Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 28

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 28

–**–**–

دل بہت اداس تھا اور وہ اداسی چہرے پر نظر آرہی تھی لیزا کے دوبارہ فون کرنے پر وہ جانے کے لیے بےدلی سے تیار ہوئی تھی لیزا نے اسے بتایا کہ پارٹی کا تھیم وائٹ اور بلیو ہے اسلیے اس نے وائٹ جینس پر بلیو خوبصورت سا ٹاپ پہنا تھا سادہ سا میک اپ اور کانوں میں نیلے رنگ کے ٹاپس پہنے وہ حنا کے ساتھ وہاں پہنچی تھی سفید گاؤن جس میں نیلے رنگ کا خوبصورت کام تھا حنا پر بہت اچھا لگ رہا تھا ہاسٹل سے تھوڑی دیر میں ہی وہ اس ایڈریس پر پہنچ گئی تھی رات کے گیارہ بج رہے تھے اور ہر طرف نیو اییر کی رونق تھی لندن والوں کے لیے آخر یہ بہت خاص دن ہوتا ہے ہر مکان و دکان میں سجاوٹ اورشور تھا لیزا کا فلیٹ بیسویں فلور پر تھا اندر داخل ہونے پر وہ عام سا فلیٹ نہیں بلکہ کسی بنگلہ جیسا لگتا تھا لفٹ سے اندر قدم رکھتے ہی بڑا سا ہال اور دو طرف سے اوپر جانے کے لیے گول سیڑھیاں ہال کو سفید اور نیلے رنگ کے غباروں سے سجایا گیا تھا کالج کے بہت سارے لڑکے لڑکیاں نیلے اور سفید رنگوں میں پارٹی انجواۓ کررہے تھے دھیما سا میوزک چل رہا تھا جس پر ڈانس کرنے والے کپلس ایک طرف ڈانس کررہے تھے اور کچھ گروپس میں کھڑے شراب اور سنیکس کے ساتھ گپے لگا رہے تھے شراب اور سگریٹ کی ملی جلی اسمیل صاف محسوس ہورہی تھی
تھینکیو سو مچ فور کمنگ…. جنت…حنا…..
وہ دونوں وہی کھڑی اس جگہ کا جائزہ لے رہی تھی لیزا ان کے پاس اکر خوشدلی سے گلے ملی اور دونوں کو اپنے ساتھ اندر لے گئی اس کے بات کرنے کے انداز سے ہی محسوس ہورہا تھا کہ اس نے ڈرنک کی ہوئی ہے
حنا….. مجھے لگتا ہے ہمیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا
لیزا کے جاتے ہی جنت نے دھیرے سے کہا کیونکہ یہاں کا ماحول اسے بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا لڑکیاں چھوٹے چھوٹے کپڑوں میں جس بےباکی سے لڑکوں کے ساتھ ڈانس کررہی تھی سب اس کے لیے بہت عجیب و نیا تھا اس پر شراب اور سگریٹ کی مہک سے اس کا دماغ چکر کھانے لگا تھا
کوئی بات نہیں جنت اب آ ہی گئے ہے تو کچھ دیر انجواۓ کرلیتے ہے
حنا نے اسکی بات سمجھ کر کہا وہ دونوں ایک طرف کھڑی تھی حنا کو اشارے سے کسی لڑکی نے اپنے پاس آنے کا کہا تو وہ میں ابھی آئی کہہ کر اس کی جانب چلی گئی جنت کو اسے روکنے کا موقع تک نہیں ملا اور وہ بےبسی سے دیکھتی رہ گئی ایک لڑکے کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ اس کا دھیان حنا سے ہٹ گیا اور سوچنے لگی کہ کیسے وہاں سے نکلے
ہیلو ……
اسے کچھ سوچنے کا موقع ملے اس کے پہلے وہ اس کے سامنے تھا
کین آۓ ڈانس ود یو
ہاتھ بڑھا کا اپنے ساتھ ڈانس کرنے کی فرمائش کررہا تھا اور جنت لب بھینچے نروس سی کھڑی تھی
نو…..
وہ انکار کرنے کو لب کھولنے ہی لگی تھی کہ اس کے پہلے قریب سے آواز آئی اور سیم آکر اس کے ساتھ کھڑا تھا سفید شرٹ اور سکاۓ بلیو جینس میں ہمیشہ کی طرح مغرور سے انداز میں اسے دیکھتے ہوۓ
آۓ ایم ناٹ آسکنگ ٹو یو……
وہ لڑکا ناگواری سے کہہ کر جنت کا ہاتھ خود پکڑنے کا ارادہ رکھتا تھا
آۓ سیڈ نو…….
اب کی بار اس کی آواز میں سختی تھی جس سے اس لڑکے کا ہاتھ خودبخود پیچھے ہوگیا سیم کی آنکھوں میں سنجیدگی دیکھ کر وہ وہاں سے ہٹ گیا جنت بے تاثر سیم کی جانب دیکھ رہی تھی جیسے وہ وہاں تھی ہی نہیں اس کی صرف نظریں ہی وہاں تھی اور سوچ کہیں بہت دور
آخر میری ہوسٹ کی ریپوٹیشن کا سوال ہے کیا پتہ ان کے اندر کی مس جیمس بانڈ باہر آکر یہاں جاسوسی شروع کردے یا پھر یہ ایکٹر بن کر خود کو ایلیزابیتھ بتانے لگ جاۓ ……رسک نہیں لے سکتے نا
وہ سامنے نظریں جماۓ جنت پر طنز کررہا تھا اور اخری جملہ اس کی جانب دیکھ کر کہا لیکن نا جنت نے غصہ کیا نا کوئی جواب دیا بس اسی طرح کھڑی رہی خالی نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ وہ اس کی خاموشی پر طنزیہ مسکراتا وہاں سے چلا گیا لیکن جاتے ہوۓ بھی جنت کی نطریں اسی پر تھی وہ جاکر سامنے بڑے سے صوفے پر بیٹھ گیا جہاں اس کے ساتھی پہلے سے موجود تھے کاشف نے اس کے ہاتھ میں ایک گلاس تھمایا جسے اس نے چئیرس کرتے ہوۓ لبوں سے لگالیا ان کے ساتھ باتیں کرتا ہوا کبھی کبھی آس پاس نظریں گھمالیتا تھا ہانیہ اس کے پاس آئی اور اسے ڈانس فلور پر چلنے کا کہا لیکن وہ اسے ایک منٹ رکنے کا اشارہ کرتا کاشف کی کسی بات پر غور کررہا تھا ہانیہ نے خود اس کے ہاتھ سے گلاس لے کر ٹیبل پر رکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتی اسے ڈانس فلور کی جانب لے گئی
ہانیہ نے بنا آستین والا ڈارک بلیو رنگ کا ٹائٹ سا شارٹ ڈریس پہنا ہوا تھا جو اس کے گھٹنوں سے کچھ اوپر تھا اور پیچھے گردن سے بہت نیچے تک کھلا تھا کمر پر سفید رنگ کا نگوں والا قیمتی بیلٹ لگا تھا اور سفید ہی باریک سی سینڈل ………… بہت بے باکی سے اس نے خود سیم کے دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھے اور اپنے ہاتھ اس کے شانے پر رکھتے ہوۓ اس کے قریب ہوکر ڈانس کرنا شروع کیا
سیم نے مسکراکر اسے دیکھتے ہوۓ اس کا ساتھ دیا یہاں تک جنت نے اسے دیکھا لیکن پھر اچانک وہ منظر دھندلا ہوگیا اور اسے آنکھیں بند کرنی پڑی اسنے دوسری جانب چہرہ کرکے جلدی سے آنکھوں کے کنارے انگھوٹے سے رگڑتے ہوۓ اپنے کاجل کو پھیلنے سے روکا
کیا ہوا جنت…
لیزا کی نشے سے لڑکھڑاتی آواز پر وہ جلدی سے نارمل ہوتی پلٹی
…ایسے اکیلی کیوں کھڑی ہو چلو نا……کم آن
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لےجاتی لیکن جنت نے اسے روکا
ل… لیزا….. میری بات سنو…. میں یہی ٹھیک ہوں…..
کیسی باتیں کررہی ہو…… پارٹی میں کوئی ایسے چپ کھڑے رہتا ہے کیا…. چلو……
نشے میں بات کرتی لیزا کوئی ذہنی مریض لگ رہی تھی
لیزا……. پلیز…… میرے سرمیں درد ہے میں وہاں نہیں آنا چاہتی
اس نے لیزا کو روکتے ہوۓ کہا
اوہو….. پہلے کیوں نہیں بتایا……. چلو اوپر روم میں کچھ دیر آرام کرلو
لیزا نے اسی طرح ہاتھ تھامے اب اوپر جانے کی لگادی
نہیں…. اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے…. میں ٹھیک ہوں
وہ اس ہوش سے بےگانہ لڑکی سے کیسے نپٹے اس کی سمجھ سے باہر تھا
کبھی کہتی ہو سردرد ہے کبھی کہتی ہو ٹھیک ہو…..میں جانتی ہوں تم مجھے اپنی دوست نہیں سمجھتی نا
اب وہ رونی شکل بناۓ کہہ رہی تھی
ایسی بات نہیں ہے لیزا….
جنت نے جھنجھلا کر کہا
تو چلو…… میرے کمرے میں کچھ دیر آرام کرلو…چلو
وہ ضد پر اڑی تھی جنت نے سوچا یہاں کھڑے رہ کر تماشہ بننے سے بہتر چلی ہی جاۓ دوبارہ ڈانس فلور کی جانب دیکھا جہاں وہ دونوں اسی طرح ڈانس کرتے ایک دوسرے سے باتیں بھی کررہے تھے کچھ دوری پر حنا ایک لڑکی کے ساتھ کھڑی تھی جو اسے موبائل میں کچھ دکھارہی تھی
میں حنا کو بتادیتی ہوں
حنا کو دیکھتے ہی اسے خیال آیا
اسے میں بتادوں گی تم چلو نا…..
لیزا نے ایک بار پھر ہاتھ کھینچا اور اب کے وہ اس کے ساتھ گول سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اگئ لیزا نے اسے ایک کمرے میں آرام کرنے کا کہا اور خود باہر واپس چلی آئی اس نے اس بڑے سے کمرے میں موجود چئیر پر بیٹھ کر آنکھیں بند کرلی
💜💜💜💜💜💜💜
ہانیہ نے کمینی مسکراہٹ کے ساتھ جنت کو سیڑھیاں چڑھتے ہوۓ دیکھا
آج میں تمہیں ایک بہت ہی اسپیشل گفٹ دینے والی ہوں
رئیلی…. اور وہ کیا
سیم نے حیران ہوتے ہوۓ پوچھا
تم اس لڑکی سے اپنی انسلٹ کا بدلہ لینا چاہتے تھے نا ….ایسا سمجھ لو آج تمہاری وش پوری ہوگئی
اس کے چہرے پر جو ایکسپریشن تھے وہ دیکھ سیم کے ماتھے پر شکن پڑی
مطلب…
آج میں نے انتظام کردیا ہے اسے سبق سکھانے کا…. اس کی اکڑ ٹھکانے لگانے کا…..
وہ بہت ناز سے اس کے گلے میں ہاتھ ڈال چکی تھی اور ایک یہی چیز سیم کو بلکل پسند نہیں تھی اس نے فورا اس کے ہاتھ ہٹاکر اپنے ہاتھ میں لیے
لیکن تم کرنے کیا والی ہو
وہ اب سنجیدگی سے اس سے پوچھ رہا تھا
جسٹ ویٹ اینڈ واچ…..
وہ اسٹائل سے مسکرا کر بولی وہ دونوں واپس اسی جگہ آکر بیٹھ گۓ اور سیم یہی سوچ رہا تھا کہ ہنی کیا کرنے والی ہے اس نے جنت کو سزا تو دینی تھی لیکن ہنی نے اس سے بنا پوچھے پتہ نہیں کیا سوچ رکھا تھا اس کا تجس بڑھتا جارہا تھا وہ اسی سوچ میں گم تھا کہ کاشف نے اس کی جانب گلاس بڑھایا
سال کی آخری رات ہے ایک ڈرنک تو بنتی ہے
کاشف نے شراب کا گلاس اسکی جانب بڑھاتے ہوۓ کہا
تم جانتے ہو میں ڈرنک نہیں کرتا
اس نے گلاس پیچھے کیا
بلکل جانتے ہے….یو آر دا جینیس…جو لنڈن میں ہوکر بھی ڈرنک نہیں کرتا….. یار اب تو انڈیا میں بھی یہ بہت عام بات ہے کوئی برا نہیں سمجھتا اسے
وکی نے اپنا گلاس ختم کرکے اس پر طنز کیا
بات برے اور اچھے کی نہیں ہے…… میں نے اپنی مام سے پرامس کیا ہے….. میں بات بات پر پرامس نہیں کرتا لیکن جب کرتا ہوں تو پیچھے نہیں ہٹتا…….اور مام کا پرامس تو میں کسی کے لیے بھی نہیں توڑسکتا
ویسے بھی آج تمہارا ہوش میں ہونا زیادہ ضروری ہے تاکہ یہاں جو ہونے والا ہے اسے انجواۓ کرسکو
ہنی کی بات پر اس کی سوچوں کا رخ ایک بار پھر اس جانب چلا گیا
کیا ہونے والا ہے
شعیب نے پوچھا تو ہنی نے بجاۓ جواب دینے کے وکی کی جانب دیکھ کر مسکرانے لگی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: