Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 29

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 29

–**–**–

جنت کتنے ہی لمحے آنکھیں موندے کرسی پر بےجان سی پڑی رہی صبح سے ہی اس کی طبیعت بوجھل تھی دل پر بوجھ سا محسوس ہورہا تھا وہ بہت رونا چاہتی تھی تاکہ وہ بوجھ کم ہوسکے
جنت……..
کسی نے اسے پکارا تو اس نے فورا آنکھیں کھول دی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا دروازہ بھی بند تھا اس نے وہم سمجھ کر اگنور کردیا چند لمحے ہی گزرے ہونگے کہ اچانک سے کمرے کی لائٹ بند چالو ہونے لگی جس سے اس کی آنکھیں ایفیکٹ کررہی تھی وہ پریشان سی سوئچ بورڈ ڈھونڈنے لگی لیکن اسے نہیں مل رہا تھا اور لائٹ اسی طرح ایک سیکینڈ کی رفتار سے بند چالو ہورہی تھی اس نے اس مصیبت سے نکلنے میں ہی بھلائی جانی اور باہر نکلنے کے دروازہ کھولنے لگی لیکن دروازہ تو باہر سے بند تھا اس نے دو تین دفعہ ہینڈل گھمایا لیکن فضول
یہ دروازہ باہر سے کس نے بند کردیا ……ہیلو کوئی ہے……
اس نے دروازہ بجا کر پکارا کہ شاید کوئی سن لے ایکدم سے لائٹ پوری بند ہوگئی اور کمرے میں اندھیرا ہوگیا اس نے جلدی سے جیب سے موبائل نکالا اور ٹارچ آن کیا
اوپن دا ڈور پلیز……
وہ دوبارہ دروازہ پیٹنے لگی
جنت……….
اسے پھر سے کسی نے پکارا سرگوشی میں اور اس بار وہ بہت بری طرح ڈری اس نے ٹارچ آگے کرتے ہوۓ پلٹ کر دیکھنا چاہا پلٹتے ہی اس کے منہ سے بھیانک چینخ نکلی سامنے کوئی جلا ہوا زخمی بھیانک چہرہ تھا سرخ آنکھیں اسے گھور رہی تھی چینخ کے ساتھ ہی موبائل چھوٹ کر زمین پر گرگیا لیکن اس کے ٹارچ سے روشنی اب بھی آرہی تھی اور وہ سایہ اسی طرح کھڑا تھا اس سے ایک ہاتھ کے فاصلے پر اس نے پلٹ کر دوبارہ دروازہ پیٹنا شروع کردیا اس بار بہت شدت سے خوف سے اس کا بدن پسینہ پسینہ ہوچکا تھا بال چہرے پر چپک گۓ تھے اور اس نے دوبارہ پلٹ کر دیکھا تو وہ سایہ غائب تھا وہاں کوئی نہیں تھا ٹارچ کی ناکافی سی روشنی میں اس نے کمرے کا جائزہ لیا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا وہ دروازہ ٹک کر بے بسی سے رودی
💜💜💜💜💜
سیم فون پر بات ختم کرکے واپس اندر آیا تو سارے لوگ بھیڑ کی شکل میں ایک جانب کھڑے تھے وہ سوالیہ ذہن سے آگے بڑھا تو دیکھا دیوار پر بڑی سی ایل ای ڈی لگی ہے اور سب کی نظریں اسی پر ٹکی ہے ہنی کاشف شعیب وکی سب سے آگے کھڑے ہے پیچھے سے اسے سمجھ نہیں آیا کہ ایل ای ڈی پر کیا چل رہا ہے وہ بھیڑ سے راستہ بناتا آگے بڑھا تب اس نے دیکھا ایل ای ڈی پر ایک ویڈیو چل رہی ہے جس میں جنت دروازے سےسرٹکاۓ رورہی تھی کمرے میں بہت اندھیرا تھا ہلکی سی روشنی ہی تھی لیکن وہ بااسانی اسے پہچان گیا تھا لیکن وہ سب کیا تھا وہ سمجھ نہیں پارہا تھا
جنت کو وہاں سے نکلنا تھا اس نے اپنا چہرہ صاف کیا اور اللہ کا نام لے کر اپنے آپ کو ہمت دی اسے باہر نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ نکالنا تھا کمرے کے اخر میں ایک بڑی سی کھڑکی تھی جس پر بھاری پردہ لگا تھا شاید وہ وہاں سے باہر نکل سکتی تھی لیکن چند قدم چل کر وہاں تک پہنچنے میں بھی اسے ڈر لگ رہا تھا لیکن کرنا تو تھاہی….. وہ اپنی بے ترتیب سانسوں کو ہموار کرتی دھیرے دھیرے قدم اٹھانے لگی اپنے قدموں کی دھیمی سی آواز بھی اسے خوفزدہ کررہی تھی ایک ہاتھ سے ٹاپ کا گلا اس نے مضبوطی سے جکڑ رکھاتھا وہ کھڑکی تک پہنچ گئی بنا کسی خطرے کے ایک نظر پھر کمرے پر ڈالی اور کوئی خطرہ نا پاکر سکون کا سانس لیا
یہ کیا ہے ہنی
وہ ہنی سےدھیرے سےپوچھنے لگا
تمہارا سرپرائز گفٹ
ہنی نے فخر سے مسکرا کر کہا سیم اسے کچھ بھی کہے اس کے پہلے جنت کی زوردار چینخ پر اس نے سکرین کی جانب دیکھا
جنت نے جیسے ہی پردہ ہٹایا تھا وہی جلا ہوا بھیانک سایہ اس کے سامنے تھا وہ ایک نہیں بار بار چینخی اسے دیکھ کر جیسے ہی بھاگنے لگی اس ساۓ نے اس کاہاتھ سختی سے پکڑ لیا اس کی رونے میں اور شدت اگئی
بچاؤ……. پلیزہیلپ می…………..
وہ پوری قوت سے چلا کر اپنا ہاتھ اس جلے ہوۓ ہاتھ سے چھڑانے کی کوشش کررہی تھی سیم بجلی کی تیزی سے اوپر کمرے کی جانب بھاگا سب اسے حیرانی سے دیکھنے لگے اسنے ہڑبڑاہٹ میں یہ بھی نہیں پتہ کیا کہ وہ کس کمرے میں ہے لیکن یہ سمجھ گیا کہ وہ اوپر ہی ہے
جنت نے کھڑکی کے ٹھیک ساتھ رکھا واس اٹھا کر اس جلے ہوۓ ہاتھ پر مارا اور اس کا ہاتھ آزاد ہوگیا وہ واپس دروازے کی جانب بھاگی اور بند دروازے کو دونوں ہاتھوں سے زور سے بجانے لگی مڑکر پیچھے دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا وہ سایہ پھر غائب ہوگیا تھا تبھی دروزاہ کھلا سیم کو باہر کھڑے دیکھ کر وہ گرنے والے انداز میں اس کے سینے سے لگ گئی
وہ اب بھی بہت خوفزدہ تھی اور سختی سے آنکھیں بند کیے اس کے سینے سے لگی جیسے چھپ جانا چاہتی تھی سیم اس کشمش میں کہ اسے کیسے سنبھالے کیسے دلاسہ دے خاموش بت کی طرح کھڑا رہا وہ اپنا ہاتھ اسکے شولڈر پر رکھنے ہی والا تھا کہ تالی بجنے کی آواز نے اسے حیران کیا
اس نے سر گھما کر نیچے دیکھا ہنی تالیاں بجاتی سیڑھیاں چڑھ کر ان کے پاس آئی جنت نے بھی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جب ہوش بحال ہوۓ تو وہ سیم سے جلدی سے الگ ہوئی اور شرمندہ سی ہوکر اسے دیکھا
Ladies and gentlemen please give a big round of applause for the bravest lady of the world miss jannat
وہ ہال میں موجود سب سے مخاطب تھی اور جنت اسے حیران نظروں سے دیکھ رہی تھی
بار بار سیم کو چیلینج کرتی رہتی تھی اسے لگتا تھا یہ کوئی توپ ہے ہم اس سے ہار مان لے گے یہ جو چاہے کرے گی اور ہم چپ رہے گے
یہ تم سے یہی کہتی تھی نا سیم کہ میں نہیں ڈرتی نہیں ڈرتی…… آۓ ایم شیور آج اسے احساس ہوگیا ہوگا ڈر کسے کہتے ہے…… اور سیم سے الجھنے کا انجام کیا ہوتا ہے
جنت بہت غور سے اسے سن رہی تھی اور سمجھنے کی کوشش کررہی تھی
ڈرتی نہیں نا تم …..اب تمہیں بتاؤنگا ڈر کیا ہوتا ہے……ویٹ این واچ
سیم کے اس دن لائبریری میں کہے گئے الفاظ اس کی سماعت میں گونجے بس ایک پل لگا اسے یہ سمجھنے میں کہ یہ سب کس نے اور کیوں کیا ہے
وہ خاموش ہنی کو دیکھ رہا تھا لیکن جنت کی نظریں محسوس ہوئی تو اس کی جانب دیکھا بااسانی دیکھ سکتا تھا اس کی آنکھوں میں اپنے لیے شکایت غصہ بے یقینی اور جانے کیا کیا اس کا بکھرا بکھرا سا چہرہ سرخ آنکھیں اسے بے چین کررہی تھی شاید اسلیے کیونکہ اس کی حالت کی وجہ وہ خود تھا
اب تو سمجھ ہی گئی ہوگی تم کہ سیم کیا کرسکتا ہے اور کیا نہیں آج بہت ہی اچھے سے ڈر کے معنی جان گئی ہونگی…. ہے نا
ہنی کے ہر لفظ پر اسے سیم سے نفرت ہورہی تھی سیم نے اس سے بدلہ لینے کے لیے اتنا بڑا تماشہ بنا دیا تھا اس کا …..اس کمرے میں گزرے اس کے زندگی کے وہ سب سے خوفناک لمحے تھے جب وہ موت کا سامنہ کرکے آئی تھی وہ بھی سیم کی بدولت….. وہ سن ہنی کی باتیں رہی تھی سوچوں میں اپنے صبح سے چلنے والے خدشات اور نظریں سیم کے چہرے پر
آۓ………..
سیم ہنی کی خاموش ہونے پر اسے کچھ کہنے والا تھا لیکن جنت نے بے اختیار اس پر ہاتھ اٹھادیا اس تھپڑ کی آواز سب نے سنی تھی اور گہرا سناٹا پھیل گیا تھا ہنی بھی حیرت اور غصے کی کیفیت سے جنت کو دیکھ رہی تھی جب کے اس کے رکے ہوۓ آنسو پھر سے بہنے لگے تھے اور وہ پھوٹ پھوٹ کرروتی ہوئی نیچے کی جانب بھاگی تھی سب کو حیران کرنے والی جو بات تھی وہ یہ کہ اس کے تھپڑ مارنے کے باوجود سیم کے چہرے پربلکل غصہ نہیں تھا وہ جو کسی کی اونچی آواز سننے کا عادی نہیں تھا ایک لڑکی کے تھپڑ مارنے پر اسے جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا وہ جو ہر بات کا جواب دینا پسند کرتا تھا اس وقت اس قدر خاموش تھا
ہاؤ ڈییر شی……..
لیکن ہنی کو فرق پڑا تھا تبھی سیم کو خاموش دیکھ وہ خود بڑبڑاتی اس کی جانب ہمدردی جتانے بڑھی تھی لیکن وہ اسے اگنور کرتے ہوۓ تیزی سے سیڑھیاں اترتا جنت کے پیچھے بھاگا تھا ہنی کو حیران پریشان چھوڑ کر
وہ بلڈنگ پورچ کے ستون سے ٹیک لگاۓ چہرہ ہاتھوں سے چھپاۓ اب بھی رو رہی تھی اپنے پاس کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو آنکھیں کھولی اور سر گھما کر پیچھے دیکھا
اب کیوں آۓ ہو تم
سیم کو دیکھ کر اس کے رونے میں اضافہ ہوا
بدلہ لینا چاہتے تھے ….لے لیا نا…..سب کے سامنے میرا تماشہ بنادیا.تم نے… ..اب خوش ہو یا کوئی کسر باقی رہ گئی
ارے ہاں میں نے ابھی اندر تھپڑ مارا تھا اس کا بدلہ لینے آۓ ہو شاید …تو لو مار لو مجھے…..
وہ اس کے مقابل آکر بولی اور آنکھیں بند کرکے چہرہ اس کے سامنے کردیا جتنی ڈھٹائی سے وہ مارنے کی آفر کررہی تھی اتنی ہی اندر سے ڈر رہی تھی اور سیم کو یہ اس کے ہونٹ کانٹنے سے صاف پتہ چل رہا تھا وہ اسے دیکھتا رہا جنت نے آنکھیں کھول دی اس کے اس طرح دیکھنے سے جنت کے دل میں بہت درد ہوا
تمہارے لیے اپنے ایگو سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے نا…… تمہارے اندر دل بھی ہے یا نہیں……..مجھ سے بدلہ لینے کے لیے سرے عام میرا تماشہ بنا دیا تم نے……..میں تمہیں دوبارہ دیکھنا بھی نہیں چاہتی…..چلے جاؤ یہاں سے…….
بہت گلے تھے کرنے کے لیے وہ خود کو روکے ہوۓ تھی اور سیم کے پاس الفاظ ہی نہیں تھے اسے کوئی جواب دینے کے لیے وہ اسے جواب دینا ہی نہیں چاہتا تھا اور تسلی دے نہیں سکتا تھا بلکہ وہ خود اس کشمکش میں تھا کہ اسے یہ رونا برا کیوں لگا اس کی شکایتیں جائز کیوں لگی اس کے پیچھے کیوں آیا وہ…….
چل……..
حنا وہاں آئی اور سیم کو نفرت بھری نظر سے دیکھ کر جنت کو اپنے ساتھ باہر لے گئی ہنی کے پلان کے مطابق ایک لڑکی کسی بہانے سے اسے باہر لے گئی تھی اس لیے وہ اس ساری صورت حال سے بے خبر تھی لیزا نے خود اسے فون کرکے بتایا تو وہ جلدی سےجنت کے پاس آئی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: