Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 42

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 42

–**–**–

سمر نے اگلے دن آفس سے کال کرکے اُسے بتا دیا تھا کے آج اسکا وقت نکال پانا مشکل ہے اس لیے وہ نہیں آ پائیگا اور آج کا دن جنت کو بہت بھاری لگ رہا تھا شاید اُسے عادت ہو گئی سمر کے ساتھ کی اس لیے وہ بہت اُداس فیل کر رہی تھی دوپہر کے بعد سے دِن کٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا وہ باہر گارڈن میں آکر بیٹھی تھی دوپہر کا وقت بھی وہاں شام کی طرح لگتا تھا کیوں دھوپ نہ کے برابر ہوتی تھی اور ہے تو خاص برسات کا موسم تھا اسکا فون بجا تھا اور سمر کی کال تھی اُس نے جلدی سے فون کان سے لگایا
ہائے۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب سے آواز آئی
کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔۔۔تمہارے گھر میں مچھر نہیں ہے ورنہ مچھر مار لیتی۔۔۔۔۔
وہ منہ بنا کر بولی اور سمر اُسکی بات پر مسکرایا
مار پیٹ والی باتیں ہی کیوں کرتی ہو تم ہمیشہ کبھی پیار ویار بھی کر لیا کرو۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ میں کی فائل رکھ کر کرسی سے سر ٹیکتے ہوئے بولا
مجھے جو آتا ہے وہ کرتی ہوں پیار ویار نہیں آتا مجھے
وہ اپنے ناخنوں کو دیکھتے ہوئے بولی
تو۔۔۔۔ مجھے ایک چانس دو میں سکھا دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کیسے سکھاؤگے تمہیں تو پہلے ہی مجھ سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا
اس معاملے میں تو مجھے کسی کے باپ سے بھی ڈر نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔
اُس نے فوراً جواب دیا اب کیا اُسکے اقرارِ خوف کا وہ ایسے طعنہ مارے گی
ہاوووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسکی بات پر جنت نے ہاتھ منہ پر رکھ لیا
ویسے۔۔۔۔ اب تک کتنی لڑکیوں کو سکھا چکے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اب اُسے پھوڑنے کے چکر میں تھی
ہر بار تم ایسے پول کھولنے والے سوال کیوں پوچھتی رہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
میں زبردستی تو نہیں کرتی نا اگر تمہیں جواب دینا ہے تو نا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں میری کوچنگ کلاسز ہے پارٹ ٹائم میں میں یہی کام کرتا ہوں لڑکیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر زبردستی کلاسز دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔اچھا بائے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جواب دینے کے ساتھ ہی بائے کہا اور اُسکی وجہ دروازے پر ہونے والی دستک کی جو جنت نے بھی سنی
سنو۔۔۔۔۔۔
جنت نے ایکدم سے کہہ کر اُسے روکا
ہاں۔۔۔بولو۔۔۔۔۔۔
کب آؤگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیر ہو جائیگی۔۔۔۔۔۔۔لیکن ڈنر ہم ساتھ کرینگے اوکے۔۔۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے اُسکی آخری بات پر مسکراتے ہوئے فون بند کردیا
ایک منٹ بعد پھر سے فون بجا اور اُسنے بنا دیکھے جلدی سے کان سے لگا لیا لیکن سمر کی بجائے کبیر کی آواز سن کر مسکراہٹ سمٹ گئی
کبیر۔ ۔۔کیسے ہو تم۔۔۔اور عائشہ آپی کیسی ہے
وہ خوش تو کبیر سے بات کرکے بھی ہوتی تھی
تم بتاؤ تم کیسی ہو۔۔۔۔۔
عائشہ کا نام آنے کے بعد اُسنے سوال کے جواب میں سوال کیا
میں بہت اچھی ہوں کبیر۔۔۔۔۔اور میں بہت خوش ہو ۔۔۔۔۔۔مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کے لندن اتنی اچھی جگہ ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ کبیر سے کیسے اپنی خوشی چپاتی لیکن اس بات سے بے خبر کے کبیر کو اُسکی بات سے کتنی تکلیف ہوگی
اتنی خوش ہو کے مجھے بھی بھول گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کہہ دیا
تمہیں۔ ۔۔۔۔۔۔جھوٹ نہیں بولوں گی لیکن آج کل تو میں خود کو بھی بھول چکی ہوں کبیر۔۔۔
وہ سچ کہہ رہی تھی وہ خوش تھی اور کبیر کو اُسکی خوشی آج بہت تکلیف دے رہی تھی
اچھا کبیر ایک منٹ ہولڈ کرنا میں ابھی آئی۔۔۔۔۔۔
اُسنے گیٹ سے رومی کے بھائی کو آتے دیکھا تو فون وہی چھوڑ کر اُسکے پاس چلی آئی
جنت۔۔۔۔۔گھر چلو۔۔۔۔۔
وہ شاید بھاگ کر آیا تھا تیز سانسوں کے ساتھ بولا
کیوں کیا ہوا۔۔۔۔۔۔
جنت کو برا خیال دل میں آیا اُس نے پریشان ہو کر پوچھا
تم چلو ۔۔۔۔پتہ چل جائے گا۔۔۔۔۔چلو
وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر لے جانے لگا
مجھے سینڈل تو پہننے دو۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی جلد بازی پر بولی
جانے دو نا یہیں تو جانا ہے
وہ نہیں رکا تھا اور جنت کو مجبوراً جانا پڑا اور کبیر اُسکے واپس آنے کا انتظار اگلے تین گھنٹے تک کرتا رہا جب کے وہ بھول بھی چکی تھی لیکن کبیر کو جنت کا انداز اُسکی ہنسی بہت چبھ رہی تھی اور اب اُسے احساس ہو رہا تھا کے جنت اور سمر وہاں رہ کر ایک دوسرے کر اور قریب ہوتے جا رہے ہیں اگر جنت اسی طرح سمر سے اٹیچ ہوتی رہی تو اُسکی فیلنگ کی کوئی اہمیت نہیں رہ جائیگی اسکا خود کا فون سوئچ آف ہوا تب ہی کال کٹ گئی ورنہ شاید وہ تین گھنٹے سے بھی زیادہ اسکا انتظار کرتا
💜💜💜💜💜💜
ہوا کیا یہ تو بتاؤ نا۔۔۔۔۔۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہوئے ایک بار پھر اس نے پوچھا مگر وہ چلو تو سہی کی ضد پر اڑا تھا
کیا ہوا آنٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچ کر آنٹی اُسے سامنے ہی مل گئی تو اُس نے اُن سے پوچھا
بڑی ماں نے تمہیں بلایا ہے۔۔۔۔۔۔۔لنچ کے لیے
اُنہونے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور جنت نے سکون کی سانس لی
لنچ کے لیے۔۔۔۔۔تم بھی نہ سیف۔۔۔۔۔ میں نے سوچا پتہ نہیں کیا ہو گیا اتنی جلدی میں لے کر آئے آنٹی دیکھو نا سینڈل بھی نہیں پہننے دی مجھے
چھوٹی بات نہیں ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔آج فرسٹ ٹائم بڑی ماں نے خود کچن میں جا کر کچھ بنایا ہے وہ بھی تمہارے لیے ۔۔۔بھائی اور مجھے تو جانے دو آج تک سیم کے لیے بھی اتنا نہیں کیا کبھی۔۔۔۔
ہاؤ سویٹ۔۔۔۔۔۔
اُس نے رومی کی امی کی جانب دیکھا تو اُنہونے سر اثبات میں ہلا دیا
آجاؤ بیٹا۔۔۔۔۔
وہ اندر آئی تو ٹیبل سجا ہوا تھا اور بڑی ماں اپنی خاص جگہ پر بیٹھی تھی ہمیشہ کی طرح سخت والے تاثرات سے جنت کو دیکھتے ہوئے جنت اُن کے بازو والی کرسی پر جھجھکتے ہوئے بیٹھ گئی
گجیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔گجیا تو مجھے پسند ہیں
آنٹی نے اس کے سامنے رکھی پلٹ میں دو گجیہ ڈالی تو خوشی سے بڑی ماں کو دیکھتے ہوئے بولی
ہاں دیکھ کر ہی پتہ چل جاتا ہے گجيا کھا کھا کر ہی تو تم نے یہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بنایا ہے۔۔۔۔۔۔
اُنہونے اُسکی بات پر سنجیدگی سے کہا اور جنت نے سیف کو ہنسنے پر گھور کر دیکھا
نہیں بڑی ماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر والے کھانے کو دیتے بھی تھے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔اگر نا بھی دیتے ہوں گے تو یہاں کھا لینا کوئی کمی نہیں ہمارے گھر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی بات کاٹ کر بولیں تھی
کھاؤ نا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔
آنٹی نے اس ٹاپک کو ختم کر کے جنت کو مزید شرمندہ ہونے سے بچا لیا
کیسی لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنٹی نے اُسکے ایک ہی بائٹ لینے کے بعد پوچھا
بہت ٹیسٹی ہے۔۔۔۔بڑی ماں ایک بات پوچھو آپ سے
اُسنے بڑی ماں کی جانب دیکھا انہوں نے سے ہلا کر اجازت سے
آپ نانی دادی کے ہاتھ میں اتنا ٹیسٹ کیوں ہوتا ہے ایسا کیا ملاتی ہے آپ لوگ کھانے میں جس کا سواد کسی فائیو سٹار ہوٹل کے کھانے میں بھی نہیں اتا
وہ۔سنجیدگی سے پوچھنے لگی
بہت سارا پیار۔۔۔۔۔۔۔اور اپنا پن
بڑی ماں نے تو کوئی جواب نہیں دیا لیکن آنٹی نے اُسکی بات کا جواب دیا
۔آنٹی شاید ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔۔تھینکیو بڑی ماں مجھے اپنا سمجھ کر یہ پیار دینے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہت ہمت کرکے اُنکا ہاتھ تھام سکی تھی بڑی ماں نے رومی کی امی کی طرف دیکھا
مسکے لگانے میں یہ اپنے شوہر سے بھی دو قدم آگے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت رو دے اسکے پہلے بڑی ماں کی بات سن کر وہ ہنس پڑی
چل کھا لے۔۔۔۔۔۔۔
بڑی ماں نے خود اُسکی پلٹ میں گُجیا ڈالتے ہوئے اُسے مسکرا کر دیکھا
💜💜💜💜💜💜
سمر کار سے نکل کر اندر جاتے جاتے رکا باہر ہی جنت کی سینڈل اور موبائل دیکھ کر وہ وہاں آیا اور ایک ہاتھ میں سینڈل اور دوسرے میں موبائل لیے موبائل پر کبیر کی کال دیکھ کر اُسکے قدم رک گئے اور اُسنے سوچا کے کبیر جنت کو کیوں اتنی رات کے وقت کال کر رہا ہے اس وقت اگر لنڈن میں رات کے دس بج رہے تھے تو انڈیا میں رات کے ساڑھے تین کا وقت تھا اور اس وقت کبیر کی کال پر اسکا حیران اور غصّہ ہونا لازمی تھا اُس نے دیکھا کہ کبیر کے بہت سارے مس کال ہے اور ہر آدھے گھنٹے کے فرق سے وہ کال کرتا رہا ہے وہ اُسکی وجہ نہیں جانتا تھا اسلئے اسکا شاک کرنا صحیح تھا اُسنے کال ہسٹری چیک کی اور دیکھا کے مسلسل تین گھنٹے تک اُنکے درمیان بات ہوئی ہے اُس نے دوسرے ہاتھ میں موجود سینڈل پھینک دیے اور موبائل واپس اُسے جگہ پر رکھ کر اندر چلا آیا
جنت ڈائننگ ٹیبل کو اب بھی ترتیب دے رہی تھی سمر کو دیکھ کر جلدی سے اُسکے پاس آئی اُس نے آف وہائٹ ٹاپ پر بلیک جینس پہنی ہوئی تھی ہلکا ہلکا میک آپ کرکے وہ خاص اس ڈنر کے لیے تیار ہوئی تھی
۔۔۔۔۔ڈنر۔۔۔,۔۔۔
اُسنے ٹیبل کی جانب اشارہ کیا کو کینڈل اور پھولوں سے سجا تھا سمر نے اُس جانب دیکھا پھر جنت کو
مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر سنجیدگی سے کہتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا اور اُس کے رویے پر جنت کو بہت حیرانی ہوئی
سمر۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ہمت کرکے اُسے آواز دی تو وہ رکا اور پلٹ کر اُسے دیکھا
تم ہی نے کہا تھا نا کے آج ہم ڈنر ساتھ میں کرینگے اسلئے میں نے یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا یہ ضروری ہے جو میں نے کہہ دیا وہ مجھے کرنا ہی پڑےگا۔۔۔۔تب موڈ تھا اس لیے کہہ دیا اب موڈ نہیں ہے اس لیے منع کردیا۔۔۔۔دهٹس آل۔۔۔۔۔
وہ اپنا غصّہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے روم میں چلا گیا اور جنت وہی کھڑی اُسے جاتے دیکھتی رہی
وہ شام تک رومی کے گھر ہی رہی اور رات ہونے سے پہلے جلدی گھر آگئی گھر آکر اُس نے جلدی جلدی شیف کو کھانے کا مینو بتایا اور روزی کی مدد سے خود ڈائننگ ٹیبل کو تھوڑا بہت کینڈیلس اور پھول سے ڈیکور کر دیا اس میں اُسے بہت وقت لگ گیا اور تب تک کھانا بھی تیار ہوگا اُسنے روزی کو کھانا لگانے کو کہا اور خود تیار ہونے چلی گئی وہ کتنی خوشی سے تیار ہوئی تھی اور آج اُس کا دل کتنا خوش تھا لیکن سمر کے اس رویے نے آج کے سارے دِن کی خوشی اُس سے چھین لی تھی اُس نے غصے سے اپنے گلے میں ڈالا ہوا پنڈنٹ کھینچ کر پھینک دیا اور ہونٹوں کو بے دردی سے رگڑ کر صاف کیا اور بھاگتی ہوئی اپنے روم میں چلی آئی ۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜
آج وہ پہلی بار سمر کی طرح کر رہی تھی سمر نے جس طرح اُس سے بات کی تھی اُس پر اُسکا بہت دل دُکھا تھا اور غصّہ بھی بہت آیا تھا لیکن اس بات کو وہ اور بڑھانا نہیں چاہتی تھی ہو سکتا ہے وہ پریشان ہو اُس سے غصّہ ہو ورنہ تو وہ ایسا بلکل نہیں ہے کے بے وجہ غصّہ دکھائے اس لیے وہ اُسے بھول کر سمر کی طرح نارمل رہنا چاہتی تھی جیسے وہ اُسکی کسی بھی بات پر پہلے ناراض ہوتا اور پھر خود ہی ایسے نارمل ہو جاتا جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو
کافی دیر وہ اُسکے باہر آنے کا انتظار کرتی رہی پھر خود ہی اُسکے روم میں آگئی سمر اب تک بیڈ پر الٹا سیدھا سویا تھا اور بہت ہی گہری نیند سو رہا تھا اُس کے سونے کا ڈھنگ دیکھ کر وہ بغیر ہنسے نہیں رہ اسکی اور وہ کیسے بھول سکتی تھی کے ایک رات اُسکے سونے کا ڈھنگ اُسنے بہت قریب سے دیکھا ہے بلکہ بھگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
Good morning۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکے سرہانے جھک کے ذرا زور سے بولی لیکن سمر کو کوئی فرق نہیں پڑا
اٹھو۔۔۔۔۔۔۔بہت دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔
اُسکے مزید قریب ہو کر وہ زور سے بولی لیکن اُس نے نیند میں ہی چہرے پر بازو رکھتے ہوئے کان کو ڈھک دیا جنت نے اُسے بیزاری سے دیکھا
لوگ گھوڑے بیچ کر سوتے ہیں لیکن یہ تو شاید پورا اصطبل بیچ کر سوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
جنت نے اُسکے پیروں کی طرف بیٹھتے ہوئے کمفر اُس کے پیروں سے ہٹایا اور تلووں پر انگلیاں گھماتے ہوئے اُسے گُدگُدی کی سمر نے تھوڑی سے ہلچل کی وہ رک گئی لیکن پھر دوبارہ اسی طرح گُدگُدی کی ۔۔۔سمر نے اپنے دونوں پیر اوپر کھینچ لیے اور کمفر میں اس طرح لپیٹ لیے کے وہ چاہ کر بھی اب کچھ نہیں کر سکتی تھی اسے دیکھا اور اٹھ کر واپس جانے لگی لیکن پھر رک گئی اور اپنے گلے میں لپٹے دوپٹے کے کنارے کو اُسکے کان کے اوپر ہلانے لگی سمر کو گُدگُدی ہونے لگی تھی اور وہ ہاتھ سے کان سہلانے لگا جنت نے دوپٹہ ہٹا لیا سمر نے جیسے ہی ہاتھ کان سے ہٹایا جنت نے دوبارہ وہی عمل دوہرایا اور سمر نے ایک دم سے دوپٹے کو پکڑ لیا زور سے کھینچا تاکہ سائڈ میں پھینک سکے جنت کے گلے میں دوپٹہ لپٹا تھا اس کے کھینچنے پر وہ چینختے ہوئے اس کے اوپر گری تھی اُسکی آواز سے سمر کی آنکھ کھل گئی اور اسے اتنے قریب دیکھ کر وہ حیران ہوا
اُس کے گلے میں دوپٹہ اتنا ٹائٹ ہو گیا تھا سانس رکنے لگی تھی
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا
دوپٹہ۔۔۔۔۔۔چھوڑو۔۔۔۔۔۔
جنت نے بمشکل آواز نکالی اور سمر نے اپنے ہاتھ نے لپٹا دوپٹہ چھوڑ دیا اور جنت نے سکون کی سانس لی
Are you okay
سمر نے اُسکے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تو جنت نے سر ہلا دیا سمر کو رات والی بات یاد آئی تو اُسنے جلدی سے ہاتھ ہٹا دیا اور پیچھے ہو کر بیڈ سے ٹیک لگا لیا اب وہ جنت کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا
روز تو ۔۔۔۔۔۔جلدی جلدی ریڈی ہو کر آفس چلے جاتے ہو۔۔۔۔ آج اٹھنے کا بھی ارادہ نہیں ہے کیا
جنت نے محسوس کر لیا تھا اُس کے بدلتے انداز کو پھر بھی اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے بولی
آج سنڈے ہے۔۔۔۔۔آفس نہیں جانا ہے۔۔۔۔۔
اچھا تو پھر آج کہاں لے جا رہے ہو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے جواب دینے کے بعد سر پر ہاتھ رکھ لیا اور آنکھیں بند کر لی تھی جنت کو بہت دکھ ہوا مگر پھر بھی وہ نارمل رہی
آج میرے ایک فرنڈ کی ویڈنگ سیریمنی ہے تو پہلے وہاں جائے گے اُسکے بعد وہاں پاس میں ہی ہے سینٹ جیمس پارک ۔۔۔۔۔۔
وہ بنا دیکھے بات کر رہا تھا
اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔تو میں جا کر ریڈی ہو جاؤں۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اٹھتے ہوئے کہا سمر نے کوئی جواب نہیں دیا وہ کچھ سیکنڈ رکی پھر پلٹ کر جانے لگی لیکن وہ جا نہیں پائی کیوں کے سمر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے روک لیا جنت نے پلٹ کر دیکھا تو وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا بہت سنجیدگی سے اسکا ہاتھ دھیرے سے کھینچتے ہوئے اُسے اپنے قریب کیا اور وہ اُسکے پاس بیٹھ گئی
سوری۔۔۔۔۔کل رات میں نے تم سے بہت ریوڈلی بات کی۔۔۔۔۔۔
وہ رکتے ہوئے بولا اور جنت نے اپنی نظریں جھکالیں اُسے لگا کے وہ زیادہ دیر سمر کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتی
اٹس اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہت دھیرے سے بولی بنا اُسکی جانب دیکھے
میں۔۔۔۔تھوڑا اپ سیٹ تھا اس لیے ایسا بول دیا۔۔۔سوری۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنی غلطی نا ہونے کے باوجود اُسے سوری کہا صرف اسلئے کیونکہ اُسے لگا جنت کو اسکا غصّہ بہت ہرٹ کر رہا ہے اور وہ نہیں جانتا تھا کے اُس نے کبیر سے کیوں بات کی تو بنا جانے وہ اُس پر شک نہیں کرنا چاہتا تھا جنت یونہی سر جھکائے بیٹھی رہی اُسے ہمیشہ ہی سمر کا یوں دیکھنا بہت کمزور بنا دیتا تھا اُسکی انگلیوں پر جب اُسے سمر کے ہونٹوں کا لمس محسوس ہوا تب اُسنے ایکدم سے سر اٹھا کر اُسے دیکھا اور اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور جلدی سے اٹھ گئی
میں ریڈی ہو کر آتی ہوں۔۔۔۔۔
وہ بولتی ہوئی باہر نکل گئی
💜💜💜💜💜💜💜
وہ دونوں چرچ سے نکل کر ابھی ابھی پارک پہنچے تھے چاروں طرف گھاس کے میدان اور درمیان میں صاف چھوٹا سا راستہ ایسا کوئی حصہ نہیں تھا جسے دیکھ کر اُس کی تعریف کرنے کو دل نہ کرے وقت تو دوپہر کا ہی تھا لیکن بادلوں کی وجہ سے شام کا سا سماں محسوس ہوتا تھا لوگوں کا ہجوم وہاں بھی کم نہیں تھا لیکن زیادہ تر کپل ہی دکھائی دیتے تھے شاید اسلئے کیوں کے وہاں کا ماحول ہی کچھ ایسا تھا ایک طرف پلے ایریا تھا جو بچوں کے کھیلنے کے لئے تھا وہاں کچھ لوگ تھے سمر اُسے پارک کے بارے میں بتاتے ہوئے اُسکے ساتھ چل رہا تھا لیکن وہ اُسے سن کم رہی تھی اور اُس جگہ میں زیادہ کھوئی تھی جھیل کے قریب آکر و رکے تھے اور یہ منظر وہاں کا سب سے بیسٹ تھا جھیل کے اُس پار بکنگم پلیس اور لندن آئی کا نظارہ کرنا اور جھیل میں تیرتے پرندے جو کبھی کنارے پر اور کبھی جھیل کے اندر
ریسٹ ایریا کا بورڈ جہاں لگا تھا وہاں پورا ہرا میدان اور بڑے بڑے پیڑ تھے اور لوگ کہیں پیڑ کے سائے میں کہیں کھلے میدان میں تو کہیں کرسیاں لگائے موسم کا مزا لے رہے تھے سمر ایک بڑے سے پیڑ سے لگ کر نیچے بیٹھ گیا تھا اُسکی جانب ہاتھ بڑھایا تو جنت اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے وہاں بیٹھ گئی تھوڑے فاصلے پر لیکن اب اُسے عجیب سا لگ رہا تھا وہاں کیوں کے جہاں بھی نظر جاتی ایسا منظر دیکھنے ملتا کے نظریں خود جھک جاتی وہاں کا ماحول بہت ہی عجیب اور نیا تھا جنت کے لیے اُن سے کچھ ہی فاصلے پر بیٹھے ایک لڑکا لڑکی کو کس کرتے دیکھ اُسنے جلدی سے دوسری جانب رخ کر لیا اور دوسری جانب بھی ایسا ہی کچھ منظر تھا
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُسکی بے چینی کو نوٹ کیا تو فون سے نظریں ہٹاتے ہوئے پوچھا پہلے تو وہ چپ رہی لیکن سمر نے پھر سے بولنے کا اشارہ کیا
کیسے لوگ ہے یہاں کے ۔۔۔۔شرم نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔۔۔۔سرے عام دنیا کے سامنے ایسے کام کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ اب جھجھک کو پرے کر کے بولی
تم کیوں اتنی اریٹیڈ ہو رہی ہو ۔۔۔جو کر رہے ہیں آپس میں کر رہے ہیں۔
سمر نے ہنستے ہوئے کہا
ہاں تم تو انکی سائڈ لو گے ہی کیوں کے تم بھی تو انہیں میں سے ایک ہو تمہیں کیوں غلط لگے گا
اب وہ اُس پر ہی بھڑک گئی
لیکن اس میں غلط ہے کیا۔۔۔وہ پیار کرتے ہے ایک دوسرے سے
وہ اُسے مزید تنگ کرتے ہوئے بولا
ہاں تو کیا ایسے سب کو دکھا کر پیار کرنا ضروری ہے
وہ تو نہیں دکھا رہے تم دیکھ رہی ہو
وہ شرارت سے مسکرایا اور جنت نے اُسے گھور کر دیکھا
پیار کرنے والے کسی کے دیکھنے سوچنے کی پرواہ نہیں کرتے انکو صرف اپنے پارٹنر سے مطلب ہوتا ہے
پیار ایسا ہوتا ہے کیا کے جہاں جی کرے شروع ہو جاؤ کوئی پرائیویسی نہیں کوئی فیلنگ نہیں ۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات کاٹتے ہوئے بولی
اچھا تو پھر کیسا ہوتا ہے
وہ بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اُسے دیکھ رہا تھا اور جنت سامنے
پیار میں ریسپکٹ ہوتی ہے انڈر سٹینڈنگ ہوتی ہے پہلے اظہار ہوتا ہے اور پھر ظاہر۔۔۔۔۔۔
کسی رومانٹک ہندی گانے پر ڈانس کرتے ہوئے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال اپنی فیلنگس ایکسپریس کرنا اس سے کئی زیادہ رومینٹک اور ٹچی ہوتا ہے
وہ اپنی دھن میں بولتی رہی اور جب سمر کی جانب دیکھا تو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ کیا بول رہی ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: