Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 3

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 3

–**–**–

زوبی یہ کہاں لے آئ مجھے
گاڑی ایک عالیشان بلڑنگ کے اگے رکی
گاڑی سے اتر کر اس نے اطراف کا جائزہ لیا
عیشا کاشف یہی کام کرتے ہیں
زوبی نے مصنوعی شرماتے ہوے کہا
کون کاشف
یا اللہ یہ لڑکی———عیشا کاشف جن سے میری منگنی ہوئ ہے اور شادی ہونے والی ہے
اوہ ہاں کاشف—– تو ہم یہاں کیوں آۓ ہے
میں انہیں دیکھنا چاہتی ہوں— افٹر آل شادی ہے یار مزاق نہیں ہے—— پتا نہیں کیسے ہے شادی تک یہ سوچ سوچ کر پریشان ہونے سے اچھا ہے انہیں دیکھ ہی لوں
لیکن وہ تو آۓ تہے نا تمہیں دیکھنے تب دیکھا نہیں تھا کیا
اس وقت تو میں شرمیلی دلہن بنی ہوئ تہی اتنے لوگوں کے سامنے انہیں دیکھنا ممکن تہا کیا
زوبی اس کا تھام کر آگے بڑھنے لگی
زوبی اگر کسی کو پتا چل گیا تو کیا ہوگا خواہ مخواہ تیری امیج خراب ہو جائگی
اس نے سمجھاتے ہوئے کہا
کچھ نہیں ہوگا وہ یہاں جنرل مینیجر ہے خاموشی سے دیکھ کر واپس اجاینگے—— کسی کو پتا بہی نہیں چلے گا
پتا نہیں کیا کیا خرافات چلتی رہتی ہے تمہارے شیطانی دماغ میں
اس نے دوپٹہ ٹھیک کرتے کوفت سے کہا
اب چل ٹائم ویسٹ مت کر
وہ اسے بلڈنگ کے اندر لے گئ لفٹ لے کر دونوں اوپر آئ سامنے سے گزرتی ایک لڑکی سے انہوں نےجنرل مینیجر کے کیبن کا پتا لگایا
زوبی ایک بار پہر سوچ لے کہیں اس نے دیکھ لیا اور کچھ غلط سوچ لیا تو
کیبن کے دروزاے تک اکر اس نے سرگوشی میں کہا
چپ— کچھ نہیں ہوگا
زوبی نے اسے ڈانٹ کر خاموش کرایا اور تھوڑا سا دروازہ کھول کر اندر جھانکا کرسی خالی تھی زوبی نے اطراف میں نظریں دوڈا کر کمرے کا جائزہ لیا مگر اندر کوئ نظر نہیں آیا دروازہ دوبارہ بند کرنے ہی لگی تہی کہ کاشف اگیا اور دو لڑکیوں کو دروازے پر کہڑا دیکھ کر حیران ہوا
ایسکیوز می
اس کی اواز پر دونوں نے ایک ساتھ ہڑبڑا کر پیچھے دیکھا
آپ
زوبی کو دیکھتے ہی وہ فوراً بولا
ج ج_– جی و– و— وہ
زوبی بمشکل بولی جبکہ عیشا پریشانی سے اس کے تاثر دیکھنے لگی
آپ یہاں کیسے
اس کے لہجے میں حیرت کے ساتھ خوشی بہی تھی زوبی کی کچھ ہمت بندھی
وہ دراصل ہ— ہم کسی کام سے -_-یہاں آئے تھے تو——
اسے کچھ سوجھ نہیں رہا تھا
چلیے ویسےبھی میں اپ سے ملنا چاہتا تھا لیکن سوچا کہیں اپ برا نا مان جاے شادی ہونے والی ہے اور ہم ایک دوسرے کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے——-اب جب اپ یہاں ا ہی گئ ہے تو کیوں نا ایک کپ کافی ہو جاے اسی بہانے بات کرنے کا موقع مل جایگا
زوبی اور عیشا نے ایک دوسرے کو دیکھا
کیوں نہیں کاشف بہائ—- زوبی جاؤ نا
زوبی خاموش رہی تو اسے بولنا پڑا
یہ عیشا بے میری بیسٹ فرینڑ
اس نے عیشا کی بات کو نظر انداز کرتے ہوے تعارف کروایا
ہیلو عیشا—— اپ بھی چلیے نا ہمارے ساتھ
نہیں میں یہی ویٹ کرتی ہوں اپ لوگ جایئے
زوبی نے اسے اشارے سے چُلنے کو کہا مگر اس نے دھیرے سے گردن ہلا کر نہیں کر دیا بھلا اس کی موجودگی میں وہ کیا بات کرپاتے
ٹھیک ہے اپ اندر بیٹھ جایے
جی
وہ اندر چلی آئ کرسی پر بیٹھ کر ارد گرد کا جائزہ لیا ائیر فون کانوں میں لگایا گانا سنتے ہوے مسیجیز بہی دیکھنے لگی
ساحر اندر داخل ہوا تو اسے دیکھ کر ٹھٹک گیا بلیک پلازو پر وہائٹ لانگ شرٹ گلے میں بلیک اسکارف وہ یقیناً وہی تھی ساحر اسے ایک لمحے میں جان گیا جہاں کسی میں اس سے آنکھیں ملا کر بات کرنے کی ہمت نہیں تھی وہاں یہ چہوٹی سی لڑکی اس پر بہاری تہی مینیجر کے کال رسیو نا کرنے پر وہ اس کے کیبن میں ہی اگیا تھا اس نے عیشا کو متوجہ کرنے کے لئے اندر سے ہی دروزاے پر دستک دی رسپانس نہ پاکر دوبارہ دستک دی مگر وہ ہیڈ فون کی اواز میں کچھ سن نا پائ ساحر اس کی کرسی کے قریب اگیا عیشا کی نظر اس پر پڑی ہیڈ فون کھینچ کر وہ فوراً کھڑی ہوگئ
تم یہاں کیا کر رہی ہوں
اس کے لہجے میں حیرانی سے زیادہ غصہ تھا عیشا شاکی کیفیت میں اسے دیکھتی رہی ساحر نے اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجا کر اسے متوجہ کیا
ہیلو آئ ایم ٹاکنگ ٹو یو. وہاٹ دا ہیل آر یو ڈوئنگ ہیئر
اس نے سختی سے کہا
تم کون ہوتے ہو یہ پوچھنے والے کہ میں یہاں کیا کر رہی ہوں
اگلے ہی لمحے سنبھل گئی
جس بلڈنگ میں اس وقت تم کھڑی ہو وہ میری پراپرٹی ہے اور یہاں آنے جانے والے ہر شخص سے وجہ پوچھنے کا مجھے پورا حق ہے سمجھ آیا
دونوں ہاتھ ٹراؤزر کی جیبوں میں ڑالتے ہوے اسنے رعب سے کہا
اگر مجھے اندازہ بھی ہوتا نا کہ یہ جگہ تم سے وابستہ ہے تو میں کیا میری جوتی بھی یہاں نہیں آتی
لیکن اب تو جوتی کے ساتھ تم بھی اگئ ہو—– بٹ ڈونٹ وری میں یہ نہیں کہونگا کہ تم یہاں جان بوجھ کر آئ ہو مجھے فالو کر رہی ہو مجھے کوئ نقصان پہنچانا چاہتی ہو——– اینی وے جس دروازے سے آئ تھی اسی دروازے سے چپ چاپ چلی جاؤ ورنہ مجھے موقع مل جایگا اپنی ساری بھڑاس نکالنے کا
اس کے لہجے میں طنز تھا
جارہی ہوں ویسے بھی مجھے تمہاری صورت سے سخت نفرت ہے
اس سے مجھے کوئ فرق نہیں پڑتا تم جیسی تھرڑ کلاس لڑکیوں کو میں یہاں—– اپنے جوتے کے نیچے رکھتا ہوں
اس نے آنکھوں سے جوتے کی جانب اشارہ کیا
تم نے مجھے تھرڈ کلاس کہا—— یو تمہارے ماں باپ نے تمہیں اتنی بہی تمیز نہیں سکھای کہ لڑکیوں سے کیسے بات کرتے ہے بدتمیز_—
جسٹ شٹ اپ—
ساحر نے غصے میں آکر اسے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا لیکن بیچ میں ہی روک لیا مگر اسی ہاتھ سے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے جانب کھینچا
تک میں نے تمہپاری ہر بدتمیزی کو صرف اسلیے برداشت کیا ہے کیونکہ تم ایک لڑکی ہو اور کسی لڑکی سے الجھنا میرے اصولوں کے خلاف ہے لیکن اگر تم نے میرے امی ابو کے متعلق کوئ بھی غلط بات کہی تو سارے اصول گئے بھاڑ میں تمہاری جان لینے میں مجھے زرا بہی افسوس نہیں ہوگا. سمجھی
وہ پوری نفرت سے عیشا کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا عیشا کو اس سے خوف انے لگا ایک تو انجان جگہ میں اس کے اتنے قریب تھا اوپر سے اس کی مضبوط انگلیاں بازو میں گڑتی محسوس ہورہی تھی اس کی آنکھیں بھر گئ ساحر نے جھٹکے سے اسے چھوڑ دیا وہ لڑ کھڑای
جسٹ گیٹ آؤٹ فروم ہیئر
وہ غصے سے دھاڑا
دعا کرتی ہوں اگر زندگی میں دوبارہ کبھی تم سے سامنہ ہونا لکہا ہوگا تو اس سے ایک سیکنڈ پہلے مجھے موت آجاے
وہ روتے ہوے پوری نفرت سے بولی اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئی
ساحر نے کرسی کو لات مار کر غصہ کنٹرول کیا
****************************
کہاں غائب تھی اتنے دن فون بہی بند ارہا تھا
دادی نے آتے ہی شکوہ کیا
سوری دادی میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور فون خراب ہے
سوری کی کوئ بات نہیں ہے تم نہیں آتی نا تو میرا من ہی نہیں لگتا
سو نایس آف یو دادی
اس نے ان کے گلے میں بانہی ڈال دی
دادی میرے پاس آپ کے لیے ایک سر پرائز ہے
اس نے بیگ سے ایک چھوٹا سا گفٹ باکس نکال کر ان کی طرف بڑھایا
یہ کیا ہے
آج فرینڈشپ ڑے ہے اور اپ میری بیسٹ فرینڈ ہے اسلیے میری طرف سے چھوٹا سا گفٹ
تم پہلی ایسی لڑکی ہو جس کی دوستی اپنی دادی کی عمر والی عورت سے ہے
یہی تو اصلی دوستی ہوتی ہے دادی جس میں چھوٹا بڑا اچھا برا کچھ نہیں دیکہا جاتا بس ایک بے غرض سا رشتہ بن جاتا ہے جیسے کہ آپ سے بن گیا ہیں——- سچ دادی آپ مجھے بہت اچھے لگتے ہے
اس نے ان کے دونوں ہاتھ تھام کر کہا
کیونکہ تم خود بہت اچھی ہو بیٹا
وہ ہنس دی دھیرے سے
کیا بات ہے آج کچھ اداس لگ رہی ہو
انہوں نے اس کی ہنسی میں اداسی محسوس کی
نہیں تو بس اتنےدن سے باہر نہیں نکلی اسلیے بوریت محسوس ہو رہی ہے——- آپ دیکہیے تو سہی میں آپ لے کیا لای ہوں
اس نے گفٹ کھول کر اس میں سے ایک خوبصورت چاندی کا بریسلیٹ نکالا
یہ وہ چیز ہے جو آپ کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیگی——— چھ سات دکانیں ڈھونڑنے کے بعد کچھ پسند آیا ہے مجھے ———دیکہے میں نے اپنے اور زوبی کے لیے بھی سیم لیا ہے
ان کی کلای میں بریسلیٹ پہناکر اپنی کلای دکھائ جس پر ویسا ہی بریسلیٹ بندھا تھا
اب اس عمر میں میں یہ چیزیں پہنتی اچھی لگوں گی بھلا
دادی جوانی بڑھاپا کوئ چیز نہیں ہوتی انسان کی عمر اتنی ہی ہوتی ہے جتنی وہ فیل کرتا ہے
اس نے فلمی انداز میں کہا
ویسے بھی خود کو میری نظر سے دیکہے بس بالوں کو کلر کردے تو آپ کسی ہیروئن سے کم نہیں کسی ڈایریکٹر کی نظر پڑگی نا تو اپکو رنویر کپور کے ساتھ سائن کر لیگا
پاگل
دادی دیر تک اس کی باتوں پر ہنستی رہی پہلے دن سے انہیں اس کی باتیں اس کی معصوم صورت اور اس کا ہر انداز بے حد پسند تھا
چلو تحفہ بھی لے لیا اور تعریف بھی سن لی اب بتاؤ اداس کیوں ہو
دادی کہاں سے اداس لگ رہی ہوں میں اپ کو بتیسی تو دکہا رہی ہوں کب سے
تمہارے چہرے پر ہمیشہ ایک خوبصورت مسکراہٹ ہوتی ہے اج وہ غائب ہے اس کا مطلب——-
شاید وہ کچھ اور بھی کہتیں تب ہی ان کا فون رنگ کرنے لگا اور عیشا نے چین کا سانس لیا اب وہ انہیں کیا بتاتی کی تین دن بعد بہی اپنے بازو پر کسی کی گرفت محسوس کر رہی تھی کبھی اس کے ماں باپ نے بہھی اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا اور ایک اجنبی نے اس سے کس قدر بے رحمی سے سلوک کیا تھا بنا کسی غلطی کے ہمیشہ بے فکر نڑر رہنے والی لڑکی کو خوف کا احساس دلایا تھا وہ جو کسی کا بھی سامنا کرنے کی ہمت رکھتی تھی پہلی دفعہ کسی کے اگے خود کی یوں کمزور محسوس کیا تھا اگلے دو دن وہ لگاتار بخار میں مبتلا رہی تھی گھر والے بھی اس کی اس حالت سے پریشان تھے مگر وہ کسی کو کیا بتاتی اس نے واقعی اللہ سے دعا کی تھی کہ دوبارہ اس شخص سے سامنہ نا ہوں لیکن اس کی قسمت میں کچھ اور طے تھا
وہ سارے خیال, جھٹک کر دادی کہ جانب متوجہ ہوئ جو فون پر بات کررہی تھی
دادو میں باہر ویٹ کر رہا ہوں جلدی آئے
ساحر تم اندر اجاونا بیٹا میں تمہیں عیشا سے ملواتی ہوں
انہوں نے عیشا کی جانب دیکھتے ہوے کہا وہ مسکرادی
افوہ دادو کیا آپ ہر وقت بس عیشا عیشا کرتی رہتی ہے وہ کیا آٹھواں عجوبہ ہے جو میرا اسے دیکھنا اتنا ضروری ہے—- دیکہے مجھے پانچ منٹ میں اپکو گھر ڈراپ کر کے کہیں پہنچنا ہے اسلیے جلدی باہر آئے اور اکیلی آئیے گا میں کسی اور دن مل لونگا آپکی اس عیشا سے ابھی میں جلدی میں ہوں
ٹھیک ہے آرہی ہوں
انہیں غصہ تو بہت ارہا تھا مگر عیشا کو برا نا لگے اس لئے کچھ کہنے سے گریز کیا
کہ رہا ہے جلدی میں ہوں بعد میں مل لونگا
جی
وہ اور کیا کہتی اُسے ساحر سے ملنے سے کوئی مطلب نہیں تھا
انہوں نے بینچ پر سوتی نینا کو جگایا جو ہمیشہ عیشا اور دادی کے ساتھ ہونے کا فائدہ اٹھا کر بینچ سنبہالیتی وہ دونوں اپنے میں مگن رہتی اور نینا ارام سے ان کے فارغ ہونے تک سوتی
اچھا بیٹا اپنا خیال رکھنا خدا حافظ
انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
خدا حافظ دادی
دادی کے نکلتے ہی وہ بھی اٹھ گئ اج اسے کالج بہی جانا تھا
دادی اور نینا کے بیٹھتے ہی اس نے گاڈی فوراً آگے بڑھای
بہت بد تمیز ہو تم
انہوں نے بیٹھتے ہی ڈانٹ لگائ
بڑی جلدی معلوم ہوگیا اپکو
سامنے نظریں جماے وہ سکون سے بولا
چپ——کیا ہوجاتا اگر ایک بار اسے مل لیتے
دادو میں نے منع تو نہیں کیا——- بس اس وقت میں جلدی میں ہوں اسلیے نہیں مل سکتا تھا
تم تو ہمیشہ ہی اپنے گھوڑے پر سوار رہتے ہو اگر اتنے بزی تھے تو آۓ ہی کیوں ڈرائیور کو بہیج دیتے
ان کے لہجے میں غصّہ تھا روز ان کے وہاں ہونے تک ڈرائیور بھی رہتا تھا اج گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے وہ چلا گیا تھا اسلیے ساحر خود انہیں لینے آگیا
بڑی پیاری بچی ہے اس سے بات کرتے من ہی نہیں بھرتا
اب اُن کا عیشا نامہ جاری ہوچکا تھا جو وہ پچھلے چار پانچ مہینوں سے سنتا آرہا تھا بلکہ برداشت کرتا آرہا تھا لیکن اس وقت اس کا دماغ کہیں اور تھا اسلئے سننے کے باوجود اپنی دھن میں بس گاڑی چلاتا رہا دادی نے اسے بغور دیکہا تو وہ انہیں کچھ الجھا الجھا سا لگا
کیا ہوا بیٹا تم کچھ پریشان لگ رہے ہو
آں………… کچھ نہیں دادو مجھے کیا ہونا ہے
اس نے مسکرا کر کہا انہیں اور نینا کو گیٹ کے باہر ہی اتار کر وہ آگے بڑھ گیا
***************************
ہاے عیشا
کالج کے گیٹ سے نکل کر چند قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ ایک مرسریز اس کے نزدیک اکر رکی
اسلام و علیکم جاوید بہائ
اف پھر بہائ
اس نے دل میں کہا
وعلیکم اسسلام عیشا——— اؤ بیٹھو میں تمہارے ادھر ہی جارہا ہوں
نہیں اپ جائے میں آجاونگی پاس ہی تو ہے
کالج گھر سے کچھ دوری پر ہی تھا روزانہ وہ زوبی کے ساتھ ہی کالج آتی جاتی تھی مگر آج زوبی کالج نہیں آئ تھی اس لئے عیشا کو اکیلے ہی جانا تھا
ڈونٹ بی سٹوپڑ عیشا بیٹھو ساتھ چلتے ہے
وہ زمانے بہر کی فری ماینڈ تھی مگر اپنی حد سے باہر نکل کر کبھی کوئ کام نہیں کیا اور اس کی یہی عادت گھر والوں کو پر سکون کیے ہوے تھی ایک غیر آدمی کی گاڑی میں اسکے ساتھ اکیلے جانے میں اسے جھجک محسوس ہورہی تھی
کیا سوچ رہی ہو بیٹھو نا —-_—ایک کام کرتا ہوں ریحان سے پوچھوا دیتا ہوں
نہیں—— رہنے دیجیے
مجبوراً اسے بیٹھنا ہی پڑا ویسے بھی گھر پاس ہی تھا
اج تمہاری دوست نہیں آئ
نہیں اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے
اسلیے خدا نے مجھے اس راستے سے بہیج دیا کہ اج بھی تمہیں اکیلے نا جانا پڑے
وہ اس کی جانب دیکھ کر بولا عیشا مسکرا بھی نا سکی اسے جاوید کے اتنے سلو گاڑی چلانے پر شدید کوفت ہو رہی تھی
پڑھائ کیسی چل رہی ہے تمہاری
ٹھیک چل رہی ہے
اگے کا کیا پلان ہے
وہ بات کرنے کا موزوں ڈھونڈ رہا تھا
ابھی کچھ سوچا نہیں ہے
وہ بمشکل مسکرا رہی تھی
میں کینیڑا جا رہا ہوں کچھ دن کے لیے سوچا ایک بار تم سب سے مل لوں
اس نے کچھ ری ایکٹ نہیں کیا بس سامنے دیکھتی رہی
عیشا تم مجھ سے بات کرنے میں اتنا ڈرتی کیوں ہو میں کیا تمہیں کھا جاوگا
دو سال سے جانتی ہو مجھے کیا میں بات کرنے لائق بہی نہیں لکتا تمہیں
اس کے لہجے میں سختی آگئی تھی
ایسی تو کوئ بات نہیں ہے اپ کو غلط فہمی ہوئ ہے
اس نے دھیرے سے کہا
دو سال میں مشکل سے ہمارے بیچ چار پانچ بار بات ہوئ ہے اس میں بہی شروعات میری جانب سے ہی تھی
ایکچولی میں بنا سوچے سمجھے کچھ بہی بول دیتی ہوں— اور اپ بہای جان کے دوست ہے کہیں برا نا مان جایے اس لئے تھوڑا ڑرتی ہوں
اس نے سنبھل کر وضاحت کی
چلو اب میں خود کہ رہا ہوں کہ میں تمہاری کسی بات کا برا نہیں مانتا تو کیا اب بات کرو گی بلا جھجھک
اس نے صرف اثبات میں گردن ہلادی
عیشا میں ریحان کی طرح تمہیں بھی اپنی دوست ہی سمجھتا ہوں اگر موقع ملے نا تو آزما کر دیکھ لینا
وہ کچھ نہیں بولی گاڑی رکتے ہی اتر کر دونوں اندر آگے جاوید امی ابو سے بات کرنے لگا اور وہ کمرے میں اگئ بیگ پیک کرسی پر پہینک کر بیڑ پر اوندھے لیٹ گی
دوستی کرنے میں حرج ہی کیا ہے دو سال سے جانتی ہوں انہیں برے انسان تو نہیں ہے
وہ کافی دیر اسی ٹاپک پر سوچتی رہی یہاں تک کہ اسے نیند اگئ اور وہ بے خبر ہو کر سو گئ
****************************
لیپ ٹاپ پر نظر جماے وہ کچھ ٹایپ کر رہا تھا سکرین کو بغور دیکھا اور پھر لیپ ٹاپ بند کر کے کرسی سے ٹک گیا ٹای تھوڑی ڑھیلی کی آنکھیں ایک نقطے پر مرکوز تھی
میں اس کے ساتھ کچھ زیادہ ہی روڈ ہو گیا تھا
نا چاہتے ہوے بہی وہ اس وقت اس لڑکی کے بارے میں سوچنے لگا اس کی آنکھوں کے آگے اس کا رویا رویا سا خفا خفا سا چہرہ انے لگا اسے اپنے ہاتھ کی سختی اور اس کے نازک بازو کو گرفت میں لینے پر ندامت ہوئ
لیکن غلطی بھی تو کی تھی نا اس نے———اگر وہ مجھے غلط سمجھ رہی تھی تو مجھے ہی برا بھلا کہتی میرے امی ابو کے بارے میں کچھ کہنے کی کیا ضرورت تہی وہ کیا جانے ان کے بارے میں
وہ اس سے ناراض ہورہا تھا پتہ نہیں کیوں
میں اس کے بارے میں کیوں سوچ رہا ہو آیندہ وہ مجھے نا ہی ملے تو بہتر ہے میرے لیے
اس نے فوراً آنکھیں بند کرلی چند سیکنڈ بعد کہول کر چھت پر جمادی
اگر ہمارا سامنا اس انداز میں نہیں ہوا ہوتا تو شاید اس وقت میں تمہارے متعلق یہ سب نہیں سوچ رہا ہوتا
اسلام و علیکم خان صاحب
وہ سوچوں میں اسے مخاطب کئے تھا جب جاوید نے اسے ہوش دلایا
جاوید کب آۓ یار
اس نے بیٹھے بیٹھے ہی ہاتھ ملایا
١
جب تم کسی اور دنیا میں گم تھے—– کیا سوچ رہے تھے اتنی گہرائی سے
ایک لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا
اس کی زبان سے نکل گیا
کیا ———-لڑکی کے بارے میں——- ساحر خان جو لڑکیوں سے دور بہاگتا ہے اتنی گہرائ سے کسی لڑکی کے بارے میں سوچ رہا ہے——– کہیں یہ میرا خواب تو نہیں
میرے بھائ پوری بات تو سن لے ——میں ایک ایسی لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا جسے میں دوبارہ کبھی نہیں ملنا چاہتا
اوووہ —-ویسے ہے کون
پتا نہی ——-بس ایکسیڈنٹلی ایک دو بار ملاقات ہوی تھی——— ملاقات کیا جھگڑا ہی ہوتا ہے ہر بار کون ہے کہاں سے ہے کچھ نہیں جانتا
خوبصورت ہے کیا
وہ ایک پل کو سوچنے لگا کیا کہے اگر ہاں کہ دیتا تو اس نے غلط مطلب نکالنا تہا اس لیے بہانہ بنا دیا
میں نے غور نہیں کیا. ہاں——- گھمنڈی ضرور ہے
تب تو خوبصورت بہی ہوگی_—– خوبصورتی پر گھمڑ کا کامبینیشن ہی کچھ ہٹ کر ہے سچ یار
اس ٹاپک پر فل اسٹاپ لگا اور اپنی بات کر آئ جسٹ وانٹ ٹو لیو دس چیپٹر—- یہ بتا کیا لےگا
کافی بول دے
ساحر انٹرکام پر کافی کا کہ کر دوبارہ اس کی جانب متوجہ ہوا
ساحر مجھے تیری کچھ ہیلپ چاہیے
ہاں بولنا
وہ کرسی کو ہلکا گھماتے ہوئے اسے سننے لگا
مجھے کینیڈا جانا ہے انے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے تب تک تو زرا یہاں کے مسلے دیکھ لےنا
وہ تو ٹھیک ہے دیکھ لونگا مگر یوں اچانک کینیڈا
ہاں بس سارے جھمیلے ختم کرنے ہیں سمجھو بہت لک ٹراے کر لیے بزنس کے معاملے میں مگر کوئ خاص کامیابی نہیں ملی—– سوچ رہاں ہوں اب شادی کرکے سیٹل ہوجاوں
وہ ایک پل حیران ہوا
کیوں گرل فرینڑس گھمانے کا شوق ختم۰یا پھر اب لڑکیاں ہی گھاس نہیں ڈالتی
اونہوں———-ایک ایسی لڑکی مل گئ ہے جس کی تلاش تھی جو گرل فرینڑ ٹائپ نہیں ہے سوچا اب شادی ہی کر لوں ——-دو سال سے اسے امپریس کرنے کی کوشش کررہا ہوں
کیا بات ہے—— کون ہے بے چاری جو تیرے ساتھ شادی کر رہی ہے
مجھے بس کینیڈا سے واپس آنے دے تجھے تیرے سارے سوالوں کے جواب مل جایگا باقائدہ ملاقات کروادونگا
چل خدا نے تجھے راستہ تو دکھایا اب بے چاری کی قسمت بھی اچھی کرے اور تجہے نیکی کی ہدایت دے
اے یہ بے چاری بے چاری بول کر زیادہ ہمدردی نہ جتا میں جیلس ہوتا ہوں
ساحر نے قہقہہ لگایا ملازم کافی اور پیسٹریز لے آیا اس کے نکلنے کے ساتھ ہی امران داخل ہوا
یہ تم کیسے اج راستہ بھٹک گئے
جاوید نے اسے دیکھ کر حیرت سے پوچھا
تمہارے افس گیا تھا پتا چلا تم یہاں ہو
اس نے ایک کافی کا کپ اٹھالیا
خیریت کیا ادھار کی ضرورت پڑ گئ
کمینے میں تجھ سے کب ادھار مانگنے کو ملا ہوں خدا کا دیا بہت کچھ ہے یہ تو تم بے ایمانوں کی دوستی کھینچ لاتی
واہ واہ واہ شادی ہوی جب سے اج شکل دکھا رہے ہو اور ہمیں بے ایمان کہ رہے ہو
جاوید نے ہاتھ اٹھا کر کہا
سالے اج بہی میں خود ہی ایا ہوں تو نہیں آیا اسلیے طعنے مت مار سمجھا
تینوں دیر تک ہنسی مزاق اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے
ساحر اب کیسی ہے دادی کی طبیعت
امران نے پوچھا
پہلے سے بہتر ہے
کیا ہوا تھا انہیں
جاوید اب تک انجان تھا
شوگر لیول بڑھ گیا تھا اسلیے ایڑمٹ کرنا پڑا تھا کل ہی ڈسچارج ہوئ ہے
ایک بات کہوں ساحر غلط مت سوچنا
عمران نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
بول نا کیا بات ہے
دیکھ میں جانتا ہوں تو دادی سے بہت پیار کرتا ہے اور ان کا پورا خیال بھی رکھتا ہے مگر زندگی اور موت کسی کے ہاتھ میں نہیں ہوتی حقیقت کو قبول کرنا ہی عقلمندی ہے تو دادی کی بات مان کر شادی کیوں نہیں کر لیتا یار ان کی بہت خواہش ہے تیری شادی کروانے کی اگر یہ تیری نانا کے چلتے اک دن انہیں کچھ ہوگیا نا توتو بہت پچھتایگا
دو دن دادی ہسپتال میں تہی وہ بہی ساحر کے ساتھ ہی رہا تہا اور اس درمیان دادی نے ہی اس سے اپنا یہ ڑر بیان کیا تھا اسلیے اج اس نے ساحر سے براہ راست بات کی
ایسا کچھ نہیں ہوگا
ساحر ایک بار تو اس بارے میں غور کر
اس نے اثبات میں گردن ہلادی
****************************
اج سنڑے تھا اسلیے وہ دیر تک سویا رہا تھا تیار ہوکر نیچے اگیا
نینا دادو نے ناشتہ کرلیا
جی سر ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کیا ہے
اوکے میں دادو کو روم میں ہوں میرا ناشتہ وہیں بھجوادو
جی سر
وہ دادی کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ آنکھیں بند کئے لیٹی ہوئ تھی وہ پاس رکہی کرسی پر بیٹھ کر انہیں دیکھتا رہا بیماری نے انہیں بے حد کمزور کر دیا تھا سفید پڑتا چہرا تھکا تھکا سا محسوس ہوتا تھا ہوش سنبھالتے ہی اس ایک چہرے میں اس نے اپنا ہر رشتہ ڈھونڑ لیا تھا ہر کمی کو ان کی محبت سے مکمل کر لیا تھا اس عمر میں بھی وہ دادی سے بچوں کی طرح لاڈ اٹھواتا تھا
دادو
بیڈ کے کنارے بیٹھ کر اس نے دھیرے سے اواز دی وہ جاگ ہی رہی تھی فورا آنکھیں کھول کر دیکھا
یہ کیا دادو اپ ارام کر رہی ہے اپ کو میری کوی پرواہ ہے کہ نہیں
وہ مصنوعی خفگی سے بولا
کیا ہوا بیٹا
اسے یوں اچانک سنجیدہ دیکھ کر انہوں نے اٹھتے ہوے دھیمی آواز میں پوچھا
اپ کو پتا ہے کتنا جیلس فیل کر رہا ہوں میں———- میرے سارے دوستوں کی شادی ہوگی——– بیویوں کو ساتھ لئے شو اف کرتے گھوم رہے ہیں اور میں——— اپ کو تو میری زرا پرواہ نہیں دادو
دادی اسے بے یقینی سے دیکھتی رہی
زرا بستر چھوڑکر اچھی سی لڑکی ڑھونڑیے میرے لئے.———-کب تک یوں ہی اکیلا دوسروں کی شادیاں اٹینڑ کرتا رہونگا
یا اللہ کہیں یہ میرا خواب تو نہیں
انہیں حیران دیکھ کر ساحر نے آگے بڑھ کر ان کے ماتھے بوسہ دیا
یہ کوئ خواب نہیں ہے دادو
وہ سنجیدہ ہوگیا
تو کیا تم واقعی شادی کے لیے تیار ہو
ہنڑریڑ پرسنٹ
یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے—– جانتے ہو اگر میں زرا سا بھی بیمار پڑتی ہوں تو دل بہت بے چین ہو جاتا ہے یہ سوچ کر کہ کہیں یہ میرا آخری وقت تو نہیں دل سے دعا کرتی رہتی ہوں یا اللہ جب تک ساحر کی شادی نہیں ہوجاتی تب تک مجھے زندہ رکھ میں اسے یوں تنہا نہیں چھوڈ سکتی کہ میرے بعد اس کے پاس رونے کو کسی اپنے کا کاندھا بہی نہ ہو جب تک اس کی اپنی دنیا بستے نہ دیکھ لوں تب تک سکون سے نہیں مر سکتی ——-جب ٹھیک ہوجاتی ہوں تو کگتا ہے خدا نے موقع دیا ہے لیکن تمہارا انکار سن کر بے بس ہوجاتی ہوں کہ شاید میری قسمت میں ہی چین وسکون کی موت نہیں لکھی
دادو پلیز اپ ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں اپ جانتی ہے نا———-
ساحر زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہیں میرے یا تمہارے چاہنے سے تقدیر میں لکھا بدل نہیں سکتا وہ کچھ لیتا ہے تو کچھ دیتا بھی ہے
دادو دنیا کا کوئ رشتہ اپ کی کمی پوری نہیں کر سکتا میرے لیے اپ میری سب کچھ ہو اللہ نے مجھے امی ابو کے سایہ سے محروم رکھا ہر وقت دل میں یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ میرے پاس نہیں ہےاگر آپ کو بہی کچھ ہوگیا تو میں ………
اس کے آگے وہ کہ نہیں پایا ان کے دونوں ہاتھ تھام کر اس نے اپنی آنکھوں پر رکھ لئے
ساحر اداس مت ہو بیٹا ——–میں تمہیں ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتی ہوں–_— تمہیں تکلیف میں دیکھ کر میری روح تک بے چین ہو جاتی ہے——- تم تو میری زندگی کا حاصل ہو——— اپنے اکلوتے بیٹے کو کھو کر بہی زندہ ہوں تو تمہاری خاطر اس کا عکس ہو تم
ملازم نے دستک دی تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا ملازم نے میز پر ناشتہ رکھا ساحر کرسی پر بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا دادی سے کہا مگر انہوں نے انکار کر دیا
ساحر میں نے تمہارے لئے ایک ایسی لڑکی ڈھونڑی ہے جو لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں ایک ہے
اس کا منہ تک جاتا ہاتھ ایک دم رک گیا
کیا——- اپ نے میرے لیے لڑکی ڑھونڈ بھی لی
بہت پہلے سے یہ تو تم راضی نہیں ہوتے تھے ورنہ اب تک تو شادی ہو جانی تھی
کون ہے
اس نے بے نیازی سے پوچھا
عیشا پارک والی لڑکی پہلے دن سے ہی وہ مجھے بہت پسند ہے اور میں چاہتی ہوں وہی تمہاری دلہن بنے
عیشا
اس نے زیر لب دہرایا اسے کوئ خاص حیرت نہیں ہوئ کیوں کہ اسے اس بات کا اندازہ دادی کی باتوں سے بہت پہلے ہو چکا تہا البتہ وہ الجھن میں ضرور تھا
کیا سوچ رہے ہو تم
اسے الجھا ہوا دیکھ کر دادی نے پوچھا
دادو آپ جلد بازی نہیں کر رہیں—– آئ مین اس لڑکی کو اپ جانتی ہی کتنا ہے چند ملاقات میں بہلا کوئ پہچانا جاتا ہے کیا ——–آپ سے اپنے پن سے بات کر لی اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ واقعی اچہی ہو——- اپ کو ایک بار سوچنا چاہئے
اس نے انہیں سمجہاتے ہوے کہا
وہ لڑکی کھلی کتاب ہے اسے جاننے کے لیے کوی تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں—— اور میں نے دنیا دیکھی ہے اسلیے اچھا برا صحیح غلط سب سمجھتی ہوں وہ میری پہلی اور اخری پسند ہے
کیا وہ جانتی ہے کہ آپ کیا چاہتی ہے
اس نے سکون سے جوس پر نظریں جماے ہوے کہا
تمہارے انکار کی وجہ سے میں نے ایسی کوئ بات نہیں کی اسے تو اندازہ بہی نہیں ہے
تو کیا اسی لیے اپ ہر وقت اس سے ملنے پر زور دیتی رہتی تھی
اس نے مصنوعی غصے سے دیکھا
ہاں. تم ایک بار اس سے مل لو ساحر وہ خوب سیرت ہی نہیں بےحد خوبصورت بھی ہے
انہوں نے مسکراتے ہوے کہا
اپ کہ رہی ہیں تو بے شک اچھی ہوگی لیکن
وہ کہتے کہتے رک گیا
وہ پانی پی کر ان کے پاس چلا آیا اور پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا
تو میں بات آگے بڑھاوں
انہوں نے اسے خاموش دیکھ کر کہا
دادو کم سے کم سوچنے کا موقع تو دیجے
اس نے شاکی کیفیت میں کہا
ٹھیک ہے مگر جلدی جواب دینا تاکہ میں اس کے گھر والوں سے بات کرسکوں
اسنے اثبات میں سر ہلادیا کچھ دیر ان سے باتیں کرتا رہا پھر اپنے روم میں اگیا کرسی پر بیٹھ کر دیر تک اسی بارے میں سوچتا رہا اچانک کچھ سوچ کر اٹھا اس نے گاڑی کی چابی جیب میں ڈالی بلیک ٹی شرٹ اور بلیک پینٹ پر وھائٹ جیکیٹ پہنی بکھرے بالوں کو جیل سے سیٹ کیا اور اپنا فیوریٹ پرفیوم لگا کر باہر نکل گیا
اسلام وعلیکم بھابھی
وعلیکم اسلام _——— آئے نا ساحر بھائی
الیشا نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تآثرات سے کہا
کافی دیر سے عمران کو کال کررہا ہوں پر فون بند ارہا ہے سوچا آکر ہی مل لوں
اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوے کہا
وہ سو رہے ہیں اپ بیٹھیے میں ابھی جگاتی ہوں
الیشا نے اسے پانی پیش کیا اور اندر چلی گی ساحر نے پانی پی کر گلاس ٹیبل پر رکھا اور جیب سے موبائل نکال کر گیم میں بزی ہوگیا کیونکہ اسے عمران کو نیند سے جگانے کا تجربہ تھا اس کے توقع کے عین مطابق عمران بیس منٹ بعد آنکھیں رگڑتا ہوا آیا اور
صوفے پر بیٹھ کر ساحر کے کندھے پر سر رکھ کر سونے لگا
لگتا ہے اب تک شہزادے کی نیند پوری نہیں ہوئ
اس نے عمران کو گھورتے ہوے الیشا سے کہا
کچھ مت پوچہے انہیں جگانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے
الیشا نے بیچارگی سے کہا
جی ہاں جانتا ہوں اس کمبھ کرن کے بھائی کو
عمران نے سر اٹھا کر اسے گھورا
صبح صبح کیوں اگیا میرا سنڑے خراب کرنے
ساحر نے کشن اٹھا کر اس کے منہ پر مارا جسے عمران نے واپس اسی پر پہینکا
ساحر بھائی آیے ناشتہ لگ گیا ہے
الیشا دونوں کو باقاعدہ لڑتے دیکھ کر بیچ میں بولی
شکریہ بھابھی لیکن ابھی ناشتہ کرکے نکلا ہوں بس ایک کپ چاے
جی—— ابھی لائ
الیشا فوراً کہکر باہر نکل گئ
اب بک بھی دے کیا کام ہے
الیشا کے جاتے ہی امران اسے دیکھتے ہوے بولا
کیوں بنا کام کے نہیں آسکتا کیا
جہاں تک میں جانتا ہوں تو اتنا شریف نہیں ہے
ساحر نے تاسف سے سر ہلایا
تیری نصیحت پر عمل کرتے ہوے دادو کو شادی کے لیے ہاں کر دی ہے
اس نے ارام سے بتایا
کیا—— آر یو سیریس——- دادی تو بہت خوش ہوگئ ہوگی یار
امران خوش ہوتے ہوے بولا
خوش—— وہ تو سہرا لے کر تیار بیٹھی ہیں لڑکی بھی پہلے سے ڈھونڈ رکھی ہے
وہ سنجیدگی سے بتابے لگا
رئیلی——– کون ہے
امران کو خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئ
آپ کی سالی صاحبہ
عیشا کی بات کر رہے ہو
امران نے حیرانی سے پوچھا
کیوں اور بھی سالیاں ہے کیا تیری
ساحر نے جل کر پوچھا
نہیں یار———— لیکن تم عیشا کو کیسے جانتے ہو
میں نہیں جانتا دادی جانتی ہے مجھے تو بس اتنا پتا تھا کہ اس کا نام عیشا ہے نتھنگ ایلس
وہ بڑے آرام کے بولا
ساحر آئ ایم ریئلی ہیپپی یار———عیشا اینڑ یو آر جسٹ پرفیکٹ فور ایچ ادر
عمران اسے گلے لگاتے ہوے خوشی سے بولا
تو تو مجھ سے عیشا کے متعلق کچھ پوچھنے آیا ہے یا اس سے ملنے کا ارادہ ہے
عمران چھیڑنے کے انداز میں بولا مگر وہ اب بھی سنجیدہ تھا
نہیں——- نا اس سے ملنا ہے نا کچھ معلوم کرنا ہے یہ دادو کی خواہش ہےاور میرے لیے یہی کافی ہے یو نو دیٹ اور کونسا مجھے کسی سے عشق محبت ہےجو کوئ اعتراض ہوگا ایکچولی ایک بات کرنی ہے تجھے
کیا ہوا بول نا
امران نے فکر مندی سے پوچھا
باہر چلتے ہی
اوکے ——لیکن پہلے چاے تو پی لے
ساحر نے گردن اثبات میں ہلادی
اتنا سسپینس کہیں کوئ خاص سیکریٹ تو نہیں
امران نے دبی اب اواز میں شرارت سے کہا وہ کچھ نہیں بولا بس اسے گھور کر رہ گیا
بھائی میرے اگر کچھ ایسا ویسا ہے تو پہلے ہی بتادینا ورنہ تیرے ساتھ میں بھی مارا جاونگا
الیشا چاے لے آی دونوں نے باتوں کے درمیان چاے پی اور باہر چلے گئے
****************************
گھر کے سارے مکین ڑراینگ روم میں بیٹھے حیرت اور خوشی کی کیفیت میں مبتلا تھے کچھ دیر پہلے ہی ساحر کی دادی امران اور الیشا کے ہمراہ آئ تھی اور اپنی خواہش ظاہر کرکے ان سب کو شاک کر گئ تھی بہت زیادہ نہیں مگر اللہ نے انہیں توقع سے زیادہ بخشا تھا لیکن ساحر خان جیسی اثر و رسوخ رکھنے والی ہستی اس گھر سے ان کی بیٹی کا رشتہ آنا انہیں خواب سا معلوم ہورہا تھا امران دادی کو گھر چھوڑنے چلا گیا تھا الیشا اب بھی وہیں موجود تھی اور وہ لوگ کب سے اسی موزوں پر تبصرہ کررہے تھے عیشا سب سے بے خبر کالج گئ ہوئ
ریحان اور ابو کو تو کوئ اعتراض نہیں تھا کہ وہ امران سے پہلے ہی ساحر کے متعلق سب جان چکے تہے البتہ امی حیران پریشان تھی اتنے بڑے گھر سے رشتہ اس پر شادی میں جلد بازی لیکن الیشا نے ان کی الجھن بھی آسانی سے دور کردی
عیشا کو جب علم ہوا تو اس پر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا دادی کو اپنے پوتے کی شادی کیلئے منانے کے آئیڈیا دینے والی وہی تو تھی اور دادی کو صلاح دیتے دیتے اس نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار لی تھی سب ہی اس رشتے سے خوش تھے لیکن فیصلہ کرنے کا اختیار اسے دیا گیا تھا دادی نے بھی اس سے بات کرکے کافی سمجھایا تھا لیکن اس کی مرضی کے آگے زبردستی نہیں کی وہ تو شادی کرنے سے انکاری تھی حالانکہ یہ بات جانتی تھی کے اس کا انکار کوئی معنی نہیں رکھتا اور ایک دن یہ سب ہونا ہی ہے لیکن اتنی اچانک اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا الیشا اور امران نے دو ہی دنوں میں ساحر کے قصے اور تعریفیں سنا سنا کر اس کا سر پکادیا تھا وہ تو صاف صاف انکار کردینا چاہتی تھوڑا لیکن سب کی خوشی اور دادی کی خواہش کے لیے سوچنے پر مجبور ہو گئی
****************************
دادو آپ نے بلایا
وہ اندر داخل ہوا تو دادی تیار ہوکر صوفے پر بیٹھی تھی
میں عیشا کے گھر جارہی ہوں—— شادی کی تاریخ لینے تم بھی میرے ساتھ چلو
میں ابھی جاکر کیا کرو دادو—- شادی پر اونگا انشاء اللہ
وہ ان کے بازو بیٹھ کر شرارت سے بولا دادی نے گھورتے ہوے اس کے سر پر چپت لگائ
بدتمیز—–.شادی سے پہلے ایک بار عیشا سے مل تو لو
نہیں دادی اس کی کوئ ضرورت نہیں ہے اپ جایئے—— چاہے تو امران اور الیشا بھابہی کو ساتھ لے لیں
ارے ضرورت کیسے نہیں کیا بناء ملے بناء دیکھے شادی کرلو گے ایک بار تو مل لو اس سے
ساحر کیا تم صرف میری خوشی کے لیئے مجبور ہوکر یہ شادی کررہے ہو تمہاری کوئ مرضی نہیں
ایسا کچھ نہیں ہے دادو—— نہ میں مجبور ہوں نا آپ کے فیصلے سے مجھے کوئ ناراضگی ہے اور میں انکار نہیں کر رہا ہوں اس لڑکی سےملنے پر ——بس اس کی ضرورت محسوس نہیں کر رہا ——*کیونکہ میں جانتا ہوں اپ نے میرے لئے جسے چنا ہے وہ میری امید سے کہیں زیادہ اچھی ہوگی—– اور میرے لئے تو اتنا ہی کافی ہے تسسلی کے لیے——– ہاں اگر وہ مجھ سے ملنا چاہے تو پوچھ لیجیے گا مل لونگا
دادی نے اسے پیار سے دیکھا اور بڑھ کر اس کی پیشانی چوم لی
عیشا کے ہاں کہتے ہی ان کا بس نہیں چل رہا تھا اگلے ہی دن وہاں جاکر تاریخ طے کر آئ انہوں نے تو کافی کوشش کی تھی کہ شادی اگلے ہفتے میں ہو جاے مگر یوسف علی نے مزید ایک ہفتہ بعد پر اصرار کیا تو وہ انکار نہیں کر سکیں کسی بھی طرح کے لین دین سے انھوں نے سختی سے منا کر رکھا تہا پھر بھی ریحان اور ابو نے تمام رقم سے قیمتی زیورات بنا کر اپنا فرض پورا کیا تھا دادی نے عیشا کو بھی ساحر سے ملنے کی صلاح دی تھی مگر اس نے بھی آسانی سے نفی کردی وہ اس بات سے مطمئن تھی کہ اس کے ایک فیصلے سے گھر والے بے حد خوش تھے اور اسے اپنے اللہ پر بھروسہ تھا وہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے گھر میں ایک رونق سی جمی تھی شادی میں بہت کم دن تھے اس لیے روزانہ ہی شاپنگ پیکنگ اور باقی انتظامات ہوتے رہتے امران اور الیشا نے بھی بھر پور حصہ لیا تھا کم وقت میں بھی سب نے مل کر بہت ہی خوبصورت انتظام کیا ریحان نےہر کام اپنی لاڈلی بہن کی پسند کو دھیان میں رکھ کر کیا تھا سارے گھر میں مہمانوں کی آمد سے چہل پہل شروع ہوگی تھی ہر طرف خوشی کا ماحول بناہوا تھا دوسری طرف دادی بھی ساحرکے بہرپور احتجاج کے باوجود ساری رسمیں زور شور سے پوری کررہی تھی ہلدی اور مہندی لگانے میں بھی انہوں نے اس کے غصے کو خاطر میں نا لیا وہ بس منہ بنا کر رہ گیا ساحر کے کچھ فرینڈز اور رشتےدار دو دن پہلے سے ہی آئے ہوئے تھے سارے گھر میں خاص سجاوٹ کی گئی تھی ناچنا گانا بڑے زوروں شوروں سے جاری تھی عمران اور الیشا بھی ہر رسم میں موجود ہوتے تھے دادی کی طبیعت تو پہلے ہی بہتر ہوگئی تھی اور اب جیسے اُنہیں نئی زندگی مل گئی ہے
**************************
ساحر نے بیک ویو مرر سے ایک نظر پچھلی سیٹ پر ڈالی سرخ رنگ کےلہنگے میں جو دادی نے اس کے لئے پسند کیا تھا چہرہ چہپاے شاید وہ اب بھی آنسو بہانے میں مصروف تھی کیونکہ گاڑی کے پرسکون ماحول میں اس کی ہلکی ہلکی ہچکیاں اسانی سے سنی جاسکتی تھی دادی اس کا ہاتھ تہامے اپنے ساتھ لگاکر بیٹھی تھی
یہ آخر اتنا رو کیوں رہی ہے رونا تو مجھے چاہئے
اس نے دل میں سوچااور نظریں پہیر کر کھڑکی کے باہر دیکھنے لگا گرمی کا موسم تھا اس لئے شادی کا فنکشن رات کا رکھا گیا تھا رخصتی ہوتے ہوتے کا کافی وقت ہوگی تھا گاڑی جیسے ہی پورچ کے نیچے رکی وہاں موجود مہمان عیشا اور دادی کو اندر لے آۓ جبکہ وہ اب بھی کار کے بو نٹ سے ٹیک لگاے کھڑا رہا آف وھائٹ سلوار سوٹ پر بلیک صافہ باندھے کلین شیو کئے دادی کی خواہش پر آنکھوں میں سرمہ لگاے اس وقت وہ ہمیشہ سے بے حد مختلف لگ رہا تھا شادی کے شور شرابے سے اس کا سر درد کرنے لگا تھا
یار تمہارا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے— شادی ہوی ہے مگر تم زرا بھی خوش نظر نہیں ارہے
امران نے شرارت سے کہتے ہوے خود بھی اس کے پاس کہڑا ہو گیا
اب کیا بھنگڑا کرکے اپنی خوشی دکھاوں
اس نے جل کر پوچھا
نہیں خیر اب ایسا بہی مت کرنا ورنہ لوگ کہیں گے لڑکا خوشی کے مارے پاگل ہی ہو گیا
وہ ہنسنے لگا
امران میں آلریڑی بہت ٹینشن میں ہوں بکواس کرکے مجھے اور پریشان مت کر
ارے اس میں ٹینشن کی کیا بات ہے یار
ہاں یہ جو بیوی نام کی بلا ہے آپ نے میرے سر ڈالی ہے تو آپ کو بہلا کیا ٹینشن
اے خبرداد جو میری بہن کو بلا کہا—– جب دیکہے گا نا تب پتا چلے گا بلا ہے کہ پری ہے
ساحر چپ رہا
یہ بتا جاوید کو کال کیا تھا
دو دن سے کوشش کر رہا ہو مگر کال لگ ہی نہیں رہا—— کافی میلز بھی کئے لیکن کوئ رپلاے نہیں ملا
ڈونٹ وری میں اسے بتا دونگا.—– تو جا بہت دیر ہو رہی ہے میری سویٹ کزن کم سالی کم بھابہی جان انتظار کر رہی ہوگی اور سن———
اس کے کان کے نزدیک آکر وہ دھیمی اواز میں کچھ کہنے لگا ساحر نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوے اسے گھورا
امران پٹ جاوگے مجھ سے
ساحر اب میں تمہاری بیوی کا کزن کم بہنوئ بھی ہو اس لئے زرا عزت کیا کرو میری سمجھے
امران نے ہنسی روک کر مصنوعی سنجیدگی سے کہا
ہاں میں تو مار مار کر عزت کرونگا تیری سالے تو بعد میں ملنا
جانتا ہوں سب ناٹک ہے اندر تو لڈو پھوٹ رہے ہیں
امران نے دور ہوتا ہوے کہا پھر بھی ساحر نے آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑ لیا لیکن اپنی ہنسی نہیں روک سکا
اندر سے بلاوا انے پر دونوں اندر آگے اندر سارے کزنس نے اسے گھیر لیا امران سب سے مل کر گھر چلا گیا اور وہ کزنس کے ساتھ دیر تک بیٹھا رہا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: