Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 32

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 32

–**–**–

سترہ سال گزر گئے۔۔۔۔۔۔۔۔جنّت کی یہ بچپن کی منگنی بھول بھی چکی ہوتی اگر دادی اسے بچپن سے لیکر اب تک یہ باتیں نہ بتاتی رہتی وہ ہر وقت سمر اور اُسکے بچپن کے قصے۔۔۔۔ عیشا کی باتیں بتاتی رہتی اُن کے اندر ایک امید تھی کے سب ٹھیک ہوگا عیشا واپس آئیگی۔۔۔۔۔۔۔اور جنّت اور سمر ایک ہونگے۔۔۔۔
انکی امید نے ہی جنّت کے اندر بھی کئی جذبات جگا دیے تھی و جانتی تھی ریحان کو بھی عیشا کی کمی محسوس ہوتی ہے بھلے وہ ظاہر نہ کرے لیکن ہر کوئی اسے یاد کرتا ہے اُن کی خوشیوں میں ایک کمی تھی جس کو صرف عیشا پوری کر سکتی تھی
اُس کے اور سمر کے رشتے پر یہ فاصلے بڑھے تھے اور اسی رشتے کی امید پر اُن فاصلوں کو ختم کر سکتی تھی وہ ہر پل ہر پہر سمر کو سوچتی تھی اُسکی یادیں اُسکی بچپن کی تصویریں جنّت کو بہت سکون دیتی تھی دھیرے دھیرے اُسے سمر سے محبت ہو گئی تھی ایک طرفہ۔۔۔۔۔۔ اُسے اپنی محبت پر یقین تھا اپنے انتظار پر یقین تھا وہ خدا سے دعا کرتی تھی کے سمر اُسے ملجائے پھوپھو واپس آجائے سب ٹھیک ہو جائے وہ فیصلہ کر چکی تھی کے اگر اُسکی زندگی میں کوی آئیگا تو وہ صرف سمر ہوگا وہ یہ بات ظاہر نہیں کرتی تھی لیکن سب سمجھتے تھے فائزہ کو بہت ڈر لگتا تھا کے اسکا دل نہ ٹوٹ جائیے اگر سمر نہ آیا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے دل کی ہر بات دو لوگوں سے شیئر کرتی تھی ایک تو دادی اور دوسرا کبیر جو ارمان کی بجائے جنّت کا بیسٹ فرنڈتھا وہ پہلے اُسے کبیر بھائی بُلاتی تھی لیکن کبیر کے جذبات جنّت کے لیے بھائی والے ہرگز نہیں تھے وہ دوست ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور دوستوں کو صرف نام سے بلایہ جاتا ہے ایسا کہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی جنت کے جذبات جو سمر کے لیے تھے اُن سے واقف تھا لیکن پھر بھی وہ خود کو جنت کی جانب جھکنے سے روک نہیں پایا جنّت کی سمر کے لیے محبت اُسے جنّت سے اور پیار کرنے پر مجبور کرتی تھی مگر وہ اس بات کو ظاہر نہیں کرتا تھا لیکن جنّت کا بہت خیال رکھتا تھا اُسکی محبت سچی تھی اس میں کوئی شک نہیں تھا لیکن جنّت کو سمر کے آگے کچھ نظر نہیں آتا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ یہ تک نہیں جانتی تھی کے ساحر اور عیشا کہاں ہے اور سمر اُسے کیسے ملےگا لیکن کوشش ہمیشہ کرتی رہتی تھی اُسنے فیصلہ کیا تھا کے وہ اپنی پڑھائی مکمل کرکے اُن لوگوں کے بارے میں پتہ لگائے گی لیکن ارمان کی بہت ضد تھی کے وہ لندن کے کالج سے پڑھے اس لیے اُسے مجبورا کالج میں داخلہ لینا پڑا اُسے پڑھنے لکھنے سے نہ کسی اور بات سے کوئی لگاؤ تھا اُس کا مقصد صرف سمر کے بارے میں جاننے کا تھا اُسے پانے کا تھا
💜💜💜💜💜💜
ہاسٹل سے ایئرپورٹ تک کے راستے میں اُس نے حنا سے اپنے دل کی ہر بات کہہ دی تھی سمر سے بچھڑنے اور عیشا سے متعلق ہر بات حنا اُسکے لیے کوئی غیر نہیں تھی اُسکے دوست تھی
تمہیں یہ بات کب پتہ چلی کے سیم ہی تمہارا کزن سمر ہے
وہ لوگ ائرپوٹ کے اندر کے ایریا میں آکر بیٹھے تھے
میں نے اُس کے گھر کمپلینٹ کرنے کے لیے اُس کا ایڈریس پتہ کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اور شام کو سوچا پارٹی میں جانے سے پہلے اُس ایڈریس پر لیٹر بھیج دوں تب اسکا نام پڑھا اسکا اور انکل کا نام دیکھ کر مجھے پتہ چل گیا کے وہ سمر ہے
اگر سمر نے اُس شام اُس سے بدلہ لینے کے لیے وہ سب کھیل نہیں کھیلا ہوتا تو وہ اُس سے اتنی ناراض نہیں ہوتی سمر کو اُس نے ہنی کے ساتھ واش روم سے نکلتے دیکھا تھا اُسے مال میں کسی لڑکی کے ساتھ دیکھا تھا پارٹی میں اسکا شراب پینا اور ہنی کے ساتھ ڈانس کرنا یہ سب باتیں اُس کے ذہن پر پتھر کی طرح برس رہی تھی
جنّت تمہیں اس طرح نہیں جانا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔ایک بار اُس سے بات تو کر لو۔۔۔۔۔
حنا نے کچھ دیر بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اُسے سمجھانے کی کوشش کی
بات کرکے کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔۔میرا چلے جانا ہی بہتر ہے
اتنے سالوں تک تم اسکا انتظار کرتی رہی ۔۔۔۔ اُس سے ملنے کے دعائیں کرتی رہی اور اب جب قسمت نے اُسے تم سے ملایا ہے تو یوں چلی جانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔اپنے ذہن میں اٹھتے سوالوں کا جواب لیے بغیر ۔۔۔۔اُسے بتائیے بغیر کے تم کون ہو ۔۔۔۔۔۔۔یہ جانے بغیر کے وہ کیا سوچتا ہے اس رشتے کو لیکر۔۔۔۔۔جو دکھائی دیتا ہے وہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا جنّت کبھی کبھی حقیقت الگ ہوتی ہے ظاہر سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مت جاؤ ایسے بیوقوفی ہے جنّت
بیوقوفی ہی سہی مگر میرے لیے صحیح ہے ۔۔۔ وہ میری محبت ڈیسورو نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔اُس کی دنیا اور میری دنیا بہت الگ ہے۔۔۔۔۔۔۔اسکی حقیقت کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنی محبت اُسکے قدموں میں نہیں رکھ سکتی اگر اُسنے مجھے ٹھکرا دیا تو۔۔۔۔۔۔ ابھی صرف میرا دل ٹوٹا ہے اُسکے بعد میں شاید جی بھی نہیں پاؤں گی اسلئے اچھا ہوگا کے میں اُس سے ملے بنا جیسے اب تک جیتی آئی ہوں ویسے ہی جیو بس فرق صرف اتنا ہوگا اب انتظار نہیں کرنا ہوگا نہ کوئی امید ہوگی اب بس اس حقیقت کو مان کر جینا ہوگا کے یہ ایک طرفہ محبت ہمیشہ ایک طرفہ ہی رہےگی
اور اپنی دادی سے کیا کہو گی اُن سے بھی یہ کہو گی کے آپ بھی اپنی بیٹی کو بھول جائیے آپ بھی اُس سے ملنے کی امید چھوڑ دیجئے کیونکہ میں ہار مان چکی ہو
حنا کی بات پر اُسنے خالی خالی نظروں سے اُسکے جانب دیکھا
پھوپھو کو واپس لانے کے لیے مجھے اس رشتے کی ضرورت نہیں میری محبت چاہے ادھوری رہے مگر دادی کی امید ضرور پوری ہوگی۔۔۔۔
وہ کچھ دیر سوچ نکر بولی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اُسے کرنا کیا ہے اُسے وقت جہاز کے نکلنے کا اعلان ہوا
مجھے جانا ہوگا
وہ حنا کی جانب دیکھ کرکے بولی
تم جہاں بھی رہو خوش رہو اور اللہ تمہاری ہر مشکل کو آسان کرے بس یہی چاہونگی میں
حنا نے اُسکا ہاتھ تھام کر سچے دل سے کہا
تھینکیو حنا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکے گلے سے لگ گئی
اپنے بے وفا صنم کی وجہ سے اپنی دوست کو چھوڑ کر جا رہی ہو تم
حنا اس سے الگ ہوتی خفگی سے بولی
I m sorry
جنت پھر سے رو دی تھی اُسے بھی اپنی پیاری سہیلی سے دور جانے کا بہت دیکھ تھا
مجھے بھول مت جانا اور مجھ سے ملتی رہنا انڈیا میں بھی
حنا نے تاکید کی جنت نے اپنا بیگ تھامے جانے لگی
اپنا خیال رکھنا
حنا نے اُسے جاتے دیکھ کرکے کہا اتنے کام دونوں کی دوستی تھی اُن کی لیکن بہت یادگار
💜💜💜💜💜💜💜
سیم تم کیوں اتنا مائنڈ کر رہے ہو اگر جاتی ہے تو جائے ہمیں اُس سے کیا لینا دینا
ہنی کو سمر کی خاموشی بہت بری لگ رہی تھی اُسے یقین نہیں ہو رہا تھا کے جنّت کو لیکر سیم اپ سیٹ ہے سیم نے اب بھی کوئی جواب نہیں دیا
میری سمجھ میں نہیں آرہا کے اُس معمولی سی لڑکی کے لیے ہم آپس میں کیوں لڑ رہے ہیں جو کیا اُسکے ساتھ بلکل صحیح کیا شی ڈسرو دھیس
وکی غصے سے بولا
جسٹ شٹ اپ اوکے
سیم اُس کی جانب پلٹا کر اُسے انگلی دکھاتے ہوئے وارن کر رہا تھا
سیم۔۔۔۔۔۔۔وہاٹ آر یو ڈوینگ,۔۔۔۔۔۔۔
ہنی نے حیرت سے پوچھا
کوئی بھی جنّت کے بارے میں الٹا سیدھا نہیں بولے گا
۔۔۔۔۔۔کوئی بھی نہیں
پہلے اُسنے وکی کی جانب دیکھ کر کہاں پھر ہنی کی جانب رخ کرکے کوئی بھی پر زور دیا
اُس انجان لڑکی کی لیے تم ہم اپنے دوستوں سے لڑ رہے ہو سیم
ہنی بہت حیران تھی اسکی باتوں سے
وہ انجان نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔ میری ہونے والی بیوی ہے اگر کسی نے بھی اُسکے خلاف کچھ بولا تو مجھے اچھا نہیں لگے گا
وہ جھنجھلا کر بولا کب سے اُن سب کی ایک ہی بات سے وہ بیزار ہو چکا تھا اُسکے بات سے سب سے زیادہ حیرت کا جھٹکا ہنی کو ہی لگ
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔۔۔۔وہ تمہاری ہونے والی بیوی کیسے ہو گئی
کاشف نے پوچھا
بچپن سے انگیجڈ ہے تو ہونے والی بیوی ہی ہوئی نہ ۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے بولا اور وہاں سے چلا گیا شعیب بھی اُس کے پیچھے چلا اُس سے بات کرنے کے لیے
کتنی آسانی سے کہہ دیا اُس نے۔۔۔۔ تمہارے منہ پر مار کر چلا گیا تمہارے ڈریمز کو۔۔۔۔۔۔۔اُس لڑکی کی وجہ سے جو کل تک اُس کی دشمن تھی اور اب ہونے والی بیوی ہو گئی
کاشف کے جانے کے بعد وکی اور ہنی دونوں ہی وہاں روح گئے تھے وکی نے موقع کے فائدہ اٹھایا
نہیں ۔۔۔۔سیم صرف میرا ہے میرے علاوہ کوئی لڑکی نہیں آسکتی اسکی زندگی میں
ہنی نے فوراً جواب دیا
تمہارے لیے سیم کو برداشت کیا ہے تو تمہارے لیے اُس لڑکی کو اسکی زندگی سے بھی نکال سکتا ہوں
کیسے۔۔۔۔۔۔۔
ہنی نے اس کی جانب دیکھا
تم اگر میرا ساتھ دو تو دونوں کے کام ہو جائینگے جنّت سے الگ کرکے سیم سے اپنا بدلہ بھی لے لونگا اور تمہارا بھی راستہ کلیئر ہو جائیگا
کیا کرنا ہوگا
ہنی نے اپنے آنسو صاف کیے
آگ تو الریڈی لگی ہوئی ہے بس تیل ڈالنا ہوگا
وکی نے کمینگی سے مسکراتے ہوئے جواب دیا
آئی ایم سوری۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا جنت کے بارے میں۔۔۔
وہ سمر کے پاس آئی تھی وکی کے کہنے پر
سیم نے اس کی بات سنی پر اُسکے جانب نہیں دیکھا
I love you Sam
کچھ دیر بعد ہنی نے کہا جس پر سمر نے حیرانی سے اُسے دیکھا
میں ہمیشہ تم سے پیار کرتی آئی ہوں جنت کے ساتھ جو کیا وہ بھی تمہارے لیے کیا ۔۔۔۔۔۔۔میرے لیے تم سے زیادہ امپورتنٹ کچھ نہیں ہے نہ مجھے جنت سے کوئی لینا دینا ہے نہ اُسکے جانے سے
مجھے بس تم سے مطلب ہے
میں یہ بھی جانتی ہوں کے تم جنّت سے پیار نہیں کرتے
میں تم سے بھی پیار نہیں کرتا
وہ فوراً بولا تھا
لیکن میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں جب کہ جنّت صرف تم سے نفرت کرتی ہے میں تم سے پیار کے بدلے پیار تو نہیں مانگ رہی مگر بس تم مجھ سے ناراض مت ہوا کرو سیم
ہنی اموشنلی کہتے ہوئے اچانک اُسکے سینے سے لگ گئی سیم کو پہلے یہ بہت عجیب لگا پھر اُسنے سر جھٹکتے ہوئے ہنی کو پیچھے کیا
پلیز ڈونٹ کراے۔۔۔۔۔۔۔میں تم سے ناراض نہیں ہوں
وہ نرمی سے بولا ہنی نے اُسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اپنے چہرے پر رکھا
تھینکیو۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی نے اپنے مصنوعی آنسووں سے سیم کو یہ جتانے کی کوشش کی کے وہ واقعی اس سے پیار کرتی ہیں
💜💜💜💜💜💜
جنّت واپس اپنے گھر آگئی تھی اس نے کسی پر یہ ظاہر نہیں کیا تھا کے اس کے واپس آنے کی وجہ کیا ہے لیکن وہ خود کو سمر کے بارے میں سوچنے سے ایک پل بھی روک نہیں سکتی تھی
سب سے ملنے کے بعد وہ اپنے روم میں آگئی تھی اور کبرڈ میں کچھ تلاش کررہی تھی ایک سرخ ڈبیہ نکال کر اس نے کھولی جس میں چھوٹی سے ڈائمنڈ رنگ تھی جو سمر کے نام سے اُسے پہنائی گئی تھی اور اس نے اب تک اُسے سمبھال کر رکھا تھا وہ رنگ اس کے لیے بہت اہمیت رکھتی تھی لیکن اب اُسے خود پر غصہ آرہا تھا اُسنے خود کے ساتھ بہت غلط کیا تھا آج اگر وہ اتنی ہرٹ ہوئی تھی تو صرف اپنی وجہ سے اس نے خود ہی اتنی امیدیں سجا لی تھی سمر نے کبھی نہیں کہا تھا کہ مجھے یاد کرو مجھ سے پیار کرو میرے بارے میں سوچتی رہو لیکن وہ خود ہی اتنی آگے نکل گئی کے اب واپس لوٹنا ناممکن تھا
وہ رنگ کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی کے کاش سمر سے ملاقات ہی نہ ہوئی تھی اس سے ایک طرفہ محبت کرنا اس سے کئی زیادہ بہتر تھا اس نے رنگ واپس رکھ کر بیڈ پر آگئی اُسکے موبائل پر مسلسل میسیج آرہے تھے اُسنے سمر کے خیالوں سے پیچھاچھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے موبائل پر دھیان دیا کسی انجام نمبر سے میسیج کیے گئے تھے اُسنے اوپن کیا تو سب سے پہلے اُسے تصویریں نظر آئی جو ہنی اور سمر کی تھی ایک تصویر میں ہنی سمر کے سینے سے لگی ہوئی تھی اور سمر کا ہاتھ اُسکے شولڈر پر تھا جب کے دوسری تصویر میں سمر کا ہاتھ ہنی کے چہرے پر رکھا تھا اور وہ مسکرا رہا تھا
ساتھ ہی نیچے کچھ لکھا ہوا تھا
ہیلو جنّت آئے ایم وکی۔۔۔۔۔۔
ریئلی سوری جو تھرٹی فرسٹ کی نائٹ کو ہوا وہ بہت غلط تھا لیکن سچ میں ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں پتہ تھا یہ سب ہنی اور سیم نے کیا ہے شاید تم سے کسی بات کا بدلہ لینے کے لیے ہماری غلطی اتنی ہی کے وہ دونوں ہمارے دوست ہے بہت پچھتاوا ہورہاہے آج اس بات کا کے سیم میرا دوست ہے
جس کی وجہ سے تمہیں کالج چھوڑنا پڑا جس نے سب کے سامنے تمہاری انسلٹ کی۔۔ ویسے۔۔اُسکے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔کیوں کے لوگوں کو تنگ کرنا اُسکے لیے کھیل بن گیا ہے افسوس کے اب تک میں بھی اسکا ساتھ دیتا آیا ہوں لیکن اس بار نہیں میں اب دوستی کے نام پر اُسکے غلط کاموں میں اسکا ساتھ نہیں دونگا ۔۔۔۔۔۔۔دیکھ رہی ہو نہ تم تمہارے جانے کا انہیں کوئی گلٹ نہیں ہو رہا بلکہ دونوں سیلیبریٹ کررہے ہیں
سب کی طرف سے میں تم سے معافی مانگتا ہوں سیم کو غلطی کا احساس ہو نہ ہو مجھے پتہ ہے کے اُسنے بہت غلط کیا ۔۔
اُسنے میسیج پڑھ کر موبائل کو بیزاری سے بیڈ پر پھینک دیا جس مقصد سے وکی نے اُسے وہ تصویریں بھیجی تھی شاید وہ کامیاب ہوا تھا اب تک تو وہ اس کشمکش نے تھی کے اُسنے واپس آکر صحیح کیا یہ غلط لیکن اب اُسے یقین ہو گیا تھا کے اسکا فیصلہ بلکل سہی ہے
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
چھ مہینے بعد ⁦❤️⁩⁦❤️
مام۔۔۔۔۔۔
سمر نے سیڑھیاں اُترتے ہوئے عیشا کو آواز دی وہ ڈائننگ ٹیبل پر اکیلی بیٹھی کسی گہری سوچ میں گم تھی سمر کے پکارنے پر بھی اُسے محسوس نہیں ہوا سمر کے ہاتھ آستین فولڈ کرتے کرتے رک گئے تھے اور وہ حیرت سے عیشا کو دیکھ رہا ہے اور جانتا تھا کے وہ کیا سوچ رہی ہے اندر آتی عائشہ سے اشارہ کرکے پوچھا تو اُسنے کندھے اچکا دیے
عائیش۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زور کی آواز میں عائشہ کو پکارتا اُسکے جانب بڑھا اُسکے آواز پر عیشا نے ہوش میں آتے ہوئے دونوں کی جانب دیکھا
۔تم میرے کمرے میں کیوں آئی تھی
اتنا چلا کیوں رہے ہو
عائشہ نے عاجزی سے کہا
منع کیا تھا نہ ۔۔۔۔۔۔
یہ گھر میرے ڈیڈ کا ہے میں کدھر بھی جاؤں تمہیں کیا
عائشہ نے شان سے جواب دیا عیشا اٹھ کر دونوں کے پاس آئی
کدھر بھی جاؤ مگر میرے روم میں آکر میری چیزیں مت یوز کرو
سمر نے غصے سے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا
سمر۔۔۔۔۔آشو۔۔۔۔۔
عیشا نے اُنکا جھگڑا روکنا چاہا
ہر چیز میرے ڈیڈ کے پیسے کی ہے میں یوز کروں گی
عائشہ ڈھٹائی سے بولی
ڈیڈ کا کاپی رائٹ ہے کیا تمہارے پاس۔۔۔۔
سٹاپ اٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کتنی بار منع کیا ہے تم دونوں کو کے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی مت کیا کرو
عائشہ کے جواب دینے سے پہلے عیشا نے سختی سے کہہ کے دونوں کو روک دیا
آپ کو بھی تو کتنی بار منع کیا ہے مام کے اتنا سوچ سوچ کے خود کو پریشان مت کیا کرو۔۔۔۔۔۔آپ سنتی ہو کیا
سمر نے اسی کے انداز میں سنجیدگی سے کہا
سمر۔۔۔۔۔۔
دوسروں کو یاد کرتے کرتے خود کو مت بھول جاؤ مام پلیز۔۔۔۔۔
وہ دوسرے نہیں ہے سمر۔۔۔۔۔۔۔
مام۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے جلدی سے اُسے گلے لگا لیا اس کے پہلے کے وہ اب رونے لگ جائے
مطلب تم دونوں لڑنے کا ناٹک کررہے تھے
عیشا کو سمر کی لڑائی کی وجہ سمجھ میں آگئی تھی
نہیں مام۔۔۔۔۔۔میں ریئلی اس سے بہت پریشان ہوں کوئی لڑکا دیکھ کر اس کو جلدی گھر سے آؤٹ کرو نا
سیم اُسی طرح سیریس ہوکر بولا جس پر عائشہ نے اُسے غصے سے گھورا
💜💜💜💜💜💜
عید کا دن تھا لیکن دل کو کسی گہری اُداسی نے گھیرا ہوا تھا اُسکے ہر عید خوشیوں سے بھرپور ہوتی تھی حالانکہ تب بھی سمر کی کمی تھی لیکن اب تو اُسکے ملنے کی امید بھی نہیں تھی اُس نے پستائی رنگ کا لمبا کرتا اور چوڑی دار پر ہلکا سا میک اپ کیا تھا خود کو نارمل رکھنے کے کوشش میں کو مصروفیت ڈھونڈ رہی تھی کچن میں کھڑی نظریں کھڑکی سے باہر اور دھیان میں کوئی اور
جنّت۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر کی آواز پر اُسنے اپنی آنکھوں کے کنارے صاف کیے اور مسکراتی ہوئی پلٹی
کبیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عید مبارک۔۔۔۔ اچھا ہوا تم آگئے۔۔۔۔۔ اب جلدی بتاؤ میں کیسی لگ رہی ہوں ۔۔۔۔۔اور ہاں آج میں نے خود شیر خورما بنایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تم ٹیسٹ کرکے بتاؤ کیسا لگ رہا ہے
وہ ایک کے پیچھے ایک بات کہتی واپس پلٹی تھی اور چھوٹے سے بول میں شیر خورمہ نکال کر اسکی جانب بڑھایا
رو رہی تھی تم۔۔۔۔۔۔۔
کبیر نے اُسکے بڑھے ہوئے پیالے کو نظر انداز کرتے ہوئے اُسے غور سے دیکھا
نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی
جھوٹ مت بولو جنّت ۔۔۔بتاؤ کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ نا چاہتے ہوئے بھی رو دی
جنّت ار یو اوکے۔۔۔۔
کبیر نے پریشان ہوکر پوچھا جنّت نے سے اثبات میں ہلا دیا
جب سے تم۔لندن سے واپس آئی ہو تم بہت بدل گئی ہو پہلے کی طرح نہیں ہو تم اب۔۔
سچ بتانا جنّت تمہارے واپس آنے کی وجہ صرف گھر کی یاد تھی یہ کچھ اور ۔۔۔
کیا وہاں کچھ ہوا تھا یا کسی نے تنگ کیا تھا تمہیں
کبیر نے اُسے جانچتے ہوئے پوچھا
ایسی کوئی بات نہیں ہے کبیر
وہ سے جھکا کر دھیرے سے بولی
سمر کو سوچ کر رو رہی ہو
کبیر نے پوچھا تو جنّت نے اُسکے جانب دیکھ کے سر اثبات میں ہلا دیا وجہ تو وہی تھا
چپ ہو جاؤ۔۔۔۔۔میرے پاس تمہارے لیے ایک گڈ نیوز ہے
وہ مسکرا کر بولا
کیا۔۔۔۔
تم سمر کو ڈھونڈنا چاہتی تھی نا ۔۔۔۔وہ لندن میں ہے۔۔۔۔۔۔۔
کبیر نے اُسے وہ بات بتائی جو وہ بہت پہلے جان چکی تھی اگر یہ بات پہلے اُسے پتہ چلتی تو شاید اُسکے خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا لیکن اب بس وہ خاموش کھڑی تھی اُسنے ے بات نہ اب تک دادی کو بتائی تھی نہ کبیر کو پتہ نہیں کیوں وہ ہمت نہیں کررہی تھی
اب بہت جلد تم اُس سے مل سکتی ہو۔۔۔۔ چاہو تو فون پر بھی بات کر سکتی ہو
تھینکیو کبیر۔۔۔۔۔۔۔
شیر خورمہ پلاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔آنسو تو نہیں گرائے نہ اس میں
وہ پیالا اُسکے ہاتھ سے لیتے ہوئے بولا وہ بمشکل مسکرائی
کبیر۔۔۔۔۔۔۔
وہ جانے کے لئے پلٹا تھا لیکن جنّت کی آواز پر مڑ کر دیکھا
اگر میں اُس سے ملی اور اُس نے مجھے پہچاننے سے انکار کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر اُس نے کہہ دیا کہ میں نہیں جانتا کسی جنّت کو مجھے نہیں یاد کوئی بچپن کی انگیجمنت تو۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگی اسکی بات سن کر کبیر مسکرایا
ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔بیوقوف ہوگا جو تمہیں پہچاننے سے انکار کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔کون اس خوش نصیبی سے منہ موڑنا چاہے گا کے ایک لڑکی اُس سے سالوں سے بے غرض محبت کرتی آرہی ہے خود سے زیادہ ساری دنیا سے زیادہ اُسے اہمیت دے رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی محبت میں شاید خود کو بھی بھول چکی ہے اُس لڑکی کو وہ کیسے نہیں پہنچانے گا جنّت
اُسنے جنّت کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا اُسکے لیے کتنا مشکل تھا جنّت کو سمر کا ذکر بھی کرتے دیکھ لیکن وہ خودغرض نہیں تھا وہ جنّت کی خوشی چاہتا تھا چاہے وہ سمر میں ہی کیوں نہ ۔۔۔۔۔۔
تھینکیو کبیر۔۔۔۔۔۔۔
جنّت نے اُسکے جانے کے بعد کہا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: