Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 38

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 38

–**–**–

جنت کو اپنے دونوں پیروں پر بھاری وزن سا محسوس ہوا جس سے اُسے بہت اُلجھن ہو رہی تھی اُسنے نیند میں ہی اپنے پیر نکالنے کی کوشش کی لیکن نہیں نکال پائی جھنجھلا کر اٹھ بیٹھی اور آنکھیں کھول کر دیکھا تو وزن کے نام پر کچھ اور نہی بلکہ سمر کے دونوں پیر اُسکے پیروں پر رکھے تھے اور وہ اوندھے منہ بیڈ پر ترچھا سویا تھا جنت کی آنکھیں حیرت سے اور زیادہ کھل گئی کل ساری رات غائب رہا اور اب اتنی بے فکری سے آکر اُس کے ساتھ بیڈ پرسو گیا تھا وہ بھی اپنی ٹانگیں پوری شان سے اُس کے اوپر رکھ کر جنت نے دونوں ہاتھوں سے اس کے پیروں کو اٹھا کر سائڈ میں رکھا اور سکون کی سانس لی ابھی سوچ ہی رہی تھی کے کیا کرے کہاں سوئے سمر کا پیر پھر سے اُسکے اوپر آ چکا تھا اُس نے جھنجھلا کا پھر سے اسکا پیر ہٹایا اور اٹھ کر صوفے پر آگئی لیکن اُسے بنا تکیے کی تو نیند ہرگز نہیں آنی تھی
ایک تکیہ سمر کے سر کے نیچے تھا جب کے دوسرے کو وہ گدا سمجھ کر اُس پر سویا تھا اُس نے سمر کو غصے سے دیکھا کے کتنی بری طرح وہ سو رہا تھا اور پھر پاس آکر اُس کے نیچے والا تکیہ نکالنے لگی لیکن سمر کا سارا وزن اُس تکیے پر تھا وہ اتنی آسانی سے کیسے نکل پتہ لیکن جنت نے بھی پورا زور لگا کر تکیے کو کھینچا تھا اتنی مشقت کے بعد بھی آدھا تکیہ ہی باہر نکلا تھا اور آدھا اب بھی اُس کے قبضے میں تھا جنت نے ایک سیکنڈ رک کے گہری سانس لی اور پھر پوری طاقت سے تکیے کو کھینچا اُس وقت سمر نے ہلچل کی اور تکیہ خود بخود فری ہو گیا تھا جنت کی ساری طاقت جو لگی تھی اُس کا نتیجہ وہ تکیہ سمیت زمین پر جا گری۔۔۔۔۔لیکن کم سے کم تکیا تو مل گیا تھا لیکن نہیں تکیہ نہیں بلکہ تکیے کا آدھا حصہ ہی اُسکے ہاتھ میں تھا و بیچ سے پھٹ چکا تھا اور اُسکی سفید نرم کپاس کچھ بیڈ اور کچھ زمین پر بکھر گئی تھی
اپنا شولڈر سہلاتے ہوئے اُس نے سمر کو کھا جانے والے انداز میں دیکھا اور ایک پل کو شبہ ہوا کے وہ جاگ رہا ہے اور جان بوجھ کر اُسے تنگ کر رہا ہے یقین کرنے کے لیے وہ اُس کے پاس آئی اور بیڈ کے نیچے زمین پر بیٹھتے ہوئے اُسے غور سے دیکھنے لگی لیکن لگ نہیں رہا تھا کے وہ جاگ رہا ہے بلکہ بہت گہری نیند میں لگ رہا تھا وہ واپس صوفے پر آئی اور بنا تکیے کے ہی رونی صورت بنائے سونے لگی
💜💜💜💜💜💜
بمشکل اُسے صوفے پر نیند آئی تھی لیکن صبح کے چھ بجے الارم کی اواز پر وہ ہڑبڑا کے اٹھی۔۔۔۔سمر خود ان تک گہری نیند میں تھا تو کیا یہ الارم اسکی نیند حرام کرنے کے لیے لگایا گیا تھا وہ غصے سے دانت پیستے ہوئے اُسے دیکھ رہی تھی مسلسل بجتے الارم سے سمر کو بھی دقت ہو رہی تھی اور وہ تکیہ سر سے نکال کر کان پے رکھے سونے کی کوشش کر رہا تھا پھر جھنجھلا کر اٹھ بیٹھا اور موبائل ڈھونڈ کر بیزاری سے الارم کیا۔۔وہ دوبارہ سونے کی تیاری میں تھا لیکن جنت کو صوفے پر بیٹھے خود کو گھورتے دیکھ کر رک گیا
تم صوفے پے کیا کر رہی ہو
وہ حیرانی سے پوچھنے لگا جنت نے پہلے تو غصے سے دیکھا پھر نارمل ہو کر مسکرائی
مجھے شوق ہے۔۔۔بیڈ پر سوتے سوتے میں اچانک صوفے پر پہنچ جاتی ہوں ۔۔۔
اس کے لہجے سے ہی سمر کی سمجھ میں آگیا کے وہ ابھی آگ بنی ہوئی ہے چھیڑنا مناسب نہیں اسلئے لب بھینچ کر رہ گیا
۔۔تم کس سے پوچھ کر میرے بیڈ پر سوئے تھے
او سوری۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا تم مائنڈ کروگی
مائنڈ۔۔۔۔۔۔تم کر کیا رہے تھے رات کو
وہ سختی سے دانت پیس کر بولی اور سمر کو لگا وہ کس والی بات کر رہی ہے اسلئے ایک پل کے لیے وہ حیران ہوا کے اُسے پتہ کیسے چلا
ک۔ک۔۔۔۔کیا کیا میں نے۔۔۔۔۔۔۔کچھ بھی تو نہیں کیا
کچھ نہیں کیا؟۔۔۔۔۔یہ دیکھ رہے ہو کمرے کی حالت۔۔۔۔تم میں بروسلی کی روح گھس گئی تھی یا جیکی چین کی۔۔۔۔۔۔ایک منٹ نہیں سونے دیا رات بھر۔۔۔۔۔اوپر سے صبح صبح یہ الارم لگا دیا تاکہ ساری ہی نیند حرام ہو جائے
اس کی بات پر سمر نے رکی سانس بحال کی
تھینک گاڈ۔۔۔۔۔
بے ساختہ اُس کے منہ سے نکلا اور اگلے ہی پل زبان دانتوں میں دبائے جنت کی جانب دیکھا جو آنکھیں سکیڑے اُسے دیکھ رہی تھی
آئے مین۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے ایم ریلی سوری۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ درستگی کرتے ہوئی بولا جنت نے کوفت سے آنکھیں گھمائی اور اپنے بالوں کو لپیٹتے ہوئے اٹھ گئی
ایک منٹ تمہارے بالوں میں یہ
سمر جلدی سے بیڈ سے اتر کر اُس کے پاس آیا اور اُسکے بالوں میں کپاس کے تنکے لگے تھے وہ نکالنے لگا جنت پہلے تو چپ کھڑی رہی لیکن جب سمر دھیرے دھیرے اور قریب ہونے لگا تو پیچھے ہوئی
کر لونگی میں۔۔۔۔بات بات پر چپکنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔اور جلدی سے یہ کمرہ ٹھیک کرو
وہ ایک قدم پیچھے ہٹ کر بولی
میں ٹھیک کروں۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے حیرانی سے پوچھا لیکن وہ جواب دینے کی بجائے واشروم میں جا چکی تھی
💜💜💜💜💜💜
گڈ مارننگ۔۔۔۔۔۔۔
عیشا نے پیار کرتے ہوئے اُسکے سلام کا جواب دیا
سمر کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔اٹھا نہیں اب تک
وہ اپنا اور سمر کا بیگ تیار کر رہی تھی جنت بھی اُسکے نکلے گئے کپڑوں کو تہ کرتی ہوئے بیگ میں رکھنے لگی
نہیں۔۔۔۔۔
وہ جب باہر آئی تب سمر کو سوئے دیکھا تھا وہ دونوں کچھ دیر روم میں ہی باتوں کے درمیان بیگ پیک کرتی رہی
شبانہ سمر کو جگا دو اور کہو کے ڈیڈ نے بلایا ہے
عیشا نے باہر آتے ہی ملازمہ کو کہا ساحر شاید باہر گارڈن میں تھا وہ اور جنت آکر ناشتے ہی ٹیبل پر بیٹھ گئے
میڈم وہ تو کمرے میں نہیں ہے۔۔۔
ملازمہ نے کچھ دیر بعد آکر جواب دیا جس پر جنت کو حیرانی ہوئی
میں جب نیچے آئی تو وہ روم میں ہی ۔۔۔۔۔۔
اور پھوپھو میں نے باہر جاتے بھی نہیں دیکھا
وہ صفائی دینے لگی کے پھوپھو اُسے ہی جھوٹی نا سمجھے
گڈ مارننگ ایوری ون۔۔۔۔۔
اُسی وقت سمر نے باہر سے آتے ہوئے کہا وہ پینٹ اور ٹی شرٹ میں ہی سپورٹ شوز پہنے شاید والک کے لیے باہر گیا تھالیکن کب کیوں کے جس کمرے میں وہ لوگ تھے وہاں سے اُنھیں ضرور دکھتا اگر سمر باہر جاتا
سمر تم پھر بالکونی سے کود کر باہر گئے تھے
عیشا نے نارمل کہا وہ جانتی تھی اپنے بیٹے کی حرکتیں اُسکی بات پر سمر مسکرایا اور چیئر کھینچ کر اُس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا
اتنے بڑے بڑے دروازے ہے گھر میں پھر بھی بالکونی سے باہر جانے کا شوق کیوں ہے تمہیں پتہ نہیں یہ چوروں والی عادت کہاں سے آگئی تم میں
عیشا کے لیے یہ نارمل تھا مگر جنت اُسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی اسی وقت کبیر اور عائشہ وہاں آگئی دونوں نے سلام کیا
بیٹھو ۔۔۔۔۔۔۔۔
عیشا نے دونوں کو ناشتے کے لیے زبردستی بٹھایا
بچا لیا تونے۔۔۔۔۔
سمر نے عائشہ کے کان کے قریب سرگوشی کی
امی نے بتایا کے آپ لوگ واپس لنڈن جا رہے ہیں وہ بھی آج ہی رات کو۔۔۔۔۔۔
کبیر نے کہا
ہاں۔۔۔۔۔۔
عیشا نے سر اثبات میں ہلا دیا اور چائے کی پیالے اُس کی طرف بڑھائی
آپ لوگ اتنے دن بعد واپس آئے ہے کچھ ٹائم اور رہتے کم سے کم اتنی جلدی جا رہے ہیں
کبیر نے فارمیٹ انداز میں کہا
جانا بھی ضروری ہے بیٹا وہاں کا کام دیکھنے کے لیے بھی تو کوئی نہیں ہے سمر بھی یہاں ہے اور ساحر بھی ۔۔۔کسی کو تو وہاں رہنا ہوگا۔۔۔لیکن ڈونٹ وری سمر اور جنت یہیں رہے گے تم جب تک چاہو انہیں یہی روکے رکھو۔۔۔۔۔۔
عیشا نے مسکراتے ہوئے آخری بات کی سمر نے جنت کی جانب دیکھا جو جمائی روکنے کی کوشش کر رہی تھی اور اُسکی آنکھیں بھی نیند نہ ہونے کی وجہ سے سرخ لگ رہی تھی
جنت تم جا کے سو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے فوراً کہا جس پر جنت کے ساتھ باقی سب نے بھی حیرت سے دیکھا
کیا ہوا جنت کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے کیا۔۔۔۔۔
عائشہ نے جنت کو دیکھتے ہوئے پوچھا
نہیں اکچولی وہ میری وجہ سے ساری رات سو نہیں پائی اس لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے بہت آرام سے کہا جب کے اُسکی بات پر جنت کو غصّہ بھی آیا اور سب کے سامنے شرمندہ بھی ہو گئی عائشہ نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی جب کے کبیر کے چہرے پر بہت ساری نا گواری تھی
جنت تم جا کے ریسٹ کرو
عیشا نے کہا تو و مزید شرمندہ ہوئی
نہیں پھوپھو میں ٹھیک ہوں
لیکن۔۔۔۔۔۔میں نے دیکھا تم نے جمائی لی ابھی
سمر نے اُسکی بات کاٹتے ہوئے کہا
کوئی بات نہیں جنت تم جاؤ بیٹا۔۔۔۔۔
عیشا نے پیار سے کہا لیکن اُسے تب بھی اچھا نہیں لگا وہاں سے اٹھ کے جانا سمر خود اپنی جگہ سے اٹھا
چلو۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور کھینچتے ہوئے کے جانے لگا جنت چاہ کر بھی کچھ کہہ نہیں سکتی تھی لیکن اندر ہی اندر سمر کو کھا جانے کا دل چاہ رہا تھا
مام آپکا بیٹا کتنا رسپونسبل ہو گیا ہے نا شادی کے بعد ۔۔۔۔لیکن بس بڑا نہیں ہوا ابھی بھی
عائشہ اُن دونوں کو جاتے دیکھ کر ہنستے ہوئے بولی عیشا بھی اُسکی بات پر مسکرائی جب کے دونوں کو اس طرح دیکھ کر کبیر کا موڈ اچھا خاصا برا ہو چکا تھا
سو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
روم میں آکر اُس نے جنت کو بیڈ پر بٹھایا
چھوڑو۔۔۔۔ کیوں مجھے سلانے کے پیچھے پڑے ہو
وہ ہاتھ چھڑا کر کھڑی ہوئی اور غصے سے بولی
تمہارا اچھا سوچنا بھی غلط ہے میری وجہ سے سو نہیں پائی اس لیے بول رہا تھا ورنہ تمہیں سلا کر کچھ کر نہیں لونگا
وہ اپنا سر اُس کے سر کے قریب لے جاکر بولا
دور سے بات کرو جب دیکھو چپکتے کیوں رہتے ہو بندر
جنت نےاُسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اُسے پیچھے دھکیلا
میں بندر۔۔تو تم بندریا
سمر نے بھی اُسکی طرح شولڈر پر دھکا دیتے ہے کہا
تم گدھے۔۔۔
جنت نے پھر اُسے دھکیلا
تم گدھی۔۔۔۔
سمر نے بھی وہی عمل دہرایا
تم اُلّو۔۔۔۔۔
تم مینا۔۔۔۔
تم شیطان۔۔۔۔
تم بھوتنی۔۔۔۔۔۔
اب کے سمر مسکرایا جس پر جنت نے ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم اٹھا کر اُس کے منہ پر سپرے کر دیا سمر کو ایک دم سے چھینکیں آنے لگی اور وہ کھانسنے لگا جنت گھبرا کر اُسے دیکھنے لگی ایک کی منٹ میں چھنکتے ہوئے اُس کی ناک گلابی ہو چکی تھی اور آنکھیں بھی
وہ واش روم میں چلا گیا جب کے جنت کو اپنی حرکت پر بہت غصّہ آیا اور وہ سمر کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی تاکہ اُسے سوری بول سکے دس منٹ بعد وہ باہر آیا تو اُسکی چھینکیں بند ہو چکی تھی بال اور چہرہ پانی میں بھیگے ہوئے تھےاور ٹی شرٹ بھی اوپر سے گیلی ہو گئی تھی اُس نے جنت کی جانب نہیں دیکھا لیکن چہرے سے ہی وہ ناراض لگ رہا تھا اور جنت کو بہت برا لگا اُس کا کچھ نہ کہنا سمر نے اپنی ٹی شرٹ اتار کر شرٹ پہنتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
💜💜💜💜💜
میں نے تم سے کہا تھا نا کے سب کو سچ بتادو تو کیوں یہ ڈراما کر رہی ہو کے سب نارمل ہے۔۔۔۔تمہارے مام ڈیڈ واپس جا رہے ہیں تم بھی کیوں نہیں چلی جاتی اُن کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں گھر سے باہر نکلے تھے کبیر کا موڈ کافی خراب ہو چکا تھا جنت اور سمر کو ساتھ دیکھ کر و غصے سے عائشہ کو بولا جس پر وہ حیرانی سے اُسے دیکھنے لگی
دیکھو عائشہ میری تم سے کوئی دشمنی نہیں ہے نہ مجھے تم سے کوئی شکایت ہے غلطی میری ہی تھی جو تم سے شادی کی ۔…۔۔۔۔۔۔لیکن پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کرو میری مشکلیں مت بڑھاؤ میں جنت سے پیار کرتا ہوں اور اگر چاہوں تو بھی کبھی تم سے پیار نہیں کر سکتا ہماری شادی کا کوئی فیوچر نہیں ہے ہم میں سے کوئی خوش نہیں رہ پائیگا کبھی ۔۔۔۔۔۔۔میں چاہوں تو خود بھی سب کو جا کر یہ کہہ سکتا ہوں اس ناٹک کو پل میں ختم کر سکتا ہوں لیکن اس سے بہت کچھ غلط ہو جائیگا ۔۔۔۔۔۔سالوں تک جو فاصلے تھے نا اب اُس سے بھی کئی زیادہ برا ہوگا لیکن اگر تم اپنے بھائی کو اچھے سے سمجھاؤ کے وہ جنت کو طلاق دے دیں تو کوئی پرابلم نہیں ہوگی عائشہ۔۔۔۔۔ کوئی خاص فرق نہیں پڑےگا یہی سوچے گے سب کے جو ہو رہا ہے ہم سب کی مرضی سے ہو رہا اور وہ زبردستی کرنے والے پرنٹس نہیں ہے ہمارے ….وہ سمجھ جائینگے کے ہم نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے
پلیز میں تم سے ریکویسٹ کر رہا ہوں میری بات مان لو
وہ غصّہ کنٹرول کرکے اپنے لہجے کو نرم بناتے ہوئے بولا عائشہ کو ناراض کرکے وہ اپنی مشکل نہیں بڑھانا چاہتا تھا
نہیں میں یہ نہیں کر سکتی یہ جھوٹ ہے کے اس میں سب کی مرضی اور خوشی شامل ہے ۔۔۔۔یہ صرف آپ چاہتے ہے ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا۔۔۔۔۔۔آپ صرف اپنے بارے میں سوچ رہے ہے ۔۔۔۔اور اُسے سب کی مرضی بتا رہے ہے میں بتاتی ہو سچ کیا ہے
سچ یہ ہے کہ جنت سمر سے الگ نہیں ہونا چاہتی
سچ یہ ہے کہ سمر جنت کو نہیں چھوڑ سکتا
اور سچ یہ بھی ہے کے میں اس رشتے کو ختم نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہماری مرضی اور یہ ہمارا سچ ہے آپکا سچ صرف آپکا جنون ہے جو آپکو کچھ اور دیکھنے نہیں دے رہا
اور آپ جب اتنے ہی اندھے ہو چکے ہیں اس جنون میں تو توڑ دیجئے اس حد کو بھی کیوں کسی کا خیال کر رہے ہیں جا کر بتا دیجئے سب کو کے آپ کیا چاہتے ہیں
تو کیا ہوا اگر پھر سے آپ کی امی اپنی بہن سے دور ہو جائیگی
تو کیا ہوا اگر آپکی نانی پھر اپنی بیٹی کو دیکھنے کے لیے ترستی رہےگی
تو کیا ہوا جو ایک بار پھر آپ کے ابو کی دوستی ایک کہانی بن کر رہ جائیگی
آپ کا جنون تو آپ سے کچھ بھی کروا سکتا تو پھر کیوں پرواہ کر رہے ہیں سب کی جا کر اعلان کر دیجئے کی آپ کے لیے آپکی یہ ایک طرفہ محبت کے علاوہ اور کوئی چیز معنی نہیں رکھتی
عائشہ نے اطمینان سے کہا یہ پہلی دفعہ تھا جب اُس نے کبیر کی بات کا جواب دیا تھا اور ایسا جواب جس کی کبیر کو ہرگز امید نہیں تھی
میں تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آرہا ہوں اور تم مجھے سخت ہونے پر مجبور کر رہی ہو اگر تم یہ سوچ رہی ہو نا کے کچھ وقت میں میں جنت کو بھول جاؤنگا اور تمہیں اپنا لونگا تو یاد رکھو وہ دن کبھی نہیں آئیگا میں کبھی تمہیں نہیں اپنا سکتا میں صرف جنت سے پیار کرتا ہوں چاہوں تو آزما کر دیکھ لو مہینے سال یا صدیاں لیکن میرے جذبات کبھی نہیں بدلے گے میں جنت کو سمر کو الگ کر کے ہے رہونگا اور ہاں میں چاہوں تو ابھی جا کر سب کو بتا سکتا ہو کے میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتا لیکن یہاں سوال میرے امی ابو کا ہے اسلئے میں چپ ہو لیکن اگر ضرورت پڑی تو میں یہ بھی کر گذروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات پر غصّہ ہوتے ہوئے بولا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرکے بھگا لے گیا صاف جتاتے ہوئے کے اُسے کوئی پرواہ نہیں کے تمہیں لے جانا ہے یہ نہیں وہ افسوس بھاری نظر سے اُسے جاتے دیکھتے ہوئے واپس پلٹ کر اندر جانے لگی جب اُسنے اپنے پیچھے سمر کو دیکھا تو جلدی سے مسکرا کر آگے بڑھی تاکہ اُس پر کچھ ظاہر نہ ہو جائے
سیم۔۔۔۔۔۔وہ کبیر کو کسی کام سے باہر جانا تھا اسلئے وہ جلدی جلدی میں نکل گئے میں ۔۔۔۔۔۔
بس ۔۔۔۔۔۔مجھ سے کچھ بھی جھوٹ مت بولو میں نے سب سن لیا جو کبیر نے کہا۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات کاٹ کر بولا وہ کبیر اور عائشہ کو روکنے کے ارادے سے باہر آیا تھا اور جب اُسنے کبیر کو عائشہ سے غصے میں بات کرتے دیکھا تو اُسکے قدم رک گئے تھے وہ چاہتے ہوئے اُن کے بیچ آکر بول نہیں اسکا کیوں کے اُسے بہت بڑا شاک لگا تھا کبیر کا یو روپ دیکھ کر اُس نے بڑھ کر عائشہ کو گلے لگا لیا
آئی کانٹ بلیو کے وہ اتنا سیلفش ہے ۔۔۔۔۔اُس نے دھوکہ دیا تم کو ۔۔۔۔اگر وہ جنت سے ہی پیار کرتا تھا تو تم سے شادی کیوں کی اُس نے۔۔۔۔۔۔۔بٹ ڈونٹ وری میں اُسے تم کو اور ہرٹ نہیں کرنے دونگا ۔۔۔۔جا کر کہہ دو اُسے کے سمر جنت کو طلاق دینے کے لیے تیار ہے
وہ سنجیدگی اور دکھ سے بولا عائشہ اُس کی بات سن کر فوراً پیچھے ہوئی
۔نہیں سیم۔۔۔۔۔۔۔تم ایسا نہیں کروگے۔۔۔۔۔۔۔۔چاہے کچھ بھی ہو جائے لیکن تم جنت سے الگ ہونے کی بات نہیں کروگے
لیکن کیوں۔۔۔۔کبیر یہی تو چاہتا ہے نا اسی لیے تمہیں ایسے ٹریٹ کررہا ہے۔۔۔۔۔چھوڑ دو کبیر کو وہ تمہارے لائق نہیں ہے عایش۔۔۔۔۔اور جنت میرے لیے تمہاری لائف سے زیادہ ضروری نہیں ہے ۔۔۔۔کبیر نے سب کے سامنے بول دیا تو پرابلم ہو جائیگی اچھا ہے کے جیسا و چاہتا ہے ویسا ہو جائے مام ڈیڈ کو میں سمجھا دونگا
نہیں سیم تم ایسا نہیں کروگے۔۔۔۔۔کیوں کے میں چاہتی ہی نہیں ایسا ہو میں کبیر سے الگ نہیں ہونا چاہتی میں یہ رشتہ نہیں توڑنا چاہتی سیم۔۔۔۔۔میں کبیر کا دل بدل کر اُسے اپنا بنانا چاہتی ہوں ایک کوشش کرنا چاہتی ہوں اپنی قسمت آزمانے کی۔۔۔۔۔۔لیکن اگر تم نے جنت کو چھوڑ دیا تو کبیر کو نہیں روک پاونگی میں ۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ اسکا ہاتھ تھام کر منت بھرے لہجے میں بولی
لیکن وہ تمہاری لائف کے ساتھ کھیل رہا ہے تمہیں انسلٹ کر رہا ہے تمہیں ہرٹ کر رہا ہے وہ اچھا نہیں ہے۔۔۔۔۔تم کیوں اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہو۔۔۔
سمر حیرانی سے بولا
تم نہیں سمجھتے سیم ۔۔۔۔۔۔۔ بس مجھ سے ایک پرامس کرو۔۔۔۔۔۔کے تم کبیر کو اُسکی کوشش میں کامیاب نہیں ہونے دوگے ۔۔۔۔۔وہ تمہیں اور جنت کو الگ کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔تم ایسا کبھی نہیں ہونے دوگے۔۔۔۔۔پرامس می۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکے آگے ہاتھ پھیلا کر بولی سمر اُسکے خالی ہاتھ کو دیکھتا رہا وہ کیسے اپنی بہن کو ایسے شخص کے لیے خوار ہوتے دیکھتا جس کی نظر میں اُسکی کوئی قیمت نہیں جو صاف اُس کے سامنے کسی اور کی محبت کا اظہار اور اُسکی بہن کی انسلٹ کر رہا تھا اُس کا ہاتھ حرکت کرنے سے انکار کر رہا تھا
میری کوششیں۔۔۔۔۔۔۔میری محنت ۔۔۔۔۔میرا یقین کسی کام کا نہیں ہوگا اگر تم میرا ساتھ نہیں دوگے۔۔۔۔۔تمہارا ایک قدم بہت کچھ غلط کردے گا سیم۔۔۔۔۔۔۔
مجھے میرے بھائی کا ساتھ چاہیے
وہ اُسے خاموش دیکھ کر پر امید لہجے میں بولی سمر نے اپنا ہاتھ اُسکے ہاتھ پر رکھ دیا تو وہ مسکرا دی وہ اُسے لیے اندر آگیا اُسے یہ نہیں پتہ کے وہ صحیح کررہا تھا یا غلط لیکن وہ اپنی بہن کو کسی چیز کے لیے انکار نہیں کر سکتا تھا وہ خود جنت سے کہہ چکا تھا کے اُسے آزاد کر دیگا لیکن اب عائشہ کی لائف سے ضروری کچھ بھی نہیں تھا لیکن جانے کیوں ایک خیال بار بار اُسکے ذہن میں آرہا تھا کے کیا جنت بھی کبیر کو پسند کرتی ہے اور کیا اُسکی شادی سے ناراضگی کی وجہ میں کبیر شامل ہے
💜💜💜💜💜💜
ڈیڈ۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانے کے درمیان سمر نے پہلی بار کچھ بولا تھا اُسکی آواز پر ساحر کے ساتھ عیشا اور جنت نے بھی سمر کو۔دیکھا
آپ دونوں کی بجائے ۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔اور جنت لنڈن چلے جائیں تو ۔۔۔۔
وہ رک رک کر بولا
کیوں۔۔۔۔۔۔۔
عیشا نے حیرت سے پوچھا جنت بھی بہت حیران ہوئی کیوں کے پہلے تو کو کوئی اور ہی پلان بنا چکا تھا پھر اب اچانک۔۔۔۔۔
آپ لوگ اتنے ٹائم بعد یہاں آئے ہو اور اتنی جلدی چلے جاؤگے تو نانی مامو کو بھی اچھا نہیں لگے گا کچھ ٹائم تو اور رہنا چاہیے نا آپکو۔۔۔۔اور وہاں بھی ڈیڈ بزی بزی ہی رہتے ہیں آپکو تو ٹائم ہی نہیں دیتے یہاں کچھ ٹائم ہالیڈے انجوئے کرلو نا
وہ کیسے بتاتا کے عائشہ کی مدد کا اس سے بہتر آئیڈیا کوئی تھا ہی نہیں کبیر سے جنت کو بہت دور لے جانا
اور آفس۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحر نے اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
آفس کا کام میں سنبھال لونگا نا ڈیڈ
کیسی باتیں کر رہے ہو سمر تم کیسے سب کام سنبھالو گے ۔۔۔۔
عیشا نے فوراً کہا
آپ لوگ یہاں آئے تھے تو بھی تو پیچھے سے میں نے سارا کام سنبھالا تھا مام اب تو مجھے کافی کچھ سمجھ میں آگیا ہے اور پھر ادیتیہ انکل بھی تو ہے ہیلپ کرنے کے لیے میں مینیج کرلونگا پکّا ۔۔۔اور
جنت نے لنڈن دیکھا نہیں ہے اسکو بھی اچھا لگے گا
اُسنے جنت کا بھی سہارا لیا کے انکار کی کوئی صورت نہیں رہ جائے
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔تم دونوں پیکنگ کرلو اور صبح ہی نکلنا ہوگا
ساحر نے اطمینان سے کہا عیشا اُسکی بات پر حیران ہوئی لیکن کچھ بھی بولی
تھنکیو ڈیڈ
سمر کو خوشی ہوئی اُس کے ہاں کہنے پر
ساحر تم نے کیوں ہاں کہاں اُسے ۔۔۔۔۔
اُن دونوں کے جانے کے بعد وہ بھی کمرے میں آگئے تھے عیشا نے ساحر سے پوچھا
عیشا ٹھیک ہے اگر وہ جانا چاہتا ہے تو جانے دو نا
ابھی شادی ہوئی ہے اُسکی کہاں اُسے کام میں اُلجھا رہے ہو اور اُسکی پڑھائی۔۔۔کام پر دھیان دیگا تو کالج کیسے جائے گا
عیشا نے اپنی فکر کی وجہ بتائی
عیشا وہ بچہ نہیں ہے اُس نے کہا ہے تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی کہا ہوگا اور کیا تمہارا دل نہیں کر رہا کے ہم کچھ اور وقت یہاں گزارے ۔۔۔۔۔۔وہاں کام کام میں واقعی کتنا ٹائم برباد ہو گیا کے تمہارے ساتھ وقت گزار ہی نہیں پایا ڈھنگ سے۔۔۔۔۔۔ اب جب موقع مل رہا ہے تو کیوں اسے انکار کرنا چاہتی ہو
ساحر نے عیشا کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا
میں بس اُن دونوں کے لیے ہی کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔ابھی شادی ہوئی ہے دونوں ڈھنگ سے جانتے تک نہیں تھے ایک دوسرے کو اور اب اگر سمر کام میں بزی ہو گیا تو جنت کو ٹائم کیسے دے پائیگا۔۔۔۔۔۔
تم فضول سوچ کر پریشان ہو رہی ہو بلکہ یہ اچھا ہے اُن دونوں کے لیے وہاں کوئی تیسرا ہوگا ہی نہیں دونوں کے علاوہ تب تو وہ ایک دوسرے سے ہی بات کرے گے نا
وہ مسکراتے ہوئے بولا اور عیشا نے اُسکی بات سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دی
💜💜💜💜💜💜💜💜
کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں ۔۔۔تم نے تو کہا تھا کے پھوپھو کے جانے کے بعد تم سب سے بات کرنے والے ہو پھر اچانک یہ انہیں روک کر ہمارے لندن جانے کی بات کیوں سوجھی تمہیں
جنت نے کمرے میں آتے ہے سمر سے پوچھا دو پہر سے اُس نے سمر کی خاموشی کو محسوس کیا تھا اور اُسے یہی لگا کے وہ اُسکے سپرے والی بات پر اب تک غصّہ ہے
جنت۔۔۔تمہیں یاد ہے اُس دِن میں چیلنج جیتا تھا تب تم نے کہا تھا کے میں جو کہونگا وہ تم کرو گی
سمر نے سنجیدگی سے کہا جنت نے سر اثبات میں ہلا دیا
تو اب تمہیں میرے ساتھ لنڈن چلنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت بغیر کوئی اعتراض کے اُسکی بات مانتے ہوئے کہا اور دوسرا بیگ نکال کر اپنے کپڑے اُس میں رکھنے لگی
مجھے دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُسکے ہاتھ سے ہینگر لیکر خود اُسکے کپڑے تہہ کرکے بیگ میں سلیقے سے رکھنے لگا جنت کپڑے نکال کر اُسے دیتی رہی اور وہ تہہ کر کے رکھتا رہا جنت کو اُسکی خاموشی اور سنجیدگی جانے کیوں بری لگ رہی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: