Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 40

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 40

–**–**–

وہ جنت کو لے کر وہاں کے مشہور شاپنگ مال میں آیا تھا جس کا اب تک جنت نے صرف ذکر سنا تھا اور وہاں بڑے بڑے برانڈ کی بہت ساری دکانیں تھی
یہ دیکھو۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے جنت کے ہاتھ میں ایک بک تھمائی جو لنڈن کے متعلق تھی
ہم ان ساری پلیسز پر اگلے کچھ دن میں جانے والے ہے اس کے حساب سے تم کو جو کپڑے اور سامان چاہیے سب خرید لو اور اُس کے علاوہ بھی جو تمہیں پسند آئے وہ لے لو
جنت نے کتاب سے نظریں ہٹا کر اُسے دیکھا
اگر مجھے یہ شاپنگ سینٹر پسند آئے تو۔۔۔۔۔۔
دل دیکھنا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔۔جاؤ لے لو ۔۔۔۔۔
سمر نے شاہانہ انداز میں کہہ کر مسکرایا
اچھا۔۔۔۔۔۔۔
جنت اُسکی بات پر ہلکا سا ہنس دی
بلکل ۔۔۔۔شاپنگ سینٹر ہی نہیں بلکہ آس پاس کے سارے شاپس ہاؤس سب لے لو میں اپنی ساری پراپرٹی بیچ دونگا اور اگر ضرورت پڑی تو خود کو بھی بیچ دونگا۔۔۔۔
وہ دونوں آس پاس کے کپڑوں کا جائزہ لے رہے تھے
تمہیں کون خریدے گا۔۔۔۔۔
جنت نے اُسکی بات پر ہنستے ہوئے کہا
کوئی نہ کوئی تو خرید ہی لیگا۔۔۔۔۔ورنہ تم خرید لینا۔۔۔بہت کام آؤنگا تمہارے
اچھا۔۔۔۔۔فور ایگزیمپل۔۔۔۔۔
جنت نے ایک شرٹ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے پوچھا
۔میں مارننگ الارم بن کر روز تمہیں جگا دیا کرونگا۔۔۔۔کافی بنا دیا کرونگا۔۔۔بلکہ اپنے ہاتھ سے پلا بھی دیا کرونگا۔۔۔۔۔
وہ سوچ کر بولا اور جنت کو اُسکی باتوں پر ہنسی آرہی تھی
اور۔۔۔۔۔
وہ اُسکی جانب رخ کیے مزے سے پوچھنے لگی
اور۔۔۔۔۔تمہارے بال بنا دونگا۔۔۔۔۔۔میک اپ کر دونگا۔۔۔۔بلکہ تمہیں نہلا بھی دیا کرونگا۔۔۔۔۔۔
وہ اسی لہجے میں بولا اور جنت نے جلدی سے اپنے اطراف دیکھا کے کسی نے اُس کی بات سنی تو نہیں لیکن وہاں پاس میں کوئی نہیں تھا اور جو تھے تھوڑے فاصلے پر تھے اور اپنے میں مصروف تھے
کتنے بےشرم ہو تم۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت جتاتے ہوئے بولی
بہت۔۔۔۔۔۔
وہ کاندھے اُچکاتے ہوئے بولا جنت سر نفی میں ہلاتی کپڑوں کی جانب متوجہ ہوئی
بٹ سیریسلی ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تم چاہو تو ایک ٹرائل بھی لے سکتی ہو۔۔۔۔۔ٹرائل روم میں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی جانب آکر بولا
ٹرائل روم میں۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے حیرت سے پوچھا
ہاں یہ سارے کپڑے میں خود تمہیں چنج کروا کے سائز چیک کروا دونگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بڑے آرام سے بولا اور جنت منہ کھولے اُسے دیکھنے لگی
ہائی لیول کے بےشرم ہو تم۔۔۔۔
تھینکیو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی حیرت کو بہت انجوئے کر رہا تھا جنت اُسکی بےشرمی پر اُسے گھورتی ہوئی پلٹ گئی کافی دیر بعد ڈھونڈ ڈھونڈ کر اُسنے اپنے لیے تین ڈریس نکالے اور کپڑوں کا پیچھا چھوڑ کر باقی ساری ضرورت کی چیزیں خرید لی
یہ لو یہ سب بھی ایڈ کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر کچھ دیر بعد واپس اُسکے پاس آیا تھا اور اُسکے ہاتھ میں کافی سارے کپڑے تھے جو اب اُس نے جنت کے ہاتھ میں دے دیے تھی
لیکن پہلے چیک کرنا پڑےگا نا سائز۔۔۔۔۔۔۔
نہیں چیک کرنے کی ضرورت نہیں مجھے پتہ ہے یہ تمہیں پرفیکٹ آئینگے ۔۔۔۔۔۔
وہ یقین سے بولا
اور اگر نہیں آئے تو۔۔۔۔
وہ پریشانی سے کپڑوں کو دیکھنے لگی اُس نے واقعی بہت اچھے اچھے ڈریسز سیلیکٹ کیے تھے
آجاینگے میں بہت انٹیلجنٹ ہوں ۔۔
وہ۔کالر جھاڑتے ہوئے بولا اور جنت نے آنکھیں گھمائی
چلو دیکھ لیتے ہیں لیکن اگر نہیں آئے نا تو کچرا ہوجاے گا تمہارے سٹائل کا
وہ اپنے لیے ہوئے ڈریس لے کر ٹرائل روم میں آگئی دس منٹ بعد جب وہ باہر آئی تو دیکھا سمر سامنے لگے بڑے سے شیشے کے سامنے ایک لڑکی کے ڈریس کی زپ بند کر رہا تھا وہ منہ کھولے اُسے دیکھنے لگی وہ امریکن لڑکی بلیک شارٹ ڈریس ڈریس میں کھڑی اپنا جائزہ لے رہی تھی اور وہ ڈریس اتنی ٹائٹ تھی کے اُسکے جسم کے نشیب و فراز صاف واضح ہو رہے تھے اُس نے مسکراتے ہوئے سمر کی جانب دیکھا اور سمر نے ہاتھ سے پرفیکٹ کا اشارہ کرکے مسکرایا وہ لڑکی واپس ٹرائل روم میں چلی گئی اور جنت تیز قدم چلتی سمر کےپاس آئی
کون تھی وہ۔۔۔۔۔۔
اُس نے بغیر جگہ کا لحاظ کیے غصے سے پوچھا
پتہ نہیں۔۔۔۔
سمر نے حیرت اور لا پرواہی سے جواب دیا
پتہ نہیں۔۔۔۔۔۔کسی بھی انجان لڑکی کو ایسے چپک کر اُسکی زپ بند کر رہے ہو اوپر سے بے شرموں کی طرح کھڑے میرے سامنے بول بھی رہے ہو کے پتہ نہیں ۔۔۔
جنت نے غصے میں کہا
میں بس۔۔۔ اُسکی ہیلپ کر رہا تھا
وہ صفائی دیتے ہوئے بولا
میری ہیلپ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی تمہیں کبھی
جنت نے دانت پیستے ہوئے کہا وہ لڑکی اُسے وقت باہر آئی
Thank you so much۔۔۔you are such a
darling
وہ لڑکی بہت بے باکی سے سمر کے گال پر کس کرتے ہوئی اسکا شکریہ ادا کر رہی تھی اور جنت آنکھیں بڑی کیے اُسے دیکھنے لگی پھر ایک غصے بھاری نظر سمر نے پریشان چہرے پر دل کر پیر پٹختی ہوئی وہاں سے جانے لگی
جنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر فوراً اُسکے پیچھے گیا
میرے پیچھے پیچھے مت آؤ جاؤ اس نے تمہیں ڈارلنگ بولا نا جاؤ اُسکے پیچھے گھومو۔۔۔۔
وہ ایک دم سے پلٹ کر بولی
اس نے بولا ۔۔۔۔ میں نے تھوڑی بولا
تو جاؤ نا تم بھی جا کر بول دو۔۔۔۔ڈارلنگ بول دو بےبی بول دو۔۔۔۔۔سویت ہارٹ بول دو۔۔۔۔اُسکی زپ بند کردو ۔۔۔اسکو کپڑے پہنا دو۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے جوتے بھی صاف کر دو۔۔۔۔۔۔
وہ تنک کے بولی
Any problem۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکی چل کر انکے پاس آئی
No۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے اُسے غصے سے دیکھ کر کہا اور سمر کا ہاتھ پکڑا
چلو یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اگلے پل رک کر پلٹی اور اُس لڑکی کو دیکھا جو اب تک سمجھ نہیں پا رہی تھی کے آخر معاملہ کیا ہے
۔اور ہاں آپکو زیادہ شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں اتنا ہی بڑا احسان کر دیا نا میرے شوہر نے آپ پر تو بدلے میں جا کر ڈوب مرو کہیں بڑی مہربانی ہوگی
وہ اپنا غصّہ لڑکی پر نکالتے ہوئے سمر کو کھینچتے ہوئے باہر کی طرف لے گئی وہ لڑکی حیران کھڑی رہی سمر کو اُسکی باتوں اور اُسکے غصے پر جتنی حیرانی ہوئی اتنا ہی اچھا بھی لگا وہ بمشکل اپنی ہنسی روکے ڈرائیو کرتا رہا لیکن مسکراہٹ اُس کے چہرے سے جدا نہیں ہوئی
ہنسنا بند کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے غصے سے اُسے دیکھا
اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جلدی سے منہ پر انگلی رکھ لی گھر پہونچ کر وہ بیگ صوفے پر چھوڑ کر ہی روم میں آگئی
جنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ سامان کے کر اُسکے روم کا دروازہ ناک کرتے ہوئے بولا
کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
دو تین بار کے بعد اُسنے تھوڑا سا دروازہ کھولا اور غصے سے بولی
وہ۔۔۔۔۔۔۔۔مم۔۔میں کل صبح دس بجے حنا اور رومی کو چھوڑنے ایئرپورٹ جا رہا ہوں تم آوگی۔۔۔
وہ بیگ اُسکی جانب بڑھاتے ہوئے بولا لیکن ڈر لگ رہا تھا کے کہیں بھڑک نا جائے
آجاونگی۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے اُسکے ہاتھ سے بیگ چھین کر دروازہ ایک دم سے بند کر دیا سمر اپنی آنکھیں بند کرکے پیچھے ہوا
💜💜💜💜💜💜💜💜
کیا بات ہے یار یہ تجھ پے اتنی گرم کیوں ہے۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ ابھی ایئرپورٹ پہنچے تھی رومی اور سمر پیچھے پیچھے چل رہے تھے رومی نے نوٹس کیا تھا کے جنت کیسے بات بات پر سمر پر چڑ رہی تھی
سمر نے اُسکے پوچھنے پر ایک گہری سانس لی اور کل والی بات بتا دی
اب تو ہی بتا کے اس میں کہاں میری غلطی ہے۔۔۔۔۔ اور اتنی چھوٹی سی بات پر پتہ نہیں یہ اتنا کیوں ری ایکٹ کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔
یہ مشرقی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہے
رومی نے ار جھکتے ہوئے کہا
مشرقی۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُسے نا سمجھی سے دیکھا
مطلب انڈین لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
لیکن ہاں ایک آئیڈیا ہے
کیا۔۔۔جلدی بتا
سمر چونک کر بولا
دیکھ ہیری بھی یہیں ہے اسکو بولتے ہے جا کر جنت کو تنگ کرے
اُس نے ایک جانب اشارہ کیا جہاں ان کا دوست ہیری کھڑا تھا اپنے کسی رشتے دار کو وداع کرنے وہاں آیا تھا
کیا۔۔۔۔۔
اُسکی بات پر سمر نے اُسے حیرت سے پوچھا
سن تو صحیح۔۔۔۔۔۔وہ جیسے ہی جنت کو کچھ بولیگا تو آگے ہو کے غصے سے اُسے ایک تھپڑ مارنا اور برا برا بولتے جانا ۔۔۔۔میں نے ہندی فلموں میں دیکھا ہے ہیرو جب ہیروئن کے لیے کوئی ڈائیلاگ مارتا ہے نہ تو ہیروئن ہنڈریڈ پرسنٹ اُس سے ایمپریس ہو ہی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی تیز دماغی پر فخر کرتے ہوئے بولا
یار کیا بول رہا ہے تو ۔۔۔۔اگر اُسے پتہ چل گیا نا تو جان سے مار دے گی مجھے۔۔۔۔۔۔
سمر سے بہتر جنت کو کون جانتا تھا
ایسا کچھ نہیں ہوگا بلکہ آگے سے تجھے زیادہ امپورٹنس دےگی
اچھا۔۔۔۔۔۔
وہ سوچتے ہوئے بولا
ہاں بلکل۔۔۔۔۔۔میں ہیری کو سمجھا دیتا ہو ہم لوگو کے جانے کے بعد جب تم دونوں باہر نکلو گے تب وہ آجائے گا اوکے
اوکے۔۔۔لیکن اسکو بولنا کوئی غلط ورڈ نہ بولے جنت کے لیے ۔۔۔
اُس نے رومی کو روک کر تاکید کی رومی نے سر اثبات میں ہلا دیا تھوڑی دیر کے بعد حنا اور رومی اُن دونوں سے مل کر اندر چلے گئے اور جنت اور سمر باہر آگئے رومی نے جاتے ہوئے اُسے اشارہ کر دیا تھا لیکن پھر بھی وہ اُلجھن میں تھا کے جانے کیا ہوگا
Hey beautiful۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں پارکنگ میں پہنچے تھے پیچھے سے کسی نے پکارا تو جنت نے پلٹ کر حیرت سے دیکھا
Flower for you۔۔۔۔۔baby
وہ ایک گلاب لبوں سے لگا کر اُسکی جانب بڑھاتے ہوئے بولا سمر آگے بڑھا تاکہ اپنے پلان پر عمل کر سکے
رُکو۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے اُس شخص کو گھورتے ہوئے سمر کو روکا
شرم نہیں آتی تم کو ,۔۔۔۔۔لڑکی دیکھتے ہیں اُسے چھیڑنے لگتے ہو تم لوگ ۔۔۔۔۔۔انسانیت نام کی چیز ہوتی بھی ہے یا نہیں تم لوگو کے پاس یا پھر لڑکیوں کی عزت کرنے سے کوئی خاص قسم کی الرجی کا ڈر ہے تم لوگو کو۔۔۔۔۔۔یہ بھی نہیں سوچتے تم لوگ کے یہ بھی کسی کی بیٹی ہے بہن ہے جیسے تمہارے گھر میں تمہاری بہنیں ہوتی ہے اُن کو کوئی برئ نظر سے دیکھے تب تو شرم آتی ہوگی نا یا تب
بھی نہیں آتی
سمر کو بنا موقع دیے وہ خود ہی اُس کی کلاس لینے لگی جس پر سمر چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکا اور وہ شخص اب حیرت سے جنت کو دیکھ رہا تھا
ایک سیکنڈ کے لیے سوچو کے پیچھے تمہاری ماں کھڑی ہے اور دیکھ رہی ہی تمہاری حرکتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوچو کیا گزرے گی اُس پر جب تمہارے کرتوت دیکھے گی وہ ۔۔۔۔وہ تو سوچیں گی کے کاش ایسی اولاد سے بے اولاد رہ جاتی تو اچھا تھا
سیم یہ کیا بول رہی ہے۔۔۔
جنت کے چپ ہوتے ہے ہو لڑکا حیرت سے بولا اور سمر نے گھبرا کر اُسے دیکھا
تم اسے جانتے ہو ۔۔۔۔۔۔
جنت نے حیرانی سے پوچھا
ہاں۔,۔۔یہ۔۔۔ یہ میرا دوست ہے
اچھااء۔۔۔۔۔۔۔مجھے تو پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا کے ایک بےشرم دوسرے بےشرم کا دوست ہی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔شرم آنی چاہیے تمہیں ایسے دوست رکھتے ہوئے۔۔۔اور تم ۔۔۔۔۔تم کم سے کم اتنی ہی شرم کرتے کے اپنے دوستی کی بیوی کو چھیڑ رہے ہو
وہ سمر کو کے کر دوبارہ اُسکی جانب پلٹی
اسی نے بولا تھا مجھے ایسا کرنے کو۔۔۔۔۔۔۔
ہیری کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا تھا سمر آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے یہ بات کہنے سے روکنا چاہتا تھا لیکن اُس کے چہرے کو ہیری سے زیادہ جنت نے نوٹس کیا
۔ یو آر رائٹ مجھے شرم آنی چاہیے کے یہ میرا دوست ہے ۔۔۔سالے تیری بیوی مجھے برا بول رہی ہے اور تو مجھے چپ ہونے کے اشارے کر رہا ہے۔۔۔۔۔تو ہیلپ کرنے کے لئے لائق ہی نہیں ہے
بھابھی میری طرف سے بھی دو چار مارنا اسے
وہ غصے سے کہتا وہاں سے چلا گیا اور جنت بے یقینی سے سمر کو دیکھنے لگی
میں نے نہیں ۔۔ر۔۔۔ر۔۔۔۔رومی نے کہا تھا۔۔۔۔
اب رومی۔۔۔۔۔۔
یار تم کل سے غصّہ کر رہی تھی نہ ۔۔۔۔تو رومی نے ہی یہ آئیڈیا دیا کے ہیری تمہیں تنگ کریگا اور میں اس سے لڑائی کرونگا تاکہ تم ایمپریس ہو جاؤ
سمر بیزاری سے بولا جنت نے چند سیکنڈ اُسے غور سے دیکھا پھر ہنسنے لگی اُسے ہنستے دیکھ سمر کی جان میں جان آئی جنت کتنی دیر تک اُسے دیکھ کر ہنستی رہی اور سمر شرمندہ ہوکر مسکراتے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا
پھوپھو تمہارے بارے میں بلکل ٹھیک کہتی تھی
جنت ہنسنے کے دوران بولی
کیا۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔گھر چلو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آکر گاڑی میں بیٹھ گئی اور آج سمر خاموش تھا اور جنت مسلسل ہنستی جا رہی تھی اُسکے پلان کا جو اُس نے بیڑا غرق کیا تھا اور بیچارے ہیری کی جو شامت آئی تھی یہ سب باتیں سوچ سوچ کر ۔۔۔۔۔
💜💜💜
میں آفس جا رہا ہوں بائے
وہ تیار ہو کر روم سے باہر نکلا تھا اور آستین کے بٹن بند کرتے ہوئے جنت کو بتا کر وہ باہر نکلنے لگا
سنو۔۔۔۔۔۔۔
جنت کے پکارنے پر وہ رکا
بریک فاسٹ ۔۔۔۔کرکے جاؤ نا۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔۔
جنت نے جھجھکتے ہوئے کہا
اوکے۔۔۔۔۔۔
وہ شانے اچکا کر ڈائننگ ٹیبل پر آ گیا اور جلدی جلدی بریڈ پر بٹر لگا کر منہ میں ڈالتا رہا جنت خود ناشتہ کرنے کی بجائے اُسے غور سے دیکھ رہی تھی آف وہائٹ شرٹ اور براؤن ٹراوزر میں ریڈ ٹائے لگائے وہ بہت جاذب نظر لگ رہا تھا وہ اپنی دھن میں تھا اور جنت اُسکی
اتنی جلدی میں کیوں کھا رہے ہو
کیوں کے مجھے جانا ہے میں بہت لیٹ ہو چکا ہوں اور پانچ بجنے تک سارا کام ختم کرکے واپس بھی آنا ہے تاکہ ہم باہر جا سکے
جنت کے پوچھنے پر اُسنے وجہ بتائی اور پانی کا گلاس ہاتھ میں لیتے ہوئے اٹھ گیا اُسی وقت ہنی وہاں آئی
ہائے سیم۔۔۔۔۔۔
ہنی نے دور سے ہی سمر کو ہائے کیا اُس نے جنت کی جانب دیکھا اور امید کے مطابق اُسکے تاثرات بدلے تھے وہ ہنی کے پاس آیا
آئی مس یو سو مچ۔۔۔۔۔
ہنی اُسکے گلے لگتے ہوئے بولی اور الگ ہوتے ہوئے اُسکے گال پر کس کیا جنت نے آنکھیں بڑی کرکے اُسے گھورا
یہ لڑکیاں جب دیکھو اسے کس کیوں کرتی رہتی ہے
اب اس کے گال اتنے کیوٹ ہے تو کیا سب ایسے فائدہ اٹھاتے رہے گے
وہ دور ہی کھڑی اُن دونوں کو بات کرتے دیکھتی رہی پھر خود بھی وہاں چلی آئی
ہائے۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی نے اُسے دیکھ کر بے دلی سے کہا تو وہ بھی زبردستی کا مسکرائی
تم لیٹ ہو رہے تھے نا آفس کے لیے ۔۔۔۔۔۔تو جاؤ ہنی کے ساتھ میں ہوں نا میں اسے دیکھ لوں گی
اُس کی بات پر ہنی اور سمر دونوں نے ایک ساتھ اُسے دیکھا وہ مہمان نوازی کی ہی بات کر رہی تھی یہ کچھ سمجھنا مشکل تھا
ہاں۔۔۔۔۔ہنی مجھے جانا ہے ابھی میں تم سے بعد میں بات کرونگا
میں بھی جا ہی رہی ہو بس تمہیں آج شام کی پارٹی کے لیے انوائیٹ کرنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔آج پاپا نے چھوٹی سی پارٹی رکھی ہے تو تمہیں آنا ہوگا اوکے
اُس نے اپنے کا۔مقصد بتایا اور سمر نے جنت کی جانب دیکھا
آئی مین تم دونوں کو انوائیٹ کررہی ہوں میں ۔۔۔۔تو ضرور آنا۔۔۔۔
سمر کو برا نہ لگ جائے اس لیے وہ جلدی سے بولی
میری تو جوتی بھی نہیں آتی تیرے بلانے پر
جنت نے دل میں کہا
لیکن آج شام تو ہمارا باہر جانے کا پلان تھا
سمر نے کہا
باہر تو بعد میں جا سکتے ہو نا سیم ۔۔۔۔۔۔۔پر پارٹی میں تمہیں آنا ہی ہوگا اوکے
وہ تاکید کرتے ہوئے بولی
ہاں اسکے باپ کا راج ہے جو یہ بولی کرنا پڑےگا
جنت نے سوچا
اچھا تم بیٹھو۔۔۔۔
نہیں مجھے بھی نکلنا ہے کچھ کام ہے باہر
وہ انکار کرتے ہوئے بولی
ہاں پارلر جانا ہوگا نا تاکہ اپنے ڈائین جیسے چہرے کو پری جیسا بنا سکے اور لڑکوں کو پھنسا سکے لیکن اچھی تو تم تب بھی نہیں لگتی چریل
وہ کچھ بولنے سے گریز کے رہی تھی لیکن سمر کو پتہ تھا کہ وہ کچھ بہت برا سوچ رہی ہے
سی یو۔۔۔۔
سمر کو جنت میں مگن دیکھ کر ہنی نے بیزاری سے کہا اور باہر نکل گئی
شام کو۔ریڈی رہنا۔۔۔۔۔۔۔ بائے
سمر نے اُسکے جانے کے بعد جنت کو کہا اور خود بھی باہر نکل گیا
💜💜💜💜💜
عائشہ کو کبیر کا دل جیتنا تھا اور وہ اُسکے لیے بہت کوشش بھی کر رہی تھی کبیر کی پسند کو اہمیت دے کر ہر وہ کام جس سے کبیر اُسے نوٹس کرے کبیر کو اچھا لگے لیکن اُسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا نہ وہ کبھی اُسے نوٹس کرتا تھا
روم میں آنے کے بعد جب اُس کی نظر عائشہ پر پڑی تو ایک پل کے لیے وہ اُسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔آج وہ ہمیشہ سے کچھ الگ لگ رہی تھی ہمیشہ سادہ سے رہنے والی وہ آج تیار ہوئی تھی اور کبیر نے وہ نوٹس بھی کیا تھا کبیر کے دیکھنے پر اُسے کتنی خوشی ہوئی تھی یہ صرف وہ جانتی تھی ہلکی سی مسکراہٹ نے اُسکے چہرے کو مزید خوبصورت بنا دیا لیکن یہ خوشی اگلے کچھ سیکنڈ کے لیے ہی تھی اُسکے بعد کبیر نے کوفت سے دیکھتے ہوئے نظریں پھر لی تھی آکر صوفے پر سو گیا تھا
عائشہ بمشکل اپنے آنسو روکتے ہوئے آکر بیڈ پر لیٹ گئی تھی
تم اپنا فضول وقت برباد کر رہی ہو یہ سب کرکے اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
میں جو کر رہی ہوں اپنے لیے کر رہی ہوں آپ کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہو اس لیے آپ فضول خوش فہمی مت پالیے
وہ اُسکے برہمی پر غصّہ تھی اسلئے فوراً جواب دیا اور کبیر نے اُسے حیرانی سے دیکھا کیونکہ وہ زیادہ بولنے والوں میں سے بھی تھی اور ایسا شخص جب بولے تو حیرت ہونا لازمی ہے
💜💜💜💜💜💜💜💜
سمر آفس سے آنے کے بعد سیدھے اُس کے روم میں آگیا تھا بنا ناک کیے وہ بالکنی میں کھڑی تھی
تم اب تک تیار نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پارٹی میں جانا ہے نا
اُسے تیار نا دیکھ کر وہ حیرت سے بولا
تم چلے جاؤ میرا من نہیں کر رہا۔۔۔۔۔۔
وہ بے دلی سے بولی
تمہارا من نہیں کر رہا تو میرے من کے لیے چلو پلیز۔۔۔۔پلیز
اوکے۔۔۔۔
اُسکے اتنے پیار سے کہنے پر وہ انکار کر ہی نہیں پائی اور ہامی بھر دی سمر خوش ہو کر۔مسکرایا
تم کبھی اتنی ہائٹ سے نیچے کودی ہو
وہ باہر دیکھ رہی تھی سمر نے اچانک پوچھا اُس نے سمر کی جانب دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا
تو چلو آج ساتھ میں کودتے ہے
سمر نے ہاتھ بڑھا کر کہا وہ اُسے حیرت سے دیکھنے لگی
ایسے کیا دیکھ رہی ہو میں تو ہمیشہ یہیں سے آتا جاتا ہو
وہ۔مسکرا کر بولا
مجھے پہلے سے داؤٹ تھا کے تم نارمل نہیں ہو
Thanks for the compliment ۔۔۔۔۔let’s go
وہ اُسکی بات کا برا مانے بنا اپنی بات پر قائم رہا
No way۔۔۔۔۔۔
جنت نے صاف انکار کیا
کر کے تو دیکھو بہت مزا آئیگا۔۔۔۔۔۔
اور اگر ہاتھ پیر ٹوٹ گئے تو
جنت نے کن انکھیوں سے دیکھتے ہوئے کہا
اتنی سی ہائٹ ہے یار کچھ نہیں ہوتا
لیکن یہ پاگل پن کرنا ضروری ہے کیا
نارمل چیزیں تو سبھی کرتے ہے کبھی کبھی پاگل پن کرنے کا بھی اپنا مزا ہے
وہ بالکنی کی گرل کے اوپر بیٹھتے ہوئے باہر کی جانب کھڑا ہو گیا اور ہاتھ بڑھایا
مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔
وہ ہاتھ اُسکے ہاتھ پر رکھتے رکھتے رکھ۔گئی سمر نے ایک گہری سانس لی اور خود ہی نیچے چھلانگ لگا دی جنت کو ڈر لگا لیکن وہ۔نیچے کودنے کے بعد صحیح سلامت اپنے پیروں پر کھڑا رہا
See۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے راستے سے واپس اوپر چڑھا اور گرل۔کے سہارے سے کھڑا ہو گیا
دیکھا کچھ ہوا کیا۔۔۔۔۔۔
اُسنے پوچھا تو جنت بمشکل مسکراتی سر نفی میں ہی لا دی لیکن ڈر اب بھی لگ رہا تھا
چلو اب ساتھ میں کرتے ہیں
سمر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے بھی گرل کے سہارے باہر کی جانب کھڑا کیا جنت نے سختی سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
ون۔۔۔۔۔۔
ٹو۔۔
تھری۔۔۔۔۔
سمر تھری کے ساتھ ہی نیچے کودا تھا اور اُسکے ساتھ جنت بھی چینختے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔
اب کی بار دونوں زمین پر گرے تھے جس کی وجہ جنت تھی جس نے اپنے ڈر میں اپنے ساتھ اُسے بھی گرا دیا تھا لیکن نرم گھاس پر اُسے کچھ محسوس نہیں ہوا اُس نے آنکھیں سختی سے میچ لی تھی جب اپنے زندہ ہونے کا یقین ہوا تو آنکھیں کھولیں اور سمر کی جانب دیکھا وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا اور اپنے اس پاگل پن پر دونوں ہنس دیے جنت دوبارہ آسمان کی جانب دیکھنے لگی کھلا آسمان سرمئی سرمئی شام اور نرم گھاس کا بستر کتنا اچھا تھا سب کچھ بہت ساری پرانی یادیں تازہ ہو گئی تھی
تمہیں یاد ہے بچپن میں ہم تمہارے گارڈن کے جھولے سے ایسے ہی کرتے تھے
وہ یاد آنے پر کہتے ہوئی سمر کی جانب دیکھنے لگی وہ ال ریڈی اُسے ہی دیکھ رہا تھا لیکن اب کے
اُسکے دیکھنے کا انداز کچھ الگ تھا
اور مالی انکل ہمیں منع کرتے رہتے تھے لیکن ہم کبھی اُن کی بات نہیں مانتے تھے۔۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے اُسے بتا رہی تھی لیکن وہ اب بھی اسی سنجیدگی سے اُسے دیکھ رہا تھا اور جنت کی ہنسی سمٹ گئی تھی سمر کے اس طرح دیکھنے سے ایک الگ سا عجیب سا احساس ہو رہا تھا وہ زیادہ دیر اُسکی جانب دیکھ نہیں پائی اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی اُسکے بال بکھر بھی گئے تھے اور اُن میں گھاس کے تنکے لگ گئے تھے اُسنے بے ترتیب بالوں کو ٹھیک کیا اور ہاتھ سے جھٹکتے ہوئے صاف کرنے لگی لیکن اچانک اپنے ہاتھ پر اُسے ایک لمس محسوس ہوا اور اسکا ہاتھ رک گیا سمر کو اپنے قریب ہوتے دیکھ کر اُسکی دھڑکنیں تیز ہو گئی قریب تو وہ پہلے بھی آیا اور اب کافی فری ہو کر دونوں ایک دوسرے سے بات کرتے تھے لیکن اُسکی آنکھیں جن میں ہمیشہ معصومیت ہوتی تھی شرارت ہوتی تھی آج بہت سنجیدہ تھی اور اسکا انداز ہمیشہ والا بلکل نہیں تھا وہ اُسکے بالوں سے تنکے نکال رہا تھا لیکن نظریں بار بار جنت کے چہرے کی جانب جا رہی تھی جو جنت کو بہت اُلجھا رہی تھی
بس ٹھیک ہے میں کر لوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے اٹھتے ہوئے بولی مزید وہ یہاں رہ کر سمر کے آگے کمزور نہیں پڑ سکتی تھی
میں تیار ہوکر آتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بنا اُسکی جانب دیکھے بولی اور اندر کی جانب چلی گئی
💜💜💜💜💜💜
جنت کو کمرے سے باہر آنے میں بھی ڈر لگ رہا تھا اگر اب بھی سمر نے اُسے ویسے ہی دیکھا تو وہ کیا کریگی لیکن اسکا ڈر غلط ثابت ہوا وہ باہر آئی تو سمر دروازے پر ہی کھڑا تھا
کتنا ٹائم لگاتی ہو یار تم۔۔۔۔گیسٹس کو بائے بولنے تھوڑی جانا ہے ہمیں
سمر کا اس طرح بات کرنا اُسکے اندر تک اطمینان بھر گیا وہ کچھ نہیں بولی بس اُسکے پیچھے چل دی اُس نے گرین جوگرز پر بلیک ٹی شرٹ پہنی تھی جو اُسکے رنگ پر بہت سوٹ کر رہا تھا
اسے کیوں انوائیٹ کیا تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر کے ساتھ جنت کو آتے دیکھا تو وکی نے ہنی سے پوچھا
سیم کو برا نا لگے اس لیے کرنا پڑا مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ بھی آئے گی ہی ۔۔۔۔
وہ کوفت سے بولی دونوں کو ساتھ دیکھ کر اُسے بہت برا لگ تھا تھا
چلو اب آ ہی گئی ہے تو ذرا اسے ہماری پارٹی کا ذائقہ بھی چکھا دیتے ہے
وہ اپنے ہاتھ میں موجود گلاس کو سامنے کرکے کمینگی سے مسکرایا
تمہیں لگتا ہے وہ ڈرنک کریگی
ہنی نے اُسکی بیوقوفانہ امیدیں پر طنز کرتے ہوئے کہا وکی نے سامنے سے گزرتے ویٹر کو ہاتھ سے روکا اور اُسکے ٹرے سے ایک گلاس اٹھایا
مجھے پتہ ہے وہ اورنج جوس ضرور پیے گی۔
اُس نے جیب سے ایک کاغذ نکل کر اُس کا سارا پاؤڈر گلاس میں ڈال دیا ہنی اُسکی چال سمجھ کے مسکرائی
جنت وہاں کسی کو تو جانتی نہیں تھی تو کس سے بات کرتی بس سمر کے ساتھ کھڑی فورمالی مسکراتی رہی ایک ویٹر نے گلاس اُسکی جانب بڑھایا تو اُس نے گلاس ہاتھ میں لے لیا پہلے سونگھ کر تصدیق کی لیکن کوئی سمیل نہیں آئی تو پینے لگی
سمر نے اپنے دوست کے جانے کے بعد اُسے دیکھا تو کوo اُسکے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اُس ہال کی چھت کو دیکھ رہی تھی حیرت سے۔۔۔۔۔پلکیں جھپکا جھپکا کر
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی عجیب حرکت پر سمر نے پوچھا
یہ کیسے لوگو کی پارٹی میں لائے ہو تم مجھے۔۔یہاں تو کوئی نارمل نہیں ہے
وہ اُسکی جانب دیکھ کر بولی
کیوں۔۔۔۔۔۔۔
سب گول گھوم رہے ہیں وہ دیکھو ٹکلے انکل بھی کیسے گھوم رہے ہیں
وہ ہنستے ہوئے بولی اور گرنے ہی لگی تھی کے سمر نے بچا لیا
جنت۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی سنبھال رہا تھا اور جنت مسکراتے ہوئے اُسے دیکھ رہی تھی
تم نے ڈرنک کی ہے۔۔۔۔۔
اُسکی حرکتوں سے وہ سمجھ گیا کہ وہ ہوش میں نہیں ہے
ہاں۔۔۔۔۔۔کیوں کے ڈرنک تو زندگی ہے۔۔۔۔۔۔پینا ہے تبھی تو جینا ہے
وہ دونوں ہاتھ پھیلا کا زور سے بولی
اوہ شِٹ۔۔۔۔۔چلو یہاں سے
سمر نے پریشانی سے سر کو ہاتھ لگایا اور اُسے لے کر جلدی وہاں سے نکلا بنا کیسے کسی کو بتائے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: