Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 34

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 34

–**–**–

دو ہفتے سے زیادہ گزر گئے تھے اُنھیں یھاں آئے اب تک تو وہ ریحان کے گھر ہی رکے ہوئے تھے لیکن آج اتنے دونوں بعد واپس اپنے گھر آئے تھے اور اُس گھر سے جڑی کتنی ہی قیمتی یادیں تازہ ہو گئی تھی دادی سے متعلق ۔۔۔۔۔۔۔ اُن کی شادی کی یادیں۔۔۔۔ لڑنا جھگڑنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبت بھرے پل اور بچوں سے جڑے بہت سارے انمول لمحے گزرے تھے اس گھر میں
ساحر نے پہلے ہی کہہ کر وہاں کی صفائی کر والی تھی اور وہاں ہر چیز آج بھی اس ترتیب سے رکھی ہوئی تھی جیسی سالوں پہلے رہتی تھی عائشہ بھی یھاں آکر بہت خوش ہوئی تھی اور آتے ہی اپنے کمرے کی جانب بھاگی تھی جہاں پہلے سمر اور وہ رہا کرتے تھے
ساحر۔۔۔اتنی جلدی کیا ہے شادی کی جو تم نے اگلے ہفتے کی ہی تاریخ رکھ دی۔۔۔مطلب کچھ مہینے بعد بھی تو کر سکتے تھے نا۔۔۔۔۔
وہ لوگ گھر کے اندر داخل ہوئے تھے
ایک دن پہلے ہی اُن لوگوں کے درمیان بات ہوئی تھی اور سب نے مل کر طے کیا تھا کے سمر اور جنّت کے ساتھ عائشہ اور کبیر کا نکاح بھی اگلے ہفتے ہی کر دیا جائے کیوں کہ اُس کے بعد اُنھیں واپس لندن جانا تھا ۔۔۔اپنی دوستی کے رشتے کو بھی وہ مضبوط کرنا چاہتا تھا تاکہ اب اُن کے درمیان کوئی دوری نا آئے اس لیے عائشہ اور کبیر کو لیکر بات کی تھی اور سب کو ہی یہ بات بہت پسند آئی تھی سب چاہتے تھے کے شادی دو مہینے بعد ہو تاکہ تیاریاں کرنا کا موقع مل جائیے گھر آتے ہی
عیشا نے ساحر کی جلد بازی کی وجہ جاننے چاہی کیونکہ اگر صرف لندن جانے کا ہی مسئلہ تھا تو وہ لوگ دو مہینے بعد واپس آکر بھی شادی کر وہ سکتے تھے تو پھر ساحر نے کیا سوچ کر جلد بازی کی
نہیں عیشا ایک دن اسی وجہ سے ہمارے درمیان غلط فہمی پیدا ہوئی تھی اور اب یہی نکاح وجہ بنے گا ہمارے رشتوں کو مضبوط کرنے کی میں چاہتا ہوں اب کسی کے دل میں کوئی خلشِ باقی نہ رہے
اُس وقت دونوں بچے تھے اگر ہم تب اُنکا نکاح کر دیتے تو نا انصافی ہوتی اُن کے ساتھ
لیکن اب وہ اتنے سمجھدار ہو چکے ہیں کے اپنا صحیح غلط سمجھ سکے۔۔۔۔۔اب دیر بھی کرنی چاہیے تمہارے ابّو کی خواہش پوری کرنے میں
اُس کی بات پر عیشا نے مسکراتا ہوئے اُسکے سینے پر سر رکھ دیا
تمہیں یاد ہے تم یہاں سے گر گئی تھی۔۔۔۔۔۔
سیڑھیوں کے پاس کھڑے تھے اور ساحر نے وہ دن یاد کرتے ہوئے اسےاپنی باہوں میں لے لیا
کیسے بھول سکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی جانب دیکھ کر بولی
چلو آج بھی تمہیں اٹھا کر روم تک لے جاتا ہوں
وہ شرارت سے مسکرا کر بولا
ڈیڈ۔۔۔۔۔۔۔
عیشا اُسے کچھ کہتی اس کے پہلے عائشہ کے پکارنے کی آواز آئی جس پر وہ کھلکھلا کے ہنس دی
جائیے آپکی بیٹی بلا رہی ہے ۔۔۔۔
عیشا نے ہنستے ہوئے کہا ساحر اسکی بات پر مسکرایا بہت وقت بعد اُسنے عیشا کو اتنا کھل کر ہنستے ہوئے دیکھا تھا
💜💜
تیری شادی ہونے والی ہے یار ڈھیٹس آ گڈ نیوز تو ٹینشن میں کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔
کیوں کے میری سو کالڈ کزن کو یہ نہیں پتہ کے جس سیم سے وہ نفرت جتا کر گئی ہے وہی سمر ہے جس سے اُسے شادی کرنی ہے
سمر نے سوچتے ہوئے کہا وہ دونوں رومی کے کیبن میں بیٹھے تھے اور ابھی ابھی سمر نے اُسے بتایا تھا کے گھر والوں نے اُس کی اور جنّت کی شادی اگلے ہفتے ہی طے کر دی ہے رومی سن کر بہت خوش تھا لیکن وہ کنفیوز تھا کے جنّت کا فیصلہ کیا ہوگا کیونکہ اُسے لگتا تھا جنّت یہ نہیں جانتی کے وہی سمر ہے اور جب اُسے پتہ چلےگا وہ بہت غصّہ ہوگی
مجھے کل وہاں جانا ہے لیکن جب وہ مجھے دیکھے گی تو اس شادی سے منع کردیگی وہ سیم سے شادی کبھی نہیں کرنا چاہے گی
اُسنے پپر ویٹ گھماتے ہوئے کہا
کر بھی تو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ تھنک پوزیٹو۔۔۔۔۔۔
رومی نے اُسے اسکی ہی بات یاد دلائی تو وہ مسکرادیا مگر جنّت نے جاتے ہوئے جیسے اپنی نفرت کا اظہار کیا تھا وہ بات اُسے پوزیٹو سوچنے نہیں دے رہی تھی
💜💜💜💜💜💜
کبیر اپنے کمرے نے بیڈ سے ٹیک لگائیے بیٹھا تھا بظاھر نظریں لیپٹاپ سکرین پر تھی لیکن ذہن میں صرف اور صرف جنّت
جنّت اور سمر کے ایک ہونے سے زیادہ تکلیف دہ بات اُس کے لیے شاید ہی کوئی ہو سکتی تھی لیکن یہ تکلیف وہ برداشت کرنا چاہتا تھا جنّت کی خوشی کی خاطر۔۔۔۔۔بچپن سے دیکھتا آیا تھا وہ جنّت کو سمر کے خواب سجائے ہوئے
اُس نے ہمیشہ جنّت کی مشکلیں آسان کرنے کی کوشش کی تھی اب وہ اُسکے لیے مشکل نہیں بن سکتا تھا
کبیر۔۔۔۔۔۔۔۔
الیشا کی آواز پر اُسنے جلدی سے اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئی ٹائپ کرنا شروع کیا الیشا آکر اُسکے بیڈ کے کنارے بیٹھتے ہوئے اُسے دیکھنے لگی کوئی سمجھے نہ سمجھے وہ بہت اچھی طرح سے سمجھتی تھی اُسکے کیفیت کو اور یہ بھی جانتی تھی کے وہ اس وقت کیسا محسوس کررہا ہے
تمہارے پاپا چاہتے ہیں کے جنّت اور سمر کے ساتھ ہی تمہارا اور عائشہ کا بھی نکاح کر دیا جائے اُنہونے مجھ سے کہا کہ میں تم سے پوچھ لو کے تم کیا چاہتے ہو
وہ دھیرے سے بولیں تھی
آپ کہہ دیجئے امی کے میں تیار ہوں۔۔۔وہ جو جیسا چاہے میں راضی ہیں
اُس نے بنا روکے جواب دیے اُن کی جانب دیکھا تک نہیں
کوئی جلدی نہیں ہے بیٹا تم وقت بھی لے سکتے ہو سوچنے کے لئے۔۔۔چاہو تو پہلے عائشہ کو جان لو اچھے سے۔۔۔
وقت لے کر کیا ہو جائیگا امی۔۔۔۔ ہوگا تو وہی جو قسمت میں لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ہمارے چاہنے سے تو کچھ نہیں ہوگا
اب جو قسمت چاہتی ہے میں بھی وہی چاہتا ہوں
وہ سامنے دیوار کی جانب دیکھ کر مایوسی سے بولا الیشا کو بہت دکھ ہوا اپنے بیٹے کو ایسے دیکھ کر ساتھ ہی اُسے فکر بھی ہو رہی تھی کے اسکا اور عائشہ کا نکاح کرنا صحیح بھی ہی یہ نہیں
💜💜💜💜💜
جنّت اندر جاتے جاتے رکی تھی باہر بلیک رنگ کی گاڑی کھڑی تھی جو ساحر کی تھی مطلب ضرور کوئی آیا تھا سوچ کر وہ اندر جانے لگی لیکن پھر رک کر ایک قدم پیچھے ہوئی اور گاڑی کے ونڈو میں اپنا جائزہ لینے لگی چہرے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اُسنے تیسری انگلی سے آنکھوں کے کنارے پر پھیلا کاجل صاف کیا اسی وقت گاڑی کا دروازہ ایکدم سے کھلا وہ گھبرا کے پیچھے کو گرتی اس کے پہلے کسی نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی جانب کھینچا سمر کو دیکھ کر اُس نے حیرانی سے پلکیں جھپکیں پھر اسکی موجودگی کا یقین ہوا تو جلدی سے اپنا چھڑا کر پیچھا ہوئی سمر اُسے خاموش دیکھتا رہا اُس کے یوں دیکھنے پر وہ نروس ضرور ہو رہی تھی لیکن پھر سنبھلتے ہوئے بولی
اگر نہیں جانتے ہو جان لو ۔۔۔۔۔میں ہی جنّت ہوں جس سے شادی کرنے کے لئے تم نے ہاں کی ہے۔۔۔۔۔لیکن مجھے امید ہے اب تم ایسا نہیں کروگے۔۔۔۔۔۔میں چاہتی تو خود انکار کر سکتی تھی لیکن اُسکے لیے مجھے وجہ بتانی پڑتی جسے سن کر سب کو بہت برا لگتا۔۔۔۔
میں سب کچھ کر سکتی ہوں پر میرے اپنوں کو تکلیف نہیں دے سکتی۔۔۔۔اب جو کرنا ہے تمہیں خود کرنا ہے
جنّت یہ بات اسلئے کہہ رہی تھی کیونکہ اُسے لگتا تھا سمر کو ہنی پسند ہے اور اگر وہ شادی نہیں کرنا چاہتا تو یہ بات وہ خود اپنے مام ڈیڈ کو بتائیے اور شادی سے انکار کردے لیکن سمر کو لگ رہا تھا کے وہ اس سے شادی کرنا نہیں چاہتی اور گھر والوں کو منع نہیں کر سکتی اسلئے ایسا کہہ رہی ہے
کیا ہم ایک بار اس بارے میں بات کرتے سکتے ہے ۔۔۔پلیز
سمر نے سوچا اگر وہ صرف اُس رات والی بات پر اب تک اٹکی ہوئی ہے تو وہ اُس کی غلط فہمی دور کرے کے اُسنے کچھ نہیں کیا تھا
مجھے اب کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔جو کہا ہے کرو
جنّت نے بیزاری سے کہا اور جانے کے لیے پلٹی سمر نے غصے میں آکر اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور اُسے گاڑی سے لگا دیا جنّت نے اُسے غصے سے دیکھا اور نکلنے کی کوشش کی لیکن سمر نے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر اسکا راستہ بند کردیا
تمہارا نوکر ہوں کیا۔۔۔۔ کے جو تم نے بولا وہ کروں۔۔۔۔۔دو منٹ سن تو لو میں کیا کہہ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی اور میں۔۔۔۔۔
سمر اُس سے اتنی نرمی سے بات کر رہا تھا اور جنّت وہ اُس کے بات کاٹنے پر غصّہ ہوا تھا اور اب اُسے زبردستی بتانا چاہ رہا تھا لیکن ہنی کا نام آتے ہی جنّت نے اُسکے بات کاٹ دی
مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔۔۔ تمہاری لوو سٹوری تو بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کوئی لوو سٹوری نہیں سنا رہا ہوں۔۔۔۔بس ایک سچ بتا رہا ہوں جو تم نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسکے بیوقوفی پر وہ سختی سے بولا
چھوڑو مجھے۔۔۔۔نہیں سننا ہے
اُس نے ہاتھ کو دھکا دے کر ہٹانے کی کوشش کی سمر نے اُسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر کار سے لگ دیے
۔تمہیں سننا پڑےگا۔۔۔۔۔
وہ بھی ضد لیے تھا جنّت نے اُسے غصے سے دیکھا
پاپا۔۔۔۔۔۔
جنّت ایک دم سے گھبرا کر پیچھے دیکھتے ہوئے بولی جس پر سمر نے بھی ہڑبڑا کر پیچھے دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا اور جب جنت کی جانب پلٹا تو وہ بھی نکل کر اندر جانے لگی تھی سمر کو اُس وقت اُس پر بہت غصّہ آیا جسے اُس نے گاڑی کے اوپر ہاتھ مار کر نکالا
💜💜💜💜💜
رومی۔۔۔۔۔ آۓ ہیٹ ڈھیٹ گرل۔۔۔۔۔یار وہ میری بات تک نہیں سنتی۔۔۔۔۔۔۔۔سیدھے کہہ دیا شادی سے انکار کردو۔۔۔۔۔۔۔
سمر سب سے مل کر واپس گھر آیا تھا اور جب تک وہ وہاں تھا سامنے ہوتے ہوئی بھی جنّت نے اُسے بہت اگنور کیا تھا جس سے اُسے غصّہ آنے لگا
کول ڈاؤن یار کیوں اتنا ہائپر ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔غصّہ ہے تجھ سے اسلئے بول دیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔تیری بھابھی کو بولوں کیا بات کرنے کو اُس کی بات تو دیفینٹلی سمجھے گی
رومی نے اپنی طرف سے صلح دی وہ سمر کو جانتا تھا کے سمر بہت کم ہی سیریس ہوا کرتا تھا
کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔وہ بات کرنے لائق ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو ٹھیک ہے ۔۔میں جا رہا ہوں مام سے بات کرنے کے مجھے بھی شادی نہیں کرنی
تو کیوں منع کر رہا ہے اگر اُسے شادی نہیں کرنی تو وہ خود جا کر بات کریگی۔۔۔۔اور رہی بات تیری تو میں جانتا ہوں تو مر رہا ہے اُس سے شادی کرنے کے لیے ۔۔۔۔اسلئے چپ بیٹھا رہ اوکے
رومی کی مرنے والی بات پر اُس کا دل کیا وہیں سے اُس کا منہ توڑ دے
ہاں چل مان لیا مر رہا ہوں میں اس سے شادی کرنے کو لیکن پکڑ باندھ کر شادی نہیں کرنی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔خود کو پتہ نہیں کیا سمجھتی ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے سے شادی ہونے والی ہے ۔۔۔۔اتنا اٹیٹود تو بنتا ہے اسکا۔۔۔۔۔
رومانی نے مزا لیتے ہوئے کہاں
دیکھ میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں ۔۔۔۔اُس نے دماغ خراب کر رکھا ہے میرا اب تو مت سٹارٹ ہو جا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے غصے سے کہا اور فون بیڈ پر پھینک دیا
💜💜💜💜💜💜
عیشا جنّت اور عائشہ کے درمیان بیٹھی تھی سارے فنکشن ریحان کے گھر پر رکھے جانے تھے صرف شادی ہی ہوٹل میں ہونی تھی اور یہ سب دادی کے کہنے پر وہ چاہتی تھی بچوں کی رسمیں گھر سے ہی ہی سارے مہمان جا چکے اور وہ تینوں باتیں کر رہی تھی عائشہ کے اور سمر کے بچپن کے قصے سنا رہی تھی سمر ہلدی لگانے پر بہت بیزار ہوا تھا لیکن سب نے مل۔کر اُسے زبردستی ہلدی لگا دی تھی جب کے کبیر نے کسی بات پر کوئی اعتراض نہیں جتایا رات کافی ہو چکی تھی سمر اور کبیر بھی جا چکے تھے ساحر اندر آیا اور عیشا کو چلنے کا اشارہ کیا تو عیشا نےاسے خود وہاں آنے کو کہا
بہت ٹائم ہو رہا ہے گھر نہیں چلنا ہے
وہ پاس آکر بولا
پہلے یہ بتاؤ تم نے دونوں بیٹیوں کو ہلدی لگائی یا نہیں
عیشا نے سوال کے بدلے سوال کیا
مجھے بھی لگانی ہے۔۔۔۔۔پہلے بتایا نہیں
وہ موبائل جیب میں ڈال کر ہلدی والے بول سے ہلدی ہاتھ میں لیتا ہوا بولا پہلے جنّت کے دائیں گال پر اور پھر عائشہ کے بائیں گال پر ہلدی لگانے کے بعد اُسکے ناک پر بھی ہلدی سے رنگ دیا عائشہ مسکرائی جب کے جنّت خاموش سے نیچے نظریں کیے بیٹھی تھی
چلو میں باہر ویٹ کر رہا ہوں جلدی آؤ
وہ ہاتھ ٹشو سے صاف کرتے ہوئے بولا اور باہر نکل گیا اُس کے جاتے ہی جنّت نے سکون کی سانس لی عیشا نے اُسے حیرت سے دیکھا
مجھے انکل سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ عیشا کے دیکھنے پر آنکھیں بڑی کرکے بولی جس پر عیشا ہنس دی
کیوں۔۔۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔ بہت سیریس ٹائپ کے لگتے ہے اسلئے۔۔۔۔۔۔کہیں اُنھیں کوئی بات بری لگ گئی تو
وہ جھجھکتے ہوئے بولی
ایسا کچھ نہیں ہے وہ بہت سوفٹ نیچر کے ہے تم ابھی انہیں جانتی نہیں ہونا اسلئے۔۔۔۔۔۔
عیشا اُسکے بات پر مسکراتے ہوئے بولی عیشا کا رخ جنّت کی جانب تھا اور عائشہ اُسکے کندھے پر سر رکھے جنّت کی جانب متوجہ تھی
پتہ ہے ہمارے درمیان جب بھی کوئی نوک جھوک ہوتی ہے نا نینیانوے فیصد میری ہی وجہ سے ہوتی ہے ساحر بہت سمجھداری سے ہر مسئلے کو حل کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔وہ بھلے ہی بہت کم بات کرتے ہیں لیکن جو بھی بات کرتے ہیں لاجواب کرتے ہے
عیشا کی بات پر جنّت مسکرائی۔۔۔اُسنے بچپن سے جو دوری دیکھی تھی تو یہی سوچ تھا کے ساحر سخت مزاج ہوگا اسی لیے اسکا اور ریحان کا جھگڑا ہوا تھا
لیکن میرا بیٹا بلکل بھی اپنے پاپا پر بھی گیا۔۔۔۔۔۔
وہ ویسے تو چوبیس سال کا ہے لیکن اُس کا دماغ کسی چار سال کے بچے سے زیاد نہیں ہے۔۔۔۔اور وہ اتنی باتیں کرتا ہے سامنے والا بیزار ہو جائے
عیشا اب سمر کے متعلق بتانے لگی جس پر جنّت حیران ہوئی
مجھے تو کبھی۔۔۔۔۔ ایسا نہیں لگا۔۔۔۔۔
کیوں کہ اُسے بھی جانتی نہیں ہو ابھی تم۔۔۔۔پر جان جاؤ گی بہت جلد۔۔
عائشہ نے شرارت سے کہا جس پر اُسے اپنا جملہ شرمندہ کر گیا
اسکی با تیں تو بنا سر پیر کی ہوتی ہی ہے لیکن اِسکی کچھ حرکتیں جب تم دیکھو گی تو تمہیں میری یہ بات ضرور یاد آئیگی دیکھنا
عیشا نے جتاتے ہوۓ کہا وہ کے بھی کیا سکتی تھی
اپنے پاپا جیسی صرف دو باتیں ہے اُس میں۔۔۔۔ایک تو۔وہ جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔۔اور دوسرا دل پھینک قسم کا نہیں ہے
عیشا کی اگلے بات پر جنّت چاہ کر بھی مسکرا نہیں پائی وہ ایک ماں تھی اُسے کیسے اپنے بیٹے کی برائیاں نظر آتی لیکن حقیقت تو اُسکے جنّت ہی جانتی تھی ایسا جنّت کو لگتا تھا
💜💜💜💜💜💜
آج انکی مہندی کا فنکشن تھا اور اس نے عیشا کے کہنے پر سفید کرتا پہنا ہوا تھا ساتھ ہی گلے میں مہندی رنگ کا بڑا سا رومال لپیٹا ہوا تھا جنّت کے لیے آف وہائٹ کرتی پر مہندی کلر کر سلوار اور دوپٹہ جن میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی اور ایسا ہی کامبینیشن عائشہ اور کبیر کا بھی تھا۔۔۔۔۔۔
دونوں کے فنکشن ایک ساتھ ہی ریحان کے گھر میں کیے جا رہے تھے اسلئے بہت رونق تھی ۔اور سب سے زیادہ خوش اگر کوئی تھا تو وہ تھی دادی
جب سمر اور عیشا وہاں پہنچے تو سب نے سمر کو ستائشی نظروں سے دیکھا اُسنے پہلی بار کرتا پہنا تھا اور وہ اُس پر بہت جچ رہا تھا دادی نے اُسکے ڈھیر ساری بلائیں لی شاید اُس دِن جنّت سے زیادہ سب کی نظریں سمر پر تھی
دونوں کی جوڈی ہمیشہ سلامت رہے
بہت خوش رہو تم دونوں
دادی نے دونوں کو باری باری پیار کرتے ہوئے کہا وہ بیچ میں بیٹھی تھی اور سمر اور جنّت اُن کے اطراف دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا لیکن پھر جنّت نے بیزار سے شکل بنائے آنکھیں گھمائی
جنّت نے پہلے سے سوچ رکھا تھا کے اُس کی شادی کیسے ہوگی یہ سب اسکی فرمائش کے حساب سے ہو رہا ہے دادی نے سمر کے پاس چغلی والے انداز نے کہا جس پر وہ حیران بھی ہوا اور جنت کی جانب دیکھ کر مسکرایا بھی
دادی۔۔۔۔۔۔
جنّت نے خفگی سے کہتے ہوئے دادی کو روکا
دیکھا اب کیسے شرما رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔پہلے تو ہر وقت سمر سمر کرتی رہتی تھی۔۔۔۔ سمر ایسا ہوگا۔۔۔۔۔ سمر ویسا ہوگا۔۔۔۔۔اُس سے ملونگی تو یہ کرونگی وہ کرونگی۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے چھیڑتے ہوئے کہا
دادی۔۔۔۔۔۔۔۔جائیے مجھے آپ سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے انکی بات کاٹ کر کہا اور وہاں سے اٹھ گئی جب کے سمر کی مسکراتی نظروں نے روم میں جانے تک اسکا پیچھا کیا
دادی۔۔۔یور گریٹ۔۔۔۔۔
سمر نے نے تعریف والے انداز نے کہا
تیری دادی نہیں۔۔۔ نانی ہوں
دادی نے اُسے یاد دلایا تو اُسنے آنکھیں بڑی کی
ٹو مچ کنفوجن۔۔۔۔۔ نانی اوکے
وہ غلطی درست کرتے بولا
۔she lobes you
دادی نے دھیرے سے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہا
And I love you Nani
اُسنے یو پر زور دیتے ہوئے کہا جب کے جنّت دور سے ہی دونوں کے ایسے بات کرنے پر غصّہ ہوکر اُسے دیکھ رہی تھی
💜💜💜💜💜💜
سب کی باتیں سن کر کوئی غلط فہمی مت پال لینا
یہ لوگ وہ نہیں جانتے جو میں جانتی ہوں۔۔۔۔۔۔
اور میرے نزدیک تمہاری کوئی اہمیت نہیں ہے
وہ دونوں کپل اب ساتھ ساتھ بیٹھے تھے اور تصویروں کو دور چل رہا تھا جب جنّت بنا اُسکے جانب دیکھے بولی سمر نے سنجیدگی سے اُسے دیکھا
Why are you so rude
میں نے تو نہیں کہا ایسا کچھ ۔۔۔کیا تم بہانہ ڈھونڈ رہی ہو میری انسلٹ کرنے کا
وہ ناراض ہوتے ہوئے بولا جنّت نے کوئی جواب نہیں دیا پتھر بن کر بیٹھی رہی
You know what……just go to hell
وہ اس کی بے رخی پر غصے سے خطہ اپنی جگہ سے اٹھ کر باہر نکل گیا ارمان نے اُسے آواز بھی سے لیکن وہ انسنی کر گیا ایک پل کے لیے جنّت کو اپنی بات پر افسوس ہوا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: