Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 33

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 33

–**–**–

جنّت یہاں آنا
دادی نے اپنے کمرے سے ہی اُسے آواز دی جب وہ ڈرائنگ روم میں کبیر سے باتیں کررہی تھی
جی دادی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کے کمرے میں آکر زمین پر بیٹھ گئی اور سر اُن کی گود میں رکھ دیا
ماشاءاللہ میری گڑیا بہت پیاری لگ رہی ہے کہیں میری ہی نظر نہ لگ جائے
وہ اُسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بولیں جنّت اُنھیں دیکھ کر مسکرائی
بلکل عیشا کا چہرہ نظر آتا ہے تم میں۔۔۔۔۔ وہ بھی اتنی ہی معصوم تھی اب تو برسوں ہو گئے کے چہرہ بھی نہیں دیکھا اسکا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی طرح اُسے دیکھتے ہوئے وہ اُداسی سے بولی
دادی آپ ہی کہتی ہونا کے عید کے دن اُداس باتیں نہیں کرتے
جنّت نے سر اٹھا کر اُنھیں اُن کی بات یاد دلائی
کچھ اور وقت کی بات ہے بس اُسکے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا آج کل دل کہہ رہا ہے کے بہت جلد میری گڑیا دلہن بن کے اپنی دادی کو چھوڑ کر جانے والی ہے میرے سمر کے ساتھ
دادی ہمیشہ کی کہیں ہوئی باتیں آج بھی کررہی تھی لیکن آج اُسے وہ باتیں تکلیف دے رہی تھی وہ خاموش اُنھیں سن رہی تھی
سمر کے آنے کے ساتھ ہی اس گھر کی کھوئی خوشیاں بھی لوٹ آئیگی۔۔۔۔میری بیٹی سے مل پاؤں گی میں اور میری پیاری گڑیا کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں لیکر آئے گا سمر
انہوں نے اسکا چہرہ اپنی جانب کیا تھا اور وہ سنجیدگی سے اُنھیں دیکھ رہی تھی
بہت جلد آئیگا وہ۔۔۔۔دیکھنا تم
تمہیں جب دیکھے گا نہ تو اپنی قسمت پر رشک کریگا وہ
میری گڑیا ہے ہی اتنی پیاری
لیکن وہ بھی کم نہیں ہوگا بلکل کسی شہزادے کی طرح آئیگا میری جنّت کو لینے
اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ پیار سے بولیں
بس کیجئے دادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔خود کو اور مجھے یہ جھوٹی تسلیاں دینا بند کیجئے۔۔۔۔۔
اُس سے اور برداشت بھی ہوا وہ انکے دونوں ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولی
وہ نہیں آئےگا۔۔۔۔۔کچھ نہیں بدلے گا ۔۔۔۔۔کوئی خوشی نہیں آنے والی۔۔۔۔۔ وہ کوئی شہزادہ نہیں ہے۔۔
نہ اسکی زندگی میں میری کوئی ضرورت ہے
وہ دادی کی غلط فہمی دور کرنا چاہتی تھی اب اُن سے کچھ نہیں چھپانا چاہتی تھی
جنّت۔۔۔۔۔تم ملی اُس سے۔۔۔۔۔بات کی اُس سے تم نے۔۔۔۔۔۔کہاں ہے وہ ۔۔۔کیسا ہے۔۔۔۔۔۔بتاؤ
دادی اُسکے بات پر بےچینی سے بولیں وہ دکھ سے اُنھیں دیکھنے لگی
ہاں دادی میں ملی اُس سے۔۔۔۔۔۔۔بہت خوش ہے وہ اپنی دنیا میں جو ہم سے بہت الگ ہے۔۔۔۔ جہاں ہماری کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔بھول چکا ہے وہ ہمیں آپ بھی بھول جائیے اور مجھے بھی بھولنے دیجئے دادی۔۔۔۔۔۔میں اور جھوٹے سپنے نہیں سجانا چاہتی۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رخ کر رونے لگی دادی نے اُسے گلے سے لگا لیا
مجھے معاف کر دے بیٹا۔۔۔۔۔ساری غلطی میری ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ میں خود غرضی میں بھول ہی گئی کے سب کچھ ہمارے سوچ کے مطابق نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔اپنی بیٹی کی چاہ میں میں نے تجھے بھی اپنے ساتھ امیدوں میں باندھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔میں نے تجھے اس رشتے کو بھولنے ہی نہیں دیا یہ بھی نہیں سوچا کے تیرے دل پے کیا گزرے گی
نہیں دادی۔۔۔۔۔۔۔ایسا مت بولو۔۔۔۔۔۔۔میرا دل ٹوٹے یہ چاہے جو بھی ہو لیکن آپ ٹینشن مت لینا پھوپھو ضرور واپس آئیں گی آپ اُن سے ضرور ملے گی
جنّت نے سے اٹھا کر کہا دادی کو اُسکے باتوں سے کیا دکھ ہوا ہوگا وہ اچھی طرح جانتی تھی
💜💜💜💜💜💜💜💜💜
گہری خاموشی چھائی تھی جو طوفان کے آنے سے پہلے ہوتی ہے پانچ لوگو کے ہوتے بھی اتنا سنّاٹا کے ہوا کی ہلکی سی سرسراہٹ بھی سنی جاسکتی تھی
سمر اور رومی سر جھکائے عدالت میں کھڑے تھے اُنہونے جو کارنامہ انجام دیا تھا اُسکے بعد جانتے تھی کے اُنھیں سزا ضرور ملےگی اور سامنے شاہی کرسی پر بیٹھی تھی اُن کے کیس کی جج گرین کلر کے سلور سوٹ میں چہرے پر غصّہ لیے منہ میں پان دبائے ۔۔۔۔۔انکے پیچھے رومی کی امی اور اسکا بھائی سیف پریشان سے کھڑے تھے جانے کیا ہونے والا تھا
بڑی ماں۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے کافی دیر کی خاموشی کے بعد اُنھیں پکارا لیکن اُنہونے ہاتھ کے اشارے سے اُسے چپ کرا دیا اور اٹھ کر مضبوط قدموں سے چل کر رومی کی جانب بڑھی
کون ہے لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑی ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔۔۔
رومی کی زبان کانپ رہی تھی سمر نے غصے سے اُسے دیکھ کر اشارہ کیا کے بنا ڈرے بولے بڑی ماں نے سمر کی جانب رخ کیا
چل بیٹا تو ہی بول لے۔۔۔۔۔۔
بڑی ماں۔۔۔۔۔۔وہ میرے کالج میں ہے پڑھتی ہے
بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ کو بہت پسند آئے گی
سمر نے سوچ سوچ کر جواب دیا
میری پسند سے کیا لینا دینا اگر میری پسند سے مطلب ہوتا تو یوں خود ہی لڑکی کو چن کر اپنا فیصلہ نہیں سنا دیتا یہ
وہ رومی کی طرف اشارہ کرکے بولیں تھی
فیصلہ نہیں سنایا اماں۔۔۔۔۔۔بس
پوچھ رہا ہے آپ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے اس سے مل لو ایک بار۔۔۔کیسی لڑکی ہے آپ ہی بہتر سمجھ سکتی ہے نہ
رومی کی امی نے اپنے بیٹے کی طرفداری کرنے چاہی بڑی ماں نے سر گھما کر اُنھیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تو وہ گردن جھکا کر رہ گئی
اگر اسے مجھ پر یہ بہروسہ نہیں تھا کے میں اس کے لیے اچھی لڑکی چن سکتی ہو تو مجھے اُس سے ملوانا بھی کیوں چاہتا ہے ۔۔۔عشق کر ہی لیا ہے تو اب آگے بھی خود ہی سب کرلے
وہ دوبارہ سمر کی جانب دیکھ کر بولیں اور ایک نظر رومی کو دیکھا
بڑی ماں۔۔۔۔۔۔
رومی عشق نہیں کرتا اُس سے
بلکہ یہ تو پیار محبت میں مانتا ہی نہیں بلکل میری طرح
سمر نے آج کسی بھی طرح بڑی ماں کو منانا تھا اپنے دوست کی محبت کی خاطر
وہ لڑکی اسے اسلئے پسند آئی کیوں کے
۔۔۔وہ بلکل آپ جیسی ہے
وہ رک کر بولا بڑی میں نے آنکھیں سکیڑ کے اُسے دیکھا
ہاں مطلب آپ کی ہی طرح سوچتی ہے آپ کی جیسی باتیں کرتی ہے۔۔۔۔۔
بہت لوونگ ہے
بیوٹیفل بھی بلکل آپ جیسی
اور اُسکے بھی ادھر بلیک سپوٹ ہے
اُسنے بڑی ماں کے ٹھوڑی پر موجود تِل اشارے سے بتایا اور رومی نے اس کے جھوٹ پر اُسے حیرت سے دیکھا
آپ رومی کی فیوریٹ ہے نہ تو وہ لڑکی بھی آپ کے جیسی چاہتا ہے لیکن اگر آپ چاہتے ہو تو وہ کسی اور سے شادی کر لیگا
اسکی بات سن کر بڑی ماں نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے رومی کی جانب دیکھا
اُس لڑکی کے گھر جانے کے بعد
اُس کے ماں باپ سے ملنے کے بعد میں طے کرونگی کے وہ اس گھر کی بہو بننے لائق ہے یا نہیں
بڑی ماں سخت ضرور تھی لیکن اپنے دونوں پوتوں سے پیار بہت کرتی تھی کسی کی ہمت نہیں ہورہی تھی اُن سے بات کرنے کی کیوں کے وہ پرانے خیالات کی تھیں اور انہیں لڑکے لڑکی کا ملنا جلنا پسند نہیں تھا جب کے رومی ایک لڑکی پر اپنا دل۔ہار چکا تھا اور کسی بھی صورت اُسے ہی اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا
تھینکیو بڑی ماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رومی نے بڑی ماں کو جاتے دیکھ دھیرے سے کہا اُن کے جانے کے بعد سمر نے ہنستے ہوئے رومی کو گلے لگا لیا
رومی کی امی نے دونوں کو شور نہ کرنے کا اشارہ کیا
خوش رہو
وہ سمر کو پیار سے دیکھتے ہوئے بولیں رومی اور سمر گھر سے باہر نکلے لیکن رومی اب بھی ٹینشن میں تھا
دیکھا پرابلم سول کر دی نا
سمر نے اُسکے آگے چٹکی بجاتے ہوئے سٹائل سے کہا
وہ دونوں گھر سے باہر نکل۔کر سڑک پر چل رہے تھے
پرابلم تو سول کردی لیکن کیسی بکوس باتیں کررہا تھا تو بڑی ماں سے
کم سے کم تیری طرح۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وہ وہ وہ تو نہیں کررہا تھا۔۔۔۔۔ احسان فراگوش
سمر نے غصے سے بولا
احسان فراموش ہوتا ہے سمر۔۔۔۔۔۔۔
باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن تل کہاں سے لائیں گے اُسکے چن پر تو تل نہیں ہے
رومی کو اب یہ نئی پریشانی ستا رہی تھی
یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر چلتے چلتے رک گیا اور اُسکے بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا
لیکن چھوڑ نہ کم سے کم بڑی ماں اُس سے ملنے کو تو مان ہو گئی اور اگر وہ ان کو پسند آگئی تو ایک تل کے لیے تو منع نہیں کرے گی نا
لیکن پھر وہ ریلیکس ہو کر بولا
اور کردیا تو۔۔۔۔۔۔۔
رومی نے کن انکھیوں سے دیکھا
تو کبھی پوزیٹو نہیں سوچ سکتا رومی۔۔۔۔۔دیکھ میں جو کر سکتا تھا کر دیا اب آگے تو جانے ۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے بیزاری سے کہا اور آگے جانے لگا رومی بھی سے جھٹک کے اُسکے پیچھا گیا
سمر۔۔۔۔۔
رومی اس کا بیسٹ فرنڈ تھا رومی کو سمر کے کالج کی ایک لڑکی سے پہلی نظر والی محبت ہو گئی تھی جب وہ سمر سے ملنے اُسکے کالج گیا تھا اور پہلی دفعہ اس لڑکی کو دیکھا تھا تو وہ لڑکی اُسکے دل و دماغ پر حاوی ہو گئی تھی اور پھر وہ ہر روز سمر سے ملنے کے بہانے اُسے دیکھنے آتا رہا سمر بہت جلد ہی اس کے دل کے حال سمجھ گیا اور آگے اُسکے مدد سے دونوں مل گئے اور آج اُسنے بڑی ماں کا بھی مسئلہ حال۔کر دیا تھا
💜💜💜💜💜💜
جنّت ہم دادی کو لیکر ہسپتال جا رہے ہیں تم اور ارمان ناشتا کر لینا لگا دیا ہے
جنّت روم سے باہر نکلی تو فائزہ نے اُسے بتایا
امی۔۔۔۔۔۔دادی کو کیا ہوا
اُس نے پرشان ہو کر پوچھا
کل سے ہی انکی طبیعت خراب خراب سی ہے بخار بھی لگ رہا ہے ابھی تمہارے پاپا نے کہا تو جانے کے لیے راضی ہوئی ہے ۔۔۔
فائزہ نے جواب دیا ریحان نے باہر سے اُسے آواز لگائی تو وہ باہر نکل گئی جنّت مرے میرے قدموں سے چلتی صوفے تک آئی اور گرنے والے انداز میں بیٹھی وہ جانتی تھی دادی کی صحت پر اُسکے باتوں کا اثر ہوا ہے جو اُسنے دو دن پہلے کی تھی اور وہ اُس لمحے کو کوس رہی تھی جب جذباتی ہو کر اُس نے اتنا کچھ کہہ دیا تھا وہ جانتی تھی دادی کو اُن کی امیدیں ہی زندہ رکھے ہوئے ہے اگر وہ بھی ٹوٹ گئی تو اُنکا کیا ہوگا
غلطی میری ہی ہے مجھے دادی سے وہ سب کہنا ہی نہیں چاہیے تھا ۔۔۔
وہ صوفے سے سر ٹکائے روتے ہوئے بولی اندر داخل ہوتے ہوئے کبیر نے اُسے دیکھا تو جلدی سے اُسکے پاس آیا
جنّت۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا
اُسنے جنّت کو مخاطب کیا جنّت نے سر اٹھا کے اُسے دیکھا کبیر نے اُسے روتے دیکھا تو پریشان ہو گیا
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
اُسکے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
کبیر۔۔۔۔۔ دادی کی۔۔۔۔۔۔۔ طبیعت خراب ہے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ٹھیک ہو جائے گیں تم اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو جنّت مامو اُنھیں ہسپتال تو لیکر گئے ہیں نہ
کبیر نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا
ایسا کب تک چلے گا کبیر۔۔۔۔۔کب تک دادی پھوپھو سے ملنے کے لیے ترستی رہےگی ۔۔۔ کس غلطی کی سزا مل رہی ہے اُنھیں
کب تک انتظار کرتی رہے گیں وہ اس دن کا جب اُنھیں اپنی بیٹی کو دیکھنا نصیب ہوگا
میں اُنھیں ایسے دیکھتی ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے کبیر
سب کچھ کب ٹھیک ہوگا
اسکی اُمیدِ بھی ٹوٹ چکی تھی اب کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا وہ بہت بے بس محسوس کر رہی تھی اور اسکی تکلیف سے کبیر کو بھی تکلیف ہو رہی تھی اُسنے جنت کے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا چاہا لیکن پھر خود کو روک دیا
بہت جلد۔۔۔۔۔۔۔سب کچھ بہت صحیح ہو جائے گا جنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم ٹینشن مت لو
جنت نے سر اٹھا کر اُسکے جانب دیکھا
تمہارا موبائل کھو گیا تھا نہ تو میں تمہارے لیے یہ فون لے کر آیا ہوں
کبیر نے اپنے آنے کا مقصد بتایا
عیشا۔۔۔۔۔۔
ساحر نے فون پر بات کرتی عیشا کو آواز دی کیوں کے کافی دیر سے فون کان سے لگائے خاموش کھڑی تھی وہ سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے
کس کا فون ہے ۔۔۔۔۔۔
ساحر نے عیشا کے دیکھنے پر پوچھا تو اُسنے فون کریدل پر رخ دیا ساحر اٹھ کر اُسکے پاس آیا دیکھا تو وہ رو رہی تھی
کیا ہوا۔۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ کس کا فون تھا
ساحر نے پریشانی سے پوچھا
ساحر۔۔۔۔میری امی کی طبیعت خراب ہے وہ ہاسپٹل میں ہے
وہ ساحر کی جانب دیکھ کے بولی ساحر اُسے غور سے دیکھنے لگا سمر اور عائشہ بھی عیشا کو روتے دیکھ کر پریشان ہو گئے
تم پیکنگ کرلو ہم لوگ آج ہی انڈیا جائینگے
ساحر نے چند پل خاموش رہنے کے بعد کہا جس پر عیشا نے اُسے حیرانی سے دیکھا جیسے اُسنے غلط سنا ہو سمر اور عائشہ نے بھی ایک دوسرے کی جانب دیکھا
اور ٹینشن مت لو کچھ نہیں ہوگا اُنھیں ٹھیک ہے
ساحر نے اُسکے چہرے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دیتے ہوئے کہا عیشا نے اب بھی کوئی جواب نہیں دیا ساحر نے کرسی پر رکھا اپنا کورٹ اٹھا کر پہنا اور باہر جانے لگا
ساحر۔۔۔۔۔۔
عیشا نے اُسے آواز دے کے روکا اور دھیمے قدموں سے چلتی اُسکے پاس آئی اور بنا کچھ بولے اُسکے سینے سے لگ گئی ساحر کو وہ لمحہ بہت عجیب سا محسوس ہوا ایک پل میں عیشا کی ہر کیفیت اُسے دل میں محسوس ہوئی اُسنے دونوں بازوں اُسکے گرد حائل کر دیا
💜💜💜💜💜💜
عیشا اور ساحر کے ساتھ عائشہ بھی جا رہی تھی لیکن سمر کو رکنا پڑا جس وجہ تھی رومی کی شادی۔۔۔ اسکا کالج اور ساحر کی غیر موجودگی میں آفس کا کام۔۔۔
کیا سوچ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحر ایک گھنٹے کے سفر تک مسلسل خاموش اور پریشان سا رہا تھا عائشہ کھڑکی والی سیٹ کی جانب بیٹھی اب سو چکی تھی عیشا بلاخر اُس سے پوچھ ہی لیا
میں ایک اچھا شوہر نہیں ہوں نا عیشا
وہ سر اُسکے جانب موڑتے ہوئے بولا
تم دنیا کے سب سے اچھے شوہر ہو
عیشا نے پوری سچائی سے جواب دیا وہ کسی بھی بات کے۔لیے اُسے کبھی ذمےدار نہیں سمجھتی تھی
نہیں میں نہیں ہوں۔۔۔۔۔میں تم سے محبت کا دعویٰ کرتا رہا لیکن اُس محبت کو نبھا نہیں سکا ۔۔
مجھے کبھی تمہاری تکلیف نظر نہیں آئی
دنیا کی ہر خوشی دینے کی کوشش کرتا رہا لیکن تم سے تمہاری دنیا چھین لی میں نے
اپنوں کی کمی کو بہت اچھے سے جانتا ہوں اُس کیفیت سے گزر چکا ہوں پھر بھی تمہارے ساتھ وہی کیا میں نے
نہیں۔۔۔۔۔
عیشا نے اُسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا
تم مجھے معاف مت کرنا کبھی اس کیلئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسنے عیشا کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے اُسکے انگلیوں پر کیس کیا
تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
عیشا نے اپنی بات دہرائی۔۔۔۔۔۔۔ساحر نے سر سیٹ سے ٹکا دیا عیشا اُسکے بازو پر سے رکھے اُسے دیکھنے لگی
💜💜💜💜💜💜💜
ان کی گاڑی ٹھیک گھر کے سامنے آکر رکی تھی ساحر گاڑی سے باہر نکلا اُسے وقت عمران گھر کے گیٹ سے باہر آیا دونوں کا سامنا ہوا تھا اور دونوں نے ایک دوسرے کو بے یقینی سی کیفیت میں دیکھا ساحر دو قدم کا فاصلے طے کرتے ہوئے عمران کے گلے لگ گیا عمران نے بھی سالوں کو بھول کر اُسے گلے لگا لیا عیشا اور عائشہ دونوں گاڑی سے باہر نکل کر دونوں کو کتنی ہی دیر تک اُسے طرح دیکھتی رہی عمران پیچھے ہوا اور سرخ آنکھوں سے ساحر کو غصے کو ناراضگی سے دیکھا
عمران۔۔۔ معاف کردے یار
ساحر کو اُسے ایسے دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی کتنا کچھ کھو دیا تھا اس نے جو بہت انمول تھا
سالے۔۔۔دوستی توڑ کے گیا تھا نہ تو ۔۔۔۔۔
عمران نے بھری آواز میں کہا
تو تو روک نہیں سکتا تھا کیا ۔۔۔کیوں نہیں روکا مجھے ۔۔۔۔جانتا ہے نہ میں بیوقوف ہوں سوچ سمجھ کر کچھ نہیں کرتا ۔۔۔۔
عیشا نے اُسے ایسے بچوں کی طرح روتے صرف اُس وقت دیکھا تھا جب دادی اُسے چھوڑ کر گئی تھی اور اب آج
میرے دوست کے سر پر جو انا کا بھوت سوار تھا نہ اُس سے ڈر گیا تھا میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں تو اُتار دیتا نا میرے بھوت ۔۔۔۔۔ کیوں نہیں اتارا مارتا مجھے کچھ بھی کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
غلطی ہو گئی۔۔۔۔۔
عمران نے کہتے ہوئے اُسکے چہرے پر ایک کے بعد ایک دو تین تھپڑ لگا دیے عائشہ نے منہ پر ایک دم سے ہاتھ رکھ لیا تھا ساحر کو اُن تھپڑوں کا احساس اتنا نہیں ہوا جتنا اُس نے اتنے سالوں میں اپنے دوست کی کمی کو محسوس کیا تھا
عائیشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحر نے عائشہ کی جانب اشارہ کرکے بتایا تو وہ مسکراتا ہوا اُسکے پاس آیا اور اُسکے پیشانی پر پیار کیا۔۔۔۔۔عیشا سے مل کر اُسنے ڈھیر ساری شکایتیں کی لیکن اُسنے کوئی صفائی نہیں دی بس سنتی رہی کُچھ دیر بعد وہ سب ایک ساتھ اندر داخل ہوئے ریحان اور فائزہ ڈرائنگ روم میں ہی بیٹھے تھے عیشا کو دیکھ کر ریحان اپنی جگہ سے اٹھا تھا اور اُسکے گود میں موجود سارے کاغذات گر گئے تھے عیشا بھاگتے ہوئے اُسکے پاس آکر اُسکے سینے سے لگ کر رونے لگی ریحان کو ایک پل کے لیے یقین نہیں ہوا لیکن جب اُسے احساس ہوا کے یہ سچ ہے تو اُس نے بھی عیشا کا ساتھ دیا
اتنے سالوں تک آپ کو آپکی بہن سے دور رکھا میں نے اس سے بڑی غلطی کچھ ہو ہی نہیں سکتی دنیا میں
آج آپ مجھے میری اس غلطی کے لیے جو چاہے سزا دے سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
جب ریحان کی نظر ساحر پر پڑی تو ساحر نے عیشا کو دیکھ کر کہا ریحان عیشا سے الگ ہو کر ساحر کے پاس آیا
غلطی تمہاری نہیں غلطی میری ہے تم نے ہر بار بھائی بن کر دکھایا یہ دشمنی تو میری فضول سوچ کی وجہ سے ہوئی اور ہر کسی کو تکلیف دینے کا ذمےدار میں ہوں صرف میں۔۔۔۔۔۔۔تم ہمیشہ اپنے بن کے رہے مگر میں نے ہے تمہیں پرایا سمجھا ۔۔۔۔۔۔۔
ریحان اُسے گلے لگاتے ہوئے کہا
ذمےدار صرف وقت تھا جو اس وقت بیوفا تھا اور آج مہربان ہے بھول جاتے ہیں پچھلا سب کچھ اس برے وقت کے صفحے کو زندگی کی کتاب سے نکال کر پھینک دیتے ہیں اور اس اچھے وقت کی قدر کرتے ہے
عمران نے دونوں کو دیکھ کر کہا تو دونوں مسکرا دیے
💜💜💜💜💜💜💜💜
کبیر کی گاڑی آکر گھر کے سامنے رکی تھی جنّت کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی وہ اُسے لیکر باہر گھمانے گیا تھا تاکہ اسکا موڈ ٹھیک کر سکے دادی کی طبیعت کا سوچ کر آجکل و جو پریشان رہتی تھی اُسے دور کر سکے
گھر آگیا۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی رکنے کے بعد بھی اگلے۔ایک منٹ تک وہ سامنے نظریں جمائے یوں ہی بیٹھی رہی تھی جب کبیر نے کہا
میں چلتی ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ دروازہ کھول کر باہر نکلی
جنّت۔۔۔۔سمائل کرتے ہوئے اندر جاؤ۔۔۔۔۔
کبیر نے روک کر کہا تو اُسنے بمشکل مسکراتے ہوئے سر ہلا دیا
اندر آکر اُسنے جو منظر دیکھا وہ اُس کے لیے بے یقینی تھا وہ جیسے اس وقت بھی ایک خواب میں مبتلا تھی
پھوپھو دادی سے مل رہی تھی اور فائزہ اور الیشا بھی انکے ساتھ ہی کھڑی تھی ایک صوفے پر عمران ریحان اور ساحر تینوں بیٹھے باتیں کر رہے تھے سب کچھ ویسا تھا جو وہ خواب میں دیکھتی رہی جاگتے ہوئے سوچتی رہی تو وہ اتنی آسانی سے کیسے یقین کر پاتی کے یہ حقیقت ہے
جنّت آگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فائزہ نے اُسے دیکھ کر کہا وہ روبوٹ کی طرح چلتی انکی طرف آئی تھی عیشا نے اُسے گلے لگا لیا اور اسکی پیشانی پر پیار کیا اور اسے ساتھ ہی لگائے رکھا وہ نے مسکرائی تھی نہیں کسی سے بات کی تھی
اتنا نارمل لگ رہا تھا سب کچھ
جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ تھا
لیکن یہ سب ہوا کیسے تھا
یہ خیال آتے ہی وہ باہر کی جانب بھاگی تھی گیٹ کھول کر باہر نکلی تو کبیر اب تک وہیں گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا جیسے اُسے یقین تھا جنّت واپس آئیگی
یہ سب تم نے کیا نا کبیر
وہ دور سے ہی بولی کبیر نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کندھے اچکا دیے وہ پاس آکر اُس کے گلے سے گا گئی
تھینکیو کبیر۔۔۔۔۔۔ تھینکیو سو مچ
وہ پیچھے ہو کر بولی کبیر میکانیکی انداز میں اُسے دیکھتا رہا آج پہلی دفعہ وہ اُسکے اتنے قریب آئی تھی جنّت کے جانے کے بعد بھی وہ اُسکے سحر سے باہر نہیں نکل پایا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: