Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 30

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 30

–**–**–

پاپا……. میں واپس آنا چاہتی ہوں
رات کے دو بجے اس نے فیصلہ کرکے انہیں فون کیا
سب ٹھیک تو ہے نا بیٹا……..
اس وقت انڈیا میں ساڑھے سات بجے تھے اتنی رات گۓ جنت کے فون کرنے پر انہوں نے فکرمندی پوچھا
سب ٹھیک ہے پاپا……پر میں یہاں نہیں رہنا چاہتی
میں واپس گھر آنا چاہتی ہوں
یہاں میرا دل نہیں لگتا
مجھے سب کی بہت یاد آتی ہے
نا چاہتے ہوۓ بھی اس کا دل بھر آیا
کچھ دن مس کروگی ہم سب کو لیکن پھر من لگ جاۓ گا بیٹا……… تمہارے اچھے فیوچر کے لیے ہے یہ
ریحان نے اسے سمجھانا چاہا
نہیں پاپا مجھے نہیں پڑھنا
پلیز…… میں یہاں نہیں رہونگی اب
مجھے گھر انا ہے
وہ رودی تھی
چلو ٹھیک ہے میں کل ہی ارمان کو بھیج دونگا
ریحان نے ہار مانتے ہوۓ کہا جنت کے اس اچانک فیصلے پہ اسے کوئی حیرت اسلیے نہیں ہوئی کیونکہ وہ جانتا تھا جنت مشکل سے جانے کو راضی ہوئی تھی وہ بھی اس شرط پر کہ اگر اس کا دل نہیں لگا تو وہ بیچ سے چھوڑ کر اجاۓ گی
نہیں پاپا بھائی کو ڈسٹرب مت کیجیے میں خود اجاؤنگی………..
اس نے نارملی چند باتیں کی تاکہ وہ لوگ پریشان نا ہو اور پھر فون بند کردیا
………..
………
….
تم ہی نے کہا تھا نا جنت تمھے ایسے لڑکوں سے نپٹنا آتا ہے تم ان سے نہیں ڈرتی ان کا سامنہ کرنا جانتی ہو تو اب کیوں ایک لڑکے سے ڈر کر تم کالج چھوڑ کر جارہی ہو
اس نے صبح ہی صبح اپنی تیاری مکمل کرلی تھی وہ جانے کا فیصلہ کرچکی تھی لیکن حنا کب سے اسے روکنے میں لگی تھی
میں اسلیے نہیں جارہی ہوں حنا کیونکہ میں ایک لڑکے سے ڈر گئی بلکہ میں اسلیے جارہی ہوں کیونکہ وہ لڑکا سمر ہے اور اس سے نہیں لڑسکتی میں
بیگ بند کرکے وہ اس کی جانب دیکھ کر پہلی دفعہ بولی تھی
سمر……. کون سمر
حنا نے حیرانی نے پوچھا
سمر……….. سیم………..
میرا منگیتر
وہ رک کر بولی ساری رات جاگنے سے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئی تھی
کیا …….
حنا اٹھ کر اس کے مقابل کھڑی اسے شاک سی دیکھ رہی تھی
اتنے سالوں تک میں نے اس سے ملنے کی دعائیں کی ہے اسے اپنے لیے خدا سے مانگتی آئی ہوں ایک طرفہ محبت کرتے ہوۓ اتنی آگے نکل گئی کہ خود کو بھول چکی ہوں میں…….. لیکن اب جب وہ ملا تو کیسے میرا دل میرے خواب میری امیدیں سب ٹوٹ گئی حنا
وہ وہ نہیں ہے جسے میں نے چاہا وہ کوئی اور ہے…..اس کا یہ چہرہ دیکھ کر میری محبت کمزور پڑگئی حنا
میرے سارے اعتماد ٹوٹ گۓ میں خود بھی بہت کمزور ہوگئی ہوں نہیں لڑسکتی میں اس سے میرا یہاں سے چلے جانا ہے سہی ہے
اپنی اخری بات مکمل کرکے وہ بیگ کا ہینڈل تھامے روم. سے باہر نکل گئی وہ جانے کا طے کرچکی تھی اور اب بس اسے جانا تھا
جنت……..
حنا بھی اس کے پیچھے باہر نکلی
💜💜💜💜💜💜💜
لیزا کو اپنے کیے پر پچتاوا ہو رہا تھا کہ اُسنے ہنی کی بات مان کر اُسکا ساتھ دیا لیکن وہ بھی یہ نہیں جانتی تھی کے ہنی کیا کرنے والی ہے جنت کو روتے دیکھ اُسے بہت افسوس ہوا وہ بہت شرمندہ تھی اسی لیے اُسنے حنا سے فون کرکے معافی مانگی
تم نے جو غلطی کی ہے وہ معافی کے لائق نہیں ہے لیزا۔۔۔۔۔۔۔ جانتی ہو جنت اتنی ہرٹ ہوئی ہے کہ وہ کالج چھوڑ کر جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حنا کے الفاظوں نے اُسے اور شرمندہ کیا کالج آتے ہوئے جب اُسنے ہنی۔۔ سیم اور باقی سب کو ساتھ دیکھا تو اُن سے بات کرنے وہاں آگئی
آپ لوگوں نے جو کیا ٹھیک نہیں کیا
وہ اُن لوگو کہ پاس آکر بولی ہنی نے اُسے ناگواری سے دیکھا
۔۔ہمیں پتہ ہے کیا ٹھیک ہے کیا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔تم اپنا راستہ ناپو
وکی نے عاجزی سے کہا جس پر سیم نے اُسکی جانب دیکھا تو وہ چپ ہو گیا
میں آپ لوگو کو صرف یہ بتانے آئی تھی کے اس حرکت سے جنت بہت ہرٹ ہوئی ہے۔۔۔۔اور وہ کالج چھوڑ کر جا رہی ہے سوچا کچھ پچھتا وا ہو جائے آپ لوگوں کو
وہ غصے سے بولی اور وہاں سے چلی گئی
یہ صحیح نہیں ہوا سیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعیب نے اُسکے جانے کے بعد کہا اُسے بھی بہت برا لگا تھا اور وہ جانتا تھا سیم کو بھی برا لگا ہے کیوں کہ وہ اتنی دیر سے اُن کے درمیان خاموش بیٹھا تھا
اُسنے اب تک ایک بھی بات نہیں کی تھی نہ کسی بات کا جواب دیا تھا
کیا صحیح نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُسنے بھی تو سیم کو چیلیج کیا تھا اُسکی جھوٹی کمپلینٹ کی تب کیا صحیح تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک چھوٹی سی بات کو لے کر اتنا ریکٹ کیوں کررہے ہو تم
ہنی بھڑک کر بولی
۔۔۔۔۔۔ایک عزت دار لڑکی کا جب چار لوگو کے بیچ تماشا بنتا ہے نہ تو وہ اُسکے لیے بہت بڑی بات ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر یہ تم جیسی لڑکیاں نہیں سمجھ سکتی
شعیب نے دو ٹوک جواب دیا
How dare you۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی کو اُسکی بات سے مرچی لگ گئی وہ زور سے بولی
Stop it۔۔۔۔۔۔۔and please leave me alone
سیم نے پہلی دفعہ انکی لڑائی سے عاجز آکر بولا
سیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
I said leave me alone۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی نے اپنی صفائی دینی چاہی تو وہ اُسے غصے سے دیکھ کر بولا پھر خود ہی باہر آگیا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرلی
میں کیوں اُسکے بارے میں اتنا سوچ رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے کیوں برا لگ رہا ہے اُسکا ہرٹ ہونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر وہ کالج چھوڑ کر جارہی ہے تو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے کیوں فرق پڑ رہا ہے۔۔۔۔۔۔وہ میری کوئی نہیں تھی
وہ خود سے ہی مخاطب تھا اپنی اُلجھن کو سلجھانے کی کوشش کر رہا تھا
اگر کوئی نہیں تھی تو انجان کیوں نہیں لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُسکا چہرہ بہت اپنا اپنا سا لگتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ایسا لگتا تھا بہت پہلے سے جانتا ہوں اُسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُسکی آنکھیں بہت جانی پہچانی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اسکا نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکا نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک پل میں اسکے تاثرات بدلے تھے و بہت سنجیدگی سے کچھ سوچ رہا تھا پھر ایکدم سے گاڑی کو بریک لگایا موبائل نکال کر اُسنے جلدی سے شعیب کو كال ملائی
ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شعیب مجھے جنت کا پورا نام جاننا ہے ابھی
وہ جلدی جلدی بولا سامنے سے شعیب نے جواب دیا اور وہ فون کو کان سے لگائیے اگلے پانچ چھ منٹ بیٹھا رہا
ہیلو سیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جنت کا پورا نام ہے۔۔۔۔۔۔۔جنت ریحان علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعیب نے تقریبا چھ منٹ بعد جواب دیا
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسنے یقین کرنا چاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنّت ریحان علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعیب نے دوبارہ بتایا سیم نے اپنے دوسرے کان کو بہت سختی پکڑا اس کے کان میں موجود بالی سے خون نکلنے لگا تھا شعیب نے دو تین بار ہیلو کہا لیکن اُسنے کوئی جواب نہیں دیا فون دھیرے سے چھوٹ کر اس کے پیر پر گرا تھا
اُسنے تھکے تھکے انداز میں سیٹ سے سر ٹیکاتے ہوئے آنکھیں بند کر لی کان کو اُسے طرح پکڑے
جنّت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے آواز اُس کا نام دہراتا وہ اُسکی موجودگی کے ھر لمحے کو یاد کر رہا تھا پہلی بار جب ہوسٹل میں وہ اُسکے قریب تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔کالج میں جب انکی تکرار ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ریسٹورانٹ میں جب ایکسیڈنٹلی ملے تھے۔۔۔۔۔۔لائبریری میں اسکا گرنا۔۔۔۔۔۔۔اور کل رات اسکا اپنے سینے سے لگنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
……فائزہ اور الیشا کے دونوں بیٹے ان کے گلشن کے پھول بن کر آۓ تھے جو سب کو بے حد عزیز تھے الیشا نے خود اپنے بیٹے کا نام کبیر رکھا تھا جب کے عیشا کو اپنے بھائی سے ملتا جلتا نام رکھنے کی خوشی تھی اسلیے اسنے ارمان نام دیا تھا ارمان اور کبیر سب کی آنکھوں کے تارے بنے ہوۓ تھے
ایک سال بعد عیشا اور ساحر کی زندگی میں عائشہ کی آمد ہوئی تھی جو انکی دنیا میں بہاریں لے آئیں ساحر کی تو اس میں جان بستی تھی اس کی پچھلی زندگی میں جو اپنوں کی کمی تھی ان کو پورا کیا تھا اس کی معصوم سی بیٹی نے ………اس کی محبت عیشا کے لیے اور بڑھ گئی تھی عائشہ کے دو سال بعد سمر نے دنیا میں آکر ان کی
فیمیلی کو مکمل کیا تھا
ریحان اور فائزہ کی زندگی میں ارمان کے پانچ سال بعد جنت کا اضافہ ہوا جو گھر بھر کی لاڈلی اور دادا کی جان بن گئی یوسف صاحب اپنے سب ناتیوں میں اسے سب سے زیادہ محبت کرتے تھے اور کبیر اور ارمان اس بات پر ہمیشہ شکایت کرتے تھے
کبیر الیشا اور امران کا اکلوتا بیٹا تھا کیونکہ کچھ پریشانیوں کی وجہ سے وہ دوبارہ ماں نہیں بن سکتی تھی پر وہ دونوں اللہ کی رضا میں خوش تھے اور کبیر سے بے انتہا محبت کرتے تھے اس کی ہر خواہش پوری کی جاتی تھی
تین الگ گھر لیکن ایک دنیا تھی سب کی جس میں خوشیاں ہی خوشیاں تھی لیکن ان خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی یا شاید ان کے رشتے میں آزمائش کا وقت اگیا تھا عیشا کے ابو کو دل کا دورہ پڑا اور ان کی حالت بہت نازک ہوگئی تھی سب ہی اس حالت میں بہت پریشان تھے اور ایک دوسرے کا سہارا بنے ہوۓ تھے ڈاکٹر نے اپریشن کا کہا تھا لیکن ایک ڈر نے سب کو گھیرا ہوا تھا اور شاید انہیں خود بھی اندازہ ہوچکا تھا انہیں کوئی شکایت نہیں تھی زندگی سے نا کوئی فکر تھی بس وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے بعد یہ گھر اسی طرح رہے ان لوگوں کا پیار ان کو ہمیشہ جوڑے رکھے اسلیے انہوں نے سب کے سامنے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ جنت اور سمر کا نکاح کردیا جاۓ ……اس وقت سمر کی عمر سات سال اور جنت صرف پانچ سال کی تھی عمران تو ان کا اپنا ہی تھا ساحر کو بھی وہ اس فیمیلی کے ساتھ ایک مضبوط رشتے میں باندھ دینا چاہتے ہے جنت انہیں بے حد عزیز تھی اس رشتے کے زریعے وہ اسکی طرف سے بھی مطمئن ہوجانا چاہتے تھے
ریحان تو بخوشی راضی ہوگیا تھا لیکن ساحر کو اس نکاح سے اعترض تھا
لیکن کیوں ساحر
عیشا نے اس کے اعتراض کی وجہ جاننی چاہی
مجھے اس رشتے سے اعتراض نہیں ہے عیشا مجھے اس عمر میں انکا نکاح کرنے سے اعتراض ہے دونوں بچے ہے…….. انہیں اس لفظ کی بھی پہچان نہیں ہے ابھی ……اور اس عمر میں ان کا نکاح کرنا کہاں کی عقلمدی ہے ………..
لیکن ساحر ابو……..
وہ ڈر رہی تھی اپنے ابو کی زندگی کے لیے ساحر اس کی پریشانی سمجھ سکتا تھا لیکن وہ اپنی جگہ سہی تھا
میں سمجھتا ہوں عیشا اور جو وہ چاہتے ہے نا وہی ہوگا بلکہ میں بھی بہت خوش ہوں اس بات سے لیکن ایسے نکاح کرواکے ہم اس طرح بچوں پر اپنی مرضی تھوپ نہیں سکتے یہ ان کے ساتھ زیادتی ہوگی کیا ابو کو اچھا لگے گا اگر بعد میں ان دونوں میں سے کسی کو اس رشتے سے اعتراض ہوا اور اس وجہ ہم سب کے بیچ دراد پڑجاۓ
وہ عیشا کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر بولا عیشا نے خاموش نظریں جھکالیں اور اس کے سینے سے لگ گئی وہ اسے کیسے کہتی کہ سہی ہو یا غلط وہ بس ابو کے لیے یہ کرنا چاہتی ہے کتنی بھی محبت کیوں نا لیکن جب بات شوہر اور باپ کے بیچ کی ہوتی ہے تو سب سے زیادہ مشکل میں ایک عورت ہی پڑجاتی ہے جسے باپ کا بھی خیال کرنا ہے اور شوہر کا بھی
ہر انسان کے جزبات سوچ خیال الگ ہوتے ہے اور ہر کسی کو اپنی لائف کا یہ فیصلہ لینے کا حق ہے ہم اپنے بچوں سے یہ حق نہیں چھین سکتے ….. جنت بھی مجھے اتنی ہی عزیز ہے جتنے عائشہ اور سمر…… اور میں ان دونوں کا خیال کرکے کے ہی یہ کہہ رہا ہوں…..مجھے غلط مت سمجھو عیشا میں اس رشتے کے نہیں صرف بچپن کے نکاح کے خلاف ہوں یہ صرف غلط ہی نہیں بلکہ قانوناً جرم بھی ہے تم جانتی ہو نا
وہ نرمی سے اسے سمجھاتے ہوۓ بولا
میں یہ بھی جانتی ہوں ساحر کہ میرے ابو نے پہلی بار کوئی خواہش کی ہے اور وہ بھی اس حالت میں
وہ سر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوۓ بولی
ان کی یہ خواہش ایک دن ضرور پوری ہوگی
ساحر نے اس کے گال پر بہتے انسو صاف کرتے ہوۓ اسے یقین دلایا
وہ خاموش ہوگئی ساحر بہت کم ہی کسی بات پر انکار کرتا تھا اس نے عیشا کی ہر خواہش پوری کی تھی تو اب عیشا کیسے اس کے انکار کو اہمیت نا دیتی
💙💙💙💙
ساحر نے خود انہیں اس بات کے لیے راضی کرلیا تھا کہ اس وقت نکاح کی بجاۓ بس منگنی کرکے بات پکی کرلی جاۓ اور جس طرح سے اس نے انہیں سمجھایا تھا انہیں ساحر کی بات بلکل سہی لگی تھی اور اس طرح ان دونوں کی انگلیوں میں ایک دوسرے کے نام کی انگھوٹیاں پہنائی جاچکی تھی سب نے اس بات کو خوشدلی سے لیا سواۓ ریحان کے اسے ساحر کا یہ فیصلہ غلط لگا تھا اور کہیں نا کہیں اس کے دل میں یہ بات گھر کر گئی تھی لیکن اس نے بھی موقع کی نزاکت کو دیکھ کر نارمل رہتے ہوۓ سمجھداری دکھائی اور خوشی کا مظاہرہ کیا اس وقت اس کے لیے اپنے ابو کی طبیعت سے زیادہ اہم اور کچھ نہیں تھا اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر اسے بہت اچھا لگا تھا لیکن یہ ان کی زندگی کی اخری خوشی ثابت ہوئی تھی
😔😔😔😔😔
یوسف صاحب کو گزرے چھ دن ہوچکے تھی عیشا بلکل ٹھیک نہیں تھی اور اس دوران ساحر نے اسے بہت سنبھالا تھا ساتھ اپنے بچوں کا بھی خود ہی خیال رکھتا رہا اس نے عیشا کو گھر لے جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ جتنے دن وہ یہاں رہتی اپنے ابو کی یادیں اسے رلاتی رہتی وہ بے دلی سے جانے کو راضی ہوئی تھی گھر سے نکلتے وقت وہ ریحان کے گلے لگ کر ایک بار پھر رونے لگی تھی اور ریحان نے بھی اس کا ساتھ دیا عمران اور الیشا امی کو لیکر ہسپتال گئے تھے کیوں کے انکی طبیعت بھی اکثر خراب رہتی تھی
خود کو سمبھالیے ریحان بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔اگر آپ کمزور پڑ جاینگے تو
پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی یہ ہمدردی اپنے پاس ہی رکھو
ریحان نے بہت ہی تلخ لہجے میں اس کی بات کو کاٹا وہ حیران ہوا اور اسے برا بھی لگا لیکن اس نے نظر انداز کرنا چاہا
بہت مہربانی آپ نے اپنا قیمتی وقت دے کر اتنے دن ہم لوگوں کے دکھ میں شرکت کی احسان کیا ہم پر
وہ سرد روی سے بولا
بھائی جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیشا نے اسے حیرانی سے دیکھا وہ بہت ہی نرم مزاج تھا خاص طور پر ساحر سے ہمیشہ بہت اپنائیت سے بات کرتا تھا
عیشو تم نے دیکھا نہ اس نے کیا کیا ابو کی آخری خواہش تک کا مان نہیں رکھا اس نے اور یہ دکھا رہا ہے کہ یہ بہت دکھی ہے اُن کے جانے سے ۔۔,۔۔۔۔ جنت اور سمر کا نکاح ہوتے دیکھنا چاہتے تھے وہ اور اس کی وجہ سے اُن کی یہ خواہش ادھُوری رہ گئی۔۔۔۔۔کیوں کے یہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساحر کو غصے سے دیکھ کر بولا
آپ غلط سمجھ رہے ہیں ابو بھی اس بات سے متفق تھے کے بچپن کا نکاح بہتر نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غلط ہر کوئی سمجھ رہا ہے مگر میں نہیں یہ بہانہ بند کردو میں جانتا ہوں تم نے اس نکاح سے انکار اسلئے نہیں کیا کیوں کے تمہیں بچپن کے نکاح میں برائی نظر آتی ہے
ریحان نے اس کی بات کاٹ کر کہا اُسکی آواز اتنی بلند تھی کہ فائزہ جلدی سے روم سے نکل کر باہر آئی
تو آپ کو کیا لگتا ہے میں نے کیوں انکار کیاہوگا
ساحر کو اُسکی یہ بہت بہت بری لگی وہ بمشکل اپنا غصہ قابو کرتے ہوئے بولا
تم یہ رشتہ جوڑنا چاہتے ہی نہیں تھے کیوں کے ہم لوگ حیثیت میں تمہارے برابر نہیں ہے وہ تو صرف ابو کو دلاسہ دینے کے لیے یہ جھوٹ بولا تم نے اور یہ نام کی منگنی کروادی کیوں کے منگنی تو کبھی بھی آسانی سے توڑی جاسکتی ہے
نہیں بھائی ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیشا نے روتے ہوئے کہا
ایسا ہی ہے عیشو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابو بیٹے کی طرح چاہتے تھے اسے بہت بہروسہ کرتے تھے اس پر اس لیے یہ بات بھی مان لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگا
اُسکی آنکھیں غصے اور رونے سے سرخ تھی
اگر ارادہ غلط ہی ہوتا تو نکاح توڑنا بھی مشکل نہیں ہے جو منگنی جھوٹی کرواونگا۔۔۔۔۔۔
ساحر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز
عیشا نے ساحر کو غصے میں آتے دیکھ کر جلدی سے کہا
گھر چلو۔۔۔۔۔۔
ریحان آپ اندر چلیے
فائزہ نے ریحان کو وہاں سے ہٹانا چاہا مگر اس نے فائزہ کو پیچھے کیا
میری بہن بہت معصوم ہے اپنی ان باتوں سے اُسے بہلا سکتے ہو تم مجھے نہیں
وہ عیشا کا ہاتھ تھامے جانے کے لیے پلٹا تھا لیکن ریحان کی بات پر رک کر اُسے دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے جھوٹ بولنے کی یا کسی کو بہلانے کی میں نے جو کیا اُسکی بس ایک ہی وجہ تھی جو میں آپ سب کو بتا چکا ہو۔۔۔۔۔اور بے معنی حیثیت کا راگ مت لگائیے عیشا بھی اسی گھر سے تعلق رکھتی اگر بات حیثیت کی ہوتی تو یہ رشتہ بھی نہیں جڑتا کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احسان جتا رہے ہو ہم پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بھیک مانگنے نہیں آئے تھے کے شادی کرلو عیشا سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریحان ایک قدم آگے بڑھ کر بولا
بس کیجئے بھائی جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عیشا منّت بھرے لہجے میں بولی
جس کے اپنے ماں باپ نہیں ہے وہ کیا سمجھے گا کے باپ کی آخری خواہش کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ریحان غصے سے بڑبڑاتا رہا
بس بہت ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب حد پار ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں صرف اسلئے سن رہا ہو کیوں کے میں عیشا کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا مگر آپ کو کوئی حق نہیں ہے بدلے میں جو دل کرے آپ بولتے جائے۔۔۔۔۔۔۔۔میں جو کرتا ہوں سامنے کرتا ہوں ظاہر کرکے کرتا ہوں میری فطرت میں دھوکہ اور بے ایمانی نہیں ہے منع کرنا ہوتا تو صاف منع کردیتا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے آپ میرا۔۔۔۔ نہ کسی کا ڈر ہے مجھے اور میں محتاج نہیں ہو آپکو صفائی دینے کے لئے جو سمجھنا چاہتے ہیں سمجھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عیشا چلو یہاں سے
ریحان کی بات پر بہت ہی سختی سے جواب دیکر یہ نے عیشا کا ہاتھ پکڑا تھا
میری بہن تمہارے ساتھ نہیں جائیگی
ریحان نے عیشا کا بازو پکڑ کر اُسے روکا
ریحان یہ کیا کر رہے ہیں آپ
فائزہ اُسکی بیوقوفی پر حیران پریشان ہو کر بولی
یہ میری بیوی ہے اسے روکنے کا کوئی حق نہیں ہے تمہیں ۔۔۔۔۔۔
عیشا کے ہاتھ کو مضبوط پکڑتے ہوئے و آپ سے سیدھے تم پر آیا تھا
یہ انسان تمہارے لائق نہیں ہے عیشو بہت خودغرض ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔مت جاؤ اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔
ریحان نے اُسکی بازو چھوڑ دیا تھا اور سمجھا رہا تھا
بھائی جان پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو پتہ بھی ہے کے آپ کیا کہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں مجھے پتہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں چاہتا ہوں تم اپنے بھائی کی خاطر اپنے ابو کی خاطر اس انسان سے سارے رشتے توڑ دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریحان کے اتنی بڑی بات کہنے پر وہ بہت حیران ہوئی تھی اسی وقت ساحر نے ایکدم سے اُسکا ہاتھ چھوڑا اُسکے چہرے پر وہ گہری سنجیدگی اور غصّہ باسانی دیکھ سکتی تھی وہ بے یقینی سے ریحان کو دیکھ رہا تھا اتنی بڑی بات ریحان کے منہ سے سن کر اُسے بھی یقین نہیں ہورہا تھا پھر اُس نے عیشا کی جانب دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیصلہ کرلو کے تمہیں کیا کرنا ہے میں باہر جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔اور اگر میرے ساتھ آوگی تو دل مضبوط کرکے آنا کیوں کے اب واپسی کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگا تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے بہت سوچ کر یہ بات کہی تھی اور اس کی جانب دیکھتا ہوا باہر نکل گیا وہ زمین پر گرنے والے انداز میں بیٹھی تھی فائزہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر اُسے سہارا دیا وہ اس وقت خود کو بےحد کمزور محسوس کررہی تھی وہ ایسے موڑ پر کھڑی تھی جہاں اُسے ایک راستہ چننا تھا وہ دونوں میں سے ایک کو کیسے چھوڑ سکتی تھی دونوں اُسکی زندگی کا حصہ تھے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی بھائی جو اُس سے بہت محبت کرنے والا تھا اُسکی خوشیوں کا خیال کرنے والا تھا اور ساحر جس نے ہر بار ایک اچھا شوہر ہونے کا ثبوت دیا تھا اُسکی کتنی بڑی بڑی غلطیوں کو معاف کے دیا تھا اُسکی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیا تھا اس کے لیے ساحر غلط نہیں تھا اور نہ ریحان
وہ جذباتی ہو کر یہ بات کررہا تھا وہ خود ہمیشہ سے ساحر کو اُسکے ساتھ خوش دیکھنا چاہتا تھا اُسکے پاس سوچنے کے لئے اتنا وقت نہیں تھا وہ جانتی تھی ساحر غصے میں کچھ بھی کرسکتا ہے وہ اسے کھو نہیں سکتی تھی اُس سے جدا ہونے کا خیال بھی عیشا کے لیے خوفناک تھا وہ جلدی سے اٹھی اور آنسو صاف کرتے ہوئے باہر جانے لگی
عیشو ۔۔۔۔۔۔۔
ریحان نے اسے دھیرے سے آواز دی
مجھے جانے دیجئے بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ساحر سے ہی میری زندگی ہے میں اُن کے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور میں۔۔۔۔۔۔۔۔میں کچھ نہیں تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے بھائی سے رشتہ توڑ دوگی
نہیں بھائی ۔۔۔۔۔۔۔میں ساحر کو منالونگی سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکے گلے لگ کر بولی ریحان نے کچھ نہیں کہا پھر فائزہ سے بھی گلے لگ کر بہت روئی اور جلدی سے باہر آئی ساحر کی گاڑی سامنے ہی کھڑی تھی وہ آکر اندر بیٹھ گئی ساحر نے گاڑی سٹارٹ کی اور سپیڈ سے آگے بڑھا لی ایک بار بھی عیشا کی جانب نہیں دیکھا وہ اپنے گھر کو نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھتی رہی ابھی اُس کے ابو کا غم نہیں بھولا تھا کے یہ ایک نئی پریشانی نے اسے گھیر لیا تھا بہت بری طرح پھنس گئی تھی وہ کسی ایک کی بھی جانب سے بولتی تو دوسرے کو کھو دیتی
💜💜💜💜💜💜💜
واپس آنے کے بعد سے اگلے دو گھنٹے تک ساحر کی خاموشی نے اسے کچھ کہنے نہیں دیا وہ بہت غصے میں تھا اگر وہ کچھ کہتی تو شاید اور ناراض ہوتا وہ آکر صوفے پر اُس کے قریب بیٹھی اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تو ساحر نے اُسکی جانب دیکھا
کیا تمہیں بھی میں غلط لگتا ہوں عیشا
کیا تمہیں لگتا ہے کے تمہارے بھائی نے جس طرح مجھ سے بات کی وہ صحیح ہے
کیا میں حیثیت کا فرق کرنے والوں میں سے ہوں
کیا میں فریبی ہو
کتنا بےعزت کیا انہوں نے مجھے ھر بات چوٹ پہنچانے والی کی ۔۔۔۔۔ پھر بھی انکی ہر بات کو بھول سکتا ہوں میں لیکن ۔۔۔۔۔۔۔انھونے تمہیں مجھ سے الگ کرنے کی بات کی ۔۔۔۔۔۔۔کتنی آسانی سے کہہ دیا انھونے کے توڑ دو رشتہ چھوڑ دو مجھے میں اُس انسان کو کیسے معاف کردو جو تمہیں مجھ سے الگ کرنے کی کوشش کر رہا ہو عیشا بھلے ہی وہ تمہارا بھائی ہے لیکن جو بھی تمہیں مجھ سے دور کرنا چاہے گا وہ میرا دشمن ہوگا
وہ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی کچھ نہیں بولی ساحر نے اُسکا ہاتھ اپنے لبوں پر رکھا
اگر تم مجھ سے محبت کرتی ہو تو میرا ساتھ دو گی مجھے سمجھوگی۔۔۔۔۔۔,مجھے بلکل اچھا نہیں لگےگا اگر تم اُسکا نام بھی میرے سامنے لو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسکے لہجے میں ریکویسٹ کے ساتھ تاکید بھی تھی وہ اس کی محبت کا امتحان لے رہا تھا وہ ہر بات کا جواب رکھتی تھی اُس سے اپنی باتیں منوانا جانتی تھی لیکن وہ اس وقت وہ ساحر تھا ہی نہیں جو اُسکی محبت میں ہر چیز کو پیچھے رکھتا تھا جو اسے کبھی روتے نہیں دیکھ سکتا تھا یہ کوئی اور تھا جسے اب تک اُسکے آنسو نظر بھی نہیں آئے تھے
میری بھی اپنی سیلف رسپکٹ ہے جو مجھے بہت عزیز ہے عیشا۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھیرے سے بولا تھا اسے اپنی بےعزتی بھول نہیں رہی تھی وہ ریحان کا ھر لفظ اپنے سینے پر خنجر کی طرح بار بار محسوس کررہا تھا اُس کے لیے اس وقت عیشا کے آنسو سے بڑھ کر اپنی انا ہو گئی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: