Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 43

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 43

–**–**–

کبیر نے عائشہ کے سر پر بم پھوڑا تھا یہ بتا کر کے وہ اُسے لے کر لنڈن جا رہا ہے اسکا ساتھ تو صرف ایک بہانہ تھا اصل میں تو وہ جنت کو اور سمر کے ساتھ نہیں رہنے دینا چاہتا تھا وہ اُسے اپنے دل کی بات بتانا چاہتا تھا عائشہ کو لگا و ہار رہی ہے لیکن وہ کچھ کر نہیں سکتی تھی
💜💜💜💜💜💜💜💜💜
دھیرے دھیرے وہ دونوں بہت قریب آگئے تھے پچھلی ساری بد گمانیاں غلط فہمیاں سب کہیں چھوٹ گئی تھی سمر نے اُسے لندن کی ساری خوبصورت جگہوں پر گھمایا تھا وہاں کی نائٹ لائف دکھائی تھی اُس کے ہر دن کو یادگار بنا دیا تھا وہ کچھ دیر پہلے ہی باہر سے آئے تھے رات کے ڈھائی بجے تک باہر گھومنے کے بعد تھکان سے بہت برا حال تھا سمر اپنے روم میں جا چکا تھا اور اسکا فون جنت کے پاس ہی رہ گیا تھا وہ اُسے فون واپس کرنے اُسکے روم میں آئی تو دیکھا وہ اوندھے منہ بستر پر پڑا تھا یقیناً وہ سو چکا تھا وہ فون سائڈ میں رکھ کر جانے ہی لگی تھی کے اُس پے آئے میسیج پر ہنی کا نام دیکھ کر رک گئی اور چوروں کی طرح سمر کو دیکھتے ہوئے میسیج اوپن کیا
میسیج میں اُس نے اپنی ایک تصویر بھیجی تھی اور نیچے لکھا تھا
How is my new dress۔۔۔
لیکن جنت جانتی تھی یہ میسیج اُس نے اپنے ڈریس کی تعریف سننے کے لیے نہیں بلکہ اُسے بہکانے کے لیے کیا تھا ڈریس سے زیادہ اُس تصویر میں اسکا کا جسم نظر آرہا تھا گہرا گلا اور بنا بازو والی سفید ڈریس
یہ عورت اپنے حسن کے جلوے دکھا دکھا کر بیچارے میرے بھولے بھالے شوہر کی نیت خراب کرنا چاہتی ہے
اُس نے دانت پیستے ہوئے کہا اور سمر کی جانب دیکھا سوتے ہوئے تو وہ اتنا معصوم لگتا تھا جتنا تھا بھی نہیں
کیا سمجھتی ہے تو۔۔۔۔۔ اپنی ہوٹنیس دکھا کر میرے شوہر کو بہکا لیگی۔۔۔اگر تو ہوٹ ہے نا تو میں سوپر ہوٹ پلس سوپر جینئس ہوں اور اب دیکھ میں کیا کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔
اُس نے ہنی کی تصویر کو گھورتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا اور میسیج ٹائپ کرنے لگی
واؤ ہنی یہ ڈریس تم پر بہت اچھی لگ رہی ہے
اُس نے سینڈ کا بٹن دبایا سمر سے یہ تعریف سن کر تو ہنی اندر تک سرشار ہو گئی اُسے لگا اُس کا نشانہ بلکل صحیح لگا ہے
تھینکیو سو مچ سیم,,۔۔۔۔
میں جنت ہوں سیم نہیں,
اُس کا میسیج آتے ہی جنت نے رپلائی کیا اور بمشکل ہنسی روکے کیونکہ جانتی تھی کے اب ہنی کو چار سو چالیس وولٹ کا کرنٹ لگا ہوگا
تم کیوں رپلائی کر رہی ہو
سمر کیا کر رہا ہے
ہنی نے غصے سے دانت پیستے ہوئے ٹائپ کیا
شادی شدہ آدمی اتنی رات کو اور کیا کر سکتا ہے سوائے ایک کام کے
وہ لب بھینچے لکھتی ہو بمشکل اپنی ہنسی روک پائی اور ہنی کے آنکھیں کان پورے کھل گئے اُس کے میسیج پر
کیا مطلب,۔۔۔
وہ پھر بھی یقین دہانی کرنے کو پوچھنے لگی
مجھے بتانے میں شرم آرہی ہے,تمہیں دکھا دیتی ہوں
جنت نے ٹائپ کیا اور موبائل کا کیمرہ آن کرکے سمر کے قریب ہوئی اُس کے ہونٹوں کے قریب اپنا گال رکھ کر اس طرح تصویر لی کے اُسکی بند آنکھیں نہ آسکیں اور ہنی کو پتہ نہ چلے کے وہ سویا ہوا ہے پھر اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھتے ہوئی تمام انگلیاں ایک دوسرے نے قید کرتے ہوئی ایک اور تصویر لی
پھر خود اُسکے چہرے پر ہونٹ دھیرے سے رکھے کے اُسے احساس نہ ہو اور وہ تصویر بھی ہنی کو سینڈ کی اُس کے بعد ہنی کو جلا کا راکھ بنانے کے لیے ایک اور کارنامہ انجام دیا وہ یہ کے سمر کے شرٹ کے اوپری دو بٹن کھول کر شرٹ کو شولڈر تک ہٹا دیا اور اپنا سر کو اُس کے سینے پر کچھ ایسے رکھا کے اُسے چھو نہ پائے لیکن لگے ایسے کے وہ اُس کے سینے پر سر رکھ کر سوئی ہے ساری تصویریں اُس نے ہنی کو سینڈ کی اور انتظار کرنے لگی کے وہ کچھ کہے لیکن و شاک سے پتھر ہو چکی تھی
اچھا ہنی میں تم سے بعد میں بات کرونگی کیا ہے نا کے سمر کو رومانس کے بیچ میں ڈسٹربنس بلکل پسند نہیں وہ غصّہ ہو جائیگا اوکے بائے۔۔,۔
وہ جانتی تھی ہنی شاید اب رپلائی نہیں کریگی اسلئے آخری میسیج کیا اور فون رکھ کر سمر کو دیکھا
سوری۔۔۔,۔۔آج میں نے تمہاری ہنی بےبی کو شاک ٹریٹمنٹ دے دیا
وہ واپس باہر آگئی اور ہنی حالت سوچ کر بہت دیر تک ہنستی رہی
💜💜💜💜💜
رومی حنا واپس آگئے تھے اور اس وقت جنت اور سمر اُن سے مل کر واپس گھر لوٹے تھے سمر اُسے بتا رہا تھا کے آج وہ اُسے مووی دکھانے لے جانے والا ہے گھر پہنچتے ہنی کو لان میں ہی بیٹھے اپنا انتظار کرتے پایا اُسے دیکھ کر جہاں جنت کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہو گئی سمر نے اُسے بہت گہرائی سے نوٹ کیا اُسے حیرت ہو رہی تھی کے جنت ہنی کے آنے پر اتنی خوش کیوں ہے جب کے وہ اس بات پر ہنس رہی تھی کے ہنی اُس کی رات والی بات جاننے کے بعد صبح ہی ادھر چلی آئی
ہائے سیم۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر کو دیکھتے ہی ہنی ہمیشہ کی طرح اُسکے گلے لگی تھی
اتنے دن سے نہیں ملے تم ۔۔۔۔۔آئے مسڈ یو سو مچ
کاش کے اس وقت جنت اپنا غصّہ اُسے دکھا سکتی جو سمر کے قریب دیکھ کر بڑھتا جا رہا تھا سمر نے اشارے سے اُسے بلایا تو وہ آکر وہاں بیٹھ گئی لیکن ہنی کی کسی بات میں وہ شامل نہیں تھی ہنی اُسے بلکل اگنور کیے سمر سے بات کر رہی تھی اور جنت بیزار سے شکل بنائے کبھی سمر کو اور کبھی ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی پھر کچھ سوچ کر اُس نے موبائل نکالا اور سمر کو ٹیکس کیا
میں اندر جا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔
سمر نے ہاتھ میں موجود موبائل پر اسکا نام دیکھ کر میسیج اوپن کیا
کیوں۔۔۔۔۔
سمر نے آگے سے پوچھا اور ہنی سے بات کرنے لگا
پکچر بہت واھیات ہے دیکھنے کا دل نہیں کر رہا
اچھا تو ہیرو کو دیکھ لو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شرارت سے مسکرایا
نہیں ہیروئن کی شکل نے موڈ کا ستیاناس کر دیا نیند آرہی ہے
اوکے جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا بظاھر وہ ہنی کو سن رہا تھا لیکن دھیان دوسری طرف تھا
اندر چلیں۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے ہنی کو اندر چلنے کا کہا تو اُس نے سر اثبات میں ہلا دیا سمر آگے چلا گیا اور ہنی اُسکے پیچھے جنت بھی اٹھ کر اندر جانے لگی
آؤچ۔۔۔۔۔۔
جنت نے اندر جاتے جاتے اچانک آواز کی جس پر ہنی نے پلٹ کر دیکھا تو وہ گردن سہلاتے ہوئے مسکرائی
وہ کیا ہے نہ کل رات پتہ نہیں سمر کو کیا ہو گیا تھا
وہ شرمانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے رات والی آگ کو بھڑکا رہی تھی
بس جنت بہت ہوا مذاق۔۔۔۔۔۔۔سمر مجھ سے کوئی بات نہیں چھپاتا۔۔۔۔۔مجھے پتہ ہے تم دونوں الگ روم میں رہتے ہو۔۔۔
اُس نے ہنستے ہوئے کہا اور جنت اُسے حیرت سے دیکھنے لگی اب خوش ہونے کی باری ہنی کی تھی سمر نے آواز لگائی تو ہنی اُسے کمینگی سے مسکرا کر دیکھتے ہوئے اندر آگئی جنت نے سمر کی جانب دیکھا اور اوپر چلی گئی
💜💜💜💜💜💜💜
تم اوپر کیوں چلی آئی
وہ ہنی کے جانے کے بعد اُسکے روم میں آیا تھا اور جنت بیڈ پر خاموش بیٹھی تھی
ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے دلی سے بولی اور سمر ہنسنے لگا
اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولی
مجھے پتہ ہے۔۔۔۔اصل میں تم ہنی سے جیلس ہو۔۔۔۔۔
میں کیوں تمہاری اُس ہنی مس فنی سے جیلس ہونے لگی۔۔۔
وہ اُسکی بات کاٹ کر بولی
کیوں نہیں ہو ۔۔۔
سمر نے اُسکے قریب بیٹھتے ہوئے اُسے بڑی آنکھیں کرکے دیکھا
بلکل نہیں۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے لا پرواہی سے جواب دیا
اچھا ۔۔۔۔ویسے مجھے لگا۔۔۔آفٹر آل ہنی ہے ہی اتنی اسمارٹ۔۔۔۔۔اسکا ہیئر سٹائل۔۔۔۔اسکا آئے میک اپ۔۔۔۔اُسکی باتیں۔۔۔۔۔۔شی اس فنٹسٹک۔۔۔۔۔۔ہے نا
وہ اُسے غور سے دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا
اتنے قریب سے تو تم ہی اُسے جانتے ہو میں نہیں اسی لیے تو تم نے اُسے یہ تک بتا دیا کے ہم الگ الگ کمرے میں رہتے ہیں
اُسکی بات پر جنت نے سنجیدگی اور خفگی سے کہا اور سمر بھی اُس کی بات پر سنجیدہ ہوا
جنت میں نے اُسے جان بوجھ کر یہ بات نہیں بتائی غلطی سے ایک بار میں نے کہہ دیا تھا کے جنت اپنے روم میں ہے اور جب اُس نے پوچھا تو میں جھوٹ نہیں بول پایا۔۔۔۔
اگر جان بوجھ کر بھی کیا ہوگا تو میں کون ہوتی ہوں سوال کرنے والی بس جب اُس نے مجھے کہا تو مجھے اچھا نہیں لگا
میں نے جان بوجھ کے نہیں کیا لیکن پھر بھی سوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوکے
وہ اُسے اُداس دیکھ کر بولا جنت نے نہ کوئی جواب دیا نا اُسکی جانب دیکھا
میں لیٹ ہو رہا ہوں اگر تم تیار ہو جاؤ تو کال کر دینا مووی دیکھنے جاینگے اوکے
سمر نے اٹھتے ہوئے کہا اور باہر نکل گیا وہ اُس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی نا کی
💜💜💜💜💜
سمر نے پہلے تو اُسکے کال کا انتظار کیا پھر خود ہی اُسے کال کی لیکن اُس نے فون نہیں اٹھایا اور اسکا یہ غصّہ اگلے دن تک جاری رہا جب سمر نے اُسے گڈ مارننگ کہا اور اُس نے جواب دینے کی بجائے باہر آگئی وہ بھی آفس کے لیے نکل گیا اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ جنت کو کیسے منائے سمر نے آفس میں بیٹھے موبائل چیک کیا تب اُسے جنت کی کی ہوئی حرکت کا پتہ چلا اور اُسے بہت ہنسی آئی اُس کی حرکت پر اُس نے اُس چیٹ کے سکرین شاٹ لے کر جنت کو سینڈ کیے
یہ سب کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
نیچے لکھ کر سینڈ کیا جنت نے اسی وقت مسیج دیکھ لیا تھا لیکن کوئی رپلائی نہیں کیا
کہیں ایسا تو نہی کے میرے سونے کا فائدہ اٹھا کر تم نے میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اتنا میسیج کیا تھا یہ سوچ کر کے شاید اب جواب دے گی لیکن اب بھی صرف اُس نے دیکھ کر اگنور کیا تھا اور سمر نے ایک گہری سانس لے کر فون رکھ دیا
💜💜💜💜💜💜💜💜
وہ نیند سے جاگي تو اپنے پائنتی سمر کو بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر پہلے تو ایکدم سے ڈر گئی پھر اٹھ کر اُس کے پاس آئی
تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔
وہ اُس سے پوچھ رہی تھی اور سمر ایسے بیٹھا تھا جیسے کان اور آنکھیں بند ہو صرف ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا
پلیز جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دوبارہ بولی اور سمر پھر سے انجان بنا رہا
میں تم سے بات کر رہی ہوں جواب دو گے۔۔۔۔
وہ غصے سے بولی
میں بھی تو پچھلے دو دن سے تم سے بات کرنے کی کوشش کر رہا ہوں نا تم دے رہی ہو کیا جواب
وہ اُسکی جانب دیکھ کر ایک دم سے بولا اُسکی آنکھوں میں بہت ساری ناراضگی دیکھ کر جنت خاموش ہو گئی
جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔
بنا اُسے دیکھے بولی
پہلے بات کرو مجھ سے ۔۔۔۔۔
وہ دھیرے سے بولا
جاؤ گے یا نہیں۔۔
وہ اُسے دیکھ کر بولی
بات کروگی یا نہیں۔۔۔۔۔
سمر نے اُسے سنجیدگی سے دیکھا
نو۔۔۔۔
اُس نے فوراً جواب دیا اور خود روم سے باہر جانے لگی لیکن اُس کے پہلے سمر نے اُس کا ہاتھ کھینچ کر اپنے اوپر گرا لیا اُس نے جلدی سے اٹھنا چاہا لیکن سمر نے دونوں ہاتھ اُس کے پیٹ پر رکھ کر اُس کا راستہ بند کر دیا
لیو می۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولی لیکن سمر نے اپنی دونوں ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کرتے ہوئے اُسے جکڑے رکھا تھا اور اُسکی نظریں جنت کے پریشان چہرے پر تھی
سمر پلیز ہاتھ ہٹاؤ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی جانب دیکھ کر دھیرے سے بولی
پہلے بتاؤ کس بات کی ناراضگی ہے۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُسکے شولڈر پر ٹھوڑی ٹکاتے ہوئے پوچھا
جنت کو اُسکی سانسیں بھی اپنی گردن پر محسوس ہو رہی تھی وہ اُسکے اتنے قریب تھا اور اُسکی نظریں ویسے ہی جنت کے دل تک پہنچ جانے والی
مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔۔۔وہ ہے نہ ہنی دا فنٹاسٹک ۔۔۔۔اُس دِن تو اُسکی بہت تعریفیں کر رہے تھے
وہ روٹھے ہوئے انداز میں بولی
میں نے تو اُسکی کوئی تعریف نہیں کی
وہ اُسی انداز میں اُسے دیکھتے بولا لیکن اُسکے جھوٹ پر جنت نے اُسے حیرت سے دیکھا
اب جھوٹ بھی بولوگے۔۔۔۔۔
سچ کہہ رہا ہوں میں نے اُسکی کوئی تعریف نہیں کی
وہ اپنی بات پر قائم تھا
اچھا تو یہ کس نے کہا کے اسکا ہیئر سٹائل بہت اچھا ہے
جنت نے یاد دلائی
ہیئر اسٹائل کی تعریف کی یہ تھوڑی کہا کہ اُس کے بال خوبصورت ہے
وہ فوراً بولا اور اُس کے گلے میں موجود بالوں کو پیچھے لیا
نا یہ کہا کے مجھے اُسکے لمبے بالوں کو چھونا بہت اچھا لگتا ہے اور اگر میں نے پہلے دن سے اگر اُس نے کسی چیز کو سب سےزیادہ نوٹس کیا ہے تو وہ ہے اُسکے بال
اُسکی آنکھیں ظاہر کر رہی تھی کے وہ کس کی بات کر رہا ہے جنت اُس کی بات پر مسکرائی سمر نے ایک ہاتھ سے اُس کے دونوں پیروں کو اپنی دائیں جانب کر دیا تھا جس سے جنت کا رخ اب کچھ اُسکی جانب تھا
اور یہ کس نے کہا کے اسکا آئے میک اپ بہت اچھا ہے
یہ تو نہیں کہا نا کے اُسکی آنکھیں بہت اچھی ہے۔۔۔۔جب وہ مجھے دیکھتی ہے کبھی شرارت سے کبھی غصے سے کبھی پیار سے تو دل چھو جاتی ہے
وہ اب بھی اسی کی تعریف کر رہا تھا اور جنت مدہوش ہو کر اُسے سن رہی تھی
اور اُسکی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے اُس کی جانب دیکھا تھا سمر کا چہرہ اُسکے بہت قریب تھا اور وہ اُسکے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا
اُسکی باتیں سننے کا دل نہیں کرتا بس اُسے دیکھتے رہنے کو دل کرتا ہے بنا بولے سب سن جانے کو دل کرتا ہے اور ان ہونٹوں کو چھونے کا دل کرتا تھا
وہ اپنے ٹاپک سے بھٹک چکا تھا اُس کی بات پر جنت نے اپنے لب بھینچ لیے تھے اور نظریں جھک گئی تھی وہ اُسکی جانب یونہی جذبات لٹاتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور انتظار کر رہا تھا کے وہ اُس کی جانب دیکھے لیکن جنت کے لیے یہ بہت مشکل تھا
I love you jannat
اُس نے سرگوشی کی تھی اور جنت نے فوراً پلکیں اٹھا کر اُسے دیکھا تھا حیرت سے ۔۔۔لیکن اُس کی آنکھیں اُس کے الفاظ کی سچائی بیان کر رہی تھی وہ آنکھوں سے بھی یہی بات کہہ رہا تھا جو آج پہلی دفعہ اُس نے زبان سے کہی تھی اظہارِ محبت کا یہ انداز جنت کی روح تک جھنجھوڑ گیا ۔۔۔۔۔کیا ہنی۔۔۔۔۔ کیا غصّہ۔۔۔۔کیا ناراضگی۔۔ ۔۔ہر وجہ کمزور پڑ گئی۔۔۔۔یہ تسلسل شاید کبھی نہ ٹوٹتا اگر فون کی رنگ نے سکوت کو نہ توڑا ہوتا ۔سب سے پہلے جنت ہوش میں آئی تھی اور جلدی سے اٹھ گئی تھی سمر نے موبائل نکالا اور دیکھ کے ویسے ہی واپس رکھ دیا
آفس ۔سے کال ہے۔۔۔مجھے جانا پڑےگا
اُس نے براہِ راست یہ کہا کے وہ جانا نہیں چاہتا پر جانا پڑےگا جنت نے کوئی جواب نہیں دیا
بائے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکی جانب جھک کر بولا تو جنت اُسکی جانب دیکھ کے مسکرائی اور گردن ہلا دی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: