Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 47

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 47

–**–**–

اُس نے انجانے میں جنت کے ساتھ جو کیا اُس کے بعد اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی کے اُس سے معافی مانگے اُس نے جنت پر ہاتھ تک اٹھا دیا تھا اور اُس کی انگلیوں کے نشان جنت کے چہرے پر صاف نظر آرہے تھے سوتے میں وہ اُسے دیکھ کر خود سے نفرت کررہا تھا لیکن اُسے ہاتھ لگا کر چھونے کی بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی اپنے کیے پر شرمندگی تو تھی ہی لیکن اس واقعے کیا بہت گہرا اثر اُس کی محبت پر پڑا تھا اُس کے دل میں جنت کی محبت اور گہری ہو گئی تھی اب تک کے سارے شکوے۔۔۔۔بد گمانیاں غلط فہمیاں سب ختم ہو چکی تھی اور دل و دماغ آئینے کی طرح صاف ہو گیا تھا
💜💜💜💜💜
یہی سوچ رہی ہو نہ کے کس قسم کا انسان ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ کھڑکی کے باہر دیکھتے ہوئے کبیر کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی کبیر کے اچانک واپس جانے کی وجہ سے وہ اب تک لا علم تھی کبیر کے مخاطب کرنے پر اُس نے کبیر کی جانب دیکھا
جو کسی کے جذبات کی قدر نہیں کرتا جسے کسی کے دکھ تکلیف کا احساس نہیں۔۔۔جو تمہیں ایک پل ک۔لیے بھی خوشی نہیں دے سکتا
کبیر کی باتوں پر عائشہ حیران ہوئی
میں کیا کروں۔۔۔۔۔میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا میں نے جان بوجھ کر جنت سے پیار نہیں کیا تھا لیکن خود کو روکا بھی نہیں تھا شاید یہی میری غلطی تھی مجھے تو سزا ملی ہی جنت کو کھو کر پر اس میں تمہیں بھی کم سزا نہیں دی میں نے
میں ہمیشہ بس جنت کو خوش دیکھنا چاہتا تھا صرف اُس کے بارے میں سوچتا تھا اسی لیے اُس کی شادی سمر سے ہونے دی لیکن اچانک میں خود غرض ہو گیا اپنے بارے میں سوچنے لگا یہ بھول گیا کے جو میں چاہتا ہوں وہ جنت کبھی نہیں چاہے گی۔۔۔یہ بھول گیا کے محبت میں خودغرضی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔
اُس نے عائشہ کی جانب دیکھا جو اب بھی اُسے حیرت سے دیکھ رہی تھی
میں تو اُسے بتانے گیا تھا کے میں اُسے چاہتا ہوں اپنے دل کی ہر بات بتا دینا چاہتا تھا اُسے یہ جانتے ہوئے بھی کے اُس کا انجام کچھ بھی ہو سکتا ہے اُس کی دوستی نفرت میں بھی بدل سکتی ہے مجھے اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا لیکن ۔۔۔
وہ مجھے فرشتہ سمجھتی ہے۔۔۔۔اُسے لگتا ہے اس کی ہر خوشی کی وجہ میں ہوں ۔۔۔۔میں اُس کی لائف میں کبھی کچھ برا نہیں کرسکتا ۔۔۔۔اتنا یقین ہے اُسے مجھ پر۔۔۔میں اُسے کیسے کہہ دیتا کے میں اُس کی خوشیاں چھیننے آیا ہوں فرشتہ نہیں بلکہ شیطان بن کر اُسے دکھ دینے آیا ہوں اُس کے یقین کو توڑنے کے لیے آیا ہوں۔۔۔۔
میں نہیں کہہ پایا۔۔۔۔۔کیوں کے۔۔۔۔اُس کی نفرت نہیں چاہتا میں۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے رکا اور اُس کا یہ بدلہ ہوا روپ دیکھ کر عائشہ جتنی بے یقین تھی اتنی ہی خوش بھی اور اُسکی خوشی آنسووں کو شکل نے نظر آرہی تھی
میں وعدہ تو نہیں کرتا لیکن کوشش کرونگا تمہارے لائق بننے کی ایک اچھا شوہر بن کر تمہیں خوش رکھنے کی جنت کو بھول کر تم سے پیار کرنے کی۔۔۔۔تھوڑا وقت لگےگا لیکن یہ ضرور ہوگا۔۔۔۔میں جانتا ہوں جب ہم کسی کو چاہتے ہے اور اس کی آنکھوں میں اپنی بجائے کسی اور کی محبت دیکھتے ہیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔
میں کوشش کرونگا کے اب تم وہ درد محسوس نہ کرو۔۔۔۔۔۔
کبیر نے عائشہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا عائشہ نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئی دعا کی تھی کے کبیر اپنی کوشش نے کامیاب ہو جائے
💜💜💜💜💜💜💜💜
سمر کو نیچے آتے دیکھ کر وہ اپنی چیئر سے اٹھ کر اوپر جانے لگی تھی پچھلے تین دنوں سے یہی چل رہا وہ سمر کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتی تھی اور اس کی ناراضگی دیکھ کر سمر چاہ کر بھی اُس سے نہ بات کر سکتا تھا نہ اُسے منا سکتا تھا عائشہ نے اُسے جب کبیر کے بارے میں بتایا کے کس طرح اُس کا دل بدل گیا تو سمر خوش ہونے کی بجائے اور زیادہ گلٹی فیل کرنے لگا تھا
جنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جنت کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اوپر جانے سے روکا
آئے ایم سوری۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بہت ہمت کرکے کہا تھا اور جنت اُسے حیرت سے دیکھ رہی تھی جیسے اُس کے الفاظوں کو سننے میں غلطی ہوئی ہو
ایسے مت دیکھو مجھے پلیز۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُس کے قریب آیا تھا
مجھ سے غلطی ہو گئی تھی میں تمہیں سمجھ نہیں پایا ۔۔۔۔۔پر اب۔۔۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔اتنا سب کر کے تم کہہ رہے ہو غلطی ہو گئی ۔۔۔۔اتنی آسانی سے سوری کہہ رہے ہو جیسے کوئی کانچ کا گلاس ٹوٹا ہو تم سے
جنت چاہ کے بھی اپنے آنکھ سے نکلنے والے آنسو کو روک نہیں پائی
نہیں جنت۔۔۔آسانی سے نہیں بلکہ بہت ہمت کرکے بول رہا ہوں۔۔۔۔۔تمہیں بتا نہیں سکتا کے میں کیسا فیل کر رہا ہوں۔۔۔ مجھے کتنی تکلیف ہو رہی ہے سوچ سوچ کر کے میں نے کتنی بڑی غلطی کی۔۔۔۔آئے ہیٹ مائے سیلف ۔۔۔۔۔۔میں نے کیوں تم پر یقین نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔میں نے کیوں تمہیں غلط سمجھا۔۔۔ ۔۔ کیوں تم سے ایسے بات کی۔۔۔۔۔۔آئے ایم سوری۔۔۔۔۔۔آئے ایم سوری۔۔۔سوری۔۔۔پلیز سوری۔۔۔۔۔۔۔پلیز
سمر نے دونوں ہاتھوں سے اُس کا چہرہ تھامتے ہوئے اُس کے سر پر سر رکھا تھا اور جنت حیران ہونے کے ساتھ غصّہ بھی ہو رہی تھی اُس نے سمر کے ہاتھ چہرے سے ہٹائے تو وہ پیچھے ہوا
مجھے جاننا ہے کے تم نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔۔میں نے کونسی غلطی کی تھی۔جو۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے کوئی غلطی نہیں کی ۔۔۔۔ساری غلطی میری تھی ۔۔۔۔۔میں بیوقوف ہوں جو تمہیں غلط سمجھ لیا۔۔۔۔۔۔پلیز جنت بھول جاؤ سب کچھ۔۔۔۔۔۔معاف کردو مجھے
وہ اُس کی بات کاٹ کر بولا وہ اُسے کیسے بتاتا جب کے اُسے خود سوچ کر ہی غصّہ آرہا تھا کے اُس نے کیا کیا سوچ لیا تھا
اگر میری جگہ ہوتے تو تم بھول جاتے ۔۔۔۔۔
جنت نے دھیرے سے پوچھا اور سمر جانتا تھا اس کا جواب نا ہے کوئی بھی برداشت نہیں کر پاتا اپنے اوپر اتنا بڑا الزام خاص کر ایک مرد تو بلکل نہیں
لیکن یہ بات وہ کہہ نہیں سکتا تھا اس لیے لب بھینچ لیے
نہیں نا۔۔۔۔۔۔اگر میں تمہاری جگہ ہوتی تو یہ کہنے سے پہلے کے بھول جاؤ اور مجھے معاف کردو ۔۔ایک بار یاد کرتی کے میں نے اپنے الفاظوں سے کسی کے دل کو کتنی ٹھیس پہنچائی ہے ۔۔۔۔۔اُس کے کردار پر تہمت لگائی ہے اُس کی محبت پر شک کیا ہے اُس کے بعد مجھے معافی مانگنے کا بھی حق نہیں ہے
اُس کی خاموشی پر جنت نے کہا
میں تو شروع سے ہی تمہارے مطابق چلتی رہی نا سمر تم نے میرے کہنے کے بعد بھی شادی سے انکار نہیں کیا اور میں نے تم سے شادی کر لی تم سے غصّہ ہونے کے باوجود بھی
تم نے کہا دو دن میں طلاق دے دونگا سب کو بتا دونگا میں نے مان لیا
تم نے اچانک کہا کے لندن چلو میں نے مان لیا
یہاں آکر تم میرے اتنے قریب آ گئے میں نے تمہیں نہیں روکا ہر غلط فہمی کو پیچھے چھوڑ دیا جو تم نے کہا اُس پر یقین کیا ہر طرح سے خود کو تمہیں سونپ دیا لیکن۔۔۔۔
اتنا بڑا الزام وہ بھی بنا میری غلطی بتائے۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تو بہت بڑی وجہ ہوگی نا اس کی۔۔۔۔بتاؤ مجھے وہ وجہ جاننی ہے کے کونسا گناہ کیا میں نے۔۔۔۔۔میں سوچ سوچ کر پریشان ہو چکی ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا کے میں کہاں غلط تھی۔۔۔۔۔۔۔۔بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔۔۔
سمر نا اُس کی جانب دیکھ پایا نا اُس کے سوال کاجواب دے پایا
کہیں ایسا تو نہیں کے یہ بس ایک بہانہ تھا مجھ سے پیچھا چھڑانے کا تاکہ تم اس ہنی کے پاس جا سکو ۔۔۔۔اگر ایسا ہے تو اب یہ معافی مانگنے کا ناٹک کیوں کے رہے ہو سمر۔۔۔۔کونسا کھیل کھیل رہے ہو تم میرے ساتھ
پلیز اتنی مشکل میں مت ڈالو مجھے جو چاہتے ہو بتا دو صاف صاف۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے گال پر پھسلتے آنسو ں کو بے دردی سے رگڑتے ہوئے بولی
تمہیں چاہتا ہوں بس۔۔۔۔۔۔
سمر نے فوراً جواب دیا اور اُسے خود سے لگا لیا
I love you
I love you
I love you
جتنی سختی سے اُس نے جنت کو خود سے لگایا ہوا تھا جنت نے بمشکل خود کو آزاد کیا
دور رہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔
اُس سے الگ ہو کر وہ غصے سے بولی اور اوپر چلی گئی ۔
💜💜💜💜💜💜💜
اس نے دھیرے سے دروازے کو ناک کیا تھا اور اگلے کچھ سیکنڈ بعد دروازہ کھول کر اندر آیا اُس کی نظریں جنت کوتلاش رہی تھی لیکن وہ روم میں نہیں تھی اُس دِن کے بعد سے ہی وہ واپس اُس الگ کمرے میں رہ رہی تھی سمر نے اُس کی ناراضگی کو کم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن جنت اب اُسے کوشش کرنے کا بھی موقع نہیں دے رہی تھی وہ تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے واپس آیا تھا باہر زوروں کی بارش ہورہی تھی طوفانی ہوا چل رہی تھی لیکن سمر کا دل اس کی محبت کی ایک بوند کے لیے ترس رہا تھا وہ روم سے نکل کر نیچے آیا لیکن وہ نیچے بھی اُسے کہیں نظر نہیں آئی اُس نے ملازمہ سے پوچھا تو اُس نے انکار کر دیا کے نہیں پتہ سمر کو اب ٹینشن ہونے لگی تھی کے جنت کہیں چلی نا گئی ہو ایک بار پہلے بھی وہ جانے کی کوشش کر چکی تھی حالانکہ اُس کا غصّہ غلط نہیں تھا لیکن سمر کو اُس کے جانے کے خیال سے ہی ڈر لگا
وہ گھر کے باہر نکلا پورچ کے نیچے آکر اُس نے وہیں سے گارڈن میں اُسے ڈھونڈنا چاہا لیکن وہ وہاں بھی نہیں تھی سمر نے واپس اندر آتے ہوئے اُس کے نمبر پر فون کیا لیکن رنگ بجتی رہی کوئی جواب نہیں ملا سمر نے ھنا کا نمبر ڈائل کیا لیکن پھر کچھ سوچ کر رک گیا اور اوپر ٹریس پر آگیا اور اُس کی توقع کے مطابق وہ اُسے وہاں نظر آگئی اپنے سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑے بارش کے پانی میں بھیگتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ارد گرد سے بے نیاز آنکھیں بند کئے بارش کے پانی کی ہر بوند کو وہ اپنے اندر تک محسوس کر رہی تھی نہ اُسے بارش کی تیزی متاثر کررہی تھی نا زوروں سے چلتی ہوا اُس کے کپڑے بدن سے چپکے ہوئے تھے اور دوپٹہ ہوا میں لہرا رہا تھا ٹخنوں سے اوپر تک کالی کیپری میں اُس کے سفید پیر صاف جھلک رہے تھے اتنے فاصلے اور اتنی بارش کے باوجود وہ اُس کے چہرے سے صاف اندازہ لگا سکتا تھا کے وہ اس وقت رو رہی ہے بارش کے پانی میں اپنے آنسووں کو چھپائے اپنا درد بہانے کی کوشش کر رہی ہے سمر کو محسوس ہی نہیں ہوا کے کب اُس کے قدم خود بخود جنت کی جانب بڑھ گئے وہ ٹھیک اُس کے مقابل میں آکر رکا تھا اور اُسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا اتنی سے دیر میں ہی وہ پوری طرح بھیگ چکا تھا بارش کی بوندیں اُسکی آنکھوں کو تکلیف دے رہی تھی لیکن وہ بھی اپنی ضد پر تھا کے جنت کے اور اُس کے درمیان کوئی نہ آئے جنت کا دوپٹہ ہوا کے اگلے جھونکے سے اڑ کر اُس کے چہرے پر آپڑا تھا جسے اُس نے دھیرے سے ہٹایا تھا جنت نے اُس کی موجودگی کا احساس کیا تو آنکھیں کھولی اور سمر کی آنکھوں میں دیکھا اُس کی آنکھوں میں وہی جنون وہی سنجیدگی جو ہمیشہ اُسے اندر تک جھنجھوڑ دیتی تھی اب بھی اُسے پلکیں جھکانے پر۔مجبور کر گئی سمر نے اُس کا دوپٹہ اس طرح کھینچا کے وہ اُس سے الگ ہو گیا اور جب سمر نے اُسے ڈھیلا چھوڑ دیا تو خود بخود اُس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچے گر گیا سمر نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے فاصلے کو کافی حد تک کم کر دیا تھا جنت اُس کی قربت پر اُسے دیکھنے کو مجبور ہوئی تھی لیکن پھر وہی اُس کی آنکھیں
اُس کی آنکھیں ہمیشہ ہی جنت کو کمزور بنا دیتی تھی وہ ہار جاتی تھی ہمیشہ لیکن اب نہیں اُس نے پھر نظریں نیچے کی
اب وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی سمر نے اُس کے کردار پر انگلی اٹھائی تھی اُس کے دل کو ٹھیس پہنچائی تھی وہ اُسے ایک اور موقع نہیں دینا چاہتی تھی اس ڈر سے کے کہیں وہ اُسے دوبارہ آسمان پر بٹھا کر پھر زمین پر نہ لا پٹکھے اور اس بار شاید وہ برداشت بھی نہ کر پاتی۔۔۔
سمر نے محسوس کیا اُس کے دل کی ہر بات کو جو وہ کہہ نہیں رہی تھی لیکن اُس کی آنکھیں بتا رہی تھی سمر کی نظریں اُس کی جھکی پلکوں سے ہٹ کر اُس کے سرخ لبوں پر آ ٹھری تھی جو کچھ سردی اور کچھ اُس کے قریب ہونے سے کانپ رہے تھے سمر نے ایک ہاتھ اُس کے گلے پر رکھتے ہوئے جھک کر اُس تھوڑے سے فاصلے کو بھی ختم کیا تھا اور اُس کے لبوں سے خود کو سیراب کیا تھا ہر شکوے کا جواب اُس احساس میں شامل تھا اُس کے انداز میں بھی اتنی ہی نرمی تھی جتنی کچھ دیر پہلے جنت نے اُسکی آنکھوں میں دیکھی تھی اُس کی گرم سانسوں سے جنت کے ٹھنڈے چہرے پر تپش بڑھنے لگی تھی وہ اسی طرح مورت بنی کھڑی رہی جیسے کوئی احساس باقی نا رہا ہو نہ کوئی احتجاج نا ناراضگی نا غصّہ۔۔۔ ۔۔۔لیکن اچانک سمر کی باتیں۔۔۔اُس کی نفرت۔۔۔اُس کی کی گئی بے عزتي کا منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا اور اُس نے ایک دم سے سمر کا ہاتھ جھٹک کر اُسے دور کرتے ہوئے خود کو آزاد کیا سمر بنا حیران ہوئے اُسے دیکھتا رہا جنت اُسے خفگی سے دیکھ کر جانے کے لیے پلٹی لیکن سمر نے اُسکی کلائی پکڑ لی تھی وہ آگے نہیں بڑھ پائی لیکن سمر کی جانب پلٹ کر دیکھا بھی نہیں سمر نے آگے ہو کر اُس کی پشت سے لگتے ہوئے دونوں ہاتھ اُس کے گرد باندھتے ہوئے اُس کے سر پر سر رکھا تھا جنت نے اُس کے ہاتھوں کو زور سے دھکا دیتے ہوئے خود سے ہٹایا تھا اور بے اواز روتے ہوئے اُس کی جانب دیکھا تھا سمر نے دونوں ہاتھ سے کان پکڑتے ہوئے بنا کہے اُس سے معافی مانگی ایک ہاتھ اُسکی آنکھوں تک لے جا کر گرتے ہوئے آنسو کو اپنی انگلی سے روک کر سر نفی میں ہلاتے ہوئے اُسے رونے سے منع کیا تھا لیکن اُس کے رونے میں اور شدّت آگئی تھی وہ خفگی سے اُسے دیکھتے ہوئے رو رہی تھی اور دونوں ہاتھوں سے اُس کے سینے پر مکّے برساتے ہوئے اپنا بدلہ لے رہی تھی سمر بے تاثر نظروں سے اُسے دیکھتا رہا اور اُس کے نازک وار سہتا رہا جب تک وہ خود تھک کر ہار نہ مان گئی وہ وہیں زمین پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی سمر نے اُسے زمین سے اٹھا کر سیدھا کرتے ہوئے اپنی باہوں میں اٹھا لیا تھا اور نیچے کی جانب چل دیا تھا دونوں اس قدر بھیگے ہوئے تھے کے اندر قدم رکھتے ہی فرش بھیگنے لگا تھا سمر اُس کے چہرے پر نظریں جمائے چلتا ہوا اُسے لے کر اپنے روم میں آیا تھا اور جنت کو بیڈ پر اُتار دیا تھا جنت اُس کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہی تھی سمر کے بالوں سے گرتے پانی کی بوندیں اُس کی پیشانی پر گر رہی تھی جب وہ اُس کے دونوں جانب ہاتھ رکھتے ہوئے اُس پر جھک رہا تھا اُس کے ہونٹ جنت کے گالوں سے ہوتے ہوئے اُس کے گلے تک پہنچے تھے اور جنت نے کروٹ دوسری جانب بدلتے ہوئے رخ پھیر لیا تھا سمر نے اس کی پشت سے لگ کر لیٹتے ہوئے اس کے بالوں کو ہٹا کر ہونٹ اس کی گردن پر رکھے تھے اور اس کے اوپر ہاتھ رکھا تھا
جنت نے اس کے ہاتھوں سے اپنے شرٹ کے بٹن کھلتے ہوئے محسوس کرکے شرٹ کے اوپری بٹن کو سختی سے مٹھی میں جکڑ لیا تھا لیکن سمر نے اس کے احتجاج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اُسکا ہاتھ پکڑ کر سائڈ میں رکھا تھا اور اس کا رخ اپنی جانب کیا تھا جنت نے اس سے نظریں چراتے ہوئے آنکھیں موند لی تھی اور سمر نے اس کی بند آنکھیں پر ہونٹ رکھتے ہوئے اُسے خود اور قریب کر لیا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: