Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 36

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 36

–**–**–

یہ مجھے ایسی نظروں سے کیوں دیکھ رہا تھا جب کے پیار تو یہ اُس ہنی مس فنی سے کرتا ہے کہیں ایسا تو نہیں کے یہ سوچ رہا ہو کچھ دن میرے ساتھ ٹائم پاس کرلے۔۔۔۔ویسے بھی ایک نمبر کا لوفر ہے اُس سے امید بھی کیا کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔مجھے اس سے سنبھل کے رہنا ہوگا۔۔۔۔۔۔
گاڑی گھر کے اندر لیتے ہوئے وہ سمر کو لیکر ہی سوچ رہی تھی
سوچ رہا ہوگا کے کیوں نا بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لوں لیکن بچو اگر میں نے بھی تجھے ڈبو ڈبو کر نہیں مارا تو میرا نام بدل دینا
وہ سمر کی جانب غصے سے دیکھ کر سوچنے لگی گاڑی رکی تو سمر باہر نکل گیا
جنت کا انتظار کیے بنا ہی سمر اندر چلا گیا تھا اُس وقت سب کا دھیان ڈرائیونگ سیٹ کی جانب سے باہر آتی جنت پر تھا جنت گاڑی سے نکل کر شرمندہ سی اُن لوگوں کے پاس آئی کہ وہ دلہن ہو کے گاڑی چلا رہی تھی جانے کیا سوچے گے سب
گاڑی تم چلا کر کیوں لائی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
عیشا نے حیرت سے پوچھا
وہ پھوپھو۔۔۔۔۔۔بس ایسے ہی ۔۔۔۔۔۔ائے ایم سوری
وہ کیا کہتی ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں جواب دیا
سوری کی کیا بات ہے اس میں۔۔۔۔۔چلو اندر آؤ۔۔۔۔
عیشا نے پیار سے کہا ۔۔۔
عیشا اور الیشا جنت کو لیکر اندر آئی جہاں عمران پہلے ہی اندر آکر سمر کے پاس پہنچا جو صوفے پر ساحر کے کندھے پر سونے والے انداز میں پڑا تھا
اوئے ہیرو۔۔۔۔۔۔۔شادی ہوئی ہے دلہن کے ساتھ اندر آنا چاہیے۔۔۔ایسے اکیلے ہی نہیں بھاگ جاتے اُسے چھوڑ کے
عمران نے اُسکے پاس بیٹھتے ہوئے کہا ساحر بھی اُسکے بات پر مسکرایا
Mamu this kurta is very irritating
وہ بے چاري شکل بنا کر بولا جس پر عمران نے زوردار قہقہہ لگایا
اوئے یار تو شیر ہے۔۔۔ کیا کرتے کو لے کر رو رہا ہے
عمران نے ہنستے ہوئے کہا جس پر سمر نے اُسے خفگی سے دیکھا
مامو اِدھر شادی میں اتنا ٹائٹ کرتا پہننا ضروری ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاریت سے بولا جس پر عمران کے ساتھ ساحر کو بھی ہنسی آرہی تھی
اوکے میں جا رہا ہوں اب روم میں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بولا
سمر۔۔۔۔۔یہاں آو۔۔۔۔
عمران کے روکنے سے پہلے عیشا نے اُسے پکارا جس پر وہ بیزار سی شکل بنائے مرے مرے قدموں سے چلتا اُس کے پاس آیا اور آکر سر اُسکے کندھے پر گرا دیا
سمر کیا ہے یہ۔۔۔۔۔۔سیدھے کھڑے رہو۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے سیدھا کرتے ہوئے بولی
لو یہ کنگن جنّت کو پہناؤ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکے ہاتھ میں کنگن دیتے ہوئے بولی وہی کنگن جو اُسے ساحر نے دیے تھے وہ اپنی جانب سے جنت کو دینا چاہتی تھی سمر نے جنت کا ہاتھ پکڑ کر باری باری دونوں کنگن پہنا دیے
Ok mom I m going now
ٹھیک ہے جنت کو بھی لے جاؤ وہ بھی تھک گئی ہوگی
عیشا نے پہلے اُسے خفگی سے دیکھا پھر تاسف سے سر ہلا دیا سمر نے جنت کا ہاتھ پکڑا
رک رک رک۔۔۔۔۔۔ایسے نہیں
تمہیں جنت کو گود میں اٹھا کر روم تک لے جانا ہوگا
عمران نے اُٹھ کر اسکا راستہ روکا تھا الیشا اور عیشا کے ساتھ ساحر نے بھی اُسے حیرت سے دیکھا جب کے جنت خاموش سر جھکائے کھڑی رہی
کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے بولا
رسم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران نے ہنسی روکے کہا
یہ بھی رسم ہے………..
سمر کو یقین نہیں ہوا
ہاں بلکل۔۔۔دلہن جب فرسٹ ٹائم گھر آتی ہے تو دولہے کو اُسے ایسے ہی روم تک لے جانا پڑتا ہے۔۔ تمہارے ڈیڈ نے بھی یہ رسم نبھائی تھی پوچھ لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساحر کی جانب دیکھ کر بولا جس پر ساحر نے اُسے گھورا لیکن اپنی ہنسی روک نہیں پایا عیشا شرمندہ سی ہو کر نیچے دیکھنے لگی
اگر ایسا تھا تو گراؤنڈ فلور کا روم دینا تھا نہ ماموں اب اتنا بھاری ویٹ لیکر سیڑھیاں کیسے کراس کرونگا
وہ پریشان شکل بنائے بولا عمران نے قہقہہ لگایا جب کے جنت نے منہ کھولے اُسے دیکھا پھر اپنا غصّہ کنٹرول کرتے ہوئے نظریں نیچے کی
اسی لیے تو یہ رسم ہے ۔۔۔۔۔زندگی بھر اب یہ ویٹ اٹھانا ہی ہے تمہیں ۔۔۔۔۔ابھی سے عادت ڈال لو
وہ کان کے قریب جا کر بولا سمر نے نا سمجھی اُسے دیکھا
Whatever
۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر سر جھٹک کر جنت کو بانہوں میں اٹھاتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا جنت نے سوچا کہیں گرا نا دے اسلئے اُسکے شولڈر پر ہاتھ رکھ دیا
روم کے اندر آکر اُسنے جنت کو نیچے اتارا
نیچے کیا بكواس کر رہے تھے تم۔۔۔۔۔۔میں کس انگیل سے تمہیں بھاری لگتی ہوں
وہ روم آتے ہی اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے بولی
ایک منٹ مجھے یہ کرتا اُتارنے دو اُسکے بعد میں ساری رات تمہارے ساتھ لڑنے کر لیے تیار ہوں اوکے
سمر نے اُسکے بات پر سنجیدگی سے کہا اور کرتا اتار کر صوفے پر پھینک دیا جنت نے چہرہ دوسری جانب کر لیا
شرم نام کی کسی چیز کا پتہ بھی ہے يا نہیں تمہیں جب دیکھو کپڑے اتار دیتے ہو کوئی لحاظ نہیں کے سامنے کوئی کھڑا دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔کیا سوچے گا
وہ غصے سے بولی
سامنے والے کے پاس اُس کی اپنی پرسنل باڈی ہوتی ہے وہ کیوں مجھے دیکھے گا
وہ کا پرواہی سے بولا
تم سے بات کرنا ہی بیکار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت آکر ڈریسنگ کے سامنے اپنے ہاتھوں کو چوڑیوں سے آزاد کرنے لگی
تم کیوں بات بات پر مجھ سے لڑ رہی ہو غصّہ دکھا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں تم اس شادی سے خوش نہیں ہو
سمر وہی سے بولا اور پہلی دفعہ وہ سنجیدہ تھا جنت نے اسکی جانب دیکھا
جتنا میں تمہیں جانتی ہوں کیا مجھے خوش ہونا چاہیے۔۔۔۔میری تو یہ سمجھ نہیں آرہا کے تم نے پھوپھو سے بات کیوں نہیں کی
وہ بھی سنجیدگی سے بولی تھی
میں کرنا چاہتا تھا لیکن وہ بہت خوش تھی اتنی سالوں بعد میں اُنھیں اتنا ریلیکس دیکھ رہا تھا کیسے اپسیٹ کردیتا شادی سے منع کر کے ۔۔۔۔
تو اب کیا ارادہ ہے تمہارا ۔۔۔دو کشتیوں پر سوار ہونا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے سوچا کے وہ ہنی سے پیار کرتا ہے اور اسی سے شادی کرے گا اور نکاح ہونے تک اُس کے دل میں یہ ڈر تھا کے وہ کسی بھی وقت انکار کر سکتا ہے لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا تو آخر وہ چاہتا کیا تھا کیا
کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر کے گمان میں بھی نہیں تھا کے جنت ہنی کے حوالے سے بات کررہی ہے وہ نے سمجھی سے بولا
دیکھو میں اتنی بھی اچھی نہیں ہوں کے سب جانتے ہوئے خوش ہو جاؤ ۔۔۔میں اپنی چیزیں تک کسی سے شیئر نہیں کرتی۔۔۔۔۔۔۔میں چاہو تو بھی یہ برداشت نہیں کرسکتی ۔۔۔۔اسلئے اچھا ہوگا ہم جلد سے جلد اپنے رستے الگ کر لیں
وہ اٹھ کر اُسکے پاس آئی
۔تم کیا کہہ رہی ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا لیکن ہاں یہ میں جانتا ہوں کہ تم مجھے پسند نہیں کرتی نا میں فورس کر رہا ہوں تمہیں ۔۔۔۔۔۔کچھ ٹائم دو مجھے سب ٹھیک کردونگا۔۔۔۔۔
کیا کروگے تم۔۔۔۔۔۔۔۔آزاد کر دوگے اس رشتے سے
سمر کا مطلب ہر گز بھی یہ نہیں تھا لیکن جنت کی بات سن کر اُسے بہت افسوس ہوا تھا اور برا بھی لگا تھا کیا وہ اس سے اس حد تک نفرت کرتی تھی
تم یہی چاہتی ہو تو کر دونگا
تین دن بعد مام ڈیڈ واپس لنڈن جا رہے ہیں۔۔۔۔اُسکے بعد میں سب سے بات کرونگا کم سے کم اُن کی نظر میں میں غلط رہونگا مام سے یا ڈیڈ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی کسی کو
وہ رک کر بولا جنت نے کچھ نہیں کہا اپنے کانوں کو جھمکوں سے آزاد کرنے لگی اور سمر چنجینگ روم میں آگیا
💜💜💜💜💜💜💜💜
کبیر کمرے میں آیا تو اس طرح سے کے عائشہ کو نہ دیکھا نہ بات کی جیسے وہ اُس کمرے میں موجود ہی نہ ہو پریشان سا مسلسل کمرے میں چکر کاٹتے ہوئے و جنت اور سمر کے ہی بارے نے سوچ رہا تھا اتنی ہمت جمع کرکے اُسنے سمر اور جنت کے بیچ نا آنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن جب اُسنے جنت کو سمر کر ہوتے دیکھا تو ساری ہمت ٹوٹ گئی۔۔۔۔جنت کو کھو دینے کا احساس۔۔۔۔اپنی محبت کے ناکام ہونے کہا احساس۔۔۔۔۔۔۔اور سمر اور جنت کے ایک ہونے کا صدمے پوری طرح سے اُسکے ذہن اور ہوائی ہو چکا تھا اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیا کرے
کبیر آپ ٹھیک تو ہے ۔۔۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے تک سوچنے کے بعد عائشہ بہت ہمت کرکے اُسکے پاس آئی اور جھجھکتے ہوئے پوچھا جس پر کبیر نے عائشہ کو سنجیدگی سے دیکھا
میں تمہیں کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا ۔۔۔۔۔میں جنت سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے عائشہ کے اوپر کسی تیز ہتھیار سے حملے کیا تھا اور وہ سیدھے اُسکے دل میں لگا تھا
وہ ہی میری پہلی محبت ہے اور میں مرتے دم تک اُسے ہی چاہتا رہونگا۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے غلطی ہو گئی مجھے یہ شادی نہیں کرنی چاہیے تھی
وہ سے پکڑ کر بولا
میں نے سوچا تھا کے میں اُسکی محبت پر اپنی محبت قربان کر دونگا خود اُس کے بغیر رہ لونگا لیکن نہیں میں اُسے سمر کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا
میں اُس سے بہت پیار کرتا ہوں جتنا سمر کبھی بھی کے سکتا اسلئے اُسے پانے کا حق بھی میرا ہے میں اُسے اپنا بنا کر رہونگا
وہ جنون کی حد تک پہنچنے والا تھا اور عائشہ سن ہو کر اُسے سن رہی تھی اسکا شوہر اُسکے سامنے کسی اور کی محبت کا اعتراف کررہا تھا
تم جا کر کہہ دو اپنے بھائی سے کے وہ میری جنت کو چھوڑ دے وہ صرف کبیر کی ہے۔۔۔۔۔۔۔تمہارے ساتھ میرا کوئی مستقبل نہیں ہے عائشہ میں کبھی تمہارا شوہر نہیں بن پاونگا اسلئے بہتر ہے تم چلی جاؤ یھاں سے پلیز۔۔۔۔۔
وہ اُسکے کندھوں کو تھام کر بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا اور عائشہ اُسے طرح کھڑی رہی اور جب پیر بےجان محسوس ہونے لگی تو زمین پر بیٹھ گئی وہ رونا چاہتی تھی پر آنسو ساتھ نہیں دے رہے تھے لیکن دل تو رہا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: