Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 35

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 35

–**–**–

بہت رات ہو رہی ہے چلو اب سو جاتے ہیں صبح جلدی بھی تو اٹھنا ہے
وہ دونوں جب سے واپس آئے تھی باتوں میں لگے تھے آخر ساحر نے خود ہی کہا اور اٹھ کر روم میں آگیا
سمر کیا ڈھونڈ رہے ہو تم کب سے۔۔۔۔۔۔
سمر کو وہ کافی دیر سے نوٹس کر رہی تھی کے وہ کچھ ڈھونڈ رہا ہے
مام میرا موبائل نہیں مل رہا ۔۔۔۔
اُس نے صوفے سے کشنس ہٹا کر ادھر اُدھر پھینک دیے تھے
روم میں ہوگا۔۔۔۔۔سمر یہ کیا کر رہے ہو
سب ڈھونڈ لیا نہیں ہے کہیں۔۔۔۔۔
وہ بیزار ہو کر بولا
لاسٹ ٹائم کہاں رکھا تھا ۔۔۔۔
لاسٹ ٹائم تو میں رومی سے بات کر رہا ہے پھر کچھ گرلز آگئی تھی مہندی لگانے کو۔۔۔۔۔ تب میں نے فون وہیں رکھ دیا تھا
وہ دماغ پر زور ڈالتے ہوئے بولا
پھر وہاں سے اٹھایا تھا۔۔۔۔
عیشا نے جانچتے ہوئے پوچھا
نہیں۔۔۔
وہ جلدی سے بولا عیشا نے سر نفی میں ہلا دیا
میں ابھی لیکر آتا ہوں
اتنی رات کو کہاں جا رہے ہو سمر جانے دو کل مل جائیگا۔۔۔۔
وہ باہر کی جانب بھاگا تھا عیشا کے آواز دینے پر بھی نہیں رکا اور اُسکے گاڑی اسٹارٹ کرنے کی آواز پر عیشا چپ ہوکر روم میں آگئی
💜💜💜💜💜💜
سب سو چکے تھے جب وہ وہاں پہنچا تقریبا بارہ بج رہے تھے کل شادی تھی اسلئے سب تھکے ہارے اپنے اپنے کمرے میں جا چکے تھے وہ بنا ڈور بیل بجائے دروازہ کھول کر سیدھا اندر آگیا یہ سوچ کر کے کسی کو ڈسٹرب نہ ہو ڈرائنگ روم میں اندھیرا تھا بس ہلکی سے روشنی تھی اُسنے صوفے پر انداز سے ہاتھ پھیرتے ہوئے موبائل ڈھونڈنا چاہا لیکن صوفہ خالی تھا آس پاس دیکھا تو کونے میں رکھی ٹیبل پر اسکا موبائل پڑا تھا اُسنے جلدی سے اٹھا لیا وہ پلٹ کے دو قدم ہی آگے بڑھا تھا کے جنت سے ٹکرایا جنّت پہلے گھبرائی پھر اُسے دیکھ کر حیران ہوئی
تم ۔۔۔۔۔تم۔۔یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔
وہ پہلے ڈری تھی کے اتنی رات کو گھر میں کون آگیا پھر سمر کو دیکھ کر بولی سمر نے موبائل دکھایا
میں اپنا موبائل لینے آیا تھا
ت۔۔۔ت۔۔تو۔۔۔۔۔ایسے چورو کے طرح آنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔۔۔ ڈور بیل بجا کر نہیں آسکتے تھے
ایسے ایک دم سے سامنے آگئے اگر میرا ہارٹ فیل ہو جاتا تو
او مائے گاڈ۔۔۔۔۔۔۔تمہارے پاس ہارٹ بھی ہے
سمر نے حیرانی جتاتے ہوئے کہا اسکی طنزیہ نظروں کو دیکھ کر جنّت نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچ کر اُسے دیکھا
مل گیا نا فون۔۔۔۔۔ تو اب جاؤ یہاں سے
نہیں جاؤنگا میرے ماموں کا گھر ہے
سمر نے فوراً ڈھیٹ بن کر جواب دیا
تو بیٹھ کر اپنے مامو کے نام کی تسبیح کرو۔۔۔
وہ بولی اور کچن میں آگئی سمر اُسے غصے سے دیکھتا رہا لائف میں شاید ہی کسی نے اُس کی اتنی انسلٹ کبھی کی ہوگی
جنّت نے کچن کا لائٹ آن کیا تھا اور وہ اپنے لیے کھانے کو کچھ ڈھونڈ رہی تھی اُسکے باتوں سے سمر مہندی کے درمیان ہی اٹھ کر چلا گیا تھا اور اُسے بہت برا لگا تھا اُسنے کھانا بھی نہیں کھایا تھا لیکن اب اُسے زبردست بھوک محسوس ہو رہی تھی اسی لیے اپنے کمرے سے باہر آئی تھی جنّت کے سیدھے ہاتھ کی مہندی ابھی تک نم تھی اور وہ بمشکل لیفٹ ہینڈ میں چمچہ پکڑے کھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ کچھ سوچ کر کچن میں آیا۔۔دوسرا نوالہ بناتے وقت جنّت کے ہاتھ سے چمچہ سمر نے لے لیا تھا جس پر اُس نے حیرانی سے اُسے دیکھا سمر نے خود ہی اسپون میں چاول لیکر اسکی جانب بڑھایا پہلے اُسنے کچھ سیکنڈ سمر کو دیکھا پھر منہ کھول دیا سمر اب بھی اُسکے جانب غصے سے ہی دیکھ رہا تھا لیکن ایک کے بعد ایک اُسے برابر کہلاتا جا رہا تھا جب کے جنت اُسے مکمل اگنور کیے کھانے پر فوکس کر رہی تھی درمیان میں جب سمر نے اُس کی بجائے اسپون اپنے طرف کیا تو جنّت نے اُسے ناگواری سے دیکھا جس پر سمر نے اسپون واپس اُسکے طرف لیجاتے ہوئے ٹھونسنے والے انداز میں اُسے کھلایا۔۔۔۔جب جنّت کا پیٹ بھر گیا تو وہ بنا کچھ کہے وہاں سے ہٹ گئی اور پانی پینے لگی وہ اُسکے واپس آنے کا انتظار کر رہا تھا جب کے وہ لائٹ آف کرتے ہوئی واپس کمرے کی جانب چلی گئی سمر نے اُس احسان فرموش کو حیرت سے جاتے دیکھا جو اُسکے اچھائی کا ایسا صلا دے رہی تھی اُسنے پلیٹ کو واش بیسن میں پٹخ کر باہر نکل گیا
اس نے مجھے سچ میں نوکر سمجھ رکھا ہے۔۔۔۔۔۔لیکن مجھے کیا ہوا ہے۔۔۔۔میں کیوں اسکی نوکری کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بڑبڑاتے ہوئے باہر نکلا،
💜💜💜💜💜💜💜
وہ موبائل لے کر باہر نکلا تو ہنی کی کال آرہی تھی
تم کب واپس آرہے ہوں سیم۔۔۔۔۔۔آئی ایم مسنگ یو
ہنی نے ہمیشہ کے انداز میں کہا
کل میری شادی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بنا ادھر ادھر کی بات کیے سیدھے بولا اور گاڑی کا ڈور کھول۔کر اندر بیٹھ گیا جنت کھڑکی سے اُسے دیکھ رہی تھی اور فون پر بات کرتے اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی کے کون ہو سکتا ہے
وہاٹ۔۔۔۔
ہنی کو اس کی بات پر جھٹکا لگا تھا
لیکن تم نے تو کہا تھا کے تم بس اپنے ریلیٹو سے ملنے جہ رہے ہو شادی کا تو تم نے بتایا ہی نہیں
ہنی نے بيقینی سے کہا
کیونکہ میں خود شیور نہیں تھا
تم اُس سے کیسے شادی کر سکتے ہو یو نو نا آئی لوو یو
ہنی نے حیرت اور صدمے سے کہا
ہنی پلیز۔۔۔۔۔ہم دونوں صرف دوست ہے ۔۔۔۔پیار ویار کچھ نہیں ہوتا
اور یہ شادی میں صرف اپنے لیے نہیں کر رہا ہوں بلکہ اپنے پرنٹس کے لیے کر رہا ہوں تم جانتی ہو نا وہ میرے لیے کتنی امپوٹنس رکھتے ہیں
سمر نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا اور اسکی بات کا انتظار کرنے لگا لیکن وہ کال کاٹ چکی تھی وہ جانتا تھا ہنی کس ٹائپ کی لڑکی ہے اُسنے دو دفعہ اُسے یہی سچا پیار کسی اور سے بھی کرتے دیکھا تھا اسلئے اُسکے باتوں سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا
💜💜💜💜💜
وہ سمر کو جاتا دیکھنے کے بعد روم میں آکر لیٹی ہی تھی اُسکا فون بجنے لگا
تم سیم سے شادی کیسے کرسکتی ہو۔۔۔۔تم جانتی ہو۔ نا ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہے پھر کیوں ہمارے بیچ میں آرہی ہو۔۔۔۔۔۔سیم کبھی تم سے پیار نہیں کریگا وہ صرف مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی اُسکے فون اٹھاتے ہی شروع ہو گئی
شٹ اپ۔۔۔۔
جنت نے غصے میں آکر اُسکے بات کاٹی
۔ اپنی بک بک بند کرو اور میری بات غور سے سنو ۔۔۔۔میں اُسے کڑنیپ کرکے گن پوائنٹ پر شادی نہیں کروا رہی ہوں
نا وہ کوئی چھوٹا سا بچہ ہے جیسے لالیپاپ کی لالچ دے کر قبول ہے قبول ہے بلوا لونگی
۔۔۔۔۔وہ اپنی مرضی سے شادی کر رہا ہے اور اگر اتنا ہی تمہارے عشق میں پاگل ہے نا تو بولو اُسے کے جاکر اپنی ماں سے بات کرے اور شادی سے انکار دے اُسکے بعد ساری زندگی اپنی دم پکڑوا کے پیچھے پیچھے گھماتی رہنا اُسے۔۔۔میرے بھی سر سے مصیبت ٹلے گی۔۔۔۔۔۔لیکن ابھی میرا سر مت کھاؤ سمجھی
اُسنے فون بند کردیا اور ہنی دانت پیس کر رہی گئی اُس کے اور وکی کے بہکانے کے باوجود جنت اُس سے شادی کر رہی تھی۔۔۔اور ہنی کو بہت بڑا جھٹکا لگا تھا
شادی تو کرلو گی لیکن سیم کو مجھ سے چھین نہیں پاوگی تم میں اُسے اپنا بنا کر رہوں گی اسکے لیے مجھے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے
ہنی نے نفرت سے کہا اُسکے دل میں سیم کے لیے محبت ہو یہ نا لیکن اب جننت کو وہ اپنی دشمن بنا چکی تھی۔۔۔
کبیر کو جیسے کسی بات سے کوئی غرض ہی نہیں تھی وہ بس ایک روبوٹ کی طرح ہر کہے پر عمل کر رہا تھا اُسکے چہرے پر کوئی خوشی کوئی احساس نظر نہیں آرہا تھا اور اس بات نے الیشا کو بہت پریشان کیا ہوا تھا صرف کبیر کے ہی لیے نہیں بلکہ عائشہ کے بھی لیے کیوں کے وہ بھی ایک عام لڑکی کی طرح ڈھیر سارے سپنے آنکھیں میں سجائے دلہن بنی تھی لیکن اس بات سے بےخبر کے آگے کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔
آپی آپ بہت پیاری لگ رہی ہے ۔۔۔۔کہیں میری ہی نظر نہ لگ جائے ۔۔۔کالا ٹیکہ لگا دیتی ہوں۔۔۔۔۔۔
عائشہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے بیٹھی تھی جنت نے اُسکے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا وہ واقعی بہت پیاری لگ رہی تھی گہرے پنک کلر کے لہنگے میں اورنج چنری سر تک اوڑھے دلہن کا روپ اُس پر بہت جچ رہا تھا
باتیں مت بناؤ۔۔۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں جب وہاں تم میرے ساتھ بیٹھو گی تو مجھے تو کوئی دیکھے گا ہی نہیں
عائشہ نے منہ بناتے ہوئے کہا جس پر جنّت ہنس دی
کوئی دیکھے نا دیکھے لیکن کبیر ضرور دیکھے گا
وہ سرگوشی میں بولی عائشہ اسکی بات پر شرم سے مزید سرخ ہو گئی
آپ بہت لکی ہے۔۔۔۔۔کیوں کہ میں کبیر کو جانتی ہوں وہ بہت ہی اچھا ہے آپکا بہت خیال رکھے گا
تم لکی نہیں ہو۔۔۔۔۔۔میرا بھائی مل رہا ہے تمہیں۔۔۔۔۔
عائشہ نے اُسکے جانب دیکھ کے پوچھا
لیکن وہ میرا خیال نہیں رکھنے والا۔۔۔۔۔۔مجھے ہی سنبھالنا پڑےگا اُسے۔۔۔۔۔۔
جنت نے فوراً جواب دیا جس پر عائشہ ہنسنے لگی جنت کی بات اُسے بلکل صحیح لگی
دونوں تیار ہو کر ہوٹل پہنچی تھی۔۔۔جنت نے سرخ رنگ کا لہنگا اور گہرے گرین کلر کے بلاوز پر سرخ دوپٹہ سیٹ کیا ہوا تھا جس پر چاروں طرف گرین ہی بارڈر تھی اور اوپری گھونگھٹ بھی سرخ رنگ کا تھا ماتھے پر پانسہ سجائے ڈائمنڈ کی بڑی سے نوز رنگ میں اسکا چہرہ مزید سج رہا تھا
دونوں کے نکاح آدھے آدھے گھنٹے کے فرق سے ہوئے تھے پہلے عائشہ اور کبیر کا نکاح ہوا تھا اور کچھ دیر بعد جنت اور سمر کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜
ودائی کی رسم کے بعد پھولوں سے سجی گاڑیوں میں دونوں کو بٹھایا گیا تھا کبیر اور عائشہ پیچھے بیٹھے تھی اور گاڑی ڈرائیور چلا رہا تھا
جب کے سمر نے پیچھے جنت کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے ڈرائیور کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا جس پر ڈرائیور نے اُسے حیرت سے دیکھا اور خاموش گاڑی سے نکل گیا
سمر نے اندر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرلی
ہوٹل سے گھر تک کا فاصلہ تقریبا آدھے گھنٹے کا تھا لیکن سمر اتنی تیز گاڑی چلا رہا تھا کے بیس منٹ کا فاصله دس منٹ میں طے ہو چکا تھا پہلے تو جنت لاپرواہ سی بیٹھی تھی کیونکہ وداعي کے بعد سے اس کا دل بہت اُداس تھا لیکن گاڑی کی سپیڈ اتنی تیز تھی کے اسکا اب سارا دھیان سامنے تھا اور اُسے بہت ڈر لگ رہا تھا جب ایک گڑھے سے گزرتے وقت گاڑی کو زور دار جھٹکا لگا اور وہ پوری طرح سے ہل گئی تو اسکا ڈر دو گنا ہو گیا لیکن گاڑی کی سپیڈ اُسکے بعد بھی کم نہیں ہوئی
Stop it۔۔۔۔۔
جنت نے چلا کر کہا جس پر سمر نے نے فورا گاڑی کو بریک لگاتے ہوئے اسکی جانب دیکھا
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی تیز گاڑی کیوں چلا رہے ہو مجھے گھر ہی لے جا رہے ہو نا کہیں اور پہنچانے کا تو ارادہ نہیں ہے
جنت نے غصے سے کہا
میں ہمیشہ ایسے ہی گاڑی چلاتا ہوں۔۔۔۔
لیکن اس وقت تم اتنی فاسٹ نہیں چلاؤگے۔۔۔۔۔
جنّت نے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا
تو پھر۔۔۔۔۔۔۔
بس اتنی سپیڈ پے چلاو۔۔۔اس سے بلکل بھی آگے مت جانا
اُسنے سامنے ہوتے ہوئے میٹر پر انگلی رکھ کر بتایا جس پر سمر نے اسکی جانب غصے سے دیکھا مطلب اب اُس کی اتنی ماننی پڑےگی
ایک کام کرو تم ہی چلا لو۔۔۔۔۔۔
وہ لا پرواہی سے بولا اور سیٹ سے ٹیک۔لگا کر ریلیکس ہو گیا جنت نے اُسے گھور کر دیکھا اور ڈور کھول کر باہر نکل گئی اور باہر آکر سمر کی جانب کا ڈور کھولا
ہٹو اُدھر۔۔۔۔۔۔۔
اُسے انگلی سے سائڈ میں ہونے کا اشارہ کیا وہ ہٹ کے بازو والی سیٹ پر بیٹھ گیا جنت نے خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی اور گاڑی سٹارٹ کرکے آگے بڑھتے ہوئے اُسے جتاتی نظروں سے دیکھا جب کے سمر لاپرواہ سا بیٹھا تھا
تم نے کیا سوچا کے تم اڑ جاؤگے کے میں نہیں چلاتا گاڑی تو میں تمہاری منتیں کرونگی کے نہیں ۔۔۔۔پلیز ایسا مت کرو۔۔۔۔۔ ورنہ ہم گھر کیسے جائے گے۔۔۔۔۔۔۔۔تیز چلانا ہے تو چلا لو لیکن پلیز گھر چلو
نو وے۔۔۔۔
میں آج کی لڑکی ہوں کسی کی محتاج نہیں ہوں گاڑی چلانا تو کیا میں سب کچھ کر سکتی ہیں
وہ فخریہ لہجے میں بولی جس پر سمر نے بے نیازی سے رخ باہر کی جانب کر لیا لیکن پھر ایک شیطانی کھیل کے ذہن میں آتے ہی اسکی جانب پلٹا
ایکچولی سب کچھ نہیں کر سکتی تم۔۔۔۔۔۔
۔ایسا تمہیں لگتا ہو لیکن میں سب کچھ کر سکتی ہوں
جنّت نے جتانے والے انداز میں کہا
ہو سکتا ہے تم سب کچھ کر سکتی ہو لیکن ایک ایسی چیز ہے جو میں کر سکتا ہوں لیکن تم نہیں کر سکتی
وہ مسکراتا اُسے چڑانے والے انداز نے بولا
خود ہی سوچ لو اور خوش ہو لو لیکن حقیقت تو یہی ہے کے ایسا کوئی کام نہیں
ٹھیک ہے چیلنج۔۔۔۔۔۔۔ میں جو کرونگا کروگی
وہ انگلی اٹھا کر بولا
بلکل۔۔
جنّت نے کمفیدنٹ سے کہا
اور اگر نہیں کر پائی تو میں جو بولونگا تمہیں ماننا پڑےگا
ٹھیک ہے لیکن صرف ایک بار۔۔۔اور اگر تم ہار گئے تو کان پکڑ کر مرغا بننا پڑےگا تمہیں
ڈن۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے انگوٹھا دکھاتے ہوئے کہا
بتاؤ کیا چیلنج ہے۔۔۔۔۔۔
جنت نے گاڑی ٹرن کرتے ہوئے پوچھا
رہنے دو یار مجھے پتہ ہے تم نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔
وہ ہنسی روکے بولا
ڈر گئے کے کہیں جیت نہ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
جنت مسکرا کر بولی سمر نے اُسکے جانب دیکھتے ہوئے ایک دم سے کرتا اُتار دیا
یہ کیا کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔
جنت نے اسکی بےشرمی پر ایک ہاتھ سے چہرہ چھپاتے ہوئے کہا
یہ کر کے دکھاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آرام سے بولا
بےشرم آدمی ۔۔۔۔تمہارا دماغ خراب ہے۔۔۔۔۔پہنو اسے۔۔۔لوگ دیکھیں گے تو کیا سوچے گے
وہ ہاتھ ہٹا کر اُسکے جانب دیکھتے ہوئے غصے سے بولی
مجھے نہیں پہنا مجھے بہت اریٹشن ہو رہی ہے اور دیکھو رشیس بھی ہو رہے ہے
کرتا شاید تھوڑا ٹائٹ تھا اور اُس کے کالر پر ڈیزائن بھی بنا تھا جس کی وجہ سے اُسے بہت دیر سے اُلجھن ہو رہی تھی جنت نے اُسکے دکھانے پر دیکھا تو واقعی اُسکے گردن اور شولڈر پر سرخ نشان بنے ہوئے تھے
ہاں ٹھیک ہے ہم گھر پہنچنے ہی والے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تب چینج کرلے نا ابھی پہنو اسے جلدی۔۔۔۔۔۔۔
جنّت نے دانت پیستے ہوئے کہا
اوکے۔۔۔۔لیکن تم شرط ہار گئی نا۔۔۔۔۔
وہ کرتا پہنتے پہنے رک کر بولا
م۔۔۔۔م۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔میں نہیں ہاری
وہ نظریں چراتے ہوئے بولی
تو چیلنج پورا کرو۔۔۔۔
سمر نے اُسکے باتیں یاد دلائی لیکن جنت نے اسکی جانب نہیں دیکھا انجان بن کر بیٹھی رہی
اگنور مت کرو۔۔۔۔۔۔۔یا تو ہار مانو یا چیلنج پورا کرو
جاؤ نہیں کرتی کیا کرلوگے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سامنے دیکھتے ہوئے ہی بولی
کیا کرلوں گا ۔۔۔۔۔۔ابھی بتاتا ہوں
وہ آگے جھکتے ہوئے اسکا دوپٹہ سر سے ہٹاتا اُسکے بلاوز کے پیچھے چین تلاشنے لگا
یہ کیا کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔دور ہٹو
جنت نے اُسے دھکیل کر پیچھے کیا
۔۔۔شرم نہیں آتی تمہیں ایسے بیچ سڑک پر میرے کپڑے نکال رہے ہو ۔۔۔انسان ہو کے جانور۔۔۔۔۔
تو تم ہاری نا۔۔۔۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔میں ہار مانتی ہے ۔۔۔۔۔۔پیچھے ہٹو تم۔۔۔۔پھوپھو بلکل صحیح کہتی تھی تمہارے بارے میں
وہ عاجزی سے بولی
کیا کہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔۔۔ تم پہلے یہ کرتا پہنو
ہم گھر پہنچ رہے ہیں اور سب باہر ہی کھڑے ہونگے
تمہیں ایسے دیکھے گے تو پتہ نہیں کیا سوچے گے
وہ بیزار ہو گئی تھی سمر کی حرکتوں سے
جلدی کرو۔۔۔۔۔۔
وہ گھر کر قریب پہونچ چکے تھے اور کرتا اب بھی سمر کے سر میں تھا
کیا یار تم گڑبڑ کرتی رہتی ہو دیکھو یہ نکل نہیں رہا
وہ کرتے کو نیچے کھینچنے کی کوشش کررہا تھا لیکن جنّت نے دیکھا کہ اُسکے صرف دو بٹن کھلے تھے اور نیچے کے دو بٹن بند تھی
بٹن تک کھولنے کا ہوش نہیں تمہیں۔۔۔ دکھاؤ ادھر۔۔۔۔۔
جنت نے بیزاری سے کہتے ہوئے گاڑی کو بریک لگایا اور اُسکے جانب جھکتے ہوئے اُسکے کرتے کے بٹن کھولنے لگی بٹن کھلتے ہی کرتا سر سے نیچے نکل چکا تھا لیکن وہ پیچھے نہیں ہو پائی کیوں کے اُس کے گلے میں موجود جویلری سمر کے کپڑوں میں پھنس گئی تھی وہ اب اُسے نکالنے لگی لیکن سمر صرف اُسے دیکھ رہا تھا وہ اُسکے اتنے قریب تھی اور اب وہ اسکی خوبصورتی کو نوٹس کررہا تھا جو دلہن بننے پر جنت کو ملی تھی وہ کبھی اُسکے سرخ ہونٹوں کو کبھی جھکی آنکھوں کو اور کبھی ہوا سے چہرے پر آتے بالوں کو دیکھ رہا تھا اسکی نظریں خود پر محسوس کرکے جنت نے صرف پلکیں اٹھائی تھی اور اسکی سنجیدہ آنکھیں دیکھ کر نظریں چرانے پر مجبور ہوئی تھی خود کو آزاد کرواتے اُسکے ہاتھوں میں مزید تیزی آگئی تھی اور وہ اُس مالا کو کھینچتے ہوئے چھڑانے کی کوشش کررہی تھی سمر لاکھ کوشش کے بعد بھی اُس وقت اُسکے چہرے سے نظریں نہیں ہٹایا پایا جنت نے اُس سے دور ہو کر سکون کا سانس لیا پہلے تو اُسنے سمر کو اگنور کیا لیکن جب دیکھا کہ وہ اب بھی اسی طرح اُسے دیکھ رہا ہے تو غصے سے اُسکی جانب دیکھا
ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔پہلے کبھی لڑکی نہیں دیکھی۔۔۔۔۔۔
لڑکی تو دیکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن خود کی پرائیویٹ دلہن نہیں دیکھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ماتھے پر بکھرے بالوں کو ہاتھ سے اوپر کرتے ہوئے بولا جنت نے اُسے ناگوار شکل بنا کر گھورا اور گاڑی سٹارٹ کرلی گھر پہنچے تو باہر ہی عمران الیشا اور عیشا کھڑے انکی راہ دیکھ رہے تھے عائشہ کا اپنے گھر میں ویلکم کرنے کے بعد عمران اور الیشا یہاں آگئی تھے سمر اُتر کے انکے پاس آیا جب کے جنت نے پہلے اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے دوبارہ سر تک اوڑھا اور آئینے میں اپنا جائزہ لے کے پرسکون ہوئی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: