اگئی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: