Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 39

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 39

–**–**–

اگلے دن سب اُن کے گھر پر موجود تھے سب آئے تو تھے عیشا اور ساحر کو سی آف کرنے لیکن اب جنت اور سمر کے جانے کا سن کر سب ہی حیران تھے اور کبیر کو صدمہ لگا تھا لیکن عائشہ بہت خوش تھی اور جان چکی تھی یہ فیصلہ سمر نے اُسکے ہی لیے لیا ہے سب سے مل کے اُن دونوں نے وداع لی اور ایئر پورٹ کے لیے نکلے عمران اور ساحر بھی دونوں کو چھوڑنے ساتھ گئے تھے
جنت انتظار کرتی رہی لیکن سارے سفر میں وہ پہلے کی طرح ایک بار بھی اُس سے مخاطب نہیں ہوا بس ضرورتاً ہی بات کی وہ عائشہ کو لے کر پریشان تھا لیکن جنت سے نہیں کہہ سکتا تھا جنت نے اُسکی جانب دیکھا تو وہ سیٹ سے ٹیک لگائے آنکھیں موندیں بیٹھا تھا کالے رنگ کی شرٹ جو اُس پر کچھ زیادہ ہی سوٹ کرتی تھی کیوں کے اسکا رنگ کافی صاف تھا ہمیشہ کی طرح بال ماتھے پر بکھرے اور کان بالی پہنے شاید پہلی دفعہ تھا جب جنت اُسے اتنے غور سے نوٹس کر رہی تھی دل چاہ رہا ہے تھا خود ہو کے اُس سے کہہ دے کے چپ مت رہو بات کرو لیکن دل کوروکا ہواتھا لیکن اپنے ہاتھ کو نہیں روک پائی اور جھجھکتے ہوئے اُسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا سمر شاید نیند میں تھا اُسے پتہ نہیں چلا لیکن جب جنت نے اپنی انگلیاں اُسکی انگلیوں میں پھنسائی تب سمر نے ہاتھ سیدھا کرکے اُسکے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے سر اُسکے کندھے پر رکھ دیا
💜💜💜💜💜💜
وہ لوگ گھر میں داخل ہوئے تو جنت کے ساتھ سمر بھی بہت حیران ہوا گھر کا بدلہ ہوا روپ دیکھ کر سارے گھر کو سجایا گیا تھا اور سامنے ویلکم کا بڑا سا بورڈ لگا ہوا تھا جنت نے سمر کو سوالیہ نظروں سے دیکھا جب کے سمر خود حیران تھا اُسکے سوال کا جواب کیسے دیتا
ویلکم ہوم۔۔۔۔۔۔۔
رومی نے اچانک سامنے آکر کہا جس پر سمر کی حیرت تو ختم ہوئی لیکن جنت اب بھی اجنبی نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی
یہ میرا فرنڈ رومی ہے۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُس سے ملتے ہوئے جنت سے تعارف کروایا
ویلکم جنت۔۔۔۔
ویلکم ٹو دا ہوم
ویلکم ٹو اؤر فیملی
اینڈ ویلکم ٹو لنڈن
رومی اُسکے سامنے آکر ہاتھ بڑھائے ہوئے خوشدلی سے مسکرایا
تھینک یو
جنت نے اُس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا
یہ ایک چھوٹا سا سرپرائز تھا میری طرف سے تم دونوں کے لیے اور ایک سرپرائز ہے لیکن صرف تمہارے لیے ۔۔۔۔۔میری وائف
رومی نے کہنے کے ساتھ ہی پیچھے اشارہ کیا اور جنت نے دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا لیکن اگلے ہی پل کوئی سامنے آیا تھا اور اُسے دیکھ کر جنت کی آنکھیں پھٹی رہ گئی تھی
حنا۔۔۔۔۔
وہ خوشی سے چلائی تھی
جنت۔۔۔۔۔۔۔۔شادی بہت بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔۔
حنا اُسکے گلے لگتے ہوئے بولی
حنا تم نے شادی کر لی اور مجھے بتایا بھی نہیں۔۔۔۔
جنت نے اپنی خوشی کو پرے رکھ کر خفگی سے کہا
آئی ایم سوری لیکن مجھے سیم نے منع کیا تھا
اُسنے سمر کی جانب اشارہ کرکے کہا
ایکچُلی وہ تمہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا
جنت نے سمر کی جانب دیکھا
اینڈ آئی ہوپ کے آپکو یہ سرپرائز بہت پسند آیا
رومی نے کہا تو و اُسکی جانب دیکھ کر مسکرادی یہ سرپرائز اُسے کیسے پسند نہ آتا
لیکن یہ سب کب ہوا ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ہماری بات ہوئی تھی تب تو تم نے کوئی ذکر نہیں کیا پھر اچانک شادی ۔۔۔۔۔۔
لمبی کہانی ہے بعد میں بتاونگی۔۔۔۔۔۔۔ابھی تو تم لوگ تھک گئے ہونگے نا تو جا کر آرام کرو ہم لوگ بھی گھر جاتے ہیں کیونکہ بہت رات ہو چکی ہے صبح ملتے ہے اوکے۔۔۔۔
حنا نے جلدی جلدی میں کہا جنت نے اُسکی بات پر سر اثبات میں ہلا دیا واقعی وہ بہت تھکان محسوس کر رہی تھی سمر کے اشارے پر وہ اُس کے پیچھے پیچھے اوپر آئی سمر نے اُسکے بیگ ایک روم میں رکھ دیا اور اپنا بیگ لیے باہر آیا
یہ میرا روم ہے اور یہ تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ بھی چاہیے ہوگا تو مجھے یا مس روزی بتانا اوکے
وہ اُسکے ساتھ والے ہے روم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا جنت اُسے حیرانی سے دیکھنے لگی کہاں تو ایک بیڈ شیئر کرنے نے اُسنے کوئی ریايت نہیں رکھی تھی اور اب ایک کمرہ تک شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا وہ اپنے روم میں جہ چکا تھا اور جنت بھی اُس روم میں آگئی جو اسکا بتایا گیا تھا
💜💜💜💜💜💜💜💜
تین دن ہو چکے تھے اُنھیں یہاں آئے ہوئے اور ان تین دنوں میں اُس نے پہلے والے سمر کو ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا تھا بلکہ وہ دکھائی بھی نہیں دیتا تھا تین دن میں اگر اُس سے سامنا ہوا تو صرف اتنا کے جب وہ تیار ہو کر روم سے نکلتا تو آفیس جاتے ہوئے اُسے بائے بول دیتا اور واپس کب آتا تھا یہ جنت کو پتہ بھی نہیں کیونکہ وہ روم میں جا چکی ہوتی تھی اُس نے لاکھ طے کیا تھا کے سمر سے دور رہنا ہے اُس سے الگ ہونا ہے لیکن سمر کا یہ روپ اُسے بہت تکلیف دے رہا تھا پہلے دو دن جو اُنہونے ساتھ گزارے تھے وہ جنت بہت مس کر رہی تھی
رومی اور حنا بھی دن میں اُس سے ملنے آتے رہے اُن کا گھر پاس میں ہی تھا حنا اور ملتے ٹی ڈھیر ساری باتیں کرتے وہ اُسے بتاتی کے کس طرح رومی اور اُسکے درمیان پہلے پیار ہوا اور پھر سمر کی مدد سے اُن دونوں کی شادی ہوئی رومی کی فیملی اور اُن کی باتیں کرتے کرتے بہت سرا وقت ساتھ گزرتا حنا کے ساتھ وقت گزار کر اُسے اچھا تو لگتا تھا لیکن اُس کے جاتے ہی پھر سے ایک خالی پن سا محسوس ہوتا تھا اور وہ اتنی مجبور تھی کے کسی پے ظاہر تک نہیں کر سکتی تھی اگر عیشا سے بھی بات کرتی تو خود کو خوش ہی ظاہر کرتی سمر پر اب اُسے غصّہ آرہا تھا کے ایک چھوٹی سے بات پر وہ اُس سے اب تک غصّہ تھا اور اُسے اس قدر اگنور کر رہا تھا یہ بھی بھول گیا کے اُسکے ایک بات کہنے پر وہ لنڈن آنے کے لیے تیار ہو گئی تھی لیکن اس کے لیے وہ خود کو بھی ذمےدار مانتی تھی۔۔۔۔اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے آخر اُس کا دل کیا چاہتا ہے
💜💜💜💜💜💜💜
سمر کہاں ہو تم اس وقت
عیشا نے اُسکے فون اٹھاتے ہی سوال کیا
مام میں آفس میں ہوں
وہ مصروف سے بولا
جب بھی پوچھو تو یہی جواب ملتا ہے کیا تم سے کیا جنت سے سارا وقت آفس میں ہی رہتے ہو تو جنت کے ساتھ کب رہتے ہو
عیشا کا مقصد یہی جاننا تھا جو اُس نے پوچھ لیا
مام میں اگر اُس کے ساتھ رہو گا تو کام کون کریگا
کام کرنے کہا یہ مطلب نہیں ہے کے باقی سب بھول جاؤ یہ بتاؤ جنت کو کہاں کہاں لے گئے تھے اب تک
عیشا اُس کی بات کاٹتے ہوئے بولی
مام میرے پاس ابھی ٹائم نہیں ہے اُسے کہیں گھمانے کے لیے
کیا۔۔۔۔تمہارا دماغ خراب ہے سمر ۔۔۔۔۔کام کے چکر میں تم نے جنت کو اکیلے چھوڑ دیا سوچا بھی ہی کے وہ اکیلے کیسے رہتی ہوگی کوئی بات تک کرنے والا نہیں ہے وہاں ۔۔اسی لیے تمہیں نہیں جانے دینا چاہتی تھی میں۔۔۔۔۔۔۔۔جاتے وقت تو بڑا کہہ رہے تھے کے جنت کو لندن جا کر اچھا لگے گا اور وہاں لے جا کر اُسے دیواروں سے باتیں کرنے کے لیے چھوڑ دیا
عیشا نے غصے سے کہا اُسے پہلے ہی اس بات کا ڈر تھا اور اُس نے جنت سے بات کرتے ہوئے اُسے اندازہ ہو گیا تھا کے وہ اُداس ہے
مام وہ بچی ہے کیا اُسے جہاں جانا ہوگا جا سکتی ہے گھوم سکتی ہے جو کرنا ہے کر سکتی ہے اس وقت ڈیڈ نہیں ہے تو میرا آفیس میں رہنا زیادہ ضروری ہے نا
سمر کو عیشا کے غصّہ کرنے پر بہت حیرانی ہوئی
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔وہ کسی جگہ کو جانتی ہے نہ کوئی ساتھ ہے اُسکے جو اُسے گھمائے۔۔۔۔۔۔۔اکیلی نہیں تفریح پر نکل جائےگی۔۔۔۔مجھے تم سے یہ امید ہر گز نہیں تھی۔۔۔۔میری بات دھیان سے سن لو تمہیں کام کرنا ہے یا نہیں کرنا ہے مجھے یہ نہیں پتہ لیکن کام کے چکر میں تم میری بھتیجی کو اگنور نہیں کروگے ۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے کام نہ کرنے سے لوس ہوتا ہے تو ہونے دو لیکن دن کے پانچ گھنٹے تم جنت کے ساتھ رہوگے اُسے لنڈن گھماؤ گے شاپنگ کر واؤگے اُس کے ساتھ ٹائم اسپنڈ کروگے سمجھ آئی
عیشا نے اچھے سے پھٹکار لگا کر اُسے اپنا حکم سنایا
What are you saying mom
سمر نے بے یقینی سے کہا
اگر تم چاہتے ہو ہم یہاں ہالیڈے انجوئے کرے تو تم وہی کروگے جو کہا ہے ورنہ یہاں واپس آجاؤ تمہارے ڈیڈ کام سنبھال لینگے اور وہ کام کے ساتھ فیملی کو بھی سنبھالنا جانتے ہے تم سے نہیں ہوتا تو ہار مان لو ہمارا خیال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں
عیشا نے طنز کرتے ہوئے فون بند کردیا اور سمر نے فون کان سے ہٹا کر اُسے حیرت سے دیکھا
یہ میری مام ہی تھی یا کوئی اور تھی
وہ خود سے ہی بڑبڑایا اُسے حیرت ہو رہی تھی کیونکہ آج پہلی بار عیشا نے اس طرح غصے میں اُس سے بات کی تھی اور اب کسی بھی قیمت پر وہ اُسکے حکم نہیں ٹال سکتا تھا ۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜
عائشہ نے چائے کا کپ کبیر کے سامنے رکھا
یہ تم نے اچھا نہیں کیا تم میری خاموشی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو۔,۔۔۔۔تمہیں کیا لگتا ہے اپنے بھائی سے کہہ کر جنت کو مجھ سے اتنی دور بھیج دوگی تو میں اُسے بھول جاؤنگا اور تمہیں اپنا لونگا۔۔۔۔کیسے سمجھاؤ تمہیں میرا پیار وقتی نہیں ہے میں اُسے کسی بھی قیمت پر نہیں بھول سکتا
آج اسکا غصّہ عائشہ پر واضح ہوا تھا جو وہ پچھلے تین دن سے ظاہر نہیں کر رہا تھا لیکن عائشہ سے چھپا بھی نہیں تھا وہ جاتے جاتے رک گئی
میں اب تک ہر کسی کے بارے میں سوچتا رہا سوائے اپنے لیکن اب صرف میں اپنے بارے میں سوچوں گا جنت میری زندگی ہے میں اُسے اپنا بنا کر رہونگا
وہ جنون کی انتہا تک پہنچنا چاہتا تھا اسکا غصّہ اُسے اندر سے برا بنا رہا تھا اور اُسکی تمام اچھائیوں پر حاوی ہوتا جا رہا تھا لیکن اب تک اندر جو تھوڑی سی اچھی موجود تھی وہ اُسے غلط قدم اٹھانے سے روکے ہوئے تھی
💜💜💜💜💜💜💜
آج پہلی دفعہ حنا اسے اپنے ساتھ اپنے گھر لے آئی تھی تاکہ سب سے ملوا سکے رومی کی امی دادی اور بھائی نے اسکا بہت خوش دلي سے سواگت کیا تھا باتوں سے ہی اُس نے اندازہ لگا لیا تھا اُن کے گھر میں بڑی ماں کا بہت رعب ہے اور وہ ذرا سخت مزاج بھی ہی لیکن انہیں کے مقابل رومی کی امی اُسے بہت اچھی لگی تھی
حنا اُسے اپنی شادی کا البم دکھا رہی تھی ساتھ رومی اور اُسکے بھائی بھی اُن تصویروں سے جڑے یادیں تازہ کر رہے تھے اسی وقت وہاں سمر آ پہنچا اُسے دیکھ کر وہ حیران ضرور ہوئی کیونکہ چار دن میں پہلی دفعہ وہ اُسے آفس ٹائم میں گھر پر دیکھ رہی تھی اُسے یہ نہیں پتہ تھا کہ اس کی وجہ عیشا ہے سمر نے اندر آکر سب کو سلام کیا
تیرے ماں باپ کو بھی پتہ نہیں کیا جلدی پڑی تھی تیری شادی کی اتنی سی عمر میں شادی کروا دی بچے کی
وہ صوفے پر ہی اُن کے پاس بیٹھا تھا جنت نے انکی بات پر تصویر سے نظر ہٹا کے سمر کو دیکھا وہ معصوم سے شکل بنائے بیٹھا تھا جیسے واقعی اُسکے ساتھ زیادتی ہوئی ہو پنک شرٹ اور بلیک فورمل پینٹ میں ٹائی لگائے بال ماتھے پر بکھرے تھے اور چہرہ تھکا ہوا تھا شاید اُسے ایسے دیکھ کے ہو رومی کی دادی نے یہ بات کہی تھی
بچہ اب چوبیس کا ہو چکا ہے بڑی ماں۔۔۔۔۔
سیف نے بنا سوچے جواب دیا لیکن جب خیال آیا کے جواب کسے دیا ہے تو پچھتایا امید کے مطابق اب بڑی ماں کی قہر الود نگاہیں اُس پر گڑی تھی
ہاں میں تو آج ہی آئی ہوں نہ میں تو جانتی ہی نہیں اُسے۔۔۔۔۔۔۔ارے چالیس چالیس سال تک شادی نہیں کرتے آج کل کے لڑکے اور اس کے سر پر ابھی سے شادی کی ذمےداری ڈال دی اوپر سے کام بھی سارا بچے کے سر منڈ کر خود نکل پڑے ہے نئے شادی شدہ جوڑے کی طرح سیر سپاٹے پر
اب اُن کا نشانہ عیشا اور ساحر کی طرف پلٹ گیا
نہیں بڑی ماں۔۔۔۔ مام ڈیڈ کو میں نے زبردستی روکا ہے
سمر نے انکی سائڈ لینی چاہی
چپ کر تو۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں اُن دونوں کو بس بہانہ چاہیے فرار ہونے کا۔۔۔۔۔گھر کی کام کی ذمےداری تجھ پر ڈال کر خود عیش کرنے نکل گئے
بڑی ماں نے ڈپتے ہوئے کہا جنت انکی بات پر مسکرائی سمر نے ایک پل اُسے دیکھ کر کچھ سوچا
یو آر رائٹ بڑی ماں۔۔ ۔۔ ۔مام ڈیڈ کو اپنے بارے میں نہیں بلکہ فیملی کے بارے میں زیادہ سوچنا چاہیے ہے نا ۔۔۔۔۔۔اپنی لائف تو وہ پہلے انجوئے کر سکتے ہیں لیکن بعد میں تو فیملی کی امپورٹنس زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔
اُسکے بدلتے روپ پر جنت کے ساتھ حنا رومی اور سیف نے بھی بے ساختہ اُسے دیکھا
اور کیا۔۔۔۔۔۔
بڑی ماں نے اُسکی تائید کی
یہ ہی بات میں نے اس رومی کو بھی بولی لیکن اس کو سمجھ ہی نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔نیویارک میں ایک گرینڈ فیسٹیول چل رہا ہے میں نے اس کو بولا حنا اور تو ادھر جاؤ انجوئے کرو لیکن نہیں اس کو تو آپ کو ایک دن چھوڑ کے نہیں رہنا تو دو ہفتے کیسے رہے گا یہ بات اسکو سمجھ نہیں آتی کے ابھی کا ٹائم ہسبنڈ وائف کا ہے بعد میں تو ریپونسبلٹی بڑھ جانی ہے دیکھنا بعد میں یہ بھی مام ڈیڈ کی طرح کریگا اپنی فیملی کو اگنور ۔۔۔۔۔اب آپ ہی اُسے سمجھاؤ میری تو یہ نہیں ماننے والا
وہ سنجیدگی سے بولا رومی کو اُسکے بدلنے کا مطلب اب سمجھ آیا رومی کی امی بھی اُسکی بات سن کر وہاں آگئی تھی یہ دیکھنے کے اب بڑی ماں کیا جواب دینگے جنت کے علاوہ سب کو پتہ تھا کہ سمر کے یہ بات کرنے کا مقصد کیا ہے بڑی ماں نے اُسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا تو وہ زبردستی کا مسکرایا پھر ایک دم سے انکے کان کے قریب ہوکر کچھ کہا جس پر بڑی ماں نے پر سوچ انداز میں اُسے دیکھا
باتیں بنانے میں تو تیرا کوئی ہاتھ نہیں پکڑ سکتا ۔۔۔۔ بوڑھی ہو گئی ہوں لیکن اتنی عقل ہے کے تیرے شوشے سمجھ سکوں…… جا بھجوا دے دونوں کو
تھینکیو بڑی ماں۔۔ رومی پاگل ہے جو آپ کو ڈریگن سمجھتا ہے آپ تو کتنی سویٹ ہو۔۔۔۔۔۔۔
سمر خوشی میں کیا بول گیا اُسے اگلے کچھ سیکنڈ میں اندازہ ہوا تو زبان دانتوں میں دبا لی بڑی ماں نے اُسکے سر پر چپت لگائی اور غصے سے دیکھا سمر نے رومی کو انگوٹھا دکھا کر اُسکی کام ہو جانے کا اشارہ کیا تو جنت کو سمجھ آیا کے یہ سب کیا تھا
ویسے یہ بات تم پر بھی تو لاگو ہوتی ہے نہ بیٹا
رومی کی امی نے کہا تو اُسنے اُن کی جانب دیکھا
ہاں آنٹی پر کیا ہے نہ وہ فیسٹیول مجھے بلکل بھی پسند نہیں ہے اسلئے ہم نہیں جا رہے
بات فیسٹیول کی نہیں ہے لیکن جب سے تم واپس آئے ہو بہت مصروف رہنے لگے ہو کیا تمہیں جنت کو وقت نہیں دینا چاہیے
وہ پیار سے بولیں اور دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا
یو آر ایبسلیوٹلی رائٹ آنٹی اسلئے میں نے ڈیسائڈ کیا ہے کے آج سے روز دن کے چار گھنٹے میں جنت کے ساتھ اسپینڈ کرونگا اوکے۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر انکے پاس آیا اور پرجوش لہجے میں بولا
واؤ جنت۔۔دھٹس گریٹ۔۔۔۔۔۔۔
حنا نے دھیرے سے جنت کو کہا لیکن وہ بجائے خوش ہونے کے حیرانی سے اُسے دیکھنے لگی کیا یہ بات بھی اُسنے صرف رومی کا پلین خراب نہ ہو اسلئے کہی تھی
💜💜💜💜💜💜💜💜
تمہیں پتہ ہے کے تم سے ملنے سے لے کر اب تک تمہاری ایک بات جو مجھے اچھی لگی وہ کیا ہے
وہ۔لوگ وہاں سے نکلے تھے پیدل ہی ۔۔۔۔ تھوڑے ہی فاصلے پر اُنکا گھر تھا اُسکی بات پر سمر نے سنجیدگی سے دیکھا
تم نے رومی اور ھنا کو ملایا۔۔۔۔۔۔اُن کی ہیلپ کی ۔۔۔۔۔دو پیار کرنے والوں کو ملوانا بہت اچھا کام ہے
وہ اُسکی جانب دیکھ کر بولی
پیار کرنے والوں کو ملوانا۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُسکی بات دہرائی جنت نے سے اثبات میں ہلا دیا
فار یور کائینڈ انفارمیشن۔۔۔۔۔۔۔میں نے صرف پیار کرنے والوں کو ملوایا نہیں بلکہ پیار بھی میں نے ہے کروایا ہے اُن کو۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔
جنت نے اُسکی بیوقوف بات پر حیرت سے پوچھا
ہاں۔۔۔۔ رومی کو تو حنا صرف اچھی لگی تھی لیکن میں نے ہی اسکو بولا کے تو اُسے پیار کرتا ہے۔۔۔۔۔وہ مانتا ہی نہیں تھا لیکن میں نے اتنا بولا اتنا بولا کے اُسے یقین ہو گیا کے وہ سچ میں کرتا ہے۔,۔۔
وہ جنت کو بتاتے ہوئے آخر میں ہنسنے لگا لیکن جنت اب بھی حیران تھی
لیکن کیوں کیا ایسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو ریزن ۔۔۔۔۔پہلا یہ کے۔۔۔۔مجھے لگا میرے دوست کو اُس کے جیسی کوئی دوسری لائف پاٹنر نہیں مل سکتی ۔۔۔۔۔۔جو اُسکے اور اُسکی فیملی کی لیے پرفیکٹ ہے
اور دوسرا۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے فوراً پوچھا
دوسرا تم۔۔۔۔۔۔۔میں نے سوچا تم جب یہاں آوگي تو سب کو بہت مس کروگی تم سب کو چھوڑ کر آؤگي پھر یہاں تمہارا کوئی تو ہونا چاہیے اور تمہاری بیسٹ فرنڈ یہاں ہوگی تو تمہیں اچھا لگے نا
وہ ایک پل رک کر بولا اور بنا اسکا ریکشن دیکھے سامنے دیکھ کر چلنے لگا اُسکی ایک چھوٹی سی بات میں جنت کو کتنی ہی حقیقتوں کے ہونے کا احساس دلایا
سنو جلدی سے ریڈی ہو جاؤ ہمیں باہر جانا ہے
گھر پہنچنے پر وہ سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے رک کر بولا
ایسے کیا دیکھ رہی ہو
جنت کے آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے پر اُسنے پوچھا
مجھے لگا تم بھول چکے ہو کے اپنے ساتھ یہاں کسی کو لے کر بھی آئے ہو لیکن آج تو تم کافی سیریس لگ رہے ہو مہمان نوازی کے لیے۔۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولی
اسلئے کیونکہ لائف میں پہلی بار میری مام نے مجھے بہت غصے سے بولا ہے ۔,۔۔۔اکچلی وہ میری مام نہیں تھی تمہاری پھوپھو تھی جنہوں نے مجھے اتنا روڈلی بولا کے میری بھتیجی کو اگنور مت کرنا اینڈ آل ۔۔۔۔۔۔۔۔آئی کانٹ بلیو دھیٹ
اُس کی بات پر جنت خوش ہوتے ہوئے مسکرائی
ریڈی ہو جاؤ آج شاپنگ کرتے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بعد میں ہنس لینا اوکے۔۔۔۔۔۔
وہ خفگی سے کہتے ہوئے اوپر چلا گیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: