Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 5

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 5

–**–**–

ایک گھنٹے بعد وہ تینوں جانے کے لئے تیار تھے ساحر نے دونوں کو بیک سیٹ پر بٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی اس کی عادت تھی جب بھی کہیں جانا ہو وہ گاڑی خود ڈرائیو کرتا
شادی کے بعد پہلی بار اپنے گھر جانے پر وہ بے حد خوش تھی دادی کو لطیفے سنا کر ہنساتی تو کبھی بچپن کی شرارتوں کے قصے لے کر بیٹھ جاتی ساحر خاموشی سے ان دونوں کی باتوں کو اگنور کرتا ڈرائیونگ کرتا رہا اج اس نے وھائٹ جینس پر ڈارک بلیو شرٹ پہنا ہو تھا بال اپنے خاص انداز میں سیٹ کیے اور آنکھوں پر کالے گلاسس لگائے سب سے خاص اس کا پرفیوم تھا جو پوری گاڈی کو مہکا رہا تھا ہونٹوں پر سیٹی بجاتے ہوے وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کن انکھیوں سے بیک ویو مرر میں دیکہتا جس میں عیشا کی جھلک دکھائ دے رہی تھی جو کبھی ہنستی ہوی تو کبھی بنا رکے بولتی اس کا دھیان بھٹکارہی تھی
گاڑی گھر کے آگے پارک کرکے تینوں اندر آۓ سب ہی ڈراینگ روم میں بیٹھے ان کے منتظر تھے الیشا اور امران بھی وہیں موجود تھے
سب نے مل کر تینوں کا پرجوش استقبال کیا سب ہی ایک ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے سے حال احوال دریافت کرنے لگے عیشا الیشا اور فائزہ کچن میں اگئ امران ریحان اور ساحر ایک جانب صوفے پر بیٹھ گے دوسری طرف امی ابو دادی کے ساتھ بیٹھے تھے ساحر زیادہ سے زیادہ خاموش ہی رہا اس کا سارا دھیان اپنی دادی پر تھا جو عیشا کی تعریف پر تعریف کیے جا رہی تھی ان کے لہجے سے ان کی خوشی کا اسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا جہاں وہ انہیں یوں دیکھ کر خوش تھا وہیں فکر مند بھی
کتنا دکھ ہوگا دادی کو جب انہیں پتا چلے گا کہ وہ ہمارے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی— ان سب لوگوں کے سامنے کتنی شرمندگی اٹھانی پڑے گی انہیں– اس سے کہہ تو دیا ہے مگر میں دادی کو کیسے بتاونگا کہ ان کی ساری خوشی بس وقتی تھی مستقل نہیں——- بس ایک نام کا رشتہ ہے—– جو قائم بھی ہے تو ختم ہونے کی شرط پر———— لیکن کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ ایسا کبھی ہو ہی نا شاید وہ………….
ساحر
مسلسل دادی کو دیکھتے ہوے یہی سب سوچ رہا تھا جب ریحان کی آواز اسے ہوش کی دنیا میں کھینچ لائ
کیا ہوا تمہیں کچھ چاہئے کیا
نہیں ریحان بھائی شکریہ
اسے اپنی بے خیالی پر بہت شرمندگی ہوئ
سوری ساحر شاید تم یہاں کچھ انکمفرٹیبل ہو
یہ اپ کیا کہ رہے ہو ——پلیز ایسا کچھ نہیں ہے—— میرے لئے یہ بھی میرا گھر ہی ہے
ریحان تم یہ فارمیلیٹی والی باتیں کرتے ہو نا تو قسم سے بلکل داداجی لگتے ہو—— بے فکر رہو یار اللہ نے تمہیں بہت ہی اچھے اور نیک دل داماد دیے ہیں——- کیوں ساحر
امران کی بات ساحر دھیرے سے ہنس دیا جبکہ ریحان نے اسے غصے سے گھورا
اسی طرح ہنسی مزاق کے درمیان سب نے کھانا کھایا فائزہ اور ریحان نے اپنی طرف سے سب کو تحفے دیے
جاتے وقت بھی ساحر نے خوشدلی سےسب کے گلے مل کر شکریہ ادا کیا وہ واقعی ان سب کے ساتھ اپنا پن محسوس کر رہا تھا
****************************
آج وہ لیٹ گھر پہنچا تھا دادی کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ بیڈ پر ٹیک لگاے بیٹھیں تھیں عیشا ان کے پیروں پر سر رکھے سکون سے سو رہی تھی اور دادی اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوے دھیمی اواز میں کچھ کہ رہی تھیں اس نے موبائل نکال کر چار پانچ تصویریں لے لی اور ہاتھ سینے پر باندھے چوکھٹ سے ٹیک لگاے کھڑا ہوکر اس خوبصورت منظر کو دیکھتا رہا
دادی کی ساری زمہ داری عیشا نے اپنے اوپر لے لی تھی صبح انہیں پارک لے جانا اپنے ہاتھ سے انہیں وقت پر دوائ کھلانا اس کا معمول تھا ان کا پورا خیال رکھتی اپنی باتوں سے ہنساتی رہتی ان کے کھانے میں پرہیز کا پورا پورا دھیان رکھتی سارے کچن کا مینو سلیکٹ کرنا اس کا زمہ تھا لیکن اج تک اس نے خود کچن کا رخ نہیں کیا تھا دوپہر کا کھانا کالج سے آکر اکیلی کہاتی لیکن ناشتہ اور ڈنر دادی کے ساتھ ہی ہوتا تھا ساحر بھی صرف لنچ ہی باہر کرتا تھا دادی کے سونے تک ان کے پاس بیٹھی قصے کہانیاں سناتی اور خود بھی سنتی ان کے سونے کے بعد ہی خود سونا اس کی عادت تھی سونے سے پہلے بھی ملازموں کو ہدایت دیکر ہی روم میں آتی اس کے کسی عمل میں زرا بھی بناوٹ نہیں تھی وہ جو بھی کرتی پورے خلوص کے ساتھ کرتی بنا کسی دکھاوے بنا کسی لالچ کے شاید اسی لئے وہ آسانی سے کسی کا بھی دل جیت لیتی تھی
وہ مسکراتے ہوے آگے بڑھا
دادو وہ سوگئ ہے
اس نے دھیرے سے کہا دادی نے جھک کر عیشا کی جانب دیکھا اور دھیرے سے مسکرادی
میں نے کہا بھی کہ ساحر کے انے سے پہلے مجھے نیند نہیں آۓ گی اس لیے تم سوجاؤ—- لیکن مانی ہی نہیں ——حالانکہ اس کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی اور اب دیکھو
دادو میں نے کہا تھا نا میں لیٹ آؤنگا—– اپ کیوں اتنی دیر تک جاگتی ہیں میری وجہ سے
وہ کرسی کہینچ کر بیڑ کے قریب بیٹھ گیا
مجھے تو اب عادت پڑگی ہے-_—— جب تک تمہیں دیکہتی نہیں نیند بھی نہیں آتی
ساحر نے ان کا ہاتھ اٹھاکر بوسا دیا
لیکن اس لڑکی نے تو خود اپنی عادت بنالی ہے—– جب تک میں نا سوجاؤ یہ بھی نہیں سوتی—— اب تو مجھے بھی اس کے بغیر کچھ اچھا نہیں لگتا
وہ اب بھی عیشا کی پیشانی پر آۓ بال ہاتھ سے پیچھے کر رہیں تہیں اور ساحر انہیں ہی دیکھ رہا تھا
ساحر تم خوش تو ہو نا بیٹا
انہوں نے اس کے گال پر پیار سے میں ہاتھ رکھ کر پوچھا ساحر نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور ان کے چہرے کو بغور دیکھا
ہاں دادو—— میں بہت خوش ہوں اس لڑکی کی دل سے عزت کرتا ہوں جو میری دادو کو اتنا خوش رکھتی ہے
میں چاہتی ہوں تم بھی اسی کی طرح خوش رہو ہر غم وپریشانی سے سے بے فکر بے نیاز یہ جو اُداسی کی چادر اوڈھ رکھی ہے اسے اتار کر پہینک دو اور اس کی طرح جینا سیکھو
دادو اس کی اور میری عمر میں بہت فرق ہے
وہ مسکراتے ہوے بولا
عمر میں اتنا زیادہ فرق نہیں ہے بس تم اپنی عمر سے کئ زیادہ بڑے ہوگے
یہ خوش ہے کیونکہ اس کے پاس سب کچھ ہے—– کئ رشتے ہیں—–پر میرے پاس تو سواے آپ کے اور کچھ بھی نہیں ماں باپ کی یادیں بھی نہیں کیا یہ کمی کم ہے دادو
—— ہمارے پاس جو نہیں ہے اس کے لئے پچہتانے سے بہتر ہے جو ہے اس میں خوش رہوں جو چہوٹ گیا اسے بہول کر نیا کچھ بناؤ
وہ خاموشی سے عیشا کی جانب دیکھتا رہا
رات بہت ہورہی ہے جاکر سوجاؤ اور عیشا کو بھی لے جاؤ
دادو اگر میں نے اسے اٹھایا نا تو یہ مجھے دنیا سے ہی اٹھادے گی
وہ انہیں ہنسانے کی خاطر بولا دادی نے خفگی سے دیکھ کر اس کے کاندھے پر مارا
کیوں ہمیشہ ایسا کہتے رہتے ہو—- عیشا تو تمہاری کتنی تعریف کرتی ہے
دادو یہ اور میری تعریف کرے گی——- آپ کیوں مجھے حیرت سے مارنا چاہ رہی ہیں
میں سچ کہ رہی ہوں بیٹا—– اس نے مجھے خود کہا کہ تم بہت اچھے انسان ہو اس کا بہت خیال رکھتے ہو اور یہ بہت خوش ہے
وہ حیرانی سے اُنھیں دیکھنے لگا
چلیے اس بارے میں بھی سوچتے ہیں—— فلحال ایسا کریں اسے آج یہیں سونے دیجیے
ٹھیک ہے——- اسے ٹھیک سے یہاں سلادو
انہوں نے اپنی بائیں جانب اشارہ کرکے کہا ساحر نے اسے غور سے دیکھا جھجھکتے ہوئے اس کی گردن کے نیچے ایک ہاتھ ڈالا دوسرے ہاتھ سے اس کا بازو تھام کر اسے اپنے قریب کرتے ہوےسر تکیہ پر رکھا پیر سیدھے کرکے رضائ اوڈھادی اور لایٹ آف کرکے باہر آگیا
اج بیڈ خالی تھا اسلیے وہ وہی آکر لیٹ گیا روزانہ صوفے پر سونے سے گردن اکڑ جاتی تھی اس نے شکر ادا کیا کہ ایک دن تو ارام سے سو پاےگا لیکن اسے نیند نہیں آرہی تھی ایک عجیب سی بے چینی نے گھیرا ہوا تھا کسی کی غیر موجودگی اسے بڑی شدت سے محسوس ہورہی تھی حالانکہ ان کے درمیان کبھی کوئ بات نہیں ہوتی دونوں ایک دوسرے پوری طرح اگنور کرتے تھےاج جب اس نے سکون سے رات گزرنے کی امید کی تھی رات کے کئ گھنٹے گزرنے کے بعد بھی سو نہیں پایا سر کے نیچے بازو رکھے مسلسل چھت کو دیکھتے ہوے وہ صرف اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا پتا نہیں کیوں اج روم میں ایک خوشبوکی کمی تھی جو اسے ہر سانس کے ساتھ محسوس ہورہی تھی
فجر پڑھ کر اسے سکون کی نیند آئ اور اج بھی اس کی نیند اسی ہلکی بارش کو چہرے پر محسوس کرتے ہوے بیدار ہوئ ارد گرد سے بے نیاز گیلے بالوں کو ٹاول سے سکھاتے ہوے ایک خوبصورت منظر تھا جو کسی کو بھی متوجہ کر سکتا تھا
گڈ مازنگ
ساحر نے ایک پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی جانب دیکھا عیشا نے چونک کر اسے دیکھا اور اس کے مسکرانے پر ناگواری سے رخ پہیر لیا آئینہ میں سے بھی وہ اسے ہی دیکھ کر خوشدلی سے مسکرارہا تھا
کیا ہوا اج اتنے دانت کیوں نکل رہے ہے تمہارے
چبھتا ہوا انداز تھا لیکن اسے برا نہیں لگا
بہت دنوں بعد بڑی اچھی نیند آئ——- ویسے کل رات دادی مجھے بتارہی تھی کہ تم میری بہت تعریف کرتی ہو
وہ بیڈ سے اتر کر اس کے پاس آگیا عیشا نے اسے غور سے دیکھا
یہی کے میں تمہارا بہت خیال رکہتا ہوں—– بہت اچھا ہوں ہینڈسم ہوں—– گڈلکنگ ہوں
نہیں ——میں نے اتنا سب کچھ نہیں کہا تھا
وہ فوراً بولی
تو کیا کہا تھا
وہ اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا
صرف یہ کہا تھا کہ تم اچھے ہو اور میرا خیال رکھتے ہو
رئیلی
اس نے سٹائل سے سر میں ہاتھ پھیرا
اگر تم یوں فضول کے خوش ہونے کی بجاے زرا سا بھی دماغ لگاتے نا تو جان جاتے میں نے یہ سب کیوں کہا
اچھا کیوں کہا
وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے بولا
کیونکہ دادی کو لگ رہا تھا کہ ہمارے بیچ کوئ پرابلم ہے اور وہ چاہتی تھی کہ ہم بھی اور کپلس کی طرح شادی کے بعد کہیں باہر جاے —–اس لئے مجھے انہیں سمجہانے کے لئے تمہاری جھوٹی تعریف کرنی پڑی تاکہ انہیں یقین ہوجاے کہ کوئ پرابلم نہیں ہے
اوہ—— مجھے تو لگا تم سدھر گئ ہو
زیادہ خوش فہمیاں مت پالو ——-میں صرف دادی کی وجہ سے مجبور ہوں——* تم جیسے انسان کی وجہ سے میں انہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتی
بات کوئ بھی ہو تم ہمیشہ جھگڑنے کیوں لگتی ہو
وہ اب سنجیدہ ہو گیا
یہ بھی تمہاری غلط فہمی ہے کیونکہ میں تو تم سے بات بھی کرنا نہیں چاہتی——- جھگڑنا تو بہت دور ہے
کہ کر وہ دروازہ کہول کر باہر نکل گئ ساحر دروازے کو حیرت سے دیکھتا رہا
****************************
دادی کے آرڈر پر وہ اسے شاپنگ کے لئے لے جارہا تھا حالانکہ عیشا نے بہت منع کیا لیکن دادی کے آگے اسے ہار ماننی پڑی وہ روزانہ بھی ساحر کے ساتھ کالج آتی جاتی تھی لیکن اج تک اس سے کبھی کوئ بات نہیں کی تھی اور اب بھی رخ کہڑکی کی جانب کئے مسلسل باہر ہی دیکھ رہی تھی تب ہی اسے پانی پوری کا اسٹال نظر آیا جہاں وہ زوبی کے ساتھ اکثر آتی رہتی تھی
گاڑی روکو
کیوں—– کیا ہوا
ساحر نے سپیڈ سلو کرکے اس کی جانب دیکھا
وہ—— مجھے پانی پوری کھانی ہے
ساحر نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا
یہاں کیوں —–کسی رسٹورانٹ میں چلتے ہیں وہاں کھالو
نہیں– مجھے یہی سے کہانا ہے
اوکے—- ایس یو وش
ساحر نے گاڑی سٹال کے قریب روک دی دونوں باہر آگے
کھالو—– یہ ولڈ کی بیسٹ پانی پوری ہے
عیشا نے پانی پوری کہاکر داد دیتے ہوے کہا
پر میں نے پہلے یہ سب کہایا نہیں ہے
تو اج ٹراے کرلو
اوکے—– ناٹ ا بیڈ آئڈیا
اس نے عیشا کی پلیٹ سے ایک پوری اٹھالی منہ میں رکھتے ہی اسے ٹھسکا لگا اور وہ لگاتار کھانستا چلا گیا
اُف—بہت——–تیکھی ہے
کہانسنے کے دوران اس نے مشکل سے کہا اس کی حالت دیکھ کر عیشا اپنی ہنسی روک نہیں پائ اور ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئ ساحر اسے دیکھتا رہ گیا پہلی بار اس نے عیشا کو یوں ہنستے ہوے دیکھا تھا چوڑیوں کی چھنکار جیسی ہنسی جیسے دور کہیں آبشار سے گرتا پانی کھانسی اب بھی ہو رہی تھی مگر اسے کوئ احساس نہیں تھا وہ تو بے ساختہ غیر محسوس طریقے سے بس اسے ہی دیکھ رہا تھا لائٹ بلو لانگ سکرٹ پر وہائٹ کرتی اور سفید گوٹے والا دوپٹہ بالوں کو کلچر میں باندھے بناء کسی میک اپ کے صرف کاجل میں بھی وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی اپنا ایک ہاتھ پیٹ پر رکھے دوسرے ہاتھ کو جھٹکتے ہوے ہنسی کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی اسٹال والے نے آواز دے کر اسے اس جادوئ لمحے سے باہر نکالا ساحر نے اس کی جانب رخ کیا اس نے ساحر کو پانی پیش کیا اس نے اس پانی کو بڑی مشکوک نظروں سے دیکھا اور بنا کچھ کہے گاڑی کی ونڈو سے ہاتھ ڈال کر بوتل نکالی اور پینے لگا یہ دیکہ کر عیشا کی رکتی ہوئ ہنسی دوبارہ شروع ہوگی ساحر پیسے دے کر گاڑی میں آکر بیٹھ گیا اور اسے بھی آنے کا اشارہ کیا وہ اپنی ہنسی بمشکل دباتی ہوئ اگئ وہ اب بھی بار بار اس کی جانب دیکھ کر اندر ہی اندر ہنس رہی تھی اتنا مضبوط فائٹر جیسی باڈی والا آدمی اور ایک پانی پوری سے اسطرح بے حال ہوگیا تھا
مجھے یہ سب کہانے کی عادت نہیں ہے اسلیے——
وہ کچھ شرمندہ سا بولا عیشا کی ہنسی چھوٹ گئ
اب اس میں اتنا بھی ہنسنے کی کیا ضرورت ہے
لہجہ ایکدم دھیما تھا
یہ میری زندگی کا سب سے یادگار دن ہے– میں یہ دن کبھی نہیں بھول پاؤں گی
وہ اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے بولی
بھول تو میں بھی نہیں پاونگا آج پہلی بار اپنے دل کو محسوس کیا ہے
وہ بھی اس کی جانب دیکھتے ہوے سوچنے لگا
وہ سارا وقت اسی الجھن میں رہا کہ اسے آخر کیا ہو گیا تھا اس نے عیشا کو اس کی مرضی سے ڈھیر ساری شاپنگ کروای اس نے اپنے ساتھ دادی کے لیے بھی کافی کچھ لیا وہ جہاں بھی جاتے انہیں خاص اہمیت دی جاتی اور یہ ساحر کی موجودگی کا اثر تھا
گھر آکر اس نے دادی کو بھی ہنستے ہنستے پانی پوری کا سارا واقعہ سنایا ساحر نے کچھ بھی ری ایکٹ نہیں کیا خاموشی سے روم میں اگیا اور اپنا اور کوٹ اتار کر کرسی پر ڈالا اور کف کے بٹن کھولتے ہوے واش روم کی جانب بڑھ گیا
کتنی دیر تک وہ اسی جادوی لمحے کے متعلق سوچتا رہا اس سوچ نے اسے پریشان کر رکھا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اگر عیشا اس کی یہ تبدیلی نوٹ کرے گی تو بہت برا ری ایکٹ کرے گی اس لئے وہ سٹڈی روم میں آکر سو گیا
صبح اسے جلدی گھر سے نکلنا تھا اس لیے وہ روم میں اگیا عیشا اس وقت دادی کے ساتھ باہر گئ ہوتی تھی لیکن وہ اج گھر پر ہی تھی بیڈ پر بیٹھی رونے میں بزی تھی ساحر کو دیکھ کر سر گھٹنوں پر رکھ لیا ساحر پریشان ہوکر رہ گیا
اگر پوچہونگا کیوں رو رہی ہے تو واویلا مچادے گی ——-پہر وہی کہے گی میں کون ہوتا ہوں——– یہ لڑکی میرے سمجھ کے بلکل باہر ہے
وہ یہ سب سوچ کر اپنا لیپ ٹاپ لئے صوفے پر اگیا لیکن دھیان اب بھی وہیں تھا بیچ بیچ میں اسے دیکھ لیتا
یہ روتی ہے تو مجھے اتنا برا کیوں لگتا کیوں میں اس کے رونے کو اتنا فیل کررہا ہوں
اس نے عیشا کی جانب دیکھا اس کا ایک ہاتھ پیٹ پر تھا مطلب شاید اسے پیٹ درد ہورہا تھا وہ خود کو مزید روک نہیں پایا
اگر تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو ڈاکٹر کو بلاوں کیا
عیشا نے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے حیرت سے دیکھا اور اگلے ہی لمحے حیرت ناگواری میں بدل گئ اس نے فوراً منہ پہیر لیا ساحر کو اس کی حرکت پر بہت غصہ آیا
ایک کام کرو تم نا بیان کر کے رویا کرو—— مثلاً ہاے اللہ یہ ہوگیا ہاے اللہ وہ ہو گیا—— پریشان ہوجاتا ہوں میں—— کم سے کم آدمی کو پتا تو چلے کہ کس وجہ سے رو رہی ہو
عیشا نے اسے غور سے دیکھا
تمہیں میرے لئے پریشان ہونے کی کوئ ضرورت نہیں ہے—– اپنے کام سے کام رکھو سمجھے —–مجھے تم سے سخت نفرت ہے
ساحر کو اس کی بات پر بے حد غصہ آیا
تمہاری اطلاع کے لئے بتادوں—- مجھے کوئ فرق نہیں پڑتا—- تم مرو یا جیو میں صرف اپنی دادی کے لئے پریشان ہوں—– انہیں تکلیف نہ ہو اس لئے تم جیسی لڑاکو لڑکی سے بات کرنا پڑتاجو ہر بات میں بس لڑنے کا بہانہ ڈھونڈتی ہے
میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتی اسلیے———-
میں بھی تمہیں منہ نہیں لگانا چاہتا
ساحر فوراً اس کی بات کاٹ کر بولا عیشا کو اس جواب کی بلکل امید نہیں تھی اسلیے خاموش ہوکر رہ گئ وہ بھی اسے اگنور کرتے ہوے باہر نکل گیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: