Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 41

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 41

–**–**–

کہاں لے جا رہے ہو چھوڑو مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھوڑو
سمر اسکا ہاتھ کھینچتے ہوئے اُسے باہر لایا تھا وہ آنے کو تیار ہی نہیں تھی اور اپنا ہاتھ چھڑا کر رک گئی تھی
مجھے نہیں آنا تمہارے ساتھ مجھے پارٹی میں جانا ہے
وہ واپس اندر جانے کے موڈ میں تھی سمر جلدی سے آگے بڑھا اور اُس کا ہاتھ پکڑا
نہیں جنت ابھی ہم گھر جائینگے۔۔۔۔چلو
نہیں مجھے نہیں جانا
مجھے پارٹی میں جانا ہے ۔۔۔۔ابھی تو میں نے ڈنر بھی نہیں کیا اور مجھے وہ جوس بہت اچھا لگا تھا مجھے وہ اور بھی بہت سارا پینا ہے اور اُسکے بعد میں وہ ٹکلے انکل کے ساتھ ڈانس کرونگی
وہ اپنی کلائی سے اُس کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی
جنت۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُسکی بات پر جلدی سے اُسے چپ کرنے کی کوشش کی اور اطراف میں دیکھا کے کوئی دیکھ تو نہیں رہا وہ لوگ باہر پارکنگ میں کھڑے تھی اور وہاں کوئی نہیں تھا
تم کیا بار بار انہیں ٹکلا بول رہی ہو وہ ہنی کے ڈیڈ ہے اگر اُنھیں پتہ چل گیا تو
اُسکی بات پر جنت حیرت سے اُسے دیکھنے لگی
تو کیا اُنھیں نہیں پتہ کہ وہ ٹکلے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ معصومیت سے پلکیں جھپکا کر بولی اور سمر نے اپنا سر پیٹ لیا
اففو۔۔۔۔۔۔۔یار کس نے تم کو وہ جوس دیا تھا
اُسکی گرفت ڈھیلی ہونے کی دیر تھی کے وہ آزاد چڑیا کی طرح فرار ہوئی
جنت رکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے جلدی سے آگے بڑھ کر اُسے روکنا چاہا لیکن وہ اُسے ایسا کرنے دے تب نا لیکن سمر نے بھی اُسکے راستے میں آکر اُسے جانے سے روکا وہ دوسری جانب بھاگنے لگی اور گھوم کر واپس اندر کی جانب جانے لگی سمر نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا
مجھے جانا ہے۔۔۔۔چھوڑو۔۔۔۔۔
وہ پھر اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی اور جس طرح کوشش کر رہی تھی ہاتھ چھوٹنا لازمی تھا لیکن سمر نے اُسے پھر بھاگنے نہیں دیا پیچھے سے مضبوطی سے پکڑ لیا
ممّی بچاؤ۔۔۔۔
چھوڑو نا مجھے چھوڑو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے دونوں ہاتھ اُسکی کمر پر رکھ کر اُسے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا لیکن وہ بار بار اُس کے ہاتھوں کو کھولنے کی کوشش کر رہی تھی وہ بھی چلاتے ہوئے تاکہ آزاد ہو سکے لیکن سمر اُسے کسی سامان کی طرح کھینچتا ہوا پیچھے لیتا گیا اور جب وہ بھی مشکل ہو گیا تو اُسے اسی طرح اٹھا کر کار تک لے کر آیا وہ پر پٹختی رہی لیکن سمر نے اُسے کنٹرول کر ہی لیا ایک ہاتھ سے گاڑی کا دروازہ کھول کر اُس نے جنت نام کی مصیبت کو اندر پھینکا اور دروازہ بند کرکے سکون کی سانس لی لیکن اگلے ہی پل اسکا سکون حرام کرنے کے لئے وہ ڈرائیونگ سیٹ کی جانب سے نکل کر باہر آگئی اور پھر بھاگی
جنت میری بات سنو۔۔۔۔۔۔۔جنت
وہ آخر میں غصے سے چلّایا تو جنت رک گئی اور اُسکی جانب دیکھا
سیدھی کھڑی رہو۔۔۔۔۔
سمر نے سختی سے کہا تو وہ اُسکی جانب پلٹ کر سیدھی کھڑی ہو گئی سمر نے پاس آنے کا اشارہ کیا
منہ بند۔۔۔۔۔۔
اُسکے اشارے پر وہ آنے کی بجائے پھر کچھ بولنے لگی تھی لیکن سمر نے سختی سے کہا تو منہ پر انگلی رکھ لی
گاڑی میں بیٹھو۔۔۔۔۔۔۔
اُسی طرح منہ پر انگلی رکھے وہ آکر گاڑی میں بیٹھ گئی اور سمر بھی آکر اپنی جانب بیٹھ گیا
اب میری بات سنو ابھی ہم گھر چلتے ہے۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔مجھے پارٹی میں جانا ہے۔۔۔۔مجھے بھوک لگی ہے
سمر نے اُسے سمجھانا چاہا تو وہ اُس کی بات کاٹ کے بولی
ہم اس سے بھی اچھا ڈنر کرینگے باہر اور آئس کریم بھی کھائیں گے اور تم جو بولوگی وہ کرینگے اوکے
سمر نے پھسلانا چلا
ٹھیک ہے لیکن گاڑی میں ڈرائیو کرونگی
پاگل ہو تم ۔۔۔۔۔تم ڈرائیو نہیں کر سکتی
وہ پھر سے غصّہ ہوکر بولا اتنے سے وقت میں وہ اُس کے چھوٹے سے دماغ کا دہی بنا چکی تھی اب گاڑی چلانے کی ڈیمانڈ۔۔۔
میں کرونگی۔۔۔۔۔مجھے آتا ہے ۔۔۔۔۔۔ہماری شادی والے دن بھی تو میں نے ہی گاڑی چلائی تھی نہ آج بھی میں ہی چلاونگی
وہ اُسکی جانب دیکھ رہی تھی لیکن بار بار اُس کی آنکھیں بند ہو رہی تھی اور باتیں بھی بہت رک رک کر کر رہی تھی بلکل کسی نشے میں دھت انسان کی طرح
اُس دِن تم ہوش میں تھی۔۔۔ آج میں چلاونگا تم چپ کرکے بیٹھی رہی
نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ پر ہی پیر پٹخنے لگی
پلیز مجھے تنگ مت کرو نا ۔۔۔۔۔مجھے ابھی گاڑی چلانے دو ۔۔۔
وہ بے چاري شکل بنا کر ریکویسٹ کرتے ہوئے بولا اور جنت کو اُسکی روتی صورت دیکھ کر شاید ترس آگے
اوکے کمپرومائز کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہم دونوں مل کے گاڑی چلاینگے
دونوں۔۔۔۔دونوں کیسے چلائینگے
وہ حیرت سے بولا جواب میں جنت اپنی سیٹ سے اٹھ کر اُس کی جانب آئی اور اُسکی گود میں بیٹھتے ہوئے اسٹرنگ سنبھال لیا
ایسے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی تیز دماغی پر فخر کرتے ہوئے بولی اور وہ شاک ہو کر اُسے دیکھنے لگا
۔۔تم ایکسرالیٹر اور بریک کنٹرول کرنا اور میں اسٹیئرنگ سنبھالوں گی لیکن تم بتانا کے کب ٹرن کرنا ہے اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اُسے تاکید کرنے لگی سمر نے پہلے اُسے سنجیدگی سے دیکھا پھر ہنسنے کہا
ہنس کیوں رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔
وہ خفگی سے بولی
اس سچویشن میں ہم گاڑی تو بلکل نہیں چلا سکتے باقی سب کر سکتے ہیں
وہ ہنستے ہوئے بولا
کیوں۔۔۔۔
وہ اُسکی جانب دیکھ کے نا سمجھی سے بولی سمر نے اُسکے چہرے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کیا
کیونکہ۔۔۔۔۔۔جب تم میرے اتنے قریب ہو تو میرا دھیان تو سارا تم پر رہےگا نا تو میں کیسے کانسنٹریت کرونگا
وہ اُس کے چہرے کو بہت غور سے جانچتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی اپنے دونوں ہاتھ اُس کے گرد باندھتے ہوئے اُسے پوری طرح اپنی جانب کے لیا تھا
ایسے مت دیکھو مجھے۔۔۔۔۔
وہ بند ہوتی آنکھوں کو بمشکل کھول رہی تھی
کیوں۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُسکے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسکا چہرہ اور قریب کیا تھا
کیونکہ۔۔۔۔ جب تم ایسے دیکھتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔تو مجھے بہت عجیب عجیب سی فیلنگ ہوتی۔۔۔۔۔۔۔
وہ شاید ہوش میں یہ بات کبھی نا بتاتی جو اب خود بخود اُسکے زبان سے نکل رہی تھی
کیسی فیلنگ۔۔۔۔
جنت کا چہرہ اُسکے بہت قریب تھا اور وہ کبھی اُسکے ہونٹوں اور آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
جیسی۔۔۔۔۔۔ ابھی ھو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے ہوشی میں بھی اُسکے اتنے قریب ہونے پر گھبرا رہی تھی اور سمر کے ارادے کو بھانپتے ہوئے اُسکے کسی بھی عمل سے پہلے جلدی سے اسکے گلے لگ گئی تھی سمر نے اپنے حصار کو۔تنگ کرتے ہوئے اُسے سختی سے خود میں بھینچ لیا تھا جیسے اب کبھی الگ ہونے کا ارادہ نہیں تھا
تم سمجھتی نہیں۔۔۔۔۔ میں تم سے بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن مجھے ڈر لگتا ہے کے تمہارا جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے دل۔کی بات وہ زبان پر لانا چاہتا تھا لیکن ونڈو پر ہوتی دستک نے اُسے چپ کر وادیا اُس نے جنت کے خود سے دور کرتے ہوئے واپس اُسکی سیٹ پڑ جانے کا اشارہ کیا اور خود باہر نکلا
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی کو دیکھ کر اُسے غصّہ تو بہت آیا جس نے کباب میں ہڈی والا کام کیا تھا لیکن وہ اُسے کچھ کہہ نہیں سکا
تم باہر کیوں چلے آئے چلو نا اندر میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔
ہنی اُسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
جنت کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ہمیں گھر جانا ہوگا
اتنی جلدی جنت کو بھیج دو نا پلیز تم رک جاؤ۔۔۔
ہنی اُسکے جانے کی بات سن کر بولی ہے تو اُس نے سوچا ہی نہیں تھا کے وہ جنت کو لے کر چلا جائیگا اُن کا ارادہ تو پوری پارٹی میں جنت کا تماشا بنانے کا تھا
میں اُسے اکیلے نہیں چھوڑ سکتا ٹرائے تو انڈر اسٹینڈ ۔۔۔۔۔
ہائے ہنی۔۔۔۔۔۔ہاؤ آر یو۔۔۔۔۔۔
جنت دروازے سے باہر نکل کر وہی کھڑے ہوتے ہوئے بولی ہنی اُسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی
ایک بات بولو۔۔۔۔۔۔تم مجھے بلکل اچھی نہیں لگتی
جنت نے کہا اور زور زور سے ہنسنے لگی سمر نے ہنی کو دیکھا وہ غصے سے دیکھ رہی تھی
جنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُسے روکنا چاہا لیکن ہنی نے اُسے منع کردیا
اٹس اوکے۔۔۔۔۔تم اُسے لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔بائے
وہ بڑی اچھائی سے کہتے ہوئے سمر کے گلے میں ہاتھ ڈال کر اُس کے گلے لگی اور ہے دیکھتے ہی جنت چھلانگ لگا کر نیچے اترتی اُسکے پاس آئی
دور ہٹو۔۔۔۔۔۔
اُس نے ہنی کو کھینچ کر سمر سے الگ کیا
تمہیں اتنا بھی نہیں پتہ کے کسی اور کے شوہر کے ساتھ ایسے چپک کر بات نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔تم جا کر اپنے شوہر کو پکڑو نا ۔۔۔۔سمر کو تو صرف میں ہی ھگ کر سکتی ہوں
وہ ہنی کو سبق سکھا کر خود سمر کے سینے سے لگ گئی
ہمیں گھر جانا ہے نا اندر بیٹھو۔۔۔۔۔
سمر نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا تو کو مسکراتی جانے لگی
اوکے۔۔۔۔۔بائے ہنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔سی یو نیور,۔۔۔۔۔
جاتے جاتے وہ ہنی کو ایک اور ڈائلاگ مارنا نہیں بھولی
Please Don’t mind
وہ ہوش میں نہیں ہے
ہنی کی شکل دیکھ کر سمر نے کہا تو وہ بمشکل مسکرائی
💜💜💜💜💜
وہ دُکھتے سیٹ کو پکڑتی ہوئی اٹھ کر بیٹھی تھی
رات وہ لوگ وہاں سے نکلے تھی اور وہ پوری طرح سے بیہوش ہو چکی تھی لیکن بے ہوشی میں بھی وہ مسلسل بڑ بڑا رہی تھی سمر نے اُسے لاکر اُسکے روم میں سلا دیا تھا اور اب کب سے اُس کے جاگنے کا انتظار کرتے ہوئے وہاں بیٹھا تھا اُسے آفس جانے کے لیے لیٹ ہو رہا تھا لیکن وہ جنت کے جاگنے سے پہلے جا بھی نہیں سکتا تھا
گڈ مارنگ۔۔۔۔۔۔
اُس کے جاگنے پر کو پیار سے بولتے ہوئے بیڈ پر بیٹھا تھا
کل رات پارٹی میں کیا ہوا تھا سمر۔۔۔۔۔مجھے کچھ بھی یاد نہیں آرہا
وہ اپنے دماغ پر زور دے رہی تھی لیکن اُسے کچھ یاد نہیں آرہا تھا اُس نے اب تک وہی رات والے کپڑے پہنے ہوئے تھے
کل تم نے بہت ڈرنک کرلی تھی۔۔۔۔
وہ ایک گہری سانس لے کر بولا اور جنت کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا
ڈرنک۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔پیگ پے پیگ۔۔۔۔۔پیگ پے پیگ۔۔۔۔۔۔میں روکتا رہا تم پیتی رہی۔۔۔
وہ شرارت سے بولا
کیا۔۔۔۔۔۔۔میں اور ڈرنک۔۔۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔
وہ بے یقینی سے بولی اُسے تو خود نفرت تھی نشا کرنے والو سے
صرف ڈرنک نہیں بلکہ بہت کچھ کیا تم نے مجھے یقین نہیں ہو رہا کے تم اتنی بولڈ ہو۔۔۔۔۔
وہ اُسکے گھبرانے کو انجوئے کر رہا تھا اسی لیے اسے تنگ کر رہا تھا اٹھ کر کھڑکی کے پاس آگیا جنت جلدی سے اُسکے پاس آئی
ک۔۔۔کیا کیا میں نے۔۔۔۔۔۔
پوچھو کیا نہیں کیا
پہلے تو تم زبردستی آکر سیدھے گود میں بیٹھ گئی پھر ……..
وہ کہتے کہتے رکا
پھر۔۔۔۔۔۔۔
جنت اسکا چہرہ دیکھنا چاہ رہی تھی لیکن وہ باہر رخ کیے کھڑا تھا اور وہ اُسکے پیچھے تھی
پھر۔۔۔۔۔۔مجھے ہگ کرلیا
وہ اُسکی جانب پلٹ کر بولا اور جنت نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا
اتنے۔۔۔۔ اتنے۔۔۔۔ قریب آگئی تھی تم میرے
وہ ہاتھ کو چہرے کے ٹھیک سامنے رکھ کے بتاتے ہوئے بولا
میں تو ڈر ہی گیا تھا ۔۔۔۔۔۔اللہ نے عزت بچائی میری۔۔۔۔۔
یہ کیا بول رہے ہو تم مجھے پتہ ہے میں ایسا نہیں کے سکتی
وہ حیرت اور بے یقینی سے بولی اور سمر اپنی مسکراہٹ مزید روک نہیں سکا اُسے ہنستے دیکھ جنت کو یقین ہو گیا کے وہ شرارت کر رہا ہے
بتاؤ نا کیا ہوا تھا
وہ جھنجھلا کر بولی
تم نے غلطی سے پی لی تھی پھر تم بےہوش ہو گئی اور میں تمہیں گھر لے آیا لیکن سچ میں مجھے بہت تنگ کیا تم نے
سچی میں ڈرنک نہیں کرتی ضرور اُس ہنی نے میرے جوس والے گلاس میں کچھ ملایا ہوگا
وہ غصے سے بولی
ہنی نے کچھ نہیں کیا ہو سکتا ہے تم نے غلطی سے ۔۔۔۔۔۔
سمر نے ہنی کی طرف داری کرنی چاہی جنت نے ایکدم سے پلٹ کر اُسے ایسے دیکھا کے وہ چپ ہو کر رہ گیا
اوکے تم ریسٹ کرو۔۔۔۔۔۔۔مجھے آفس جانے ہے بائے۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے کہہ کر نکل گیا اور جنت سر پکڑ کر بستر پر گر گئی۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜
وہ دونوں اس وقت دنیا کے مشہور ٹاور برج پر کھڑے تھے شام کے وقت تھیمس ندی کا منظر بہت دلکش تھا لیکن آج کل تو اُسے سب کچھ بہت اچھا لگ رہا تھا کیوں کہ سمر کا ساتھ جو تھا وہ ندی کے پانی میں شام کے مناظر کا عکس دیکھ تھی جو کے بہت ہی دلفریب تھا ۔۔۔۔۔۔۔ایسا منظر شاید ہی کوئی دوسرا ہو بہت سے لوگ تھے آس پاس لیکن سب اپنے آپ میں مگن تھے کچھ محبت کے نظارے تو کہیں تفریح کرنے والے لوگوں کی بھیڑ۔۔۔۔۔۔۔
شام گہری ہونے کے ساتھ ساتھ سردی میں بھی اضافہ ہو رہا تھا اُسنے بلیک رنگ کی کیپری اور بلیک ہی ٹاپ پہنا ہوا تھا جس کی آستین بہت چھوٹی سی تھی اور ساتھ میں دوپٹہ بھی نہیں تھا اُسنے اپنے دونوں ہاتھ رگڑتے ہوئے سمر کی جانب دیکھا جو مزے سے چاکلیٹ کھاتے ہوئے موبائل میں بزی تھا لیکن جنت کے دیکھنے پر وہ موبائل سے نظر ہٹا کر اُسے دیکھنے لگا
کیا ہوا ۔۔۔۔ٹھنڈ لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔
اُسے سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگی جنت نے سر اثبات میں ہلا دیا
تمہیں سمجھنا چاہیے نا یہ لنڈن ہے۔۔۔۔یہاں تو ٹھنڈ ہوتی ہی ہے اور اسنو فال بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔تو گرم کپڑے پہننے چاہیے تھے نا
اُسکے جواب پر جنت نے بدمزہ ہوتے ہوئے منہ پھیر لیا
یہ کوئی فلم کا یا ناول کا ہیرو نہیں ہے جنت جو تونے بولا ٹھنڈ لگ رہی ہے اور اپنا جیکٹ اتار کر تجھے پہنا دےگا۔۔۔اس سے تو تقریریں کروالو بس۔۔۔۔۔
وہ غصّہ ہو کر منہ ہی منہ میں بڑبڑای
کچھ کہا۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے پوچھا تو اُس کی جانب دیکھ کر زہریلا سا مسکرا کر نفی میں سر ہلا دیا سمر نے موبائل پاکٹ میں ڈالتے ہوئے اُسے کون انکھیوں سے دیکھا
ویسے ۔۔۔۔۔۔۔اگر میں تمہیں ۔۔۔۔ھگ کرلوں تو تمہیں زیادہ ٹھنڈ نہیں لگے گی
سمر نے رک کر کر کہا اور اُسکی بات پر جنت منہ کھولے اُسے دیکھنے لگی
اتنا۔۔۔۔ شاک کیوں ہو رہی ہو۔۔۔۔۔ ۔۔۔اٹس نارمل۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ بگڑ جائے جلدی سے بولا
نارمل ۔۔۔۔۔۔۔مطلب اب تک کتنی لڑکیوں کو یہ آفر کر چکے ہو
میں کیا کوئی ٹورس گائیڈ ہوں جو روز لڑکیوں کو لے کر گھومنے نکل جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔ میں صرف بتا رہا تھا۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو گرم کپڑے کا دماغ لگاتی اور بائے چانس نا بھی پہنتی تو اُسے ھگ کرنے کے لیے زیادہ پوچھنا نہیں پڑتا یہ تو تم جیسی ٹرپیکل انڈین گرلز جو ایسی بات پر سامنے والے کو ڈنڈے سے مارنے لگتی ہے دیکھا ہے میں نے فلموں میں۔۔۔۔۔
وہ اب گرل سے ٹیک لگائے دونوں ہاتھ پیچھے رکھے اُسے دیکھ رہا تھا اور اُسکی بات پر جنت نے بمشکل ہنسی روکی
لیکن وہ اپنے شوہر کو نہیں مارتی
میرا مطلب ہے وہ ولن کو مارتی ہے۔۔۔۔
اُس نے فوراً جملہ درست کیا
تو ولن کے ساتھ باہر گھومنے جاتی ہی کیوں ہے
سمر نے معصومیت سے پوچھا
جاتی تو ہیرو کے ہی ساتھ ہے لیکن بعد میں وہ ولن بن جاتا ہے
وہ اُلجھے اُلجھے سے لہجے میں بولا اور اُسکے ساتھ سمر بھی ہنس دیا
اور ایسی کولڈ سچویشن میں ہیرو کیا کرتا
اُس نے پھر جنت کو ہاتھ رگڑتے دیکھا تو پوچھا
اپنا جیکٹ اتار کر مجھے پہنا دیتا
وہ فوراً بولی اور سمر نے اپنا جیکٹ اُتار کر اُسے دیا
میں پہلے یہی کرنے والا تھا پھر سوچا کہیں اٹھا کر منہ پر نا مار دو۔۔۔۔۔اُس دِن کی طرح ۔۔۔۔۔ریممبر۔۔
اُس نے جنت کو ریسٹورانٹ والی بات یاد دلائی
سوری۔۔۔۔۔۔۔تب میں تمہیں ٹھیک سے جانتی نہیں تھی
جنت نے جیکٹ پہن لیا تھا
اور اب۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی جانب جھک کر جلدی سے بولا
اب بھی۔۔۔۔ کچھ خاص نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آسمان کو دیکھتے ہوئے بولی اور سمر نے اُسے لب بھینچ کر دیکھا
کیا پتہ تم دکھتے کچھ اور ہو اور اندر سے کچھ اور ہو۔۔۔۔۔
وہ شرارت سے بولی اور سمر نے سر ہلا دیا
تمہاری بات کا بہت اچھا جواب ہے میرے پاس لیکن جانے دو یہ پبلک پلیس ہے ۔۔۔۔۔
وہ کہتے ہوئے سیدھا ہوا
اُس کی بات کا مطلب وہ تھوڑا بہت سمجھ تو گئی تھی لیکن اب کوئی جواب نہیں دینا چاہتی تھی اس لیے چپ ہو کر رخ دوسری طرف کر لیا اپنا موبائل نکال کر وہ اُن مناظر کو کیمرے میں قید کرتی رہی ڈوبتے سورج کا منظر ۔۔۔پرندوں کے گھر جاتے ہوئے جھنڈ ۔۔۔۔۔ندی میں تیرتے بگلوں کے جھنڈ اور اپنی دھن میں بہتا ندی کا شفاف پانی اُسکا دل تو چاه رہا تھا کے وہ خود بھی اس ندی کی طرح بہتی جائے اس کے بال ہوا سے اُسکے چہرے پر بار بر بکھر جاتے اور وہ اُنہیں ہٹاتی۔۔۔۔۔ وہ پوری طرح اپنے خیالوں میں کھوئی تھی کے سمر نے اچانک پیچھے سے اُسکے پیٹ پر ہاتھ رکھا اُسنے حیرت سے پلٹ کر دیکھا تو وہ اُسکے قریب کھڑا تھا اور آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے انجان بننے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اُسکی شرارت بھری مسکراہٹ بتا رہی تھی کے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے جنت کے اتنی دیر دیکھنے کے باوجود بھی اُس نے اُسکی جانب نہیں دیکھا جنت دوبارہ سامنے دیکھتے ہوئے مسکرا دی سمر کی گرفت سخت ہو گئی تھی اب وہ اُسکے اتنے قریب آچکا تھا کوئی فاصلہ باقی نہیں رہ گیا تھا اور سردی میں بھی گرمی محسوس ہو رہی تھی اب وہ چاہ کر بھی کسی اور چیز پر دھیان نہیں دے سکتی تھی
💜💜💜💜💜💜💜💜
رات کا وقت ہو رہا تھا جب وہ دونوں بوٹ میں بیٹھے تھیمز ندی کا سفر کر رہے تھے بڑی سے بوٹ جس میں کئی سارے لوگ اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھے تھی رات ہوتے ہی شہر کی عمارتیں رنگ برنگی روشنیوں میں رنگ گئی تھی اور وہی رنگ ندی کے پانی کو بھی رنگین بنا رہا تھا وہ دونوں ہاتھ سیٹ کے کنارے پر رکھ کر اُس پر چہرہ رکھے بڑے اشتیاق سے اس منظر کو دیکھ رہی تھی
ایسا کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر کے پکارنے۔پر اُسنے اُسے پوزیشن میں چہرہ اُسکی جانب کیا
کتنا خوبصورت ہے نا یہ سب اگر کبھی کوئی زندگی سے تھک جائے اور اپنے لیے جینا چاہے سکون پانا چاہے تو اُسے یہاں انا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تو بہت بار یہاں آیا ہوں لیکن مجھے آج سے پہلے کبھی اس جگہ کی خوبصورتی نظر نہیں آئی۔۔۔۔۔
وہ سامنے دیکھتے ہوئے بولا اور جنت اُسکی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے اُسے دیکھنے لگی کتنا دلکش لگ رہا تھا وہ ہمیشہ سے بھی زیادہ لائٹ بلیو شرٹ اور بلیک ٹراؤزر ۔۔۔۔ پیشانی پر بکھرے بال اور کان میں چمکتی پلاٹینیم رنگ جس میں بریک ڈائمنڈ چمک رہے تھی
تم کان میں یہ بالی کیوں پہنتے ہو۔۔۔۔۔۔
وہ آج پوچھ ہی بیٹھی۔ سمر نے اُسکی بات پر اُسے دیکھتے ہوئے رنگ کو چھوا
کیوں اچھی نہیں لگتی تمہیں۔۔۔۔
ٹھیک ٹھاک لگتی ہے۔۔۔۔۔لیکن یہ ٹپوریوں والے سٹائل ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ یہ کہہ ہی نہیں سکتی تھی کے بری لگتی ہے
تو تم مجھے ٹپوری ہی سمجھو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے بولا مطلب اُسے اپنا یہ سٹائل بہت عزیز تھا
یہ چیزیں لڑکیوں پر اچھی لگتی ہے لڑکوں پر نہیں
تم پہلی لڑکی ہو جو یہ بات کہہ رہی ہو ورنہ تو سب کو یہ سٹائل اچھا ہی لگا
سب کو۔۔۔۔۔ ۔۔۔ویسے اب تک کتنی گرل فرینڈ س بنا چکے ہو
جنت نے اُسے آنکھیں چھوٹی کرکے دیکھا اُسکی بات پر پہلے تو ہنسا پھر سوچنے والے انداز میں پیشانی سہلانے لگا
کیا بتاؤں۔۔۔۔۔ گنتی پوسیبل نہیں بس اتنا سمجھ لو کے بہت ہے
ایسا کیا دکھتا ہے تم میں لڑکیوں کو جو مکھیوں کی طرح تم سے چپک جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ سیدھی ہوتے ہوئے بولی
شاید میں انکو سویٹ لگتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے بولا اور جنت نے خفگی سے دیکھتے ہوئے چہرہ پھر لیا سمر نے اُسکے قریب ہوتے ہوئے اُسکے کان کے پاس دھیرے سے پھونک ماری
یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کان پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
ششش۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجیک دیکھو آنکھیں بند کرو اور سوچو کے تم ہوا میں فلائی کر رہی ہو۔۔۔۔۔
جنت بجائے آنکھیں بند کرنے کے اُسے حیرت سے دیکھنے لگی
کرو۔۔۔۔۔
وہ دوبارہ بولا تو اس نے آنکھیں بند کی اور سمر نے اُسکے کان کے قریب ہو کر ہلکی سی پھونک میری
گُدگُدی ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے کہا لیکن سمر بنا رکے یہی عمل دہراتا رہا
کچھ دیر بعد جنت نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا
تم بلکل پاگل ہو کچھ بھی کرتے رہتے ہو۔۔۔۔۔۔
یہ تو کچھ بھی نہیں اس سے بھی اچھی اچھی ٹرکس آتی ہے مجھے لیکن تمہیں بتانے سے ڈر لگتا ہے
وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولا
تم مجھ سے ڈرتے ہو ۔۔۔۔۔۔
جنت کو اُسکی بات پر ہنسی آئی کیونکہ عام طور پر لڑکوں کا ڈائیلاگ ہوتا ہے کے وہ کسی سے بھی ڈرتے اور یہاں یہ خود سے کہہ رہا تھا کے اپنی بیوی سے ڈرتا ہے
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔ہونسٹلی مجھے ڈر لگتا ہے تم سے
وہ اُسکے ہنسی اڑانے پر بھی اپنی بات پر قائم رہا
کیوں ۔۔۔۔۔اسلئے کے میں تمہیں ڈانٹ دوں گی۔۔۔۔۔یا غصّہ کرونگی ۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔چھوڑ کر چلے جاؤ گی اس لیے
وہ اُسکی جانب دیکھ کر بولا اور واپس سامنے دیکھنے لگا پتہ نہیں ایسا کونسا لمحہ تھا جب اس نے پرایوں جیسا سلوک کیا ہو اُسکے ہر عمل ہر بات سے تو محبت جھلکتی تھی پھر وہ کیوں یقین نہیں کرنا چاہتی تھی کے سمر کی زندگی میں اُسکی اہمیت سب سے زیادہ ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: