Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 44

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 44

–**–**–

وہ گرل تھامے بالکونی میں کھڑی تھی سمر کی گاڑی دیکھتے ہی وہ ایک دم سے نروس ہو گئی تھی جانتی تھی اس وقت وہ سیدھا اُس کے روم میں آئیگا لیکن اُس کا سامنا کرنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا سارا دن وہ اُسی کے بارے میں سوچتی رہی تھی اُس کی توقع کے مطابق اگلے دو منٹ بعد وہ اُسکے روم کا ڈور ناک کرکے اندر آیا تھا اُسے بالکونی میں کھڑے دیکھ کر خود بھی وہیں آگیا تھا جنت نے اُسکی جانب دیکھا تو نہیں لیکن اُسکی مسلسل نظریں خود پر محسوس کرکے بنا مسکرائے نہیں رہ سکی
اتنی شوکڈ کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔جلدی کر دی کیا میں نے ۔۔۔۔۔ایسپیکٹ نہیں کر رہی تھی
وہ بھی اسی کی طرح سامنے نظریں جمائے بولا
مجھے ہمیشہ سے یہی لگتا تھا کے تم ہنی سے پیار کرتے ہو۔۔۔۔۔
وہ اُسکی جانب دیکھ کر بولی جو بات آج تک وہ کہہ نہیں پائی تھی آج اُس نے پوچھ ہی لی سمر نے اُسے سنجیدگی سے دیکھا
ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔ ہنی اور میں صرف فرنڈز ہے میں نے آج تک کسی لڑکی سے پیار نہیں کیا
وہ اپنی آستین کے بٹن کھولتے ہوئے بولا
اور لڑکے سے۔۔۔۔۔۔
جنت نے اُسے کن انکھیوں سے دیکھا سمر نے پہلے تو اُسے حیرت سے دیکھا پھر پھر اُسکی آنکھوں میں شرارت دیکھ کر مسکراتے ہوئے زبان دانتوں میں دبائے دونوں ہاتھوں سے کان پکڑ کر سر نفی میں ہلا دیا
اور جنت کھل کے ہنس دی
تم نے کبھی کسی سے پیار کیا ہے۔۔۔۔۔
سمر نے سنجیدگی سے پوچھا تو وہ چپ ہو کر اُسے دیکھنے لگی اُس کی آنکھیں بتا رہی تھی کے وہ کسی سے نے پناہ پیار کرتی آرہی ہے لیکن وہ زبان سے کہہ نہیں پائی کے وہ سمر ہی ہے اور اُسکے چہرے کے بدلتے رنگ پر سمر کا خیال فوراً کبیر کی طرف گیا
لگتا ہے کیا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ سمر کے کہنے پر مسکرا دی بنا یہ سمجھے کے وہ کس رخ پر سوچ رہا ہے
کیا تمہیں ہماری انگیجمنٹ یاد نہیں تھی جنت ۔۔۔۔۔یا پھر اُسکی کوئی امپورٹنس نہیں تھی تمہاری لیے
وہ دکھ سے بولا تھا اور جنت نے اُسے حیرت سے دیکھا
امپور ٹنس۔۔۔۔۔۔۔۔ایک منٹ رکو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے کہہ کر خود روم میں آگئی سمر بھی اُسکے پیچھے روم میں آگیا تھا جنت نے ڈریسنگ ٹیبل سے ایک باکس کھول کر اُس میں سے ایک چھوٹی سے ڈبیا نکالی تھی سمر اپنی ٹائی کھینچ کر ڈھیلی کرتے ہوئے دیوار سے ٹیک لگائے اُسے دیکھ رہا تھا
یہ دیکھو۔۔۔۔۔۔ہماری انگیجمینت رنگ۔۔۔۔۔اتنے سالوں سے میں اسے سنبھالتی آرہی ہوں خود سے زیادہ اسے سنبھال کر رکھتی آئی ہوں میں کے کہیں کھو نا جائے۔۔۔۔۔اگر اس انگیجمینٹ کی امپورٹنس نہیں ہوتی تو یہ رنگ کا اتا پتہ بھی نہیں ہوتا
اُس نے فخریہ لہجے میں بتایا وہ اُسے صرف رنگ ہی بتا سکتی تھی اتنے سالوں کا پیار انتظار جذبات دکھا پانا ممکن نہیں تھا سمر نے داد دینے والے انداز میں اُسے دیکھا
تم بتاؤ۔۔۔۔۔تم نے کیا کیا رنگ کا۔۔۔۔۔کھو گئی۔۔۔یا پھینک دی۔۔۔۔
دونوں ہاتھ باندھے اُس نے پوچھا تو سمر ہلکا سا ہنستے ہوئے سر کھجانے لگا جنت کو پورا یقین تھا وہ یہی کہے گا کے پتہ نہیں کہاں چلی گئی لیکن وہ یقین غلط ثابت ہوا سمر نے سر سے ہاتھ کان تک لاتے ہوئے کان میں موجود رنگ نکالی اور اُسکے سامنے کی جنت کی فخریہ مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی اور وہ سن ہو کر اُس رنگ کو دیکھ رہی تھی اُس کے وہم و گماں میں بھی یہ بات نہیں آئی تھی حالانکہ وہ دونوں رنگس بلکل ایک سے تھی اور جنت نے کئی دفعہ اُسے بہت قریب سے دیکھا تھا لیکن کبھی یہ نہیں سوچا کے وہ وہی رنگ ہے
جب مجھے لگا کہ میں اسے فنگر رنگ کی طرح نہیں پہن سکتا تو میں نے اسے ایئر رنگ بنا لیا۔۔۔۔اور سریسلی لوگو نے بہت مذاق بنایا میرا کسی نے تو یہ تک کہا کہ یہ ٹپوریوں والے سٹائل ہے اور لڑکیوں کی طرح ہے ۔۔۔۔۔لیکن جب سے میں نے یہ رنگ کان میں ڈالی ہے اس رنگ سے ریلیٹڈ کوئی بھی بری بات کان میں جاتی ہی نہیں ہے ۔۔۔۔مام ڈیڈ نے بھی بہت منع کیا کہا سیف میں رکھ دو ۔۔۔۔ہمیں دے دو سنبھال کر رکھے گے لیکن میں اسے اپنے سے الگ کرنا ہی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔
ایک چھوٹی سے بات میں اُس نے کتنی باتیں ظاہر کر دی تھی بنا اُس کی اہمیت بتائے اُسے آسمان پر بٹھا دیا تھا ایسی محبت کو اظہار کی ضرورت نہیں ہوتی
اور پتہ ہے ایک بار میرا کسی سے جھگڑا ہو گیا تھا اور لڑائی میں اُس نے رنگ کھینچ لی تھی اور مجھے کٹ لگ گئی تھی۔۔۔دیکھو نشان اب بھی ہے۔۔۔۔۔
اُس کے قریب ہو کر چہرہ دوسری جانب کیے وہ اُسے بتا رہا تھا اور بہت غور سے دیکھنے پر پتہ چلتا تھا کے اُس کے کان کی لو پر ٹانکے کے نشان تھے بے ساختہ جنت نے آگے ہو کے وہاں اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے سمر نے اُسے سنجیدگی سے دیکھا پھر بھی آج وہ پہلی بار اُسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
اگر یہ کس رنگ کے لیے کومپلمنٹ تھا تو بیٹر ہوتا اگر یہاں ملتا
وہ اپنے نچلے لب پر انگلی رکھے شرارت سے مسکرا کر بولا
كامپلمنٹ دینے والے کی مرضی ہوتی ہے وہ کیا اور کہاں دینا چاہتا ہے
جنت نے پیچھے ہو کر رنگ واپس رکھتے ہوئے کہا
تم نے بھی میری رنگ اب تک سنبھال کر رکھی ہے نہ تو میں بھی تمہیں کامپلمنٹ دینا چاہتا ہوں لیکن ادھر۔۔۔۔۔۔
وہ اُسکے پھر سے قریب آیا تھا اور اُسکے ہونٹوں کی جانب اشارہ کرکے کہا
نو۔۔۔۔۔۔
جنت نے سائڈ سے نکل کر دور ہوتے ہوئے کہا۔
تم ہی نے کہا تھا نا کے دینے والے کی مرضی
سمر نے اُسے اُسکی بات یاد دلائی
But this is not fair
جنت اپنے کہے جملے پے بہت پچتائی
Every thing is fair in love and war۔۔۔۔۔۔my love
وہ اُسکی جانب ڈرانے والے انداز میں بڑھ رہا تھا اور جنت نے اُسکے قریب آتے ہی آنکھیں بند کر لی سمر نے اُسکے چہرے پر جھکتے ہوئے اُسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر ہٹا لیے تھے اُس رات کی ہی طرح جنت نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا وہ اب بھی اُسکے اتنے ہی قریب تھا اور جنت کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہی عمل اُس نے دہرایا تھا
بہت رات ہو رہی ہے گڈ نائٹ ۔۔,۔۔۔۔۔
وہ تو نہیں جانے والا تھا اس لیے جنت خود ہی واش روم میں چلی گئی اور جب اُسے سمر کے باہر جانے کا یقین ہو گیا تب ہی باہر آئی اور دروازہ بند کر دیا لیکن اگلے ہی منٹ میں دروازے پر دستک ہوئی جنت نے تھوڑا اسک دروازہ کھول کر دیکھا اور اُسے اشارے سے پوچھا
کیا آج رات میں تمہارے روم میں سو سکتا ہوں۔۔۔۔
سمر مسکراتے ہوئے بولا
کس خوشی میں۔۔۔۔۔۔
مجھے اپنے روم میں اکیلے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔
وہ۔معصوم سی شکل بنا کر بولا اور جنت نے بمشکل اپنی ہنسی روکی
اور مجھے بروسلی کی آتما سے ڈر لگتا ہے جو سوتے ہی تمہارے اندر گھس جاتی ہے
جنت نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا
لیکن آج وہ آتما نہیں آئیگی۔۔۔آئے پرامس میں ساری رات نہیں سوؤنگا
وہ آخر میں شرارت سے مسکرایا اور جنت نے دروازہ بند کر دیا لیکن پھر دستک ہوئی
اب کیا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دروازہ کھول کر بولی
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے فوراً کہا
میں سوچ رہا ہوں تم کو اپنا روم پارٹنر بنا لوں۔۔۔۔
کس لیے۔۔۔۔۔
جنت نے آنکھیں بڑی کرکے پوچھا
تاکہ ہنی کو بتا سکوں کے ہم ایک روم میں رہتے ہیں۔۔۔۔
اُس نے سوچ کر جواب دیا اور ہنی کا ذکر آتے ہے جنت کے تاثرات بدل گئے
تم سانس لینے سے پہلے بھی ہنی کو بتاتے ہو کیا کے دیکھو اب میں آکسیجن لے رہا ہوں اب کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر رہا ہوں
وہ جل کر بولی اور سمر نے ہنستے ہوئے اُسے دیکھا جنت نے خفگی سے دیکھتے ہوئے دروازہ بند کر دیا
اور اُسکے دستک دینے کے باوجود دروازہ نہیں کھولا ۔۔۔۔۔۔
وہ کپڑے چینج کرکے بیڈ پر آئی تو دیکھا سمر کا موبائل بیڈ پر ہی پڑا تھا وہ ہمیشہ ہی موبائل کہیں نا کہیں بھول جاتا تھا جنت موبائل لے کر اُس کے روم میں آئی دروازہ تھوڑا سا کھول کر دیکھا تو روم خالی تھا اُس نے سکون کا سانس لیا کیوں کے اس وقت وہ اسکا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اور دھیرے سے چل کر اندر آئی فون بیڈ کے سائڈ ٹیبل پر رکھا اور جانے کے لیے پلٹی لیکن ایکدم سے اُس کے قدم رک گئے سمر کو دروازہ بند کرتے دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔اُس کے اندر آتے ہے وہ پیچھے سے نکل کر آیا تھا اُس نے دروازہ لاک کیا اور وہیں دیوار سے ٹیک لگائے اُسے مسکرا کر دیکھنے لگا اُسکے انداز پر جنت کا دل بہت زور سے دھڑکا اُس نے اپنی سانس کو اندر ہی روکے رکھا اپنے چہرے سے بال پیچھے کرتے ہوئے نظریں سمر سے ہٹائی اور دروازہ کھولنے کے لیے آگے بڑھ کر ہینڈل پر ہاتھ رکھا لیکن ہینڈل کو دبانے سے پہلے ہی سمر نے قریب آکر اُس کےاسی ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
جنت کی پشت سے لگتے ہوئے اُس نے اپنا دوسرا ہاتھ اُسکے پیٹ پر رکھا تھا جنت نہ اپنا ہاتھ ہینڈل سے ہٹا سکتی تھی نہ پیچھے جا سکتی تھی نہ باہر جا سکتی تھی سمر نے اُسکے بال کاندھے سے ہٹاتے ہوئے پیچھے کیے اور چہرہ اُس کے اور قریب لے آیا تھا اُسکی سانسوں کی تپش سے جنت کو اپنے کان میں سنسنی سی محسوس ہو رہی تھی سمر نے اُسکے گال پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے اور جنت نے اپنے آزاد ہاتھ سے اپنی ٹی شرٹ کے گلے کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا سمر نے ہونٹ اُسکے چہرے سے ہٹا کر اُسکے گلے پر رکھے تھے اور ہینڈل سے ہاتھ ہٹا کر اُسکے شولڈر سے ٹی شرٹ کو نیچے کیا تھا اور اگلے پل اپنے کندھے پر اُسکے ہونٹوں کو محسوس کرکے جنت نے جلدی سے پلٹ کر اُسے پیچھے کیا تھا اور ٹی شرٹ ٹھیک کرتے ہوئے وہاں سے نکل کر آگے بڑھی تھی باہر جانا تو مشکل تھی ورنہ وہ اس وقت غائب ہو جانا چاہتی تھی سمر نے آگے بڑھ کر اُس کا رخ اپنی جانب کیا تھا اور جنت کسی روبوٹ کی طرح پلٹی تھی اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر آج پہلی دفعہ جنت کو اپنے جسم میں کپکپی محسوس ہو رہی تھی سمر دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ تھامتے ہوئے اُسکے ہونٹوں پر جھکا تھا اور اُسکے نچلے لب کو اپنے ہونٹوں میں قید کرتے ہوئے کتنی ہی دیر اپنے جذبات لٹاتا رہا
کبھی کبھی پیار کو اظہار کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بس دل کی بات سیدھے دل تک پہنچ جاتی ہے جیسے بنا تمہارے بولے تمہاری آنکھیں ہر بات کہہ جاتی ہے۔۔۔۔لیکن پھر بھی میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں
سمر نے اُس کا چہرہ اب تک ایسے ہی تھاما ہوا تھا اور جنت اُسکی بات پر بہت غور سے اُسے دیکھ رہی تھی سمر جیسا انسان اتنی سنجیدہ باتیں کریں تو کون حیران نا ہو۔۔۔۔۔
یہ جو تھوڑا سا فاصلہ تمہارے اور میرے بیچ باقی ہے میں اسے بھی ختم کر دینا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔میں تمہارے اتنے قریب آنا چاہتا ہوں کے تم اور میں الگ نا رہ جائے۔۔۔۔۔۔کیا تم مجھے اجازت دو گی
جنت اُسے اسی طرح دیکھ رہی تھی اُس کے لہجے میں جو سچائی تھی اُس کی آنکھوں میں جو پیار تھا اور اُسکے الفاظوں میں جو تاثیر تھی اُس نے جنت کے دل کے دروازے پر دستک دی تھی وہ جنت کے اشارے کا انتظار کر رہا تھا اور جنت نے وہ اشارہ اُسکے سینے سے لگ کر دیا وہ خود اُس کی محبت کے لیے ہی جیتی آئی تھی اور اب جب وہ مہربان ہو رہا تھا تو جنت کیسے اُسے ٹھکرا سکتی تھی
سمر نے اپنے بازؤں کے گھیرے کو تنگ کرتے ہوئے اُسے پوری طرح خود سے لگا لیا تھا
سمر نے دیوار سے لگے سوئچ بورڈ پر ہاتھ رکھ کر کمرے کی لائٹ بند کر دی تھی اب کمرے میں صرف لیمپ کی تھوڑی سی روشنی تھی جنت اُس سے الگ ہوئی تھی اور سمر نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اُسے بیڈ تک لے آیا تھا اور دونوں کندھوں سے تھامتے ہوئے بیڈ پر بٹھایا تھا جنت اُس کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہی تھی اور سمر ایک پل کے لیے بھی نظر اُس کے چہرے سے نہیں ہٹا رہا تھا سمر نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اپنے ہاتھ میں موجود جنت کے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھے اور اوپر جاتے ہوئے شولڈر سے گردن پھر وہ اُسکے گلے پر جھکا تھا اور ساتھ ہی ایک ہاتھ سے اُسے پش کرتے ہوئے اُسے بیڈ پر لٹا دیا تھا اور اسی ہاتھ کو شرٹ ہٹا کر اُسکی کمر پر رکھا تھا اور اگلے ہی لمحے اپنے ہاتھ کی جگہ اُس نے ہونٹ رکھے تھے اور جنت نے تکیے کو سختی سے پکڑتے ہوئے آنکھیں بند کر لی تھی
جنت نے اُسکی بڑھتی وارفنگی سے پریشان ہو کر اُسے پیچھے کرنا چاہا لیکن یہ اُس کے بس کے باہر تھا آج اُس نے بتا دیا تھا کے اُس کے کئی روپ ہے کبھی بہت نرمی تو کبھی اتنی شدّت۔۔۔۔۔۔۔جنت نے اپنے دونوں پیر سمیٹ کر اوپر کیے ہوئے تھے اور ایک ہاتھ سے سمر کی آستین کو مضبوطی سے پکڑ ہوا تھا سمر نے پیچھے ہو کر اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے اُسے دیکھا تھا اور اُس کے پیروں تک ہاتھ لے جا کر اُنھیں سیدھا کیا تھا اپنی شرٹ نکال کر اُس نے سرہانے رکھی تھی اور جنت کے دونوں شولڈر سے ٹی شرٹ کو نیچے کرتے ہوئے اسکی گردن پر جھکا تھا
وہ جنت کے وجود پر پوری طرح قابض ہو چکا تھا اور جنت کی دھڑکنیں بہت تیز ہو گئی تھی اُس نے جنت کے سرہانے رکھے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ سے لیمپ کی روشنی کو بند کردیا تھا جس سے کمرے میں گہرا اندھیرا چھا گیا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: