Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 6

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 6

–**–**–

روزانہ اس کے کالج سے باہر نکلنے سے پہلے ساحر گاڑی لئے موجود ہوتا تھا لیکن اج وہ اب تک نہیں آیا تھا اس نے پانچ منٹ تک ادھر ادھر نظر دوڈای لیکن وہ کہیں نظر نہیں آیا وہ کالج سے منسلک رسٹورانٹ میں اگئ تاکہ اس کے آنے تک کچھ کھا لے وہ دروازے سے اندر داخل ہوئ تھی کہ ایک بھاری بھرکم ادمی نے سامنے آکر اس کا راستہ روک لیا اور مکروہ ہنسی ہنستے ہوے اسے گھورنے لگا
یہ کیا بدتمیزی ہے راستہ چھوڑو
غصہ سے کہ کر وہ سایڑ سے نکلنے لگی لیکن اب دوسرے نے اس کا راستہ روک لیا ان کا پورا گروپ ہنس ہنس کر مزے لے رہا تہا
اتنی بھی کیا جلدی ہے جانے کی کچھ وقت ہمارے ساتھ بھی گزار لو
عیشا نے ایک زور دار تھپپڑ اس لڑکے کے گال پر جڑ دیا جس سے وہ تلملا رہ گیا سارے لوگ اسی طرف توجہ تھے اس کے اس عمل پر پہلے والا لڑکا جو شاید انکا لیڈر تھا غصے سے اس کی جانب بڑھا عیشا اسے اپنی اور بڑھتا دیکھ خوفزدہ ہوکر پیچھے ہوتی گئ وہ چاہے جتنی ہمت والی ہو لیکن ان سے مقابلہ کرنا اس کے بس میں نہیں تھا
اب تجھے کوئ نہیں بچاسکتا
وہ لڑکا غصے سے کہ کر اس کا بازو پکڑنے لگا لیکن دوری پر ہی کسی نے اس کا ہاتھ جکڑ کر روک لیا عیشا کو اپنے پیچھے سے جانی پہچانی خوشبو محسوس ہوی تو اس نے رخ پہیر کر دیکھا ساحر کو دیکھ کر اس کا سارا خوف جاتا رہا ساحر نے ایک زوردار جہٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڈ کر پیچھے دھکیلا
شرافت سے اپنا اپنا راستہ ناپو ورنہ کسی کو چلنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا
اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے وہ اُن سے مخاطب ہوا
تو بیچ میں کیوں کود رہا ہے تیری کیا بہن لگتی ہے
ان میں سے ایک نے ساحر کے مقابل اکر کہا ساحر نے اس کی کالر پکڑ کر اپنی جانب کھینچا
بہن تو تیری ہے سالے میری تو یہ بیوی ہے
کہ کر اسے دھکیل دیا وہ لڑکھڑاتا ہو دور جاگرا
اور قسم سے بتارہا ہوں میرے ہوتے ہوۓ کسی کی گندی نظر بھی میری بیوی کو نہیں چہوسکتی
اب کے وہ غصے سے بولا بدلے میں سامنے والے نے اس پر وار کرنا چاہا جسے روک کر ساحر نے ایک لات میں اسے دیوار تک دھکیل دیا ایک کے بعد ایک سب کو اس نے بری طرح سے پیٹا کافی دیر تک ہاتھا پائ چلتی رہی عیشا کو یہ سب دیکھ کر گھبراہٹ ہورہی تھی سارے لوگ بھی اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر باہر نکل رہے تھے ریسٹورانٹ لوگوں سے خالی ہو چکا تھا کچھ لوگوں نے ساحر کو زبردستی پکڑ کر روکا وہ سارا گروپ ڈر کے مارے فوراً بہاگ گیا ریسٹورانٹ میں کافی تحس نحس ہو چکی تھی کئ کرسیاں اور ٹیبل ٹوٹ کر بکھرے پڑے تھے ساحر نے خود کو چھڑا کر اپنا غصہ کنٹرول کیا اور عیشا کی کلائ پکڑ کر اسے باہر لے آیا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی اور خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا عیشا بار بار اسے ہی دیکھتی رہی اس نے دادی سے کئ بار سنا تھا کہ وہ غصےّ کا بہت تیز ہے لیکن آج اس کا یہ روپ دیکھ کر خود بھی ڈر گئ تھی اس کے بال پسینے سے بھیگ کر بکھر گئے تھے آنکھیں سرخ ہو رہی تھی سفید بے داغ شرٹ بھی پسینے سے پوری بھیگ چکی تھی اس کی نظر ساحر کے سٹیئرنگ پر رکھے ہاتھ پر پڑی جو کافی زخمی ہو چکا تھا اور اس سے اب بھی خون بہہ رہا تھا
گاڑی میں فرسٹ ایڈ نہیں ہے کیا
اندر ہے—–کیا تمہیں کہیں چوٹ لگی ہے
اس نے فکر سے پوچھا
نہیں—– مجھے نہیں—— تمہارے ہاتھ میں چوٹ لگی ہے
اس نے انگلی کے اشارے سے دکھایا
معمولی سی ہے
اسے بھی اب پتا چلا تھا
نہیں معمولی سی نہیں ہے —-بہت خون بہہ رہا ہے— ہاتھ دکھاؤ
نہیں—- رہنے دو
اس کے انکار پر عیشا نے خود ہی اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور کاٹن سے خون صاف کرکے دوائ لگائ
ایک بات پوچھوں تم سے
گاڑی کی سپیڈ سلو کرکے ایک ہاتھ میں سٹئرنگ سنبہالے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
پوچھو
وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اس وقت میں تمہارا کون ہوں جو یوں حق جتاکر پٹٹی کر رہی ہو لیکن پہر کچھ سوچ کر بات بدل دی
یہ مہربانی کس لیے
تمہاری جگہ کوئ بھی ہوتا نا تو بھی میں یہی کرتی
لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا
وہ اتنے دھیمے بولا کے وہ سمجھ نہیں پائی ہاتھ روک کر اسے دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا کچھ تھا اس کی آنکھوں میں عیشا نے گھبرا کر نظر پھیر لی کچھ بولی نہیں پٹی بندھ گئ تو ساحر نے ہاتھ واپس کھینچ لیا عیشا نے سامان باکس میں رکھ کر باکس اندر رکھ دیا کچھ دیر دونوں کے درمیان خاموشی رہی
ان بدمعاشوں سے الجھنے کی ضرورت کیا تھی—— پولس میں رپورٹ کر دیتے—— اگر انہوں نے تمہیں دوبارہ کچھ نقصان پہچایا تو
میں اتنا بزدل نہیں ہو جو میرے سامنے کوئ ایسی حرکت کرے اور میں پولس کے انتظار میں تماشا دیکھتا رہوں
عیشا کچھ نہیں بولی دونوں گھر پہنچے دادی ان کے دیر سے آنے پر پریشان کھڑی تھی
دادی کو کچھ مت بتانا
ساحر نے آگے بڑھتے ہوۓ اس کے نزدیک سرگوشی کی اس نے سر اثبات میں ہلادیا
کہاں رہ گئے تھے تم دونوں
دادو گاڑی خراب ہو گئ تھی اس لئے لیٹ ہوگے
یہ تمہارے ہاتھ کو کیا ہوا کیا کسی سے لڑ جھگڑ کر آۓ ہو
نہیں دادو افس میں گلاس ٹوٹ گیا تھا اس لئے چوٹ لگ گئ اچھا مجھے کام ہے اس لیے چلتا ہوں
دادی کے سوالوں سے بچنے کے لئے وہ فوراً اپنے روم میں اگیا دس منٹ میں کپڑے بدلےفریش ہوکر نیچے اگیا دادی کے لاکھ کہنے کے باوجود بناء کھانا کھاے ہی چلا گیا
******,*********************
ساحر ناشتہ کرتے باربار اسے ہی دیکھ رہا تھا جو دادی سے باتیں زیادہ کررہی تھی اور ناشتہ کم کررہی تھی
یہ مجھ سے کبھی سیدھے منہ بات تک نہیں کرتی ہر بات پر جھگڑنے لگتی ہے سامنے ہونے پر بھی نظر انداز کرتی ہے اتنی انسلٹ ہونے کے بعد بھی میں اسے مخاطب کرتا ہوں اسے ہی دیکھنا چاہتا ہوں ایسا کیوں ہورہا ہے میرے ساتھ اس لڑکی میں کچھ تو ایسا ہے جو مجھے اپنی جانب کھینچتا ہے شاید اسلیے کیونکہ اس میں وہ بات ہے جو ساحر خان کی بیوی میں ہونی چاہئے
وہ اپنی سوچ پر مسکرا کر رہ گیا تبھی امران آگیا اس نے دادی کو جھک کر سلام کیا انہونے اس کی پیشانی چوم کر اسے دعائیں دی عیشا کے سلام کا جواب دے کر اس کے بال جھنجھوڑتے ہوے ساحر کو نظر انداز کرکے پاس والی کرسی پر بیٹھ گیا اور سینڈوچ بنا کر کہانے لگا ساحر اسے دیکھتا ہی رہ گیا
بے شرم آدمی کسی کے پوچھنے کا انتظار تو کرلیا کر آتے ہی بھوکے قیدیوں کی طرح شروع ہوگیا
کس بات کی شرم میری بہن کم سالی کا گھر ہے
ہاں جیسے پہلے تو کبھی اپ نے یہاں انے کی زحمت کی ہی نہیں
دادی دیکھا اپ نے–_—-ساحر خان صاحب میں اج اپ سے نہیں اپنی بہن سے ملنے آیا ہوں خواہ مخواہ کی بکواس کرکے دماغ خراب مت کر
ساحر نے گلاس میں جوس ڈالا امران نے فوراً اٹھاکر منہ سے لگا لیا
راکشس کہیں کے وہ میرا تھا
دوستی میں کیا تیرا کیا میرا یار
وہ سر ہلا کر رہ گیا
بھابہی کو ساتھ کیوں نہیں لایا –تیرے پاگل پن پر کچھ کنٹرول رہتا
وہ گئ اپنے مائکے
کیا کردیا تم نے جو روٹھ کر مایکے چلی گئ
دادی نے پوچھا
میں نے کچھ نہیں کیا دادی —_– ڈاکٹر نے اسے آرام کرنے کو کہا ہے اس لیے گئ ہے
کیوں—– کیا آپی کی طبیعت خراب ہے
ہاں— کیونکہ ——*گڈ نیوز ہے
وہ رکتے ہوئے بولا
کیا —–اپ سچ کہ رہے ہو بہائ جان
میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے کیا عیشو
واو—– آئ ایم سو ہیپپی بہائ جان
ساحر اور دادی نے بھی اسے مبارک باد دی دادی نے ملازم سے مٹھائ منگوائ سب نے ایک دوسرے کو مٹھائ کھلای ساحر نے ایک بڑا سا پیس لے کر اس کے میں بھر دیا اور مسکراتےہوے اسے زور سے گلے لگا لیا
دادی میں آپی سے مل کر آؤ
وہ بہت خوش تھی
ہاں ہاں بلکل جاؤ اور میری طرف سے بھی مبارکباد دے دینا —ساحر——–
نہیں دادی مجھے بہت ضروری کام ہے میں نہیں جاسکتا —-عمران پلیز یار
دادی کے کھنے سےپہلے اس نے ٹوک دیا
کوئ نہیں—– ویسے بھی میں تیرا غلام ہی تو ہوں—— چلو عیشو
عیشا نے دادی کی جانب دیکھا تو انہوں نے مسکراتے ہوۓ اجازت دے دی وہ تیار ہونے کے لئے اوپر چلی آئ
بلیک لانگ کرتی پر ریڑ کلر کی پینٹ پہنی بالوں کو کہلا چہوڈا کانوں میں چھوٹے چھوٹے ایئر رنگ پہن کر ہلکا سا میک اپ کیا ریڈ اینڈ بلیک کامبینیشن کا خوبصورت دوپٹہ کاندھے پر ڈال کر جیسے ہی پلٹی سامنے سے آتے ساحر سے ٹکرا گئ وہ اپنی دھن میں تھا اس لئے توازن نہیں رکھ پایا اور اس کے ساتھ ہی گرتے ہوے دیوار سے جا لگا عیشا اس کے اتنے قریب ہونے پر گھبرا گئ اس کا قد ساحر کے کاندھے کے نیچے تک ہی تھا وہ اس کے اتنے قریب تھی کے آسانی سے اس کی دھڑکن سن سکتی تھی اس کے پرفیوم کی خوشبو ایک الگ احساس جگا رہی تھی اس نے سر اٹھا کر دیکھا ساحر اسے ہی دیکھ رہا تھا کچھ تھا جو اس نے گھبرا کر پلکیں جھکالی ساحر کو اس کی یہ ادا دل میں اترتی محسوس ہوئ وہ بے خود سا بس اس کی جھکی پلکوں کو دیکھتا رہا عیشادھیرے سے اس سے دور ہوئ ساحر بھی خود کو سنبھال کر سیدھا ہو گیا
آر یو اوکے
وہ بس اثبات میں سر ہلا کر باہر نکل گئ
****************************
گھر آکر وہ سب سے پہلے الیشا سے زبردست گلے مل کر اسے مبارک باد دی تبھی اسے پتا چلا کہ ایک نہیں دو دو خوش خبریاں اس کی منتظر تھی اتنا سنتے ہی وہ چینختے ہوۓ فائزہ کی جانب بڑھی اور اسے گلے لگ کر پورا گہمادیا اور وہ بس عیشا عیشا کرتی رہ گئ اس کے بعد عیشا نے امی ابو کو کھینچ کر ان کے گرد گھومتے ہوے ڈانس شروع کردیا امران نے بھی اس کا ساتھ دیا سب ہی دونوں کی حرکتیں دیکھ کر ہنس ہنس کر بے حال ہو گئے
شام تک وہ اسی کے متعلق باتیں کرتی رہی یہاں تک کہ بچوں کے نام کمرے کا کلر کھلونے سب کچھ فکس کر لیا کھانے پر عمران نے خاص اس کی پسند کی کی چیزیں ہوٹل سے منگوائ ریحان کے گھر انے پر دوبارہ شور شرابا شروع کردیا ریحان بھی اس کی ان حرکتوں پر ہنستا رہا اور اسے پیار کرتا رہا امی نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری سب کو ایک خوبصورت دن دے کر وہ ریحان کے ہمراہ واپس اپنی دنیا میں اگئ
ریحان دادی اور ساحر کو سلام دعا کرکے چلا گیا کیونکہ بہت دیر ہوچکی تھی اس کے جانے کے بعد عیشا ہنس ہنس کر دادی کو سارے دن کا قصہ سناتی رہی اسے اتنا خوش دیکھ کر دادی نے اس کی بلائیں لے لی کچھ دوری پر بیٹھا ساحر بنا پلک جھپکاے اسی کو دیکھ رہا تھا عیشا کی اس پر نظر پڑی تو اسے اپنی جانب دیکھتے پاکر عجیب سی اُلجھن ہونے لگی وہ دادی کو لئے روم میں اگئ ہنس ہنس کر اس کا پیٹ درد کرنے لگا تھا وہ اج واقعی بہت خوش تھی
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ عیشا سے بات کرے گا کہ اس شادی کو ایک موقع دے پچھلا سب کچھ بھول کر نئے سرے سے سوچ کر دیکھے اور یہی سوچ کر وہ روم میں آیا عیشا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے ائیر رنگ کانوں سے نکال رہی تھی غیر محسوس طور پر وہ ساحر کےمتعلق سوچ رہی تھی وہ ناشتے کے وقت بھی محسوس کر چکی تھی کے وہ اُسے ہی دیکھ رہا ہے اور جب و اس کے قریب تھی اس کی آنکھوں میں کیا تھا وہ سمجھ نہیں پائی اتنے دن میں بھی وہ اس بات سے بے فکر تھی لیکن آج جانے کیوں اس کا دل گھبرا رہا تھا موبائل بجنے لگا کسی نئے نمبر سے میسیج تھا اس نے اوپن کیا تو کچھ تصویریں تھی جنھوں نے آگ پر تیل کا کام کیا جس سے اس کی دن بھر کی ساری خوشی خاک ہوگی تھی وہ منہ پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے ایک کے بعد ایک تصویر کو دیکھنے لگی اس کا سارا جسم ٹھنڈا ہورہاہے تھا آنکھیں خوف اور غصے سے لال انگارا ہورہی تھی
عیشا
اج پہلی بار اس نے عیشا کو اس کے نام سے پکارا تھا بے حد نرمی سے عیشا نے آئینہ میں ہی اسے غصے بھری نظروں سے دیکھا
عیشا مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے
صوفے پر بیٹھتے ہوے اس کی جانب دیکھے بنا ہی کہنے لگا
کتنی بار کہ چکی ہو تم سے مجھے تم سے کوئ بات نہیں کرنی ہے—— نا ہی میں تمہیں سننا چاہتی ہوں—— اتنی بار کہنے کے باوجود سمجھ کیوں نہیں آتا تمہیں ——–تم مجھے میرے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے——- میں تم سے ریکویسٹ کرتی ہوں مجھے پریشان مت کرو
وہ جو پہلے ہی بھری بیٹھی غصہ اتارنے کا جیسے موقع مل گیا ساحر اسے حیرت سے دیکھتا ہی رہ گیا غصہ کنٹرول کرتے ہوۓ اٹھ کر اسکے مقابل آگیا
تم ہر بات پر اتنا اوور ری ایکٹ کیوں کرتی ہوں—— میں صرف بات کر رہا تھا تم سے—— تم میں اتنی بھی تمیز نہیں ہے کیا کہ کوئ کچھ کہ رہا ہے سن تو لو——–پہلے ہی پاگلوں جیسا بی ہیو کرنے کی کیا ضرورت ہے——— آخر تمہاری پرابلم کیا ہے یار
میری پرابلم تم ہو——- میں تم سے نفرت کرتی ہوں——- تم سوچ بھی نہیں سکتے اتنی نفرت——- کیونکہ تم انتہای قسم کے زلیل اور گرے ہوۓ انسان ہو
عیشا———–
غصے سے دھاڑتے ہوے اس نے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا لیکن ایک بار پھر ہاتھ بیچ میں ہی روک کر عیشا کو دیکھا اور ہاتھ سے اپنی پیشانی کو مضبوطی سے پکڑ کر آنکھیں بند کی گہری سانس لے کر اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کی جب آنکھیں کہولی تو ضبط سرخ ہو رہی تھی عیشا کو ایک پل کے لیے اس کی حالت سے بہت خوف آیا
بس————
بڑی مشکل سے خود کو کنٹرول کرکے صرف اتنا کہا اور اسے شعلہ بار نگاہوں سے دیکھ کر تیزی سے باہر نکل گیا
عیشا وہیں کھڑے ہوکر دیر تک آنسو بہاتی رہی اس نے ساحر کے کیفیت کا جو مطلب لیا تھا اس سے کئی زیادہ وجہ وہ تصویریں تھی جن کے مطابق یہ غصہ ہر طرح سے جائز تھا
ساری رات ساحر نے سٹڈی روم میں جاگ کر گزاری وہ کبھی کسی کی اتنی بدتمیزی برداشت کرنے والوں میں سے نہیں تھا لیکن عیشا کے معاملے میں وہ صرف دل سے کام لیتا تھا اپنی سوسایٹی میں وہ ہر لڑکی کی دلی خواہش تھا لیکن اس نے کبھی کسی لڑکی کے لئے اپنے دل میں کوئ جزبہ محسوس نہیں کیا تھا جبکہ عیشا کے اتنے نفرت کرنے کے باوجود وہ ہر وقت اسے اپنے سامنے دیکھنا چاہتا تھا
جب اسے روتے دیکھتا تو من کرتا اسے سینے لگا کر اس کے سارے آنسو اپنے اندر لےلے اس کی ہنسی سے اسے اپنی روح تک سکون محسوس ہوتا تھا پہلے تو اس نے اسے ایک وقتی کشش سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی لیکن ہر وقت کی بے چینی اور دل کی کیفیت سے مجبور ہوکر اس نے خود سے یہ اعتراف کرلیا کہ وہ عیشا سے محبت کرنے لگا ہے وہ عیشا سے صرف اتنا وقت چاہتا تھا کہ وہ اسے اپنی محبت کا یقین دلا سکے لیکن عیشا کے دل و دماغ پر غلط فہمی کا پردہ تھا وہ ساحر کو ایک بدکردار شخص سمجھ رہی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: