Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 37

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 37

–**–**–

وہ واش روم سے نکل کر باہر آیا تو دیکھا جنت چینج کرکے بیڈ پر سوچکی تھی اور اسکا فون مسلسل بج رہا تھا اُسنے جلدی سے فون لے کر سائلینٹ کیا کے کہیں جنت کی نیند نہ خراب ہو جائے اور وہ کال ہنی کے نمبر سے تھی رات کے ایک بجے وہ اُسے کیوں کال کر رہی تھی یہ وہ جانتا تھا اُسکی شادی کا جو صدمہ لگا ہے وہ ہی بیان کرنا چاہتی ہوگی
ہیلو سیم بہت بڑی پرابلم ہو گئی ہے
اُسنے فون اٹھا کر کان سے لگایا تو وکی کی آواز سنائی دی
کیا ہوا ۔۔۔۔
ہنی ۔۔۔۔۔۔۔ہنی مل نہیں رہی۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے۔۔۔۔
وکی نے گھبرائی آواز میں بتایا
وہاٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم نے ہاسٹل میں دیکھا۔۔۔۔
ہاسٹل۔۔۔کالج۔۔۔لائبریری۔۔۔۔۔۔۔سب جگہ دیکھ لیا اسکا فون بھی یہی ہے۔۔۔۔۔تمہاری شادی کی نیوز سن کر وہ بہت اپ سیٹ ہو گئی تھی مجھے ڈر لگ رہا ہے کہیں اُس نے کچھ کر نا لیا ہو خود کو
وہاٹ ربیش۔۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں وہ ایسا کچھ نہیں کرنے والی۔۔۔۔۔کسی فرنڈ کے ساتھ گئی ہوگی یا کسی کلب وغیرہ میں ہوگی۔۔۔۔
سمر جانتا تھا ہنی اتنی ہمت والی نہیں کے خود کو کوئی تکلیف پہنچا سکے
میں نے سب جگہ دیکھ لیا سیم اور اُسکے جو فرنڈز کو جانتا ہوں اُن سب سے بھی پوچھ لیا کسی کو کچھ نہیں پتہ۔۔۔۔
پھر ایک کام کرو پولیس میں کمپلینٹ کردو۔۔۔۔۔کہیں سچ مچ کسی پرابلم میں نہ ہو
سمر نے سوچتے ہوئے کہا
پولیس میں بھی کمپلینٹ کر چکا یار اور دو گھنٹے ہو چکے ہیں کوئی خبر نہیں ملی۔۔۔سیم پلیز تم اُسکے باقی فرنڈز کو پوچھ لو جن کو تم جانتے ہو شاید اُن میں سے کسی کو پتہ ہو
ٹھیک ہے تم اپنی طرف سے اُسے ڈھونڈتے رہو اور میں بھی کوشش کرتا ہوں
اُسنے کہتے ہوئے فون بند کر دیا جنت کی جانب دیکھا اور سوچا کے کہیں اُسکے بات کرنے سے جنت کی نیند نا خراب ہو اسلئے بالکونی میں آگیا بالکونی سے چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور آکر گارڈن میں موجود کرسی پر بیٹھ گیا
سمر سے بات ختم کرکے وکی نے ہنی کی جانب دیکھا اور کمینگی سے مسکرایا دونوں کا منصوبہ تھا سمر کو جنت کے قریب نہ جانے دینے کا اور شاید وہ کامیاب رہا تھا
سمر نے اپنے پاس موجود تمام نمبروں پر اور اُسکے علاوہ سوشل نیٹورک پر موجود تمام اُن لوگو سے جو اُن کے گروپ میں شامل تھے سب سے پوچھ تاچھ کرتا تھا اسی بیچ وکی بھی اُسے وقت وقت پر خبر دیتا رہا لیکن ہنی کے ملنے کی کوئی خبر نہیں ملی اگلے چار گھنٹے تک وہ اسی چکر میں پریشان ہوتا رہا پھر اچانک اُسے اپنے ایک جاننے والے کا خیال آیا جو اسی ایریا کا افسر تھا سمر نے اُسے فون کرکے ہنی کا پوچھا تو اُسنے کہا کہ اُسے تو اس بارے میں کچھ پتہ بھی نہیں نہ ہنی کی مسنگ کملینٹ لکھائی گئی ہے حالانکہ وہ نائٹ شفٹ پڑ ہے اگر اُسے پتہ ہوتا تو وہ ضرور ہنی کو ڈھونڈتا
اُسکی بات پر سمر کو حیرانی بھی ہوئی اور وکی پر غصّہ بھی آیا کے اُس نے جھوٹ کیوں بولا اُس نے وکی کو کال کیا اور پوچھا کے اُس نے کس ایریا کے پولیس اسٹیشن میں کمپلینٹ کی ہے
اسی ایریا میں کمپلینٹ کی ہے یار کیوں پوچھ رہا ہے
جھوٹ مت بول۔۔۔۔۔وہاں ایسی کوئی کمپلینٹ نہیں آئی ہنی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں خود بات کر چکا ہو ۔۔۔۔
اُسکی بات پر وکی گڑبڑا گیا
اوہ نو۔۔۔۔۔میں نے اپنے بھائی کو بولا تھا کمپلینٹ کرنے کو شاید اُس نے کی ہی نہیں اور مجھے کہہ دیا کہ کر دی۔۔۔۔آئے ایم سوری میں ابھی جا کے کرتا ہوں
وہ فوراً بات سنبھالتے ہوئے بولا ہنی کی بھی جان میں جان آئی
اُسکی کوئی ضرورت نہیں ہے میں بات کے چکا ہوں اگر اُنھیں کچھ پتہ چلا تو وہ بتا دینگے
بہت ٹائم ہو چکا ہے اب ہنی کے گھر والوں کو بتا دینا چاہیے شاید وہ وہاں چلی گئی ہو۔۔۔۔میں اُنھیں کال کرتا ہوں
سیم نے کے کر کال کاٹ دی
فون کرو اُسے ۔۔۔۔۔رات تو ہم اُسکی خراب کر ہی چکے ہے اب کھیل ختم کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی نے وکی سے کہا تو وکی نے سیم کو پھر سے کال کیا سمر اُسکے گھر کا نمبر ابھی ڈھونڈ ہی رہا تھا
ہیلو سیم۔۔۔۔ہاں ہنی ملی گئی ہے۔۔۔۔
وہ بلکل ایسے بات کر رہا تھا کے سیم اُسکی ہر بات پر یقین کرے اور سچ میں سمر کو سمجھ نہیں آیا کے یہ کتنا بڑا جھوٹ کھیلا جہ رہا ہے اُسکے ساتھ
کہاں۔۔۔۔۔
یار لائبریری کے لاسٹ لائن میں پیچھے بیٹھی رو رہی تھی ابھی جب دوبارہ میں کالج میں دیکھنے آیا تو مل گئی ہے
وکی نے ہنی کو آنکھ ماری
فون دو اُسے۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے فوراً کہا وکی نے ہنی کو فون دیا اور ساتھ ہے رونے کا اشارہ کیا
ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسنے مری مری سی سسکتی آواز نکالی
Are you lost your mind۔۔۔۔۔۔۔۔
جانتی ہو پچھلے چار گھنٹوں سے میں پاگلوں کی طرح اندھیرا میں بیٹھا تمہارا پتہ لگانے کی کوشش کر رہا ہوں آج میری شادی ہوئی ہے اور میں اب تک جنت کی مس انڈرسٹینڈنگ کلیئر نہیں کر پایا جو تمہاری وجہ سے ہوئی تھی۔۔۔۔مجھے اُس سے بات تک کرنے کا موقع نہیں ملا۔۔۔۔۔۔۔کیوں کے سارا ٹائم تمہاری ان بیوقوفی میں ویسٹ ہو گیا
سمر نے اُسکے رونے کہا کوئی اثر بھی لیا سیدھے بات کی اور واقعی اُسے ہنی سے ذرا بھی ہمدردی محسوس نہیں ہو رہی تھی بلکہ بہت غصّہ آرہا تھا
سیم پلیز۔۔۔۔۔۔تم جانتے ہو میں کس قدر ہرٹ ہوئی ہوں ۔۔۔۔۔۔تمہیں کھو دینے کا دکھ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔۔تم میری کوئی ہیلپ نہیں کے سکتے۔۔۔۔۔لیکن کم سے کم مجھے یہ دکھ تو منانے دو
ہنی نے باقاعدہ ایکٹنگ کی
فالتو کی باتیں بند کرو ہنی یہ دکھ۔۔۔یہ سوگ مجھے مت بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے صرف تم سے دوستی کی تھی پیار محبت والا کوئی کمٹمنٹ نہیں کیا تھا جو مجھے تمہارا یہ ٹارچر سہنا پڑے ۔۔۔۔۔۔۔اور اگر نیکسٹ ٹائم تم نے ایسی کوئی بھی فضول حرکت کی تو ہمارے بیچ دوستی نام کی چیز بھی نہیں رہےگی
وہ غصے سے بولا اور فون بند کر دیا ہنی نے فون کان سے ہٹا کر غور سے دیکھا
یقین نہیں ہوتا مجھے کے اُس لڑکی میں ایسا کیا دکھتا ہے اُسے جو یہ بار بار میری انسلٹ کرتا ہے
چل یار۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا پلان سکسیس فل ہو گیا ہم نے اُنھیں دور رکھا یہ کوئی چھوٹی بات تو نہیں ہے
وکی نے فخریہ کہا
آج تو یہ کر دیا ہم نے لیکن روز روز تو ایسا نہیں کر سکتے نا اُن کی شادی ہو چکی ہے سیم کبھی بھی اُس سے بات کر کے اُسے منا ہی لیگا پھر تو وہ ایک ہو جائینگے نا اور وہ ایک ہو گئے تو اُنھیں الگ کرنا بہت مشکل ہوگا
ہنی نے پریشان ہوکر کہا
ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔تم نے سنا نہیں سیم نے کیا کہا کہ وہ اب تک جنت کی غلط فہمیاں دور نہیں کر پایا۔۔۔۔۔اگر ہم جنت کو اُسکے خلاف اتنا بھڑکا دیں کے وہ اُسکی کسی بات پر یقین کرنا تو دور اُسے سننا بھی نہ چاہے تو۔۔۔۔۔۔
وہ کمینگی سے مسکرایا
تو مزا آجائے۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی نے اسکا ساتھ دیا وکی اپنی اگلے چال سوچ چکا تھا اور اب کچھ دیر بعد اُس پر عمل کرنا تھا
💜💜💜💜💜💜💜
کچھ گرنے کی آواز پر جنت نیند سے جاگی اٹھ کر دیکھا تو روم خالی تھا گھڑی صبح کے پانچ بجا رہی تھی اور روم میں اب بھی اندھیرا تھا وہ سلائڈ ڈور کی جانب آئی اور پردے کھول دیے اُسے وقت نیچے سے کسی نے کچھ پھینکا تھا جو سلائڈ ڈور سے ٹکرایا تھا اور وہ اُسے کی آواز تھی اُسنے دور کھولا اور بالکونی میں آئی دیکھا تو سمر کے جوتے تھے وہ کچھ سمجھ پاتی اس کے پہلے اُسکی نظر سامنے گرل پر پڑی جہاں سے سمر کو اوپر چڑ ھتے دیکھا وہ اندر آنے کے لیے ایک پیر اندر ڈال چکا تھا پھر جنت کو دیکھا تو رک گیا جنت اُسے شاک سے ہو کر دیکھ رہی تھی جو اپنے ہی گھر میں چوروں کی طرح گھس رہا تھا اُسنے ڈارک بلیو ٹی شرٹ پر بلیک سپورٹس پینٹ پہنی ہوئی تھی مطلب حلیہ سونے والا تھا لیکن ساری رات وہ کہاں رہا تھا جو اُسے یوں چھپ چھپ کر اندر آنا پڑ رہا تھا
ہ۔۔۔ہ ۔۔ہائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جنت کی حیران شکل دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا جنت بنا کچھ بولے اُسے غصے سے دیکھتے ہوئے واپس روم میں آگئی اور سمر بھی اندر اتر کر واپس روم میں آگیا
تم اتنی جلدی کیوں جاگ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکے پیچھے ہی روم میں آتے ہوئے بولا جنت نے اُسے جواب میں گھور کر دیکھا وہ جاننا چاہتی تھی کے سمر کہاں سے آرہا ہے لیکن پوچھنا نہیں چاہتی تھی سمر نے اُسے غصے میں دیکھا تو خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی وہ آکر بیڈ پر گرنے والے انداز میں سو گیا ساری رات جاگنے کی وجہ سے اب اُسے بہت نیند آرہی تھی جنت نا اب سو سکتی تھی نہ اُسے نیند آنے والی تھی اسلئے واش روم میں آگئی
💜💜💜💜💜
کبیر کب واپس کمرے میں آیا اور کب صوفے پر لیٹ کر آرام سے سو چکا تھا عائشہ کو کچھ پتہ نہیں چلا کیوں کے وہ تو کب سے ہوش کھو چکی تھی۔۔۔۔
اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیا کرے کس سے بات کرے کبیر سے کیا کہے
اُسنے وضو کرکے نماز پڑھی اور اللہ سے مدد مانگی بہت دیر تک جاۓ نماز پر بیٹھی وہ اپنے خدا کو یاد کرتی رہی اور جب اٹھی تو ایک فیصلہ کرکے اٹھی اور اُسے یقین تھا کے اللہ اس فیصلے میں اُسکے ساتھ ہے لیکن اب اُسے بہت ہمت چاہیے تھی۔۔۔۔۔
💜💜💜💜
جنت تیار ہوکر روم سے باہر نکلنے لگی تھی تب اسکا فون بجا اور کسی اننوں نمبر سے کال تھی
ہیلو۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو جنت شادی مبارک ہو۔۔۔۔۔۔۔
وکی نے خوش مزاجی سے کہا
کون بول۔رہے ہیں آپ
جنت کو اُسکی آواز انجانی لگی
میں وکی بات کر رہا ہوں
کون وکی۔۔۔۔۔
وہ وکی کو بھول چکی تھی
وکی سیم کا دوست۔۔۔۔
وکی نے یاد دلاتے ہوئے کہا
اچھا تم۔۔ کیوں فون کیا تم نے
جنت نے نا گواری سے پوچھا وکی کے کچھ مہینے پہلے بھیجے گئے فوٹو سے اُسے بہت تکلیف ہوئی تھی لیکن اتنے وقت میں وہ اُنھیں شاید بھول بھی چکی تھی
مجھے پتہ چلا کہ تم نے سیم سے شادی کر لی ہے مجھے بہت حیرانی ہوئی تم اُسکے بارے میں سب کچھ جانتی ہو کے وہ اور ہنی کتنے طرح کلوز ہے ایک دوسرے کے پھر بھی تم نے شادی کیوں کی اُسکے ساتھ
وکی نے اس لہجے میں کہا جیسے سچ میں اُسے بہت صدمہ لگا ہو
دیکھو۔۔۔۔۔
جنت نے غصے سے اُسے کچھ کہنا چاہا لیکن وکی نے اُسکی بات کاٹ دی
پلیز مجھے غلط مت سمجھنا جنت ۔۔۔۔۔مگر میں پہلی ہی بہت شرمندہ ہوں تم سے تمہیں سیم کی ہی وجہ سے کالج چھوڑنا پڑا تھا اور مجھے لگتا ہے تم سے شادی کر کے وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے بس اسی لیے
دیکھو میں اپنا اچھا برا جانتی ہوں تم آئندہ مجھے فون مت کرنا پلیز۔۔۔۔۔۔
وہ غصّہ کنٹرول کرتے بولی
میں جانتا ہوں جنت لیکن بس آج جب ہنی نے بتایا کہ کل ساری رات وہ اور سمر ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے ہیں تو مجھے بہت دکھ ہوا کل ہی تم دونوں کی شادی ہوئی اور سمر تمہاری بجائے اُس ہنی کے ساتھ لگا رہا ۔۔۔۔۔کیا گزری ہوگی تم پر لیکن سمر کے پاس کیوں اہمیت ہوگی اس رات کی کیوں کے وہ تو ایسی کئی راتیں ہنی کے ساتھ گزارتا رہا ہے
بكوس بند کرو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی بات پر دبی آواز میں چینخ کر بولی اور فون بند کرکے اسکا نمبر بلاک کر دیا وکی پر اُسے یقین بھلے نا ہو لیکن اُسکی باتوں نے جنت کو متاثر کیا تھا کیوں کہ اُسے خود یہ لگتا تھا کے سمر ہنی سے ہی پیار کرتا ہے تو کیا وکی کی باتیں سچ نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔۔۔اور ساری رات وہ کمرے سے باہر رہا اور صبح چوروں کی طرح اندر آیا کیا یہ بھی کم ہے سمجھنے کے لیے وہ اپنے آنسو بمشکل روکے سمر کو دیکھ رہے تھے لیکن پھر بھی اُسکی آنکھیں دھندلا گئی اسی وقت سمر کا فون بج رہا تھا جو ٹیبل پر رکھا تھا جنت نے پاس آکر دیکھا تو وہ ہنی کی ہی کال تھی جو اُس نے وکی کے کہنے پر کی تھی اور اُس کال نے وکی کی باتوں پر مزید یقین کی مہر لگانے کا کام کیا جنت نے جگ کا سارا پانی اُس کے فون پر اُلٹ دیا اور روم سے باہر آگئی۔۔۔
عائشہ اپنے بھائی سے بات کرو بتاؤ اُسے میرے اور جنت کے بارے میں۔۔۔۔۔۔
کبیر نے ایک نظر بھی اُسکے خوبصورت چہرے کو غور سے نہیں دیکھا تھا جو اُسکی بات سن کر پہلے سے اور زیادہ اُداس ہو گیا تھا آج ریسیپشن تھا اور کل سے آج تک کبیر نے اُس سے صرف یہی بات کہی تھی جب اس نے جنت اور سمر کو اسٹیج پر آتے دیکھا لیکن عائشہ نے کوئی جواب نہیں دیا خاموش بیٹھی رہی
سمر نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ کرتا نہیں پہنیگا چاہے کچھ بھی ہو جائے اسی لیے آج وہ بلیک سوٹ میں اور جنت بلیک گاؤن میں میچنگ میچنگ سے کھڑے تھے
سمر کسی سے کال پر بات کررہا تھا اور جنت اُسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی، کیوں کہ اُس کے پاس وہی فون تھا جس پر جنت نے پانی ڈال دیا تھا اُسنے جنت کی جانب دیکھا تو جنت نے انجان بنتے ہوئے چہرہ سامنے کر لیا
میرا فون واٹر پروف ہے کوئی اگر اس پر جگ بھر کر پانی بھی ڈال دے تو کوئی فرق نہیں پڑتا
وہ مسکراتے ہوئے بولا
تو مجھے کیوں بتا رہے ہو
وہ اُس کی جانب دیکھ کر بولی
ایسے ہی جنرل نالج۔۔۔۔۔۔..اگر تمہیں کبھی اپنی بھڑاس نکالنی ہو تو کچھ اور طریقہ آزمانا اس لیے
میں نے پانی نہیں ڈالا تھا اوکے
اُسکی طنزیہ باتوں پر اُسنے صاف جھوٹ بولا اور سامنے دیکھنے لگی
تم نے نہیں ڈالا تو پھر کس نے ڈالا ہوگا۔۔۔۔۔۔کہیں اسے خود نہانے کا شوق تو نہیں ہو گیا
وہ حیرانی کا ناٹک کرتے ہوئے بولا
کوئی کیوں ڈالے گا ہوسکتا ہے جگ خود گر گیا ہوگا
ہاں ہو سکتا ہے لیکن جگ گرنے کے بعد خود سیدھا بھی ہو گیا یہ بات تھوڑی شاکنگ ہے ۔۔۔ہے نا۔۔۔۔۔
وہ معصومیت سے بولا اور جنت نے اُسے گھور کر دیکھا
لیکن ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔آفٹر آل یہ انڈیا ہے ادھر تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ بھڑک کر سب کے سامنے اس کی انسلٹ نا کردے اس لیے جلدی سے بولا
💜💜💜💜💜💜
وہ لوگ گھر آچکے اور عائشہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے بیٹھی خاموش اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے آنسو بہا رہی تھی کبیر نے اُس کی خاموشی پر آنکھوں ہی آنکھوں میں جو غصّہ ظاہر کیا تھا اُس سے عائشہ بہت ہرٹ ہوئی تھی دروازہ کھلنے کی آواز پر اُسنے جلدی سے آنسو صاف کرکے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پلٹ کر دیکھا الیشا کو اس وقت دیکھ کر و حیران ہوئی تھی جلدی سے کھڑی ہو گئی الیشا نے کبیر کو گھر واپس آنے کی بجائے اتنی رات گئے کام کا بہانہ کرکے باہر جاتے دیکھا تو سمجھ گئی کے کس حد تک وہ غلطی کر رہا ہے
مجھ سے چھپانے کی ضرورت نہیں ہے میں جانتی ہوں تم رو رہی تھی اور یہ بھی جانتی ہوں کے تمہارے انسوں کی وجہ کیا ہے
الیشا نے کہا تو عائشہ نے سر اٹھا کر اُسے حیرانی سے دیکھا
ہاں بیٹا۔۔۔میں کبیر کی ماں ہوں وہ کچھ نا بھی کہے تو سمجھ سکتی ہو اُسکے دل کی بات۔۔۔مجھ سے غلطی ہو گئی تمہیں شادی سے پہلے ہی سب کچھ بتا دینا چاہیے تھا۔۔۔۔لیکن میں نے سوچا کہ کیوں تمہارے دل میں یہ رنجش پیدا کی جائے جب کے کبیر خود شادی کے لیے راضی ہے ہو سکتا ہے تمہارے آنے کے بعد وہ پچھلا سب کچھ بھول کر ایک نئے سرے سے شروعات کریگا لیکن آج جب تمہارے چہرے کی اُداسی دیکھی تو سمجھ آیا کے میرا فیصلہ غلط تھا ۔۔۔۔۔
کبیر بچپن سے جو چیز چاہتا ہے وہ اُسے ملتی آئی ہے اُسکی ہر خواہش پوری کی ہے ہم لوگو نے شاید اسی لیے وہ اب اتنا محسوس کر رہا ہے کے اُس نے کچھ کھو دیا ہے۔۔۔۔۔۔میں بھی چاہتی تھی کے میرے بیٹے کی خواہش پوری ہو لیکن جنت اور سمر کے رشتے کے ساتھ بہت سارے رشتے جڑے ہے ۔۔۔۔۔۔میرے ابو کی آخری خواہش تھی وہ میں کیسے اُس میں رکاوٹ ڈال دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن بیٹا دنیا کی ہر شادی محبت کے بعد نہیں ہوتی بلکہ اکثر شادی کے بعد بھی محبت ہوتی ہے تم یقین رکھو ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا تمہیں تمہارے حصے کا پیار بھی ملےگا اور حق بھی۔۔۔۔۔
اُسکی باتوں سے عائشہ کو ہمت ملی لیکن ایک ڈر بھی تھا دل میں
وہ کہتے ہیں کے وہ جنت کے علاوہ کبھی کسی سے پیار کر ہی نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔
پیار کسی کی ملکیت نہیں ہے جو اس پر مرضی چلے گی کسی کی۔۔۔۔۔جنت سے بھی اپنی مرضی سے محبت نہیں کی تھی اُس نے وہ تو شروع سے جانتا تھا کے جنت صرف سمر کی تقدیر میں ہے۔۔۔۔تم اُس کی سوچ کو غلط ثابت کرو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے مجبور کر دو خود سے محبت کرنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔یہ تمہارا حق ہے اور حق حاصل کرنا تمہارا فرض۔۔۔۔نکاح کے رشتے میں بہت طاقت ہوتی ہے اُس طاقت کو اپنا ہتھیار بناؤ اور اسکا دل جیتنے کی کوشش کرو زیادہ دیں حقیقت سے بھاگ نہیں پائیگا وہ
الیشا نے اسکا ہاتھ تھام کر سمجھاتے ہوئے کہا
آپ میرا ساتھ دینگی نے امی۔۔۔۔۔۔
عائشہ نے پر امید نظروں سے اُسے دیکھا
ہاں بیٹا میں ہمیشہ تمہارا ساتھ دونگی ۔۔۔۔۔۔۔تھوڑا وقت لگیگا لیکن دیکھنا وہ خوبصورت دِن ضرور آئیگا
💜💜💜💜💜💜💜
جنت اتنی بری طرح تھک گئی تھی کے روم میں آتے ہی بستر پر گر گئی نا اُسے کپڑے چینج کرنے کا ہوش رہا نا اپنی جویلری اُتارنے کا سمر کو آج کا سارا دن بھی موقع نہیں ملا تھا اُس سے کوئی بات کرنے کا اُس نے سوچا کہ اب بات کریگا لیکن اب اُسے سوتا دیکھ کر اسکا پلان فیل ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا اوپری کورٹ اتار کر جنت کے قریب بیٹھتے ہوئے اُسکے سر سے مانگ ٹیکا نکالنے لگا یہ سوچ کر کے جنت کو اس سے اُلجھن ہو رہی ہوگی اُسکے بعد اُسکے کان سے ایئر رنگ نکال کر سائڈ میں رکھے اُسکی ناک سے نوز رنگ نکال دی اور نوز رنگ کی چین جو اُسکے بالوں میں اُلجھ گئی تھی اُسے نکالنے کو اُس پر جھکا تھا لیکن جنت کو اتنے قریب سے دیکھ کر اسکا دھیان چین سے ب بھٹک کر کہیں اور چلا گیا تھا وہ اُسکے لبوں کو دیکھ کر ایک گستاخی کرنے کے خیال سے مسکرا رہا تھا اور پھر اپنے خیال پر عمل کرنے کے اراد سے اُسکے مزید قریب ہوا تھا اُس کے بال جنت کی پیشانی کو چھو رہے تھے اور شاید اُسے نیند میں بھی احساس ہو رہا تھا کے کوئی اُسکے اتنے قریب ہے اسکا کروٹ بدلنے کا ارادہ دیکھتے ہی سمر ایکدم سے پیچھے ہوا ورنہ جنت کا سر اُسکے سر سے ٹکراتا اور اُس کے بعد قیامت بھی آسکتی تھی زلزلہ بھی آسکتا تھا کچھ کہہ نہیں سکتے
کروٹ لیکر وہ سیدھی ہو گئی تھی اور ہاتھ سر کے اوپر رکھ دیا تھا جس سے اُس کا دوپٹہ چہرے کو ڈھک گیا تھا سمر نے اُسکے دونوں سائڈ میں ہاتھ رکھتے ہوئی بنا ٹچ کیے ایک بار پھر اُسکے قریب ہوا تھا اور دوپٹہ سے واضح نظر آتے اُسکے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے اور اگلے چند سیکنڈ میں ہی جنت کو کچھ بھی محسوس ہو اُس کے پہلے پیچھے ہٹ گیا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: