Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 4

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 4

–**–**–

بیڈ پر دو زانو بیٹھے وہ روم کا جائزہ لے رہی تہی جو بڑی ہی خوبصوتی سے سجایا گیا تھا دیواروں پر وھائٹ پینٹ کے ساتھ بلیو ٹچ دیا گیا تھا ایک اور دیوار کی جگہ شیشے کا سلائڈنگ ڈور تھا جو بالکونی میں کھلتا تھا اس پر وھائٹ رنگ کے ڈیزائنر پردے لگے تھے سارا سامان جدید طرز کا قیمتی اور خوبصورت تھا ہر چیز سے سامنے والے کی پسند اور حیثیت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا گلاب کےپھولوں کی خوشبو نے ماحول کو معطر کیا ہوا تھا گلاب کی پتیوں کی خوبصورتی سے سجے کنگ سائز بیڈ پر وہ پچھلے ایک گھنٹہ سے بیٹھی تھی دلہن کے روپ میں وہ بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی رونے کی وجہ سے ناک اور آنکھیں سرخ ہو رہی تہی چہرے پر بیزاری عیاں تھی شام سے وہ اپنے نازک وجود پر اتنے بھاری کپڑے اور زیور کا بوجھ برداشت کررہی تھی اس پر بھوک سے پیٹ میں درد ہونے لگا تھا کیونکہ صبح سے اس نے صرف دو گلاس جوس ہی پیا تھا حالانکہ دادی نے اسے کھانا کھانے کے لئے کئ بار کہا لیکن اس وقت وہ اپنوں کے چھوٹنے پر دل ہی دل میں رو رہی تھی اس لئے انکار کرتی رہی لیکن اب من کر رہا تھا کہ کچن میں جاکر جو سامنے نظر آۓ کھالے مگر مجبوری تھی
اپنی سوچوں میں گم تھی جب دروازہ کھلنے کی آواز پر چونک کرسیدھی ہوگی گھونگٹ کو اور زیادہ لمبا کھینچ لیا دایاں ہاتھ دل پر رکھ کر بڑھتی دھڑکن کو روکنے کی نا کام کوشش کی ابھی وہ دروازہ بند کرکے بیڑ کے قریب بڑھا ہی تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا جانتا تھا باہر اس کے کزنس اسے پریشان کرنے کے لیے نئے نئے نمبرس سے کال کر رہے ہے فون اٹھا کر دو تین بار ہیلو کرتا رہا جواب نا پاکر ڈسکنیکٹ کر دیا اور آکر بیڑ کے کنارے پر بیٹھ گیا
اس کے اواز سن کر عیشا کو کچھ شک سا گزرا مگر اس نے اپنی غلط فہمی سمجھ کر سر جھٹک دیا
اسلام و علیکم
عیشا بیڈ کے بیچ میں بیٹھی تھی جبکہ وہ کافی فاصلہ پر پیر نیچے لٹکاے اس کے چھپے چہرے کی جانب دیکھ کر کہ رہا تھا اس نے سر کو ہلکی سی جنبش دے کر جواب دیا
ابھی وہ بات شروع کرنے کے لئے الفاظ ڑھونڈ ہی رہا تھا کہ دوبارہ موبائل شور کرنے لگا اس نے دل ہی دل میں انہیں کوسا
ہیلو
مگر دوسری طرف اب بھی خاموشی تھی
دوبارہ فون کیا نا تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا
اب کے کچھ جاندار قہقہے بلند ہوے
وہی اواز وہی لہجہ عیشا کو انجانے ڈر نے گہیر لیا اس نے فوراً گھونگٹ پیچھے کر کے اس کی جانب دیکھا اور شاک رہ گئ وہی تھا اس کا واحد دشمن دوسری جانب رخ کئے فون کی بکواس سے بیزار ہوکر سیل آف کر رہا تھا
تم
اگلے ہی لمحے اس نے شاک سے نکل تصدیق کرنی چاہی ساحر نے اس اچانک حملے پر پلٹ کر دیکھا
تم
وہ بھی اسی کے انداز میں بولا
ڈونٹ ٹیل می کہ تم ساحر ہو
اسے اب بہی یہ سب ایک مزاق لگا
ہیلووو میں ہی ساحر ہوں
او گاڈ
اس نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیےکیا واقعی دنیا اتنی چھوٹی تھی اسےیقین نہیں ارہا تھا
ساحر اب بھی حیرت سے اسے دیکھتا رہا
او گاڈ
اس کہ منہ سے نکلا
کیا تم مجھے کاپی کر رہے ہو
میں کیوں تمہیں کاپی کروں میں واقعی شاکڈ ہوں تم اور میری بیوی امپاسبل
اس نے بیزاری سے کہا
او ہیلو مجھے بھی کوئ شوق نہیں ہے تمہاری بیوی بننے کا —-اگر مجھے زرا بھی آئیڈیا ہوتا نا کہ میری شادی تم سے ہو رہی ہے تو میں بیچ نکاح کے انکار کر دیتی
اب کے وہ بیڈ سے اتر کر اس کے مقابل کھڑے ہوکر انگلی دکھاتے ہوے بولی ساحر بھی کھڑے ہو گیا
اور اگر تم دنیا کی اخری لڑکی بھی ہوتی نا تو میں کنوارہ رہنا پسند کرتا مگر تم سے ہرگز شادی نا کرتا
یا اللہ—- کیا اک یہی بد تمیز لڑکا رہ گیا تھا میرے لئے
یا اللہ –کیا اک یہی بد تمیز لڑکی رہ گئ تھی میرے لئے کچھ تو رحم کرتے مجھ پر
ساحر نے اسی کے انداز میں دہرایا تو وہ مزید سلگ کر رہ گئ
میں ہی بیوقوف ہو کیا ہوجاتا اگر شادی سے پہلے ایک بار دیکھ لیتی کی کون ہے
اب کے وہ دل میں بولی
میں ہی بیوقوف ہوں کاش کے شادی سے پہلے ایک بار دیکھ لیا ہوتا تو یہ نوبت نا آتی
ساحر نے کہا تو عیشا حیران رہ گی دل میں کہی بات کو وہ کیسے کاپی کر سکتا تھا
میں اس شادی کو نہیں مانتی—–_- ابھی جاکر دادی اور سب کو بتادوں گی سب کچھ میں تمہارے ساتھ کبھی نہیں رہ سکتی
وہ جلدی جلدی آگے بڑھی لیکن ساحر فورأ اس کے سامنے آگیا
راستہ چھوڈو میرا
تم اس وقت کسی کو کچھ نہیں بتاؤگی
تم کون ہوتے ہو مجھے ارڈر دینے والے ہٹو یہاں سے
کون ہوں کیا ہوں سب بعد میں دیکھے گے فلحال میری بات سنو
ابھی دادو کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اگر یہ سب بتایا تو انہیں صدمہ پہنچے گا اور ان کی طبیعت بگڑ سکتی ہے اس لیے کچھ وقت کے لیے انتظار کرو موقع دیکھ کر میں خود دادی کو سب بتادونگا
اب کے وہ نرمی سے بولا
کب تک
عیشا کو اس کی بات صحیح لگی دادی نے اتنے ارمانو سے اسے چنا تھا بدلے میں وہ ان کی بیماری کا سبب نہیں بن سکتی تھی
صرف تھوڑا سا وقت دو مجھے
مگرمیں تمھاری بات کیوں مانوں
وہ دونوں ہاتھ باندھ کر بولی ساحر کو غصہ تو بہت آیا مگر دادی کے لئے ضبط کرلیا
کیوں کہ جہاں تک میرا خیال ہے تمہارے لیے بھی دادی کچھ معنی رکھتی ہے تو ان کی خاطر اتنا تو کر ہی سکتی ہو اور تمہاری فیمیلی کیا انہیں تکلیف نہیں ہوگی اگر یوں اچانک شادی والے دن ہی شادی ٹوٹ گئ تو جسٹ تھنک اباؤٹ دھیٹ
اس. نے یہ شادی دادی کی خواہش پر کی تھی اور اب بھی ان کا سوچ رہا تھا
اوکے لیکن صرف دو مہینے اس کے فورأ بعد تم مجھے بنا کسی احتجاج کے طلاق دے دوگے
ساحر اسے دیکھتا رہ گیا کس بے شرمی سے وہ اپنے ہی لیے طلاق مانگ رہی تھی
ہاں ٹھیک ہے دےدوں گا——– مگر تب تک تم کسی سے کچھ نہیں کہوگی دادی کو بلکل بھی محسوس نہیں ہونے دوگی کے ہمارے بیچ کوئ پرابلم ہے اوکے
وہ جتاتے ہوے بولا
اوکے—— مگر میری ایک شرط ہے
وہ کچھ سوچ کر بولی
کیا شرط ہے
میں تمہارے ساتھ اس ایک کمرے میں نہیں رہ سکتی– تم اپنا انتظام کہیں اور کرلو
وہاٹ——— ار یو میڈ یہ میرا گھر میرا بیڈروم ہے—– تم مجھے ہی یہاں سے جانے کو کہ رہی ہو
کافی دیر سے ضبط کر رہا تھا مگر عیشا کی بات پر اسے بےحد غصہ آیا
تو میں کوئ اور روم لے لونگی لیکن تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی
وہ دوبارہ اگے بڑھنے لگی ساحر پھرسامنے اگیا
اگر ہم اس طرح الگ الگ روم میں رہے گے تو دادی کو پتا چل جاے گا وہ کیا سوچییں گی. ایک کام کرو تم یہاں بیڈ پر سوجاؤ میں صوفے پر ایڈجسکٹ کر لونگا اوکے
من تو کر رہا تھا کہ اسے اٹھاکر باہر پھینک دے مگر اس وقت اس کی باتیں مان لینا مجبوری تھی ورنہ اس کے کسی عمل سے گھر میں موجود مہمان بھی باتیں بناتے
ٹھیک ہے.
ساحر نے ایک سکون کا سانس لیا اور واش روم میں چلا گیاعیشا بھی ڑریسنگ ٹیبل کے پاس اگئ سارے زیورات سے خود کو آزاد کرکے سکون کا سانس لیا اوپری دوپٹّہ نکال کر بیڈ پر ڈالا پیٹ درد زیادہ ہونے لگا تھا اس لئے اب کھانا کھانا ضروری ہو گیا تھا یہ سوچ کر دروازے کی جانب بڑھی
اب کہاں جارہی ہو تم
ابھی ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا تبھی ساحر واش روم سے نکلا اسے باہر جاتے دیکھ کر جلدی سے پوچھا کہ اب اسے باہر جانے کی کیا سوجھی
بھوک لگی ہے مجھے—– کچن میں جارہی ہوں کچھ کھانے
اس نے منہ پھلا کر کہا ساحر نے اسے بغور دیکہا اور سوچنے لگا
کیسی لڑکی ہے زرا خیال نہیں اسے کہ یہ ابھی ابھی دلہن بن کر یہاں آئ ہے رات کے تین بجے اگر یوں کھانے کے لیے باہر نکلے گی تو لوگ کیا سوچے گے
اس کے لیے تمہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے جو چاہئے یہی منگوالو
وہ انٹر کام پر فروٹس کا کہہ کر واش روم کی جانب بڑھ گئ
ساحر صوفے پر آکر لیٹ گیا اس کے لیے یہاں سونا کافی تکلیف دہ تھا اس کے قد کے مقابلے صوفہ کچھ چھوٹا تھا مگر اس وقت مجبوری تھی بلیک ٹراؤزر پر سکاے بلیو شرٹ پہنے چند بال ماتہے پر بکہرے ہوے لب بہینچے وہ اس وقت بھی عیشا کے رویے کو ہی سوچ رہا تھا جب وہ باہر آئ بلیک سلوار پر بلیک ہی ڈھیلی سی گھٹنے کے اوپر تک آتی ٹی شرٹ پہنے کاندھے پر دوپٹہ ڈالے دھلے دھلے چہرے کے ساتھ بال کو کلچر میں باندھے ہوے وہ اپنی دھن میں بیڈ شیٹ سے پتیاں ہٹا رہی تھی ساحر بنا پلک جھپکاے اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ تو پہلے بھی اس کی خوبصورتی کا متعارف تھا مگر سوچا نہیں تھا کہ ایک دن اسے اپنے روم میں اتنے قریب سے دیکھے گا اس کی محویت ٹوٹی جب دروازے پر دستک ہوئ عیشا کو اشارہ سے روک کر وہ آگے بڑھا ہلکا سا دروازہ کھولا اور ٹرے لیکر اندر اگیا وہ بلکل نہیں چاہتا تھا کہ کوئ بھی کچھ نوٹ کرے یا غلط مطلب لے
ٹرے میز پر رکھ کر دوبارہ صوفے پر لیٹ گیا تھکان اتنی تھی کہ بے ارام جگہ ہونے باوجود ٹھوڈی ہی دیر میں اسے نیند اگئ
*************************** ساری رات وہ سو نہیں پائ ایک تو نئی جگہ اس پر دماغ میں چلتی کشمکش کروٹیں لے لے کر تھک گئ تو اٹھ کر ٹائم دیکھا فجر کا وقت ہوچکا تھا اس نے ایک نظر سامنے صوفے پر سکون سے سوتے ساحر پر ڈالی اور وضو کرنے چلی گئ نماز پڑھ کر دعا مانگی اور قران مجید پڑھنے لگی صوفے پر نظر ڈالی تو وہ خالی تھا شاید واش روم گیا ہو وہ پڑھنے میں محو ہوگی اسے کافی سکون محسوس ہورہا تھا تھوڑی دیر پڑھ کر اس نے قران مجید بند کردیا کیونکہ ساری رات جاگتی رہی تھی اس لیے تھوڑی دیر سونا ضروری تھا کیونکہ اج ولیمہ تھا اور پھر اسے شاید سکون سے بیٹھنے کا بھی وقت ملنا مشکل تھا وہ بیڈ پر آئ صوفہ اب بہی خالی تھا شاید وہ ابھی تک واش روم میں ہی تھا سوچ کر وہ لیٹ گئ تب ہی روم کا دروازہ دھیرے سے کھول کر وہ اندر آیا ایک سرسری نظر عیشا پر ڈالی ٹوپی اتار کر ڈراور میں رکھی اور صوفے پر لیٹ کر آنکھیں موندیے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا
تم نماز بھی پڑھتے ہو
عیشا جو حیران تھی ایک دم پوچھ بیٹھی
اس نے پہلے تو سوچا کیا واقعی وہ پوچھ رہی تھی
کیوں کوئ شک ہے تمہیں ماشاء اللہ چار وقت کی پڑھ ہی لیتا ہوں
چار وقت کی کیوں
اس نے حیرت سے پوچھا
کیونکہ کسی نا کسی وجہ سے ایک نماز چھوٹ ہی جاتی ہے زیادہ تر فجر نہیں پڑھ پاتا اور عشاء بھی اکثر ناغہ ہو جاتی ہے
وہ بلکل ایسے بات کررہے تھے جیسے ان کے بیچ کبھی کچھ تلخ تھا ہی نہیں ساحر کہ کر کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا
کیا رات کو تمہیں ٹھیک سے نیند نہیں آئ
اس کی نیند گہری نہیں تھی اس نے محسوس کیا تھا کے وہ بار بار کروٹ بدل رہی ہے اس نے ہمت کرکے پوچھ لیا مگر کوئ جواب نہیں آیا اس جانب دیکھا تو وہ سو چکی تھی سوتے ہوے وہ کسے معصوم بچے کی طرح لگ رہی تھی صوفہ بیڈ کے سائیڈ والے حصے کے سامنے تھا اورعیشا کا رخ اسی طرف تھا اسے دیکھتے ہوے وہ دوبارہ نیند کی وادی میں چلا گیا
****************************
بڑے ہی عالیشان طریقے سے ولیمہ کا اہتمام کیا گیا تھا مرد عورتوں کی مشترقہ تقریب تھی خوبصورتی سے سجاے گئے سٹیج پر وہ دونوں ایک ساتھ ایک خوبصورت صوفے پر بیٹھے تھے دونوں کو دیکھ کر کوئ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا ان کے درمیان کوئ تلخی ہے پاس ہی ایک صوفہ چیئر پر دادی بار بار دونوں کی بلاے لینے میں مصروف تھی ساحر اج قیمتی بلیک سوٹ میں بالوں کو ہمیشہ کی طرح سیٹ کئے کلین شیو میں چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لئے مہمانون سے مبارکباد وصول کر رہا تھا تو عیشا بھی خوبصورت فل آستین کے وھائٹ گاؤن میں بالوں کو جوڑے میں باندھے ڈائمنڈ سیٹ پہنے میک اپ میں کسی پری کی مانند سج رہی تھی تقریب میں بڑی بڑی ہستیاں شامل تھی اور ہر کوئ عیشا کی خوبصورتی کی تعریف کر رہا تھا اور دونوں کی جوڑی کو سراہ رہا تھا امی ابو سے مل کر وہ دوبارہ اداس ہوگی تھی لیکن اگلے ہی پل ریحان نے اسے ہنساکر ہنساکر بیزار کر دیا تھا فائزہ بھی اسے باقائدہ چھیڑ رہی تھی سارے مہمانوں کے رخصت ہونے کے بعد سب گھروالوں نے ساتھ کھانا کھایا اور دیر تک باتیں کرتے رہے ساحر بھی دوستوں میں گھرا رہا اور ان کے بے تکے سوالوں اور چھیڑ چھاڑ سہتا رہا ایک بجے کے قریب سب ہی چلے گئے تو دادی نے عیشا کو روم بھجوا کر خود بھی آرام کرنے چلی گئ
ساحر جب روم میں داخل ہوا تو اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا وہ رو رہی تھی بلیک سلوار پر ریڈ کرتی پہنے دوپٹہ گلے میں ڈالے دھلا دھلا بے داغ چہرہ لیمپ کی مدھم روشنی میں اور بھی خوبصورت لگ رہا تھا بالوں کی ڈھیلی چوٹی بناکر آگے کو ڈالی ہوئ تھی رونے سے خوبصورت آنکھیں سرخ ہورہی تھی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاے بیٹھی بار بار ہاتھ کی پشت سے انسو صاف کرتی ایک نظر ساحر پر ڈال کر دوبارہ پہیر لی ساحر کو اسے یوں روتے دیکھ کر تکلیف ہوئ شاید اس لئے کے اس کے رونے کی وجہ وہ تھا مگر بناء کچھ کہے وہ واش روم کی جانب بڑھ گیا جانتا تھا اگر کچھ کہا تو ہنگامہ کریگی
چینج کرکے ڈارک بلیو نائٹ پینٹ پر آف وھائٹ ٹی شرٹ پہنے جب وہ باہر آیا تو وہ اب بھی رونے میں مصروف تھی وہ آکر صوفے پر بیٹھ گیا کچھ دیر اسے دیکھتا رہا
کیا ہوا—– تم—- رو کیوں رہی ہو
اخر اس نے پوچھ ہی لیا عیشا نے پہلے تو اسے غصے سے گھور کر دیکھا
میری مرضی رؤں یا ہنسوں تمہیں اس سے کیا تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے
وہ غصےّ سے بولی
عجیب لڑکی ہو یار ہر سیدھے سوال کا الٹا جواب دیتی ہو——- کوئ رو رہا ہے تو وجہ جاننے کے لئے کوئ ہونا ضروری نہیں ہے انسانیت نام کی بھی کوئ چیز ہوتی ہے
اس نے کوئی پر زور دیا
اپنی یہ انسانیت اور یہ جھوٹی ہمدردی اپنے پاس رکھو– کسی اور کے کام آۓ گی—– مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے سمجھے
وہ زور کی آواز میں بولی
دھیرے بولو دنیا کو سنانے کی ضرورت نہیں ہے——– میں ہی بیوقوف ہوں جو خواہ مخواہ تم سے الجھ رہا ہوں—— روتی رہو مجھے کیا
بے نیازی دکھاتے ہوے اس نے لیٹ کر آنکھیں موند لی
ہر وقت ایک ہی ڈائلاگ تم کون ہوتے ہو تم کون ہوتے ہو—— بیوقوف
سوچ کر اس نے کروٹ بدل لی لیکن سسکیوں نے دیر تک اسے سونے نہیں دیا
****************************
وہ تیار ہوکر نیچے آیا تو دادی اور عیشا پارک سے واپس اکر ڈائنگ ٹیبل پر باتوں میں مصروف تھی وہ ہمیشہ جس کرسی پر بیٹھتا تھا اج وہ اسی پر بیٹھی تھی اسلیے وہ اس کے مقابل دادی کی بائیں جانب بیٹھ گیا اور ایک ہاتھ سے موبائل میں میسیج چیک کرتے ہوے خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا
ساحر عیشا کو کالج جانا ہے اسے چھوڑ دو اور گھر بھی لے انا
دادی نے رخ اس کی جانب کیا اور حکم نامہ جاری کیا
دادو ڈرائیور ہے نا——- اسے ٹائمنگ بتا دیں پک اینڑ ڑراپ کر دے گا
بے نیازی سے کہتے ہوے وہ سینڈوچ کھانے لگا نظریں اب بھی موبائل پر تھی
بیٹا بیوی شوہر کی زمہ داری ہوتی ہے ڈرائیور کی نہیں
دادو——-
انکی جانب دیکھتے ہوے اس نے کچھ کہنا چاہا
بس کچھ نہیں اج سے تم ہی اسے کالج لے جاؤگے اور لاؤگے یہ میرا ارڈر ہے
انھونے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا
اگر آپ کے جیسی دادی ہو نا تو آدمی کو کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں——- اب یہ بھی کرنا ہوگا
کہ کر وہ جوس پینے لگا دادی نے اسے غصے سے دیکھا اور دوبارہ ناشتہ کرنے لگیں
اور کہیں باہر گھومنے لے جا اسے بیچاری گھر میں بیٹھی بیٹھی بور ہو رہی ہوگی
انھوں نے یاد آنے پر فورأ کہا
نہیں دادی مجھے کہیں نہیں جانا اور آپ کے ہوتے ہوے میں بور ہوسکتی ہوں کیا
اس کے کچھ کہنے سے پہلے عیشا بول پڑی
دادی نے پیار سے اس کا گال تھپتھپایا
بوریت دور کرنے کا ایک سولوشن ہے
وہ موبائل پر نظریں جمائے کہنے لگا
کیا
اگر آپ کہے تو ایک سوتن لے آؤں
دونوں نے اسے غصے سے دیکھا جو بے نیازی سے جوس پی رہا تھا
لڑائی میں وقت کا پتہ بھی نہیں چلیگا
چپ بدتمیز کچھ بھی بکتے رہتے ہو خبردار جو آئندہ ایسی بات کی
وہ خاموش ہوگیا عیشا رخ موڈ کر دوبارہ دادی کی جانب متوجہ ہو گئی
اگر تمہاری باتیں ختم ہوگی ہو تو اب چلیں
وہ پانی پی کر کھڑا ہوگیا عیشا نے اسے گھور کر دیکھا اور دادی سے گلے ملی بدلے میں انہونےاس کا ماتہا چوما بیگ لینے کا کہ کر وہ اوپر چلی گئ دادی نے ساحر کا ہاتھ پکڑ کر اسے کرسی پر بیٹھایا اور اس کا کان مروڑا
بہت بد تمیز ہو تم
وہ معصوم سے شکل بنا کر ان کے گلے لگ گیا عیشا نیچے آئ تو ساحر نے انہیں ڑھیر ساری ہدایات دی اور دونوں خدا حافظ کہتے ہوے باہر آگے سارا راستہ دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی ساحر نے بھی کوشش نہیں کی
اس نے گاڑی کالج کے گیٹ کے پاس روک دی عیشا کے اندر جانے تک وہیں کھڑا رہا اور پہر آگے بڑھ گیا
اپنے کیبن میں داخل ہوتے ہی کسی نے اس پر پیپر ویٹ سے وار کیا وہ فوراً سائڈ میں ہوا پیپر ویٹ دروازے پر لگ کر کانچ توڑ گیا ورنہ شاید اس کا سر پھوڑ دیتا
سالے کمینے اج تجھے نہیں چھوڑونگا
جاوید نے پانی کا گلاس اٹھایا ساحر نے دوڑ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا
میرے بھائی کیا کر رہا ہے—- چار دن پہلے شادی ہوئ ہے کیوں میری بیوی کو بیوہ کرنا چاہتا ہے—– سکون سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں نا
ساحر نے گلاس لے کر دوبارہ میز پر رکھا
سالے تیری شادی کی خبر مجھے لوگوں سے مل رہی ہے اور تو سکون سے بیٹھنے کو کہ رہا ہے———- بے شرم آدمی کیا یہ سچ ہے
اب کے اس نے ساحر کالر پکڑ کر کھینچا
سب بتاتا ہوں یار—— تو بیٹھ تو سہی
ساحر نے مشکل سے اسے بٹھاکر خود اس کے نزدیک بیٹھ گیا اور اسے بتایا کہ کس طرح دادی کی خواہش پر اسے یوں فوری شادی کرنا پڑا اور اس نے کئ بار رابطہ کرنے کی کوشش کی
کل جب میں گھر پہنچا اخبار میں یہ خبر پڑھی ——-بہت غصہ ایا تجھ پر چل تو تو مصروف تھا مگر امران نے بھی کچھ نہیں بتایا
اس نے بھی بہت کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا تو ——–
اچھا اس کی چھوڑ مجھے اپنی بھابھی کے بارے میں بتا کون ہے
تو شاید اسے جانتا ہے
ساحر نے سوچتے ہوے کہا
اچھا—کون ہے—– کہیں وہ روبی تو نہیں
اس نے ساحر کی ایک دوست کا نام لیا
روبی——–میں اس میک اپ کی دکان سے شادی کرونگا——— کچھ تو میری پرسنالیٹی کا خیال کر کے بولتا
اب سبپپینس مت بڑھا— جلدی بول کون ہے
الیشا بھابہی کی بہن—– عیشا
عیشا——-ریحان کی بہن عیشا
جاوید نے اسے بے یقینی سے دیکہا
ہاں وہی ——-ون منٹ
اس کا موبائل رنگ کیا تو وہ بات کرنے لگا جاوید شاکی کیفیت میں اسے ہی دیکھتا رہا دس منٹ تک بات کرنے کے بعد وہ دوبارہ اس کی جانب مڑا
کیا سوچ رہا ہے
کچھ نہیں اللہ مہربان ہے تجھ پر
اس کا لہجہ دھیما تھا دونوں کچھ دیر باتیں کرتے رہے جاوید کام کا کہ کر اٹھ گیا اور وہ بھی لیپ ٹاپ آن کرکے کام میں بزی ہوگیا
****************************
سونے کی کوشش کرتے کرتے عاجز آکر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور ایک نظر ارام سے سوتی عیشا پر ڈالی کاندھے تک بلینکٹ اوڑھے اس کا معصوم چہرہ بہت پر کشش لگ رہا تھا لیکن ساحر کو اس پر بہت غصہ آرہا تھا جس کی وجہ سے اسے اپنے ہی روم میں صوفے پر بے ارام سونا پڑرہا تھا اج وہ دیر تک افس میں خوار ہوتا رہا اور اب گھر میں بھی سکون سے نہیں سو پا رہا تھا
اگر میں چین سے نہیں سو سکتا نا تو اسے بھی نہیں سونے دوگا
عیشا کی جانب دیکھتے ہوے اس نے دھیرے سے کہا اور ارد گرد نظر دوڈای میز پر اسے ریموٹ نظر آیا اٹھا کر ٹی وی آن کیا اور والیوم فل کر دیا عیشا کی نیند کچی نہیں تھی لیکن شور اتنا تھا کہ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور صورت حال کو سمجھنے کے لیے ادھر ادھر دیکھنے لگی ساحر نے والیوم تھوڑا کم کیا اور بے نیازی سے ٹی وی دیکھنے لگا مگر دھیان سارا دوسری طرف تھا
یہ کیا کر رہے ہو تم
عیشا نے حیرانی سے اسے دیکھتے ہوے پوچھا
اندھی ہو کیا جو دکھائ نہیں دے رہا ٹی وی دیکھ رہا ہوں
اس کے لہجے سے اس کا غصہ ظاہر تھا
یہ کونسا وقت ہے ٹی وی دیکھنے کا اور وہ بھی اتنی تیز آواز میں
اس نے ایک ہاتھ کان پر رکھتے ہوے کہا
میری نیند حرام کرکے خود تو ارام سے میرے بستر پر سو رہی ہو— اب کیا ٹی وی دیکھنے کے لیے بھی تمہارے اجازت لینی پڑے گی
میں اس وقت تم سے کوئ بحس نہیں کرنا چاہتی فوراً اسے بند کرو مجھے سونا ہے
سوری ملکہ عالیہ یہ تو ممکن نہیں
بے نیازی سے کہ کر اس نے والیوم دوبارہ فل کیا
اگر تم نے فوراً ٹی وی آف نہیں کیا تو میں ابھی کے ابھی دادی سے جاکر کہونگی کہ میں اپکے نالئق پوتے کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور مجھے اسی وقت اس سے طلاق چاہہے
زور سے چیخ کر کہا
اس کی بات پر وہ فورا اٹھ کر اس کے قریب آیا
کیسی لڑکی ہو تم لڑکیاں تو طلاق کا لفظ استعمال کرنے سے بہی ڈرتی ہے اور تم اس قدر بے شرمی سے——
اگر تمہاری جگہ کوئ اور ہوتا نا تو میں بھی انہیں لڑکیوں کی طرح سوچتی مگر تمہارے ساتھ رہنے سے بہتر میں مرنا پسند کرونگی
عیشا نے اس کی بات کاٹ دی
تو میں کونسا تمہارے پیر پڑرہا ہوں کہ میرے ساتھ رہو بلکہ جلدی دفع ہو جاؤ تو جان چھوٹے میری
اس نے ہاتھ جوڈتے ہوے کہا
تمہیں رات کے اس پہر لوگوں سے لڑنے کا واہیات شوق ہوگا لیکن مجھے نہیں ہے—— تم ٹی وی بند کر رہے ہو یا میں جاوں دادی کو بتانے
اگر دادی کا خیال نہیں ہوتا نا تو تمہیں بتاتا
ریموٹ لے کر ٹی وی بند کیا اور زور سے دیوار پر دے مارا عیشا نے بے نیازی سے اس جانب دیکہا اور واپس آکر سوگئ
اگر مجھے ایک خون معاف ہوتا نا تو میں اس کی جان لے لیتا
عیشا کو دیکھ کر اس نے دانت پیس کر کہا جو اپنی جیت پر مسکرا کر خود کو شاباشی کہ رہی تھی
****************************
رات دیر سے نیند آئ اس وجہ سے وہ ابھی تک ارام سے سویا ہوا تھا اچانک اسے اپنے اوپر ٹھنڈے پانی کے بوند گرتے محسوس ہوے بیزاری سے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور دوبارہ سوگیا ٹھیک ایک منٹ بعد دوبارہ سے چہرے پر ہلکی بارش ہوی اور دو سیکنڈ میں تھم گئ اس نے جھنجلا کر آنکھیں کھولی عیشا ڈریسنگ ٹیبل کے اگے آنکھوں میں کاجل لگانے میں مصروف تھی خوبصورت آنکھیں ہلکا سا کاجل لگانے پر اور زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی وہ اسے دیکھے گیا نیند جیسے اچانک کہیں غائب ہوگئ تھی لائٹ بلیو جینس پر یلو لانگ کرتی پہنے دوپٹے کو ایک کاندھے پر پہیلا کر پن اپ کئے کاجل کے بعد اس نے گولڈ چین گلے میں پہنی اور ہاتھ سے بالوں کو پیچھے ڈالا تو ایک بار پھر سے ڈھیر ساری بارش نے ساحر کا چہرہ بھگودیا وہ اپنے خوبصورتی سے سٹیپ کٹ کئے گئے بالوں میں برش کر کے انہیں سلجھانے لگی ساحر نے دوبارہ آنکھیں موند لی ہر دفعہ ایسا ہی ہوتا اس کی تمام باتیں بدتمیزیاں بہول کر وہ اسے یونہی دیکھنے پر مجبور ہو جاتا لیکن آنکھوں کی بات دل تک پہنچنے سے پہلے خود پر قابو پالیتا اور اس وقت بھی وہ اسی کوشش میں تھا
آج انہیں ریحان نے لنچ کے لیے گھر پر انوایٹ کیا تھا اس نے تیار ہوکر آئنے میں اپنا جائزہ لیا ساحر کو اب تک سوتا دیکھ اسے بے حد غصہ آیا کیونکہ دادی رات کو ہی دس بار کہ چکی تھی کہ صبح جلدی جانا ہے وہ صوفے کے قریب آئ لیکن اسے آواز بھی دینا گوارہ نہ ہوا موبائل میں الارم سیٹ کرکے اس کے کان کے قریب رکھ دیا ایک منٹ میں الارام کے شور پر وہ ہڑبڑا کر اٹھا اور موبائل کو زمین پر پہینک دیا جس سے وہ تین حصوں میں ادھر ادھر بکھر گیا
تم کر کیا رہی تھی
وہ جاگ ہی رہا تھا اس لئے اس اچانک حملے پر پریشان ہو گیا
تمہیں جگا رہی تھی—– اور کیا ——اور تم نے میرا فون توڈ دیا
فون کی جگہ تم بھی ہوتی نا تو یہی کرتا——– یہ کونسا گھٹیا طریقہ ہے کسی کو جگانے کا
دادی نے تم سے کہا تھا اج صبح جلدی تیار ہونا——- اور تم اب تک ارام سے سو رہے ہو
اوہ ہاں دادو سے کہو میں ادھے گھنٹے میں تیار ہوکر ارہا ہوں
اور میرا فون
شام تک تمہیں نیا فون مل جایگا
نہیں مجھے نیا نہیں چاہئے—– بس اسے ٹھیک کروادو
ساحر نے اسے یوں دیکہا جیسے کہیں کسی اور دنیا کی مخلوق تو نہیں
مجھے تمہارا کوئ احسان نہیں چاہئے
اس کی نظریں پڑھنے میں عیشا کو چند سیکنڈ لگے تھے
اوہ—– میں تو بہول ہی گیا تھا کہ میں ملکہ عالیہ سے مخاطب ہوں ——- جو حکم ملکہ غلام حاضر ہے
اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر طنز کیا
زیادہ بکواس مت کرو پہلے ہی بہت دیر ہو رہی ہے
کہ کر وہ روم سے باہر نکل گئ ساحر تاسف سے سر ہلا کر رہ گیا
پوری دنیا میں بس ایک ہی پیس ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: