Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 45

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 45

–**–**–

آج رومی کے گھر دعوت تھی اور اُن دونوں کو وہاں جلدی سے بلایا تھا جنت واش روم سے باہر آئی اور بالوں سے تولیہ نکالتے ہوئے سمر کو دیکھا وہ ہمیشہ کی طرح بے ترتیبی سے سویا تھا اوندھے منہ ایک پیر بیڈ سے نیچے لٹکائے وہ ہنس دی اوراسکا پیر اٹھا کے بیڈ پر رکھا اور اُسکے چہرے کے قریب آتے ہوئے اُسے بہت غور سے دیکھا جتنا معصوم وہ لگتا تھا اتنا تھا نہیں یہ بات وہ جان چکی تھی اُس نے سمر کے ماتھے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے وہاں کس کیا اور اٹھ کر جلدی سے باہر آگئی کیوں کے اُسے تیار ہونا تھا
سیم۔۔۔۔۔۔
وہ تیار ہوکر سیم کو پانچویں بار بلانے جا رہی تھی جب روم سے نکلتے ہی رومی کی آواز سنی
جنت کتنا ٹائم لگا رہے ہو تم لوگ بڑی ماں غصّہ ہو جائیگی جلدی کرو۔۔۔۔۔۔۔۔
رومی نے جنت کو دیکھتے ہی کہا
ہاں بس ایک منٹ۔۔۔۔۔۔ابھی سمر کو بولتی ہوں
وہ اُسے کہتی ہوئی سمر کے کمرے میں آتی وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے خدا اپنے گلے بالوں نے برش کر رہا تھا
سمر چلو….کتنا ٹائم لگاتے ہو تم۔۔۔۔رومی
چلو چلو چلو۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُسکی بات کاٹی اور جلدی سے برش رکھتے ہوئے کہا لیکن جنت باہر نکلے اُسکے پہلے اسکا ہاتھ پکڑ کر روک لیا
۔ایک منٹ
اسکا ہاتھ پکڑ رہے اُسے اندر کھینچا اور دیوار سے لگا دیا
کیا ہوا۔۔۔۔۔
جنت نے حیرت سے پوچھا
جانے سے پہلے ایک کس تو دے دو
وہ معصوم سی شکل بنائے بولا
پاگل ہو ۔۔۔۔چلو ہم لیٹ ہو رہے ہیں
جنت نے نکلنا چاہا
سنو۔۔۔۔پھر وہاں چانس نہیں ملےگا پلیز سمجھا کرو
سمر نے شولڈر پے ہاتھ رکھ کر اُسے روکا
سمر۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے روکنا چاہا لیکن وہ نظر انداز کرتا اُس کے چہرے پر جھکا
سیم۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے پہلے کے وہ اپنا کام پورا کرے رومی نے زور کی آواز لگائی اور جنت نے اُسکے دھیان بھٹکتے ہو باہر نکلی سمر بھی باہر آگیا
یار کتنا ٹائم لگا رہا ہے تیرے چکر میں بڑی ماں مجھے بھی ڈانٹے گی
رومی نے اُسے دیکھتے ہی کہا سمر اُسے غصے سے دیکھتے ہوئے سیڑھیاں اُترا
ایسے کیا دیکھ رہا ہے چل نا۔۔۔
نچلی سیڑھی پر آکر وہ رک کر اُسے دیکھنے لگا تو رومی نے بولا
ہاں چل چل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے کیا بتاتا کے اس وقت اُس پے کتنا غصّہ آرہا تھا لیکن جنت اُس کے غصے پر بنا ہنسے نہیں رہ سکی
💜💜💜💜💜💜💜
رومی کے گھر کو بڑے پیمانے پر سجایا جا رہا تھا بلکل انڈین سٹائل میں یہ تقریب بڑی ماں نے اپنے قریبی رشتےداروں اور جان پہچان والوں سے ھنا کا تعارف کروانے کے لیے کیا تھا کیوں کہ اُن کی شادی بہت سادہ طریقے سے ہوئی تھی تو وہ کسر اس طرح پوری کی جا رہی تھی تقریب تو رات کی تھی لیکن بڑی ماں نے اُن دونوں کو دوپہر سے ہی بلوا لیا تھا جب کے سمر کا آج ایک پل بھی جنت کے بغیر رہنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا اس وقت بھی وہ سب کوریڈور میں ساتھ تھے اور بڑی ماں ایک ایک کر کے سب کو کام سے لگا رہی تھی ھنا کو پارلر بھیج دیا تھا اور سیف کو کیٹرنگ والوں کے پیچھے لگ دیا تھا اور رومی بھی ادھر سے اُدھر گھوم کر سارے انتظام دیکھ رہا تھا
یہ کامچور مزدو ر اگر اتنے دھیرے دھیرے ہاتھ چلاتے رہے تو شام تک کیا کل تک بھی سجاوٹ نہیں ہو پائے گی
بڑی ماں نے نیچے نظر ڈالتے ہوئے کہا
اماں میں اُن کو دیکھتی ہوں
رومی کی امی نے جلدی سے کہا آج کے دیں وہ اُن کو غصے سے دور ہی رکھنا چاہتی تھی
تو رہنے دے تو میرے ساتھ اندر چل مہمانوں کو جو تحفے دینے ہے اُن کو ترتیب سے رکھ دیتے ہیں اور لڑکی تو جا کے ذرا نیچے اُن کو جلدی جلدی کام کروا سجاوٹ کے لیے
انہوں نے رومی کی امی کو روکتے ہوئے جنت کو حکم سنایا
جی بڑی ماں۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر ہلاتی نیچے چلی گئی
تو کہاں کھویا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
سمر جنت کو نیچے جاتے ہوئی دیکھ رہا تھا تو بڑی ماں نے اُس کے کندھے پر چپت لگائی
بڑی ماں میں سوچ رہا تھا میں بھی جا کر ڈیکاریٹرز کو کچھ انسٹرکشن دے دوں ورنہ وہ کہیں کچھ غلط نہ کر دے
وہ ایبٹ بناتے ہوئے بولا
ہاں جا دیکھ ذرا۔۔۔۔۔۔۔
بڑی ماں نے سر ہلاتے ہوئے کہا اور وہ دونوں اندر چلی گئی سمر وہی گرل تھامے کھڑا جنت کو دیکھنے لگا جو نیچے اُن کے کام کا جائزہ لے رہی تھی وہ بلکل وہی نیچے کھڑی تھی سمر نے اُسے اشارے سے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا لیکن اُس کا دھیان دوسری جانب تھا سمر نے وہیں سٹول پر رکھی تھالی سے ایک گیندا کہ پھول اٹھا کر اُس کے اوپر پھینکا جنت نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اوپر دیکھا تو وہ اُسے دیکھ کر مسکرایا اور اُسے ہاتھ سے اوپر آنے کا اشارہ کیا جنت نے جلدی سے اطراف میں نظر ڈالی کے کسی نے دیکھا تو نہیں لیکن گھر کا کی فرد وہاں نہیں تھا صرف چار لوگ الگ الگ جگہ کھڑے پھولوں کی لڑیوں کو پلر سے لپیٹے ہوئے اُسے سجا رہے تھے جنت نے اُسے آنکھیں دکھائی اور واپس وہاں رکھے پھولوں کو دھاگے میں پیرونے لگی سمر نے پھر سے پھول اُس کے اوپر پھینکا تھا اور جنت نے اشارے سے پوچھا کے کیا ہے تو سمر نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی جنت نے جلدی سے آس پاس دیکھا اور پھر اُسے غصے سے دیکھ کر جانے کا اشارہ کیا سمر نے پھر اُسے اشارہ کیا اوپر آنے کا اور جنت نے گردن نفی میں ہلا دی سمر نے تھال سے پھولوں کی ایک لڑی لپیٹ کر دونوں جانب کے سروں کو کھینچتے ہوئے اُسے مرنے کا اشارہ کیا جنت نے بمشکل اپنی ہنسی روکی سمر پلر سے ٹیک لگائے اُسے پھر سے آنے کا اشارہ کر رہا تھا جنت نے پھر سر نفی میں ہلا دیا سمر نے ایک پھول اٹھا کر اُسے ہونٹوں سے لگایا اور جنت کی جانب اچھالا جنت نے اُسے کیچ کر لیا سمر نے اشارہ کیا ہونٹوں سے لگانے کا جنت نے اُسے پیار سے دیکھا اور پھول کو ہونٹوں کے پاس لے جا کر پھر بنا ہونٹوں سے لگائے اُسکی جانب پھینک دیا سمر نے دل پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کرتے ہوئی پلر پر گر گیا جنت اب کے اپنی ہنسی روک نہیں پائی سمر نے تھالی سے مٹھی بھر کر پھولوں کی پتیاں اٹھائی اور اُسکی جانب اچھال دیے اور یہ چیز بار بار کرتا رہا جنت اُسے منع کرتی رہی لیکن وہ اُس پر پھولوں کی پتیوں کی بارش کرتا رہا اور جنت اُسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی لیکن اچانک اُسکی مسکراہٹ غائب ہو گئی اور آنکھیں بڑی ہو گئی اور اُس نے رخ دوسری جانب کر لیا سمر نے اُسے حیرت سے دیکھا کے اسے اچانک کیا ہوا تب ہی اُس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا اور اُس نے ہڑبڑا کے پلٹ کر دیکھا وہ رومی تھا جو ملامتی نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا سمر نے سکون کی سانس لی کیوں کے اُسے تی صرف بڑی ماں کا ڈر تھا
پھول تھوڑے سے مہمانوں کے لیے بچا دینا اوکے۔۔۔
رومی نے سنجیدگی سے کہا اور سمر نے اُسے ہنستے ہوئے دیکھا لیکن اس کے پہلے کے وہ اسکا گلا دباتا رومی بھاگ نکلا تھا ۔
💜💜💜💜💜💜
جنت اور ھنا تیار ہو کر نیچے آئی تھی اور اُسکی نظریں سمر کو ڈھونڈ رہی تھی لیکن جیسے ہی سمر اُسے نظر آیا اُسکے تاثرات ایک دم غصے میں بدل گئے چار لڑکیوں کے گروپ میں کھڑا وہ اُن سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا جنت ھنا کا ہاتھ چھوڑ کر اُس کی جانب بڑھی بغیر کسی سے کچھ پوچھے اُس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اُسے اپنے ساتھ کھینچ کے ایک طرف لے آئی
کیا کر رہی ہو تم سب دیکھ رہے ہے ۔۔۔۔۔۔۔کچھ تو خیال کرو۔۔۔۔۔۔۔اور تم تو کہہ رہی تھی تمہیں پبلک پلیس میں رومانس کرنا پسند نہیں ہے تو اب کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شرارت سے بولا جب کے جانتا تھا وہ کس بات پر جل رہی ہے
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔تم نا ان لڑکیوں سے چپکنا بند کردو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
وہ اُسے انگلی دکھاتے ہوئے بولی
میں کہاں کچھ کرتا ہوں یہ لڑکیاں ہی مجھ سے چپکتی رہتی ہے
سمر نے معصومیت سے جواب دیا
بہانے بنانا بند کرو۔۔۔اور آگے سے کسی لڑکی کے ساتھ دیکھا نا تو تمہارے ماتھے پر فلو پیشنٹ کا ٹیٹو بنوا دو گی اُس کے بعد لڑکیاں تو کیا چریلیں بھی تمہارے پاس نہیں آئےگی۔۔سمجھے
وہ ایک ایک قدم اُسکی جانب بڑھتے ہوئے بولی اور سمر پیچھے ہوتے ہوئی پلر تک پہنچ گیا اور آخر میں اُسکی انگلی پکڑتے ہوئے اپنے لبوں سے لگائی
کس تو دیا ہی نہیں تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے کان کے قریب سرگوشی کرتے ھوئے مسکرایا اور جنت نے بمشکل مسکراہٹ روکے اُسے دیکھا
💜💜💜💜💜💜💜
اُس کے کمرے سے سارا سامان سمر نے اپنے کمرے میں بلوا لیا تھا اب کوئی دوری باقی نہیں رکھنا نہیں چاہتا تھا وہ جنت چینج کرکے باہر آئی تو وہ بالکونی میں کھڑا تھا جنت وہیں چلی آئی اور سر اُسکی پشت پر رکھتے ہوئی دونوں ہاتھ اُس کے گرد باندھ دیے سمر نے اُسے دیکھ اور اُسکے ہاتھ کھولتے ہوئے اپنے ہاتھ میں لیے
کل عائشہ اور کبیر آرہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے کہا
مجھے پتہ ہے۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے مسکراتے ہوئے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھے
تمہیں کیسے پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے حیرت سے پوچھا
کبیر نے بتایا تھا۔۔۔۔۔
وہ بہت آرام سے بولی
تو یہ بات تم نے مجھے کیوں نہیں بتائی۔۔۔۔۔۔
مجھے یاد نہیں رہا۔۔۔۔۔۔اچھا ہے نا تم سرپرائز ہو گئے
وہ سمجھ بھی پائی کے سمر اس بات پر اتنا سنجیدہ کیوں ہے سمر نے ایک پل کے لیے اُسے خاموشی سے دیکھا
تمہیں یہ بات مجھے بتانی چاہیے تھی اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دبے غصے سے بولا اور اُس کے ہاتھ اپنے شولڈر سے ہٹا کر روم میں آگیا
سمر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت کو بہت حیرانی ہوئی اُسکے رویے پر وہ ایسا نہیں تھا اتنا سنجیدہ ہو کر کبھی بات نہیں کرتا تھا اور آج تک غصّہ ہو کر بھی غصّہ ظاہر نہیں کیا تھا
💜💜💜💜
سمر نے رات سے لے کر صبح تک اُسے اگنور کیا تھا اور سمجھ نہیں پا رہی تھی کے کیوں عائشہ اور کبیر کو لینے وہ خود ایئر پورٹ گئی تھی وہ تو اُن دونوں کے آنے سے خوش تھی اُس کا دل صاف تھا لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کے یہاں ہر کسی کے دل و دماغ میں کچھ چل رہا ہے جب تک وہ لوگ ایئر پورٹ سے واپس آئے سمر بھی گھر اچکا تھا اور بہت فورملی اُس نے اُن کا ویلکم کیا تھا
تمہارے نقش و قدم پر چلتے ہوئے ہم نے بھی لندن آنے کا پلان بنا لیا سوچا عائشہ کو اچھا لگے گا
کبیر نے بہت خوش دلی سے سمر سے ہاتھ ملایا
میں تو جنت کو اس لیے لے کے آیا تھا کیوں کہ یہ شہر اُس کے لیے نیا ہے لیکن عائشہ تو اس شہر کے ہر کونے سے واقف ہے اُس کے لیے کچھ نیا نہیں ہے آئے ڈونٹ تھنک کے وہ اکسائٹڈ ہے
وہ عائشہ کو دیکھ رہا تھا اور جانتا تھا اس وقت اُس کی حالت سمر سے مختلف نہیں وہ بھی اتنی ہی نا خوش تھی
لیکن میں تو واقف نہیں ہوں نا میں نے تو یہ شہر نہیں دیکھا میں تو بہت ایکسایٹڈ ہوں
وہ سمر کے چبھتے لہجے پر غور کیے بنا بولا
یہی تو بات ہے میں نے اپنے بارے میں نہیں سوچا اور تم نے پہلے اپنے بارے نے سوچا
ویسے کس ہوٹل میں سٹے کرنے والے ہو
سب سے زیادہ جنت کو سمر کی باتیں حیران کر رہی تھی اور اس بات سے تو کبیر کو بھی جھٹکا لگا
سمر۔۔۔۔۔وہ لوگ اپنا گھر ہوتے ہوئے ہوٹل میں کیوں رہینگے
جنت نے جھجھکتے ہوئے بیچ نے بولا
گھر تھوڑی آئے ہیں۔۔۔۔۔ہنی مون پر آئے ہیں ۔۔۔۔انہیں بھی تو پرائیویسی چاہیے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈونٹ وری بیسٹ ہوٹل میں بکنگ کر دونگا میں۔۔,۔۔۔۔اوکے۔۔۔۔۔۔
وہ جنت کو دیکھ کر بولا اور کبیر نے بمشکل سر ہلا دیا اُس کا ارادہ تو جنت کے پاس رہنے کہا تھا لیکن سمر نے اُس کے پلان پر پانی پھیر دیا تھا
💜💜💜💜💜💜
عائشہ اور کبیر کے جانے کے بعد وہ اپنے روم میں آیا ہی تھا کے اسکا فون بجا اور ہنی نے بہت گھبرائی ہوئی آواز میں اُسے آنے کا کہا اُس نے لاکھ پوچھا کے کیا ہوا لیکن کوئی جواب نہیں آیا رات کے تقریباً بارہ بج گئے تھے لیکن ہنی کسی مصیبت میں نا ہو اس لیے وہ اُس کے فلیٹ میں آگیا
تم نے مجھے اچانک فون کرکے کیوں بلوایا ہنی وہ بھی اتنی رات کو۔۔۔۔۔۔۔۔
آتے ہی اُس نے پوچھا کیوں کے ہنی اُسے بلکل ٹھیک لگی وہ ایک دم اُسکے سینے سے لگ گئی
مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے سیم۔۔۔۔۔۔۔پلیز میرے پاس رہو
اُس نے دونوں ہاتھوں سے سمر کی شرٹ کو۔ مضبوطی سے پکڑ لیا تھا سمر نے اُسے پیچھے کیا
ٹھیک سے بتاؤ کیا بات ہے کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا فائدہ اگر میں تمہیں بتا بھی دوں تم کبھی میری فیلنگس کی قدر نہیں کروگے۔۔۔۔سچ تو یہ ہے کہ میں ایک پل بھی نہیں رہ سکتی تمہارے بنا۔۔۔۔۔۔۔۔جب جب تمہیں جنت کے ساتھ دیکھتی ہوں میرا دل ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔مجھ سے برداشت نہیں ہوتا سیم۔۔۔۔۔۔آئے لوو یو۔۔۔۔۔ائے لوو یو سو مچ۔۔
اُس نے سمر کی شرٹ کو اب سامنے سے پکڑا ہوا تھا اور اس کی بات سن کر سمر کو بہت غصّہ آیا
یہ بولنے کے لیے تم نے مجھے اتنی رات کو بلایا
مجھے لگا تم کسی پرابلم میں ہو گی لیکن تم۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولا اور جانے کے لیے مڑا
سیم۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز کم سے کم مجھے کچھ دیر تم سے لگ کر رونے تو دو
ہنی نے اسکا بازو پکڑ کے اُسے روکا اور اُس کے سامنے آکر ایک بار پھر اس کے سینے سے لگ گئی اور اب کے سمر نے اُسے الگ نہیں کیا کیوں کے ہنی کا ناٹک اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا اور اُسے لگا وہ دکھی ہے اور اُس کی تسلی کے لیے وہ خاموش رہا لیکن ہنی نے جلد ہی اپنی شرمی بڑا دی اُس سے الگ ہو کر وہ اُسکے قریب ہوتے ہوئے اُسکے ہونٹوں تک چہرہ لیجانے لگی اور تھوڑے سے فاصلے پر ہی سمر نے اُسکے کندھے اور پش کرکے اُسے پیچھے کیا
یہ کیا کر رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت اور غصے سے بولا ہنی لڑکھڑا کر سنبھلی اور واپس اُس کے پاس آئی اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر رکھا
مجھے ہمیشہ کے لیے اپنا نہیں سکتے لیکن کچھ پل کے لیے میرے تو بن سکتے ہو نا۔۔۔۔۔۔پلیز آج مجھے اپنا بنا لو سیم۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا ہاتھ وہ چہرے سے گردن پھر اپنے کھلے گلے سے نیچے لیجاتے ہوئے بولی لیکن سمر نے اُس کے گلے سے ہی ہاتھ کھینچ کر پیچھے کیا
شاید تم پوری طرح سے پاگل ہو چکی ہو۔۔۔۔۔
سمر کو اب اُسکی دماغی حالت پر شبہ ہو رہا تھا وہ جانے کے لیے دروازے کی جانب بڑھا تھا
پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔۔۔۔۔میں رہ نہیں سکتی تمہارے بغیر ۔۔آئے لو یو۔۔۔,۔آئے لو یو۔۔۔۔۔۔
وہ پیچھے سے آکر اُس سے لگ گئی تھی اور اُس کے ہاتھ سمر کر سینے پر حرکت کر رہے تھے وہ اپنی جانب سے سمر کو بہکانے کی پوری کوشش کر رہی تھی سمر اُس کی جانب پلٹ کر اُسے سنجیدگی سے دیکھا
جتنا تم یہ لو یو لو یو بولتی ہو نا اتنے سالوں سے میں جنت سے پیار کرتا آرہا ہوں مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا اُسکے سامنے مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا اُسکے نام کے سوا۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا اور ہنی سانس روکے اُسے سن رہی تھی وہ بہت سنجیدہ لگ رہا تھا اُس نے سامنے رکھے ٹیبل کے کنارے پر زور سے اپنا ہاتھ مارا تھا
سیم۔۔۔۔۔۔
اُس کے ہاتھ سے خون نکلنے لگا تھا اور ہنی نے اور سے اُسے پکارا
وہ میرے لیے میرے اس خون کی طرح ہے جب تک مجھ میں ہے میں زندہ ہوں کیا اتنا پیار کرتی ہو تم مجھے جتنا میں اُس سے کرتا ہوں۔۔۔ورنہ۔۔۔چھوڑ دو میرا خیال۔۔۔۔
وہ ہنی کے سامنے ایک ایسی حقیقت رکھ کے گیا تھا جس کا سامنا وہ کبھی نہیں کر سکتی تھی لیکن اتنا تو وہ جان گئی تھی کے اب وہ سمر کو پوری طرح کھو چکی ہے اور ہار چکی ہے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: